Rate this Novel
Episode 3
معافی۔۔۔
مریم عمران۔۔
قسط نمبر 3#..
حمزہ آفس میں ایک ضروری میٹنگ کرکے فارغ ہوکے اپنے کیبن میں آیا ہی تھا ۔کے ایک دم دروزاہ ناک ہوا۔۔
یس کم ان حمزہ نے آنکھیں بند کرکے ہی آنے والے کو اندر آنے کی۔اجازت دی۔۔
ہائے ہنڈسم۔۔
ایک۔نسوانی جانی پہچانی اواز پہ حمزہ کی آنکھیں ایک دم کھلی اور اس نے بھر پور مسکراہٹ کیساتھ آنے والے کا استقبال کیا۔
ارے تمنا تم کسی ہو مائے بیوٹی۔۔حمزہ کھڑے ہوکے تمنا سے گلے ملا۔۔
تمنا خانم جس کی ملاقات حمزہ سے ایک فیشن شو پہ ہوئی تھی اور وہی سے انکی ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا۔
تمنا خاصی ماڈرن قسم کی تھی امریکہ سے ہائر اسٹڈی کرکے پاکستان آئ تھی اور فیشن ویک وغیرہ میں اکثر پائ جاتی۔
حمزہ کو بس اسکی بولڈ نیس اعتراض تھا۔۔
باقی ان دونوں کے درمیان ایک گہرا ریلیشن تھا جو پچھلے ایک سال سے۔تھا۔
حمزہ مجاہد ہرلڑکی کا آئیڈیل تھا
لمبا قد سانولہ رنگ اس پہ گہری گرین آنکھیں اور چوڑی پیشانی ۔۔
کئ بار اس سے جڑے فیشن ورلڈ کے لوگوں نے اسے ماڈلنگ کی بھی آفر کی تھی مگر حمزہ ہمشہ سہولت سےانکار کردیتا۔۔
تمنا صرف ایک شخص کی آنکھوں میں کٹھتکی تھی اور وہ ہے عمر صاحب ۔
بقول عمر کے وہ ایک چلتی پھرتی ایک میک اپ کی دکان ہے اس کا ہر انداز دیکھاوا ہے ۔جب پہلی بار عمر تمنا سے ملا تھا تب اس نے حمزہ کو بول دیا کسی صورت وہ اسے اس کے قریب نہی رہنے دے سکتا۔
مگر حمزہ کی آنکھیں دیکھانے پہ ہمیشہ چپ ہوجاتا۔۔
ابھی بھی تمنا اور حمزہ کافی کلوز بیٹھی تھے جب تمنا نے کہاں۔
بے بی کام سے تھوڑا بریک لو کہی آؤٹ ڈور چلتے ہیں مگر بے بی پلیز اپنے اس چپکو پارٹنر اسکا اشارہ عمر کی طرف تھا اسے پلیز یہی پھیک کے جانا۔۔
حمزہ سے ایک ضروری فائل پہ سائن کرانے آنے والا عمر جب اندر کیبن میں اینٹر ہونے لگا جب اسے تمنا کی باتیں سنائ دی ۔بہت مشکل سے اپنے کھولتے خون کو ٹھنڈا کرتے اندر گیا۔
مگر اندر بیٹھی تمنا جو جھک کے حمزہ کے لبوں کے چومنے لگی تھی ایک دم سٹپٹائ کچھ ایسا ہی حال حمزہ کا تھا مگر عمر کمال ڈھٹائی سے کھڑا مسکرا رہا تھا جب تمنا نے غصہ میں اپنی مٹھایاں بھیچی اور عمر کو کہا۔
تم میں مینرس ہیں یا نہی منہ اٹھا کے کسی کےبھی کیبن میں آجاتے ہو شاید ناکک کرنا اخلاقیات میں آتا ہے۔۔
عمر نے اپنی بتیسی کی نمائش کرتے ہوئے تمنا سے کہا۔
رئیلی اور جو تم کھلے عام عمران ہاشمی کی بہن بننے کی پریکٹس کررہی تھی میرے بگ بی کیساتھ اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے
عمر کے جواب پہ جہاں تمنا کا منہ حیرت سے کھلا وہی حمزہ نے تو اپنے منہ کے آگے فائل کرلی تھی۔
جبھی تمنا نے غصہ سے حمزہ سے کہا۔
بے بی ابھی کے ابھی اس فالتو انسان کو کمرے دفع کرو ۔۔
عمر نے ساتھ لائ ہوئ فائل زور سے ٹیبل پہ پٹخی اور کہا۔
اووو بابا کی ناکارہ پرنسس یہ بے بی نہی ہے عمر نے حمزہ کی طرف اشارہ کیا اور دوبارہ کہا۔
یہ بے بی نہی بڑا والا بابا ہےجو پورے 26 سال کا ہے لہزا یہ منا منی والی لینگویج اپنے پاس رکھو۔۔
عمر کے جواب پہ تمنا نے اپنے دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے اور بنا حمزہ کی طرف مڑے کہا۔۔
اگر5 منٹ کے اندر اندر حمزہ تم نے اسے کیبن سے نہی نکالا تو میرا اور تمہارا تعلق ختم ۔۔
ہائے جلدی کرو ختم میں پورے آفس میں قلاقند بانٹونگا۔۔۔
عمر تم باہر جاؤ ابھی اسی وقت ہم بعد میں بات کرتے ہیں۔حمزہ نے یہ کہ عمر کے سامنے ہاتھ جوڑے اور اشاروں میں اسکی منتیں کی تو وہ باہر نکل گیا۔مگر جاتے جاتے تمنا کو بولنا نہی بھولا سفید ڈائن۔۔
#
عمر غصہ میں باہر آیا مگر سامنے کھڑی اقراء کو دیکھ کے اسکا سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا عمر نے اسکے پاس کھڑا ہوا جو بہت انمنہاک سے اپنا کام کرنے میں مشغول تھی سمپل بلیک سوٹ اور ہم رنگ اسکارف جو اسکی شخصیت کا حصہ اسکی شخصیت کو اور نکھارتا تھا۔۔۔6 مہینے پہلے آئ اقراء جسکا تعلق ایک مڈل۔کلاس فیملی سا تھا جو اپنی پھپھو کے پاس رہتی تھی جس دن اقراء اپنی ٹرافی جو اسے فیشن ڈیزائنر میں گریجویشن کےبعد ملی تھی ۔مگر اسکا استقبال اسکے ماں باپ نے نہی بلکے اسکے گھر سے نکلتے آگ کے شعلوں نے کیا۔
بظاہر تو وہ ایک حادثہ معلوم ہوتا تھا مگر کون جانتا تھا وہ ایک حادثہ نہی سازش تھی اسی پھپو کی جس کے رحم وکرم پہ وہ آج ہے اپنے ماں باپ کے مرنے کے تین دن بعد اقراء کوہوش آیا وہ۔اقراء جس کے گھر میں کسی چیز کی کمی نہی تھی اج وہ اپنا گزرا کرنے کے لیے حمزہ کی۔کمپنی میں کام کررہی تھی ۔۔اسکی پھپو نے دھوکے سے ساری جائیداد اپنے نام کروالی تھی اوراسے اس کے ہی گھر میں جو اس کے بابا نے بہت محبت سے تیار کروایا تھا اوربہت جلد وہ لوگ وہاں شفٹ ہونے والے تھے ۔مگرقسمت کی ستم ظریفی کی وجہ سے اج اس گھروہ اسکی پھپھو ملکہ کی طرح رہ رہی تھی اور وہ سرونٹ کوارٹر میں ۔
اقراء عمر کی آنکھوں میں چھپے پیغام کوبہت اچھی طرح سمجھتی تھی ۔مگر وہ کوئ بھی ایسا خواب دیکھنا نہی چاہتی تھی جسکا انجام نابینا ہو۔۔
عمر آہستہ سے چلتا ہوا اسکے قریب آیا اپنا موبائل نکال کے خاماخائ میں ٹائپنگ کرنے لگا اور ساتھ ساتھ میں گنگنانے لگا۔۔۔
“”آج کہینگے دل کا فسانہ ۔۔
جان بھی لے لے چاہے زمانہ ۔۔
پردہ نہی جب کوئ۔خدا سے ۔۔
بندوں سے پردو کرنا کیا جب پیار کیا تو ڈرنا۔۔””
“
اقراء نے ایک نظر اس پہ ڈالی اور آگے بڑھ گئ ۔اور ادھر عمر اس بات سے انجان گنگنانے میں لگا تھا کے شاید اقراء سن رہی ہے مگر اس کا ہارٹ فیل جب ہوا جب پاس سے گزرتے ہوئے حمزہ نے اسے آواز دی اور کہا۔
اوہ خیالی مجنوں چلو دیر ہورہی ہے میٹنگ کیلیے۔۔
عمر نےہونقوں کی طرح ایک نظر حمزہ کو دیکھا اور پھر ایک نظر حمزہ کے پیچھے کھڑی اقراء کوجو فائل میں تو جھکی تھی مگر صرف اپنی ہنسی روکنے کیلیے ۔۔
اورخاموشی سے حمزہ کیساتھ میٹنگ کیلیے نکل گیا۔۔
#
شام میں نومیر گھر پہنچا تو جنت اسے لان میں بیٹھی سموسوں سے انصاف کرتے دیکھی اور نومیر کو دیکھتے ہی اسمائل پاس کی۔۔
نومیر کافی حیران ہوا وہ جو سمجھ رہا تھا کے جنت آج اسکا قیمہ بنا دیگی مگر جنت کا اسطرح کاریکشن دیکھ کے جہاں پرسکون ہواوہ یہ سوچ سوچ کے پریشان ہوا کے اب یہ لیڈی ڈائنہ کونسا وار کریگی ۔۔
مگر نومیر کافی ریلکس ہوا۔ کیونکہ رات کے ڈنر تک جنت نے کوئ ایسا کام نہی کیا جس سے نومیر کو لگے وہ اپنا بدلہ لے رہی ہو ۔۔
اور اسی طرح وقت گزرا اور سب سونے کیلیے چلے گئے ۔۔جب نومیر نے لائبہ کو میسج کرکے اپنے ملنے کے مقام پہ آنے کو کہا۔۔لائبہ نے بھی اوکے کا سائن دیا اور گھر کے پیچھے بنے راستے پہ موجود سیڑھیوں کی طرف بڑھی۔۔
نومیر نے پرفیوم وغیرہ لگایا اور فورا لائبہ سے ملنے سیڑھیوں پہ پہنچا مگر جیسی ہی اس نے سیڑھیوں پہ قدم رکھا اسے شام میں جنت کی دی ہوئی اسمائل کا مطلب سمجھ اگیا۔
کیونکہ جنت ہاتھ میں چاکلیٹ لیہ سیڑھیوں کے بیچوں بیچ بیٹھی تھی ۔اور اوپر کسی مجرم کی طرح لائبہ گرل سے لگ کے کھڑی تھی۔۔
اب سیٹویشن کچھ یوں تھی نہ نومیر اوپر آسکتا تھا نہ لائبہ نیچے ۔۔
جنت بہت مشکل سے ان دونوں کی شکل دیکھ کے اپنی ہنسی روک رہی تھی ۔۔۔
اور پھر اس نے ان دونوں کی شکل دیکھ کے بلکل انکی حالت کے مناسب ایک گانا گایا۔۔
“””اس دل کی باتوں میں جو آتے ہیں۔۔
وہ بھی دیوانے ہوجاتے ہیں
منزل تو راہی ڈھونڈ لیتے ہیں ۔۔
راستے مگر کھو جاتے ہیں۔۔
دل تو پاگل۔ہے ۔دل دیوانہ ہے٫””
نومیر نے معصوم شکل بنا کے کہا۔
جنت میری بہن کل میں اپنی بہن کو کریسٹین کی پوری میک اپ کٹ لاکے دونگا جو کل ہی اسٹور میں آئ ہے۔۔
ہائے میرا بھائ ٹھیک ہے بھیا۔۔۔جنت یہ بول کے دوبارہ چاکلیٹ کھانے میں لگ گئ ۔جب دوبارہ نومیر کی آواز ائ۔۔
ابھی اپنی بھابھی سے ملنے دو۔۔
جنت نے ایک نظر اسے دیکھا اور کہا۔
اوکے روکو میں پاپا کوبلاتی ہو تم انہی سے پوچھ لینا کے ابھی لائبہ سے ملنا ہے یہ نہی یہ بول کے جنت نے جیسی ہی موبائل نکالا اکمل صاحب کو فون کرنے کیلیے ۔۔
نومیرنے جھٹ اسکے ہاتھ سے موبائل لے کے اسکی گودھ میں پھیکا اور کہا ۔۔
اوکے اوکے میری ماں غلطی ہوگئ جو آج تمہیں آئسکریم نہی کھلائ مگر میں بزی تھا ۔پکا کل میک۔اپ بھی دلاونگا اور آئسکریم بھی کھلاونگا۔۔
ابھی تو ملنے دو ۔۔
یہ دونوں کام تم کل کروگے تو ملنا بھی کل چلو نکلو ورنہ ۔اچھا اچھا جاتا ہو ۔مگر یاد رکھنا اپنا ٹائم آئے گا۔
یہ بول کے نومیر وہاں سے گیا تو جنت کے پلٹنے سے پہلے لائبہ بھی ڈور کے اپنے کمرے میں چلی گئ ۔
جنت نے اپنے دونوں ہاتھ جھاڑے جیسے بہت بڑا کام کیا ہوا ۔اور جانے کے لیہ مڑی مگر
اپنے سامنے یوسف کو دیکھ کے ایک دم اسکے پاؤں لڑکھڑائے اس سے پہلے وہ گرتی۔یوسف نے اسے کمر سے تھام کے سیڑھیوں کی دیوار سے لگایا ۔
جنت جو آنکھیں بند کرکے کھڑی تھی اور یوسف اسے تکنے میں مصروف تھا ایک دم جنت نے آنکھیں کھول کے جب یوسف کو اتنے قریب دیکھا تو اسکا دل زور زور ڈھرکنے لگا ۔۔یوسف کی باہنوں میں وہ ہولے ہولے کانپ رہی تھی جب یوسف ایک دم اس سے الگ ہوا۔
اور جنت نے موقع دیکھ کے نیچے کو ڈور لگائ۔
جبکہ یوسف اسے ڈورتا دیکھ کے صرف اتنا کہہ سکا
اتنی سی قربت میں کانپنے لگی ۔۔اوراوپر چلاگیا۔۔
#
و
لائبہ افسردہ سی اوپر آئ اور سونےکےلیہ لیٹ گئ اور پھر کروٹ بدل بدل کے آخر کار اسے نیند آگئ ۔
ابھی اسے سوئے تھوڑی دیر ہوئی تھی۔اسے نیند میں ایسا لگا کے کسی نےقمیض کے اندر سے اسکی کمر تھامی اور پیٹ سے اسےاپنی طرف کیا۔اور پھر جب اسے اپنے کان پہ کسی کے لبوں کا احساس ہوا تو فورا اسکی آنکھیں کھلی اس سے پہلے وہ چیختی نومیر ایک دم اسکے اوپر جھکا اور اسکے لبوں پہ ہاتھ رکھ کے کہا۔
ارے یار میں ہوچیخ کیوں رہی ہو۔۔
یہ بول کے وہ لائبہ کی۔گردن کو اپنے۔لبوں سے چومنے لگا جب لائبہ نے اسکے کندھے سے پکڑ کے پیچھے کیا۔اور کہا۔۔
نومیر یہ کیا کررہے ہیں اور آپ میرے کمرے میں کیسی آئے اٹھے اوپر سے۔
ارے جانمن تم تو جانتی ہو جب تک تمہاری لبوں کو چوم نہ لو مجھے نیند نہیں اتی۔
نومیر کی بات پہ لائبہ نے انکھیں بڑی کرکے اسے گھورا اور کہا۔
کونسی چھچھوری فلم دیکھ کے آرہے ہیں آج یہ کب ہوا کے اپکو ابھی لائبہ کی بات پوری نہی ہوئ تھی کے نومیر اسکے لبوں پہ جھک چکا تھا لائبہ نے دومنٹ تک تو اپنے آپ کو چھڑوانے کی۔کوشش کی مگر جب ناکام رہی تو پھر تھک ہار کے نومیر کی گردن تھام لی۔لائبہ کی اس حرکت پہ۔نومیر کو اورشہ ملی اور اس نے لائبہ کی شرٹ نیچے کرکے اس کندھوں پہ اپنے لب رکھے جابجا اسکی گردن تو کبھی ہونٹ چومنے لگا اس سے پہلے نومیر کچھ اور گستاخی کرتا ایک۔دم۔لائبہ کے کمرے کا دروازہ بجا۔۔
جاری ہے۔۔۔
