Maafi Season 1 By Mariyam Khan Readelle50209 Episode 24 Part 1
Rate this Novel
Episode 24 Part 1
بولو نہ کیا ہوا حمزہ نے قریب اکے ایک بار پھر جنت کے بازو کو دبوچ کے کہا۔۔
مجھے پتہ ہے یہ مر چکا ہے واپس نہی اسکتا۔۔۔
جنت نے چیخ کے کہا۔۔
مگر اسکا یہ مطلب نہیں کے میں اسکی محبت کا بٹورا کردو۔۔
جو مرجاتے ہیں انکے ساتھ مرا نہی جاتا جنت حمزہ نے جنت کا حال دیکھ کےنرم لہجہ میں کہا۔
ہاں نہی مرا جاتا مگر انکی یادوں کے سہارے زندہ رہا جاتا ہے اور میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہو یہ بول کے واقعی جنت نے حمزہ کے آگے ہاتھ جوڑے اور روتی ہوئی یوسف کی قبر پہ سر رکھ کے سسک پڑی اور روتے روتے کہا۔۔
مجھ سے میرے یوسف کی یادیں نہی چھینو حمزہ مجھ سے شادی کرکے تمہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا پلیز اللہ کیلیے میرا پیچھا چھوڑ دو تمہیں کوئ بھی مل جائے گی۔
مگر میں نے اگر یوسف کی محبت کا بٹوارا کیا تو مرجاونگی۔۔
جنت یوسف کی قبر پہ ماتھا ٹکا کے بلک بلک کے روپڑی۔۔
جنت کو ایسا روتا دیکھ حمزہ کی بھی آنکھیں بھیگنے لگی۔۔
حمزہ نے اپنی پیشانی مسلی اور جنت کا بازو پکڑ ا اور کہا۔۔
چلو کھڑی ہو یہاں سے۔۔
سنا نہی تم نے میں نہی جاونگی کہی بھی تمہارے ساتھ سنا تم نے چھوڑ دو مجھے میرے حال پہ جنت نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ حمزہ کے ہاتھ سے نکالا اور غصہ میں کہا۔۔
حمزہ نے دوبارہ اسکی کلائ تھامی اور کہا ۔
چھوڑنے کیلیے نہی تھاما ہاتھ۔۔
یہ بول کے حمزہ جنت کی مزاحمت کی پرواہ کیہ بغیر اس اپنے ساتھ لے کے چلنے لگا۔۔جنت پورے راستے روتی رہی حمزہ نے نہ تو اسے دیکھا اور نہ تو چپ کروایا اسے اسکے گھر کے پاس اتارا اور چلا گیا۔۔
#
میں یہ شادی ہرگز نہی کرونگی ۔۔۔
صبح جنت اٹھی تو ایک الگ عدالت لگی تھی .شبنم بیگم نے اسے ہال میں بلایا تو سب بیٹھے تھے جب شبنم بیگم نے اسے بتایا کے وہ حمزہ کے رشتہ کو ہاں کرچکی ہیں۔۔
کیوں کیا برائ ہے حمزہ میں۔
اب کے بولنے والی خالدہ بیگم تھی۔۔
افف امی بات اچھائ یا برائ کی نہی ہے میں بیوہ ہو یوسف سے بہت محبت کرتی ہو نہی دے سکتی اسکی جگہ کسی کو۔۔
حمزہ سے بھی محبت ہوجائے گی جب تم اسکے نکاح میں اوگی۔۔۔
امییییییی۔۔بس کرے جنت ایک دم چیخ پڑی۔۔
کیوں کیوں بس کرو یوسف سے بھی تو تمہیں محبت نکاح کے بعد ہی ہوئ نہ ۔۔
سمجھ میں کیوں نہی آتی تمہارے بات ساری زندگی کیا ایسی ہی زندگی گزرادوگی۔۔
خالدہ بیگم بھی آج جنت کا دماغ جگہ پہ لانے کی ٹھان چکی تھی۔۔۔
جنت نے آنکھوں میں آنسو لیہ پہلے خالدہ بیگم کو دیکھا اور پھر شبنم بیگم کے پاس جاکے انکے پاؤں میں بیٹھ گئ اور کہا۔۔
ماما نہی کرے ایسا میرے ساتھ اپنے تو ہر حال میں میرا ساتھ دیا ہے مجھے جینا سیکھایا ہے پلیز نہی۔کر میرے ساتھ ایسا۔۔
یہ فیصلہ میں نے ہی لیا ہے
۔
جنت اور بہت سوچ سمجھ کے لیا ہے ۔۔ساری زندگی ہم تمہیں اب بیٹھا کے نہی رکھ سکتے۔۔
شبنم بیگم کی بات سن کے جنت نے بے یقینی سی حالت میں انکے پاس سے اٹھی اور کہا۔۔
آپ کیسے اپنے بیٹے کی بیوہ کی دوسری شادی کرواسکتی ہیں۔۔؟؟
بیٹے کی ہہی خواہش پہ ایسا کیا ہے جنت یوسف بہت بے چین ہے تمہیں اس حال میں دیکھ کے ۔۔
اور کس نے کہا تم سے کس کتاب میں آیا ہے کے بیواوں کو جینے کا حق نہی انکو دوسری شادی کا حق نہی۔۔
مجھے نہی پتہ یہ سب اگر آپ سب کو میرا یہاں رہنا اتنا ہی برا لگ رہا ہے تو ٹھیک ہے میں چلی جاتی ہو یہاں سے یہ بول کے جنت تیزی سے اپنے کمرے کی طرف گئ۔۔
تائی جان ایسا نہ ہو وہ چلی جائے؟؟
نومیر نے فکر مند لہجے میں کہا۔۔
مگر شبنم بیگم چپ سادھے کھڑی تھی اور تھوڑی دیر بعد جنت اپنا ہیینڈ کیری لے کے نیچے اتری۔۔
گھر کا دروازہ پار کرنے لگی۔جب شبنم بیگم کی آواز ہال میں گونجی۔۔
اس دہلیز کو پار کرنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچ لینا جنت کے اگر تم نے یہ دہلیز پار کی تو یوسف کے ساتھ ساتھ ہم سب تمہارے لیہ مرگئے۔۔
فیصلہ تمہارے ہاتھ میں یہ تو اپنی ضد اور اپنی آنا میں سب کچھ ختم کردو ایک بے نام زندگی گزارو یہ پھر عزت کیساتھ ایک ہنسی خوشی زندگی گزارو تم انوکھی نہی جو بیوہ ہونے کے بعد دوسری شادی کرے گی یہ پھر تم نے محبت کرکے کوئ انوکھا کام کیا یہ کھو کے۔۔ دنیا میں کے کتنے لوگ ہیں جو ایک بار محبت کو کھونے کے بعد دوبارہ اسے پانے کے پیچھے اپنی ساری زندگی گزرا دیتے ہیں تم خوش نصیب ہو جو دوبارہ یہ احساس خود چل کے تمہاری زندگی میں آیا ہے۔۔اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ۔۔
یہ بول کے شبنم بیگم نے سب کو اشارہ کیا اور سب ہی ہال سے چلے گئے۔۔
جب کے جنت شبنم بیگم کی بات سن کے سکتے کی حالت میں زمین پہ بیٹھتی چلی گئ۔۔اس میں ہمت ہی نہی ہوئی گھر کی دہلیز پار کرنے کی۔۔
#
گھر میں سب نے ہی جنت سےبول چال ختم کردی تھی۔۔
شبنم بیگم کیساتھ ساتھ اب گھر کا ہرایک فرد پتھر بن چکا تھا جنت کی خوشیوں کی خاطر ۔۔
جنت نے سب کو بہت کنوینس کرنے کی کوشش کی مگر سب کا ایک ہی۔جواب ہوتا فیصلہ بڑی تائ کا ہے۔۔
جنت نے شبنم بیگم کی بہت منتیں کی مگر بے سود۔۔
بعض اوقات لائبہ اور نومیر کو جنت کا ایسا گڑگڑانا بہت اذیت دیتا ۔
لائبہ نے شبنم بیگم سے کہا بھی کے جنت کیساتھ زبردستی نہی کرے وہ حمزہ کیساتھ خوش نہی رہےگی۔۔
مگر شبنم بیگم نے یہ کہہ کے لائبہ کو چپ کروادیا کے یہ سب اسکی خوشی کیلیے ہی کیا گیا۔
اور پھر آخر کار جب شبنم بیگم نے ایک ہفتہ تک جنت سے بات تک نہی کی اور نہ دھنگ سے کھانا کھاتی اور نتیجہ شبنم بیگم کی طبیعت خراب ہوگئ۔۔
جنت نے شبنم بیگم کی طبیعت کو دیکھتے ہوئے ہتھیار ڈال دیے اور شادی کیلیے ہاں کردی۔۔
جنت کا ہاں کرنا تھا کے تین دن کے اندر نکاح کی ڈیٹ کے ساتھ ساتھ رخصتی کا بھی اعلان ہوا ۔۔
آج حمزہ عمر اور اقراھ جنت کی نکاح کی شاپنگ کرنے آئے تھے۔۔
جن کے بولنے پہ مہندی اور مایوں کی رسم کینسل کردی گئ۔۔
حمزہ جنت کو لینے آیا تو وہ خاموشی سے ساتھ چلی گئ پورے راستے نہ تو اس نے حمزہ کی طرف دیکھا نہ عمر سے بات کی ۔۔
عمر وقفے وقفے سے اس سے بات کرنے کی کوشش کرتا مگر جنت نے اپنے لبوں پہ قفل کا تالا لگایا ہوا تھا۔۔
شاپنگ کے دوران بھی نہ تو اس نے شاپنگ میں اپنی پسند ظاہر کی نہ اپنی رائے۔۔
اقراء اور عمر دونوں نے کئ بار خونخوار نظروں سے حمزہ کو دیکھا تھا ۔مگر اسے فرق نہی پڑا وہ جانتا تھا ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔
#
عمر تو نے میری شیروانی لی۔۔
اففف بھائ بھول گیا ۔اج حمزہ اور عمر نکاح کا انتظام دیکھنے جارہے تھے کل نکاح تھا تو دونوں ہی بہت مصروف تھے۔۔
حمزہ کی شیروانی میں کچھ مسئلہ تھا ۔جیسے وہ چینج کرواتے ہوئے آگے جاتے ۔۔
میری الماری میں ہے جلدی لے کے ااا۔
عمر حمزہ کے کمرے میں شیراونی کا پیکٹ لے کے جیسے ہی الماری بند کرنے لگا اچانک اس کی نظر الماری کے اندر کونے پہ پڑے ایک وولٹ پہ پڑی۔۔
کچھ بھولی بسری یاد دماغ میں آتے ہی اس نے ولٹ اٹھا کے کھولا۔
وولٹ کے اندر تصویر کو دیکھ کے عمر کے قدم لڑکھڑا گئے۔۔
اور وہ نیچے بیٹھتا چلا گیا۔
۔افف یار یہ عمر کہاں رہ گیا۔۔
عمر عمر ۔۔۔۔
حمزہ عمر کو آواز دیتا اپنے کمرے میں پہنچا عمر کو ایسا بیٹھا دیکھ اسے کچھ گڑ بڑ کا احساس ہوا۔۔
عمر کیا ہوا ایسے کیوں بیٹھا ہے؟؟
اور یہ تیرے ہاتھ میں کس کا وولٹ ہے دیکھا۔۔
حمزہ نے عمر کے ہاتھ سے وولٹ لے کے کھولا وولٹ کے اندر ۔
موجود تصویر کو دیکھ وہ سکتے میں آگیا ۔۔
کیونکہ اندر یوسف اور جنت کی مسکراتی تصویر تھی اور یوسف کی تصویر دیکھ کے حمزہ جھٹکے سے بیڈ پہ بیٹھا اور کوئ منظر اس کی نظروں کے سامنے کسی فلم کی طرح چلنے لگا۔۔
بھائ گاڑی کی اسپیڈ ہلکی کرے دفعہ کرے اسے جو ہونا تھا ہوگیا۔بھائ آپ سن رہے ہیں میری بات۔۔
عمر چیخ چیخ کے حمزہ کو گاڑی کی اسپیڈ ہلکی کرنے کا بول رہا تھا۔
مگر حمزہ جس کے نہ تو آنسوں میں کمی آرہی تھی اور نہ گاڑی کی اسپیڈ میں۔۔
حمزہ کے موبائل پہ کال انے لگی۔
جسگ دیکھنے کیلیے جیسی ہی حمزہ نے موبائل اٹھایا۔
اچانک گاڑی سامنے سے آتی بائیک سے ٹکرا گئی ۔۔
عمر کو سر بری طرح ڈش بورڈ سے تکرایا۔۔
حمزہ کا سر بھی اسٹرینگ سے ٹکرایا ۔۔
اسے وقتی طور کے چکر آئے مگر وہ فورا گاڑی سے اترا اور یوسف کے پاس پہنچا اس نے یوسف کو سیدھا کیا تو اسکا سر بری طرح زخمی تھا۔
کچھ نہی ہوگا تمیں میں تمیں کچھ اس سے پہلے حمزہ یوسف کو اٹھاتا یوسف حمزہ کی باہنوں میں ہی دم توڑ چکا تھا۔۔
عمر کو ہوش آیا تو وہ بھی گاڑی سے باہر نکلا ۔تیزی سے حمزہ کے پاس پہنچا حمزہ جنت کی طرف بڑھنے لگا تو عمر نے اسے گاڑی کی طرف کھینچنے لگا اور کہا ۔
بھائ چلے یہاں سے چلے۔۔
عمر چھوڑ مجھے دیکھ وہ لیڈیز چھوڑ مجھے عمر۔۔
عمر اس سے گاڑی کی طرف دھکیل نے لگا جب اچانک اس کی نظر زمیں پہ گرے وولٹ پہ پڑی ۔۔عمر نے یہ سمجھ کے وولٹ اٹھا لیا کے حمزہ۔کا ہے۔۔
گاڑی میں حمزہ کو بیٹھاتے ہی عمر نے ایمبولینس کو کال کردی۔۔
حمزہ ساکن حالت میں بیٹھا اپنے خون سے رنگے ہاتھوں کو دیکھنے لگا۔۔
عمر پیچھے کے راستے سے حمزہ کو گھر کے اندر لایا ۔اس کے خون آلودہ کپڑے بدلے اور وولٹ الماری میں ڈال دیا۔۔۔
عمر جنت کو بیوہ میں نے کیا اس کی محبت کی جان میں نے لی۔۔
اچانک حمزہ کی اواز کمرے میں گونجی تو عمر ہوش میں آیا ۔۔
حمزہ کے ہاتھ سے وولٹ لے کے پھینکا ۔
اور حمزہ۔کا چہرہ تھام کے کہا۔
نہی بھائ اپنے کسی کی جان نہی کی وہ ایک ایکسیڈینٹ تھا غلطی یوسف کی تھی ۔وہ ون وے آرہا تھا۔۔
بھائ بھائ میری بات سنے یہ بات یہی دفنا دے سن رہے ہیں آپ میں کیا بول رہا ہو بھائ۔۔
حمزہ ہونقوں کی طرح عمر کو دیکھنے لگا پھر ایک دم عمر کا ہاتھ جھٹک کے کمرے سے نکل گیا
عمر بھی تیزی سے اسکے پیچھے گیا۔۔
جاری ہے۔۔
