50.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22 Part 1

کیا جنت پاگل ہو میں کبھی ریمپ پہ نہی گیا۔۔
تو کیا ہوا آج چلے جاؤ اور ڈر کس بات کا کونسا کسی ہائ ماڈل کے ساتھ تم شو اسٹوپر ہو خود کی زاتی بیوی ہوگی تمہارے ساتھ۔۔
مگر جنت میں مطلب مجھ سے نہی ہوگا اقراء کی ڈری سہمی سی آواز پہ وہاں کھڑے تینوں نفوس نے پلٹ کے اسے دیکھا۔
کوئ اور بولتا اس سے پہلے عمر بول پڑا۔۔
ہاں تم سے تو صرف الزام تراشی کروالو۔۔
بگ بی میں تیار ہو باقی دیکھ لو اپکو میرے ساتھ کس کو کھڑا کرنا ہے یہ بول کے عمر تیار ہونے گیا تو حمزہ بھی اسی کے پیچھے گیا۔۔
جنت روتی ہوئی اقراء کے پاس آئ اور اسکا ہاتھ تھام کے کہا ۔
ڈرنے کی ضرورت نہی اقراء ابھی وہ غصہ میں ہے اس لیہ ایسا بول رہا ہے دنیا میں ہر کام انسان پہلی بار ضرور کرتا ہے اور پھر تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہی تمہارا ساتھی کوئ غیر نہی تمہارا شوہر ہے ۔۔
یہ بول کے جنت اقراء کو تیار کرنے چلی گئ۔۔
سارے ماڈل ریمپ پہ واک کررہے تھے جب شو اسٹوپر کا اعلان ہوا۔۔
ڈارک بلیو کلر کی شیروانی میں اگر عمر وہاں موجود سب ماڈل کو مات دے رہا تھا۔۔
تو ادھر اقراء بھی ڈارک بلیو اور ریڈ کلر کے کنٹراس میں اپنے شوہر کا ڈیزائن کردہ شرارہ پہنے بھاری جیولری پہنے برائیڈل میک کیساتھ ناک میں بڑی سے نتھ پہنے ہائ ہیل پہنے جب باہر آئ تو جہاں حمزہ اور جنت اسے دیکھ کے دنگ تھے۔۔
وہی عمر جوجنت کو کچھ بولنے آیا تھا اقراء کو دیکھ کے ساکن ہوگیا۔۔
اقراء باہر آئ تو جنت نے کہا۔
اقراء تم تم کیا غضب ڈھا رہی کو بلکل پہچاننے میں نہی اراہی۔۔
جنت کے بولنے پہ اقراء کا چہرہ بلش کرنے لگا اس سے پہلے وہ عمر کو دیکھتی عمر وہاں سے واک آؤٹ کرگیا۔۔
جنت میں اگر گر گئ تو میں نے کبھی ہائ ہیل نہی پہنی ۔۔؟؟؟
تو ہے تو سنبھالنے والا تمہیں تمہارے ساتھ غصہ اپنی جگہ مگر کوئ شوہر کبھی سرعام اپنی بیوی کو گرنے نہی دے گا ۔
اگر میری بات پہ یقین نہی تو زرا اپنے قدم جان بوجھ کے ڈگمگا کے دیکھ لینے یہ بول کے جنت نے اسے آنکھیں دیکھائی تو اقراء پہلے تو نہی سمجھی مگر جب سمجھی تو نظریں جھکا گئ۔۔
شو اسٹوپر کا اناونس ہوا تو پہلے عمر اپنے جلوہ بیکھیرنے ریمپ پہ گیا۔۔
ایک دم لائٹ بند ہوئ اور اقراء کی اینٹری ہوئ ۔۔
فوکس لائٹ جب اقراء پہ پڑی تو جیسے ماحول میں ایک دم سکون چھا گیا۔
عمر بھی رک کے اقراء کو دیکھنے لگا۔۔
اقراء عمر کے برابر میں جاکے کھڑی ہوئ تو ساری لائٹیں ایک دم اون ہوئ زرا سا اقراء کا بیلنس شرارہ چھوڑنے پہ بگڑا تو عمر نے فورا کسی کی نظروں میں آئے بغیر اسے کمر سے تھام کے خود سے لگایا۔
دونوں کی نظریں ایک دم ملی اور یہ منظر وہاں ۔وجود ہر فوٹو گرافر نے اپنے کیمرے میں قید کیا۔
ڈیزائنر کے نام اناونس ہوا تو حمزہ جانے لگا اور بے خودی میں وہ جنت کا بھی ہاتھ تھام کے اسٹیج پہ لے گیا اور جنت حیران کن نظروں سے حمزہ کو دیکھنے لگی۔چھپک کرکے یوسف کا عکس اسکے سامنے لہرایا۔۔اور وہ کٹی پتنگ کی طرح حمزہ کے ساتھ کھینچتی چلی گئ ۔
۔۔
حمزہ بھر پور شاندار انداز میں یہ شو جیتا تھا۔۔
سب ہی ماڈل چینج کرنے گئے جب حمزہ نے جنت سے کہا۔
اچھا آئیڈیا تھا دونوں کو قریب لانے کا۔۔
جنت نے چونک کے حمزہ کو دیکھا اور کہا ۔
مطلب سر۔
مطلب یہ کو دونوں ماڈل جو ہمارے شو اسٹوپر تھے کال آئ تھی انکی پوچھ رہے تھے کے اپنے ہمیں کیوں کینسل کیا۔
یہ بول کے حمزہ سینے پہ ہاتھ باندھ کے جنت کے نروس چہرے کو دیکھنے للگا۔۔
اور جنت اپنی چوری پکڑی جانے پہ ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
اتنے میں عمر کی آواز گونجی۔
ر
تم تو بہت میسنی ہو جنت ہاو کوڈ یو۔
خاماخای میں تم میرا حسن سر عام لائ سب سے چھپا کے رکھا تھا میں نے خود کو۔۔
یہ بول کے عمر مسکراتا ہوا جنت کے قریب آیا ۔
جنت نے پاس رکھی فائل اٹھا کے عمر نے کندھے پہ ماری۔۔
ان دونوں کی نوک جھوک دیکھ کے حمزہ ایک ضروری کال سننے سائڈ پہ گیا جب جنت نے کہا۔
بس کردو عمر بہت شرمندہ ہے وہ کیسے اس نے سب کے سامنے معافی مانگی بتاچکی ہو تمہیں میں۔
میری محبت پہ شک کیا اس نے اتنی آسانی سے اسے معافی نہی ملے گی۔۔
اچھا اور ایسا کیا کرے وہ جو تم معافی دے دوگے۔۔
ہمممم کم از کم ایک کس تو کرے آکے خود۔۔۔۔
عمر نے یہ بول کے جنت کو آنکھ ماری جنت کا منہ عمر کی اس بات پہ ہونقوں کی طرح کھولا اور اس نے دانت پیس کے کہا
بہت ہی کوئ بے ہودہ ڈائیلوگ تھا۔۔
اچھا چھوڑو جلدی کرو چھوڑ دو تمہں گھر ۔۔
جی نہی میں چلی جاؤنگی تم اقراء کو لے کے گھر جاؤ میں نومیر کو کال کرکے بلا لونگی۔۔
اس سے پہلے عمر آگے سے کچھ بولتا اقراء چینج کرکے باہر آئ تو جنت نے کہا۔
جاؤ اقراء تو عمر کےساتھ جاؤ ۔
یہ بول۔کے جنت جانے کیلیے کھڑی ہوئ تو حمزہ ۔نے آکے کہا۔
جلدی کرے جنت میں چھوڑو اپکو ٹائم کافی ہوگیا۔
یہ بول کےحمزہ مصروف انداز میں موبائل یوز کرتے ہوئے باہر کو بڑھ گیا۔
جنت اور حمزہ ایک طرف نکلے ۔۔
کیونکہ جنت کو موقع ہی نہی ملا حمزہ کو منع کرنے کا۔
تو ادھر عمر گاڑی میں ویٹ کررہا تھا اقراء کا اقراء ڈری سہمی اکےگاڑی میں بیٹھی تو عمر نے جھٹکے سے گاڑی آگے بڑھا دی۔۔۔

#

گاڑی کی خاموشی کو جنت نےتوڑا۔۔
سر اپنے خاماخای میں تکلیف کی میں بھائ کو بلالیتی۔۔
اسمیں تکلیف کی کیا بات ہے تم نے ہمارا شو اتنا سسکس فل بنایا اتنی محنت تم کرتی ہو میں اتنا تو کر سکتا ہو تمہارے لیہ۔۔
یہ بول کے حمزہ نے جنت کو طرف دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔حمزہ کی آنکھوں میں موجود پیغام کو دیکھ کے جنت لرز گئ اس نے فورا اپنی نظروں کا زاویہ بدلہ ۔۔
حمزہ دو منٹ تک اسکی پشت کو گھورتا رہا اور پھر ایک سانگ پلے کیا۔۔
“کیا یہی پیار ہےے۔۔
دل تیرے بن کہیں لگتا نہی۔
وقت گزرتا نہہ۔۔””
جنت نے گانے کے بول سن کے اپنی آنکھوں میں آئ نمی کو تیزی سے چھاپا یہ گانا یوسف کو بہت پسند تھا۔اکثر وہ جنت کیلیے یہ گنگناتا تھا۔۔
یوسف اور حمزہ کی کئ عادتیں بہت ملتی تھی۔۔
بعض اوقات جنت قدرت کے اس ردوبدل پہ کافی حیران ہوتی تھی اکثر سوچتی تھی کے کیسے دو الگ الگ انسانوں کی آواز انکا لہجہ،انکا اٹھنا بیٹھنا،پہنا اوڑھنا ،انکی سوچ مل سکتی ہے۔۔
گاڑی کے روکنے پہ جنت کی سوچوں کا تسلسل ٹوتا۔
اس نے گاڑی کے باہر دیکھا تو اسکا گھر آچکا تھا اور گانا بجنا بھی بند ہوچکا تھا۔۔
جنت نے حمزہ کا شکریہ ادا کیا اور گاڑی سے اتر کے اپنے گھر کی طرف بڑھنے لگی جب پیچھے سے حمزہ نے آواز دی۔۔
جنت؟؟؟؟
جنت نے پلٹ کے اسے دیکھا تو حمزہ نے کہا۔
کچھ نہی ۔۔
جنت گھر کے اندر داخل ہوئ تو حمزہ نے گاڑی اسٹارٹ کرکے آگے بڑھادی ایک بار پھر گاڑی میں گانا بجا۔۔
“کیا یہی پیار ہے۔۔۔
دل تیرے بن کہی لگتا نہی ۔۔
وقت گزرتا نہییی”””
گانا سن کے حمزہ نے اپنا موبائل نکالا جس کے وال پیپر پہ آج کے فنکشن کی جنت کی پک تھی جو حمزہ نے بہت مہارت سے حاصل کی تھی ۔
تصویر کو دیکھ گانے کے بولو کو محسوس کرکے حمزہ کے لب دھیرے سے مسکرائے۔۔

#

اقراء نے کی بار کوشش کی گاڑی کی خاموشی کو توڑنے کی مگر عمر جو۔ جبڑے بھیچے فل سخت موڈ میں گاڑی چلا رہا تھا اس دیکھ کے اقراء کی ہمت نہی ہوئ۔۔
گاڑی گھر کے اندر داخل ہوئ عمر تیزی سے اتر کے گھر کے اندر داخل ہوا رات کافی ہوچکی تھی اس لیہ زرین بیگم اور مجاہد صاحب کے جاگنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔
عمر اپنے کمرے میں آکے سیدھا فریش ہونے چلا گیا۔
اقراء سست روی سے چلتی ہوئ گھر کے اندر داخل ہوئے مگر اپنے کمرے میں جانے کے بجائے اس نے عمر کے کمرے کا رخ کیا
ڈرتے ڈرتے عمر کے کمرے کا دروازہ کھولا ایک نظر کمرے میں ڈالی تو اسے عمر کہی نہی دیکھا۔۔
مگر واش روم سے پانی گرنے کی آواز آنے پہ وہ سمجھ گئی کے وہ فریش ہو رہا ہے۔
اقراء بیڈ پہ بیٹھ کے عمر کے باہر آنے کا انتظار کرنے لگی اور ان لفظوں کو ترتیب دینے لگی جن سے وہ عمر کا غصہ ٹھنڈا کرسکے اسکی ناراض گی ختم کرسکے۔۔
عمر فریش ہوکے باہر نکلا تو اس نے ڈھیلا سا خالی ٹراوزر پہنا ہوا تھا گردن میں حائل تولیے سے جب وہ اپنا منہ صاف کرنے لگا تو اقراء کو اپنے کمرے میں دیکھ کے ایک دم ٹھٹکا۔۔
عمر کو دیکھ کے اقراء بھی نظریں چرا گئ۔
اسکا برہنہ بندن اس پہ اسکے بھاری بھرکم مسلز اس پہ اسکے بدن سے ٹپکتا پانی۔۔
عمر اقراء کا اسکو دیکھ کے نظریں چرانا محسوس کرچکا تھا۔۔
عمر کے ناراضگی تو اسی وقت اڑن چھو ہوگئ تھی۔جب اس نے اقراء کو اج شو میں دلہن بنے دیکھا مگر وہ صرف اقراء کی پیش قدمی کا ویٹ کررہا تھا۔
عمر اقراء کی طرف بڑھا اور کہا۔
کیا کررہی ہو میرے کمرے میں اس وقت؟؟
یہ میرا کمرہ بھی ہے عمر!!
اقراء نے ڈرتے ڈرتے بنا عمر کی طرف دیکھے جواب دیا۔۔
اوہ اچھا اور وہ۔کس رشتہ سے زرا بتانا پسند کروگی ۔۔۔
عمر نے طنزیہ انداز میں اقراء کو دیکھ کے کہا۔
میں بیوی ہو آپکی آپ پہ اور آپکی ہر چیز پہ میرا حق ہے۔
اقراء کے اسیے ہٹ دھرمی والے انداز پہ عمر نے بہت مشکل سے اپنی ہنسی دبائ اور کہا۔۔
جبھی میری محبت کا تماشہ بنایا میرے کردار پہ۔انگی اٹھائ ۔؟؟
عمر کی بات پہ اقراء نے ترپ کے عمر کی طرف دیکھا اور کہا ۔
نہی نہی عمر وہ بس مجھ سے غلطی ہوگئی میں آپ سے بہت شرمندہ ہو میں جنت سے بھی معافی مانگ چکی ہو پلیز ائندہ۔کبھی ایسا نہی ہوگا پلیز معاف کردے آخری بار معافی دے دے۔۔
یہ بول کے اقراء رونے لگی۔
عمر نے دونوں ہاتھوں میں اقراء کا چہرہ تھاما اور اسکے بہتے انسووں کا اپنے لبوں سے چنا اور کہا
جانتا ہو سب بس افسوس ہوا تمہاری سوچ پہ چلو تمہاری آخری اور پہلی غلطی سمجھ کے تمہیں معاف کیا ۔۔
عمر کا بولنا تھا کے اقراء عمر کے گلے لگ گئ مگر پھر فورا اپنی پوزیشں کا اندازہ ہونے پہ۔عمر سے الگ ہوئ پلش چہرہ لیے اپنے ہونٹوں ایک دوسرے میں پیوست کیہ وہ عمر کو دیکھنے لگی جو محبت پاش نظروں سے اسے ہی دیکھا رہا تھا اؤر دھیرے دھیرے اسکی طرف بڑھ رہا تھا ۔
اقراء آہستہ آہستہ پیچھے ہونے لگی اور ایک دم دھرم سے بیڈ پہ گر گئ ۔
عمر ایک جست میں اسکے اوپر جھکا۔
کونی کے بل اٹھ کے عمر نے اقراء کو مارے ہوئے ٹھپڑ کے مقام پہ اپنے لب رکھے ۔۔
اقراء جو کسی کبوتر کی طرح اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے تھے عمر کے اس عمل پہ فورا اپنی آنکھیں کھولی اور عمر کی طرف دیکھا۔۔
عمر دھیرے سے دوبارہ اسکے اسی گال کو چوما اور کہا۔
بہت زور سے لگا تھا نہ ٹھپڑ؟؟؟
عمر کے پوچھنے پہ۔اقراء نے ہاں میں گردن ہلائ۔
عمر نے دوبارہ اسکا منہ اپنے ہاتھوں میں نرمی سے دبوچا اور ایسا کرنے پہ۔جب اسکے ہونٹ ابھرے تو نہایت نرمی سے اپنے ہونٹوں سے اقراء کے ہونٹوں کو قید کرلیا ۔۔
عمر کے اس عمل سے اقراء کو بہت مشکل سے سانس آرہا تھا مگر وہ اپنی۔انکھیں بند کر گئ۔۔
عمر اسکے لبوں کو چھوڑ کے جیسی ہی کوئ اور گستاخی کرنے لگا اقراء نے ایک جھٹکے سے اسے اپنے اوپر سے ہٹایا اور بیڈ سے اتر کے فورا دروازے کی طرف بھاگی ۔
پلٹ کے عمر کو دیکھا جو اسے ہی دیکھا رہا تھا۔
عمر نے ایک ائبرو آچکا کے اقراء کو دیکھا اور کہا ۔۔۔
شرافت سے واپس او اقراء !!!!!
اقراء نے نفی میں گردن ہلاکے عمر کو منہ چرایا اور کہا۔۔
اونگی مگر رخصتی کے بعد۔۔
یہ بول کے اقراء نے فورا کمرے سے ڈور لگائ۔
اقراء کی اس حرکت پہ عمر بے ساختہ مسکرایا اور سیدھا ہوکے لیٹ گیا ۔۔۔۔

#

ایونٹ ختم ہوا تو ہر طرف سے مبارک باد کا سلسلہ شروع ہوا
۔کئ مشہور میگزین پہ عمر اور اقراء کی کور فوٹو آئ جسمیں وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔جیسے دیکھ کے سب ہی خوش تھے
اقراء کا آج موڈ بہت خوشگوار تھا۔اج وہ آفس نہی گئ تھی ۔۔
تو ادھر آج عمر حمزہ کے آفس میں بیٹھا مسلسل حمزہ کے مسکراتے چہرے کو دیکھ کے کافی دیر سے گھور گھور کے دیکھ رہا تھا۔۔
جب عمر نے بولا ۔۔
بھائ اب جنت کو ہٹا دینا چاہیے میں آپکے سارے کام۔کردونگا۔۔
کیوں کیوں جنت کو کیوں نکالنا ہے۔۔حمزہ کی پریشان کن شکل دیکھ کے حمزہ ہنسا اور کہا۔۔
بھائ بول دے فائدہ میں رہینگے ورنہ کوئی اور کھاجائے گا ایڑا بن کے پیڑھا۔۔۔۔
مطلب مصروف انداز میں حمزہ نے کہا۔۔۔
جنت کو اپنے دل کی بات جیسے آپ چاہنے لگے ہیں۔۔
عمر کے بولنے پہ حمزہ کے ہاتھ سے موبائل چھوٹتے چھوٹتے بچا اور اس نے گھبرا کے عمر کو کہا۔۔۔
کیا بول رہا ہے بھائ پاگل واگل ہوگیا ہے کیا۔۔
حمزہ نے گھبراتے ہوئے اپنا موبائل نیچے رکھا اور ادھر ادھر بالفضول دیکھتے ہوئے کہا۔۔
اوہ بھائ بس کردے بچپن سے آپکے ساتھ ہو آپکی انکھوں میں یہ جو چمک ہیں نہ وہ کبھی تمنا کو دیکھ کے نہی آئ جو جنت کو دیکھ کے آتی ہے اور اوپر سے سونے پہ سہاگہ اپنے موبائل پہ۔جو اپنے وال پیپر لگایا ہے وہ جنت کی ہی پک ہے شاید۔۔
عمر کے اتنے گہرے انکشاف پہ حمزہ نیچے منہ کرکے اپنی مسکراہٹ چھپانے لگا۔۔
اور عمر نے کہا۔۔
اوہ لڑکا توشرماتا بھی ہے تو پھر کب کرینگے اپنے دل کی بات۔۔
اوہ اوہ بھائ بریک مار اپنے جزبات پہ ابھی نہی میں کچھ نہی جانتا اس کے بارے میں نہ وہ میرے بارے میں ابھی اتنی جلدی نہی تھوڑا وقت چاہیے ابھی اور تو بھی وعدہ کر ایسی ویسی کوئ بات نہی کریگا اس سے۔۔
ارے یار بھائ کیا۔۔
ابھی عمر کی بات منہ میں ہی تھی جب کیبن کا دروازہ کھول کے جنت اندر آئ ۔۔
جنہیں دیکھ کے عمر چپ ہوا۔۔
جنت نے عمر کو دیکھ کے کہا
۔
ارے آج تو بڑے بڑے لوگ کیبن میں ہیں خیریت ۔
ایسی کام تو کچھ خاص نہی تھا اس لیہ بگ بی کیساتھ بیٹھا تھا۔۔
ہممم۔۔۔
یہ بول کے جنت اپنے کام میں لگی۔۔
جب عمر نے ٹییبل بجاتے ہوئے گانا گنگنایا۔۔۔
,,,”””کہہ دو تمہیں یا چپ رہو۔۔
دل میرے آج کیا ہے۔۔
جو بوجھو تو جانو۔۔
گرو تم کو مانو۔۔
چلو یہ بھی وعدہ ہے۔۔،،””
عمر کے گنگنانے پہ حمزہ نے گھبرا کے فورا اپنے آگے فائل کی جب کے جنت کام کرتے ہوئے مصروف انداز میں کہا۔۔
لگتا ہے بیوی سے مذکرات ہوگئے۔۔
جبکہ ادھر حمزہ نے اس کے موبائل پہ میسج کیامیسج کی بیپ پہ عمر نے موبائل اٹھا کے میسج دیکھا جو حمزہ کا تھا ۔۔
جسمیں لکھا تھا۔۔
کمینے چپ ہوجاو وہ بچی نہی ہے پلیز کیوں پٹ وائے گا ۔۔
عمر نے حمزہ کا میسج پڑھ کے زور سے قہقہ لگایا اور جنت سے کہا۔
ہاں بہنا کچھ ایسا ہی۔سمجھو۔۔۔
یہ بول کے عمر نے گھور کے حمزہ کو دیکھا جو سمجھ چکا تھا عمر کے گھورنے کا مقصد ۔۔
اور کیبن سے چلا گیا ۔
جنت اور حمزہ اپنےاپنے کام میں مصروف تھے جب جنت کے نمبر پہ کال آئ جیسے سن کے جنت چیخ پڑی تو ادھر حمزہ بھی جنت کے ایسے ریکشن پہ گھبرا گیا۔۔
جاری ہے۔۔