50.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21 Part 2

جنت پورے راستے روتی رہی کتنی ہی کال حمزہ اور عمر اسے کرچکے تھے مگر بے سود۔۔
گھر اکے اس نے دیکھا کے شبنم بیگم کچن میں مصروف تھی۔۔
جنت نے آکے انہیں پیچھے سے ہگ کیا۔۔
شبنم۔بیگم جنت کو دیکھ کے ایک دم چونکی کیونکہ یہ اسکے آفس سے واپسی کا ٹائم نہی تھا۔
انہوں نے پلٹ کے جنت کو دیکھا اور جنت کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کے کہا۔
کی بات ہے جنت تو اداس ہے اتنی جلدی اگئ۔افس سے اور اور یہ تیری آنکھیں کیوں سوجی ہوئ ہیں کیا ہوا کچھ ہوا ہے آفس میں یہاں دیکھ ادھر میری طرف۔۔
جنت نے غور سے شبنم بیگم کو دیکھا یہ وہی عورت تھی جنہوں نے جنت میں زندگی کی امنگ پیدا کی تھی۔۔
انکا جوان بیٹا اب اس دنیا میں نہی تھا بیٹے کے ساتھ ساتھ وہ دادی بننے کی خوشی سے بھی محروم ہوگئ تھی مگر ایک بار بھی انہوں نے جنت کو کسی چیز کا احساس ہونے دیا انہوں نے سب اللہ کی مرضی سمجھ کے قبول کیا۔
ارے نہی ماما آفس میں بہت کام تھا کام کرتے کرتے سر میں بھی بہت درد ہورہا تھا اس لیہ جلدی آگئ آفس سے۔۔
اچھا چل تو فریش ہوجا میں اچھی سی چائے بناتی ہو تیرے لیہ شبنم بیگم نے لاڈ سے اسکے بال کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا۔
ارے نہی ماما میں بس آرام کرونگی تھوڑی دیر سوونگی تو فریش ہوجاونگی۔
اچھا جل جا آرام کرلے۔۔
جنت کمرے میں آئ تو ایک بار پھر اقراء کے الفاظ کسی خنجر کی طرح اسکے روح میں پیوست ہونے لگے اس نے تو سوچا ہی نہیں تھا عمر سے اتنا فرینک ہونے سے پہلے کے اسے اتنی الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔۔
وہ فریش ہونے چلی گئ۔فریش ہوکے باہر آئ تو اسکے نمبر پہ۔مسلسل عمر اور حمزہ کی کال آنے لگی اس نے موبائل افف کیا کمرے کی لائٹ بند کرکے سوگئ۔۔۔

#

عمر کا اسطرح جنت کا اہمیت دینا اقراء کے شک کو اور ہوا دے گیا۔۔
وہ پورا دن ساحل سمندر پہ رہی آج شدت سے اسے اسکے والدین یاد آرہے تھے۔۔
عمر کا ایسا کسی انجان کیلے اسے اگنور کرنا اس سے برداشت نہی ہوا۔۔۔
اس نے دوپہر میں ہی زرین بیگم کو کال کرکے بتا دیا تھا کے وہ آج اپنی فرینڈ کی طرف جائے گی اس لیہ اسے آنے میں دیر ہوجائے گی۔
اقراء جب گھر پہنچی تو رات کے آٹھ بج رہے تھے ۔وہ پہلے زرین بیگم کے کمرے میں گئ تھوڑی دیر ان سے باتیں کرنے کے بعد وہ اپنے کمرے میں گئ۔۔
ابھی وہ ریلکس انداز پہ بیڈ پہ لیٹی تھی جب کمرے میں عمر کی آواز گونجی ۔۔جو صوفے پہ بیٹھے جب سے اسکا انتظار کررہا تھا۔۔
کس کے ساتھ تھی کہاں سے آرہی ہو؟؟؟
عمر جو جلدی آفس سے گھر آیا تھا تاکہ اقراء کا دماغ درست کر سکے مگر یہاں آکے اسے زرین بیگم سے پتہ چلا کے وہ اپنی کسی فرینڈ کی طرف گئ ہے ۔مگر وہ جانتا تھا کے وہ کہاں جاتی ہے جب جب اداس ہوتی ہے مگر عمر نے انجان بن کے کہا۔۔
عمر کی آواز پہ اقراء ایک دم چونکی اور عمر کو دیکھ کے کہا۔
میں اپکو جواب دینے کی پابند نہی۔
یہ بول کے جنت جیسی ہی کمرے سے جانے کیلیے مڑی عمر نے اسکی کلائ پکڑ کے زور سے اسے گھمایا اور قریب آکے کہا۔۔
تم ہر چیز کی جوابدہ ہو مجھے بتاؤ کون تھا کس کے ساتھ تھی تم کہی مجھ سے دل تو نہی بھر گیاتمہارا مجھ سے زیادہ خوبصورت ہے وہ یہ مجھ سے زیادہ پیسے والا ہے۔؟؟؟
عمر کی باتوں نے اقراء کی روح پہ ایسی کاری ضرب لگائ کے وہ بے یقینی کے انداز میں عمر کو تکنے لگی اور پھر اچانک اسکا گریبان پکڑ کے چیخ کے کہا۔۔
آپ ہوتے کون ہیں میرے کردار کشی کرنے والا آپ نے کب کس کے ساتھ مجھے دیکھا جو اسطرح کی باتیں کررہے ہیں یہ تھی محبت آپکی جسکا یقین اپ مجھے دلاتے تھے ۔میں اپنی فرینڈ کے ہاں تھی سنا اپنے ۔۔
یہ کہہ اقراء نے عمر کا گریبان چھوڑا ۔
عمر نے ایک نظر اقراء پہ ڈالی اور کہا۔۔
لاو اپنی اس فرینڈ کا نمبر دو جسکے ساتھ تم ابھی تک تھی۔۔
عمر کے بولنے پہ دو پل کیلیے اقراء گھبرائ اور کہا۔۔
اپکو میرے کردار پہ شک ہے اپکو میں ایسی لگتی ہو۔۔۔۔؟؟؟؟
اقراء کے بولنے پہ عمر اقراء کے قریب آیا اور کہا ۔۔
تم نے میرے اور جنت کے درمیان ایسا کیا دیکھا تھا جو تم نے جنت کے کردار کشی کی۔۔
عمر کا بولنا تھا کے اقراء نے ایک طنزیہ مسکراہٹ عمر پہ ڈالی اور کہا۔۔
اوہ تو اس اوراہ کی وجہ سے یہ سب ہورہا ہے۔۔
اقراء زبان سنبھالو اپنی۔۔۔
عمر نے غصہ سے اقراء کا بازو دبوچ کے کہا۔۔
کیوں کیوں زبان سنبھالو اپنی ۔۔ایسا کیا جادو کردیا اس نے ہاں مجھے بھی تو پتہ چلے اوہ کہی اس نے اپنی حسن کا دیدار ابھی اقراء کے الفاظ منہ میں ہی تھے کے ایک زناٹے دار تھپڑ اقراء کی بولتی بند کرگیا۔۔
اقراء نے گال پہ ہاتھ رکھ کے بے یقینی کی کیفیت میں عمر کو دیکھا ۔
عمر نے آگے بڑھ کے اسکا منہ دبوچا اور کہا۔۔
بہن ہے وہ میری بسمہ کی طرح عزیز ہے مجھے جنت اگر آج میں تمہارے سامنے صحیح سلامت کھڑا ہو تو اسی کی وجہ سے شرم آتی ہے مجھے تمہاری گھٹیا سوچ پہ آج میں نے تم سے زرا سا سوال جواب کیا کرلیا تو اتنا بھرک گئ تم کون ہوتی ہو میرے اور جنت کے کردار کو جج کرنے والی ارے آج تک میں ہی پورے آفس میں وہ ہو جس نے اسکی شکل دیکھی ہے وہ بھی حادثاتی طور پہ ورنہ اس کے دیدار سے تو آج تک وہ شخص بھی محروم ہے جسکے ساتھ وہ چوبیس گھنٹے رہتی یے۔۔
اگر جنت کی کردار اتنا ہی ہلکا ہوتا نہ تو وہ مجھے نہی بگ بی کو اپنی طرف راغب کرتی کیونکہ مجھ سے کڑور درجہ خوبصورت ہے حمزہ بھائ۔۔
آج مجھے افسوس ہوتا ہے کے میں نے تم سے محبت کی تم عمر مجاہد کی محبت کے قابل نہی بلکہ اپنے اس کزن کے ہی لائق تھی۔۔
یہ بول کے عمر نے جھٹکے سے اقراء کو منہ چھوڑا اور کمرے سے باہر نکلا مگر اسکا تکراو کمرے کے باہر حمزہ سے ہوا۔۔عمر نے بھیگی آنکھوں سےحمزہ کو دیکھا اور وہاں سے چلا گیا اور حمزہ میں اتنی ہمت نہی کے وہ اقراء کا سامنا کرے وہ بھی الٹے پاؤں اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔
عمر کے جاتے ہی اقراء ساکن حالت میں زمین پہ پہ بیٹھتی چلی گئ بار بار اسکے کانوں میں عمر کے الفاظ گونج رہے تھے
وہ بہن ہے میری ۔۔۔
اقراء نے کرب سے اپنی آنکھیں بند کی اسے اندازہ ہی نہیں ہوا کے وہ ایک شک کی بنیاد پہ اپنی ہی محبت پہ شک کرگئ ایک باکردار لڑکی کی کردار کشی کرگئ۔۔
اس نے فورا اپنے اللہ سے معافی مانگی اور یاد کرنے لگی کے کس کس جگہ کیسے اسکے اللہ نے اسکے کردار کی صفائ رکھی اور آج وہ عمر کی بیوی بن کے اتنی غرور میں آگئ کے کسی کی عزت پہ انگلی اٹھا دی ۔
کتنی ہی دیر وہ اپنے اللہ سے معافی مانگتی رہی اور وہی سوگئ۔۔

#

اگلے دن سنڈے تھا سب ہی ناشتہ کی ٹیبل پہ بیٹھے تھے مگر اقراء نہی آئ تھی۔۔حمزہ نے ایک نظر خاموشی سے ناشتہ کرتے عمر کو دیکھا مگر اسے عمر کی حالت کا اچھے سے اندازہ تھا۔۔
مجاہد صاحب اور زرین بیگم اپنی اپنی باتوں میں مصروف تھے۔۔مگر زرین بیگم نے بسمہ سے پوچھا تھا اقراء کے ناانے کی وجہ تو بسمہ نے اقراء کے کمرے سے آکے یہی کہا۔
کے وہ کہہ رہی ہیں انکی طبیعت ٹھیک نہی بعد میں کرینگی ناشتہ مگر حمزہ جانتا تھا اقراء کے ناانے کی وجہ ۔۔

#

ناشتہ کرکے عمر گھر سے چلا گیا اور حمزہ اقراءکے کمرے میں گیا ہلکی سی دستک دے کے وہ اقراء کے کمرے میں گیا ۔
اقراء بیڈ پہ کمفرٹر اوڑھ کے لیتی تھی دروازے کی دستک پہ جب اس نے حمزہ کو کمرے میں آتا دیکھا تو فورا اٹھ کے بیٹھی اور سر پہ ڈوپٹہ لیا۔۔
حمزہ اسکے سامنے جاکے بیٹھا اور غور غور سے اسکا چہرہ دیکھنے لگا۔اس کی آنکھیں پوری رات جہاں رونے کی چغلی کھا رہی تھی وہی حمزہ دیکھ سکتا تھا کے وہ اپنے کیہ پہ بہت پیشمان ہے ۔
ناشتہ پہ کیوں نہی آئ اقراء؟؟؟
حمزہ کے پوچھنے پہ اس نے انسووں کا غولا اپنے حلق میں اتارا اور کہا۔۔
مجھے بھوک نہیں ہے بھائ…
حمزہ دو منٹ چپ رہا اور پھر کہا۔۔
عمر بچپن سے میرے ساتھ ہے اقراء میں نے اسے کبھی روتے نہی دیکھا اپنے موم ڈیڈ کے انتقال کے بعد مگر میں نے اسے پہلی بار روتے دیکھا جب تم نے اسے دھتکارا اور دوسری بار جب وہ کل تمہارے کمرے سے نکلا۔۔
حمزہ کے بولنے پہ اقراء نے کرب سے اپنی آنکھیں بند کی۔۔
پتہ ہے اقراء شاید گاڈ گفٹڈ کہہ لو یا کچھ بھی عمر کو انسانوں کی پہچان ہے وہ جب تمنا سے پہلی بار ملا تھا وہ تب سے اس سے چڑتا تھا وہ ہمیشہ مجھ سے کہتا تھا کے بھائ یہ دوغلی ہے مگر میں ہمیشہ اسے اگنور کرتا اور دیکھو اس کی بات سچ ہوگئ۔۔
مگر اقراء جنت کے بارے میں اگر میں عمر کے منہ سے کچھ سنا تو وہ لفظ کچھ اور نہی بہن تھا۔۔
عمر کا کریکٹر اگر لوز ہوتا تو وہ کب کا تمہارے ٹھکرانے کے بعد کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کرچکا ہوتا۔
ہم جب کسی سے محبت کرتے ہیں نہ اقراء تو سب سے پہلے اس پہ بھروسہ کرتے ہیں کیونکہ آنکھوں دیکھا بھی کبھی غلط ہوتا ہے ۔۔
اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کسی پہ تہمت لگانا ہے۔۔
اور رہا سوال جنت کا تو اگر تمہیں مجھ پہ میری باتوں پہ زرا سا بھی بھروسہ ہے تو اسکا اندازہ اس بات سے لگالو کے ایک ہی کیبن میں ہونے کے باوجود اسکا چہرہ تو بہت دور کی بات ہے اس نے کبھی نگاہ اٹھا کے مجھے نہی دیکھا۔۔
رشتوں کو اسپیس دیتے ہیں اقراء خاص کر ان رشتوں کو جن کے بغیر آپ ادھورے ہیں۔۔
حمزہ اپنی بات بول کے چپ ہوا تو اقراء بلک بلک کے رو پڑی اور کہا۔۔
بھائ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئ مجھے نہی پتہ مجھے کیا ہوگیا تھا پلیز مجھے معاف کردے ۔۔
اقراء تم نے میرا دل نہی دکھایا جو مجھ سے معافی مانگ رہی ہو۔۔
بھائ میں جنت سے بھی معافی مانگ لونگی اور عمر سے بھی۔۔
جنت سے تو بھلے تم معافی مانگ لینا مگر اس کیلیے تمہیں اسکے گھر جانا پڑے گا کیا مانگ سکو گی اسکے سارے گھر والوں کے سامنے معافی؟؟؟؟۔۔
ہاں بھائ جب الزام سرے عام لگایا تو معافی بھی سرے عام مانگو گی۔۔
ٹھیک تو کل ہم لوگ صبح چلینگے جنت کے گھر ابھی فورا فریش ہو اور نیچے او ناشتہ کرنے شاباش یہ بول کے حمزہ نے اقراء کے سر پہ ہاتھ رکھا اور جانے لگا مگر اقراء کی آواز پہ اس کے قدم تھمے۔۔
بھائ اور عمر وہ تو بہت سخت ناراض ہیں۔۔
اقراء کی بات پہ حمزہ نے مسکرا کے اسے دیکھا اور اپنے مسکراہٹ لبوں پہ لاتے ہوئے کہاں جس پہ اس کے گالوں کے دونوں ڈمپل شان سے اسکے گالوں کی زینت بنے۔۔
کہتے ہیں محبت کرنے والے ناراض نہی ہوتے روٹھ جاتے ہیں اور زیادہ دیر تک اپنے محبوب سے ناراض بھی نہی رہ سکتے باشرطیکہ محبوب کو اپنے یار کو منانے کا فن اتا ہو۔۔
یہ بول کے حمزہ مسکراتے ہوئے کمرے سے چلا گیا اور اقراء آنکھیں موند گئ۔۔

#

نہ تو رات کو اقراء کا سامنا عمر سے ہوا ڈنر پہ اور نہ صبح ۔
عمر جلدی ہی آفس چلا گیا جبکہ حمزہ اور اقراء جنت کے گھر۔۔
جنت کے گھر کے پاس گاڑی روک کے حمزہ نے مڑ کے اقراء کو دیکھا جو نروس ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی انگلیاں آپس مڑور رہی تھی۔۔
اقراء تم مانگ لوگی معافی سب کے سامنے؟؟
ہاں بھائ بس آپ ساتھ دینا میرا ۔۔
ہاں ہاں ضرور میری بھابھی۔۔
حمزہ اور اقراء نے جنت کے گیٹ کا دروازہ بجایا تو گیٹ خالدہ بیگم نے کھولا۔
مگر سامنے حمزہ کو دیکھ کے جو وائٹ کاٹن کے سوٹ میں تھا دیکھ کے بے ڈھرک انکا ہاتھ اپنے دل پہ گیا۔۔
صرف آنکھوں کے کلر کا ہی تو فرق تھا اور باقی کا فرق حمزہ نے بول کے مٹا دیا۔۔
اسلام وعلیکم آنٹی کیا جنت یوسف کا گھر ہے یہ ؟؟؟
ہاں بیٹا مگر آپ کون خالدہ بیگم نے حمزہ کی آواز اسکا لہجہ سن کے بہت مشکل سے اپنے اپکو ساکن ہونے سے بچایا تھا۔۔
جی آنٹی میں انکا باس ہو اور یہ بھابھی ہے میری حمزہ نے اقراء کا تعارف کراتے ہوئے کہا۔
کیا ہم مل سکتے ہیں آنٹی ان سے اقراء نے آگے کی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔
ہاں ہاں بیٹا آپ لوگ اندر او۔۔
خالدہ بیگم چلنے کے انداز پہ نہی ڈورنے کے انداز میں اندر گئ۔اور سب کو حمزہ کے آنے کا بتایا۔۔
جس نے حمزہ کو دیکھا سب کا ایسا ہی حال تھا جیسے خالدہ بیگم کا جبکہ لائبہ نے باقاعدہ قریب آکے حمزہ کو دیکھا تھا۔۔
جب جنت شبنم بیگم کے بلانے پہ ایک دم نیچے ائ۔۔
اور کہاں۔۔
اسلام وعلیکم سر آپ اس وقت یہاں۔۔
حمزہ جو اکمل صاحب اور اجمل صاحب سے باتوں میں لگا تھا جنت کی آواز پہ ایک دم اسے مڑ کے دیکھا مگر دیکھنا تھا کے دل کی رفتار تیز ہوئ آنکھوں کی پتلی اور چمکی۔۔۔۔
حمزہ بےخودی کے عالم میں کھڑا ہوگیا۔۔
بلیک سوٹ میں بالوں کو پشت پہ چھوڑے وہ اتنی حسین ہوگی حمزہ نے کبھی سوچا نہی تھا اسکی ناک میں چمکتی نوز پن اسکا دل بے ایمان کرنے لگی اس نے فورا اپنی۔نگاہوں کا زاویہ بدلہ ۔۔
جنت اس سے پہلے کچھ اور کہتی جنت کی نظر حمزہ کے ساتھ سہمی سی کھڑی اقراء پہ پڑی۔۔۔
اقراء کو دیکھتے ہی جنت کا خون کھول اٹھا اور وہ جیسی جانے کیلیے پلٹی لانج میں اقراء کی آواز گونجی۔۔
جانتی ہو میرے کہے ہوئے الفاظ تمہارا دل توڑ چکے ہیں مگر مجھ سے غلطی ہوگئ جنت شاید ایک عمر کا ہی رشتہ اس دینا میں میرے پاس موجود ہے اس لیہ میں ۔۔۔۔۔۔
آئ ایم سو سوری مجھے معاف کردو جنت یہ بول۔کے اقراء نے سب کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے اور بلک بلک کے رونے لگی۔۔
سب ہی اقراء کے اس رویے پہ حیران تھے سوائے شبنم بیگم کے جن کو جنت کل سب بتا چکی تھی۔۔
شبنم بیگم کے اشارے وہ اقراء کے قریب ائ اور اسکے ہاتھ نیچے کرکے کہا۔
ضروری نہی ایک مرد اور عورت میں ایک ہی آئ رشتہ ہو …عمر میرے بھائیوں کی طرح ہے جیسے نومیر ویسے عمر اس لحاظ سے تم میری بھابھی ہوئ اور بھابیاں معافی نہی مانگتی یہ بول کے جنت نے اقراء کو گلے سے لگالیا ۔
جنت کے اس بڑے پن کے مظاہرے پہ حمزہ کھل کے مسکرایا۔۔
اور حمزہ نے کہاں۔۔
جنت اگر آپ برا نہی منائے تو ہمارے ساتھ ہی آفس چلے اپکے بھائ نے کافی دہشت پھیلائ ہوئ ہے وہاں۔۔
حمزہ کے بولنے پہ جنت نے ہاں میں گردن ہلائی اور اوپر تیار ہونے چلی گئ۔۔
لائبہ اور ماریہ تو حمزہ کو بس تکے ہی جارہی تھیں ۔۔۔
تو ادھر شبنم بیگم حمزہ کو دیکھ کے کچھ سوچ کے مسکرائے جارہی تھی۔۔
جنت تیار ہوکے نیچے آئ تو وہ تینوں آفس کیلیے نکل پڑے۔۔
وہ سب آفس میں داخل ہوئے تو عمر کسی ورکر پہ گرم ہورہا تھا۔۔
جب پیچھے سے جنت نے کہا۔
ادھر کیا اپنا بھرم دیکھا رہے ہو روم میں چلو بہت کام ہے لوزر کہی کے۔۔
جنت کی آواز پہ عمر نے ایک جھٹکے سے پلٹا اور جنت کو دیکھ کے خوش ہو کے کہا۔
ارے پارٹنر تم مطلب ۔۔
باتیں بعد میں بہت کام ہے یہ بول کے جنت کیبن میں گئ تو حمزہ نے عمر کو اشارہ کیا جو اقراء کو گھور رہا تھا غصہ میں جب حمزہ نے اقراء سے کہا عمر کو جتاتے ہوئے۔۔
جاؤ اقراء بیٹا شاباش آپ گھر میں آرام کرو کل سے کچھ نہی کھایا تم نے اور بخار بھی ہے تمہیں
حمزہ جو سمجھ رہا تھا کے اس کے بولنے وہ اقراء کی فکر کرے گا مگر اسے حیرت تب ہوئ جب وہ اقراء جو اگنور کرکے جنت کے پیچھے چلا گیا اور اقراء مایوسی سے گھر ۔

#

ایونٹ کی تیاری زوروشور سے جاری تھی۔۔
تو ادھر اقراء عمر کی بے رخی سہہ سہہ کے ادموئ ہوچکی تھی۔۔
جہاں اقراء جاتی عمر اپنا راستہ بدل دیتا اسکا نمبر تک بلاک کرچکا تھاا۔۔
عمر جنت کیلے کافی لے کے آیا تھا کل ایونٹ تھا انکا ابھی وہ لوگ کافی پہ رہی تھے جب دروازے پہ ناکک ہوئ جنت نے سامنے دیکھا تو اقراء کھڑی تھی جسکے ہاتھ میں فائل تھی۔۔
ارے اقراء اندر او اقراء کے اندر آتے ہی عمر باہر چلا گیا عمر کے ایسے رویہ پہ اقراء نے بہت مشکل سے اپنے اسنو روکے اور جنت سے کہا۔۔
جنت یہ حمزہ سر نے فائل دی ہے ایونٹ کی تم چیک کرلو ایک بار۔۔
یہ بول کے اقراء جانے لگی جب جنت نے اقراء سے کہا۔۔
ابھی تک عمر ناراض ہے تم سے؟؟؟
اقراء ایک پھیکی مسکان ہنسی اور کہا۔۔
پتہ نہی کب مکمل طور پہ مجھے خوشیاں نصیب ہونگی جنت زرا سی دیر میں خوشیاں روٹھ جاتی ہیں مجھ سے یہ بول کے اقراء روتی ہوئی وہاں سے چلی گئ ۔
ایونٹ شروع ہونے میں 10 منٹ تھے سارے ماڈل تیار تھے جب جنت نے حمزہ اور عمر سے کہا۔۔
سر ایک مسئلہ ہوگیا ہے۔۔؟؟
کیا ہوا اب عمر اور حمزہ نے ایک ساتھ پوچھا۔۔
سر ہمارے شو کے شو اسٹوپر ٹریفک میں بری طرح پھنس چکے ہیں ایک دو گھنٹہ سے پہلے نہی اسکینگے۔۔
لو کرلو شو جب سب کچھ اچھا ہونے جارہا ہوتا ہے تو کچھ نہ کچھ بیچ میں گڑ بڑ ہوہی جاتی ہے۔۔
عمر بول کے سائیڈ میں بیٹھ گیا ۔اورحمزہ بھی پریشانی میں پیشانی مسلنے لگا۔۔
ایک راستہ ہے سر شو اسٹوپر کا انتظام 2 منٹ میں ہوجائے گا اگر کوئ دو لوگ مانے تو۔۔
جنت کے بولنے پہ حمزہ اور عمر نے ایک ساتھ کہا۔۔
کون دو لوگ؟؟؟
عمر ۔اقراء۔۔
جنت کے بولنے پہ جہاں عمر جھٹکے سے اٹھا وہی اقراء بھی سٹپٹاگئ۔۔
جاری ہے۔۔۔