50.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21 Part 1

اگلے دن حمزہ اور عمر افس پہنچے تو سب ہی پریشان کن حالت میں کھڑے تھے ۔۔
جب حمزہ نے پہلے سے آئ اقراء سے پوچھا۔۔
جو رات عمر کے فون پہ جنت کی آواز سن کے کافی غصہ میں تھی ۔نہ تو اس نے عمر کی کال ریسیو کی اور نہ ہی اسکے دروازے بجانے پہ دروازہ کھولا ۔اقر صبح ناشتہ کرنے بعد بے مقصد ساحل سمندر پہ بیٹھی رہی اور پھر اٹھ کے آفس اگئ۔۔
سر ڈیزائینر روم میں کچھ گڑ بڑ ہوئ ہے پورا روم تہس نہیس ہوا ہے۔۔
اقراء کے بولنے پہ حمزہ اور عمر تیزی سے روم کی طرف بڑھے اور واقعی روم کی حالت دیکھ کے جہاں حمزہ نے پریشانی سے اپنی پیشانی مسلی وہی عمر تو باقاعدہ زلزلوں کے جھٹکوں میں تھا۔۔
انکے سارے ڈیزائن جو کل ہی جنت نے فائنل کیے تھے غائب تھے اور پورے کمرے کا ناشتہ کچھ اور ہی بیان کررہا تھا۔۔
ابھی وہ لوگ پریشان سے کھڑے تھے جب سب کو ہٹاتی ہوئ جنت آگے آئ اور کمرے کی حالت دیکھ اسے بھی جھٹکا لگا مگر وہ اتنی پریشان نہی ہوئ جتنے باقی سب تھے۔۔
جنت نے عمر سے مخاطب ہوکے کہا۔۔
کیا ہوا اتنے پریشان کیوں ہو؟؟
جنت کے بولنے پہ سب ہی نے پلٹ کے اسے دیکھا جب کے جنت کو عمر کی شکل دیکھ کے ایسے لگا جیسے وہ ابھی رو دے گا ۔اور اس کی جگہ کوئ بھی ہوتا تو شاید ایسے ہی ریکٹ کرتا کیونکہ ایک ہفتہ بعد انکا ایونٹ تھا ہر تیاری مکمل کرکے ان دونوں نے اس کمرے میں ہی سیو کری تھی ۔۔
ایسا عمر کو لگتا تھا۔۔۔۔
کیا ہو مطلب تمہیں دیکھ نہی رہا جنت میڈم سب کچھ برباد ہوگیا ہم دونوں جو پچھلے ایک مہینے سے اپنے سکھ چین سکوں برباد کرکے ہم نے جو محنت کی اس کمرے کی حالت دیکھ کے صاف اندازہ ہو رہا ہے ہےکوئی بہت صفائ سے ہماری محنت پہ پانی کیساتھ ساتھ وائپر اور پوچا بھی مار گیا ہے اور تم کہہ رہی ہو کے ہوا کیا ہے حد ہے۔۔
عمر بول کے چپ ہوا اسسے پہلے جنت جواب دیتی ۔۔
گارڈز گارڈزز۔
حمزہ کی دھاڑ نے جنت کو چوکنے پہ مجبور کرگیا جسکی ہذیل گرین انکھیں غصہ میں کسی اور کا عکس پیش کررہی تھی۔۔
جنت نے فورا اپنی آنکھیں بند کرکے کھولی ۔
دو گارڈ بھاگتے ہوئے آئے ۔
حمزہ نے دونوں کےکالر کو زور سے جھٹکا دیا اور کہا
کل رات کس کی ڈیوٹی تھی یہاں؟؟
ان میں سے ایک گارڈ نے گھبراتے ہوئے کہا۔۔
سر اکرم کی ڈیوٹی تھی۔۔اسکی والدہ کی طبیعت اچانک خراب ہوگئ تھی۔اس نے اپکو کال بھی کی مگر آپکا نمبر بند جارہا تھا اس لیہ وہ چلا گیا گاوں۔۔۔۔
گارڈز کی بات سن حمزہ نے اپنا غصہ کنٹرول کیا اور انہیں جانے کا بولا۔
گارڈز کے جاتے ہی جنت نے کہا۔۔
کل جو کوئ بھی اس کمرے میں چوری کرنے آیا تھا سوائے اپنے ٹائم ضائع کرنے کے علاؤہ کچھ نہی کرکے گیا۔۔
مطلب حمزہ اور عمر نے ایک ساتھ کہا۔۔
مطلب یہ کے میں اپنے ایونٹ کے متعلق کوئ بھی چیز اس روم میں نہی چھوڑی ایک ایک ڈیزائن جو ہم نے کیا کپڑے یہاں تک کے دھاگے اور پوسٹر بھی ماڈل کے نیم کانٹیکٹ جس جس کا کام ہوتا گیا میں اپنے گھر لیتے گئ لہزا اس لیہ یہاں کچھ نہی سوائے پرانے سامان کے۔۔
جنت کے بولنے پہ حمزہ کے لبوں پہ دلکش مسکراہٹ آئ وہی عمر نے بے یقینی عالم میں جنت کو دیکھا اور پوچھا ۔۔
تم سچ کہہ رہی ہو جنت ؟؟
تو تمہں کیا لگا کسی بیوقوف کے ساتھ کام۔کرتے ہوئے میں بھی اپنا دماغ گھر رکھ کے او مجھے اندازہ تھا ایسا کچھ ضرور ہوگا۔۔
اور تمہیں کیسے اندازہ تھا حمزہ نے ماتھے پہ۔شکن لئے جنت سے پوچھا۔۔
مجھے ایک ہفتہ سے کسی درانی کی کال آرہی ہے جو مجھے ڈیزائن بیچنے پہ اچھی خاصی رقم آفر کررہا تھا۔
بس جب میں منع کیا تبھی میں سمجھ گئی تھی کے ایسا کچھ ہوگا۔۔
اففف عمر ایک لمبی سانس لے کے وہی رکھی کرسی پہ ڈھیر ہوگیا
جب جنت نے کہا۔۔
ایسے مت بیٹھو سمیٹوں سارا آفس میں آئ ابھی۔۔
جنت کے ایسے آڈر دینے پہ حمزہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے اپنے کیبن کی طرف بڑھا۔
جنت بھی جانے لگی جب عمر نے ایک ایبرو آچکا کے لڑاکا عورتوں کی طرح کمر پہ ہاتھ رکھا اور کہا۔
ہے لیڈی یو ٹاکنگ تو می۔۔
جنت نے رک کے ایک ادا سے کہا۔
یس لوزر مین آئ ایم ٹاکنگ تو یو۔۔
ابے یار ابھی مین کہاں ہوا۔۔
عمر نے معصوم شکل بنا کے کہا۔
بہت ہی کوئ بے شرم ہو یہ بول کے جنت نے عمر کے کندھے پہ زور سے فائل ماری ۔۔
دونوں ہی اپنی نوک جھوک میں کسی کی موجودگی فراموش کرچکے تھے۔۔
اور وہ تھی اقراء جو آنکھوں میں آنسو چہرے پہ غصہ لیے وہاں سے چلی گئ۔۔

#

جنت ضروری فائل لے کے کوریڈور سے گزر رہی تھی جب اقراء نے اسے آواز دے کے روکا۔۔۔
ایک منت جنت ….
اپنے نام کے پکار پہ جنت رکی اور پلٹ کے دیکھا تو اقراء چلتی ہوئ جنت کے پاس آئ اور کہا ۔
تمہیں شرم آنی چاہیے کسی نکاح شدہ مرد کے پیچھے لٹو ہوتے ہوئے ۔پہناوا دیکھو اپنا اور کرتوت دیکھو ۔۔شرم نام کی چیز ہے کے نہی تم میں انسان کو اپنی اوقات نہی بھولنی چاہیے ۔۔اور خاص کر ایک مالک اور نوکر کا فرق۔۔
عمر صرف میرا ہے اور یہ تمہاری بھول کے تم اپنے ان جلووہ سے اسے اپنا بنا سکوگی۔۔
مجھے تو حیرت ہورہی ہے کیسی تربیت ہے تمہاری جو اتنی دیر دیر تک ایک انجان آدمی کیساتھ تم کام کرتی رہتی ہو وہ تمہیں گھر تمہیں لینے آتا ہے تمہارے گھر والے تو بھئ کچھ زیادہ بولڈ ہیں یہاں پھر تم انکا مہرہ ہو تمہیں آگے پیشں کرکے وہ امیر زادوں۔۔۔
انفف از انففف!!!!!!!!
جنت جو اقراء کی باتیں سن کے پاش پاش ہوچکی تھی بہتی آنکھوں سے مسلسل اپنی کردار کشی برداشت کررہی تھی اس سے برداشت نہی کرپائ اورچیخ پڑی۔۔
اس چیخ کے پیچھے تم اپنا مشکوک کردار چھپا نہی سکتی ۔۔اقراء نے بھی چیخ کے کہا۔۔
اس سے پہلے آگے بات بڑھتی کوریڈور کے سامنے سے گزرتا عمر دونوں کو دیکھ کے انکی طرف آیا اور کہا۔
ارے کیا ہو رہا ہے بیوٹیفل لیڈیز؟؟؟
عمر کے بولنے پہ جنت نے نگاہ اٹھا کے عمر کو دیکھا تو عمر اسکی آنکھیں دیکھ کے شاکڈ ہوگیا۔
اس کی بہتی آنکھیں دیکھ کے عمر کو احساس ہوا۔اور اس نے جنت سے پوچھا۔۔
کیا ہوا جنت ۔؟؟
اقراء کیا ہوا ہے !؟کوئ بتائے گا مجھے۔…
کچھ نہی تمہاری بیوی مجھے اوقات یاد دلاتی تھی میری کے میں ایک نوکر ہو اور تم مالک ۔جنت کی بات پہ عمر نے پلٹ کے اقراء کو دیکھا جو آنکھوں میں غصہ لیہ جنت کو ہی دیکھ رہی تھی۔۔
یہ بول کے جنت جانے لگی مگر پھر پلٹ کے ائ اور کہا۔۔
میرے والدین نے میری کیا تربیت کی ہے یہ مجھے تمہیں بتانے کی قطعی ضرورت نہی اور رہا سوال میرے پہناوے کی تو جو لڑکی ایک لڑکے اور لڑکی کے رشتے کو ایک ہی نظر سے دیکھتی ہو وہ کیا جانے میرے پہناوے کی اہمیت۔۔
اور ہاں آج میں نے تمہاری ساری بکواس اس لیہ سنی کیونکہ تم میرے بھائ کی بیوی تھی۔اج کے بعد مجھ پہ میرے کردار پہ یا میری فیملی کی تربیت پہ انگلی اٹھانے سے پہلے ہزار بار سوچنا کیونکہ تمہارے فالتو بکواس سننے سے پہلے میں تمہارا وہ حال۔کرونگی کے آئندہ کسی کی۔کردار کشی کرنے سے پہلے تم ہزار بار سوچوگی۔۔
کیونکہ جب نہ میں تمہارے شوہر کی بہن ہونگی اور نہ اس آفس کی ورکر۔۔اس وقت میں صرف جنت یوسف ہونگی۔۔یہ بول کے جنت نے ہاتھ میں پکڑی فائل زور سے دیوار پہ ماری اور حمزہ۔کے کیبن میں گئ۔۔
حمزہ جو ضروری کال اٹینڈ کررہا تھا جنت کو دیکھ کے ایک دم کال کٹ کی ۔کیونکہ جنت بہت غصہ کے عالم میں اپنا سامان سمیٹ رہی تھی۔۔
اس سے پہلے حمزہ اس سے کچھ پوچھتا عمر تیزی سے کیبن میں گھسا اور جنت سے کہنے لگا۔۔
جنت جنت میری بات سنو دیکھو میں اقراء کو سمجھاونگا اسے اسے ایسا نہی کہنا چاہئیے تھا آئ ایم سو سوری اس کی طرف سے میں معافی مانگتا ہو پلیز یار میری بات تو سنو۔۔
عمر جنت کی منتیں کررہا تھا اسکے اگے پیچھے گھوم رہا تھا مگر وہ جہاں بار بار اپنے آنسو صاف کررہی تھی وہی مسلسل عمر کے التیجائ انداز کو نظر انداز بھی کررہی تھی۔۔
جنت نے اپنا سارا سامان سمیٹا اور حمزہ کی طرف آئ ۔۔
حمزہ نے جب اسکی روتی آنکھوں کی طرف دیکھا تو ایک منٹ کیلیے اس کا دل زور زور سے ڈھرکا۔
سر میرے رزینیشن لیٹر کل آپ تک پہنچ جائے گا اور ایونٹ کا سارا سامان بھی بہت بہت شکریہ مجھ پہ اپنے بھروسہ کرکے میرے ہنر کو ایک موقع دیا اللہ حافظ ۔۔
یہ بول کے جنت حمزہ کو ساکن چھوڑ کے چلی گئ۔۔
اور عمر وہی سر پکڑ کے بیٹھ گیا۔
اس نے سوچا نہی تھا اتنی جلدی اسکا اورجنت کا ساتھ چھوٹے گا وہ تو جنت سے کچھ اور ہی ریلیشن بنانے کا سوچ چکا تھا اور بہت جلد زرین بیگم سے اس بارے میں بات بھی کرنے والا تھا۔۔
تو ادھر حمزہ جسکی ابھی تک سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کے ہوا کیا جنت کا ساتھ اسے سکون دیتا تھا اسکا وجود اسے یہ احساس دلاتا تھا کے شاید اللہ نے اسے کوئ تحفہ دیا تمنا کے دھوکے کے بعد ابھی وہ اور وقت جنت کیساتھ بیتاانا چاہتا تھا اسکی زندگی کے بارے میں جاننا چاہتا تھا کچھ اپنے بارے میں اسے بتانا چاہتا تھا مگر یہ اچانک کیا ہوا۔۔
حمزہ عمر کے پاس آیا جوسر تھامے بیٹھا تھا۔۔
پوچھا کیا ہوا ہے عمر جنت اور اقراء کے درمیان کیا سمجھاوگے تم اقراء کو؟؟
یہ بات آپ اس بیوقوف لڑکی سے ہی پوچھنا جس نے جنت اور میری دوستی کے رشتے کو ایک بہن اور بھائی کے رشتہ کی دھجیاں اڑا دی کسے کے کردار اسکی تربیت پہ۔انگلی اٹھائ ۔۔میں بتا رہا ہو بھائ اگر جنت واپس نہی ائ نہ تو بول دینا اپنی اس بہن کو اسکا خمیازہ بھگتنا ہوگا اسے۔۔
یہ بول کے عمر افس سے پہ نکل گیا۔۔
جاری ہے۔۔