Maafi Season 1 By Mariyam Khan Readelle50209 Episode 18 pt.1
Rate this Novel
Episode 18 pt.1
آپا اپا۔۔
خالدہ بیگم اوپر کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے شبنم بیگم کو آوازیں دے رہی تھی۔۔
ہاں خالدہ بولو کیا ہوا اتنی۔پریشان کیوں ہو؟؟
شبنم بیگم جو کچن میں جنت کے ساتھ مصروف تھی باہر نکل کے جب خالدہ بیگم کا پریشان چہرہ دیکھا تو اور زیادہ پریشان ہوکے پوچھا۔۔
وہ اپا جمیلا آپا آرہی ہیں ایک ہفتے بعد اپنے بیٹے کیساتھ۔
کیا کب تمہیں کس نے کہا؟؟؟
خالدہ بیگم کی بات سن کے شبنم بیگم بھی پریشان ہوگئ..
اکمل کے پاس انکا فون آیا تھا۔
آپا مجھے تو بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔
ہاں خالدہ انکا لہجہ ہی ایسا ہی طنز بھرا خیر خیر چھوڑو دیکھتے ہیں کیا کرتی ہیں اکے۔۔
ہمم ۔۔۔
خالدہ اور شبنم بیگم دونوں ہی پریشان ہوگئ تھی جمیلا بیگم کا آنے کا سن کے۔
#
جمیلا بیگم اکمل صاحب اور اجمل صاحب کی بڑی بہن تھی مگر اپنے دونوں بھائیوں کے بلکل برعکس۔۔
دو سال پہلے انہوں نے اپنے بیٹے کیلیے جو کے شادی شدہ تھا ایک بچہ کا باپ تھا ۔۔مگر بچہ پیدا کرتے ہوئے اسکی بیوی انتقال کرگئ۔۔
اور وجہ جمیلا آپا کا رویہ تھا جو وقت پہ اسے ہسپتال لے کے نہ گئ بلکہ گھر میں ہی اسکی ڈیلیوری کروائی جس سے بچہ تو بچ گیا مگر انکی بہو نہ بچ سکی۔۔
جنت کا ہاتھ مانگنے پر جہاں اکمل صاحب بھڑکے تو کچھ ایسا ہی حال اجمل صاحب کا بھی تھا ۔مگر ان دونوں کے منع کرنے پہ خاص کر جب شبنم بیگم نے یہ بات کہی کے وہ یوسف کے لیے جنت کا اہاتھ مانگ چکی ہیں وہ۔ہتھے سے اکھڑ گئ۔اپنے دونوں بھائیوں سے خوب جھگڑا کیا اور قطع تعلق کرلیا۔۔
یوسف کی موت پہ بھی وہ نہی آئ ا ور ایک ہفتے وہ پنڈی سے اپنے بیٹے کیساتھ تشریف لا رہی تھی ۔۔جسکی آمد کا اسن کے سب کے ہی ہاتھ پاؤں ٹھنڈے تھے۔۔
#
آج حمزہ ایک مہینے بعد لندن سےواپس آرہا تھا۔
اس دن ہوئے حادثہ میں جب حمزہ کی محبت کا تاج محل توٹا تھا۔دو دن حمزہ گم۔سم سا رہا نہ کسی سے بات کرتا نہ آفس جارہا تھا۔۔
اور پھر اچانک اس نے سب کو اپنے لندن جانے کی خبر سنائ ۔۔
سب ہی اسکی حالت سے وقف تھے مگر اصل اسکے جانے کی وجہ کیا تھی یہ صرف عمر ہی۔جانتا تھا۔۔
زرین بیگم جو حمزہ کے جانے سے کافی اداس ہوگئ تھی اور بیمار رہنے لگی انکے بلانے پہ اور عمر کے اصرار کرنے پہ آج حمزہ واپس ارہا تھا۔۔
تمنا ابھی تک اس بات سے لاعلم تھی۔کے حمزہ اسکی اصلیت جان چکا ہے کئ بار اسنے حمزہ کو کال کرنے کی۔کوشش کی مگر ہمیشہ اسکے نمبر بند رہا کئ بار وہ۔حمزہ کے گھر بھی گئ مگر عمر کی خاص ہدایت پہ واچ مین اسکے گھر کےباہر سے ہی بھاگا دیتا اور آفس میں اسکی اینٹری عمر نے بند کر رکھی تھی۔۔۔
حمزہ لندن سے آیا تو کافی بدلہ ہوا تھا ۔پہلے کی طرح اسکی مسکرائٹ نہی تھی ۔۔سب ہی سے وہ خاموشی سے ملا۔۔
زرین بیگم اور مجاہد صاحب کا اپنے بیٹے کی یہ حالت دیکھ کے دل کٹنے لگا مگر جہاں وہ اداس تھے وہاں خوش بھی کے انکے بیٹے کی جان تمنا جیسی لڑکی سے چھٹ چکی تھی۔۔
کھانے کے بعد حمزہ ٹیرس پہ چلا گیا اور خاموشی سے آسمان کو تکنے لگاا۔
جب پیچھے سے آکے عمر نے کہا …
بھائ بس کردیے جو ہوگیا وہ ہوگیا اب آپ کیا ساری زندگی پچھتاتے رہیںنگے؟؟
عمر کی بات سن کے حمزہ نے ایک ٹھنڈی آہ بڑھ کے کرب سے اپنی آنکھیں بند کی اور پلٹ کے عمر سے کہا۔۔
کچھ حادثے زندگی میں ایسے رونما ہوجاتے ہیں جو روح اور اور دماغ پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں چاہ کے بھی انسان ان حادثوں کی پرچھائ سے پیچھا نہی چھوڑوا سکتا ۔۔
مگر بھائ ہمیں زندگی میں آگے بڑھنا پڑھتا ہے ایک حادثے کی وجہ سے ساری زندگی تو آپ اپنی برباد نہی کرسکتے۔قسمت کے فیصلے کبھی کبھی ہماری سمجھ سے باہر ہوتے ہیں اور پھر آپ کیوں اپنے اپکو قصور وار سمجھتے ہیں آپکی غلطی نہی تھی۔۔
مگر میں ابھی حمزہ کچھ بولتا عمر بول پڑا۔۔
بھائ پاپا اور چھوٹی مما کو ہی دیکھ کے اپنی زندگی جینے کا ڈھنگ بدل لے۔۔پلیز ۔۔
یہ بہت مشکل ہے عمر تم جانتے ہو سب۔۔
ہاں جانتا ہو مگر اب کیا کرے جو ہوگیا سو ہوگیا
اب آگے بڑھے آپ پلیز ہم سب کیلیے پلیز ۔۔
یہ بول کے عمر کی آنکھوں کے کنارے بھیگنے لگے۔
عمر نے حمزہ کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تو وہ پھیکی سے ہنسی ہنسا اور عمر کے بغل گیر ہوگیا ۔
#
صبح حمزہ اور عمر کو خوش باش اتا دیکھ مجاہد صاحب اور زرین بیگم دونوں کو ہی دلی سکون ہوا ۔۔ناشتہ کے بعد وہ دونوں آفس کیلیے ہ نکل گئے۔۔
حمزہ کافی ٹائم بعد آفس ایا تھا تو بورڈ میٹنگ رکھی گئ۔
وہ لوگ میٹنگ روم کی طرف جارہے تھے جب تمنا ڈنڈاناتی ہوئ اندر آنے لگی ۔۔
آج اسنے واچ مین کی بھی نہی سنی اور آتے ہی شوکڈ نظروں سے حمزہ کو دیکھنے لگی اور کہا۔
افف حمزہ کہاں تھے تم میں نے اتنی کال کی گھر میں بھی نہی تھے اور یہ تمہارا بھائ مجھے آفس میں گھسنے نہی دیتا ۔
شادی میں دو ہفتے رہ گئے ہیں اور تم غائب ہوگئے کہاں گئے تھے اپنی جان کو چھوڑ کے ۔
تمنا جو بڑے لاڈ سے حمزہ کے کندھے سے لگ کے شکوہ کرہی تھی ۔جبکہ حمزہ مٹھیں بھینچے بہت مشکل سے اپنا غصہ کنٹرول کررہا تھا ۔تمنا سے کہا۔۔
میٹنگ روم میں چلو وہی چل کے بات کرتے ہیں۔۔
ہاں ہاں چلو تمنا نے یہ بول کے ایک طنزیہ مسکراہٹ عمر ڈالی ۔۔
عمر نے بہت مشکل سے اپنی مسکراہٹ دبائ کیونکہ وہ جانتا تھا کے اندر تمنا کیساتھ کیا ہونے والا ہے۔
سب روم میں موجود تھے جبکہ حمزہ اپنے ہونٹوں پہ انگلیاں رکھے کسی گہری سوچ میں غرق تھا ۔۔تمنا مسکراہٹ لیہ کرسی پہ جھولنے کیساتھ ساتھ حمزہ کو بھی دیکھ رہی تھی ۔تب ہی اچانک حمزہ سیدھا ہوا ور تمنا سے کہا۔۔
اپنا موبائل دیکھاؤ مجھے تمنا۔۔
حمزہ کا بولنا تھا کے تمنا کے پسینے چھوٹنے لگے اس نے گھبرائ آواز میں کہا۔
کک۔۔یی وںں حمزہ۔۔
جو بولا ہے وہ کرو اپنا موبائل دو مجھے۔۔
حمزہ کی رعب دار آواز پہ تمنا ایک دم ڈری۔۔
جبکہ عمر نے اپنی مسکراہٹ دبائ اور تمنا کو چہرہ دیکھ کے ہلکی سی سرگوشی کی۔۔
رضیہ پھنس گئ غنڈوں میں۔۔
جو پاس بیٹھی اقراء نے باخوبی سنی اور چونک کے عمر کو دیکھا جو تمنا کو دیکھنے میں مگن تھا۔۔
تمنا نے کانپتے ہاتھوں سے اپنا موبائل حمزہ کے آگے کیا۔
حمزہ نے تمنا سے موبائل لے کے کانٹیکٹ لسٹ میں سے درانی کا نمبر نکال کے اس پہ کال کرکے اسپیکر پہ ڈالی جو دو تین بیلوں پہ ریسیو کرلی گئ۔۔
اور اسپیکر پہ سے درانی کی آواز ابھری
ہائے میری جان کیا ہو رات میں تو ملے تھے ۔۔کیا پھر سے یاد آرہی ہے میری ۔ویسے میرا حال بھی کچھ ایسا ہے تمہاری رات کی قربت ابھی تک محسوس ہورہی ہے اور ہاں تم نے بتایا تھا حمزہ آج آفس ایا ہے تم جارہی ہو کیا ہوا ۔۔
۔۔ہیلو ہیلو تمنا۔۔
درانی پتہ نہی کیا کیا بولے جارہا تھا مگر حمزہ نے کال کٹ کی اور تمنا کے سامنے جاکے کھڑا ہوا۔۔حمزہ کے تیور دیکھ کے تمنا کے پسینے چھوٹنے لگے۔۔
حمزہ نے آگے بڑھ کے تمنا کے پیسنے صاف کیہ اور کہا ۔۔
کیوں کیا ایسا تمنا میں نے تمہیں دل سے محبت کی تھی ۔کیوں کیا ایسا؟؟؟
تمنا نے تھوک نگلا اور کہا۔
وہ حمزہ میں
اس سے پہلے تمنا کچھ بولتی حمزہ کا گھومتا ہوا ٹھپر تمنا کی بولتی بند کرگیا۔
تمنا کے ٹھپڑ پڑھتے ہی سب کا ہاتھ فور اپنے منہ گیا۔
حمزہ نے تمنا کا بازو پکڑ کے جھٹکا دیا اور کہا۔
چاہو تو ابھی کے ابھی تمہارا وہ حال کرسکتا ہو کے درانی بھی تمہیں پہچاننے سے انکار کردے گا۔مگر تم حمزہ مجاہد کی نفرت کے بھی قابل نہی دفعہ ہوجاو اپنی محنوس شکل لے کے یہاں سے۔۔
یہ کہہ کے حمزہ نے ایک جھٹکے سے تمنا کو آگے دھکا دیا اور عمر سے کہا۔
عمر ایسے باہرکا راستہ دیکھاؤ اوربول دو سارے گارڈز کو آئندہ کبھی یہ آفس میں گھسنے کی کوشش کرے تو گولی ماردینا اسے۔۔
تمنا نے چیخ کے کہا۔
تمہیں یہ تھپڑ بہت مہنگا پڑے گا حمزہ مجاہد میں اپنی تزلیل کبھی نہی بھولنگی۔۔
یہ بول کے تمنا روم سے باہر نکلی جب عمر بھی اسکے پیچھے کمرے سے نکلا اور تمنا کے آگے ہاتھ کرکے اسے روکا اور کہا۔۔
اااووو بے بی کو مار پڑی۔ہائے کتنا حسیںن منظر تھا روم کا اچھا سنو میں نیچے تک چھوڑ او۔پتہ نہی ایک تھپڑ سے تم ٹھیک سے چل پاؤ بھی یہ نہی کیونکہ تمہارا کریکٹر ہی اتنا لوز ہے کے ہر وقت تمہارے قدم لڑکھڑا جاتے ہیں ۔۔
تمنا نے ایک خونخوار نظر اس پہ ڈالی اور وہاں سے چلی گئ ۔
جاری ہے۔۔
