50.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

رات کے دو بج گئے مگر یوسف اور جنت کا کچھ اتا پتہ نہی تھا سارا گھر جاگ رہا تھا ۔۔نومیر کبھی کسی کو تو کبھی کسی کو کال ملا رہا تھا ۔مگر بے صود۔۔
یوسف کا نمبر بند تھا مگر جنت کا اون تھا مگر جنت کی کال پک نہی ہورہی تھی۔۔
شبنم بیگم اور خالدہ بیگم کا رو رو کے برا حال تھا کچھ گھنٹوں پہلے سب خوش تھے جب جنت کی گڈ نیوز سنی تھی مگر اب سارا گھر ہی پریشان تھا۔۔
نومیر مسلسل پریشان سا جنت کا نمبر ڈائل کررہا تھا۔۔ ابھی بھی وہ جنت کا نمبر دائل کررہا تھا کے جنت کے نمبر پہ کال پک ہوئ۔۔
ہیلو ہیلو جنت تم ابھی نومیر کے الفاظ منہ میں ہی تھے ۔۔
جب آگے سے جو کہا گیا نومیر کی سانس روکنے کیلیے کافی تھا ۔
نومیر کال کٹ کی تو اکمل اور اجمل صاحب آگئے آئے اور کہا
کیا ہو نومیر جنت نے کیا کہا ۔۔
کہاں ہیں وہ لوگ؟؟؟
نومیر نے سکتے کی حالت میں کہا۔
پاپا ان دونوں کا ایکسیڈینٹ ہوگیا ہے ۔۔دونوں ہسپتال میں ہیں۔۔
نومیر کی بات سن کے شبنم بیگم اور خالدہ بیگم نے ڈھارے مار مار کے رونا شروع کردیا۔
وہ سب لوگ ہسپتال پہنچے مگر جو خبر ہسپتال پہنچ کے ملی شبنم بیگم اور اجمل صاحب کیساتھ ساتھ لائبہ کوبھی سنبھالنا مشکل ہوگیا۔۔
یوسف کی دیٹھ باڈی سرد خانے میں رکھی تھی جیسے دیکھ کے نومیر بلک بلک کے رو پڑا جبکہ شبنم بیگم نڈھال سے سرد خانے کے دروازے کے پاس ڈھے گئ۔
تو ادھر جنت ICU میں اپنی زندگی کی بازی جیتنے کی کوشش کرہی تھی نالیوں میں جکڑی جنت جو ہوش وخروش شے بیگانہ تھی ڈاکٹروں کے مطابق ابھی کچھ بھی کہنا غلط تھا ۔۔
نومیر نے ایک نرس کو پیسے دے کے جنت کے وراڈ کی خصوصی نگرانی کرنے کو کہا۔اور یوسف کی دیٹھ باڈی لےکے کر گھر اگئے ۔۔۔۔۔
یوسف کے جنازہ دیکھ کے محلے کی ہر آنکھ اشک بار تھی۔۔
اسی جوان موت پہ ہر دل غم سے پھٹ رہا تھا۔۔
شبنم بیگم اور لائبہ کو سنبھالنا نومیر کیلیے بہت مشکل تھا۔۔
جنت کی دونوں دوستوں نے باخوبی اپنے ہونے کا فرض نبھایا۔
یوسف کے سر سے خون رسس رہا تھا جس سے اسکا کفن لال ہورہا تھا ۔۔
اس لیہ اس کو جلدی دفنا گیا۔۔
جوان بیٹے کی موت پہ مٹی ڈالتے ہوئے اجمل صاحب بھی ہچکیوں سے روتے ہوئے یوسف کی قبر کو چومنے لگے۔۔
اور ہزاروں آنسوؤں کیساتھ یوسف کا سپرد خاک کردیا۔
مگر جو ہوش و خروش سے بیگانہ تھی۔۔اسے تو قدرت نے اتنی بھی محلت نہی دی کے وہ اپنی۔محبت کا چہرہ دیکھ سے وہ جو جان یوسف تھی مگر یوسف کے بے جان وجود کو بھی دیکھ نہ پائ۔۔

#

وقت کا کام ہے گزرنا اور وہ گزر ہی جاتا ہے آج یوسف کی موت کو ایک مہینہ گزر چکا تھا ہر کوئ ایک دوسرے سے نظریں چرائے گھوم رہا تھا۔۔
کل ہی جنت کو ہوش آیا تھا مگر وہ چپ تھی اور مسلسل چھت کو گھورتی رہتی تھی۔۔
کسی بھی گھر والے میں اتنی ہمت نہیں تھی کے جنت کا سامنا کرے مگر یہ کام کسی کو تو کرنا تھا۔۔
نومیر اور شبنم۔بیگم جنت کے پاس ہسپتال پہنچے۔۔
دروازہ کھول کے نومیر اور شبنم۔بیگم اندر داخل ہوئے تو جنت بیٹھی تھی ۔جسکے سر پہ پٹی بندھی تھی منہ پہ جگا جگا چوٹ کے نشان تھے۔ ۔
دروازہ کھلنے کی آواز پہ جنت نے مڑ کے دیکھا تو نومیر کو دیکھتے ہی جنت لنگڑاتی ہوئ نومیر تک آئ اور کہا۔۔
کہاں ہیں یوسف نومیر کب سے میں انکی راہ تک رہی ہو ۔کتنی دیر ہوگئ ہمیشہ مجھے تنگ کرتے ہیں پتہ بھی ایسی حالت میں میرا پریشن ہونا ٹھیک نہی پھر بھی۔۔
نومیر نے جنت کی حالت دیکھ کے رونا شروع کردیا اور دیوار کی طرف رخ موڑ گیا۔۔
شبنم بیگم جنت کے پاس آئ اور کہا ۔
چلو جنت دیر ہورہی ہے گھرچلو۔
ماما وہ یوسف کو تو آنے دے نہ پتہ ہے کہہ رہے تھے سی ویو چلینگے۔۔۔
جنت چلو دیر ہورہی ہے شبنم بیگم نے اسے چادر اڑاتے ہوکہا۔
ماما کہہ رہی ہو نہ تھوڑی دیر رک جائے یوسف اجائینگے۔ابھی۔۔
بس بلکل چپ اب ایک آواز نہی آئ تمہاری۔۔
شبنم بیگم نے غصہ میں تھوڑی اونچی آواز میں جنت کے کندھے جھنجھوڑ کے کہا۔
جنت نے بچوں کی طرح ہونٹ نکالے کے رونا شروع کردیا اور روتے روتے نفی میں سر ہلانے لگی۔۔
یوسف مرچکا ہے سنا تم نے اب میں تمہارے منہ سے اسکا نام نہی سنو۔۔۔
جنت مسلسل نفی میں سر ہلارہی تھی۔
شبنم بیگم نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے لے کے چلنے لگی۔۔
جنت کسی معصوم بچوں کی طرح انکے ساتھ چل رہی تو ادھر شبنم بیگم جو آگے آگے چل رہی تھی بہت مشکل سے اپنی سسکیاں دبا رہی تھی۔۔
جنت گھر پہنچی تو سب ہی اسکے منتظر تھے ۔۔خشک آنکھوں سے وہ سب سے گلے مل رہی تھی ۔خالدہ بیگم تو اپنے ڈوپٹہ کے پلو سےبار بار اپنے آنسو پونچھ رہی تھی۔۔
جبکہ لائبہ نے تو جنت کو دیکھتے ہی اپنے کمرے کی طرف چلی گئ ۔اسکا یہ رویہ نہ نومیر سے چھپا تھا نہ شبنم بیگم سے ۔۔
جنت سب کو وہی چھوڑ کے چھت پہ چلی گئ ۔
کسی نے اسے روکا نہی۔
مگر جنت کے جاتے ہی خالدہ بیگم زارو قطار رو پڑی اکمل صاحب اور اجمل صاحب بھی گردن جھکائے بیٹھے تھے جبکہ ان سب کے درمیان بیٹھی شبنم بیگم آٹھ کے اپنے پورشن میں چلی گئ۔۔
افف جنت ہزار بار منع کیا ہے ایسے اکیلی چھت پہ نہ جایا کرو ۔۔
چلو اٹھو فورا۔۔
یوسف نے جنت کو ہاتھ پکڑ کے کھڑا ۔۔
مگر تھوڑی دیر بعد ہی یوسف غائب ہوگیا۔
اور جنت وہی گھٹنوں کے بل بیٹھ گئ۔۔
ابھی وہ اسی پوزیشن میں تھی کےزنیرہ دعا اگئے۔
اپنی چلبلی زندگی سے بھر پور دوست کی یہ حالت دیکھ کے دونوں کی سسک پڑی مگر ہمت کرکے آگے بڑھی اور زنیرہ نے کہا۔۔
کیا یار تویہاں بیٹھی ہے ہم تو تجھے نیچے ہی ڈھونڈ رہے ہیں۔۔
زنیرہ اور دعا اسے مسلسل اپنی باتوں سے بہلا رہی تھی مگر جنت گردن جھکائے بیٹھی تھی۔جب اچانک جنت نے کہا۔۔
میں نے کہا تھا تم سے بھوری آنکھوں میں وفا نہی ہوتی دیکھا کرگئے نہ تمہارے یوسف بھائ۔بیوفائ مجھ سے محبت کرواکے خود کو دور ہوگئے نہ مجھ سے ۔۔
یہ بول کے ایک دم جنت زنیرہ کے قریب آئ اور کہا ۔۔
بیوفا ہے تمہارا یوسف بھائ ۔میں میں اب کبھی معاف نہیں کرونگی ۔۔
چھوڑ کے چلے گئے ابھی تک آئے نہںں
چاکلیٹ اور میک اپ لاکے اب مجھ سے معافی مانگے گے دیکھنا۔
معصوم بچوں کی طری جنت زنیرہ کا ہاتھ پکڑ کے کہہ رہی تھی جبکہ دعا اور زنیرہ دونوں ہی بہتی آنسو سے جنت کو دیکھ رہی تھی جو اپنےحواسوں میں نہی تھی۔۔
دعا ہمت کرکے آگے بڑھی اورکہا۔
جنت یوسف بھائ۔
ابھی دعا کی بات پوری ہوتی کے جنت چیخ پڑی ۔۔
بیوفا ہے ت۔ہارے یوسف بھائ سنا تم بیوفا ہےوہ زندگی بھر کا ساتھ نبھانے کا وعدہ کیا تھا میرےسرکی قسم کھائ تھی انہوں۔سب جھوٹ سب جھوٹ ۔۔
یہ بول کے جنت دو قدم پیچھے ہوئ اور ڈورتے ہوئے اپنے کمرے میں جاکے دروازہ بند کرلیا
کمرہ کا دروازہ بند کرتے ہی اوازائ۔۔
ارے جان یوسف اتنی دیر سے آئ ہو بولا تھانہ جلدی آنا مجھے نیند نہیں آتی جب تک تمہیں اپنے سینے سے نہ لگالو۔۔
جنت پیچھےمڑی تو یوسف سینے پہ ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔۔
پھر ایک دم غائب ہوگیا۔۔
یوسسفففف آجاؤ نہ واپس نہی کرو میں مرجاونگی یوسفففف جنت نے چیخ چیخ کے کہا۔اور اپنے بالوں کو مٹھی میں جکڑ لیا۔۔
“ہے حوصلہ درد کا
جو سہنہ ہے مجھے۔۔
کے میرے غم کی بھی انتہا ہوئ۔۔
جنت نے یوسف کی تصویر اٹھا کے سینے سے لگا کے زاروقطار رونے لگی ۔۔۔
“تیرے بنا گزار کے
جینگے کیسے بھلا۔۔
یہ زندگی تو بے وجہ ہوئ۔۔
کیوں اس قدر رلا دیا۔۔
جنت یوسف کی تصویر لے کے ڈریسنگ کے پاس آکے تصویر رکھی تو ایک دم اسے پیچھے سے یوسف نے کمر سے تھاما اور کندھے پہ۔اپنے ہونٹ رکھے۔۔
جنت جو آنکھیں بند کرکے کھڑی تھی جیسی ہی پلٹی یوسف پھر غائب۔۔
جنت نے پرفیوم کی شیشی اٹھا کے سامنے ڈریسنگ کے مرر پہ ڈے مارا۔۔
اور روتے روتے جھٹکے سے وہی بیٹھ گئ اور چیخ چیخ کے کہنے لگی۔۔
تم بیوفا ہو یوسف سنا تم نے مجھے تم سے محبت نہی ہے میں میں تمہیں کبھی معاف نہیں کرونگی۔۔
“کیوں اس قدر رلا دیا۔۔
تو ہی بتا یہ کیسی ہے دیوانگی۔۔
اوو بے وفا تیری دیوانگی۔۔۔
جنت نے ایک بار پھر چیخ کے یوسف کو پکارا۔۔
یوسسسسسففففف۔۔
جاری ہے۔۔۔