50.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

نومیر اور لائبہ ہنی مون سے اچکے تھے ۔دونوں لڑکیوں نے اپنی اپنی گھر کی زمہ داری سنبھال لی تھی۔
لائبہ نے اپنی اسٹڈی جاری رکھی تھی زور شور سے اپنی ایگزیم کی تیاریوں میں مصروف تھی۔
تو ادھر جنت نے کھانا پکانا شروع کیا ہوا تھا۔
زور کوئ نہ کوئ نیو ڈش وہ شبنم بیگم سے سیکھتی تھی۔۔
یوسف کے شدتیں بڑھنے لگی تھی۔۔
روز رات کو وہ جنت سے کچھ نہ کچھ ایسی فرمائش کرتا جسے سن کے جنت یا تو اسے گھورتی یہ پھر شرم سے پانی پانی ہوجاتی۔۔
لائبہ کا آج لاسٹ پیپر تھا نومیر نے جو اسے پیپروں کی وجہ سےبخشا تھا ۔
لائبہ اچھے سے جانتی تھی آج کسی حال میں اسکے بخشش نہی۔۔
لائبہ پیپر دے کے آئ تو فریش ہونے چلی گئ۔۔
جب نومیر نے کمرے میں آیا دوپہر میں وہ اکثر گھر آتا تھا۔
کھانا کھانے مگر آج وہ کسی خاص مقصد سے آیا تھا۔۔
لائبہ فریش ہوکے نکلی تو ایک دم اسے نومیر نے اسے اپنے باہنوں میں اٹھا لیا۔
نومیر کی اس حرکت پہ لائبہ ایک دم
سٹپٹا گئ۔مگرپھر سنبھل کے نومیر سے کہا۔۔
نومیر آپ ہمیشہ مجھے ڈرا دیتے ہیں کھانا کھایا اپنے ؟؟
نہی جانمن پہلے تمہیں کھاونگا۔۔
یہ بول کے نومیر نے لائبہ کے لبوں کو چوم لیا ۔۔
لائبہ جو اسکی شدتوں میں بہکنے لگی ۔
ایک دم ہاتھ پاؤں مارنے لگی۔۔
نومیر وہ لائبہ سے دور ہوا اور کہا۔۔
کیا۔ہوا لائبہ ؟؟
نومیر ہٹے جلدی لائبہ کے بولنے پہ نومیر فورا اس پہ سے ہٹا تو وہ ڈورتی ہوئ واش روم کی طرف بھاگی اور الٹایاں کرنے لگی۔۔
نومیر اسکی اس حرکت پہ ایک دم پریشان ہوا اور دور کے خالدہ بیگم جو بلا لایا۔۔
لائبہ نڈھال سے باہر نکلی تو کچھ سوچ کے مسکرا گئ۔۔
خالدہ بیگم کو بھی جب لائبہ کی کنڈیشن پتہ چلی تو وہ بھی ڈور کے کمرے میں آئ تو لائبہ بیڈ پہ بیٹھ کے شرما رہی تھی۔۔
تو ادھر خالدہ بیگم بھی مسکرا اٹھی۔
نومیر نے جب ان دونوں کو مسکراتا دیکھا تو پریشان سا خالدہ بیگم سے کہا۔
ماما لائبہ کی طبیعت خراب ہے اس لیہ میں اپکو لایا اور آپ مسکرا رہی ہیں لائ اور یہ جو بھی الٹی کرنے بھاگی یہ بھی مسکرا رہی ہے کیا ہو ہےاپ دونوں ہنس کیوں رہی ہیں۔۔۔
ارے بدھو تو پاپا بننے والا ہے
خالدہ بیگم نے خوشی سے نومیر کو گلے لگاتے ہوئے کہاں۔۔
خالدہ بیگم کی بات سن کے نومیر کی آنکھیں خوشی سے بھیگنے لگی۔اس نے آگے بڑھ کے خالدہ بیگم کو گودھ میں اٹھا کے گول گول گھمانا شروع کردیا اور کہا۔۔
یاہو میں پاپا بننے والا ہو۔۔
اارے نومیر کیا کرتا ہے مجھے نیچے تو اتار مجھے چکر اجائئیگے
خالدہ بیگم کے بولنے پہ نومیر نے خالدہ بیگم کو نیچے اتارا تو شیطان کہی کا یہ بولتے ہے کمرے سے باہر چلی گئ۔۔
نومیر لائبہ کے پاس آیا ۔۔
ااس سے باہنوں بھر کے ڈھیر سارا پیار کیا اور کہا
شکریہ لائبہ بہت بہت ہمارے پیار کی اس نشانی کو دینے کے لیہ ۔
شام تک لائبہ کی خبر سب تک پی پہنچ گئے سب ہی بہت خوش جنت تو پھولے نہی سمارہی تو ادھر تھوڑی اداس بھی تھی کیونکہ شادی کے تین مہینے بعد بھی اس کی طرف سے کوئ خوشخبری نہی تھی مگر وہ سب کچھ بھول کے اپنے بھائ کی خوشی میں خوش تھی۔۔

#

جنت صبح اٹھی تو برابر میں یوسف نہی تھا اس نے ٹائم دیکھا تو صبح کے نو بج رہے تھے ۔جنت نے اپنے بال۔لپیٹے اور باہر نکلی تو شبنم بیگم ناشتہ کی تیاری کررہی تھی۔۔
ماما جنت نے شبنم بیگم کے گلے میں باہینں ڈال کے کہا۔
ارے اٹھ گئ جنت بہت بہت مبارک ہو تمہیں برتھ ڈے میری جان۔۔
ارے ماما اپکو یاد تھا؟؟؟
ہاں ہم سب کو یاد تھا۔
اچانک پیچھے سے اوازیں آئ جنت اور شبنم بیگم نے پلٹ کے دیکھا تو اکمل صاحب خالدہ بیگم نومیر لائبہ ماریہ سب ہی کھڑے تھے سب نے ہی اسے وش کیا گفٹ دیا۔۔
سب ہی خوش گپوں میں مصروف تھے۔۔
مگر جنت کا دل اندر سے اداس تھا۔
کیا یوسف کو میرے برتھ ڈے یاد نہی؟؟
سب کے ساتھ ناشتہ کرتی جنت بار بار یہی سوچ رہی تھی ۔
دوپہر تک اسکی دونوں دوستوں نے بھی اسے کے وش کیا ۔۔
مگر جنت کو جسکا انتظار تھا نہ تو وہ خود آیا نہ اسکی کوئ کال۔۔
شام تک جنت کام سے فارغ ہوکے بیٹھی تھی جب شبنم بیگم نے آکے کہا۔۔
جنت یوسف کا فون آیا تھا شام میں اسکے کسی دوست کے ہاں ڈنر ہے تم دونوں کا کہہ رہا تھا جنت کو کہنا 8 بجے تک ریڈی رہے۔۔
شبنم بیگم کی بات سن کے جنت نے بظاہر تو کوئ بات نہی کی مگر وہ پریشان تھی نے یوسف نے اس کے نمبر پہ کال کیوں نہی کی۔۔
شام تک جنت تیار ہوئ لائٹ پرپل کلر کی فراک میں ہلکے سے میک اپ میں جنت غضب ڈھا رہی تھی۔۔
یوسف کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا تو جنت اپنے اپکو آخری ٹچ دینے لگی۔۔
یوسف نے کمرے میں آکے جنت پہ ایک نظر ڈالی اور اپنے کپڑے لیکے واش روم میں گھس گیا نہ تو اس نے جنت کی تعریف کی نہ اسے برتھ ڈے وش کیا۔۔
یوسف باہر آکے فٹا فٹ تیار ہوکے جنت کو کہتے ہوئے نیچے اترا ۔۔
جلدی آجاؤ جنت دیر ہوگئ بہت ۔
یوسف کا رویہ دیکھ کے جنت کی آنکھیں بھیگنے لگی مگر اس نے کمال ضبط کا مظاہرہ کیا اور چپ چاپ نیچے اتر گئ۔۔
جنت کے بیٹھتے ہی یوسف نے گاڑی آگے بڑھا دی۔۔
جنت خاموشی سے کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی مگر جھٹکا اسے تب لگا جب گاڑی ساحل سمندر پہ بنے ایک خوبصورت ہٹ پہ آکے رکی۔۔
۔جنت نے گردن موڑ کے یوسف کو دیکھا تو وہ ایسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔
اپنی طرف کا دروازہ کھول کے وہ جنت کی طرف آیا اور دروازہ کھول کے اسکی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا۔
جنت نے خاموشی سے اسکا ہاتھ تھاما یوسف جنت کو لے کے اس ہٹ میں داخل ہوا ۔مگر ہٹ کے اندر جاتے ہی جنت کی آنکھیں پوری کھل گئی اسکا ہاتھ فورن اپنے منہ پہ گیا۔
پورا ہٹ ریڈ اور پنک کلر کے بلون سے سجا تھا وال پہ۔بڑا بڑا لکھا تھا۔۔
جان یوسف ہپی برتھ ڈے۔۔
پورے ہٹ پہ جگہ جگہ خوشبودار کنڈل جل رہی تھی ہلکی ہلکی سی ڈم لائٹ میں ہٹ کچھ اور ہی ماحول پیش کررہا تھا۔۔
جنت ابھی ہونقوں کی طرح ساری سجاوٹ دیکھ رہی تھی جب یوسف نے آکے اسے پیچھے سے تھاما اسکے کندھے پہ اپنے لب رکھ کے جنت سے کہا
کسے لگا سرپرائز ؟؟
اپکو یاد تھا یوسف۔۔ جنت نے گھوم کے یوسف کو دیکھتے ہوئے کہا۔
تو تمہیں کیا لگا میں اپنی زندگی کا اس دنیامیں آنے کا وقت بھول سکتا ہو۔
صبح سے اسی تیاری میں لگا تھا۔
گھر میں سب کو معلوم ہے اس سرپرائز کا سوائے تمہیں ۔۔
یہ بول کے یوسف نے جنت کو کمر سے تھام کے اپنے قریب کیا اور جھک کے اس کے لبوں کو چوم لیا۔۔
جنت سے الگ ہوکے یوسف نے اس کے آگے پیکٹ کیا اور کہا۔۔
جاؤ چینج کرکے او۔
یوسف کے کہنے پہ جنت چینج کرنے گئ مگر پیکٹ کے اندر بیلک ساڑھی دیکھ کے شوکڈ ہوگئ کیونکہ یہ وہی ساڑھی تھی۔جو جنت نے پسند کی تھی۔۔
جنت چینج کرکے باہر ائ۔
تو یوسف ٹیبل پہ کیک رکھ چکا تھا۔۔
مگر جنت کے سراپے کو دیکھ کے دنگ رہ گیا ۔۔
جنت شرمائ شرمائے سی اس تک آئ تو یوسف نے اپنا موبائل نکال کے اپنی اور اسکی سیلفی لی اور پھر جنت کا ہاتھ میں چھری پکڑائ اور کیک کاٹا ۔۔
جنت نے پہلے یوسف کو کیک کھلایا اور پھر یوسف نے جنت کو ۔جںت ٹیشو اٹھا کے اپنے چہرے پہ لگی کریم صاف کرنے لگی۔
جب یوسف نے کہا۔
پتہ ہے نہ یہ۔کام ٹیشو کا نہی میرا ہے۔
یہ بول کے یوسف نے اپنے لبوں سے جنت کے لبوں کی۔کریم صاف کی۔۔
مگر جنت کا تو نگاہ اٹھانا بھی محال تھا۔
یوسف نے آگے بڑھے کے اپنے موبائل پہ سانگ پلے کیا اورا پنا ہاتھ جنت کے آگے کیا۔۔
“تیرا ساتھ ہے اتنا پیارا۔۔
یوسف نے جنت کو اپنی طرف کھینچا۔۔
کم لگتا ہے جیون سارا ۔۔
اور اسکا ہاتھ تھام کے اسے گول گول گھمایا۔۔
تیرے ملنے کی لگن میں۔۔
ہمیں آنا پڑے گا دنیا میں دوبارہ۔۔
جنت کو گودھ میں اٹھا کے گول گول گھمایا۔
یوسف نے جنت کو نیچے اتارا تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ۔۔
یوسف ایک دم پریشان ہوا اور جنت کا چہرہ تھام کے کہا۔
رو کیوں رہی ہو جان یوسف ۔۔؟؟
یوسف کا پوچھنا تھا کے جنت یوسف کے گلے لگی گئ اور کہا۔
شکریہ یوسف میری زندگی کو اتنا حسین بنانے کے لیہ میرے اللہ کو پتہ نہی میری کونسی نیکی پسند آئ جو میرے زندگی میں اس نے اپکو لکھ دیا۔
یو بول کے جنت یوسف سے الگ ہوئ تو یوسف نے جنت کے آنسو صاف کیہ اور کہا۔
پاگل اتنے اچھے ٹائم روتے نہی بلکہ اپنے ہسبینڈ کو پیاری سے کس کرتے ہیں۔۔
جنت نے مسکرا کے یوسف کے سینے پہ مکا مارا ۔۔
یوسف اور جنت نے وہاں اچھا سا ٹائم گزرا اور گھر اگئے۔
گھر کے اندر بلکل سناٹا تھا ۔۔
یوسف اور جنت خاموشی سے اپنے کمرے میں چلے گئے۔۔
جیسی ہی جنت جینچ
کرنے جانے لگا یوسف نے اسکا ساڑھی کا پلو گھما کے اسے اپنی طرف کھینچا اور کہا۔
کہاں جاری ہو ؟؟
یوسف ٹائم دیکھے چینج کرنے جارہی ہو۔۔
تو یہی کرونا میرے سامنے
۔
یہ بول کے یوسف نے بنا جنت کی بات سنے اسکے پلو گرا دیا اور اسکے بلاؤز کی زیپ اوپن کرکے اسے گودھ میں اٹھا کے بیڈ پہ لیٹاکے اسکے لبوں پہ۔جھک گیا۔۔
اور پوری رات جنت کو اپنے پیار سے نوازتا رہا۔۔

#

سنڈی کا دن تھا سب ہی لنچ کررہے تھے جب زرین بیگم نے حمزہ سے کہا۔۔
حمزہ تمنا سے پوچھا جیولر کے پاس جانے کا ؟؟
ماما اسکا نمبر بند ہے میں نے اسے کال کی تھی ابھی اسکے گھر کی طرف ہی نکل رہا ہو لنچ کے بعد۔۔
ہاں بیٹا پوچھ لو شادی میں دو مہینہ رہ گئے ہے۔۔
ابھی اتنی ساری شاپنگ باقی ہے۔۔
بھائ اگر آپ مائینڈ نہ کرے تو مجھے میرے فرینڈ کے گھر چھوڑ دینگے کچھ ڈسکس کرنا ہے اس سےمیری گاڑی ورک شاپ پہ ہے ۔۔
ہاں عمر آجاؤ میں پہلے تمہیں چھوڑ دونگا پھر تمنا کے گھر چلاجاونگا۔
اوکے بھائ۔۔
عمر نے اب تمنا اور حمزہ کے معملے میں بولنا چھوڑ دیا تھا۔اس لیہ اسے اب تمنا کے کسی کام سے فرق نہی پڑتا تھا۔۔
دونوں بھائ ایک ساتھ نکلے مگر راستے میں ایک ضروری کال آنے پہ کچھ ضروری کام سے حمزہ اور عمر کو آفس جانا پڑا جہاں سے نکلتے نکلتے انہیں مغرب ہوگئ۔۔
عمر نے اپنے دوست سے ملنے کا ارادہ کینسل کردیا تھا وہ حمزہ کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا تھا جب اسکی نظر تھوڑی فاصلہ پہ گاڑی سے اترتی تمنا کی طرف گئ جو کسی فلیٹ میں جارہی تھی۔۔
عمر نے حمزہ سے کہا۔۔
بھائ وہ دیکھے وہ تمنا ہی۔ہے نہ۔۔؟؟
عمر کے بولنے پہ حمزہ کی۔نظر سامنے پڑی تو حمزہ نے کہا۔۔۔
ہاں مگر یہ تو باقی کے الفاظ حمزہ کے منہ میں ہی رہ گئے اس نے کار سائیڈ میں پارک کی اور اتر کے فلیٹ کی طرف بڑھا۔۔
عمر بھی اسکے پیچھے پیچھے گیا۔۔
حمزہ نے فلیٹ کے پاس پہنچ کے آس پاس نظر ڈورائ تو ایک کھڑکی کھلی دیکھی مگر جب حمزہ نے اندر جھانکا تو نظارہ ایسا تھا کے حمزہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگے اور اسے اپنے پیروں کی زمین سرکتی ہوئ محسوس ہوئی مگر حمزہ کی وہاں سے ہٹا نہی اور غور سے دیکھتا رہا وہاں کا منظر ۔۔
کیونکہ تمنا اور کسی کے ساتھ درانی کی باہنوں میں تھے اور لپٹ لپٹ کے کہہ رہی تھی درانی سے
کے میرا کب پیچھا چھڑواو کے حمزہ سے اب تو دو مہینہ رہ گیے شادی میں تمہارے کہنے پہ میں نے ابتک حمزہ سے ڈرامہ کیا پیار کیا اور اسکا ڈراپ سین بھی ہوجاتا کیونکہ عمر کا ہماری اصلیت پتہ چل چکی تھی مگر پیچارہ حمزہ میرے پیار میں اتنا اندھا ہو چکا تھا کے اس نے اپنے ہی بھائ کو بھری محفل میں طمانچہ دے مارا
تمنا اور دارنی اور بھی پتہ نہی کیا کیا بولے جارہے تھے ۔مگر حمزہ سے وہاں کھڑا ہونا مشکل ہوگیا۔
وہ جیسے ہی پلٹا تو عمر کو کھڑا پایا جو اندر کا سارا نظارہ دیکھ چکا تھا۔۔
وہ تیزی سے عمر کے پاس سے گزر کے اپنی گاڑی میں جا بیٹھا عمر بھی تیزیسےگاڑی میں بیٹھا اور حمزہ نے جھٹکے گاڑی آگے بڑھا دی ۔۔
حمزہ کے بہتے آنسو جیسے وہ بہنے سے پہلے ہی بہت بے دردی سے صاف کررہا تھا عمر سے چھپے نہی تھے۔۔

#

یوسف کی پوکٹ میں بجتا فون پیچھے بیٹھی جنت نے نکالا اور یوسف کے کان سے لگایا تو اگے سے شبنم بیگم تھی۔
کہاں رہ گئے تم دونوں بیٹا اتنی دیر ہوگئ۔۔کیا ہوا ریپورٹ نہہی ملی۔۔
ارے ارے ماما ریپورٹ مل گئ اور بہت جلد آپ دادی۔کے عہدے پہ فائز ہونے والی ہیں۔۔
یوسف کی بات سن کے شبنم بیگم نے فورا کہا۔۔
یااللہ تیرا شکر تم لوگ فور گھر پہنچو۔۔
کچھ دن پہلے جنت کے بخار اور الٹی کی وجہ سے ڈاکٹرنی۔نے ٹیسٹ کروایا تھا جس کی ریپورٹ لینے آج یوسف اور جنت ساتھ گئے اور ریپورٹ کے مطابق جنت ماں بننے والی تھی۔۔
اارے امی اررہے وہ۔کیا ہیں نہ آپکے ہونے والے پوتے کو زرا ساحل سمندر کی ہوا کھلا دو۔۔
چل بدمعاش دیھان سے جانا اور جنت کو کہنا اپنا عںبائےکا دیھان رکھے ایک تو منع کرنے کے بعد بھی بائیک پہ گئے۔۔ہو تم لوگ جلدی انا۔۔
جو حکم ماما۔۔
یوسف نے کال۔کٹ کی اور بائیک ون وے پہ ڈال دی ۔
ارے یوسف یہ ون وے پہ۔کیسے آگئے غلط بات ہے ۔۔
ارے جان یوسف ٹریفک دیکھ رہی ہو کل تک پہنچے گے سی ویو اور بے فکر رہو۔۔
اتنی بھی ٹریفک نہی۔۔
یہ بول کے یوسف گھوم کے خود سے چپکی جنت کے گالوں کو چومنا چاہا۔
جب جنت کی دلخراش چیخ گونجی۔۔ ییییووو سسسفففففف
اور یوسف کی بائیک سامنے سے آتی تیز رفتار گاڑی سے تکراگئ۔۔
جنت تو فٹ پاٹھ پہ اوندھے منہ گری۔۔
جبکہ یوسف بائیک کے ساتھ رگڑتا ہوا گیا اور فٹ پاتھ سے اسکا سر بری طرح تکرایا۔
گاڑی سے اتر کے بندہ تیزی سے یوسف کے پاس آیا اسکا۔ سر اپنی گودھ میں رکھا ۔مگر یوسف کا سر بری طرح پھٹ چکا تھا۔۔
جبکہ یوسف کی سانسیں رک رک کے آرہی تھی مگر نظر یوسف کی تھوڑے فاصلہ پہ اوندھے منہ گری جنت پہ تھی۔۔
اور پھر یوسف اسی شخص کی گودھ پہ اپنی زندگی کی بازی ہار گیا۔
وہ شخص سسکتے کی حالت میں بیٹھا تھا اس سے پہلے وہ جنت تک جاتا اسکا ساتھی اسے گھسیٹ کے گاڑی میں بیٹھایا اور گاڑی بھاگا لے گیا کیونکہ کافی گاڑیاں ایک دم رک چکی تھی اس ایکسیڈنٹ کو دیکھ کے۔۔
جاری ہے۔