50.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15 pt.2

نومیر کمرے میں آیا ایک نظر بھی اسنے لائبہ پہ نہی ڈالی اور چینج کرنے چلا گیا۔۔
لائبہ انکھوں میں غصہ لیہ نومیر کی ایک ایک حرکت دیکھ رہی تھی۔۔
مگر اسکے غصہ کا پیمانہ لبریز جب ہوا ۔جب نومیر نہ اس سے بات کی نہ اسکی طرف دیکھا بلکہ سائیڈ میں سے تکیہ اٹھایا اور سیدھا صوفے پہ جاکے لیٹ گیا اور اپنی ہنسی روکنے لگا جو لائبہ کی شکل۔دیکھ کے اسے آرہی تھی۔
لائبہ اپنا شرارہ سنبھال کے اتری اور صوفے کےپاس رک کے ایک جھٹکے سے نومیر کا رخ اپنی طرف موڑا تونومیر صوفے سے گرتے گرتے بچا۔۔
نومیر نے غصیلی آواز میں کہا۔
کیا بدتمیزی ہے یہ لائبہ؟؟
یہی میں آپ سے پوچھنا چارہی ہو کیا طریقہ ہے یہ اپنی بیوی کو پہلی رات کو ٹریٹ کرنے کا۔
ہاں تو بیوی نے ہی کہا تھا غلطی ہوگئ تم سے
محبت کرکے گھٹیا انسان ابھی کے ابھی میں طلاق لونگی۔۔
ہاں تو کیا کیا تھا اپنے بھول گئے لائبہ نے بھی نومیر کے لہجہ میں ہی۔اسے جواب دیا۔
ہاں تو کب سے معافی مانگ رہا ہو تم سے تم تو کچھ زیادہ ہی۔اترا رہی ہو؟؟
اور اپنے بارے میں کیا خیال ہے جو فلمی انداز میں اپنی بیوی کو اسکی جان خشک کرکے بول رہے تھے لائبہ مجھے بلڈ کینسر ہے۔۔
لائبہ نے دونوں ہاتھ کمر پہ رکھ کے ٹیرھا منہ بنا کے نومیر کی نقل اتاری۔۔
نومیر نے غور سے اپنے سامنے کھڑی اپنی حسین بیوی کو دیکھا جو دلہن کے لباس میں پور پور اس کے لیہ سجی اس سے لڑ رہی تھی .اور اسکے جزباتوں کو جھنجھوڑ رہی تھی۔۔
نومیر تو وہی اپنا غصہ بھول بیٹھا تھا جب اس نے مایوں کے سوٹ میں لائبہ کو دیکھا تھا۔۔
مگر فلحال یہ بات اس نے لائبہ پہ ظاہر نہی تھی۔۔
جاؤ لائبہ مجھے سونے دو چینج کرکے سو جاؤ یہ بول کے نومیر نے لیٹ کے اپنی آنکھوں پہ ہاتھ رکھا مگر چپ چپ کے لائبہ کو دیکھ رہا تھا۔
لائبہ کی۔انکھوں سے آنسو جاری تھے۔۔لائبہ نے اپنے آنسو صاف کیہ اور کہا۔
ہاں مجھے بھی شوق نہی آپ کے لیہ سج کے آپکا انتظار کرنے کا ۔خود چاہے کچھ بھی کرلے سامنے والا ریکٹ بھی نہ کرے۔
یہ کہہ کے لائبہ نے غصہ میں اپنا ڈوپٹہ اتار کے پھینکا اور جیسی ہی غصہ میں اپنی جیولری اتارنے لگی نومیر نے آگے بڑھ کے اسے اپنے باہنوں میں اٹھا کے بیڈ پہ لیٹایا اور کہا۔
ابھی کیو چینج کررہی ہو ابھی تو میں نے اپنی محبت کو سراہا ہی نہی محسوس ہی نہیں کیا کے آج وہ صرف میرے لیہ سجی ہے۔۔
یہ بول کے نومیر نے باری باری لائبہ کی دونوں انکھوں کو چوما۔
لائبہ نے روتے روتے نومیر کے گلے میں اپنی باہینں ڈال کے اس سے چپک گئ اور کہا
بہت برے ہیں آپ ہمیشہ تنگ کرتے ہیں مجھے۔۔
تو تم بھی تو مان نہی رہی تھی اوپر سے کہہ رہی تھی مجھ سے محبت کرکے غلطی ہوگئ۔۔
وہ تو میں نے غصہ میں کہا تھا۔۔
تو میں نے بھی تو مزاق کیا تھا نہ یہ بول کے نومیر نے اسکے گلے کا ہار اتار کے وہاں اپنے لب رکھے ۔۔
ایسا مزاق آئندہ کبھی مت کریےگا نومیر میں مرجاونگی۔
کبھی نہی میری جان کبھی نہی یہ بول کے نومیرے نے اسکے لبوں پہ اپنے لب رکھے اور اسے کمر سے تھام کے اپنے اور قریب کرلیا۔
پورے حق سے بنا ڈر خوف کے نومیر کے جزبات جھیل رہی تھی نومیر نے اسکی بیک کی ڈوری کھول کے اسکی شرٹ نیچے کی اور دیوانہ وار اسے چومنے لگا
نومیر کی شدت اسکا جنونی انداز نے لائبہ کے جسم میں کپکپی طاری کردی نومیر نے اپنی شرٹ اتار کے لائبہ کے اور اپنے اوپر کمفرٹر ڈالا اور پوری رات اسے اپنی شدتوں سے نوازتا رہا۔۔

#

صبح جنت کی آنکھ کھولی تو وہ یوسف کے سینے سے لگے سورہی تھی جنت نے ۔بہت آرام سے یوسف کے ماتھے کے بال سائیڈ میں کیہ اور اسکے ماتھے پہ بہت آرام سے اپنے لب رکھے ۔
جنت کی آنکھیں بھیگنے لگی رات بھر یوسف کی اتنے محبت بھرے انداز کا سوچ کے
جنت نے دھیرے سے سائیڈ پہ رکھی نائٹی پہن کے یوسف کے پاس سے دھیرے سے اٹھی ۔۔
مگر یوسف نے دوبارہ اسکو جھٹکا دے کر خود پہ گرایا اور فور اپنی پوزیشن بدلی اور اسکی گردن پہ اپنے لب رکھتے ہوئے کہا۔
کہاں جارہی تھی جان یوسف۔۔؟؟
افف یوسف بس کرے ابھی سب اجائینگے مجھے فریش ہونے دے اور پلیز گردن پہ سے ہٹے پہلے ہی آپ کافی رنگ چکے ہے اسے۔۔
اچھا جی چلو اب کندھے کی باری یہ بول کے یوسف نے جنت کے کندھے پہ اپنے لب رکھے ۔ایک بار پھر وہ جنت کو قابو کرچکا تھا مگر جنت سے فورا اسے دور کیا اور آنکھیں دیکھا کے کہا
ابھی اسی وقت چھوڑے یوسف مجھے نہانہ ہے کچھ تو میرے حلیے پہ رحم کھائے۔۔
حلیہ کو کیا ہوا جان میرا بس چلے تو آج تم کمرے سے ہی نہ نکلو یہ بول کے یوسف اسکے بالوں میں اپنا چہرہ چھپانے لگا۔
افف یوسف شکل سے تو آپ بہت سیریس لگتے تھے مگر دیکھے زرا سارے ریکارڈ توڑ دیے اپنے رومینس کے ۔۔۔
تمہی نے کہا تھا کے میں رومینٹک نہی۔۔
ہاں تو وہ اچھا ہٹے نہ پلیز فریش ہونے دے۔۔
اچھا جاؤ مگر ایک کس کے بعد یہ بول کے یوسف جنت کے لبوں پہ۔جھک گیا۔اور پھر تھوڑی دیر بعد اسے آزاد کردیا۔
موقع ملتے ہی جنت نے اپنے کپڑے ۔نکالے الماری۔میں سے اور فریش ہونے چلی گئ ۔

#

اپنے لبوں پہ کسی چیز کی موجودگی کے احساس سے لائبہ کی آنکھ کھلی تو نومیر اسکے لبوں پہ جھکا تھا مگر لائبہ نے فورا اپنی آنکھیں بند کرلی ۔
کل رات نومیر کی شدتوں سے وہ ویسی ہی شرم سے نڈھال تھی۔۔۔
نومیر ہمم نومیر جو لائبہ کے پورے جسم پہ ایک بار پھر قابض تھا بولا۔
پلیز ہٹے۔۔
کیوں؟؟
سب اٹھ گئے ہونگے..
تو؟؟
یہ ۔۔۔
یہ بول کے لائبہ نے نومیر کے پیٹھ پہ اپنے ناخن گڑائے۔۔
نومیر فورا پیچھے ہوا اور کہا۔
پوری جنگلی بلی ہو۔۔
ہاں تو فریش ہونے جانے ہی۔نہی دے رہے اٹھے اور آپ بھی فریش ہو ۔۔
یہ بول کے لائبہ فریش ہوکے باہر نکلی تو نومیر فریش ہونے گیا
۔#######
ولیمہ میں سب ان چاروں کو خوش دیکھ کے پر سکون تھے جبکہ جنت تو پالر والی کی نظروں سے ہی پریشان تھی جو میک اپ کرتے ہوئے بار بار اسکی گردن کے نشانوں کو ترچھی نگاہوں سے دیکھ کے ہنس رہی تھی اور اینڈ میں جاتے ہوئےاخر بول ہی پڑی۔۔
بہت لکی ہے آپ میم جو اپنے ہسبینڈ اتنے رومینٹک ہے۔۔
ولیمہ سے فارغ ہوکے سب ہی اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوچکے تھے۔
نومیر اور لائبہ ہنی مون پہ۔جاچکے تھے۔۔
مگر اسٹور کی دیکھ بھال کی وجہ سے یوسف اور جنت رک گئے ۔
جسکی وجہ سے نہ تو جنت نے منہ بنایا اور نہ یوسف نے ۔
جاری یے۔۔