50.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15 Part 1

زوروشور سے مایوں کی فنکشن کی تیاریاں جاری تھی ۔دونوں گھروں کے مشترکہ لان کو پیلے اور گلاب کے پھولوں سے سجایا گیا
آج اس گھر میں چار بچوں کی شادی تھی۔
لان میں دو جھولوں کو سجایا گیا تھا ۔۔
جنت اور لائبہ کے مایوں کے ڈریسس ایک جیسے تھے۔۔
شارٹ یلو شرٹ کیساتھ پنک اور مہندی کلر کے شرارے میں پھولوں کا زیور پہنے ہم رنگ ڈوپٹہ پہنے لائبہ اور جنت پی توٹھ کے روپ آیا تھا۔۔
سب سے پہلے جنت کو ڈوپٹہ کے سائے میں لایاگیا جس کے ایک طرف نومیر تھا اور ایک طرف ماریہ۔
انکے پیچھے اسکی دونوں دوستیں۔
جنت کو جھولے پہ بیٹھایا گیا۔
پھر تھوڑی دیر لائبہ کو بھی اسی طرح لایا گیا ۔مگر اس بار نومیر کی جگہ یوسف تھا۔۔
دونوں دلہنیں کے بعد دونوں دلہوں کی باری تھی۔۔
وائٹ کاٹن کے سوٹ پہ مہندی کلر کی واسکٹ پہنے یوسف اور نومیر کمال لگ رہے تھے۔۔
دونوں کو دنوں کی دلہنوں کے برابر میں بیٹھابیٹھایا گیا ۔
جنت اور یوسف کی چہرے کی مسکراہٹ ہی آج الگ تھی جبکہ دوسری طرف صرف خاموشی اور سنجیدگی تھی۔۔
اس رات کے بعد لائبہ کے کہے ہوئے الفاظوں سے نومیر کا دل بری طرح توٹا تھا۔
اس نے کئ بار لائبہ سے معافی مانگی تھی۔۔مگر لائبہ کے اس رات کے ریکشن کے بعد نومیر کافی چپ اور سنجیدہ تھا۔۔
تو ادھر لائبہ کو بھی اپنے کہے ہوئے الفاظوں پہ۔شدت سے پچھتاوا ہورہا تھا چور نظروں سے کئ بار نومیر کو دیکھ چکی تھی مگر نومیر نے ایک نظر بھی لائبہ میں نہی ڈالی۔
مایوں کے فنکشن اپنے اختتام کو پہنچا تو اگلے دن بارات تھی۔۔
کراچی کے مشہور پالر میں جنت اور لائبہ کی بکنگ تھی۔۔
بلڈ ریڈ کلر کے شرارے میں جنت اور لائبہ کہی کی شہزادی لگ رہی تھی ۔
اس پہ کمال مہارت سے کیا گیا میک اپ لائبہ تو دومنٹ کیلیے اپنے آپ کو دیکھ کے دنگ رہ گئی تو کچھ ایسا ہی حال جنت کا بھی تھا۔۔
دونوں دلہنوں کو اکمل صاحب لینے آئے تھے۔کیونکہ نومیر اور یوسف دونوں ہی دولہا بننے میں مصروف تھے۔۔
جیسی ہی دونوں دلہنیں حال میں اینٹر ہوئ دو منٹ کے لیہ لائٹیں بند ہوئ اور جب اون ہوئ تو دونوں کے دولہا انکے ساتھ تھے ۔۔اسپاٹ لائٹ میں دونوں جوڑیاں اسٹیج تک آئ یوسف نے اوپر چڑھ کے جنت کے آگے ہاتھ کیا جسے جنت نے مسکرائٹ سے تھام لیا ۔تو ادھر نومیر جان بوجھ کے لائبہ کے پیچھے اسٹیج پہ چڑھا تاکہ اسے لائبہ کو ہاتھ نہ دینا پڑھے یہ بات اور کسی نے نوٹس کی ہو یہ نہ کی ہو لائبہ نے ضرور کی۔۔
یوسف ہر تھوڑی دیر بعد جنت کو شرارتی لفظوں سے چھیڑ رہا تھا جس سے وہ اور زیادہ بلش ہورہی تھی تو ادھر لائبہ بہت مشکل سے اپنے انسو روک رہی تھی نومیر کا رویہ دیکھ کر۔۔
رخصتی کا شور اٹھا تو دونوں دلہنیں ہی رو پڑی حالانکہ ایک ہی گھر میں تھی بس پورشن جینج ہوئے تھے ۔
ساری رسموں کے بعد دونوں کو انکے کمروں میں بیٹھایا گیا۔۔
دلہن کے لباس میں وہ ڈری سہمی سے بیٹھی تھی ویسے تو یوسف کی چھوٹی چھوٹی گستاخیوں کو وہ بہت مشکل سے برداشت کرتی تھی مگر اج۔کیا ہوگا یہی سوچ سوچ کے اس کی۔ہتھلیاں بھیگنے لگی تھی۔۔
ہتھلیاں دیکھی تو وہاں گہری گہری کلر کی مہندی دیکھ کے جنت کے لب مسکرائے اور اسکے دوستوں کی بات اسکے کانوں میں گونجی۔۔
ارے واہ جنت تیرے ہاتھوں کی مہندی کا کلر بہت گہرہ آیا ہے لگتا ہے یوسف بھائ اور تیرا ساتھ بہت لمبا اور محبت سے بھر پور ہوگا۔۔
ابھی وہ اپنی سوچوں میں گم تھی کے کمرے کا دروازہ کھلا اور وہ سیدھی ہوکے بیٹھی۔
یوسف نے کمرے میں آکے اپنی شیروانی اتاری اور آکے دھپ کرکے جنت کے برابر میں لیٹ کے ہاتھ جنت کے پیٹ پہ رکھ کے اسے بیٹھے بیٹھے اپنے قریب کیا اور کہا تھک گیا۔۔۔۔جان یوسف۔۔
یوسف جنت نے کپکپاتی اواز سے یوسف کو پکارا۔۔
جنت کی کپکپاہٹ یوسف بہت اچھے سے سمجھ رہا تھا اس لیہ جان بوجھ کے اور اس کے قریب ہوا اور کہا
جان یوسف آج تو تم ہر اس سامان سے لبریز ہو جو میرا دل قابو کرنے کیلیے کافی ہے۔۔
یہ بول کے یوسف جنت نے روبرو آیا اور اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور کہا۔
بچپن سے تم اس دل میں۔ ہو جنت اس وقت سے تم سے محبت کرتا ہو جب اس لفظ سے بھی انجان تھا ہر مرض کی دوا ہو تم میری یوسف کی جان ہے جنت میں یہ بول کے یوسف کی آنکھیں بھیگنے لگی اس نے آہستہ آہستہ جنت کی جیولری اتاری مسکرا کے جنت کے لبوں کے چھوا تو وہ خود میں سمٹ گئ۔
یوسف اتھ کے الماری میں سے دو باکس لایا ایک تو مخمل کا باکس تھا دوسرا سادہ سا بڑا باکس تھا۔
ویوسف نے بڑا والا باکس جنت کے آگے کیا اور کہا جاؤ جینج کرکے اس باکس میں جو ہے وہ پہن کے ہے او۔۔
جنت نے حیران نظروں سے پہلے پہلے باکس کو دیکھا اور پھر یوسف کو جس کی انکھوں میں آج الگ ہی چمک تھی ۔
جنت نے باکس یوسف سے لیا اور واش روم میں چلی گئ ۔
جنت نے جیسی باکس کھولا تو شرم سے پانی پانی ہوگئی
سفید رنگ کی خوبصورت سے نائٹی جسکے ساتھ ریڈ کلر کا اسکا سامان موجود تھا۔اگے کا گلا کافی گہرا تھا جبکہ پیچھے سے صرف نیٹ تھی۔
اور شارٹ اتنی کے جنت کے گھٹنوں تک اتی۔۔
جنت نے پہلا اپنا حلق تر کیا پھر نائٹی پہنی اب مگر جنت کو حیرت تب ہوئ جب نائٹی کے اندر کا سامان اس کے ایک دم پرفیکٹ ایا۔۔
اب مسئلہ یہ تھا کے وہ یہ پہن کے یوسف کے سامنے کیسے جائے۔۔
یوسف چینج کرچکا تھا اور جنت کے باہر آنے کا ویٹ کررہا تھا ۔مگر وہ تھی جسکا باہر آنے کا کوئ ارادہ نہی تھا۔۔
یوسف نے ہلکا سا واش رروم کا دروازہ کھولا کے اندر جھانکا تو جنت نائٹی میں تھی۔۔
نائٹی میں جنت کے سراپے کو دیکھ کے یوسف کے لبوں پہ ایک دلفریب مسکراہٹ ائ۔
ادھر جنت جو اسی کشمکش میں تھی کے باہر نکلے یہ نہہی۔ ایک دم یوسف نے اسکا ہاتھ کلائ سے پکڑ کے اپنے قریب کیا اور اپنے باہنوں میں اٹھا کے واش روم ںسے باہر ایا۔
جنت شرمائ سی بوکھلائ سی یوسف کے سینے سے لگی تھی یوسف نے اسے بیڈ پہ بیٹھا کے اس کے سامنے بیٹھا اور کہا
باہر کیوں نہی آرہی تھی ؟؟؟
وہ۔۔میں۔۔
وہ میں جنت کی سمجھ میں ہی نہی ارہا تھا کیا بولے اسکا تو گردن اٹھانا بھی مشکل تھا ۔یوسف نے دوسرے باکس میں سے ایک چین نکالی جسمیں یوسف کے نام کے سارے ایلفابیٹ تھے یوسف نے جنت کے گلے میں وہ پہنایا اور اسکی گردن پہ اپنے لب رکھتے ہوئے کہا۔
ویلکم مائے لائف ۔۔
یوسف کی اس بات پہ جنت کا چہرہ بلش کرنے لگا ۔۔
یوسف نے ایک دم اسے لیٹاکے اس کے لبوں کو چوما۔۔
جنت نے زور سے یوسف کے کندھے پہ اپنا ہاتھ رکھا۔
دھیرے دھیرے گردن سے سینے پہ یوسف نے اپنے لب رکھے جب جنت کو یوسف کے لب اپنے پیٹ پہ محسوس ہوئے تو اس کے منہ سے بے ڈھرک نکلا۔
یوسف ۔۔
اور پھر یوسف نے آج بہت مان پیار سے جنت کو اپنی محبت سے آشنا کروایا۔۔

#

رات کے دو بج رہے تھے مگر نومیر کا کہی آتا پتہ نہی تھا لائبہ نے بھی آج ٹھانی تھی کے نومیر کا انتظار کرے گی۔
اس سے پہلے وہ نومیر کو کال کرتی کمرے کا دروازہ کھلا اور نومیر اندر ایا۔۔
جاری ہے