Maafi Season 1 By Mariyam Khan Readelle50209 Episode 14
Rate this Novel
Episode 14
۔۔۔
مریم عمران۔۔
قسط نمبر 14#
عمر نے پلٹ کے دیکھا تو حمزہ اسکے کمرے میں موجود تھا ۔
عمر اسے اگنور کرکے دوبارہ اپنی پیکنگ میں مصروف ہوگیا۔
آج صبح ہی حمزہ کو زرین بیگم سے پتہ چلا تھا کے عمر آج شام کی پارٹی سے پہلے ہی اسلام آباد جا رہا ہے ۔۔
مجاہد صاحب بھی آفس میں ہوئے واقع کے بعد سے حمزہ سے کم ہی بات کرتے تھے زرین بیگم کے اس وقت کے روکنے پہ تو وہ چپ ہوگئے تھے مگر عمر کی اسطرح خاموشی سے مجاہد صاحب سے زیادہ برداشت نہی ہوا ور انہوں نے حمزہ کی اچھی خاصی کلاس لی جسکی مین وجہ تھی کے انجان لڑکی کے پیچھے اس نے عمر کو بھرے آفس میں تھپڑ مارا ۔۔۔
حمزہ نے گلا کھنکارتے ہوئے عمر سے پوچھا۔۔
کہاں جارہے ہو؟؟
حمزہ کے سوال پہ بھی عمر نے اپنی خاموشی نہی توڑی۔۔
اچھا تو اب تم اتنے بڑے ہوگئے ہو کے اپنے بگ بی کی بات کا جواب بھی دینا ضروری نہی سمجھتے۔۔
اسلام آباد جا رہا ہو کچھ دونوں کیلیے۔۔
عمر نے ہلکی آواز میں حمزہ کی بات کا جواب دیا۔
کس لیہ یہ جانتے ہوئے بھی کے آج تمارے بگ بی کی کتنی بڑی خوشی کا دن ہے۔یہ پھر تمہارے جانا میری خوشی سے زیادہ امپورٹینڈ ہے۔۔
جب آپکی نظر میں میری حیثیت چند دونوں پہلے بننے والے رشتہ سے زیادہ ہے جسکے کے لیہ اپنے بھری محفل میں اس بات کا ثبوت دیا تھا ۔۔
جب میں نے آپ سے کوئ شکوہ نہی کیا تو آپ بھی مجھ سے کسی قسم کا شکوہ نہ کرے تو بہترہوگا۔۔
حمزہ نےجھٹکے سےعمر کا رخ اپنی طرف موڑا اور کہا۔
تو کیا اب میں اتنا بھی حق نہی رکھتا کے تجھے مار سکو۔؟؟
آپ میری جان لے لو بھائ مجال ہے جو عمر کے منہ سے ایک لفظ نکلے مگر جو اپنے کسی انجان کیلے کیا ۔۔
عمر عمر تجھے کیسے سمجھاؤں یار میں اس سے محبت کرتا ہو تیری ہونے والی بھابھی ہے وہ تو کیوں نہی سمجتا ابھی بھی تو وہ ہمارے ساتھ تھی دیکھ ہم جیت گئے نہ فیشن ویک ۔۔
تو اس لحاظ سے ہی اس کا احترام کرلے کے وہ تیرے بھائ کی عزت ہے۔۔
حمزہ کی بات سن کے عمر نے دوبارہ اپنی پیکنگ شروع کردی۔۔
حمزہ نے اسکے ہاتھ پکڑا اور کہا ۔۔
ٹھیک ہے جانا چاہتا ہے جا نہی روکونگا مگر یاد رکھنا جب تو لوٹ کے آئے گا تو تجھے تیرا بگ بی نہی مل۔ےگ۔
ابھی حمزہ کی بات پوری ہوتی کے عمر نے چیخ کے کہا ۔
بھائ کیا بولے جارہے ہیں آپ ہوش میں تو ہیں یہ بول کے عمر حمزہ کے گلے لگ کے رونے لگا تو حمزہ کی بھی انکھیں بھیگنے لگی۔۔
نہی جارہا میں کہی کوئ بھی فضول بات اب آپ نہی کریینگے۔۔
یہ بول کے حمزہ اور عمر دونوں ہی مسکرائے۔۔
#
اقراء یہی سمجھ رہی تھی کے عمر چلا گیا۔
وہ بے دلی سے تیار ہونے لگی۔۔
شاکنگگ پنک اور بلیک کنٹراس کا شرارہ جس پہ ہیوئ جیولری بالوں کو کھلا چھوڑے ہاتھوں میں بھر بھر کے میچنگ کی چوڑیاں پہنے ہلکے سے میک اپ کیساتھ وہ غضب ڈھا رہی تھی ۔مگر۔ شاید اب وہ عمر کی بے رخی سے تھکنے لگی تھی۔۔
نیچے پارٹی زوروشور سے جاری تھی۔۔
عمر اور حمزہ بلیک ڈنر سوٹ میں ملبوس تھے تو تمنا بلیک شیفون کی ساڑھی میں غضب دھاڑی تھی ایسا اسے لگ رہا تھا جبکہ لوگوں کا اسکے سراپے کو اوپر سے نیچے تک دیکھنے کی وجہ اسکی ساڑھی کا گہرا گلا اور جھلکتا جسم تھا۔۔
عمر اور حمزہ کوہنستا مسکراتا دیکھ کے تمنا نےطنزیہ مسکراہٹ ہونٹوں پہ سجائ اور عمر کے قریب آکے کہا۔۔
لگتا کے پاؤں پکڑ کے معافی مانگی بھائ سے جبھی آج پارٹی میں آنے کا اجازت نامہ ملا بھائ سے تمہیں۔۔
عمر نے جو کونے میں کھڑا کولڈرنک پی رہا تھا۔اپنی ۔مسکراہٹ کیساتھ گلاس سائیڈ میں رکھا اپنے دونوں ہاتھ اپنی پینٹ کی پوکٹ میں ڈالے اور کہا۔
اصل میں تمہیں پتہ ہے تمہارا مسئلہ کیا ہے تمنا تم ابھی تک سمجھ نہی پائ کے اصل میں بگ بی چیز کیا ہے۔
جب وہ کسی کو سر پہ بیٹھانا جانتے ہیں تو جب اسے اسکی اوقات یاد دلاتے ہیں نہ تو وہ کئ سالوں تک اپنے پیدا ہونے پہ افسوس کرتا ہے کے میں پیدا کیوں ہوا اور اگر پیدا بھی ہوا توحمزہ مجاہد کے سامنے کیوں ایا۔
تم جو کرہی ہو نہ تمنا بہت جلد اس راز سے بھی پردہ اٹھنے والا ہے اور یقین مانو لائیو کسی کا تماشہ بنے وہ بھی حمزہ بھائ کے ہاتھوں بنےکافی وقت ہوگیا دیکھے ہوئے۔۔
یو ویٹ اینڈ واچ ڈرلنگ میں اوربگ بی دو جسم ایک جان ہےکوئی بھی ہوا کا جھونکا انکی بنیاد ہلا نہی سکتا۔۔
یہ بول کے عمر تمنا کو سلگتا چھوڑ کےوہاں سے واک آؤٹ کرگیا۔
#
زرین بیگم اقراء سے سب سے تعارف کروارہی تھی مگر وہ صرف جھوٹی مسکراہٹ سجائے سب سےمل رہی تھی جبکہ عمر کو وہ کوئ اداس پری لگی۔
اقراء کو آج اس روپ میں دیکھ کے عمر کا شدت سے دل کیا کے ساری ناراضگی بھولا کے اسے اپنے گلے سے لگا لے مگر اپنے دل کی اس خواہش پہ اس نے دل کو ڈپٹ کے سلا دیا۔
سب سے ملکے اقراء کونے پہ بنی ٹیبل پہ جاکے بیٹھی اور موبائل نکال کے عمر کی یپکس دیکھنے لگی اور اسکے پیچھے کھڑا عمر جو اسکے ٹیبل پہ بیٹھتے ہی اس تک آیا مگر اقراء کی پشت عمر کی طرف تھی اس لیہ وہ دیکھ نہی پائ کے عمر ہے۔۔
اور وہ مگن انداز میں عمر کی پکس دیکھنے
میں مصرف تھی ۔اور عمر اقراء کی اس حرکت پہ جہاں۔ شاکڈ تھا وہی خوش بھی۔۔
عمر نے ایک دم کہا۔
اتنے کونے میں گھس کے کیوں بیٹھی ہو پارٹی چھوڑ کے۔۔
عمر کی آواز اتنے قریب سے سن کے ڈر کے اقراء کے ہاتھ سے موبائل چھوٹتے چھوٹتے بچا ۔۔
اور وہ ہونقوں کی طرح عمر کو دیکھنے لگی جو ڈنر سوٹ میں پورے جلوے کے ساتھ اسکے سامنے کھڑا تھا۔۔
اپ گئے نہی ؟؟
اقراء نے خوش ہوکے سوال کیا عمر سے اور عمر اسکی خوش ہوتی آنکھوں کے دیکھ کے ڈھک رہ گیا۔
ہاں نہی گیا چلو ماما بولا رہی فوٹو سیشن کیلیے ۔
عمر کی بات سن کے وہ خوشی خوشی عمر کے پیچھے چل پڑی ۔
فوٹو سیشن کے بعد اقراء خوشی خوشی بسمہ کی ساری فرینڈز سے ملنے لگی اور عمر اس جھلی کی خوشی دیکھ کے حیران رہ گیا جو خالی یہی سن کے اتنے خوش تھی کے وہ گیا۔نہی۔۔
رات گئے تک پارٹی اپنے اختتام کو پہنچی مگر پارٹی کے اینڈ میں اقراء کا چہرہ غصہ سے لال بھبھوکا ہوگیا تھا جیسے دیکھ کے عمر بہت مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کررہا تھا اور وجہ تھی عمر کی ایک کولیگ جو بہت فرینک ہوکے عمر سے مل رہی تھی اور بار بار اسکے گلے بھی لگ رہی تھی۔۔
اقراء نے کمرے میں آکے زور زور سے اپنی سینڈل اتاری ایک کہی تو ایک کہی جاکے گری۔
چوڑیاں اور جیولری اتارتے ہوئے وہ زور زور سے بڑبڑائ رہی تھی۔۔
جب وہ چڑیل اتنی ہی پسند تھی تو مجھ سے کس خوشی میں نکاح کیا دو لفظ تو تعریف کے بولے نہی گئے۔۔
اوربات بات پہ اسے بول رہے تھے ۔
ا
عظمی یو لوکنگ گورجیس اقراء ٹیرھے منہ کرکے عمر کی نقل اتارہی تھی ۔جبکہ عمر جو اسکے کمرے کے پاس سے گزرا رہا تھا اقراء کے کے کمرے کا دروازہ اتنی رات کو آدھا کھلا دیکھ کے پریشان ہوا مگر اندر کا نظارہ دیکھ کے وہ بہت مشکل سے اپنی ہنسی روک رہا تھا۔۔
اقراء نے ڈوپٹہ اتار کے زور سے بیڈ پہ پٹھکا اور بیک کی ڈوری کھولنے لگی ۔ڈوری کھولتے ہی اسکی آدھی کمر جھلکنے لگی جو عمر کا دل بے ایمان کررہی تھی ۔
اچانک اقراء دروازہ بند کرنے کیلیے پلٹی اور عمر کو دیکھ کے جیسی ہی چیخنے لگی عمر نے تیزی سے آگے بڑھ کے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھا مگر دونوں ہی اپنا بیلنس برقرار نہ رکھ سکے اور بیڈ پہ گر گئے اقراء نے زور سے اپنی آنکھیں بند کی ہوئے تھی جبکہ۔عمر تو اقراء کے گلے کے نیچے تل کو دیکھ کے ہی مدہوش ہوگیا جو اقراء کے دل کے مقام پہ تھا اور ڈوری کھولنے سے جو شرٹ لوز ہوئ تھی تو اس تل کو دیدار عمر کو نصیب ہوا۔۔
اقراء نے آنکھیں کھولی تو عمر کو اپنے آپ کو تکتا پایا جو آنکھوں میں خمار لیہ اقراء کو ہی دیکھ رہا تھا جب اقراء نے عمر سے کہا
عمر ہٹے پلیز ۔۔
اقراء کے بولنے پہ عمر ہوش میں آیا اور کہا۔
سوری اور جلدی سے کھڑا ہوکے اقراء کا ہاتھ پکڑ کے کھڑا کیا تو وہ اپنی شرٹ کندھوں کی طرف سے اوپر کرنے لگی مگر عمر اسکا تو آج اپنے منہ زور جزباتوں کو قابو کرنا بہت مشکل۔لگ رہا تھا وہ بنا اقراء کی طرف دیکھے تیزی سے کمرے سے چلا گیا۔۔
جاری ہے۔۔
