50.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

۔
مریم عمران۔۔۔
قسط نمبر 13#.
عمر اور اقراء کے نکاح کو ایک مہینہ ہوچکا تھا۔
عمر اقراء کی ہر ضرورت کا خیال رکھتا مگر اس سے بات نہی کرتا تھا۔
زرین بیگم بسمہ سے اقراء کی اچھی انڈسٹینگ ہوگئ تھی۔۔
چھوٹے موٹے عمر کے کام اقراء اپنے ہاتھوں سے کرتی تھی مگر ظاہر نہی کرتی تھی۔۔
عمر ہر رات اقراء کے کمرے میں جاکے جہاں ایک پرشکوہ نظر اسکے چہرے پہ ڈالتا تھا وہی اسکے ماتھے پہ اپنے لبوں کا سکون بھی دیتا تھا۔۔

#

ادھر لائبہ کو جب یہ بات پتہ چلی کے یوسف اور جنت کی شادی کیساتھ ساتھ لائبہ اور نومیر کی بھی شادی ہے تو وہ موقع دیکھ کے نومیر کے کمرے میں پہنچی ۔۔
نومیر جو ابھی نہا کے نکلا تھا اپنے کمرے میں لائبہ کو ایسا دیکھ پہلے توچونکا مگر لائبہ کے غصہ سے بھر پور چہرے کو دیکھ کے سمجھ گیا بات کیا ہے۔۔
و
لائبہ غصہ سے نومیر کے قریب آئ اور کہا۔۔
ہمارے درمیان پہلے ہی یہ بات طے ہوچکی تھی کے جب تک میں اپنی اسٹڈی کمپلیٹ نہی ہوگی آپ رخصتی کی بات نہی کرینگے۔۔توپھر یہ اچانک
شادی کا شوشا کیوں چھوڑا اپنے ۔۔
لائبہ غصہ میں اپنی بات کہتے ہوئے نومیر کے بہت قریب اچکی تھی اس بات کو غور کیہ بغیر کے نومیر بنا شرٹ کے ہے
نکاح۔کو ایک سال ہوچکا ہے لائبہ اب رخصتی ہوجانی چاہیے پڑھائ تم شادی کے بعد پوری کرلینا۔
مگر مجھے نہی کرنی شادی ابھی سمجھ آئ آپکے یہ بات ہر بار آپکی مرضی نہی چلے گی جب میرا دل ہوگا جب شادی ہوگی۔۔
یہ بول کے لائبہ جیسی ہی جانے کیلیے مڑی ۔۔
نومیر نے ایک ہاتھ سے اسکی کلائی پکڑی دوسرے ہاتھ سے کمرے کا دروازہ لاکڈ کیا ۔
لائبہ کو بیڈ پہ دھکا دے کے اس پہ جھک کے اسکا ڈوپٹہ گلے سے اتار کے اچھالا ۔۔
لائبہ نومیر کی اس حرکت پہ جہاں خوف میں تھی وہی غصہ سے نومیر سے کہا۔
یہ کیا بدتمیزی ہے نومیر چھوڑے مجھے ورنہ بھول جائیے گا ہمارے نکا۔۔۔۔
ابھی لائبہ کی بات پوری نہی ہوئ تھی کے نومیر نے اسکے لبوں کو سختی سے اپنے لبوں میں جکڑا۔
جہاں لائبہ نومیر کے اس جنونی انداز سے خوف زدہ ہوئ تھی وہی مسلسل اپنے اپکو چھڑوانے کی۔کوشش بھی کررہی تھی مگر ناکام تھی کیونکہ نومیر نے اتنی سخت گرفت لائبہ کے ہاتھوں پہ اپنے ہاتھوں سے ڈالی تھی لائبہ کو تو لگ رہا تھا کے اج اسکے ہاتھ ہی ٹوتھ جائے گے۔۔
نومیر کے لائبہ کو ہونٹوں کے آزاد کیا اور بولا۔۔
مت آزماؤ مجھے لائبہ میں اس وقت ایک مزاق کیا تھا ۔ مانتا ہو ایس مزاق نہی کرنا چاہیے تھا اس لیہ کئ بار تم سے معافی مانگ چکا ہو۔۔
مگر تم میری بات نہی سن رہی۔۔
لائبہ نے بہتی انکھوں اپنے اوپر جھکے نومیر کو دیکھا اور کہا۔
میں ابھی اسی وقت یہ نکاح توڑ دونگی سنا اپنے میں آپکی زرخیز غلام نہی ہو چھوڑے ۔مجھے ہٹے اوپر سے میرے۔۔
لائبہ کی بات سن کے بات سن کے نومیر ایک دم سکتے میں آگیا ہوش اسے جب آیا جب لائبہ دروازے کا لاکڈ کھولنے لگی ۔۔۔
نومیر نے بھیگتی آنکھوں سے لائبہ ک ہاتھ پکڑ کے دروازہ بند کرکے اسے دیوا سے لگایا اور کہا
کیا بکواس کی تم نے پھر کرو۔۔
وہی بکواس کی جو ابھی آپ نے سنی آئ سمجھ اپکے۔۔
نومیر نے ایک نظر اسے دیکھا اور ایک جھٹکے سے اسے بیڈ پہ پھیکا ۔۔
لائبہ اسسے پہلے سنبھلتی نومیر نے ایک دم اسکی شرٹ پھاڑ دی ۔۔
لائبہ ہونقوں کی طرح سکتے کی حالت میں نومیر کو دیکھنے جسکی آنکھوں سے جہاں آنسو جاری تھے وہی اسکے جنونی انداز سے لائبہ کی انکھوں سے آنسو جاری تھے اس نے فورا اپنے ہاتھ کراس کی شکل میں اپنے جسم پہ ہاتھ رکھا ۔
خوف سے لائبہ کی۔انکھیں اور بڑی ہوگئ ۔۔اس نے کہلاتے ہوئے نومیر سے کہا۔
ن می ی۔ ر۔ ۔یہ۔۔۔۔سب۔۔
بہت شوق ہورہا ہے نہ مجھ سے طلاق لینے کا تو پھر پہلے میں اپنے شوہر ہونے کا حق تو وصول کرلو تاکہ آئندہ یہ بکواس اپنے منہ سے نکلنے سے پہلے تم ہزار بار سوچو۔۔
یہ بول کے نومیر نے کراس ہوئے لائبہ کے ہاتھوں کو سیدھا کرکے اسے بیڈ پہ لیٹانے لگا ۔
تو لائبہ نے ہاتھ پاؤں چلانے شروع کردیے اور کہنے لگی۔۔جنگلی انسان چھوڑو مجھے غلطی ہوگئ تم سے محبت کرکے گھٹیا ہو تم بہت ۔۔
نومیر نے ایک جھٹکے سے لائبہ کےبالوں کے اپنی مٹھی میں جکڑا اور کہا ۔
میرے ظبط کو مت آزماؤ لائبہ مجھے مت مجبور کرو کے میں تم سے ابھی کے ابھی بیوی والا تعلق جوڑو پھرلگاتی رہنا ایڑھی چوٹی کا زور مجھ سے الگ ہونے کا آئ سمجھ یہ بول کے نومیر نے لائبہ کے بال چھوڑے ۔
اپنی شرٹ پہن کے باہر نکلا۔۔۔
جبکہ نومیر کے باہر نکتے ہی لائبہ سوچنے لگی کے وہ باہر کیسے جائے گی ابھی وہ یہی سوچ رہی تھی ۔کے اتنے میں دروازہ کھلا اور نومیر اندر آیا جسکے ہاتھ میں لائبہ کی ہی۔قمیض تھی۔جو وہ پیچھے کے راستے اسکے کمرے میں جاکے لے کے آیا تھا۔۔
ہاتھ پکڑ کے لائبہ کو کھڑا کیا اسے قمیض پہنائ ڈوپٹہ اوارٹے ہوئے کہا۔۔
میری محبت ہو لائبہ محبت ہی بنی رہو ضد نہی بنو ۔کیونکہ جب عورت کسی مرد کی محبت کی جگہ ضد بن جاتی ہے تو پھر صرف اسکی جنونیت کا شکار ہوتی ہے اسکی محبت سے آشنا نہی۔یوتی۔۔
یہ بول کے نومیر نے لائبہ کو کمرے باہر نکال کے دروازہ بند کردیا۔۔
جاری ہے۔ ۔