50.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

معافی۔۔
مریم عمران۔۔۔
قسط نمبر 11#
اجمل صاحب کی بات سن کے سب ہی شاکڈ تھے جب کےجنت کو لگا اجمل صاحب نے اسکی زندگی کہ ڈور کھینچ لی ۔۔
یہ آپ کیا بول رہے ہیں؟؟
زرین بیگم سب سے پہلے ہوش میں آئ اور کہا۔
بس زرین یہی میرا فیصلہ ہے بس اب اور نہی اب کوئ میرے معملے میں نہی بولے گا۔۔
مگر میں بولونگی؟؟
اچانک جنت کی آواز ٹیبل پہ گونجی جسکی آنکھوں سے تواتر آنسو جاری تھے یوسف سے جدائ کا تو وہ اب سوچ بھی نہیں سکتی جب کے اب تو وہ اس سے محبت کرنے لگی اپنے اور اسکے رشتہ کو محسوس کرنے لگی تھی تو اب یہ کیسا طوفان اسکے بابا اسکی زندگی میں لے آئے تھے۔۔
میں کسی صورت یوسف کو خود کو طلاق دینے نہی دونگی۔۔
مگر تم ہی تو کہتی تھی نہ کے تم اس چنگیز خان پلس ہٹلر سے شادی نہی کرونگی یوسف سے نکاح کرنے پہ ہی تم ابھی تک ناراض ہو مجھ سے اکمل صاحب کے بولنے پہ جنت شرم سے نظریں جھکا گئ اور چور نظروں سے یوسف کو دیکھنے لگی جو اکمل صاحب کی بات پہ اسے گھور گھور کے دیکھ رہا تھا۔۔
نومیر ماریہ اور زرین بیگم تو جہاں سکتے کی حالت میں تھے اکمل صاحب کی بات سن کے وہی یوسف کے سامنے بھی شرمندہ تھے۔۔
جنت اکمل صاحب کی بات پہ تھوڑی دیر خاموش رہی اپنے آنسو تیزی سے صاف کیہ اور کہا۔
ہاں تو وہ تو میں نے غصہ میں کہا تھا وہ تو اس وقت میں جنت کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کے وہ کیا بولے ۔
مگر اچانک پھر وہ بولی۔۔
مگر بابا میں اپنے شوہر سے اب بہت محبت کرتی ہو انکے بغیر میں زندہ نہی رہونگی ۔۔یوسف زندگی بن گئے ہیں اب میری۔۔
جنت کے اعتراف پہ یوسف نے کمال مہارت سے اپنی مسکراہٹ چھپائ جس سے اسکا ڈمپل ایک بار پھر ابھرا۔۔
مگر اکمل صاحب جنت کی بات پہ ایک بار پھر بولے۔
مگر مجھ سے تو تم ابھی تک ناراض ہو بات بھی نہی کرتی مجھ سے۔۔؟؟
اللہ بابا وہ تو اپنے ڈانٹا تھا نہ اس لیہ ورنہ میں آپکے بغیر کہاں رہ سکتی ہو یہ بول جنت اکمل صاحب کے گلے لگ گئ تو یوسف کی اوازابھری۔۔
اوکے چاچو اپنا میشن مکمل ہوا؟؟
یوسف کی بات پہ اکمل صاحب بھی مسکرائے اور کہا۔۔
ہاں بھی تمہارا پلین کامیاب رہا ۔۔
پلین مطلب ؟؟جنت اور زرین ایک ساتھ کیے گئے سوال پہ اکمل صاحب اور یوسف کا قہقہ ایک بار گونجا اور کہا۔۔
بھئ میری بیٹی مجھ سے ناراض تھی یہاں تک کے وہ نکاح والے دن بھی مجھ سے گلے نہی ملی تو بس میں یہ سوچ کےکل افسردہ تھا تو اسٹور پہ آیا یوسف جو مجھ سے ملنے آیا تھا مگر میری صورت دیکھا واپس پلٹ گیا اور مجھ سے کال پہ میری اداسی کی وجہ پوچھی میں سب یوسف کو بتا دیا تو بس یہ طلاق والا ڈرامہ یوسف نے ہی مجھے کرنے کا بولا۔۔
اکمل صاحب کی بات پہ سب نے جنت کا چہرہ دیکھ کے اپنی ہنسی دبائ۔۔جو ہونقوں کی طرح کبھی اپنے بابا کو دیکھتی کبھی اپنے شوہر کو ۔۔
اور پھر اپنے بابا سے الگ ہوئ اور کہا۔۔
بابا آپ سے تو میں اب ناراض نہی مگر کوئ میرے ہاتھوں سے نہی بچے گا آج ۔یہ بول کے جنت یوسف کے پیچھے بھاگی جو پہلے ہی جنت کے ارادے بھانپ کے اوپر کو ڈور لگا چکا تھا۔۔
جنت کے دوڑتے ہی سب کا ہی قہقہ گونجاجبکہ نومیر ہنستے ہنستے ایک دم رکا اسے ایک دم لائبہ یاد آئ جسکا انجانے میں وہ بہت دل دکھا چکا ہے اور یہی سوچ کے وہ چابی اٹھا کے لائبہ کہ دوست کی طرف چل پڑا اسے لینے۔۔۔
جنت اوپر آئ تو اسے یوسف کہی نہی دیکھا وہ۔ہر کمرہ چیک کررہی تھی یوسف کے کمرے میں بھی وہ چیک کرکے جانے لگی جب اسے اپنے پیچھے ریمی پرفیوم کی جانی مانی خوشبو محسوس ہوئی وہ جیسی ہی پلٹی تو یوسف دروازہ بند کرکے اس سے ٹیک لگا کے کھڑا تھا۔۔
جنت نے اسے دیکھ کے صاف ناراضگی کا اظہار کیا اور جیسی ہے اسکے پاس سے گزرنے لگی یوسف نے اسے پکڑ کے دیوار سے لگایا اب جیب میں سے گولڈ کی نوز پن نکالی اور بڑی پیار سے اسکو پہنا کے اسکی ناک کو اپنے لبوں سے چھوا اور کہا۔
بہت خوبصورت لگ رہی ہو جان یوسف۔۔
کوئ میں آپکی جان یوسف نہی اتنی آسانی سے اپنے پلین میں طلاق کی بات رکھی یہ بول کے جنت کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔۔
یوسف نے غور سے جنت کو دیکھا جو ناراض ناراض سی روٹھی ہوئی سیدھا یوسف کے دل میں اتر رہی تھی یوسف نے اسکے ہاتھ تھام کے اسے بیڈ پہ بیٹھایا اور کہا۔
تم میرے لیہ کیا ہو اسکا اندازہ تمہیں نہی جنت میں یہ بات جانتا تھا کے تم مجھے پسند نہی کرتی اوراب میں یہ بھی جانتا ہو کے تم مجھ سے محبت کرنے لگی بس تم سےاظہارےمحبت سننے کیلیے یہ ڈرامہ کیا ۔مجھے نہی پتا تھا تم اس حد تک محبت کرنے لگی ہو۔۔
محبت نہی یوسف آپ سے عشق ہونے لگا ہے
مجھے پتہ نہی کب اور کیسے زندگی کا ہر لمحہ میں آپکی صحبت میں گزارنا خواہش کرنے لگی چ ساںنسیں چھوڑ سکتی ہو مگر آپکا ساتھ نہی ۔۔
جنت کے اتنے خوبصورت اقرار پہ یوسف نے اسکے لرزتے ہوئے ہونٹوں پہ اپنے لب رکھ کے اسے سینے سے لگایا اور کہا
تمہارا یوسف بھی کبھی تمہارا ساتھ نہی چھوڑے گا ۔جنت تم میری محبت نہی میر جنون ہو ۔یہ بول کے یوسف نے جنت کے گرد اپنے بازؤں کا حصار اور تنگ کردیا۔
جبکہ دور آسمان پہ موجود چاند انکی محبت کو دیکھ کے صرف طنزیہ مسکرا سکا۔۔۔

#

لائبہ اپنی دوست کےگھرکافی دیر سے آئ ہوئ تھی اور آنے کی وجہ بھی نومیر تھا وہ جانتی کے آج وہ لازمی اسکے کمرے میں براہ راست آتا کیونکہ گھر میں آج کوئ نہی تھا۔۔
نومیر جب اسکی دوست کے گھر پہنچا اور چوکیدار سے پوچھنے پہ۔معلوم ہوا کے لائبہ ابھی اپنے گھر پہ ہے یہی سوچ کے وہ باہر رک کے اسکا انتظار کرنے لگا ۔
تھوڑی دیر بعد ایک کیب اسکے قریب آکے رکی اور تھوڑی دیر بعد لائبہ گیٹ سے باہر نکلی نومیر کو دیکھ کر وہ چونکی مگر پھر اسے نظر انداز کرکے کیب کی طرف جانے لگی جب نومیر نے اسکا بازو پکڑا اور کہا لائبہ گاڑی میں بیٹھو مجھے بات کرنی ہے تم سے۔۔؟؟
نومیر میرا ہاتھ چھوڑے مجھے اپ سے کوئ بات نہی کرنی بیچ سڑک پہ میرا تماشہ نہی بنوائے ورنہ اپنے تو مزاق کیا تھا میں مزاق نہی کرونگی۔۔
یہ بول کے لائبہ نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑوا کے تیزی سےکیب میں بیٹھ کے چلی گئ ۔جبکہ نومیر صرف اپنا غصہ ضبط کرنے کے علاؤہ کچھ نہی کرسکا۔۔

#

عمر اپنے آفس میں بیٹھا تھا جب اسکی خاص آدمی امجد جس نے اسے کسی خاص بندے کی جاسوسی پہ لگایا تھا دیکھ کے مسکرایا اور کہا۔۔
بیٹھو امجد۔۔
شکریہ سر ۔۔
کیا ریپورٹ ہے؟؟
آپکا شک صحیح نکلا سر ۔۔
۔ہممم ۔۔۔
امجد کی بات پہ عمر مسکرایا اور کہا۔تو کہو کیا ثبوت ہے تمہارے کیا ان ثبوتوں سے ہم اس غدار کا راز فاش کرسکتے ہیں؟؟
نہی سر ابھی جو ثبوت ملے ہیں وہ کافی نہی مگر اپ مجھے ایک ہفتہ کا ٹائم دے پورے ثبوتوں کے ساتھ اپکے سامنے حاظر ہونگا۔۔
اوکے امجد جلدی کرنا اگلے فیشن ویک سے پہلے مجھے اس غدار کا پردہ فاش کرنا ہے۔۔
اوکے سر آپ بے فکر رہے۔۔
یہ بول کے امجد چلا گیا۔۔
اور عمر کے لب کھل کے مسکرائے اور اس نے کہا ۔۔
اب تمہیں کون بچائے گا مجھ سے۔۔۔

#

بسمہ کی دوست کی کل برتھ ڈے پارٹی تھی جسکا گفٹ لینے وہ اقراء کیساتھ آئ تھی۔
اقراء کو بھی اپنی چند چیزیں لینی تھی ۔اس لیہ وہ بسمہ کے اصرار پہ اسکے ساتھ شاپنگ مال چلی آئ ۔۔
کافی شاپنگ وہ دونوں کرچکی تھی ۔کے جبھی اچانک اقراء کو گھبراہٹ ہونے لگی اور اس نے بسمہ کوچلنے کو کہا۔۔
بسمہ کو گھر کےباہر ہی چھوڑ کے اپنے فلیٹ پہ چلی آئ ۔۔
اندر اکے وہ فریش ہوئ اور مرر کے سامنے کھڑے ہوکے اپنا منہ ہاتھ صاف کرنے لگی ۔جبھی مرر میں کسی کا عکس دیکھ کے اسکے پیروں کے نیچے سے زمین کھسک گئ ۔۔
جاری ہے۔۔۔