Maafi Season 1 By Mariyam Khan Readelle50209 Episode 10
Rate this Novel
Episode 10
معافی۔۔۔
مریم عمران ۔۔
قسط نمبر 10#
نومیر کی بات سن کے لائبہ کی انکھوں سے تراتر انسو بہنے لگے اور وہ دیوانہ وار نومیر کے گلے لگی اور اسے چومنے لگی اور روتے روتے کہنے لگی۔۔
نہی نہی نومیر ایس نہی ہوسکتا ابھی تو میں نے زندگی کو محسوس کیا ہے آپکے ساتھ ابھی آپ کی محبت کی پھوار میں بھیگنا شروع کیا ہے اگر آپ کو کچھ ہوا تو لائبہ بھی مرجائے گی آپکے ساتھ کے بغیر زندگی کو سوچنا ہی سوہان روح ہے۔۔
لائبہ کے اس انداز پہ نومیر تو ہکا بکا رہ گیا۔اس ز نے ایک چھوٹا سا مزاق کیا تھا نہی معلوم تھا کے لائبہ کا ایسا ریکشن سامنے آئے گا۔۔
نومیر نے کانپتے ہاتھوں سے اسے خود سے الگ کیا
اور لائبہ کو دیکھا تو بہت شرمندہ ہوا جہاں ایک الگ ہی خوف تھا ۔۔
نومیر نے ڈھرکتے دل کیساتھ لائبہ کے آنسو صاف کیہ اور کہا۔۔
لائبہ میری جان میں میں مزاق کررہا تھا ایسی چھیڑ رہا تھا تمہیں مجھے کچھ نہی ہوا ہے۔
نومیر کے کہنے کی دیر تھی کے لائبہ ایک جھٹکے سے اس سے الگ ہوئ اور ہونقوں کی طرح نومیر کو دیکھا اور ایک زناٹے دار تھپڑ اسکے منہ پہ مارا اور کالر پکڑ کے کہا۔
ایسا مزاق کیا اپنے ایسا گھٹیا مزاق کبھی۔معاف نہی کرونگی یہ بول کے تیزی سے نیچے چلی گئ۔۔
#
آج جنت کا ناشتہ اوپر تھا ۔۔خالدہ بیگم کب سے اسے اٹھا رہی تھی مگر بے سود ۔۔اکمل صاحب کے سامنے جنت نے انا بہت کم کردیا تھا ۔۔جب خالدہ بیگم نے جنت کو جھنجھوڑا ۔۔اور دھمکی دی یوسف کو بلانے کی تو فورا جھٹ سے اٹھی اور تیار ہوکے اوپر گئ۔
آج اسٹور پہ نومیر اور اکمل صاحب گئے تھے۔۔
رات والے واقعے کے بعد لائبہ کے تھپڑ نے بات اسے اچھی طرح سمجھا دی تھی کے ایک مزاق نے کسی کی روح تک کو جھنجھوڑ دیا لائبہ سے اسے معافی اتنی آسانی سے نہی ملنے والی جب رات کو ہزاروں کی تعداد میں ٹیکس اور کال کرنے بعد لائبہ نے اپنا موبائل نہ صرف اوف کیا بلکہ نومیر کا نمبر بھی بلیک۔لسٹ کردیا۔۔اور رہی سہی کسر اپنے کمرے کی ساری کھڑکیاں بند کرکے پوری کرکے کردی۔۔..
#
جنت نے لائٹ پرپل اور وائٹ کنٹراس کا سوٹ پہنا لمبے بالوں کوپونی میں قید کیا اور ناشتہ کرنے اوپر چلی اور جاتے ہی شبنم بیگم کے گلے لگ گئ اور کہا ۔
اسلام وعلیکم تائ۔۔
وعلیکم اسلام میرا بچہ اتنی دیر کب سے یوسف ناشتے پہ ویٹ کررہا ہے ۔۔
یہ بول کے شبنم بیگم دوبارہ اپنے کاموں میں لگی جب کے یوسف کے موجودگی کا سن کے جنت کے اوسان خطا ہوگئے وہ جو اتنا لیٹ اوپر یہ سوچ کے آئ تھی کے یوسف گھر پہ نہی ہونگے مگر اسکے سارے ارمانوں پہ پانی پھیر گیا ابھی وہ انہیں سوچوں میں تھی کے ہال میں یوسف کی آواز ابھری۔۔
امی لائبہ گئ کیا کالج؟؟
ہاں بیٹا تمہارے پاپا چھوڑتے ہوئے گئے یہ بول کے یوسف بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا ہال میں آیا تو جنت کو نروس سا ڈائینگ ٹیبل پہ بیٹھا دیکھ ایک حسین مسکراہٹ نے اسکے لبوں کو چھوا۔۔
جنت نروس سی بیٹھی اپنی انگلیاں آپس میں مڑور رہی تھی اور یوسف اسے نگاہوں کے زریعے اپنے دل میں اتار رہا تھا۔۔
اتنے میں شبنم بیگم ناشتہ ٹیبل پہ لگایا اور کہا
تم دونوں ناشتہ کرلینا میں زرا برابر میں موجود مسسز زاہد کے گھر جارہی ہو انکی طبیعت تھوڑی خراب ہے ۔۔
اوکے ماما آپ جائے جنت ہیں نہ مجھے کچھ چاہیے ہوگا جنت دے دے گی۔یوسف کی بات سن کے جنت نے نظر اٹھا کے یوسف کو دیکھا تو وہ ایسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔شبنم بیگم کے جاتے ہی جنت خاموشی سے ناشتہ کرنے لگی جبکہ یوسف ناشتہ کے ساتھ ساتھ اسے دیکھنے میں بھی مصروف تھا۔۔
جنت نے مکھن اور ٹوس ختم کیا اور جیسے ہی اٹھ کے جانے لگی۔یوسف نے ایک دم اسکا ہاتھ پکڑا اور کہا۔
تمہارے ہونٹوں پہ مکھن لگا ہے جنت ۔۔
یوسف نے اتنے سیریس انداز میں یہ بات کی کے جنت ٹیشو اٹھا کے اپنے ہونٹ صاف کرنے لگی۔جب یوسف نے اسے روکا اور کہا
ایک منٹ ایسے صاف نہی ہوگا۔۔
تو پھر جنت نے کنفیوز نظروں سے یوسف کو دیکھا اور پوچھا۔۔
یوسف نے آگے بڑھ کے جنت کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما اور اپنے لبوں سے جنت کے لبوں پہ لگا مکھن صاف کیا ۔جنت یوسف کی اس حرکت پہ ایک دم بوکھلا گئ۔۔
جب کے یوسف آنکھوں میں خمار لیہ اسے ہی دیکھنے میں مگن تھا ۔اور کچھ دیر بعد کہا۔
میں نے زندگی میں پہلی بار اتنا میٹھا مکھن چکھا ہے ۔۔
یہ بول کے یوسف نے جنت کو آنکھ ماری اور جنت نے ایک دم یوسف کو دھکا دے کے خود سے دور کیا اور کہا۔۔
اب بہت خراب ہے۔۔
یہ بول کے تیزی سے نیچے چلی گئ۔۔
#
بورڈ میٹنگ روم میں بیٹھے ہر شخص کو سانپ سونگھ گیا جب حمزہ نے غصہ میں ٹیبل پہ رکھا شو پیس سامنے دیوار میں نسب موجود 55 انچ کی آل ای ڈی پہ ڈے مارا اور ڈھارا۔۔
کون ہے غدرا ہم میں پچھلے 6 مہینے ہم یہ فیشن ویک ہارتے آئے ہیں ہما رے ماڈل کیٹ واک کرنے سے پہلے ہی درانی کے ماڈل وہ ڈریس پہن کے آتے ہیں جو ہم نے ڈیزائن کرے ہوتے ہیں ایسا اتفاق ایک بار ہوتا ہے دو بار ہوتا ہے کے درانی کے ملبوسات کا ڈیزائن ہم سے میچ ہو مگر ہر بار نہی ۔
سب ہی اسی سوچ میں کل سے گم تھے جب انہیں تیسری بار فیشن شو میں شکست ہوئی تھی ۔۔عمر بھی اسی سوچ میں گم تھا جبکہ اقراء جس نے ہمیشہ حمزہ کے سوئیٹ انوسینٹ روپ دیکھا تھا آج حمزہ کا یہ غصیلہ روپ دیکھ کے کافی ڈر گئ تھی۔
حمزہ نے سب پہ ایک نظر ڈالی اور روم سے باہر نکل گیا۔
اور عمر کا سوچ کا گہوارہ صرف ایک انسان پہ آکے روکا۔۔اور وہ۔کچھ سوچ کے طنزیہ مسکرایا
جب سےاقراء فلیٹ میں شفٹ ہوئ تھی ایک الگ سا سکون عمر نے اسکے چہرے پہ۔دیکھا بلکہ کئ جگہ اسنے اقراء کو مسکراتے ہوئے بھی دیکھا۔۔
دو دن سے اقراء کا ڈرائیور چھٹی پہ تھا اس لیہ۔عمر ہی اسے پک اور ڈراپ کرتا ۔
آج اقراء کافی خوش تھی آفس میں موجود اسکے دوستوں نے اسکی برتھ ڈے سلیبریٹ کی تھی عمر اور حمزہ نے بھی اسے وش کیا۔۔
آج اقراء کا موڈ دیکھ کے عمر نے بھی اپنی دل کی بات اسے کرنے کی سوچی۔۔
عمر کے اصرار پہ آج وہ عمر کے ساتھ دو دریا کے ریسٹورنٹ آئ تھی ۔۔
سمندر کی موجوں کو دیکھ کے اقراء کا ۔موڈ سے کافی اچھا ہوا ابھی وہ سمندر کو دیکھنے میں مگن تھی ۔جب عمر کی آواز پہ ایک دم وہ مڑی مگر عمر کے ہاتھ میں رنگ دیکھ کے اسکے چہرے کا رنگ بدلہ۔
عمر نے آہستہ سے اقراء سےکہا۔
پتہ نہی کب تم اس زندگی کی خواہش بن گئ کب اسس دل میں تم ڈھرکن کی طرح رہنے لگی۔۔
میں تم سے بہت محبت کرتا ہو اقراء آئ لو یو۔کیا تم میرے ساتھ قبول ہے زندگی بھر کے لیہ۔۔
یہ بول کے عمر مسکرایا مگر اقراء غصہ میں وہاں سے واک آؤٹ کرگئ۔۔
عمر نے گاڑی کے پاس جاکے اسے روکنے کیلیے اسکا بازو تھاما جیسے ایک جھٹکے میں اقراء نے الگ کروایا۔ اور کہا۔
مجھ پہ احسان جو کیا میری زندگی بچا کے اس کی قیمت لینا چاہتے ہیں۔۔؟؟.
نہی اقراء تم غلط سمجھ رہی ہو میں تم سے سچی محبت کرتا ہو ۔۔
مگر میں نہی کرتی آج کے بعد اگر اپنے دوبارہ اس ٹاپک پہ بات کی تو میں جاب چھوڑ دونگی اور آپکا عنایت کرا فلیٹ بھی۔۔
کیا تم کسی اور سے۔عمر کا سوال ابھی ادھورا ہی تھا جب اقراء نے اسے ٹوکا اور کہا۔
میرے پرسنل معملے میں بولنے کا اپکوکوئ حق نہی۔۔یہ بول کے اقراء نے ٹیکسی روکی اور گھر چلی گئ جبکہ عمر نے بہتی انکھوں سے ایک نظر رنگ کو دیکھا اور ایک نظر خود سے دور جاتی اقراء کو۔۔۔۔
رات میں جب عمر کھانے پہ نہی آیا تو زرین بیگم سے پوچھنے پہ حمزہ کو پتہ چلا کے اسکی طبیعت ٹھیک نہی وہ آرام کررہا ہے۔۔
حمزہ نے کھانا ختم کیا اور عمر کے کمرے میں گیا مگر وہ وہاں نہی تھا حمزہ نے کچھ سوچتے ہوئے چھت کا رخ کیا تو عمر اسے وہی گم سا کھڑا آسمان کو تک رہا تھا۔۔
حمزہ نے جاکے اس کے کندھے پہ۔ہاتھ رکھا تو عمر فورا چونکا اور پلٹ کے دیکھا حمزہ اسے ہی دیکھ رہا تھا جب حمزہ نے اس سے پوچھا کیا ہوا عمر تو رورہا ہے؟؟؟۔
حمزہ کے پوچھنے کی دیر تھی جب عمر تیزی سے حمزہ کے گلے لگا اور کہنے لگا ۔۔
بگ بی کیا میں اتنا برا ہو کے وہ میری محبت کو میری ہمدردی سمجھ رہی ہے کیا اسے میری آنکھوں میں اپنا عکس نہی دیکھتا۔؟؟
عمر کے بولنے پہ حمزہ سمجھ گیا کے معملہ کیا ہے اس نے عمر کو خود سے دور کیا اور کہا۔
میر بھائ لاکھوں میں ایک ہے انشاءاللہ اقراء نہی مانی تو کیا ہوا میری بھائ پہ لالکھوں لڑکیاں مرتی ہیں ۔۔
مگر بھائ وہ لاکھوں بھی اقراء کی جگہ نہی لے پائینگی کبھی بھی۔۔۔یہ بول کے عمر تیزی سے نیچے اتر گیا مگر حمزہ نے دل سے دعا کی تھی کےاسکے بھائ۔کو اسکی محبت ضرور ملے۔۔وہ عمر کی انکھوں میں بہت پہلے ہی اقراء کا عکس دیکھ چکا تھا ۔مگر عمر اس محبت کے لیہ روئے گا ایسا اس نے کبھی نہی سوچا تھا
۔########
جنت کو اب یوسف کی عادت ہونے لگی تھی۔۔
یوسف کا اسکا حد سے زیادہ خیال رکھنا۔۔کالج جاتے ہوئے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھنا ہر تھوڑی دیر بعد اسے میسیج کرنا ۔اب جنت بھی یوسف سے کتراتی نہی تھی اور اسکی محبت پہ یقین جنت کو جب آیا جب ایک میک اپ کلاسس لینے کیلیے جنت نے خالدہ بیگم سے اجازت لینا چاہی جو انہوں فورا رد کردی مگر یوسف نے نہ صرف اسے کلاس دلاوائ بلکہ اسکے کورس کا ہر خرچہ خود اٹھایا ۔جنت کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو وہ دیھان رکھتا تو بدلے میں جنت کے دل میں بھی یوسف کی محبت کی کونپلیں پنپنے لگی تھی ۔وہ بھی اب یوسف کے بغیر رہنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ اب جنت یوسف کی چھوٹی چھوٹی گستاخیوں پہ غصہ نہی بلکہ شرم سے سرخ ہوجاتی تھی۔۔
جنت نے جس میک اپ کلاسس میں حصہ لیا تھا وہاں آج اس کے امتحان میں اسکی تیار کردہ ماڈل کو فرسٹ پرائز ملا تھا۔۔یوسف کیلیے اج خاص کرکے جنت نے اپنے ہاتھوں سے ڈنر کا اہتمام کی تھا اسکی جیت کا سہرا اسی کے سر جاتا تھا۔۔
اسٹور میں اجمل صاحب کافی افسردہ بیٹھے جب انکے نمبر پہ کال آئ جیسے سنتے سنتے اجمل صاحب کے چہرے پہ پریشانی بڑھنے لگی۔اور انہوں نے آگے سے کہا۔
کیا یہ صحیح ہوگا ایسا نہ ہو معملہ اوربگڑ جائے۔۔
مگر آگے سے کیا بات کہی گئ کے اجمل صاحب کال کٹ کی اور کچھ سوچتے ہوئے گھر کو چلے گئے ۔۔
گھر پہنچ کے انہوں نے دیکھا سب ہی خوش تھے جبکہ جنت تو یوسف کے ساتھ ہنس ہنس کے باتیں کررہی تھی اسکی آنکھوں کی چمک آج کچھ اور ہی بتا رہی تھی۔
شبنم بیگم کی فیملی کسی شادی میں گئے تھے اور لائبہ اپنی فرینڈ کے ہاں اس لیہ صرف یوسف ہی تھا ڈنر پہ۔
جب اجمل صاحب نے کچھ سوچتے ہوئے یوسف سے کہا۔۔
یوسف؟؟
جی چاچا جان۔۔
میں چاہتا ہویوسف تم ابھی کے ابھی میری بیٹی کو طلاق دو ۔۔
جاری ہے۔۔
See translation
