Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khoni Jhula (Last Episode) Part 2

Khoni Jhula by Muntaha Chohan

فجر۔۔۔!! بیٹا۔۔۔۔!! کیوں۔۔۔؟؟ کیوں ۔۔۔ ایسے کیا۔۔۔؟؟؟

شاہ بابا کی آواز سماعت سے ٹکراٸی تو جھٹ سے آنکھیں وا ہوٸیں۔

آ۔۔۔۔۔۔پپپپپپہ!! آگٸے۔۔۔۔۔ شاہ۔۔۔ بابا۔۔۔۔؟؟

فجر کی خوشی کی کوٸی انتہا نہ رہی تھی۔

بہت۔۔۔۔ گلے شکوے پالے ہوٸے ہیں۔۔ دل میں۔۔۔۔؟؟

وہ ناراض تھے۔

شاہ بابا۔۔۔۔۔۔!! فجر منمناٸی۔

سب حال سے واقف ہیں۔ہم۔۔۔۔! لیکن افسوس۔۔۔ آپ کوخود اپنا نہیں۔ پتہ۔۔۔۔۔!

انہوں نے رخ پھیر لیا۔

نہیں۔۔۔ بابا۔۔۔!! آپ۔۔۔۔ ناراض نہ۔۔ ہوں۔۔۔ پلیز۔۔۔!!

جانتی ہو۔۔۔۔۔!! وہ شیطان آپ پے کیوں حاوی ہوٸی۔۔۔۔؟؟

فجر نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

کیونکہ آپ۔۔۔ کے اندر صبر و شکر کی کمی آگٸی ہے۔۔۔۔!!

آپ کے۔۔۔ ماں باپ چلے گٸے۔۔۔

آپ کی بہن چلی گٸ۔

میں۔۔۔ بھی۔۔۔ نہیں۔۔۔۔!! ان کا سر جھک گیا۔

لیکن۔۔۔ آپ نے گلے شکوے کرنا شروع کر دیے۔۔۔۔۔!!

اللہ نے آپ سے کچھ لیا۔۔۔ تو اس کے بدلے آپ کو اس سے بہتر عطا بھی کیا۔۔۔

بالاج اور ثمرہ کے روپ میں آپ کو دوست بھاٸی اور ہمدرد ملے۔

ارمان کی صورت میں آپ کو زندگی بھر ساتھ نبھانے والے جیون ساتھی ملا۔

لیکن۔۔۔ آپ نے اللہ کی دی ہوٸی ۔۔۔ ان نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا۔۔۔۔۔!

آج شاہ بابا اس سے بہت ناراض تھے۔

آپ۔۔۔۔ نے کہا تھا۔۔۔۔ روحانیت میں ۔۔۔ آپ مجھ سے ملیں گے۔۔۔!! آپ۔۔۔ آج۔۔۔ آۓ۔۔۔!!

فجر نےپھر سے گلہ کر ڈالا۔

میرا آنا۔۔۔۔ پتھر پے لکیر نہیں۔۔۔۔ !! جو چلے جاتے ہیں۔۔ وہ لوٹ کے نہیں آتے۔۔۔ جب تک کہ اللہ نہ چاہے۔

شاہ بابا ناراضگی سے بولے۔

آپ۔۔۔ میری مدد کر سکتے ہیں ناں۔۔۔۔!!

فجر نے ان کے پاس جانا چاہا۔ تو وہ دور ہوگٸے۔

تمہاری مدد کے لیے اللہ نے اور کسی کو چنا ہے۔۔۔!! اگر غور کرو تو۔۔ سب سمجھ بھی آۓ گا۔ اور براٸی پے اچھاٸی کی جیت بھی ہوگی۔

کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ آپ کھو چکی ہو۔۔۔!! لیکن ۔۔۔ شاید پانا نہیں۔۔۔ چاہتی۔۔۔۔!!

شاہ بابا اسے بہت کچھ سمجھا گٸے تھے.

جتنا ہو سکے اللہ کا شکر ادا کرتے رہو۔۔۔۔

اور صبر کا دامن کبھی مت چھوڑنا۔

اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔۔

شاہ بابا تیز روشنی میں کہیں چھپ سے گٸے۔

فجر زمین پے بیٹھتی چلی گٸ۔۔

یہ۔۔۔ مجھ سے کیا ہوگیا۔۔۔۔؟؟؟

میں۔۔۔ نے۔۔۔ دل۔میں۔۔۔ !!

مجھے۔۔۔ معاف کر دے میرے مالک۔۔۔۔!!

میں تیرے دیۓ پےراضی نہ ہوٸی۔۔۔۔

گلے شکوے دل میں لیے بیٹھی رہی۔۔۔

مجھے۔۔۔ معاف کردے میرے مالک۔۔۔

میں بھول گٸ۔۔۔ کہ جو دنیا میں آیا ہے۔۔ اسے تیری طرف لوٹ کے بھی جانا ہے۔۔۔!!

پھر کیوں کیا شکوہ۔۔۔۔میں نے۔۔۔۔۔؟؟

اے میرے مالک۔۔۔۔!! تُو نے۔۔۔ مجھے چنا۔۔۔۔ اس نیک کام کے لیے۔۔۔۔ تو میری مدد بھی کر۔۔۔۔!!

بے شک تُو ہر چیز پے قادر ہے۔۔۔۔

تُو ہی تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔۔۔۔

مالک ہے۔۔۔ روزِجزا کا۔۔۔۔!!

وہ بے ہوشی کے عالم میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کر رہی تھی۔

اور فلزا تڑپنے لگی۔

چپ کرجا۔۔۔۔۔۔چپ کر جا۔۔۔۔۔!!

نیم بے ہوشی میں فجر کو فلزا کے رو رو کے چلانے کی آوازیں آٸیں۔

ارمان نے پلٹ کے فلزا کو دیکھا۔

وہ اپنے کانوں پے ہاتھ رکھے آواز کو کانوں سے دور کر رہی تھی۔

ایک دم سے فجر کی آنکھیں وا ہوٸیں۔

اور اسکی نظر فلزا پے پڑی۔

فجر ورد کرتی اٹھ کھڑی ہوٸی۔

وہ زخمی تھی۔ لیکن اسے درد کا کوٸی احساس نہ تھا۔

بس دل و دماغ میں ایک ہی بات سماٸی تھی۔

براٸی کا خاتمہ۔۔۔۔۔!!

وہ جیسے جیسے آگے بڑھتی جارہی تھی۔فلزا کے رونے اور تڑپنے کی آوازیں اونچی ہوتی جارہی تھیں۔

چپ کر جا۔۔۔۔۔ لڑکی۔۔۔۔۔!! ورنہ جلا کے بھسم کردوں گی۔۔۔۔۔!!

فلزا بہت قہر برساتے انداز میں بولی۔

فجر ارمان کے پاس پہنچ گٸ۔

ارمان اسے صحیح دلامت دیکھ ربّ ظا شکر ادا کرنے لگا۔

اور اللہ کواسکی یہی ادا تو پسند آٸی۔

ہر حال۔میں خوش رہنے والے ۔۔۔

اللہ کا شکر ادا کرنے والے۔۔۔۔

نا کہ۔۔۔ گلے شکوے کرنے والے۔۔۔

ارمان نے پلٹ کر جنات کی ملکہ فلزا کی طرف دیکھا۔

جو اب زمین پے گری تڑپ رہی تھی۔

فجر۔۔۔۔!! تم ۔۔ٹھیک ہو۔۔۔؟؟

أرمان نے اسے یکدم سے گرتے دیکھا تو تھام لیا۔

فجر نے سر اثبات میں ہلایا۔ وہ ابھی بھی ورد کر رہی تھی۔ وہ بول نہیں سکتی تھی۔ ورد مکمل ہونے سے پہلے۔ اور۔۔ وہ ورد اسکے لیے سوہانِ روح بنا ہواتھا۔

وہ ورد بہت سخت تھا۔

اسے محسوس ہورہا تھا۔جیسے اسکی جان نکل جاٸے گی۔

وہ اپنے پاٶں پے کھڑی نہیں ہو پارہی تھی۔

ارمان نے اسے اپنے حصار میں لیا۔ اور اسکا سر اپنے سینے سے لگایا۔

فجر نے آنکھیں نیم وا کر کے اس جنات کی ملکہ کو دیکھا۔

جس کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی۔ اور جسم کے باقی حصےمیں سے بھی کالا پانی نکلنے لگا تھا۔

لیکن وہ ابھی بھی زندہ تھی۔

👿
👿
👿
👿
👿
👿
👿
👿
👿
👿
👿
👿

ایک دم سے درختوں کے لڑکھڑا کے گرنے کی آوازیں آٸیں۔

بالاج نے سر اوپر اٹھا کے دیکھا۔

گہرا کالا سایہ چھوٹ رہا تھا۔

ثمرہ نے بھی یہ منظر دیکھا۔

وہ۔۔۔وہ۔۔۔ جیت رہے ہیں۔۔۔۔۔ بااااالللااجججج!!

ثمرہ مسکراتے بمشکل بول پاٸی۔

ہممممممم!! اللہ کی کرم نوازی ہے۔۔۔۔!!

بالاج کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

اسے نجانے کیوں لگ رہا تھا۔۔ کہ کچھ برا ہونے والا ہے۔۔۔!!

کیا وہ اپنے بچے یا ثمرہ۔۔۔ کے بنا رہ پاۓ گا۔۔۔؟؟؟

یہ سوچ آتے ہی اسکی روح کانپ جاتی۔۔۔۔!!

وہ اوپر اللہ ہے۔۔ ناں۔۔۔۔!! وہ سب بہتر کرے گا۔۔۔!!

اسکی جو بھی رضا ہوگی۔۔۔

وہی میری رضا ہوگی۔۔۔

جو تُو چاہے اللہ۔۔۔۔۔!!

تیرا یہ بندہ راضی۔۔۔۔۔

بالاج نے آسمان کی جانب دیکھتے سچے دل سے اپنے رب کو پکارا۔

اور وہ کون ومکاں کا مالک۔۔۔ اپنے فرمانبردار بندے کی دعا سن بھی رہا تھا۔۔۔

اور اسکی رضا پے اسے بہت کچھ نوازنے والا بھی تھا۔

یا۔۔ شاید ۔۔۔ ایک اور آزماٸش میں ڈالنے والا تھا۔۔۔۔!!

یہ تو صرف اوپر والا جانتا تھا۔۔۔

جو لے کبھی آزماتا ہے اور دے کے بھی۔۔۔۔

بس سچی جیت اسی کی ہےجو ہر حال میں راضی ہو۔۔۔۔!!

بااااللاج۔۔۔۔!! مجججھھھے۔۔ درد۔۔۔ ہوووو رہا۔۔۔۔!!

ثمرہ بمشکل بول پاٸی۔

بالاج نے لب بھینچے۔

مجھے سانس ۔۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔ آرہی۔۔۔۔!!

بالاج کے سینے پے سر رکھے وہ منمناٸی۔

بالاج قرآنی آیات کاورد کیے جا رہا تھا۔

کہ یکدم سامنے ہی اطالوس ظاہر ہوا۔

تم۔۔۔۔؟؟؟ بالاج کو حیرت ہوٸی۔

قید سے رہاٸی ملی ہے۔!لیکن۔۔۔میں پھر بھی یہاں سب سے پہلے آیا ہوں۔۔۔۔ وہ معصوم۔۔۔ جو ابھی اس دنیا میں بھی نہیں آیا۔۔۔۔ اسکی جان خطرے میں ہے۔۔۔

اطالوس نے دکھ سے کہا۔

تو بالاج نے تڑپ کے ثمرہ کی جانب دیکھا۔

آپ۔۔۔ بچانا چاہتے ہیں۔۔۔؟؟ بیوی اور بچے کو۔۔۔۔؟؟

اطالوس نے فوراً سے کہا۔

بالاج کو کچھ سمجھ نہ آیا۔

فیصلہ ۔۔ جلدی کریں۔۔۔۔!! ورنہ۔۔۔۔ کھو دیں گے بچہ۔۔۔۔!!

میں کیسے یقین کر لوں۔۔۔۔؟؟ تم۔۔۔ اطالوس ہو بھی یا نہیں۔۔۔۔۔؟؟

آپ کو۔۔۔۔ اپنے اللہ پے تو یقین ہے ناں۔۔۔؟؟

اطالوس نے سوچتے ہوٸے کہا۔

سب سے زیادہ۔۔۔۔!!

بالاج نے دل سے کہا۔

تو اللہ پے بھروسہ کر کے۔ میری بات مان لیں۔۔۔

اور۔۔ یہ۔۔ جڑی بوٹی ہے۔۔۔ اسے لے جاٸیں۔ اور درد والی جگہ پے مل دیں۔

اطالوس نے ایک مٹھی میں کچھ رکھا تھا۔

وہ داٸرے کے اندر نہیں آسکتا تھا۔ اسلیے بالاج کو باہر بلا رہا تھا۔

بالاج سوچ میں پڑ گیا۔ کہوہ جاٸے یا نہ۔۔۔؟؟؟

لیکن ثمرہ کی بگڑتی حالت دیکھ وہ جانے پے مجبور ہوگیا اور اس نے حصار سے باہر جانے کا فیصلہ کر لیا۔

اللہ کا نام لے کے وہ آگے بڑھا۔ اور داٸرے کے پاس جا کے رک کے اطالوس کو دیکھا۔

جس کی آنکھیں نم تھیں۔

اطالوس نے ہاتھ بڑھا کے وہ جڑی بوٹی بالاج کے ہاتھ میں تھما دی۔۔

بالاج نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا چیز ہے۔۔۔۔؟

لیکن اس نے وہ جڑی بوٹی نما چیز لے جا کے ثمرہ کے پیٹ پے جہاں اسے درد تھا۔ وہاں لگا دی۔

ایک لمحے کو ثمرہ نے بہت گہرا سانس لیا۔

اس جڑی بوٹی کے اندر سے کوٸی روشنی پھوٹی تھی۔ جو ثمرہ کے پیٹ کے اندر داخل ہوگٸ۔

ثمرہ کو درد مزید بڑھ گیا ۔

بالاج نے اسکا سر اپنی گود میں رکھا۔ اور اسے سینے سے لگایا۔

ثمر۔۔۔۔۔!!تم۔۔۔ ٹھیک ہو۔۔۔۔؟؟

تھوڑا سا درد ہوگا۔۔۔ !!

لیکن ٹھیک ہوجاٸے گی۔۔۔

جواب اطالوس کی طرف سے آیا۔

آنکھیں موندے ثمرہ گہرے سانس لے رہی تھی۔

داٸرے کے گرد موم بتیاں پھر سے جل اٹھیں تھیں۔

سب کچھ صحیح ہوتا دکھاٸی دے رہا تھا۔ لیکن۔۔ پھر بھی بالاج کا ل کچھ غلط محسوس کر رہا تھا۔

وہ جڑی بوٹی غاٸب ہوچکی تھی۔

کہیں۔۔۔ وہ کوٸی۔۔۔ جادوٸی۔۔۔ چیز۔۔۔ تو نہیں تھی۔۔۔؟؟

بالاج کو فکر ستاٸی۔

لیکن اب ۔۔۔ کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔!!

ثمرہنے چہرہ اوپر اٹھا کے بالاج کو دیکھا۔

اور دھیرے سے مسکاٸی۔

بالاج کی جان میں جان آٸی کہ وہ ٹھیک ہے۔۔۔۔!!

سکون سا آگیا ہے۔۔۔۔۔!! ثمرہ نے دھیرے سے کہا۔

تو بالاج نے بھی سکون سے آنکھیں موند لیں۔

جبکہ۔۔ وہ یہ نہیں جانتا تھا۔۔۔ کہ اللہ نے اسکے لیے ۔ایک اور آزماٸش تیار کر دی ہے۔۔۔ اور یہ آزماٸش پہلے والی تمام آزماٸش سے سخت تھی۔

اور اللہ اپنے ہی بندوں کو تو آزماٸش میں ڈالتا ہے۔۔۔ اور بے شک۔۔۔ اللہ کے ہاں۔۔ آزماٸش میں پورا اترنے والوں کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔۔۔

😈
😈
😈
😈
😈
😈
😈
😈
😈
😈
😈
😈
😈

ارمان اور فجر دونوں ہی ایک ساتھ اندر داخل ہوٸے۔

سامنے ایک جگہ وہ لڑکی زمین پے گری ہوٸی نظر آٸی۔

فجر نے آگے بڑھ کے اسے اٹھایا۔ اور اسکی نبض چیک کی۔

یہ۔۔۔۔یہ۔۔زندہ ہے۔۔۔۔!! فجر نے خوشی سے کہا۔

ارمان نے بھی کر ادا کیا۔ اور اسے اپنے بازوٶں پے اٹھایا۔۔

اور دونوں باہر نکلے۔

اب۔۔۔ کسطرف جانا ہے۔۔۔؟؟

ارمان نے فجر سے سوال کیا

میں ایک حصار کھینچتی ہوں۔۔۔ اس حصار میں آپ سلمیٰ کو لٹا دینا۔

یہ محفوظ ہوجاٸے گی۔

لیکن۔۔۔ فجر۔۔۔!! ہمیں جھولا ڈھونڈنا ہے۔۔۔ تا کہ ہم ۔۔۔یہاں سے باہر نکل سکیں۔۔۔

ارمان نے الجھتے ہوٸے کہا۔

ارمان۔۔۔۔!! وہ جھولا تب تک ظاہر نہیں ہوگا۔۔۔ جبتک۔۔ یہ۔۔۔ جانت کی ملکہ اسے ظاہر نہ کردے۔۔۔!!

فجر نے ایک اور دھماکہ کیا۔

اور ساتھ ہی ایک حصار کھینچا۔

ارمان نے اس حصار مں سلمیٰ کو لیٹا دیا۔ اور خود پیچھے ہوگیا۔

اب یہ محفوظ ہے۔

اور ہم۔۔۔۔؟؟؟ ارمان نے اسکی طرف دیکھا۔

ہم نے تو اب مقابلہ کرنا ہے۔۔۔!!

اس جنات کی ملکہ سے۔۔۔۔!!

اسکا خاتمہہی کر کے اب یہاں سے نکلیں گے۔۔۔۔!!

فجر نے مسکراتے پرعزم انداز میں کہا۔

داد دیتا ہوں۔۔۔ تمہارے حوصلےکی۔۔۔!!

ارمان نے اسکے ماتھےسے خون کو ہاتھ کی پور سے صاف کرتے محبت سے کہا۔

فجر دھیمے سے مسکرا دی۔

وہ فلزا۔۔۔۔!! وہ و ہاں۔۔ تھی۔۔۔۔!! آٸیں۔۔۔ میرے ساتھ۔۔۔!!

فجر ارمان کو لیے اسکی جانب بڑھی۔

وہوہیں تڑپ رہی تھی ابھی بھی۔لیکن وہ زندہ تھی۔

اور ہنس رہی تھی۔

اس نے ایک چھوٹا سا داٸرہ کھینچا اور ہنسنےلگی۔

اس کے جسم سے سانپ اور بچھو لٹک رہے تھے۔

لیکن وہ ہنس رہی تھی۔

اے ابنِ آدم۔۔۔۔۔!!تم۔۔۔ مجھ سے جیت نہیں سکتے۔۔۔!!

میں تو مروں گی۔۔۔۔ لیکن۔۔۔ تم دونں ک بھی ساتھ۔۔ لیے کے مروں گی۔۔۔۔!!

اس نے زور زور سے قہقہے لگاٸے۔

فجر اور ارمان نے ایک دوسرے کو دیکھا۔

لیکن ابھی وہ کچھ سمجھتے کہ یکدم وہاں زلزلہ سا محسوس ہوا۔۔

وہ دونں ہی فوراً سنبھلے۔

لیکن زمین ہر طرف سے ٹکڑوں میں بٹنے لگی۔

فلزا کے قہقہے بلند ہونے لگے۔

ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا۔۔۔

تم نے جو حصار بنایا ہے۔۔۔ اس میں۔۔۔؟؟؟ارمان نے بمشکل خوف کو سنبھالتے فجر سے کہا۔

نہیں۔۔۔۔!! وہ حصار کھینچا جا چکا ہے۔۔۔۔!! اور۔۔۔ حصار کے اوپر حصار نہیں کھینچ سکتے۔۔۔

ورنہ اسکی جان بھی خطرے میں پڑ جاٸے گی۔

دونوں نے وہاں سے نکنا ہی فی الحال بہتر سمجھا۔

اور دونوں اس جگہ سے دور بھاگے۔

دونوں جیسے جیسے بھاگے جارہے تھے۔۔۔ ان کے پیچھے پیچھے زمین کہیں ٹکڑوں میں بٹتی جا رہی تھی۔

فجر نےدیکھا کہ باقی طرف سے زمین اپنی جگہ صحیح سلامت ہے۔

یہ فلزا کی طرف سے ان پر حملہ تھا۔

فجر نے ارمان کی طرف دیکھا۔وہ بھی سمجھ گیا۔

ارمان نے فجر کو آگے کیا اور خود وہیں کھڑا ہوا۔

ہاتھ ہوا میں بلند کیا۔ اور ایک حصار کھینچا۔

زمین وہیں رک گٸ۔

اِس پار یہ تھے۔ تو دوسرے پار وہ ٹوٹی پھوٹی زمین۔

کچھ ہی پل میں جیسے سب تھم گیا۔

ایک غیر معمولی سی خاموشی چھا گٸ۔

دور کہیں گیدڑ کے بولم کی آواز آٸی۔

یہ جنات کی ملکہ کی طرف سے لڑاٸی کا اعلان ہے۔۔۔!!

فجر نے ارمان کے کان میں سرگوشی کی۔

ارمان نے گہرا سانس خارج کیا۔

یعنی وہ ہار نہیں مان رہی تھی۔

اب کچھ ایسا کرنا پڑے گا۔ کہ۔۔ وہ۔۔ دوبارہ لڑنے کے لیے تیار نہ ہوسکے۔

روحانی طاقت سے زیادہ عمل اسکے لیے تکلیف دہ ہے۔۔۔!!

ارمان نے چاروں کونوں میں دیکھا۔

وہ کہیں سے بھی حملہ کر سکتی تھی۔

ارمان نے آیت الکرسی کا ورد شروع کیا۔

یہی وہ طاقت تھی۔۔ جو اسے ملی تھی۔

اسکے لب ہلتے جارہے تھے۔۔

اور زمین واپس جڑتی جارہی تھی۔

وہ سب جو ابھی ہوا۔۔۔ وہ۔۔ آنکھوں کا دھوکا تھا۔

وو سامنے دوسرے پار زمین پے ایک بار پھر سے فلزا آگٸ۔ وہ ہوا کے دوش پے کھڑی تھی۔

اس کے پاٶں کے نیچے اب کی بار جادوٸی قالین تھا۔

ارمان ۔۔۔۔ وہ جادوٸی ۔۔۔قالین ۔۔۔!! فجر نے خوش ہوتے ارمان کے کان میں کہا۔

کیونکہ ۔۔۔ وہ اسی پل کا تو انتظار کر رہے تھے۔

وہی جادٶٸی قالین انہیں جھولے تک پہنچانے والا تھا۔

بہت غلط کیا۔۔۔!! میری دنیا میں آکے ہلچل مچا دی۔۔۔!!

اب تم دونں کی سزا کا وقت ہے۔۔۔!! تیار ہوجاٶ۔۔۔۔!!

اسکی حالت تو ایسی نہ تھی کہ وہ دھمکی دے سکے۔

چہرہ اسکا بگڑ گیا تھا۔ اور طاقت بھی اسکی کم ہو چکی تھی۔

پھر بھی وہ ان سے لڑنے کو تیار تھی۔

اس نے اپنی انگوٹھیوں پے کچھ پڑھا اور لال رنگ کا بگولہ بنا کے ارمان کی جانب اچھالا۔

ارمان نے اپنے داٸیں ہاتھ کی کلاٸی جس پے اللہ کنندہ تھا۔

اس ہاتھ کو بے اختیار ی ہی آگے کیا۔ وہ بگولہ اس کی کلاٸیں سے ٹکرا کے واپس اسی کی جانب پلٹ گیا۔

اور فلزا کو۔ہی چوٹ پہنچا گیا۔

ارمان نے اپنی کلاٸی پے حیرت سے دیکھا۔

فجر نے بھی خوش ہوتے اسکی کلاٸی پے اللہ کا نام دیکھا۔

اللہ ہماری مدد کر رہا ہے۔۔۔!!

فجر نے امان سے کہا تو اس نے بھی یقین سے سر اثبات میں ہلایا۔

اور پھر پے در پے اس فلزا نے وار کیے۔ لیکن سارے اسی پے پلٹ کے اسے چوٹ پہنچاتے رہے۔

اور ایک پل کو وہ تھک گٸ۔

اسے یقین نہ آرہا تھا۔ کہ وہ یوں ہار جاٸے گی۔

اے براٸی کی ملکہ۔۔۔۔!! ابھی بھی وقت ہے۔۔۔!

ختم کر یہ سب۔۔۔!!

اور واپس لوٹ جاٶ۔۔۔ اپنی دنیا میں۔۔۔۔!!

ارمان نے اسے للکار کر کہا۔

فلزا نے حیرت سے اسے دیکھا۔

اور طنزیہ ہنسی ہنسی۔

ہاہاہاہا۔۔۔ تم۔۔۔ مجھے۔۔۔کہہ۔۔۔رہے ۔ہو۔۔۔؟؟ جس نے اتنے انسانو ںکی جانیں لیں۔ ۔۔

یہاں تک۔۔ کہ۔۔۔ تمدونں کی بہنوں کوبھی۔۔۔ میں نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔۔۔۔!!

وہ ہنستی جارہی تھی۔

بہن کے نام پے ان دونوں نے لب بھینچے۔

ہاں۔۔۔!! جانتا ہوں۔۔۔۔!! لیکن تم۔۔ نے اپنی محبت نہ ملنے کا بدلہ لیا سب سے۔۔۔۔!!

تمہاری فطرت ہے۔۔۔ بدلہ لینا۔۔۔۔ کیونکہ۔۔ تم انسان نہیں۔۔۔!!

میری فطرت ہے معاف کرنا۔۔۔

کیونکہ میں انسان ہوں۔۔۔ مٹی سے بنایا گیا ہوں۔۔۔

اور اللہ پاک نے نرم دل عطا کیا ہے۔۔۔۔!!

یہی فرق ہے۔۔۔ ایک انسان اور شیطان میں۔۔۔۔!!

ارمان نے اسے آٸینہ دکھایا۔ تو وہ زور زور سے دھاڑیں مارنے لگی۔

اے ابنِ آدم۔۔۔۔۔!! تم۔۔۔ شاید جنگ میں مجھے نہ ہرا پاتے۔۔۔۔ !!

لیکن تمہاری۔۔۔ نرم طبیعت اور نرم گفتاری نے۔۔ مجھے ہرا دیا۔۔

مجھے مٹا دیا۔۔۔۔

مٹا دیا۔۔۔۔۔

مٹا دیا۔۔۔۔۔

کہتے ساتھ وہ دھویں بدلتی چلی گٸ۔ اور اسکاقالین ہوا میں گول گول چکر لگاتا ایک جھولے مثس بدل گیا۔

فجر نے ارمان کی طرف دیکھا۔

ارمان نے آیت الکریکا جاری رکھا۔ اور اس جھولے پے پھونک دیا۔

ارمان وہ۔۔۔ شیطان ہے۔۔۔ اسکی باتوں میں نہ آنا۔۔۔ وہ۔۔۔!!

شییییییی۔۔۔!!

ارمان نے اسے کچھ بھی کہنے سے منع کیا۔

کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے۔۔!!

وہ انسان تھا جن کو معاف کرسکتا تھا۔۔۔

لیکن اس پے اعتبار نہیں کر سکتا تھا۔۔

فجر آگے بڑھی اور اس نے حصار ختم کیا۔

سلمیٰ جو بے ہوش پڑی تھی۔

اسے ارمان نے اٹھا کے جھولے پے بٹھایا۔

اور خود بھی فجر کے ساتھ جھولے پے بیٹھا۔

جبکہ آیت الکرسی کا ورد جاری رکھا۔۔

جھولے پے بیٹھتے ہی جھولا اپنی جگہ سے ہلنے لگا۔

وہ بہت تیز جھول رہا تھا۔ارمان نے فجر کو سلمیٰ کا ھیان رکھنے کا کہا۔ اور خود جھولے کو اپنے قابو میں کرنے کے لیے جھولے پے کھڑا ہوا۔

لیکن جھولے نے اورتیز جھولنا شروع کردیا۔

فلزا کےہنسنے کی آوازیں آنے لگیں۔

وہانکو جھولےپے بٹھا کے مارنے والی تھی۔لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی۔

کہ اچھاٸی کے ساتھ اللہ ہے۔۔۔ اور جب تکاللہ نہ چاہے ایک پتہ بھی نہیں ہل سکتا۔

ارمان نے اپنا وردمکمل کیا۔

اور جھولے کے پھولوں میں سے ایک کو چھوا۔

اس میں آگ لگ گٸ۔

دیکھتےہی دیکھتے جھولےکے تمام پھولوں میں آگ لگتی چلی گٸ۔

فلزا کی رونے چلانے کی آوازیں بلند ہوتی چلی گٸیں۔

اور وہ پورا جھولا آگ کی لپیٹ میں آگیا۔

فجر حصار کھینچو۔

ارمان نے فوراً سے کہا۔ تو فجر نے ہوا میں ہاتھ بلند کیا۔

ابھی وہ حصار کھینچتی کہ جھولے نے انہیں باہر کی طرف پٹخا۔ وہ لڑکھڑاتے ہوٸے دور جا گرے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے جھولا جلکر خاک ہوگیا۔

👿
👿
👿
👿
👿
👿
👿
👿
👿
👿
👿
👿

بالج ثمرہ کو اپنے ساتھ لگاٸے کھڑا ہوا تھا۔کہ اسکی انگوٹھی میں سے روشنی پھوٹی۔

جس کا مطلب تھا۔ ارمان اور فجر واپس لوٹ رہے تھے۔

بالاج نے فوراً بیگ سے ایک سفوف نکالا۔

اور اس کو ہوا میں چھوڑ دیا۔ وہ سبز رنگ کا سفوف تھا۔

اس کے چاروں طرف وہ سفوف بکھر گیا تھا۔

کہ ارد گرد دیکھنا محال ہوگیا تھا۔ ان دونں نے آنکھیں موند لیں۔

تبھی آگ کی تپش محسوس کرتے ان دونوں نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔

سامنے ہی وہ جھولا جل رہا تھا۔

جبکہ فجر اور ارمان انہیں نظر نہ آٸے۔

اللہ اللہ۔۔!! وہ دونں کہاں ہیں۔۔۔؟؟؟

ثمرہ کو انکی فکر لاحق ہوٸی۔

بالاج نے اردگرد نظر دوڑاٸی تو اسے فجر ایک جگہ گری ہوی نظر آٸی۔

فوراً اس طرف لپکا۔

اور اسے اٹھایا۔

فجر۔۔۔!! آنکھیں کھولو۔۔۔۔!! تم ٹھیک ہو۔۔۔؟؟

ثمرہ بھی اس تک پہنچ گٸ۔

فجر نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔

کچھ پل تو اسے سمجھ نہیں آیا وہ کہاں ہے۔۔۔!!

لیکن دھندلا دھندلا ثمرہ کا چہرہ اسے نظر آگیا۔

حواس بحال ہوٸے تو منظر واضح ہوا۔

ثمر۔۔۔۔۔!! فوراًٗ سے اسے پکارا۔ تو ثمرہ نے اسے گلے سے لگایا۔

ہم جیت گٸے۔۔۔ !!

فجر نے روندھے لہجے میں کہا۔

جھولا جلنے کا منظر ابھی بھی دکھاٸی دے رہا تھا۔

ہاں۔۔۔!! جیت گٸے ہم۔۔۔۔!!

ثمرہ بھی خوش ہوتے بولی

ار۔۔مان۔۔۔!!۔ وہ ۔۔کہاں۔۔ہے۔۔۔؟؟؟

بالاج کو ارمان کہیں بھی نظر نہ آیا۔

ارمان۔۔۔۔!! فجر کے بھی چودہ طبق روشن ہوٸے۔ فوراً سے اپنی جگہ سے اٹھی۔

اور بالاج اور ثمرہ کے ساتھ ملکے ارمان کو ڈھونڈنے لگی۔

کہاں۔۔۔کہاں۔۔۔؟؟ جا سکتا ہے۔۔۔؟؟؟

فجر پریشان ہوٸی۔۔۔؟؟

فجر۔۔۔۔!! تمہیں۔۔۔ پورا یقین ہے۔۔ وہ تمہارے ساتھ تھے۔۔۔؟؟

ثمرہ نے فکرمندی سے پوچھا۔

ہاں۔۔۔!! وہ ساتھ۔۔ تھے۔۔۔ بلکہ۔۔وہ ۔۔سلمیٰ بھی۔۔۔ تو۔۔تھی ساتھ۔۔۔۔!!

فجر نے اسکی بھی تلاش شروع کر دی۔

سلمیٰ انہیں ایک جھاڑی پے گری ہوٸی نظر آگٸ۔

وہ اس طرف لپکے۔

یہ۔۔۔ زندہ ہے۔۔۔!!

ثمر نے حیرت سے انہیں دیکھتے اطلاع دی۔

مان ۔۔۔ کہاں۔۔۔ چلے گۓ۔۔۔؟؟فجر رو دینے کو ہوٸی۔۔

یہیں۔۔۔۔!! تمہارے پاس ہوں۔۔۔!!

اسے اپنے بالکل قریب سے آواز آٸی تو وہ چونکی۔

مان۔۔۔۔۔۔!!

مان۔۔کہاں۔۔۔ ہیں۔۔۔ آپ۔۔۔؟؟ سامنے آٸیں۔

آج کتنے عرصے بعد فجر کے لب سے ارمان کے لیے مان نکلا تھا۔

وہ اسے ہمیہ مان ہی تو کہتی تھی۔

اور جب وہ چلا گیا چھوڑ کے۔۔ تو اسکا مان ہی تو ٹوٹا تھا۔۔۔

اور ارمان نے کتنی دفعہ کوشش کی کہ وہ اسے پھر سے مان کہے۔

لیکن اس نے نہ کہا۔

اور آج۔۔۔!! ارمان نے اس سے کہلوا ہی دیا۔

فجر کے آنکھوں جھملاٸیں۔ تو امان مسکراتا ہوا ساانے کھڑا پایا۔

فجر بھاگ کے اسکے سینے سے جا لگی۔

اور آنکھیں موندے بس روۓ چلی گٸ۔

ارمان کے چہرے پے بھلے زخموں کے نشان تھے۔ لیکن فجر کی محبت نے اسے سکون بخشا تھا۔

بالاج او ثمرہ بھی مسکرا دیٸے۔

ان دونوں نے بھی ارمان اور فجر کو ایک ساتھ دیکھ سکون کا سانس لٕیا۔

ہم جیت گٸے۔۔۔!!

ثیمرہ نے مسکراتے ہوٸے کہا۔ تو ارمان نے اسکا ماتھا چوما۔

حق و باطل کی لڑاٸی میں جیت ہمیشہ حق کی ہوتی ہے۔۔۔!!

ان چاروں نے مسکراتے ہوۓ اس جلتے ہوٸے جھالے کو دیکھا۔

واقعی۔۔ حق اور سچ پے چلنا مشکل ضرور ہے۔۔

لیکن ناممکن نہیں۔۔۔

اس جنگ میں انہوں نے بہت سارے اپنوں کو تو کھویا۔

لیکن ۔۔۔ اللہ کا ساتھ بھی پایا۔

اور اللہ کے ساتھ سےہی۔۔ انہوں نے اس جنات کی ملکہ کو اس کے انجام تک پہنچایا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

سلمیٰ کو ہاسپٹل پہچا دیا گیا۔

جہاں کچھ دنوں بعد اسے ہوش آگیا۔ اسکی ماں نے شکرانے کے نفل ادا کیے۔ اور ساتھ ساتھ ارمان اور فجر کا شکریہ بھی ادا کیا۔

وہ خوش تھے کہ سلمیٰ بچ گٸ ہے۔

اطالوس بھی کہیں غاٸب ہوگیا تھا۔۔ وہ دوبارہ نہیں آیا۔

فجر نے پریشانی سے کہا۔

تو بالاج نے ارمان اور فجر کو اس رات جو ہوا۔ وہ ساری بات انہیں بتا دی۔

آپ۔۔۔کو ۔۔۔اس نے کیا دیا تھا۔۔۔؟؟

فجر نے دھڑکتے دل سے پوچھا۔

معلوم نہیں۔۔!! لیکن وہ درد والی جگہ پے لگاتے ہی غاٸب ہوگیا تھا۔

بالاج کے کہنے پے فجر اپنی جگہ سے اٹھی اور ثمرہ کے پاس آٸی۔

تمہیں۔۔۔ کہاں۔۔۔ درد ہوا تھا۔۔۔؟؟

یہاں۔۔۔۔!! ثمرہ نے درد والی جگہ پے ہاتھ رکھ کے کہا۔

فجر نے اس جگہ اپنا ہاتھ رکھا تو وہاں سے نیلی روشنی نکلی۔ جسے دیکھ ثمرہ کی بولتی ہی بند ہوگٸ۔

فجر نے گہرا سانس خارج کیا۔

تم پے وار ۔۔ جنات کی ملکہ نے نہیں کیا تھا۔

کیونکہ وہ میرا حصار توڑ کے اندر نہیں آسکتی تھی۔۔

حملہ کرنے والا کوٸی اور تھا۔۔۔!!

جس نے میرا حصار توڑا۔

اور ۔۔۔۔ اطولس نے بروقت اپنی طاقت سے ۔۔۔ تمہارے بچے کی جان بچاٸی۔۔۔!!

فجر نے انہیں ساری بات بتاٸی۔

مطلب۔۔۔؟؟ بچہ۔۔ تو ٹھیک ہے ناں۔۔۔؟؟؟

بالاج کو بچے کی فکر ستاٸی۔ اسکا ڈر سچ ثابت ہو رہا تھا۔

بالکل۔۔۔۔ وہ بالکل ٹھیک ہے۔۔۔!!

البتہ۔۔۔ اسکی پیداٸش کے بعد ۔۔۔ تم۔۔۔۔ لوگ نہیں۔۔ ٹھیک رہنے والے۔۔۔۔!!

آخری جملہ فجر نے دھیرے سے کہا۔

بالاج اور ثمرہ نے تو نہ سنا۔ لیکن ارمان نے سن لیا۔۔

حیرات اور سوالیہنظروں سے فجر کودیکھا۔

اس نے ایک آنکھ ونک کی۔

تو ارمان مسکرا دیا۔

ختم شد۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *