Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khoni Jhula by Muntaha Chohan

  • کیا ہوا۔۔۔ ؟ ازمیر یوں اچانک بلایا۔۔۔۔؟
ازمیر کی بتاٸی گٸ جگہ پے پہنچ کے فجر نے اسے کال ملاٸی۔
فجر۔۔۔ یہںیں ایک لاش نلی ہے۔۔۔ بس دعا کرو وہ سارا نہ ہو۔۔۔۔ ازمیر کا لہجہ روندھا ہوا تھا۔
فجر تو سکتے میں آگٸ۔
چھ ماہ بعد کوٸی سراغ کیا ملا۔۔۔؟ لاش۔۔۔ ۔۔۔۔
آنکھوں میں آنسو آگۓ۔۔۔
لاش کی شناخت کے لیۓ ان لوگوں کو بلایاگیا تھا جب کی بچیاں لاپتہ ہوٸی تھیں۔ ۔
کافی جھمگٹا لگ گیا تھا وہاں پے۔۔۔
سب کو ایک طرف کر دیا گیا۔
میڈیا والو ں نے الگ ایک شور برپا کیا ہوا تھا۔۔۔
ازمیر فجر کو لیے آگے بڑھا۔ اسکا دل دھک دھک کر رہا تھا۔
ازمیر کے لیے بھی یہ مرحلہ مشکل تھا۔ سارا اسکی منگیتر تھی۔ اور محبت بھی
لاش کے چہرے سے کپڑا ہٹا۔۔۔ تو رکیں سانسیں بحا ل ہوٸیں۔
یہ ۔۔۔ سارا۔۔۔ نہیں ہے۔۔۔۔۔ گہری ساند خارج کی۔
یہ ایمن نہیں۔۔۔۔۔ ارمان کی آواز بھی فجر کے بعد ابھری تو دونوں پل بھر کے لیے ٹھٹھکے۔
دونوں کی نظریں ایک دوسرے پے اٹھیں۔
ماضی کی کتنی یادوں نے اپنے پنکھ پھلاۓ۔ دونوں کو بہت کچھ یاد آیا۔ ۔۔
لیکن وہ یادیں بہت بری تھیں۔ فجر نے رخ پھیر لیا۔ دل میں ایک دم سے نفرت ڈیرے جمانے لگی۔
ازمیر کے ساتھ وہ وہاں سے ہٹ گٸ۔ لیکن ارمان کی نظروں نے دور تکاسکا تعاقب کیا۔۔۔
میری بیٹی لادو مجھے۔۔۔ کوٸی۔۔ یہ میری بیٹی نہیں ہے۔۔
ایک عورت روتی ہوٸی بولی۔ فجر کی نظریں اسی پے تھیں
۔
ناظرین ۔۔۔آپ دیکھ سکتے اس وقت یہا ں ایک خون میں لپٹی ایک لاش ملی ہے۔لیکن شناخت کے لیے سب کو بلانے کے باوجود کوٸی بھی اس لاش سے اپنا تعلق ظاہر نہیں کررہا۔
چینل رپورٹر بولتی بولتی بالاج کے پاس آٸی۔
آییے ۔۔۔ اس سلسلے میں ڈی ایس پی بالاج سعد سے بات کرتے ہیں۔
جی ڈی ایس پی صاحب ۔۔۔ ایک اور لاش۔۔۔
آپ کو نہیں لگتا۔۔۔ یہ لاش پولیس ڈیپارٹمنٹ کے منہ پے ایک اور طمانچہ ہے۔۔۔۔
طنز سے کہتے ماٸیک بالاج کے آگے کیا۔
بالاج نے غصے سے اسے دیکھا۔
ڈی ایس پی صاحب۔۔۔ کیا کہیں گے آپ۔۔۔ آۓ روز لڑکیوں کا غاٸب ہونا ۔۔۔ آج اک لاش ملی۔۔۔
کل اور ملیں گیں۔
یہ تو ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل نکلے گا۔۔۔ لیکن آپ کچھ نہیں کریں گے۔۔۔
ایسی کوٸی بات نہیں۔ پولیس ۔۔ جلد ہی مجرم کو ڈھونڈ لے گی۔۔
غصہ ضبط کرتے بس اتنا ہی کہا اور آگے بڑھ گیا۔ ایکسکیوز می۔۔
ناظرین ۔۔۔ آپ دیکھ رہے ہیں ۔ پولیس بھی اس کیس میں بے بس نظر آ رہی ہے۔۔
مجرم جرم کرنے کے بعد کوٸی بھی ثبوت نہیں چھوڑ رھا۔۔۔
میرا ایک سوال ہے سب سے۔۔۔
آخر کب تک۔۔۔؟ کب تک یونہی۔۔۔ حوا کی بیٹی لٹتی رہے گی؟؟؟
یا مار کر ایسے پھینک دی جاۓ گی۔۔ کب تک مجرم کھلے عام پھرتے رہیں گے۔۔۔؟ ہ؟
کیو ں کوٸی ان کو سخت سزا نہیں دے سکتا۔۔ ایک ایسی سزا ۔۔۔کے دوبارہ کوٸی ایسی حرکت کرتے ہزار بار سوچے۔۔۔۔۔۔
ثمرہ بالاج ۔۔۔۔ کیمرہ مین علی انصاری کے ساتھ۔۔۔ آواز نیوز
۔
کہتے ساتھ ہی ما ٸیک ماریہ کو تھما یا۔ کان سے ہینڈ فری بھی اتارے۔ اور بالاج کے پیچھے بھاگی۔
با ت سنیں۔
گا ڑی کا دروازہ کھولتے بالاج کے ہاتھ رکے۔ قہر کی نظر ثمرہ پے ڈالی۔
ابھی بھی کچھ سنانے کے لیۓ رہ گیا ہے؟
ثمرہ نے لب بھینچے۔
آپ جانتے ہیں وہ میرا کام ہے۔۔۔ دھیمے لہجے میں منمناٸی۔
توجاٸیں اور جا کر اپنا عظیم کام سر انجام دیں۔
منہ پھیر کر وہ گاڑی میں بیٹھا ڈراٸیور نے گاڑی آگے بڑھا دی۔
وہ منہ بسور کے واپس آگٸ۔
کیا ہوا ناراض ہو گۓ؟
ماریہ نے افسوس سے پوچھا۔۔۔
کب نہیں ہوتے۔۔۔۔
خیر ۔۔ علی۔۔ تم بتاٶ۔ کیا شیڈیول ہے آگے کا؟
وہ ہے ایک لڑکی۔۔۔ ٹک ٹاکر۔۔۔ لیلیٰ ۔۔ وہ آج جا رہی ہے یہیں کوٸی قریبی پارک ہے وہاں۔۔۔
کونسے پارک میں۔؟ ماریہ نے پوچھا۔۔
کوٸی نیا ہے۔۔۔ حال ہی میں کھلا ہے۔ کسی چوہدری کا ہے آٸی۔۔۔think۔۔۔
یہ لیلیٰ وہاں کیا گل کھلانے جا رہی ہے؟
ثمرہ نے تیکھے انداز میں پوچھا۔
ہمممم۔۔۔۔۔ ٹک ٹاکرز اور کام۔کیا ہے۔۔۔۔؟
علی نے بھی افسوس کیا۔
یہی وہ لڑکیاں ہوتی ہیں۔ جو سستی شہرت کے لیے کسی بھی حد تک چلی جاتی ہیں۔۔۔
اور پھر سب کو ایک ہی طرح کا سمجھا جاتا ہے۔۔ بدکردار۔۔۔
ایسی لڑکیوں کو وجہ سے ہی کوٸی شریف لڑکی کو بھی سکون سے نہیں جینے دیتا
پانی پی کر بوتل کو ساٸیڈ پے رکھا۔
پھر کیا ارادہ ہے؟ علی نے پوچھا۔
اس سے پہلے کہ وہ شو کرے۔۔ ہم اسکا شو کر دیتے ہیں۔
غصے سے اور ایک عزم سے کہتی وہ کھڑی ہوٸی۔
علی ماریہ اور ثمرہ کی یہ ٹیم بہت مشہور تھی۔
چینل والے ان کو بہت پروٹوکول دیتے تھے۔ بہادر نڈر اور آگے بڑھنے والوں میں سے تھے۔
ازمیر۔۔ مجھے اس عورت سے ملنا ہے۔۔ فجر نے اس روتی ہوٸی عورت کی طرف دیکھتے کہا۔
ازمیر جو لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا کے آیا تھا۔ فجر کی بات پے ٹھٹھکا۔
اور ۔۔۔ یہ۔۔ ارمان ملک۔۔۔؟ اس سے نہیں ملنا۔۔۔؟
کچھ سوچتے ہوۓ پوچھا۔
فجر نے ایک نظر پلٹ کے ارمان ملک کو دیکھا اسی پل ارمان کی نظریں بھی فجر کی طرف اٹھیں۔
اس سے کیوں ملنا؟ارمان سے نظریں نہ ہٹاٸیں۔ دیکھتے ہوۓ ہی پوچھا۔
ارمان ملک کی بھی بہن کل شام سے لاپتہ ہے۔۔۔ اسی کے بارے میں بتایا تھا۔۔۔آج صبح۔
اور ایک لمحہ کے لیے فجر کا دل پوری رفتار سے دھڑکا۔
ایسا کیسے ممکن ہے۔۔۔؟ ٹوٹے لہجے میں پوچھا۔
وہ بھی لاش کی شناخت کے لیے آیا تھا فجر۔۔۔
فجر نے آنکھیں موند لیں۔ اور من کی آواز پے لبیک کہتی آنکھیں کھولیں۔
ازمیر ۔۔۔ مجھے جا نا ہو گا ابھی۔۔۔
فجر اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گٸ۔
اللہ کی دنیا بھی کتنی چھوٹی ہے۔۔۔ آج تین سال بعد اسی انسان کے سامنے لا کھڑا کیا۔
جس کو نہ دیکھنے کی قسم کھاٸی تھی۔ لب بھینچے گاڑی کو اپنی منزل کی طرف گامزن کر دیا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *