Khoni Jhula by Muntaha Chohan NovelR50513 Khoni Jhula (Episode 03)
Rate this Novel
Khoni Jhula (Episode 03)
Khoni Jhula by Muntaha Chohan
وہ کھڑی اپنی دوست سے کلاس کا پوچھ رہی تھی۔ آج دونوں کا پہلا دن تھا یونی کا۔
اتنے میں کسی نے اس پر پانی سے بھرا گلاس انڈیل دیا۔ وہ پوری گیلی ہو گٸ۔
غصہ سے برا حال ہوگیا۔ سب کی نظریں اس پر اٹھیں۔
پلٹی اور سامنے والے کو رکھ کے ایک تھپڑ جڑ دیا۔
اور وہ سامنے والا اس اچانک افتاد پر گنگ رہ گیا۔
تھپڑ کی آواز سے سب کی نظروں کا مرکز وہ دونوں تھے۔
تم۔۔۔۔ ہمت کیسے ہوٸی۔۔ تمہاری مجھ پے ہاتھ اٹھانے کی؟
ارمان غصے سے آگے بڑھا۔ لیکن اس کے دوست نے اسے روکا۔
ہمت۔۔۔۔۔۔؟ ویسے ہی جیسے تمہاری ہوٸی۔۔ مجھ پے پانی گرانے کی۔ دوبدو جواب دیا۔
مس۔۔۔ دیکھ کر ۔۔۔ پانی ارمان نے نہیں پھینکا۔ اسکے دوست نے فوراً جواب دیا۔
اچھا۔۔۔۔ اس نے نہیں پھینکا تو اس کے بھوت نے پھینکا ہے؟
بکواس بند کرو اپنی۔۔۔۔۔ تم جیسی ۔۔۔۔
خبر دار مسٹر اے بی سی۔۔۔۔ واٹ ایور یو۔۔۔ زبان کو قابو میں رکھو۔۔۔ ورنہ۔۔۔۔
فجر نے ارمان کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی اچک لی۔
اور تم اپنے ہاتھ قابو میں رکھو۔۔۔ ورنہ مجھ سے ضاٸع ہو جاٶ گی۔ جارحانہ تیور سے وہ آگے بڑھا۔لیکن عمران نے روک لیا۔
چھوڑ یار۔۔۔۔ لڑکی ہے۔۔۔
لڑکی۔۔۔۔۔۔؟ حرکت دیکھی ہے اسکی۔۔۔ نہ دیکھا نہ سنا اور رکھ کے جڑ دیا۔
فجر چلو یہا ں سے۔۔۔۔
اس سے پہلے کے فجر پھر شروع ہوتی۔ رامین نے اسے کھینچا۔
کیا چلو۔۔۔؟ ۔ دیکھو تو۔۔۔ ایک چوری اوپر سے سینہ زوری ۔۔۔۔
رامین زبردستی اسے وہاں سے لے آٸی۔لیکن غصہ کسی طور کم نہ ہورہا تھا۔
دوسری طرف ارمان کا بھی یہی حال تھا۔ یہ تھی دونوں کی پہلی ملاقات۔
اس کے کچھ دن بعد ہی فجر کو حقیقت کا پتہ چل گیا تھا۔ کہ غلطی ارمان کی نہیں ہے۔
اور ایک دو بار وہ اس سے معافی مانگنے بھی گٸ۔
لیکن اسے موقع نہ ملا۔
ارمان فجر کو دیکھ ہی راستہ بدل لیتا تھا۔
اور ایک دن دونوں کی لاٸبریری میں آمنے سامنے آگۓ۔
ارمان راستہ بدلنے لگا کہ فجر نے جھٹ سے ہاتھ پکڑ لیا۔
اور یہ سب اچانک ہوا تھا۔ کہ ارمان بھی گنگ رہ گیا۔
حیرت سے پلٹ کے اسے دیکھا۔ تو فجر نے فوراً ہاتھ چھوڑ دیا۔
وہ مجھے آپ سے بات کرنی۔۔۔۔ ہے۔
پلکیں اٹھاتی گراتی وہ ارمان کو چونکا گٸ۔
ارمان نے اسے ساٸیڈ پے آنے کا اشارہ کیا۔ وہ لاٸبریری کے بیچوں بیچ کھڑے تھے۔
وہ اس دن غلطی سے سب ۔۔۔۔ مجھے نہیں تھا پتہ۔۔۔ کہ وہ پانی ۔۔۔۔ والی ۔۔۔ حرکت آپ نے نہیں کی۔۔۔ سچ میں۔۔۔ باٸی گاڈ۔۔
ارمان کو دیکھتے وہ اپنا یقین دلانے کے لیے بولی۔
ارمان اسے دیکھے گیا۔
ہوگیا۔۔۔؟ سینے پے ہاتھ باندھے وہ فرصت سے نظروں سے نہارتے ہوٸے بولا۔
ایم سوری۔۔۔۔۔ دھیمی آواز میں کہا۔ نظریں جھکا کر تو ارمان کو چپ ہ لگ گٸ۔
لیکن فوراً حواس میں واپس لوٹا۔
مس واٹ ایور یو آر۔۔۔۔۔۔
تھپڑ سب کے سامنے۔۔۔۔ اور معافی اکیلے میں۔۔۔۔؟؟؟
کچھ جمی نہیں بات۔۔۔۔۔
آپ۔۔۔۔ چاہیں تو معاف کر سکتے۔۔۔۔۔ ڈاٸریکٹ آنکھوں میں دیکھتے ہوٸے یقین سے کہا۔
اور اگر میں۔۔۔ نہ کروں تو۔۔۔؟
تھوڑا سا آگے کی طرف جھک کر کہا۔۔۔۔
فجر نے حیرت سے دیکھا۔ ارمان کے چہرے پے ہلکی سی سماٸیل آگٸ۔
فجر کی کاجل سے بھری بھوری آنکھیں اس وقت پھیل کے اور بھی حسین لگ رہی تھیں۔
ارمان خاموشی سے وہا ں سے چلا گیا۔ لیکن اپنا سحر فجر پے پھونک گا۔
توبہ ۔۔۔ کیسا جادو گر ہے۔۔۔۔۔۔
نہیں کرتا تو نہ کرے معاف۔۔۔
میں نے معافی مانگ لی۔۔۔ بس۔۔۔ ایسے ہی ایٹیٹیوڈ دیکھا رہا ہے۔
نفی میں سر ہلاتی وہ آگے بڑھ گٸ۔
اس کے بعد دونو ں کا جب بھی آمنا سامنا ہوا۔
ارمان کے چہرے پے ہمیشہ اک سماٸیل ہوتی۔ اور نظریں بولتی۔۔۔۔
اکثر فجر کا دل دھڑک جاتا اسکی نظروں سے۔۔لیکن وہ نظر انداز کردیتی۔
ارمان کا لاسٹ سمسٹر تھا۔ جبکہ فجر ابھی نیو تھی۔
وقت اور آگے گزرا تو دونوں میں نا معلوم انداز میں میں دوستی ہو گٸ۔
لیکن پھر بھی جھجک ابھی بھی تھی۔
مسٹر ارمان ۔۔۔۔۔۔ آپ یہ جو دیکھنے کا سیشن ہے۔۔ اسے اب آپ ختم کریں گے۔۔۔۔؟
مسلسل ارمان کی نظروں سے تنگ آ کر فجر بول پڑی۔
نہیں۔۔۔ فی الحال موڈ نہیں۔ ۔۔۔ مزاح والے انداز میں کہا۔
ہو رہی ہے ناں۔۔۔۔۔۔ irritation مجھے
زچ ہو کر کہا۔۔۔
اچھااااااااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکا بھی یہی ایک لاسٹ ویک ہے۔
اس کے بعد کوٸی نہیں دیکھے گا آپ کو۔۔۔۔۔
رازدارنہ انداز میں کہا۔
کیا مطلب؟
فجر نے نا سمجھی سے پوچھا۔
لاسٹ ویک ہے۔۔۔ اس کے بعد اس یونی سے رابطہ ختم۔۔۔۔ اداسی سے کہا۔۔۔۔
اچھا۔۔۔۔۔ فجر بھی اداس ہوٸی۔۔
مجھے یا دکرو گی؟
اچانک ارمان نے سوال کیا تو وہ چونک گٸ۔ اور خاموشی سے کتابیں اٹھا کے کھڑی ہوٸی۔
میری بات کا جواب نہیں دیا۔۔۔۔۔۔ ارمان نے روکا۔
ہے تو بہت پرانی بات۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔ ہے سچ۔۔۔۔ یاد ان کو کیا جاتا ہے جہنیں ہم بھول جاٸیں۔
دھیمے لہجے میں کہتی وہ وہ وہاں سے چلی گٸ۔
اور ارمان کے لیے کہیں سوال چھوڑ گٸ۔



اور پھر وہ لمحہ آیا۔ جب ہاتھ چھوٹا۔


فجر میری بات سنو۔۔۔۔۔۔۔ پلیز ۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ۔۔۔ جیسا تم سمجھ رہی ہو۔۔۔
ارمان نے اسے روکا۔ اور بے اختیار ہی سہی ہاتھ تھام لیا۔
فجر نے آنسو بھری آنکھوں سے اسے دیکھا۔
مسٹر ارمان ملک۔۔۔۔۔ وہ تھپڑ جو میں نے آپ کو غلط فہمی میں مارا۔۔۔ اسکا بدلہ آپ نے خوب لیا۔۔۔۔
آپ کے الفاظ کا یہ تھپڑ میں ساری زندگی یاد رکھوں گی۔۔۔
آنسو روکتے سخت لہجے میں کہا۔
فجر۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔ ارمان بے بسی سے بولا۔
”عزتِ نفس بہت قیمتی شے ہے۔۔۔۔۔
کوٸی ہاتھ چھڑاۓ تو چھوڑ دیا کریں۔”
اتنا کہتے ہی ایک آنسو لڑھکتا ہو گال پے گرا۔ اور وہ ماضی سے حال میں لوٹا۔
دل آج پھر وہیں تین سال پیچھے چلا گیا تھا۔کچھ بھی تو نہ بدلا۔۔۔ وہ آج بھی ویسی ہی تھی۔۔
بالکونی میں کھڑا وہ ٹھنڈی ہوا اپنے اندر اتار رہا تھا۔
یونی سے اپنا ماسٹرز مکمل کرنے کے بعد وہ یو ایس اے چلا گیا تھا۔ اورچھ ماہ پہلے ہی لوٹا تھا۔
ٹاپ بزنس مین بن کر۔ اور ان تین سالوں میں ایک با بھی وہ اس کا چہرہ اور وہ گرتا آنسو نہیں بھولا تھا۔



وہ سوتے میں ڈری تھی۔۔۔
اور ایکدم اٹھ بیٹھی تھی۔ پسینے میں بھری ہوٸی
تھی۔
ٹیبل لیمپ پے نظر پڑی رات کے 2 بجے تھے۔ اور بالاج ابھی تک نہیں آٸے تھے۔
وہ اکثر دیر سے آتے۔ اور اب تو ثمرہ کو عادت ہو گٸ تھی۔۔
لیکن آج جو کچھ ہوا أس سے وہ بہت ڈر گٸ تھی۔
اس لیے اب نیند تو نہیں آنے والی تھی۔ ۔
تہجد کے لیے اٹھ گٸ۔ دل اسکا بہت گھبرا رہا تھا۔
نماز کی نیت باندھی۔۔۔۔ جیسے جیسے نماز پڑھتی جا رہی تھی۔۔
اسے اپنے ارد گرد کچھ محسوس ہو رہا تھا
۔ کوٸی گول چکر کاٹ رہا تھا اس کے گرد۔۔۔ نماز کے دوران ہی آنسو بہنے لگے۔
لب مسلسل اللہ کی بڑاٸی بیان کر رہے تھے۔
سلام پھرا تو یوں محسوس ہو ا جیسے کوٸی ہیولا کھڑکی کے راستے باہر گیا ہو۔
لب پر تسبیح کی روانی شروع ہو گٸ۔اتنے میں دروازہ کھلا۔ اور بالاج اندر داخل ہوا۔۔
بالاج کو دیکھ ثمرہ بھاگ کے اس کے سینے سے جا لگی۔
اور اس کے سینے میں منہ چھپا کے ہچکیوں سے رونے لگی۔
بالاج حیران تھا کہ یہ اسے اچانک ہوا کیا۔۔۔۔؟
ثمر۔۔۔۔۔ میری جان ۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔۔؟ کیوں اسطرح رو رہی ہو؟
بالاج پریشان ہو گیا۔ لیکن ثمرہ نے بالاج کے سینے میں ہی منہ دیۓ رکھا۔
بالاج نے اسے کندھوں سے تھام کے سینے سے لگاۓ بیڈ پے بیٹھا یا ۔
وہ اور زیادہ اس کے سینے کے گرد بازو پھیلا گٸ۔
ثمر۔۔۔۔۔ جان۔۔۔۔ اب تم مجھے پریشان کر رہی ہو۔۔۔۔
بالاج واقعی میں پریشان ہو گیا۔ اور اسے خود سے الگ کرتے پانی کا گلاس اس کے لبو ں سے لگایا۔
اس نے ایک گھونٹ پی کر چھوڑ دیا۔
اب بتاٶ کیا ہوا۔۔۔؟؟؟
بہت پیار سے پوچھا۔
ڈر لگ رہا ۔۔۔۔۔۔ تھا۔۔۔۔۔ آپ کو کوٸی ۔۔۔ خیال نہیں۔۔۔ میرا۔۔۔۔ اتنی رات گۓ لوٹے ہیں۔۔۔۔
نروٹھے پن سے شکوہ کیا۔
میری جان۔۔۔ کام تھا ناں۔۔۔۔
اور اگر کام نہ کرو تو تم چینل والوں کو بھی سکون نہیں آتا۔۔۔ ۔۔
اور سب کے سامنے اچھی خاصی عزت کا فالودہ نکال کے رکھ دیتے ہو۔۔۔
بالاج نے مزاق میں کہا۔ تاکہ وہ ریلکس ہو جاۓ۔
اب ایسی بھی کوٸی بات نہیں۔
کھا نا لاٶں آپ کے لیے۔۔۔ ؟؟؟
اچانک یاد آیا۔
تم نے کھا یا؟؟ وہی محبت بھرا انداز۔
جی کھا لیا تھا۔ نینا ں آٸی تھی تو اس کے ساتھ۔۔۔۔ کچھ سوچتے ہوۓ بولی۔۔
چلو ۔۔۔ سہی۔۔۔۔ مجھے صرف پانی پلا دو۔۔۔ اور ایک کپ کافی۔ میں شاور لے کے آیا۔
پیار سے کہتا وہ کپڑے لیے باتھ روم کی جانب بڑھا۔ اور ثمرہ کچن کی۔
کافی بناتے آج کے واقعے کو سوچتی رہی۔۔۔ کیسے اس کے دیکھتے دیکھتے وہ لڑکی غاٸب ہوٸی تھی۔
ثمرہ نے جھر جھری لی۔فٹ سے اسٹوک بند کیا اور کافی لیےروم کی جانب بڑھی۔
تھینک یو سو مچ۔۔۔۔۔ سچ میں بہت طلب ہو رہی تھی۔۔۔
کافی کا مگ لیتے وہ بیڈ پے ہی ٹیک لگا کے بیٹھتے بولا۔
کیسا رہا۔۔۔مس لیلیٰ کا انٹرویو؟ کافی کا ایک سپ لیتے نارملی پوچھا۔ لیکن ثمرہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا
۔
انٹرویو۔۔۔۔۔؟
کیا ہوا ۔۔۔ ؟ اتنا سوچنے کیا لگی؟
کافی کا مگ ساٸیڈ پے رکھتے لیٹتے ہوٸے کہا۔
میں نہیں گٸ تھی۔ سر جھکا کر دھیرے سے بولا۔
بالاج نے ایک نظر ثمرہ کو دیکھا۔
جس نے کھبی بھی سر جھکا کر بات نہیں کی تھی۔۔۔
لیکن آج۔۔۔۔۔۔۔ کوٸی بات تھی۔۔
لیکن خو د سے وہ پوچھنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ اس لیے خاموش رہا۔



کہتے ہیں وقت بہت بڑا مرہم ہے۔۔۔ گذرتا ہے تو زخم بھی بھر دیتا ہے
لیکن محبت کا ز خم وقت کےسا تھ ساتھ ہمیشہ پھلتا پھولتا ہے۔۔۔۔۔
اور صرف درد دیتا ہے۔
چاند کو دیکھتے وہ سوچتی ہوٸی اندر آٸی۔
اور لیب ٹاپ آن کیا ہے۔
ازمیر نے تمام انفارمیشن بھیجی تھی۔
اسے پڑھتے فجر کے دماغ میں بہت ساری باتیں گردش کرنے لگیں۔
سیما، راٸحیلہ ،تانیہ ، عابدہ ، اور رضوانہ
یہ وہ لڑکیاں تھیں۔جو اچانک غاٸب ہوٸیں۔
اور سب کا ایڈریس چیک کیا تو اس کے رونگٹے کھڑے ہو گۓ۔
کیو نکہ ان سب کا ایڈریس ایک دوسرے سے دور نہ تھا۔۔۔
وہ سب جس جس کالونی سے تعلق رکھتی تھیں وہ آس پا س کے ہی ایریا تھے۔ ۔۔۔
فجر کو پھر بھی سمجھ نہ آیا۔
اچانک سب کیو ں غاٸب ہو گٸیں۔۔۔۔؟؟؟؟
کس نے ایسا کیا۔۔۔ اور پھر ایسی غاٸب ہوٸیں۔ کہ ان کی لاشیں بھی نہیں ملیں۔۔۔۔
ابھی وہ مزید سرچ کرتی کہ لاٸیٹ سپارک کرنے لگی۔۔۔۔۔ اسکا دھیان بھٹکا۔
تبھی لیب ٹاپ کی اسکرین بھی جھاپکے سے سپارک ہوٸی۔ اور بند ہو گٸ۔
اس میں سے دھواں نکلنے لگا۔ اور اچانک لاٸیٹ بند ہو گٸ۔
فجر کو کسی انہونی کا اندیشہ ہوا۔ لیکن وہ ڈری نہ۔
اسکے لب پر ورد جاری ہو گیا۔
گلے میں ڈالا ہوا لاکٹ ہاتھ میں لے کے اسے چوما۔
وہ اللہ کے نام کا لاکٹ تھا۔ جو بہت روشن تھا۔
اسکی روشنی پورے روم میں پھیل گٸ تھی۔ہر چیز واضح ہو گٸ تھی۔
تبھی رونے کی آواز آٸی۔ جیسے کوٸی گھٹ گھٹ کر کوٸی رو رہا ہو۔
اور پھر رونے کی آواز تیز ہوتی گٸ۔ فجر کی زبان پے ورد بھی جاری رہا۔
دروازہ زور زور سے کھلنے اور بند ہونے لگا۔
اور تیز ہوا چلنے لگی۔ وہ جو کوٸی بھی طاقت تھی وہ فجر کو نقصان نہیں پہنچا پا رہی تھی۔
اور شور کر رہی تھی۔ ورد مکمل ہوا۔
اور سب کچھ ایسے تھما جیسے کچھ ہو ا ہی نہ ہو۔
ایکدم خاموشی چھا گٸ۔
کانوں میں کسی نے سرگوشی کی۔
کسی الگ زبان میں۔۔۔ فجر کو سمجھ نہ آٸی۔
آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ اور لڑکھڑا کے وہیں گر گٸ۔



دھیرے دھیرے آنکھیں کھلتی وہ ہوش و حواس میں واپس لوٹی۔
ارد گرد اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔۔۔ اٹھنے میں مشکل ہوٸی۔
لیکن پھر بھی ہاتھ زمین پے رکھ کے وہ بیٹھی۔
اور اردگرد کا جاٸزہ لینے لگی۔ لیکن کچھ سمجھاٸی نہ دیا۔
بمشکل اٹھی اور لڑکھڑاتی وہ آگے بڑھی۔ تو ٹھوکر لگی۔ ۔۔ ہاتھ سے ٹٹولا۔۔۔ تو مٹی تھی۔
گلے کا لاکٹ سامنے ہوا تو ایک روشنی پھوٹی اس میں سے۔ اور سامنے کا منظر واضح ہوا۔
جسے دیکھ اس کے رونگٹے کھڑے ہو گٸے۔۔۔
وہ قبر کے اوپر ہی کھڑی تھی اور ٹھوکر بھی اسے قبر سے ہی لگی تھی۔
ساری جگہ نظر دوڑاٸی تو دور دور تک صرف قبریں ہی قبریں تھیں۔
کسی ذی روح کا نام نشان تک نہ تھا۔۔۔ فجر کے ماتھے پے پسینہ آگیا
یا سبحان تعالیٰ۔۔۔۔ یہ کونسی جگہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اور میں یہاں کیسے آگٸ؟؟؟؟
قبرستان کی پر اسرار خاموشی نے ایک عجیب سی وحشت پھیلاٸی ہوٸی تھی۔
جس قبر کے پاس وہ کھڑی تھی۔۔ یکبارگی اس میں گڑگڑاہٹ ہوٸی۔ ۔۔
جیےزلزلہ آگیا ہو۔۔۔۔۔۔ قبر کی مٹی اپنی جگہ سے اڑنے لگی۔۔۔۔
بے اختیار ہی نظریں اس پے جمیں۔
اور قدم پیچھے کی طرف اٹھے۔
اسی لمحے ایک ہاتھ قبر سے سیدھا باہر آیا۔ ۔
فجر نے منہ پے ہاتھ رکھ کے اپنی چینخ کا گلا گھونٹا
