Khoni Jhula by Muntaha Chohan NovelR50513 Khoni Jhula (Episode 05)
Rate this Novel
Khoni Jhula (Episode 05)
Khoni Jhula by Muntaha Chohan
**************
تم۔۔۔۔۔ یہاں۔۔۔۔۔۔۔ ؟ رامین کو شاک ہی لگا۔ ارمان کو وہاں دیکھ کے۔
وہ بھی پورے تین سال بعد اسے دیکھ رہی تھی۔
تم بھی تو یہیں ہو۔۔۔۔۔۔۔
ارمان نے ناگواری سے کہا۔
ایکسکیوز می۔۔۔۔۔۔
رامین غصے سے آگے بڑھی۔ اور بیگ کو ساٸیڈ پے رکھا۔
اور ارمان کے دوبدو ہوٸی۔
یہ میری بہن کا گھر ہے۔ اور مجھے یہاں آنے جانے کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔
البتہ تم بتاٶ ۔۔۔۔۔ اس وقت یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔۔؟
اور ۔۔۔ فجر۔۔۔۔ اسے کیا ہوا۔۔۔۔۔؟
کیا کیا تم نے اس کے ساتھ۔۔۔۔؟
دانت پیستے ہوۓ پوچھا۔
بکواس بند کرو اپنی۔۔۔۔۔ ارمان کو غصہ آگیا۔
اوراتنی اونچی آواز میں دھاڑا کہ رامین بھی سہم گٸ۔
جتنی گھٹیا تمہاری سوچ ہے وہ آج سے تین سال پہلے ہی میں جان گیا تھا۔۔۔
اور رہی بات۔۔۔ میرے یہاں ہونے کی۔۔۔ تو میں ارمان ملک۔۔۔ کسی کو بھی اپنی زات کی صفاٸی نہیں دیا کرتا۔۔۔۔۔
اتنا تو تمہیں بھی ۔۔۔۔ پتہ ہوگا۔
ایک طنز بھرا تیر چھوڑا۔ جو رامین کے دل کے پار ہوا۔
تم۔۔۔۔۔۔۔۔؟
انگلی اٹھاٸی۔
آواز نیچے رکھ کے بات کرو۔۔۔۔
ارمان اس سے زیادہ اونچا بولا۔ تو وہ ناچاہتے ہوۓ بھی چپ ہو گٸ۔
ارمان نے پلٹ کے ایک نظر فجر پے ڈالی اور باہر نکل گیا۔ ۔۔
رامین پیچ و تاب کھاتی رہ گٸ۔۔۔
یہ یہاں تین سال بعد کیسے۔۔۔۔ آگیا۔۔۔۔۔
اسے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔ ۔۔۔
اور فجر۔۔۔۔۔۔ ؟
اسے بھی کچھ پتہ نہیں لگنا چاہیے۔۔۔ دماغ کے گھوڑے دوڑاتی وہ بیگ کو اٹھا کے۔۔ کبرڈ میں اپنے کپڑے رکھنے لگی۔
اچھا ہوا میں یہاں آگٸ۔۔۔ ورنہ بہت گڑبڑ ہو جاتی۔۔۔



کیا مطلب۔۔۔۔؟ وہ ٹک ٹاکر لیلیٰ کی بات کر رہے ہو۔۔۔۔؟
وہ مسنگ ہے؟؟؟
بالاج کو حیرت ہوٸی۔
جی سر ۔۔۔۔ اور اس وقت میڈیا نے طوفان بدتمیزی پھیلایا ہوا ہے۔۔۔۔
ہم۔پے۔۔۔۔بری طرح اٹیک کیا جارہا۔۔۔۔ ہے۔۔۔
کمشنر صاحب آپ کا اندر ویٹ کر رہے ہیں۔ ۔۔
ازمیر نے بالاج کو پہنچتے ہی اطلاع دی۔
تو وہ کمشنر صاحب کے روم کی جانب بڑھا۔
وہ بھی آج اچھے موڈ میں نہ تھے۔
ڈی ایس پی۔۔۔ بالاج خان۔۔۔۔ آپ جانتے ہیں ناں۔۔۔۔
موجودہ حالات آپ کی کارکردگی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔۔۔۔
آپ مجھے یہ بتاٸیں۔۔۔۔۔ یہ کیس کیوں نہیں سالوو s
ہو رہا۔۔۔۔؟
سب کچھ آپ کے سامنے ہے۔۔۔۔ ہر ممکن کوشش کی جار ہی ہے ۔۔۔ اور بہت جلد ہم کامیاب بھی ہوں گے۔
بالاج نے انہیں مطمیٸن کرنا چاہا۔
لیکن مجھے تو حالات کچھ اور کہہ رہے ہیں۔۔۔۔۔
مجھے لگتا ہے۔۔۔۔ یہ کیس آپ سے لے لیا جاۓ۔۔۔۔
اور۔۔۔۔؟؟
سر۔۔۔۔۔ یہ ذیادتی ہے۔۔۔ میں اس کیس پے کافی عرصے سے کام کر رہا ہوں۔۔۔
اور بہت جلد مجرموں تک بھی پہنچ جاٶں گا۔ ۔۔
بالاج خود پے بمشکل کنٹرول کر پا رہا تھا۔
کمشنر فرقان خان نے گہرا سانس خارج کیا۔۔
مجھ پے بہت پریشر ہے بالاج۔۔۔۔۔
مجھے 15 دن کے اندر رزلٹ چاہیے۔۔۔۔ ورنہ مجبوراً یہ کیس مجھے۔۔۔ کسی دوسرے افسر کو دینا پڑے گا۔
کلیٸر کٹ الفاظ میں کہتے وہ بالاج کو بہت کچھ سمجھا گۓ۔
اوکے سر۔۔۔۔۔ آٸی ول ڈو ماٸی بیسٹ۔
بالاج کہتے باہر آگیا۔ اور لیلیٰ کے بارے میں انفارمیشن لینے لگا۔
سر لاسٹ ٹاٸم ۔۔۔۔ وہ اپنی ٹیم کے ساتھ ۔۔ نیو ایور پارک میں گٸ تھیں۔
اور آواز چینل نے ان کا انٹرویو بھی لیا۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ اسے نشر نہیں کیا۔۔۔۔۔
اس کے بعد ہی وہ وہا ں سے گھر نہیں پہنچی۔۔۔
ازمیر نے بالاج کو ساری بات بتاٸی تو وہ بری طرح چونکا۔
کیسا رہا۔۔۔مس لیلیٰ کا انٹرویو؟ کافی کا ایک سپ لیتے نارملی پوچھا۔
لیکن ثمرہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
انٹرویو۔۔۔۔۔؟
کیا ہوا ۔۔۔ ؟ اتنا سوچنے کیا لگی؟
کافی کا مگ ساٸیڈ پے رکھتے لیٹتے ہوٸے کہا۔
میں نہیں گٸ تھی۔ سر جھکا کر دھیرے سے بولا۔
بالاج کو ثمرہ کی رات والی بت یاد آگٸ۔ ۔۔۔
یعنی اس نے جھوٹ بولا تھا۔۔۔۔۔۔
انٹرویو۔۔۔۔ لیا۔۔۔۔۔۔ اور انٹرویو کے بعد وہ غاٸب ہوٸی۔
ازمیر۔۔۔۔ مجھے ا سکے انٹریو کی مکمل ویڈیو چاہیے۔
اور ابھی گاڑی ریڈی کرو۔۔۔ موقعِ واردات پے جانا ہے۔۔۔ ابھی۔۔۔۔
ہری اپ۔۔۔
آرڈر دیتا وہ گھر کا نمبر ڈاٸیل کرنے لگا۔۔
دوسری بیل پے ہی نینا نے اٹھا لیا۔
کیسی ہے اب ثمرہ۔۔۔۔؟ سلام دعا کے فوراً بعد پوچھا۔
جی بہتر ہیں۔ باتھ روم میں ہیں۔
ناشتہ کیا؟
اگلا سوال کیا۔
نہیں بھاٸی کہہ رہیں تھیں کہ دل نہیں ہے۔
نیناں زبردستی کھلا دو بے شک تھوڑا سا۔۔۔۔ بالاج نے پریشانی سے کہا۔
جی بھاٸی۔۔۔ آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔ کھلا دوں گی۔۔۔
ٹھیک ہے میں تھوڑی دیر تک دوبارہ فون کروں گا۔
فون بند کر کے وہ آنکھیں موندے سوچنے لگا۔
کہ ازمیرنے اسے چلنے کا بولا۔ اور وہ ساری سوچیں جھٹک کر باہر نکلا۔



کا فی دیر بعد فجر کی آنکھ کھلی۔۔
سر بھاری بھاری ہو رہا تھا۔۔۔
بمشکل خود کو گھسیٹ کر بیڈ کراوٶن کے ساتھ ٹیک لگاٸی۔ اور آنکھیں موند لیں۔
گزر ےلمحات اک فلم کی طرح آنکھوں کے آگے لہرانےلگے۔
سارا کی اذیت یاد کر کے آنکھیں ایک بار پھر بھیگ گیٸں۔
اور وہ لمحہ جب وہ آواز کانوں سے ٹکراٸی۔۔۔۔
وہ ہوش کی دنیا میں واپس آٸی۔
ارے فجر ۔۔۔۔۔۔۔ تم اٹھ گٸیں۔۔۔۔؟
ابھی آگے کے منظر وہ دیکھتی کہ رامین کی آواز پے وہ چونکی۔ اور اسکی آنکھیں کھل گٸیں۔
تم۔۔۔۔۔۔۔؟ تم کب آٸی؟
سیدھے ہوتے نقاہت سے پوچھا۔
ان لمحو ں میں سے وہ نکل تو آٸی تھی لیکن اثر ابھی بھی باقی تھا ۔
صبح کے 4 بج رہے تھے۔۔۔ جب میں آٸی۔۔۔ اور مین ڈور بھی اوپن تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
قریب بیٹھتے ہوٸے کہا۔
تماری طبعیت تو ٹھیک ہے ناں۔۔۔۔ فجر۔۔۔۔؟
مجھے تم ۔۔۔۔۔ ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔۔۔۔ کوٸی بات ہوٸی ہے کیا۔۔۔؟
رامین نے کریدنا چاہا۔۔۔ کہ فجر خود ارمان کے بارے میں بتا دے کہ وہ کیوں تھا یہاں۔۔۔۔؟
نہیں۔۔۔۔ کوٸی بات نہیں۔۔۔۔۔۔۔ بس ایسے ہی۔۔۔۔ فجر نے ٹالا۔ اور اٹھنے لگی۔
اچھا۔۔۔۔ تم فریش ہو جاٶ۔ میں کچھ کھانے کے لیے لاتی ہوں۔
رامین نے فوراً اٹھتے کہا۔ فجر خاموشی سے باتھ میں گھس گٸ۔
آٸینہ کے سامنے کھڑےہونے پے اپنا آپ دیکھا۔۔۔
اسکی گردن پے جگہ جگہ انگلیوں کے نشان تھے۔۔
مطلب وہ سب سچ تھا۔۔۔ میرا خواب نہیں تھا۔۔۔۔۔۔
سارا۔۔۔۔۔ واقعی۔۔۔۔۔۔۔ اتنی تکلیف میں۔۔۔۔۔۔!!
شاور کھولا۔۔۔ اور بھیگتی چلی گٸ۔
اور وہ۔۔۔۔ آواز۔۔۔۔ وہ ا۔۔۔۔۔رما۔۔۔؟؟؟؟ وہ سچ میں۔۔۔۔ اس نے مجھے۔۔۔۔ اس حال۔میں دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔
آنسو بہنے لگے۔۔
فجر آجاٶ۔۔۔۔۔۔۔
باہر سے رامین کی آواز آٸی۔ تو اس نے خود کو
سنبھالا۔
کیا ہوا ٹھیک ہو ناں۔۔۔۔۔؟
رامین نے ٹٹولتی نظروں سے پوچھا۔
ٹھیک ہوں مجھے کیا ہونا۔۔۔۔؟
نجانے کیوں آج فجر کو رامین سے نیگیٹو واٸبز آرہی تھیں۔
تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔۔۔۔
ڈاٸینگ ٹیبل پے بیٹھتے فجر نے دھیرے سے کہا۔
کیوں۔۔۔۔۔؟ رامین کامیٹر ہی گھم گیا۔۔۔۔ لیکن جلد ہی خود کو سنبھالا
میرا مطلب ۔۔۔۔ہے۔۔۔۔ ایسے کیں کہہ رہی ہو؟؟؟
انکل کو ناراض کیاہو گا۔۔۔ مجھے نہیں اچھا لگتا۔۔۔۔ تم میری وجہ سے ان سے۔۔۔!۔۔۔
فجر۔۔۔۔۔۔؟ ان کی وجہ سے میں تمہیں نہیں چھوڑ سکتی۔۔۔۔۔!۔
سارا کو تو کھو دیا۔۔۔۔۔۔اب تمہیں۔۔۔۔۔۔۔؟؟
کہتے کہتے وہ یکدم رکی۔۔اور فجر کے چہرے پر تکلیف کے آثار تھے۔
ایم سوری۔۔۔۔۔۔۔ میں تمہارا دل نہیں دکھانا چاہتی تھی۔۔۔۔
مجھے ۔۔۔۔کچھ ضروری کام ہے۔۔۔۔ میں چلتی ہوں۔۔۔۔
شاید آنے میں دیر ہو جاۓ۔۔۔۔۔
فجر اسکی بات کو اگنور کرتی اٹھی۔۔۔۔۔۔
کہاں جا رہی ہو۔۔۔۔؟
فٹ سے پوچھا۔۔۔۔
رامین۔۔۔۔۔۔۔
میرے روز و شب ایسے ہی گزرتے ہیں۔
اسلیے۔۔۔ کہاں آنا ۔۔۔۔کہاں جانا۔۔۔۔۔۔ کس وقت آنا ۔۔۔
کس وقت جانا۔۔۔۔ کوٸی پتہ نہیں۔۔۔
تم آرام سے رہو۔۔۔
کوٸی مسلہ ہوا تو کال کر لینا۔
سہولت سے کہتے وہ رامین کو کافی کچھ باور کرا گٸ۔
اور رامین خاموش ہو گٸ۔
وہ فجر کی ناراضگی فی الحال افورڈ نہیں کر سکتی تھی۔




ساری جگہ اچھے سے چھان ماری لیکن اس پارک میں انہیں کوٸی سراغ نہ ملا۔
اب کیا کیا جاٸے سر؟
ازمیرگہری سانس کھیچتے ہوۓ بولا۔
بالاج سوچ میں پڑ گیا۔
ہو نا ہو۔۔۔۔ جو بھی گڑ بڑ ہے۔۔۔ اسی پارک میں ہے۔۔۔۔
اس پارک کوسیل کر دو۔
آر یو شیور سر۔۔۔۔؟
ازمیر حیران ہوا۔
١٠٠ %
شیور۔ بالاج نے مضبوط لہجے میں کہا ۔ اور باہر کی جانب بڑھا
وہ جو چینل والے انٹرویو لے رہے تھے وہ ویڈیو کا کیا بنا۔۔۔۔۔؟
گاڑی کے پاس پہنچ کر رک کر پوچھا۔
سر۔۔۔۔ ان کا بھی عجیب فنڈا ہے۔۔۔۔ کوٸی بھی فون نہیں اٹھا رہا۔۔۔۔ ازمیر بھی پریشان ہوا۔
ٹھیک ہے ۔ پتہ کرو اس دن انٹرویو میں جو جو جواٸن تھا۔سب کو پولیس اسٹیشن لے آٶ۔۔۔
میں خود انوسٹیگیٹ کروں گا
حکم نامہ جاری کرتے وہ گاڑی میں بیٹھا۔
اور ازمیر نے ساری انفارمیشن فجر تک پہنچاٸی۔
فجر کی گاڑی ارمان کے آفس کے باہر رکی۔
اور ایک گہرا سانس لے کے وہ نیچے اتری۔
آج تین سال بعد آمنا سامنا ہو رہا تھا۔ پر اعتماد وہ تھی۔۔لیکن دل اس کا اس کے قابو میں نہ تھا۔
ایکسکیوز می۔۔۔۔ مجھے مسٹر ارمان سے ملنا ہے۔۔۔
ریسپشن پر بیٹھی لڑکی سے کہا۔
میم۔۔۔۔ آپ کو اپاٸنمنٹ ہے؟
نہیں۔۔۔۔ لیکن آپ ان سے کہیں۔۔۔۔ فجر ان سے ملنا چاہتی۔۔۔ہے۔۔۔
میم آپ ویٹ کریں پلیز۔۔۔۔ اپنے ماہرانہ انداز میں کہتی وہ انٹر کام پے ارمان کو انفارم کرنے لگی۔
ارمان جو اہم میٹنگ میں تھا۔ فجر کی آمد کا سن کر چونکا۔
ٹھیک ہوے آپ انہیں میرے آفس میں بٹھاٸیں۔ میں تھوڑی دیر تک آتا ہوں۔
میم۔۔۔۔۔ آپ سر کے آفس میں بیٹھیں۔
سر کی ایک ضروری میٹنگ ہے۔۔ تھوڑی دیر تک وہ آپ کو جواٸن کریں گے۔
فجر جو فون پر ازمیر کی بات سن رہی تھی۔ سر اثبات میں ہلایا۔
آفس کس طرف ہے؟
straight میم لیفٹ سے راٸیٹ اینڈ
مسکرا کے جواب دیا۔
فجر فون پے بات کرتے آگے بڑھی۔ کسی سے بری طرح ٹکرا گٸ۔
what is this…..?
سو سوری میم۔۔۔۔۔۔۔؟۔
وہ جو کوٸی بھی تھا عجلت میں تھا۔ اور آگے بڑھ گیا۔
فجر سر جھٹکتی ارمان کے آفس میں آگٸ۔
آفس دیکھ وہ کافی امپریس ہوٸی۔
تھوڑے وقت میں بہت زیادہ نام کما لیا تھا۔
ابھی وہ سوچ رہی تھی کہ آفس کا دروازہ کھلا اور وہ ستم گر اندر داخل ہوا۔
آج بھی اسی جاہ جلال شخصیت کا مالک تھا۔ جو اپنے ارد گرد سب پے سحر پھونکتا تھا۔
بیٹھیں ۔۔۔۔ اپنی سیٹ پر بیٹھتے اس نے نارمل لہجے میں فجر کو مخاطب کیا۔
فجر اسے دیکھتی بیٹھ گٸ۔
کیا لیں گیٸں۔۔۔؟ چاۓ یا کافی۔۔۔؟
آدابِ میزبانی نبھایا۔
کچھ نہیں ۔۔۔۔ بس آپ سے۔۔۔ کچھ بات کرنی تھی۔۔۔
فجر مہذب انداز میں بولی۔ ارمان سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
آپ ۔۔۔۔۔ میرے گھر آۓ تھے۔۔۔۔؟ سر جھکا کے پوچھا۔
۔
ارمان ایک ٹک اسے دیکھے گیا بنا کوٸی جواب دیٸے۔
فجر نے سر اٹھا کے اسے دیکھا۔
آپ نے جواب نہیں دیا۔۔۔۔۔۔ دوبارہ سے سوال پوچھا۔
کیا جاننا چاہتی ہو؟؟؟
طنا نظر ہٹاۓ سوال پے سوال کیا۔
آ۔۔۔۔۔۔پ ۔۔۔کیوں آۓ تھے؟؟؟
اب کے لہجہ تھوڑا سخت تھا۔
ارمان نے لمبی سانس خارج کی
ایمن۔۔۔۔۔۔ میری بہن۔۔۔۔۔ ہے اور 2 دن سے مسنگ
ہے۔۔۔۔۔۔ ہر جگ تلاش کرلیا۔۔۔۔۔ پولیس نے بھی پوری کوشش کر لی۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔ سب بے کار۔۔۔۔۔
پھر ۔۔۔۔ ایک رات ۔۔۔۔ unknown نمبر سے۔۔ مجھے فون آتا ہے۔۔۔۔
وہ مجھے تمہارا ایڈریس دیتا ہے۔۔۔۔۔
اور کہتا ہے کہ تم سے ملوں۔۔۔ تم میری مدد کرو گی۔۔۔ میری بہن کو ڈھونڈنے میں۔۔۔۔۔
اپنی بہن ۔۔۔۔ کی خاطر۔۔۔۔ میں بنا وقت کا تعین کیے۔۔۔۔ تمہارے گھر ۔۔۔گیا۔۔۔
لیکن۔۔۔۔
تم ۔۔۔ بے ہوش تھی۔۔۔ تمہیں سانس نہیں آرہی تھی۔۔۔
ارمان نے وقفہ کیا اور فجر کے چہرے کی طرف دیکھا
۔جو زمین کو گھورے جا رہی تھی۔
اور اس ایک لمحہ میں۔۔۔۔۔ میں نے واپسی کا فیصلہ کیا۔
یہ سوچ کر کے۔۔۔۔ جو لڑکی خود موت کے منہ میں ہو۔۔۔۔ وہ کسی اور کی کیا مدد کر سکتی ہے۔۔۔؟
ارمان کے لہجے میں کچھ تھا جس نے فجر کو بری طرح ہرٹ کیا۔ اور اسے غصہ آگیا۔
آپ کی بہن کی تصویر ہے آپ کے پاس۔۔۔۔۔؟
ایک مکانیکی انداز میں پوچھا۔
کچھ توقف کے بعد ارمان نے موباٸیل کی گیلری سے تصویر فجر کے سامنے کی۔ ۔
تصویر دیکھ۔۔۔۔۔ فجر کو رات والے منظر پھر سے نظر آنے لگے۔۔۔ یہ وہی لڑکی تھی۔۔۔۔ جس نے فجر کا گلا دبایا تھا۔
فجر ایک جھٹکے سے کھڑی ہوٸی۔۔ موباٸیل ہاتھ سے گر گیا۔
فجر ایسے پیچھے ہوٸی جیسے بچھو دیکھ لیا ہو۔۔۔
ہڑ بڑ ی میں وہ دروازے کی طرف بڑھی۔۔لیکن بیچ راستے میں ہی ارمان نے روک لیا۔
کیا تھا۔۔۔ یہ سب۔۔۔۔؟
تم۔۔۔۔ ایسے نہیں جا سکتی۔۔۔۔ !!
چھوڑیں مجھے۔۔۔۔۔ فجر نے زبردستی خود کو چھڑایا۔۔
بتاٶ ۔۔۔۔میری بہن کہاں ہے۔۔۔۔؟
دروازہ کی طرف بڑھتے قدموں کو وہیں روکا اور غراتے ہوۓ سوال کیا۔
میں۔۔۔۔ میں۔۔ نہیں جانتی۔۔۔۔ مجھے جانے دیں۔
