Khoni Jhula by Muntaha Chohan NovelR50513 Khoni Jhula (Episode 12)
Rate this Novel
Khoni Jhula (Episode 12)
Khoni Jhula by Muntaha Chohan
دروازے پے ہوتی دستک نے عظمت باباکو گہری نیند سے جگا دیا۔۔
وہ ابھی فجر کی نماز اور دعاٸیں پڑھ کے لیٹے تھے۔
اس وقت کون آگیا۔۔۔۔۔؟؟
اٹھ کے دروازہ کھولا۔
سامنے ایک سوٹڈ بوٹڈ شخص کو دیکھ حیر ان ہوۓ۔
کون۔۔۔۔۔؟؟ کس سے ملنا ہے آپ کو۔۔۔۔؟؟
عظمت بابا نے حیران ہوتے پو چھا۔
کامران۔۔۔۔!!
یک لفظی جملہ بول کے ارمان نے سامنے بابا کی جانب دیکھا۔
جن کے چہرے پے ایک سایہ آ کے گزرا۔
آ۔۔۔۔پ۔۔۔۔کون۔۔۔ہیں۔۔۔؟؟
ہکلاتے پوچھا۔
کیا۔۔۔ میں اندر آسکتا ہوں۔۔؟؟
ارمان نے سنجیدہ اور مہذب اننداز میں پوچھا۔
کچھ سوچتے ہوۓ عظمت بابا ساٸیڈ پے ہوۓ۔
ارمان نے گھر کے اندر قدم رکھا۔ تو ایسا لگا۔ جیسے کوٸی آندھی اندر داخل ہوٸی ہے۔
اپنے باٸیں ہاتھ ے اپنی داٸیں کلاٸی کو پکڑا اور اس ہاتھ ملا۔
اس کی کلاٸی پے کنندہ اللہ کا نام جگمگا رہا تھا۔
ماتھے کے بل نمایا ں تھے۔
آپ۔۔۔ کو کامران سے کیوں۔۔۔۔ ملنا ہے۔۔۔۔؟؟
عظمت بابا نے گھبراتے پوچھا۔
یہ تو اس سے ملنے کے بعد ہی بتاٶں گا۔۔۔
آپ پلیز ۔۔۔ اسے بلوا دیں۔۔۔۔
ارمان نے گہرا سانس کھینچتے ہوۓ کہا۔
وہ۔۔۔۔۔وہ۔۔۔ یہاں۔۔۔ نہیں ہے۔۔۔۔!!
زبان نے ساتھ نہ دیا۔ ارمان کو ایک لمحے میں پتہ لگ گیا وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔
آپ۔۔۔۔ بلوادیں۔۔۔ اسے۔۔۔۔ تو۔۔۔ مہربانی ہوگی۔۔۔۔!!
ارمان نے خود پے ضبط کرتے کہا۔
آپ۔۔۔۔۔ یہاں۔۔۔۔ سے۔۔۔ چلے جاٸیں۔۔۔۔!! وہ یہاں۔۔۔ نہیں رہتا۔۔۔!!
اب کے اکھڑے لہجے میں کہا۔ تو ارمان نے لب بھینچے۔
دیکھیں۔۔۔۔!! بنا کامران سے ملے میں یہاں سے نہیں جانے والا۔۔۔۔!!
ارمان نے پختہ لہجے میں کہا۔۔
تو عظمت بابا چپ سے ہوگۓ۔
تبھی کہیں سے شور کی آواز سناٸی دی۔
جیسے کوٸی چلا رہا ہو۔
عظمت بابا گھبرا گۓ۔
یہ۔۔۔۔۔ آوازیں کیسی ۔۔۔ہیں۔۔۔۔؟؟
ارمان نے حیرت سے پوچھا۔
اور جہاں سے آوازیں آرہی تھیں۔ اس طرف رخ کیا۔ عظمت بابا بھی پیچھے ہو لیے۔
آپ۔۔۔۔۔ رکیں۔۔۔!! ادھر مت جاٸیں۔
آوازیں ایک روم سے آرہی تھیں۔ روم کو باہر سے تالا لگا ہوا تھا۔
یہ۔۔۔ کھولیں۔۔۔!! ارمان نے سنجیدہ انداز میں کہا۔
نہیں۔۔۔۔۔ بیٹا۔۔۔۔!! پلیز۔۔۔ آپ جاٸیں۔۔۔ یہاں سے۔۔۔۔!!
عظمت بابا کی آنکھیں نم ہونے لگیں۔
آپ۔۔۔۔۔!! کھولیں گے۔۔۔ یا ۔۔۔ میں۔۔۔۔ توڑ دوں۔۔۔۔؟؟
ارمان نے غصہ ضبط کرتے کہا۔
عظمت بابا نے کانپتے ہاتھوں سے تالا کھولا۔
ان کے ہاتھ لرز رہے تھے۔
اندر سے عجیب و غریب آوازیں آرہی تھیں۔
ارمان نے آگے بڑھ کے پورا دروازہ کھول دیا۔
سورج کی روشنی اندر داخل ہوٸی۔
سامنے کونے میں ایک خوب صورت نوجوان سر جھکاۓ بکھری حالت میں بیٹھا تھا۔
وہ لمبے لمبے سانس لے رہا تھا۔ اور مسلسل زمین کو گھورے جا رہا تھا۔
ارمان نے پلٹ کر عظمت بابا کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
وہ منہ پے ہاتھ رکھے رو دیٸے۔
اتنےمیں وہ شخص پھر سے زمین پر کچھ لکھنےلگا۔
اپنے ہاتھوں سے۔۔۔۔ وہ ہوامیں لکھے جا رہا تھا۔ اور عجیب سی آوازیں نکال رہا تھا۔
یہ۔۔۔۔۔۔۔کون۔۔۔۔ ہے۔۔۔۔۔؟؟
ارمان بمشکل بول پا رہا تھا۔
بیٹا۔۔۔۔۔!! یہی۔۔۔ تو کامران ہے۔۔۔۔۔۔!! میرا۔۔۔ اکلوتا۔۔۔۔ بیٹا۔۔۔۔!! کہتے وہ رو دیۓ۔۔
جبکہ ارمان کےپیروں تلے سے تو زمین ہی نکل گٸ۔
*********************
رامین کافی دیر سے فجر کاانتظار کرہی تھی۔
وہ صبح سے غاٸب تھی۔ اور رامین کو یہی لگ رہا تھا وہ ارمان کے ساتھ ہوگی۔
کافی دفعہ کال کی۔ لیکن فجر نے نہ اٹھاٸی۔
اب تو غصہ حد سے بڑھ گیا تھا۔
کچھ کھا یا پیا بھی نہیں جا رہا تھا۔
فون کال پے اچانک دھیاں گیا۔ جو مسلسل بج رہا تھا۔
ہاں۔۔۔ بو لو۔۔۔۔؟؟ کیا تکلیف ہے۔۔۔۔؟؟
لٹھ مارنے والے انداز میں کہا۔
کہاں ہے۔۔۔ وہ ۔۔۔ پہنچی نہیں۔۔۔۔ابھی بھی کیا۔۔۔؟؟
کہاں۔۔۔۔؟؟؟ کب سے انتظار کر ہی ہوں۔۔۔۔!! فون بھی نہیں اٹھا رہی۔
ٹھیک ہے جیسے آۓ۔ وہ اسے پلا دینا۔۔۔۔ سمجھی۔۔۔!!تمہارا کام ہو جاۓ گا۔ اور میرا بھی۔
مکارانہانداز سے وہ ہنسا۔
ہاں ہاں۔۔۔ !! پتہ ہے۔۔۔!! رامین نے فون بند کیا۔
ایک بار۔۔۔ ایک بار۔۔ مجھے۔۔۔ ان طاقتوں کا پتہ چل جاۓ۔۔۔ جو فجر کے پاس ہیں۔۔۔۔!!
اسی وقت۔۔۔ اسکی جان لے لوں گی۔۔۔!!
اور وہ ارمان۔۔۔۔۔!! اسے تو۔۔۔ ایسی موت ماروں گی۔۔۔۔!! کہ پناہ مانگے گا۔۔۔!!
کیونکہ رامین کا ڈسا۔۔۔۔ پانی بھی نہیں مانگتا۔۔۔!!
ہاہاہاہاہاہ۔۔۔۔ہاہاہا۔۔۔
وہ پاگلوں کی طرح ہنسے جا رہی تھی۔
آنے والے وقت سے بے خبر۔۔۔۔وہ اپنی پلاننگ ہی کیے جا رہی تھی۔
یہ بھو ل گٸ تھی کہ اوپر والا سب سے بڑا پلانر ہے۔
اس کی اجازت کے بنا تو ا یک پتہ بھی اپنی جگہ سے نہیں ہل سکتا۔۔
**************
فجر ، ازمیر اور بالاج اس وقت پارک میں موجود تھے۔
ثمرہ کو علی نے نیند کاانجکشن دے کے سلا دیا تھا
۔نیناں اس کے پاس تھی۔
جبکہ انور کو ہاسپٹل ایڈمٹ کر دیا تھا۔ وہ خطرے سے تو باہر ےتھا۔لیکن اسے ہوش نہ آرہا تھا۔
رفیق ابھی بھی ڈرا سا گھبرایا سا وہیں موجود تھا۔
جب۔۔۔۔ وہ کانسٹیبل غاٸب ہوا۔ تو تب۔۔ آپ کہاں۔۔۔ تھے۔۔۔۔؟؟
فجر نے پورے پارک پے ایک نظر ڈالتے سوال کیا۔
جی۔۔۔۔۔یہیں۔۔۔۔!!
رفیق گھبرا کے بولا۔
اس کے غاٸب ہونے سے ۔۔۔ پہلے۔۔۔ کیاکچھ ہوا۔۔۔تھا۔۔۔؟
کچھ بھی۔۔۔۔!! جس نے آپ کو۔۔۔ چونکایا ہو۔۔۔؟
فجر نے ایک جگہ کو نظروں سے فوکس کرتے پوچھا۔
تو رفیق۔۔۔ نے پسینہ صاف کرتے ساری بات بتا دی۔
فجر کی آنکھو ںمیں وہ لمحے ایک فلم کی طرح چلنے لگے۔ جیسے اسے وہ سب ہوتا نظر آرہا تھا۔
وہ۔۔۔ بلی نہیں۔۔۔۔ تھی۔۔۔۔!
اچانک فجر بولی تو بالاج ازمیر سمیت وہ رفیق بھی چونکا۔
فجر نے اپنے بیگ میں ایک لاکٹ نکالا۔
اس پے اللہ کا نام جگمگا رہا تھا۔
اس نے اس پے کچھ پڑھا۔ا ور رفیق کے حوالے کیا
اسے اپنے پاس رکھنا۔
ہو سکتا ہے۔۔۔ وہ کالی طاقت۔۔۔ تمہیں۔۔۔۔ تنگ کرے۔۔۔!!
لیکن اس لاکٹ کے ہوتے۔۔۔ وہ تمہیں ۔۔۔ کوٸی نقصان نہیں پہنچا پاۓ گی۔۔۔!!
فجر سے لاکٹ لیتے رفیق نے اسے چوما۔ اوراپنی آنکھوں سے لگایا۔
اللہکا نام دیکھتے اسکی آنکھیں نم ہوٸیں۔ اسے ایسا لگا۔ اللہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا ہو۔
فجر نے ویسا ایک لاکٹ ثمرہ کو بھی پہنا یا تھا۔
پارک کےاندر چلیں۔۔۔۔؟؟ ایک عزم کے ساتھ کہتی وہ بالا ج اور ازمیر سے مخاطب ہوٸی۔
بالاج نے اثبات میں سر ہلایا۔ اور وہ تینوں اندر کیجانب بڑھے۔
گیٹ سے انٹر ہوۓ تو ہوا کاایک تیز جھونکا ان تینوں کو چھو کے گزرا ۔۔ کہ وہ لرز گٸے۔
فجر وہیں رکی۔
آپ۔۔۔۔۔!! دونوں ۔۔۔ یہیں۔۔۔ باہر رکیں۔
جب تک میں اندرنہ بلاٶں۔۔۔!! آپ نے اندر نہیں آنا۔۔۔!!
فجر نے انہیں وہیں روک دیا۔
فجر اتنا جان گٸ تھی۔ کہ وہ کالی طاقت کے راز کو جاننے پے اس کے ساتھ بالاج اور ازمیر کو نقصان نہ پہنچاۓ۔
وہ وہیں رک گٸے۔
فجر اکیلے اندر داخل ہوٸ۔
پارک بہت بڑا نہیں تھا۔
لیکن اسکی پر اسرار خاموشی فجر کو چونکا رہی تجھی۔
ایک ہی نظر میں اس نے پورے پارک کے ایک ایک کونے کو دیکھ لیا تھا۔
اس کے قدم خود بخود آگے بڑھنے لگے۔
اور اس جگہ پہنچے جہاں۔۔۔ اس نے اپنی بہن کو دیکھا تھا۔۔۔!!
ہاں۔۔۔ یہ ۔۔ وہی ۔۔۔۔ جگہ۔۔۔ ہے۔۔۔۔ جو مجھے خواب میں آٸی تھی۔۔۔!!
سارا۔۔۔۔۔!! دل پھر سے دکھ سے بھر گیا۔
وہ پھر سے جذبات ک رو میں بہنے لگی۔ اور یہی اسکی سب سے بڑی کمزوری تھی۔
******************
Leave me…. !!
i sai leave me……!!
ٹینا کو زبردستی وہ لوگ وہاں سے کھینچ کے لے کے جارہے تھے۔
وہ رو رہی تھی۔
چلا رہی تھی۔
لیکن کوٸی اسکی فریاد نہیں سن رہا تھا۔
گورنس بھی زخمی حالت میں زمین پے بے ہوش پڑی تھیں۔
وہ اکیلی ان درندوں سے خود و چھرڑانے کی کوشش کر رہی تھی۔
ہاں۔۔۔ وہ معصوم۔۔۔۔
چھوٹی سی۔۔۔
اپنی دنیا میں مگن رہنے والی۔۔۔
بن ماں باپ کے وہ معصوم بچی۔۔۔
اسے اس کے سوتیلے باپ نے بیچ دیا تھا۔۔۔
وہ تڑپ رہی تھی۔
رو رہی تھی۔۔۔
لیکن ان درندوں نے اسے نہ چھوڑا۔
اور اسے انی درندگی کا نشانہ بنایا۔
وہ کالے لباس میں تھی۔۔۔۔
اس کا من پسند لباس۔۔۔۔
وہ لہو لہان ہوگٸ تھی۔۔۔
لال رنگ۔۔۔
جس سے وہ نفرت کرتی تھی۔۔
ہاں۔۔۔ اسے لال رنگ سے نفرت تھی۔
اس معصومکی معصومیت چھین لی تھی۔
وہ تین ہٹے کٹے درندے تھے۔۔۔ جہنوں نے ایک پل بھی نہ سوچا۔ اور اس معصوم کو نوچ ڈالا۔
وہیں۔۔۔ اس کا بےضمیر سوتیلا باپ بیٹھا پیسے گن رہا تھا۔ اور بہت خوش تھا۔
آج اتنے عرصے بعد وہ اس چیک کو کیش کر پایا تھا۔
پوری پلاننگ کے ساتھ۔
وہ تو واقعی۔۔۔ بے ضمیر نکلا۔
اس کا دل نہ دھڑکا۔
اسکے اندر کے شیطان نے سر ابھارا۔
وہ تو تھا ہی شیطان۔۔۔۔
مسلمان نہ تھا۔۔۔
دین ایمان نہ تھا۔۔۔۔
اور جب دین ایمان ہو ہی نہ تو۔۔۔۔
شرم کیسی۔۔۔۔۔
حیا کیسی۔۔۔۔۔۔؟
اسکی ماں ۔۔۔۔ مسلمان تھی۔۔۔۔
باپ کرسچن تھا۔۔۔
لیکن ٹینا نے اپنی ماں کو صرف چار سال تک ہی محسوس کیا۔
اس کے بعد اس بے ضمیر شخص نے اپنی بیوی کو بھی بیچ ڈالا۔
بہت روٸی۔۔۔۔ اسکی بیوی۔۔۔
لیکن بے ضمیر لوگوں کے ضمیر بھلاکب جاگے ہیں۔۔۔
کب سنی گٸ انکی فریاد۔۔۔
ان کی تو بس آہ ہی جاتی ہے عرش پر۔۔۔۔
اور دکھی دل کی آہ تو عرش کوبھی ہلا دیتی ہے۔
وہ اپنی ضرورت اور حاجت پوری کر کے جا چکے تھے۔
وہ اوندھے منہ گری پیٹ پے ہاتھرکھے درد سے کراہ رہی تھی۔
وہ بے بسی اور لاچاری کی مورت بنی خود کو گھسیٹتی ہوٸی گورنس تک لے کے آٸی۔
مممممم۔۔۔۔ددددد!! پللللیییییی۔۔۔۔۔۔ییییز۔۔۔۔ ویک۔۔۔۔ اپ۔۔۔۔!!
اس نے انہیں بہت ہلایا جلایا۔۔
لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوٸیں۔
وہ بھی تو اپنی زندگی ہار گٸیں تھیں۔ آج۔۔۔۔۔۔۔!!
کتنا سنبھال کے رکھا تھا انہوں نے اس موتی کو۔۔۔۔
آج۔۔۔ وہ چکنا چور ہو گیا۔۔۔۔
سب ختم ہوگیا۔۔۔
ٹینا نے اس اتنے بڑے گھر میں خود کو اکیلا پایا۔
یہاں تو کوٸی نہیں آتا جاتا تھا۔
نہ ہی کبھی ٹینا اس گھر سے باہر گٸ تھی۔
وہ خود کو گھسیٹتی اپنے بچپن کے ساتھی جھولے کے پاس لاٸی تھی۔۔۔۔!!
اور اپنا سر۔۔۔اسکی سیٹ پے رکھا۔
ایسے جیسے ایک بچہ اپنا سر اپنی ماں کی گود میں رکھتا ہے۔۔۔
اورماں اسے تھپکیاں دے کے سلاتی ہے۔۔
وہ بھی وہیں روتے ہوۓ اس جھولے میں اپنی ماں کو ڈھونڈتی دنیا جہاں سے بے خبر اپنی ابدی نیند کی جانب قدم بڑھا چکی تھی۔
اسے طبی امداد کی ضرورت تھی۔
لیکن کوٸی بھی تو نہ تھا۔۔۔ جو اسکی مدد کو آتا۔۔۔!!
اور وہ۔۔۔ اپنی عزت کے ساتھ اپنی زندگی بھی ہارتی چلی گٸ۔
***************************
ہوا۔۔۔ کیا تھا۔۔۔۔؟؟
مجھے۔۔۔۔ سب جاننا ہے۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔مجھے سب۔۔۔ بتاٸیں۔
ارمان عظمت بابا کے ساتھ ان کے روم میں آتا وہ سوال کر گیا۔
بیٹا۔۔۔۔!! یہ اس منخوس رات کو سب۔۔۔۔ ہوا۔۔۔۔!!
جب۔۔۔۔ کامران۔۔۔۔۔۔ بہت دیر سے گھر آیا۔۔۔۔
بابا کی آنکھوں نم ہوگٸیں۔
بابا۔۔۔۔ بابا۔۔۔۔ درواہ کھولیں۔۔۔۔!!
عظمت بابانے کامران کی آواز سنتے فوراً دروازہ کھولا۔
کامران نے اندر آتے ہی دروازہ بند کیا
وہ بہت گھبرایا ہوا تھا۔
بابا ۔۔۔۔۔!! بند کردو۔۔ سب۔۔۔۔ بند کردو۔۔۔ دروازے۔۔۔ کھڑکیاں۔۔۔۔۔سب۔۔۔۔
بیٹا۔۔۔۔۔!! ہوا۔۔۔۔کیا۔۔۔۔ہے۔۔۔؟؟
بابا گھبراۓ۔
وہ۔۔۔۔ وہ۔۔۔ آجاۓ گی۔۔۔۔۔!
وہ مجھے۔۔۔۔مار دے گی۔۔۔۔!! بابا ۔۔۔۔ مجھے۔۔۔ بچا لو۔۔۔۔!!
کامران رو رہا تھا۔۔۔ وہ کبھی نہیں رویا تھا۔
عظمت بابا ا کے آنسو دیکھ خود بھی رو دٸے۔
بیٹا۔۔۔۔۔!! کوٸی۔۔۔ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔!!
ہے۔۔۔ بابا۔۔۔۔۔!! وہ ہے۔۔۔۔۔!!
کامران چلایا۔ بابا سہم گۓ۔
وہ ۔۔۔۔ میرے۔۔۔ پیچھے ۔۔۔۔ آرہی ہے۔۔۔۔!! وہ مار دے گی مجھے۔۔۔۔۔!!
مار۔۔۔ دے گی مجھے۔۔۔ وہ ۔۔!! بابا۔۔۔۔۔ مجھے ۔۔۔ بچا لو۔۔۔۔۔!!
بچا لو۔۔۔۔!!وہ رو رہا تھا۔۔۔ تڑپ رہا تھا۔
کچھ پل خاموشی چھا گٸ۔
بابا نے اپنے آنسو صاف کیے۔
پھر۔۔۔۔۔۔ پھر ۔۔۔کیا ہوا۔۔۔۔؟؟
ارمان نے ان کی طرف دیکھتے پر سوچ انداز میں پوچھا۔۔
اس رات ۔۔۔۔۔ وہ بہت رویا۔۔۔۔
ساری رات روتا رہا۔۔۔۔۔
ڈرتا رہا۔۔۔۔
ساری رات ۔۔۔۔ میں اس کے پاس بیٹھا رہا۔۔۔۔۔
لیکن وہ۔۔۔ صبح جا کے کہیں سویا۔
میں نے نماز ادا کی۔ اور جب واپس اس کے پاس آیا۔۔۔
تو۔۔۔۔۔!!
اس نے مجھ پے حملہ کیا۔۔۔!!
میرا گلہ دبایا۔۔۔۔
بہت۔۔۔ مشکل سے۔۔۔ میں نے خود کو بچایا۔۔۔اور اسے۔۔۔ وہاں۔۔۔ بند۔۔۔ کر دیا۔۔۔
اور۔۔۔۔ آج۔۔۔ تک ۔۔۔وہ وہاں۔۔۔ بند ہے۔۔۔۔!!وہ روز۔۔ روتا۔۔۔ ہے۔۔۔چلاتا ہے۔۔۔۔۔ مدد مانگتا ہے۔۔۔۔!! خلاٶں میں گھورتا ہے۔۔۔۔
ہاتھوں کی انگلیوں سے کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا ہے۔
مجھ سے بات۔۔۔۔ نہیں کرتا۔۔۔۔
کچھ۔۔۔ بھی۔۔۔ کھاتا۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔
میں۔۔۔ ہار گیا۔۔۔ ہوں۔۔۔
کسی سے کچھ بھی نہیں کہہ سکتا۔۔۔۔!!
کامران کے علاوہ۔۔۔ میرا کوٸی نہیں۔۔۔۔
اور۔۔۔ اسے۔۔۔ اس حالت میں۔۔۔ دیکھ۔۔۔۔!!
ارمان نے انہیں تھپکی دے کے حوصلہ دیا۔
اللہ خیر کرے گا۔۔۔۔!! اللہ پے بھروسہ رکھیں۔ وہ ہمیں ہماری طاقت سے زیادہ کبھی بھی نہیں آزماتا۔
اور ۔۔۔۔ جو مشکل وقت میں صبر کا دامن تھامے رکھتا ہے۔۔۔۔!! وہی تو اللہ کا پیارا بندہ ہوتا ہے۔۔۔!!
یہ۔۔ آزماٸش ہے۔۔۔۔!! آپ ۔۔۔کی۔۔۔!!
بس ۔۔۔ اللہ سے دعا کریں۔۔۔!!
اور اللہ سے اچھا گمان رکھیں۔۔۔
ارمان انہیں لفظوں کے سحر میں جکڑتا چلاگیا۔
اور ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا آیا تھا۔
اس کے الفاظ کو اللہ نے سحر بخشی تھی۔۔ جو بولتا تھا۔۔ وہ ہو جاتا تھا۔
اللہ نے اسے اپنے بہت قریب کے لوگوں میں رکھا تھا۔
اور اسے چنا تھا۔ایک نیک مقصد کےلیے۔۔۔۔
جس سے وہ ابھی تک انجان تھا۔ لیکن انجانے میں ہی وہ اس مقصد کو آگے بڑھا رہا تھا۔
**************************
ارمان نے باہر نکلتے بالاج کوکال ملاٸی۔
مجھے تم۔۔۔۔ سے ملنا ہے ابھی۔۔۔!!
ہم۔۔۔۔ اس وقت نیو۔۔۔ ایور پارک میں ہیں۔۔۔!! یہیں آجاٶ۔۔
ہم۔۔۔۔۔؟؟ اور بھی ہے کوٸی ساتھ۔۔۔؟؟
ارمان گاڑی میں بیٹھتا حیران ہوتا پوچھنے لگا۔
ہاں۔۔۔۔!!میں۔۔۔ ازمیر۔۔۔ اور ۔۔۔۔ ایک لڑکی ہے۔۔۔۔۔!!
فجر۔۔۔۔!!
فجر کے نام پے ارمان کو چار سو چالیس واٹ کا کرنٹ لگا۔
وہ۔۔۔۔ وہ کیوں ہے ساتھ میں۔۔۔؟؟
انداز تیکھا تھا۔
یار۔۔۔۔!! بات بہت لمبی ہے۔۔۔۔!! تمہیں میں ایڈریس سینڈ کرتا ہوں۔ تم پہنچو۔۔۔۔!! پھر بات کرتے ہیں۔
بالاج کا فون بند ہو چکا تھا۔
ایک لمحے کی دیری کیے بنا اس نے گاڑی اسٹارٹ کی۔
فجر کے لیے آج بھی دل کی دنیا ویسی ہی تھی۔
موباٸیل پے میسج ٹون بجی۔
موباٸیل اٹھا کے ایڈریس دیکھا۔
جبکہ ماغ میں صرف فجر ہی سماٸی ہوٸی تھی۔
*************************
وہ وہیں کھڑی تھی آنکھوں میں آنسو لیے۔
کہ ایک دم سے اندھیرا چھانے لگا۔فجر فوراً ہوش و حواس میں واپس لوٹی۔
وہ اپنے مقصد سے ہٹ نہیں سکتی تھی۔
فوراً خود کے گرد ایک حصار کھینچا۔
کچھ ہی دیر میں گھپ اندھیرا چھا گیا۔
اس کے گلے میں اللہ کے نام کا لاکٹ جگمگانے لگا۔
کسی لڑکی کے کھلاکھلا کے ہنسنے کی آوازیں آنے لگیں۔
فجر نے داٸیں باٸیں رخ کر کے باری باری احتیاط سے دیکھا
اس نے اپنا ورد بھی جاری رکھا ہوا تھا۔
تبھی ہوا کا تز جھونکا فجر سے ٹکرایا۔
فجر بری طرح لرز گٸ۔
آنکھیں بند کرتے جھرجھری لی۔
ہنسنے کی آوازیں بند ہوگٸیں۔
اب رونے کی آوازیں آنے لگیں تھیں۔
بہت بے دردی سے جیسے کٸی کسی کو مار رہا ہوتا ہے۔
وہروۓ جا رہی تھی۔
ایک درد تھا اس کے رونے میں۔۔۔
ایک تکلیف کا احساس تھا۔
فجر سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
ساتھ میں غرانے کی آواز بھی آنے لگی۔ جیسے کوٸی کسی کو ڈرا رہا ہو۔۔۔ دھمکا رہا ہو۔۔۔۔
وہ کچھ کہہ رہی تھی۔
فجر کو اسکی زبان سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔
ایک دم سے آندھی طوفان چھا گیا۔۔۔
ہر طرف دھول مٹی کے بگولے جمع ہونے لگے۔
آنکھوں کے سامنے کا منظر دھندلا ہونے لگا۔
فجر نے ہاتھوں کو ہوا میں بلند کیا۔ اور اس بگولے کو روکنا چاہا۔
کہ تبھی۔۔۔ سامنے وہ۔۔۔۔ ایک معصوم سی سادہ سی پری پیکر نظر آٸی۔۔
وہ بہت خوب صورت لڑکی تھی۔
کالے لباس میں تھی۔۔۔۔
فجر اس کی خوبصورتی میں کھو سی گٸ۔
دیکھتےہی دیکھتے سا لڑکی کا چہرہ بگڑنے لگا۔۔
پورا چہرہ بد رنگا ہوگیا۔
اور خون آلود ہونے لگا۔
بہت ہی ڈراٶنا سا۔۔۔۔ کہ فجر کا دل دھل گیا۔
اس لڑکی نے فجر کی طرف پیش قدمی کی۔
فجر پے تو سکتا طاری ہو گیا تھا۔
******************
کہاں۔۔۔ ہے۔۔۔ فجر۔۔۔۔؟؟
ارمان نتے گاڑی گیٹ پے روکتے ہی پوچھا۔
وہ۔۔۔۔۔وہ اندر ہے۔۔۔۔!! ازمیر پریشان سا لگا۔
ارمان اندر کی جانب بڑھا۔
رکو۔۔۔۔!! ارمان۔۔۔!!
فجر نے منع کیا تھا۔۔۔ کہ اندر نہیں جانا۔۔۔۔ اندر خطرہ ہے۔۔۔!! جب تک وہ کہے ناں۔۔۔!! ہمیں۔۔ یہیں ویٹ کرنا ہوگا۔۔۔
بالاج نے اسے روکا۔
وہ آپ کے لیے ہوگا۔۔۔۔!!
ارمان ملک کے لیے نہیں۔۔۔۔!!
ارمان نے ایک عزم سے کہتےپارک کے گیٹ کو وا کیا۔ اور قدم اندر رکھا۔
اس کے قدم رکھتے ہی ایک طوفان کے آنے کا سندیسہ ملاہو۔۔۔۔!!
جاری ہے۔۔
