Khoni Jhula by Muntaha Chohan NovelR50513 Khoni Jhula (Episode 08)
Rate this Novel
Khoni Jhula (Episode 08)
Khoni Jhula by Muntaha Chohan
با۔۔۔۔۔۔لا۔۔۔ج۔۔۔۔۔۔۔
بمشکل لفظ منہ سے نکلا۔ ۔۔۔
بالاج کی بھی آنکھ کھل گٸ۔۔ اس نے ثمرہ کی طرف دیکھا۔
اس کے چہرے پے ہواٸیاں اڑی ہوٸیں تھیں۔
کیا ہوا۔۔۔ ثمر۔۔۔۔۔۔ تم۔۔۔۔ ٹھیک۔۔۔ ہو ناں؟؟؟
فوراً سے پیشتر۔۔۔ ثمرہ کے قریب آیااور اسکا چہرہ اپنے
ہاتھوں میں لیا۔۔۔ لیکن ثمرہ کی نظریں سامنے تھیں۔ اور ایک ڈر اور خوف تھا۔
بالاج نے اسکی نظروں کے رخ پے دیکھا۔ لیکن وہاں کوٸی نہ تھا۔
مڑ کر ثمرہ کو دیکھا۔ وہ ابھی بھی وہیں دیکھ رہی تھی۔
بالاج کو کچھ انہونی کا احساس جاگا۔ اس نے آیة الکرسی پڑھی۔
ثمرہ اور پورے کمرے میں پھونکا۔
ایکدم ثمرہ کی آنکھیں بند ہوٸیں۔ اور وہ بالاج کی بانہوں میں جھول گٸ.




فجر اور ارمان اندر تو آگۓ لیکن انہیں کہیں بھی رامین دکھاٸی نہ دی۔
اے اللہ۔۔۔۔ وہ کہاں ہے۔۔۔۔۔؟؟؟
میری مدد فرما۔۔۔۔۔
فجر نے روم میں دیکھا وہ نہ ملی۔۔۔
ڈراٸینگ روم کی جانب بڑھی۔۔۔ لیکن اسکا دروازہ اندر
سے بند تھا۔۔ پلٹ کر ارمان کو دیکھا۔۔۔
یہ نہیں کھل رہا۔۔۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔اندر ہے۔۔۔۔
فجر کی آنکھوں میں آنسو آگۓ۔
ارمان آگے بڑھا۔
دروازہ واقعی لاک تھا۔۔۔۔
یہ تو لاک ہے۔۔۔۔۔۔؟
فجر نے اپنے آنسو صاف کیے۔
اور پیچھے ہٹی۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔ا گر ایسے۔۔۔۔ تو ایسے ہی سہی۔۔۔۔۔
ایک پختہ یقین سے اس نے اپنے ہاتھوں کو ہوا میں بلند کیا۔ ارمان اسے بس دیکھے گیا۔
اس کے ہاتھوں سے ایک روشنی نکلی۔اور دروازہ کو ایک جھٹکے سے کھول دیا۔
لیکن اس میں فجر کی بہت انرجی لگی۔
یہ۔۔۔۔۔۔۔ تم۔۔۔۔ نے کیسے۔۔۔۔ کیا؟؟؟۔
ارمان نے حیرت سے پوچھا۔
فجر نے ایک نظر اسے دیکھا۔ اور اندر داخل ہوٸ۔
لیکن وہیں دروازے میں قدم رک گۓ۔ سامنے وہ بد نما چہرے والی لڑکی تھی۔
اور رامین اسی کے آگے فرش پے بے ہوش پڑی تھی۔
فجر نے غصے سے اسے دیکھا۔
اس بدنمالڑکی کے چہرے پے بھی غصہ تھا۔
آنکھیں اسکی بس ظاہری تھیں۔ وہ بھی بہت بڑی۔۔۔۔
باقی کا چہرہ بہت عجیب طرح کا تھا۔
ابھی۔۔۔ اسی۔۔۔ وقت میرے گھر سے ۔۔نکل جاٶ۔۔۔۔
فجر نے اسے للکارا۔
لیکن وہ بھی بہت زور سے غراٸی۔
ارمان کو یہ سب ایک خواب لگ رہا تھا۔
اس لڑکی نے اچھل کر فجر پے حملہ کرنا چاہا۔ ارمان نے فجر کو فوری دوسری طرف دھکا دیا۔ اور خود اس کے الگ ساٸیڈ گرا۔
فجر نے خود کو سنبھالا۔اور جوابی کارواٸی کے لیے حوصلہ بلند کیا۔
اور ہوا میں ہاتھ اٹھا کے روشنی کا ایک بڑا گولہ اسے مارا۔
لیکن وہ بھی اچھل کر دیوار پے جا بیٹھی۔ اور گردن داٸیں باٸیں ہلا کے۔۔ فجر پے پھر سے حملے کے لیے تیار ہوٸی۔
لیکن اس بار فجر بھی تیار تھی۔
اس نے فجر پے چھلانگ لگاٸی۔ فجر نے روشنی اس کی طرف اچھالی۔
اور دونوں ہی اک دوسرے سے دور جا گریں۔۔۔
ابھی فجر سنبھلتی کہ وہ پھر سے اٹیک کر نے لگی
۔فجر نے وہیں بیٹھے ہوۓ۔۔ ایک ہاتھ سے اسے روکنے کی کوشش کی۔
لیکن ۔۔۔ اسے چوٹ لگی تھی۔ اس کے ایک ہاتھ پے کانچ چبھا تھا۔
اور صرف ایک ہاتھ سے لڑنا ۔۔۔۔۔۔
وہ۔۔۔ اسے قابو نہیں کر پا رہی تھی۔
ارمان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ فجر کی حالت اسے ٹھیک نہ لگی۔
اس سے پہلے کہ فجر گرتی۔۔۔ ارمان بغیر کچھ سوچے سمجھے بیچ میں آگیا۔
اور اپنے داٸیں ہاتھ سے اس کی گردن دبوچی۔
وہ بدنما لڑکی بلابلا اٹھی۔
ارمان نے سورہ الرحمٰن کی تلاوت اونچی آواز میں کرنا شروع کر دی۔
اور اس لڑکی کی گردن پے اپنی پکڑ مزید مضبوط کردی۔ وہ تڑپ گٸ۔
خود کو چھڑانے کے لیے ہاتھ پیر مارے لیکن۔۔ نہ چھڑا پاٸی۔
ارمان نے تلاوت جاری رکھی۔ اور چند آیات ہی پڑھیں ۔۔کہ وہ زمین بوس ہو گٸ۔اور تڑپتے ہوۓ غاٸب ہو گٸ۔
اسکانام و نشان مٹ گیا تھا۔ کمرے میں پھر سے روشنی ہو گٸ تھا۔
ارمان ، فجر کی طرف بھا گا ۔ وہ بھی حیرانی سے ارمان کا کارنامہ دیکھ چکی تھی۔
سہارا دے کے اسے اٹھایا۔
تم۔۔۔۔ٹھیک ۔۔۔ہو ناں۔۔۔۔۔؟
چوٹ تو نہیں آٸی۔۔۔؟
یہ۔۔۔۔ سب۔۔۔کیسے۔۔۔۔۔۔؟؟؟فجرکے الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے۔
آٸی ڈونٹ نو۔۔۔۔۔۔۔
سب کیسے ہوا۔۔۔۔۔۔؟
بس۔۔۔۔تمہیں تکلیف میں نہیں۔۔۔۔ دیکھ سکا۔۔۔۔۔۔
ارمان نے صاف دل سے اس کی آنکھوں میں دیکھتے کہا۔۔
کچھ پل تو یونہی سرک گۓ۔
یہ۔۔۔ تمہارے ہاتھ ۔۔۔پے۔۔۔۔ دیکھاٶ مجھے۔۔۔۔۔
ارمان کی نظر اس کے ہاتھ پر پڑی۔ جس میں کانچ چبھا ہوا تھا۔
دھیرے ے وہ کانچ نکالا۔لیکن فجر کو بالکل بھی کوٸی درد محسوس نہ ہورہا تھا۔
وہ تو سامنے والے کے حصار میں جکڑی گٸ تھی۔
جس نے بنا سوچے سمجھے۔۔۔ اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر۔۔۔۔فجر کے آگے ڈھال بن گیا۔
درد تو نہیں ہو رہا۔۔۔۔؟
ارمان نے فکر مندی سے پوچھا۔ فجر نے نظریں جھکاۓ ہاتھ اسکے ہاتھ سے کھینچ لیا۔
اور اچانک رامین کا خیال آیا ۔تو اسکی طرف بھاگی۔
یہ۔۔۔۔ یہ بے ہوش ہے۔۔۔۔۔اسے۔۔۔ ہاسپٹل۔۔۔۔لے کے۔۔۔ جانا ہو گا۔۔۔۔
فجر پریشانی سے بولی۔
ارمان نے لب بھینچے۔
منہ دوسری جانب کر لیا۔
پلیز۔۔۔ ارمان۔۔۔۔۔ ؟؟
ایک ریکوسٹ تھی۔ لہجے میں۔
ارمان ۔۔ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ آگے بڑھا۔
اور رامین کو اٹھا کے باہر لے کے آیا ۔۔ اور گاڑی میں ڈالا۔ فجر بھی ساتھ ہی تھی۔
ارمان نے قریبی کسی ہاسپٹل کا رخ کیا۔۔
ڈاکٹر نے فوراً ٹریٹ منٹ شروع کی۔ ارمان اور فجر باہر ہی ویٹ کر رہے تھے۔
فجر ۔۔۔۔۔۔ تم بھی بینڈج کروالو۔
اچانک ارمان نے کہا تو وہ چونکی۔
اور نرس کے پاس چل گٸ۔ نرس اسکی بینڈیج کرنےلگی۔ جبکہ فجر اپنی ہی سوچوں کے تانے بانے بن رہی تھی۔
اتنے میں ڈاکٹر باہر آیا۔
کیسی ہے اب وہ۔ڈاکٹر۔۔۔۔؟
فجر نے بے چینی سے پوچھا۔
کوٸی۔۔۔۔۔ بہت گہرا صدمہ لیا ہے انہوں نے۔۔۔۔
خیر۔۔۔ خطرے والی کوٸی بات نہیں۔۔۔۔
صبح تک ہوش آجاۓ گا۔۔۔۔۔
ڈاکٹر تسلی دے کے چلاگیا۔۔
فجر رامین کو ایک نظر دیکھنے وارڈ میں چلی گٸ۔
وہ ہوش میں نہیں تھی۔ رنگ زردی ماٸل ہو گیا تھا۔
فجر کو اسکی حالت سے بہت دکھ ہوا۔ آنکھوں میں آنسو آگۓ۔ اور خاموشی سے باہر آگٸ۔
اور بینچ پے بیٹھتے دیوار کے ساتھ ٹیک لگاۓ آنکھیں موند لیں۔۔۔
ارمان بھی اسی کے ساتھ بینچ پے بیٹھ گیا۔
ارمان۔۔۔۔۔۔۔
فجر ایکدم چونکی۔۔ اور اسے پکارا۔
ارمان اسکی طرف گھوما۔۔
آپ کو گھر جانا چاہیے۔۔۔
فجر کی بات پے کتنی دیر وہ اسے تکے گیا۔۔
کیاہوا۔۔۔۔۔۔؟؟
گھر میں کون انتظار کر رہا ہوگا۔۔۔۔۔
ایک تلخی سی تھی لہجے میں۔
فجر نے نظریں جھکا لیں۔
آپ کے امی ابو؟؟؟
نجانے کس خیال کے تحت پوچھ لیا۔۔
ڈیتھ ہو گٸ۔۔۔۔ اداسی اور درد تھا لہجے میں۔۔۔۔
ایک پل کو فجر نے اسکی طرف دیکھا۔
اور نظریں پھیر لیں۔۔۔
بہن اسکی۔۔۔ ؟وہ بھی تو سارا کی طرح۔۔۔۔۔۔۔
دماغ میں سوال ابھرا۔لیکن جواب جانتی تھی۔۔ اسلیے لب نہ وا کیے۔
پھر کچھ خیال۔آیا تو۔۔۔ ارمان کی طرف دیکھا۔
اور کچھ پوچھتی کہ ارمان اسکی طرف مڑا۔
فجر۔۔۔۔ مجھے جاننا ہے۔۔۔ کہ تم۔۔۔ کیسے یہ سب جانتی ہو۔۔۔۔
آٸی مین۔۔۔۔۔۔۔ میری بہن۔۔۔۔۔ نہیں ہے ۔۔۔۔ا س دنیا۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔
ہاٶ ڈو یو نو۔۔۔۔۔۔۔۔؟
وہ الجھا ہو تھا۔
فجر نے ایک نظر اسے دیکھا۔ اور نظریں جھکالیں۔
میں ۔۔۔۔۔ اسی لیے۔۔۔ آیا تھا آج۔۔۔ تمہاری طرف۔۔۔۔
مجھے نہںں یقین تھا ۔۔ تم پے۔۔۔۔
لیکن ۔۔۔۔۔جومیں نے دیکھا۔۔۔۔۔
اسکے بعد۔۔۔۔۔ بے یقینی کی گنجاٸش نہیں رہی۔
مایوس اور اداس لہجے میں کہتے وہ فجر کو بھی اداس کر گیا۔ ۔۔
ارمان۔۔۔ کبھی۔۔۔ زندگی میں ۔۔۔ ایسے موڑ آتے ہیں۔۔
کہ انسان خود بھی حیران رہ جاتاہے۔۔ کہ ۔ یہ۔۔۔
سب۔۔۔ کیسے ہوا۔۔۔۔۔کیوں ہوا۔۔۔۔۔؟
میرے ساتھ ہی یہ۔۔۔سب۔۔۔۔ کیوں۔۔۔۔؟
لیکن ان سوالوں کے جواب ۔۔۔ہمیں وقت دیتا ہے۔۔۔
میرے ۔۔۔ پاس۔۔۔ روحانی ۔۔۔علم۔ہے۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔ اسی سے مجھے۔۔۔ آپ کی بہن کا پتہ چلا۔۔۔۔ اپنی۔۔۔۔۔ بہن کا پتہ چلا۔۔۔۔۔
لہجہ نم۔ہو۔
اور یہ ۔۔۔ آگاہی بھی ناں۔۔۔۔۔۔۔ کبھی کبھی۔۔۔ بہت تکلف دیتی ہے۔۔۔۔۔۔
اب کے آنسو آنکھوں میں اپنی جگہ بنانے لگے۔
ارمان خاموشی سے اسے سنے جا رہا تھا۔
لاعلمی بھی۔۔۔۔۔ خدا کی بہت بڑی نعمت ہے۔۔۔۔
کچھ باتیں۔۔۔ ہم جان جاٸیں تو ۔۔۔ بہت ازیت ہوتی ہے۔۔۔۔
کیا کچھ نہیں تھا اس کے لہجے میں۔۔۔۔۔۔۔۔؟
دکھ درد تکلیف۔۔۔۔۔ ارمان اس لڑکی کو دیکھے گیا۔
میں نہیں جانتی۔۔۔ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔؟
لیکن یہ سچ ہے۔۔۔۔۔۔
میرے ساتھ ہی ایسا ہے۔۔۔۔۔
آنسو اب باقاعدہ گالوں پے بہنے لگے۔
ارمان نے لب بھینچ کر اسے دیکھا۔
وہ اس کی د لجوٸی کرنا چاہتا تھا۔۔۔لیکن نہیں کر سکتا تھا۔..
وہ اسے سمیٹنا چاہتا تھا۔۔۔
نہیں سمیٹ سکتا تھا۔۔۔۔۔۔
اس کے پاس اختیار ہی نہیں تھا۔۔۔
اور نجانے۔۔۔ کونسی طاقت تھی۔۔ جو اسے اس کو چھونے سے بھی باز رکھے ہوٸی تھی۔
جانتے ہو۔۔۔۔۔۔ شاہ بابا کیا کہتے۔۔۔۔۔ہیں۔۔۔۔
وہ پلٹی تھی ارمان کی طرف۔۔۔
ارمان نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
آج وہ تہے در تہے ۔۔ ۔اس پے کھلی جا رہی تھی۔۔۔۔ اور ارمان چاہتا تھا کہ اپنا دل۔کھول کے اس کے آگے رکھ دے۔
وہ کہتے ہیں۔۔۔۔۔ میرا دل پاکیزہ ہے۔۔۔ میری روح۔۔۔۔ پاکیزہ ہے۔۔ خدا کے قرب میں ہے۔۔۔۔۔
ارمان۔۔۔۔ میں۔۔۔ میں۔۔۔ پھر ۔۔ بھی۔۔ اپنی بہن کو نہیں بچا پاٸی۔۔۔۔۔
وہ رو دی تھی۔۔۔ بہن کے لیے اس کے دل۔میں ایک درد جاگا تھا۔۔۔ بہن کا غم ۔۔۔۔ وہ اب تک کسی سے نہیں بانٹ پاٸی تھی۔۔۔
آج ارمان سے وہ اپنا درد بانٹنے لگی تھی۔
ارمان اسے روتےہوۓ دیکھ کےنظریں پھیر لیں۔
تبھی سامنے دو لڑکوں پر نظر جا ٹہری۔۔
جن کی نظروں کا ارتکاز فجر پے تھا۔ اور بہت گہری نظروں سے وہ فجر کو دیکھ رہے تھے۔
ارمان کے اندر اشتعال بھر گیا۔
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ فجر کو وہاں سے غاٸب کر دے۔
فجر۔۔۔۔۔ تم۔۔۔۔ اندر وارڈ میں۔۔۔۔۔ جاٶ۔۔۔۔
ارمان نے سامنے دیکھتے سرد لہجے میں کہا۔
روٸی آنکھیں۔ ارمان پے اٹھیں۔ اور سامنے ہی ان دو لڑکوں کو بھی دیکھا۔
نظریں جھکا کے وہ اٹھی۔ اور وارڈ میں چلی گٸ۔
فجر کے جاتے ہی ارمان انکی طرف رخ کر کے پورے جاہ و جلال سے ٹانگ پے ٹانگ جماکے بیٹھا۔
اپنی بارعب شخصیت کے ساتھ وہ مقابل والے کو چاروں شانے چت کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔۔
وہ دونوں بھی گھبرا کے رخ پھیر گۓ
ارمان وہیں بیٹھا موباٸیل پے کسی کا نمبر ڈاٸیل کرنے لگا۔
اور موبا ٸیل کان سےلگایا۔




ہاہاہاہاہاہا
ہہاہاہاہاہاہاہا
وہ سامنے کھڑے زور زور سے قہقہے لگا رہا تھا۔ اور ثمرہ کی روح فنا ہو رہی تھی۔
نہیں بچو گی تم بھی۔۔۔۔۔
وہ پاگلو کی طرح ہنسے جا رہا تھا۔ اور ساتھ ہی اس نے روپ بدلا۔
وہ کوٸی لڑکی تھی۔۔۔ جس نے بہت عجیب صورت اختیار کر لی تھی۔۔
اور ثمرہ کی طرف بڑھی۔
ثمرہ پیچھے کی طرف بھاگی۔ اس لڑکی نے وہیں سے ہاتھ بڑھا کر اسے اپنی گرفت میں لیا ۔۔
چینخ مارتے وہ اٹھی۔
بالاج جو اس کے پاس ہی بیٹھا حالات و واقعات پے غور کررہاتھا۔
اور آج پولیس اسٹنشن بھی نہیں جا پایا تھا۔اور ازمیر سے فون پے رابطے میں تھا۔
ثمرہ ۔۔۔ کے یوں اچانک چینخ مار کے اٹھنے پے بوکھلا گیا۔۔
کیا۔۔۔ ہوا۔۔۔ تم۔۔ ٹھیک ہو ناں۔۔۔۔۔۔؟
بالاج پریشان ہوا۔ ثمرہ رو پڑی۔۔ اور بالاج کے ہاتھ تھامے۔۔ اسکو کچھ بتانا چاہا ۔۔لیکن زبان نے بولنے سے انکا ر کر دیا۔
ثمر۔۔۔۔یہ ۔۔۔ پانی پیو۔۔
بالاج نے اسکے پاس بیٹھتے ہوۓ اسے خود سے۔۔ لگایا۔
وہ بالاج کے سینے میں چھپ گٸ۔ وہ بہت ڈری سہمی تھی۔
اور رات سے بالاج بھی اس کے لیے بہت پریشان ہوگیا تھا۔
ثمر۔۔۔ ادھر دیکھو۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں ہوا۔۔۔ میری طرف دیکھو۔۔۔۔۔
بالاج نے اسکے آنسو گالوں سے صاف کیے۔ وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔
برا خواب تھا۔۔۔۔ میری جان۔۔۔ بھول جاٶ۔
بالاج اب بھی یہی سمجھ رہا تھا کہ وہ خواب میں ڈر گٸ ہے۔ اسلیے اسطرح کا ری ایکٹ کر رہی ہے۔
ثمرہ نے پھر سے بولنا چاہا۔۔ لیکن زبان نے پھر ساتھ نہ دیا۔
وہ خودبھی نہیں سمجھ پا رہی تھی کہ وہ کیوں نہیں بول پا رہی۔
اتنے میں ملازمہ نے ماریہ اورماری کے آنے کی اطلاع دی۔۔
بالاج نےملازمہ سے ماریہ کواندر بھیجنے کا کہا۔
وہ ایک ٹیم تھے۔ لیکن ماریہ اسکی بہت گہری دوست تھی۔
شاید ماریہ کو دیکھ وہ سنبھل۔جاۓ۔ بالاج کو یہی لگا۔
کچھ ہی دیر میں ماریہ اندر آگٸ۔
بالاج ثمرہ کے پاس سے اٹھ کر چیٸرپے جا بیٹھا۔ وہ اس وقت دوھری ٹینشن میں تھا۔
کیس کے سلسلے میں اسے پولیس اسٹیشن جانا ضروری تھا۔
لیکن ثمرہ کو۔اکیلاچھوڑ نہیں جا سکتا تھا۔
اب کیسی ہو۔۔۔؟
ماریہ اس کوگلےلگا کے بہت پیار سے بولی۔
ثمرہ ے اس سے بھی بات کرنی چاہی لیکن اسکی آواز نہ نکل سکی۔
اور اپنی یہ حالت وہ کسی کو سمجھا بھی نہیں پارہی تھی۔
اتنے میں بالاج کا موباٸیل بجا۔ کال رسیو کرتا وہ روم۔سے باہر نکلا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
