Khoni Jhula by Muntaha Chohan NovelR50513 Khoni Jhula (Episode 10)
Rate this Novel
Khoni Jhula (Episode 10)
Khoni Jhula by Muntaha Chohan
کیا ۔۔۔۔۔ ہوا۔۔۔۔۔؟
وہ بات کرتے کرتے رکا۔
یار۔۔۔۔ تجھے ایسا۔۔۔ نہیں لگا۔۔۔۔۔؟ کوٸی ہمارے پیچھے کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔؟؟؟
رفیق کی بات ادھوری رہ گٸ۔ارے۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ یار۔۔۔۔۔
کوٸی نہیں۔۔۔ ہے۔۔۔۔۔۔
تیرا وہم ہوگا۔۔۔۔۔
اچھا ۔۔۔ سن تو۔۔۔ میں کیا کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ ناں۔۔۔۔ سرمد ہے۔۔۔۔ ہےناں۔۔۔۔ اسکی بیوی ۔۔ وہ کیا نام ہے اسکا۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں۔۔۔۔ سلمہ۔۔۔۔۔ وہ بھاگ گٸ۔۔۔۔ ہے۔۔۔کسی کے ساتھ۔۔۔۔۔ بیچارہ بڑا۔۔۔ پریشان تھا۔۔۔
رفیق اپنی کہے جارہا تھا۔ انور کے چہرے کی طرف نظر ہی نہ پڑی۔
کیا ہوا۔۔۔۔۔۔؟ کہاں کھو گیا۔۔۔۔۔۔۔؟
وہاں۔۔۔۔۔۔۔ اندر۔۔۔۔۔ کوٸی ہے۔۔۔۔۔۔۔!!
بنا رفیق کی جانب دیکھےانور سامنے پارک کی طرف دیکھتے پر اسرار انداز میں بولا۔
کون ہے۔۔۔۔۔؟ رفیق نے بھی اسکے ہاتھ کے اشارے کی سیدھ میں دیکھا۔
مجھے تو۔۔ کوٸی نہیں۔۔ دیکھ رہا۔۔۔۔۔۔؟؟؟
انور نے ٹارچ لگاٸی۔
کہ تبھی ایک سایہ لہرایا۔۔ دونوں کی بیک وقت نظراس پے اٹھی ۔۔۔۔
دیکھا۔۔۔۔۔۔ میں۔۔۔ نے کہا تھا۔۔۔۔ ناں۔۔۔۔ کوٸی۔۔ہے۔۔۔۔
انور کا دل بہت زور سے دھڑکا۔۔
کیا۔۔۔ کریں۔۔۔۔۔؟؟ اندر چل کے دیکھیں۔۔۔۔۔؟؟ کیا پتہ کون ہے۔۔۔۔؟؟
رفیق تجسس سے بولا۔
پاگل ہے کیا۔۔۔۔؟؟ کیاپتہ کون سا بھوت ہو۔۔۔۔؟؟ انور کو ڈر سا لگا۔
ارے یار۔۔۔۔!! پولیس والا ہو کے اتنا ڈرتا ہے۔۔۔؟؟
ناک ہی کٹوا دی تونے۔۔۔۔!! رفیق نے مذاق اڑایا۔ اور ہنسنے لگا۔
لیکن ایک دم ہنسی کو بریک لگی۔ سامنے ایک کالی بلی انہیں ہی گھور رہی تھی۔
اسے چپ ہوتے دیکھ انور نے بھی دیکھا۔ اس کے رونگٹے کھڑے ہوگۓ۔
بلی دھیمی چال سے انکی طرف بڑھی۔
وہ ایک ٹک اس کالی بلی کو دیکھ رہے تھے۔
ان پے جیسے سکتا طاری ہو گیا۔وہ بلی ا ن کے قریب پہنچ گٸ۔
تبھی رفیق کا موباٸیل بجا۔ دونوں بری طرح چونکے اور دھیان بٹا۔
رفیق نے کال پک کی۔ اور ساتھ میں سامنے دیکھا۔ بلی غاٸب ہو چلی تھی۔
رفیق۔۔۔۔۔!! تم سن رہے ہو۔۔۔؟؟
ازمیر اسے پکار رہا تھا۔ لیکن وہ جیسے حواس کھو چکا تھا۔
اردگر ساری جگہ دیکھا۔ لیکن بلی کہیں نہ تھی۔ اور ۔۔۔۔ انور بھی غاٸب تھا۔
سر۔۔۔۔۔!!!سر۔۔۔۔۔!! مارے گھبراہٹ کے وہ بول نہیں پا رہا تھا۔
کیاہوا ۔۔۔؟؟ رفیق۔۔۔؟؟ بولو بھی۔۔۔۔!! ازمیر پریشان ہوا۔
سر۔۔۔۔!! انننن۔۔۔۔انو۔۔۔ر۔۔۔۔ پتہ نہیں۔۔۔۔؟؟
کہاں ہے انور۔۔۔۔؟؟ ازمیر کا دل دھڑکا۔
اسکی چھٹی حس اس خبردار کر رہی تھی کہ کچھ گڑ بڑ ہے اس جگہ۔۔۔
کو۔۔ٸی۔۔۔؟ پتہ۔۔۔نہیں۔۔۔۔!! ابھی۔۔۔ تو یہیں۔۔۔ تھا۔۔۔۔!! وہ ادھر ادھر بھی دیکھ رہاتھا ساتھ ساتھ۔۔۔!!اس کے ماتھے پے پسینے آرہے تھے۔
رفیق۔۔۔۔!! تم۔۔۔۔ انور کو ڈھونڈو۔۔۔!! میں بس تھوڑی دیر میں پہنچتا ہوں۔
ازمیر فون بند کرتے فوراً اٹھا اور نیو ایور پارک کا رخ کیا ۔









کیا بات ہے۔۔۔۔؟؟ آج بہت چپ چپ ہے شیرنی۔۔۔؟؟
بالاج نے مسلسل ثمرہ کو خاموش دیکھا تو پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔
ثمرہ نے انے آنسو چھپاۓ۔اور سر جھکا لیا۔
بالاج اس کے قریب آیا۔ اسکے پاس بیٹھتے دھیرے سے اسکا ہاتھ تھاما۔
کیا ہوا۔۔۔۔؟؟ پیار بھرا لہجہ۔ وہ ٹوٹ سی گٸ۔ اور بالاج کے کاندھے پے رکھے رو دی۔
بالاج نے اس کے گرد بانہیں پھیلا کےاسے خود سے قرب کیا۔ اور تسلی دینے لگا۔
کیا ہوگیا۔۔۔۔؟؟ رو کیوں۔۔ رہی ہو۔۔۔۔۔؟؟بالاج اس کی حالت سے کافی اپ سیٹ ہو گیا تھا۔
اس نے آنسو پونچھتی وہ اٹھی۔ ایک کاغذ اور پنسل اٹھاٸی۔
بالاج اسکی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا تھا۔
ٹمرہ نے کاغذ پے روتے ہوۓ کچھ لکھا۔ اور بالاج کی طرف بڑھایا۔
بالاج نے ایک نظر اسے دیکھا۔ اور کاغذ تھام لیا۔۔
اور اسے پڑھنے لگا۔
جیسے جیے وہ پڑھتے جارہا تھا۔ اس کو پیروں تلے سے زمین کھسکتی محسوس ہوٸی۔
پتھراٸی نظروں سے ثمرہ کو دیکھا۔
اچانک سے لاٸیٹ نے پارک کرنا شروع کر دیا۔۔
دونوں کی نظر بیک وقت لاٸیٹ کی طرف گٸ۔
ہوا کا تیز جھونکا دونں نے محسوس کیا۔ اور دونوں ہی لرز گۓ۔
ثمرہ نے بالاج کی طرف قدم بڑھایا۔
لیکن اسے اپنا قدم من من بھاری محسوس ہو رہا تھا۔
اچانک لاٸیٹ آف ہوگٸ۔
ثمرہ ٹھٹھک کے وہیں رک گٸ۔
بالاج کو پکار بھی نہیں پا رہی تھی۔
ادھرادھر دیکھنےکی ناکام کوشش کی۔
دل میں درود شریف کا ورد کرنے لگی۔
اچانک سے رونے کی آوازیں آنے لگیں۔
پہلے دھیمی تھیں۔ اچانک تیز ہونے لگیں۔
اورنپھر اتنیاونچی ہوگٸیں۔ کہ ثمرہ نے کانوں پے ہاتھ رکھ لیے۔ آنسو متواتر بہے جا رہے تھے۔
بالاج کہاں ہو تم۔۔۔۔؟؟ پلیز۔۔۔زز!! میرے پاس آٶ۔
دل ہی دل میں آنکھیں بند کیے وہ بالاج سے مخاطب تھی۔
اور پھر سب کچھ ایک دم تھم گیا۔
جیسے طوفان کے آنےسے پہلے کا سناٹا۔
ثمرہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ آنکھیں کھولیں۔
لیکن گھپ اندھیرے کے سوا کچھ نہ تھا۔
تبھی لاٸیٹ بھی آن ہوگٸ۔ اور سامنے نظر پڑتے ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہوگۓ۔
بالاج کی شکل کے دو لوگ کھڑے تھے۔ اور دونوں ہی مسکرارہے تھے۔
ثمرہ کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا۔
ان میں سے ایک نے ہاتھ ثمرہ کی جانب بڑھایا۔
اور دیکھتے ہی دیکھتےوہ ہاتھ لمبا ہوتا چلا گیا۔کہ ثمرہ کی گردن تک پہنچ گیا۔
ثمرہ پیچھے کی جانب الٹے قدم چلی ۔ وہ ہاتھ مزید آگے بڑھا۔۔ثمرہ کو گردن سے دبوچا۔
ثمرہ نے خودکو چھڑانا چاہا۔ لیکن گرفت بہت سخت تھی۔ ثمرہ کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔
***********
آخر۔۔۔۔۔یہ سب ہو کیا رہا ہے۔۔۔۔؟؟
پورا پارک چھان مارا۔۔۔۔!! کہیں بھی۔۔۔ انور کا پتہ نہیں چلا۔۔۔۔!! کہاں جا سکتا ہے۔۔۔۔؟؟
ازمیر دو مزید اہلکار کے ساتھ نیو ایور پارک پہنچ چکا تھا۔ اور کافی دیر سے انور کو ڈھونڈ رہا تھا۔
لیکن وہ کہیں نہ ملا۔
سر۔۔۔۔۔!! سر۔۔۔ جی۔۔۔۔!! میں نے بتایا ہے ناں۔۔۔۔!! وہ کالی۔۔۔۔ بلی۔۔۔۔۔!!
رفیق۔۔۔۔!! یہ کچھ بھی نہیں۔۔۔ ہوتا۔۔۔۔!! تم فضول کی باتیں مت کرو۔۔۔۔!! اور سچ بتاٶ۔۔۔ انور کہاں۔۔۔ ہے۔۔۔؟؟
ازمیر کو غصہ آگیا۔
سر جی۔۔۔۔!! میں سچ کہہ رہا ہوں۔۔۔ ماں قسم۔۔۔!! وہ کالی بلی نے ہی۔۔۔۔!!
پھر وہی بات۔۔۔۔!!
سر۔۔۔!! پورا پارک چھان مارا کچھ بھی نہیں ہے یہاں۔۔۔!!
ایک اہلکار عابد نے آتے کہا۔
ازمیر سوچ میں پڑ گیا۔
ٹھیک ہے ۔۔۔۔!! تم دونوں بھی یہیں رکو گے رفیق کے ساتھ۔۔۔
اور ایک لمحے کے لیے بھی ۔۔۔ ایک دوسرے سے الگ نہیں ہو گے۔۔۔۔!!
مجھے مزید کوٸی اور مٸسلہ نہ ملے۔۔۔!! صبح ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔۔۔!! سر کو بتانے کے بعد ہی وہی فیصلہ کریں گے۔۔۔!!
ازمیر کہتا وہاں سے گھ کے لیے نکلا۔
اور وہ تینوں وہاں پے ڈیوٹی دینے لگے۔ جبکہ رفیق بہت گھبرایا ہوا تھا۔
****************
سوتے میں اچانک وہ نیند سے بیدار ہوٸی تھی ۔
جیسے کسی نے اسے آکے جگایا ہو۔ اور وہ اٹھ گٸ تھی۔
کچھ تھا۔۔ ایسا۔۔ جو غلط ہو رہا تھا۔
اسکی روح بے چین ہوٸی۔
فوراً سے اٹھی۔ اور رامین کے روم کی جانب بڑھی۔
بنا ناک کیے دروازہ کھول کے چیک کیا۔ وہ سو رہی تھی۔
اس کے سونے کا یقین کرتے وہ نیچے ٹی وی لاٶنج میں آگٸ۔
چاروں اور گھوم کے دیکھا۔
ایک خاص عمل کیا ہوا تھا اس نے۔۔۔ گھر کے چاروں کونوں پے۔۔!!
تا کہ اب کوٸی بھی انجانی طاقت گھر پے حملہ نہ کر سکے۔۔
مکمل۔مطمیٸن ہوتے اس نے اپنے کمرے کا رخ کیا۔
رات کے دو بج رہے تھے۔ وضو کرکے تہجد ادا کی۔ اور اللہ سے سکون طلب کیا۔
کافی دیر وہیں جاۓ نماز پے بیٹھی آنکھیں موندے اللہ سے لو لگاۓ رکھی۔
ایک دم سے اسے کوٸی سڑک نظر دکھاٸی دی۔
وہ اس پے جیسے کھینچی چلی جا رہی تھی۔۔ اور بہت تیزی تھی۔
کافی آگے پہنچ کے وہ گھر کے پاس رکی۔
گھرکی نیم پلیٹ پے نام پڑھا۔ اور اندر کی جانب دیکھا۔
اس گھر کی لاٸیٹ نے سپارک کیا۔ اور ہسننے کی آوازیں آٸیں۔
فجر نے اندر بڑھنا چاہا۔
لیکن وقت اسے واپس انہی قدموں پے موڑ لایا۔ اور ایک دم ہی اسکی آنکھ کھلی۔
یا اللہ خیر۔۔۔۔!!
اسے سب یاد تھا۔ وہ فوراً اٹھی۔
اپنی انگوٹھی پہنی۔ گلے کے اللہ کے نام کا لاکٹ جگمگایا۔
گاڑی کی چابی اٹھاٸی اور باہر کی جانب بڑھی۔
اور گاڑی کو اسی راستے پے ڈال دیا۔
جبکہ اوپر ونڈو سے رامین کا مسکرتا چہرہ اسکی نظروں سے اوجھل نہ ہوا۔
