Khoni Jhula by Muntaha Chohan NovelR50513 Khoni Jhula (Episode 18)
Rate this Novel
Khoni Jhula (Episode 18)
Khoni Jhula by Muntaha Chohan
ٹینا نے ناصر اور سرور کوموت کے گھاٹ اتارنے کے بعد باہر کی طرف جانے کا رخ کیا۔۔ لیکن اگلے پل وہ رکی اور پلٹی۔
دیوار کے ایک طرف دبکی ڈاکٹر عمارہ پے اسکی نظر پڑ گٸ تھی۔
جو جمیل کے فون پے یہ اطلاع دینے کے۔۔۔
ناصر اور سرور نے لاش کے ساتھ کچھ غلط کرنے کی پلاننگ کی ہے۔۔۔وہ فوراً سے بیشتر واپس ہاسپٹل پہنچیں تھیں۔
لیکن آگے کے حالات دیکھ وہ گنگ رہ گٸیں۔
خاموشی سے منہ پے ہاتھ رکھے وہ یہ سارا تماشا دیکھ رہی تھیں۔
دیکھ لیا۔۔۔۔!!
لےلیا موت کا مزہ۔۔۔۔؟؟
ٹینا غصے سے بولی۔
ڈاکٹر عمارہ ڈر کے پیچھے ہوٸیں۔
اسکی آواز میں بدلاٶ تھا۔۔۔
وہ ٹینا کے اندر سے بول رہی تھی۔ لیکن وہ ٹینا نہیں تھی۔۔۔۔
ڈر ۔۔۔ مت۔۔۔!! تجھے۔۔ کچھ نہیں۔۔۔ کہوں۔۔۔ گی۔۔۔!!
لیکن۔۔۔۔ تُو بھی کسی کوکچھ مت کہیو ۔۔۔۔!! ورنہ۔۔۔۔!!
اس نے ڈاکٹرعمارہ کی گردن دبوچنی چاہی۔
ڈاکٹر عمارہ کا رنگ سفید پڑگیا۔
بے اختیار اپنے گلے پے ہاتھ رکھے وہ اور پیچھے کھسکیں۔
یہ۔۔۔۔ میری۔۔۔ ٹینا۔۔۔ کے ساتھ۔۔۔۔ غلط۔۔ کر رہے تھے۔۔۔۔ اس لیے۔۔۔ مار ڈالا۔۔۔۔
اور۔۔۔۔۔!!
وہ ڈاکٹر عمارہ کےکان کے قریب ہوٸی۔
جس جس نے میر ٹینا کو تکلیف پہنچاٸی ہے۔۔۔ان سب کا یہی حال ہوگا۔۔۔۔
کسی کو نہیں بخشوں گی۔
کس کو بھی نہیں۔۔۔!!
اور تُو۔۔۔۔!!
راز رکھے گی۔۔۔۔
ورنہ۔۔۔۔ ہر روز ایک لڑکی کی لاش بچھاٶں گی ۔۔۔۔ اور تُو گنتے گنتے تھک جاۓ گی۔
وہ غراتی ڈراٶنی آواز میں کہتی ڈاکٹر عمارہ کے رونگٹے کھڑ ی کر گٸ۔
مججججھھھے ۔۔۔ کککچچچھھ۔۔۔ مممتتتت کہناااا۔۔۔۔
میں نے۔۔۔۔۔ کچچھ نہیییں۔۔۔۔کیا۔۔۔۔
ڈأکٹر عمارہ بمشکل بول پاٸیں۔
راز کوراز رکھ۔۔۔ بچ جاۓ گی۔
وہ ہنستے ہوۓ کہتی وہاں سے نکل گٸ۔
پورے روم میں ایک سناٹا چھا گیا تھا۔
ڈاکٹر عمارہ کی باتیں۔۔۔ انہیں بہت کچھ سوچنے پے مجبور کر رہی تھیں۔
اے لو۔۔۔۔!! کہانی ہی مکی۔۔۔!!
پہلے وہ ٹینا کی روح تھی۔۔۔
پھر کوٸ انجانی طاقت۔۔۔
پھر۔۔ وہ خونی جھولا۔۔۔
اب یہ۔۔۔۔ ٹینا کے روپ میں کوٸی نٸ چڑیل۔۔۔
توبہ۔۔۔۔ یہ۔۔۔سب ۔۔۔۔ کب سلجھے گا۔۔؟؟ یہ تو مزید الجھ رہا ہے۔۔۔؟؟
ثمرہ ے اپنا سر پکڑلیا۔
ثمرہ جب گانٹھ کھلنے والی ہوتی ہے ناں۔۔۔ تو بہت سخت الجھتی ہے۔۔۔!!
فجر نے اسے سمجھانا چاہا۔
پھر۔۔۔ آپ۔۔۔ جیل سے کیسے۔۔۔ چھوٹیں۔۔۔؟؟ اور نام۔۔۔ بدل کے یہاں ۔۔ کیوں رہ رہی ہیں۔۔۔؟
ارمان سنجیدگی سے سوچتے ان سے مخاطب ہوا۔
میں۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ جانتی۔۔۔۔!!
کچھ دن بعد جب بات۔۔۔۔ ٹھنڈی ہوٸی ۔۔۔۔ تو مجھے خود بخود انہوں نے چھوڑ دیا۔
کوٸی وجہ نہیں پتہ چلی۔۔۔
پھر۔۔ اچانک وہ سامنے آٸی۔۔۔۔
کسی اور کے رپ میں۔۔۔!!
اس نے کہا۔۔۔۔ کہ اس کی وجہ سے میں بچ گٸ ہوں۔ ۔اب۔۔۔۔۔ میں وہاں سے ہمیشہ کے لیے نکل۔جاٶں۔۔۔ اور ۔۔۔ بھول۔جاٶں۔۔۔ کسی۔۔۔ ٹینانام کی لڑکی کو جانتی بھی تھی۔۔۔
کیونکہ اسے۔۔۔ صرف ٹینا چاہیے تھی۔۔۔ وہ اسے مل گٸ تھی۔۔
میں نے۔۔۔ وہ علاقہ۔۔۔ حتیٰ کہ۔۔ وہ شہر بھی۔۔۔ ہمیشہ کے چھوڑ آٸی۔۔
اور یہاں۔۔۔ مسز روبینہ کے نام پے ایک انجیٸو کھول لی۔۔۔
مسز روبینہ کی آواز آہیستہ ہوگٸ۔
وہ بھی سب خاموشی سے سنے جا رہے تھے۔
لیکن۔۔۔۔ایک بات سمجھ نہیں۔۔۔ آٸی۔۔۔۔۔!!
اتنے۔۔ عرصے بعد۔۔۔ تقریباً۔۔۔ پچیس سال سے بھی۔۔۔ زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے۔۔۔۔
اس تمام عرصے۔۔۔ میں۔۔۔ کوٸی واقعہ رونما نہیں ہوا۔۔۔۔
پھر ۔۔۔ یہ۔۔۔ سب اچانک۔۔۔۔؟؟ کیسے۔۔۔؟
مسز روبینہ نے حیرانی سے پوچھا۔
یہ سب۔۔۔ بھی تقریباً چھ ماہ سے جاری ہے۔۔۔!!
اب تک۔۔۔ پانچ لڑکیاں شکار ہوچکی ہیں۔۔۔
جن۔۔۔ میں۔۔۔ ایک میری بہن۔۔۔ اور۔۔۔ ایک ۔۔۔ انکی۔۔۔ بہن ۔۔بھی شامل۔ہیں۔۔۔
فجر کا۔لہجہ نم ہوا۔
وہ اسا کسے کر سکتی ہے۔۔۔۔؟؟
جبکہ۔۔۔ اسکے پاس ٹینا کی لاش ہے۔۔۔۔وہ۔۔ ایسا۔۔ کیوں۔۔۔کرے لگی۔۔۔؟؟ کہیں۔۔ ٹینا۔۔۔ کی لاش۔۔۔ اس سے۔۔۔ کہیں۔۔۔ کھو۔۔۔ تو نہیں۔۔۔ گٸ۔۔۔؟؟
مسز روبینہ سوچوں کے تسلسل کو روک ہی نہیں پا رہی تھیں۔
پے د پے الجھتی کہانی۔۔۔۔
کہیں۔۔۔۔ کوٸی سرا سیدھا نہیں۔۔۔۔!!
اب یہ۔۔۔ چڑیل کا کیا کریں گے۔۔۔؟؟ کس کو کو تلاش کریی گے۔۔؟؟
ثمرہ نے سر پے ہاتھ مارا۔۔
ہمیں۔۔۔ جو بھی کرنا ہوگا۔۔۔
جلدی کرنا ہوگا۔۔۔
سلمیٰ کے پاس وقت کم ہے۔۔۔ اگر۔۔۔ ہم نے اسکی مدد نہ کی۔۔۔تو وہ۔۔۔ سلمہ کو بھی لے جاۓ گی۔
سینے پے ہاتھ باندھے ارامن سختی سے بس سوچے جا رہا تھا۔
اطالوس۔
اونچی آواز میں پکارا تو وہ سب چونک گٸے۔
اطالوس ۔۔۔ سامنے آٶ۔۔۔
اب بس۔۔ کھیل۔ختم۔۔۔۔!!
ارمان نے سختی سے کہا۔
اطالوس۔۔۔۔؟؟
فجر نے زیِر لب دہراایا۔
اطالوس۔۔۔ سامنے آٶ۔۔۔!! اب کی بار زیادہ غصے سے کہا۔
آپ۔۔۔ اطالوس۔۔۔ کو جانتے ہیں۔۔۔؟؟ فجر نے قریب ہوتے پتھراۓ لہجے میں پوچھا۔
ارمان نے ایک نظر فجر کو دیکھا۔
مطلب۔۔۔۔۔؟؟ تم بھی۔۔۔۔ ؟؟؟
ارمان کے باقی کے الفاظ منہ میں رہ گۓ۔۔۔
دونوں نے ایک دوسرے کو بے یقینی سے دیکھا۔
آپ۔۔۔۔نے۔۔تین ۔۔سال۔پہلے بھی یہی کیا تھا۔۔۔اور آج ۔۔۔بھی۔۔۔۔!!
فجر دکھی لہجے میں بولی۔
ارماننے غصے سے لب بھینچے۔
اطالوس۔۔۔ فوراًسامنے آٶ۔۔۔ ورنہ مجھ سے برا کوٸی نہیں ہوگا۔۔۔۔
میں کیسے۔۔ آٶں۔۔۔؟؟ روشنی ہے۔۔۔۔میں جل۔جاٶں گا۔۔۔
آواز آرہی تھی۔۔لیکن کوٸی دکھاٸی نہیں دے رہا تھا۔
اب۔۔۔۔ یہ کون ہے۔۔۔؟؟ ثمرہ کو پھر سے پریشانی ہوٸی۔
مجھے نہیں۔۔۔ جانتی۔۔۔؟؟
میں ہوں۔۔۔اطالوس۔۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔۔ جنات کی دنیا کا سب سے خوبصورت جن۔۔۔۔!! اور کم عمر بھی۔۔
پھر سے آواز آٸی۔۔۔
بس۔۔ اس کی کسر رہ گٸ تھی۔
ثمرہ اونچی آواز میں بڑبڑاٸی۔
اطالوس۔۔۔۔!! آخری بار کہہ رہا ہوں۔۔ ورنہ پہلی ملاقات تو یاد ہی ہو گی۔۔۔۔۔؟؟
ارمان نے اسے یاد کروایا۔ تو بے اختیار ا سکا ہاتھ اپنی گردن پے گیا۔
گردن سے ہی تو پکڑا تھا۔
یہ زیادتی ہے ارمان ملک۔۔۔۔!! دھواں سا اٹھا ۔ایک پل کو۔۔۔ سبھی کی نظریں دھندلاگٸیں۔
اور اگلے ہی لمحے ایک بڑے کان والاجن ان کے سامنے تھا۔
اس کے چہرے پے مسکراہٹ تھی۔ جو اسکی شرارتوں کاپتہ دیتی تھی۔
یا الہی۔۔۔۔۔۔۔یہ۔۔۔۔!! اب اس کی کسر باقی تھی۔۔۔
ثمرہ بھاگتی بالاج کے پیچھے چھپی۔۔۔
فجر کے چہرے پے حد درجے سنجیدگی تھی۔
جبکہ ارمان بہت مطمیٸن انداز میں کھڑا۔
مسز روبینہ بھی ایک پل کو گھبرا گٸیں۔
اے انسان تُو نے میری توہین کی ہے۔۔۔ !!
ثمرہ کی جانب دیکھتا وہ ناراضگی سے بولا۔
ثمرہ مزید بالاج کی اوٹ میں چھپی۔۔۔
گھبرانے کی ضرورت نہیں یہ۔۔ کسی کو کچھ نہیں کہے گا۔۔
ارمان نے ثمرہ کو اطمینان دلایا۔
یہ۔۔۔۔ واقعی۔۔۔۔ میں۔۔۔ جن ہے۔۔۔۔؟؟
بالاج ابھی بھی اس پے یقین نہیں کر پا رہا تھا۔۔
کیا۔۔کیا۔۔۔۔مطلب۔۔۔؟؟
اطالوس کو برا لگ گیا۔
نہیں۔۔۔۔ میرا مطلب۔۔۔۔یہ۔۔۔۔کان۔۔۔۔اصلی ۔۔۔۔ ہیں۔۔۔؟؟
بالاج کو اس کے کان دیکھ عجیب لگ رہا تھا۔
بے اختیار اطالوس کے ہاتھ اپنے کان پے گٸے۔
یہ۔۔۔ میرے ہیں۔۔۔ اور بہت۔۔۔ پیارے۔۔ اور اصلی ہیں۔۔۔۔
اپنے قبیلے کا سب سے خوبصورت بچہ ہوں میں۔۔۔
بہت اترا تے ہوٸے کہا۔
قبیلہ۔۔۔۔؟؟ بچہ۔۔۔۔۔؟؟ بالاج کی ایک ساٸیڈ سے گردن نکال کے بولتی ثمرہ اطالوس کو مزید سلگا گٸ۔
نہیں۔۔۔ تو اور کیا۔۔۔ نظر ۔۔آرہا ہوں۔۔۔میں۔۔۔ آپ کو۔۔۔؟؟
دونوں ہاھ کمر پے باندھے وہ لڑنے مرنے کو تیار ہوا۔
بس اطالوس۔۔۔۔!! ختم۔کرو۔۔۔ یہ۔۔۔ سب ڈرامہ۔۔۔!! اور حقیقت بتاٶ۔۔۔۔!! اپنی۔۔۔۔!!
ارمان نے سخت لہجے میں کہا۔
آپ۔۔۔۔ مجھے۔۔ ڈانٹ رہے ہیں۔۔۔۔!
اطالوس نروٹھے پن سے بولا۔
ارمان نےلب بھینچے۔۔
اطالوس۔۔۔۔! ارمان آگے بڑھا۔
ایک منٹ۔۔۔!! آپکی زوجہ بھی یہاں موجود ہیں۔۔۔۔!!
کیسی ہیں آپ۔۔۔؟؟
اطالوس نے بہت پیارسے پوچھا۔
فجرنے بے تاثر چہرے سے اسے دیکھا۔
مزید کوٸی بات ہوتی کہ یکدم ٹھنڈی تیز ہوا کا جھونکا ان سب کو چھو کے گذرا۔
ونڈو سے باہر نظرپڑی ۔تو عجیب ہی منظردکھا۔
اجالا۔۔ایک دم اندھیرے میں بدلا۔
لاٸیٹس آف آن ہونےلگیں۔ جیسے سپارک ہو۔
وہ سبھی چوکنا ہو گۓ۔
آ۔۔۔گٸ۔۔۔۔!! وہ بہت۔۔۔ خطرناک چڑیل۔ہے۔۔!! میں تو چلا۔۔۔
اطالوس غاٸب ہو گیا۔
وہ سب حیرانی سے ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے۔
دروازہ زور دار آواز سے کھلا ۔ اور یکبارگی بند بھی ہوا۔
پورا روم ٹھنڈا ہو گیا۔۔ انتہاٸی ٹھنڈا۔
کہ وہ سب لرز گٸے۔
وہ۔۔۔۔ وہ۔۔ آگٸ۔۔۔ !! مجھے۔۔۔ مجھے۔۔۔لینے آٸی۔۔۔ ہے وہ۔۔۔!! اس نے کہا تھا۔۔ کہ۔۔ راز راز رہے گا۔۔۔ تو ۔۔۔ وہ۔۔۔ مجھے۔۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ۔۔ مجھے۔۔ مار دے گی۔۔۔۔۔۔
مسز روبینہ رونے لگیں۔ وہ بہت گھبرا گٸیں تھیں۔۔
روم ٹمپریچر خطرناک حد تک گر گی تھا۔
آپ۔۔۔۔ فکرنہ کریں۔۔۔
چھ بھی۔۔ نہیں ہو گا۔۔۔!!
فجرنے انہیں تسلی دی۔
لیکن وہ بہت گھبرا رہی تھیں۔
دروازہ لاک ہو چکا تھا۔ اور حد درجے ٹھنڈا۔
ونڈو بھی لاکڈ تھیں۔
کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ کہ یہ سب ہو کیا رہا ہے۔۔۔؟؟
بالاج ۔۔۔۔ ٹھنڈبہت بڑھ گٸ ہے۔۔۔
ثمرہ نے لرزتے ہوۓ کہا۔
بالاج کو خود بھی فیل ہورہا تھا۔ کہ روم۔ٹمپریچر کم۔ہو گیا ہے۔ لیکن وہ چھ نہیں کر سکتا تھا۔
ارمان اور فجر کا بھی کوٸی عمل کام نہیں کررہا تھا۔
اور ٹھنڈ بڑھتی جا رہی تھی۔
ان کے ہونٹ پر بھی ٹھنڈ سے برف جمنے لگی تھی۔۔
روم ی چیزوں پے بھی برف کی ہہ جمنا شروع ہو گٸ تھی۔
ہممممییییں۔۔۔ کچچچھھھھ۔۔۔ کرنا۔۔۔ ہوگا۔۔۔۔۔۔!!ورنہ۔۔۔۔ ہم سب۔۔ جم۔جاٸیں گے۔۔
فجر نے بمشکل ارمان سے کہا۔
اگر۔۔۔۔ روم۔۔۔ ٹمپریچر۔۔۔ نقطہِ انجماد تک پہیچ گیا۔
تو۔۔۔ ہم۔سب جم کے مر۔جاٸیں۔۔ گے۔!!
ارمان بھی سخت پریشان تھا۔
کیا کریں۔۔۔۔؟؟ فجر کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔
وہ۔۔۔ مجھے۔۔۔۔۔لینے آٸی۔۔۔ہے۔۔۔!!
مسز روبینہ نے سردی سے کانپتے ہوۓ کہا۔
ایسا۔۔۔۔ کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔!!
آپ پلیز۔۔۔۔!! ایسا مت کہیں۔۔!! فجر کو بہت دکھ ہوا۔ انکی بات پے۔
میں نے۔۔۔ اسکی بات نہیں مانی۔۔۔۔ میں ے۔۔۔ اسکا راز۔۔۔۔۔۔۔!!
مسز روبینہ رو دیں ۔سردی سے کانپتے وہ بری طرح دکھی تھیں۔
فجر نے انہیں حوصلہ دیا۔
آپ۔۔۔ ہمت۔۔ مت ہاریں۔ہم۔۔۔ سب آپ کے ساتھ ہیں۔۔۔!!
ارمان نے بھی انکی ہمت بڑھاٸی۔
لیکن وہ نفی میں سر ہلانے لگیں۔
اگر۔۔۔۔۔میں۔۔۔ اسکے۔۔۔ ساتھ نہ۔۔ گٸ۔۔ تو۔۔۔ وہ آپ ۔۔۔ سب کو۔۔ بھی۔۔۔۔!! آنسو شدت سے بہہ نکلے۔
نہیں۔۔۔۔!/ آپ کانام نہیں تھا۔۔۔ اس فہرست میں۔۔۔۔ آپ کو۔۔کچھ۔۔ نہیں ہوگا۔۔۔۔
اچانک ہی فجر کے منہ سے بے دھیانی میں پھسلا۔
ارمان نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا۔ لکن کہا کچھ نہیں۔
میرا۔۔۔۔ مطلب۔۔۔ ہے۔۔۔!! ایسا۔۔۔کبھی۔۔ نہیں۔۔۔۔ہوگا۔۔۔!! ہم۔۔ اسکا بھی۔۔ حل نکال لیں گے۔۔۔
اور اللہ بہت کارساز ہے۔۔۔!! اللہ پے بھروسہ رکھیں۔۔۔
وہ کبھی بھی۔۔۔ بدی کو نیکی پے برتری نہیں حاصل کرنے دے گا۔
ضرورکوٸی نہ کوٸی راستہ نکل آٸے گا۔۔۔
فجرکی باتوں سے سب کو حوصلہ ملا۔
اگر ہم مل کے اپنے اللہ کو یاد کریں۔۔۔ اس سے مددمانگیں۔۔ تو وہ ضرور ہماری سنے گا۔
ان شاء اللہ۔۔۔۔۔
فجر نے ارمان کی ہاں میں ہاں ملاٸی۔
ان سب نے ملکے اللہ کے حضور دعا مانگی۔
آنسو سبھی کے طاری تھے۔
سب کی حالت بہت بگڑ رہی تھی۔
لیکن اللہ پے یقین مضبوط تھا۔
اور یہی تو امتحان تھا ان کا اللہ کی طرف سے۔۔۔۔۔
ابھی وہ دعامانگ کےایک ساتھ سجدے میں گٸےتھے۔کہ۔۔۔۔اتنے میں ان کو۔۔۔۔ محسوسہوا کہ کمرے کے باہر آگ لگی ہے۔۔۔ اور وہ تیز ہوتی جا رہی تھی۔
وہ سب حیران تو ہوۓ لیکن انہیں بہت حرارت محسوس ہوٸی۔
جس سے ایک سکون سا محسوس کیا سب نے۔۔۔
آگ بڑھتی گٸ اور ۔۔۔ سردی کا زور ٹوٹتا چلاگیا۔
دروازکھلا اور روشنی کی تیز شعاع اندر داخل ہوٸی۔
وہ مسکراتا ہوا اندر داخل ہوا۔
فجر کا اللہ کے نام کا لاکٹ بھی جگمگانے لگا۔ ارمان کی کلاٸی سےبھی روشنی کی شعاع پھوٹی۔۔
ایک گونا سکون محسوس کیا سب نے۔
اور فوراً اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوۓ۔
اطالوس کی شکل میں انکو۔۔۔۔ اللہ کی طرف سے غبی امداد ہی تو ملی تھی۔۔
یہ۔۔۔ سب تم نے کیا۔۔۔؟؟
فجر نے اپناٸیت سے پوچھا۔
میرے علاوہ۔۔۔ تو یہاں اور کوٸی ہے بھی نہیں۔۔۔!!
اور مدد کے لیے تو۔۔۔ میں ہی۔۔ آیا ہوں۔۔۔۔!!
وہ منہپے مسکراہٹ لاتے بولا۔
یہ۔۔۔ سب ۔۔۔۔ کیا بھی۔۔ اسی نے ہوگا۔۔۔!!
I am sure..
یہ اسی کے شرارت ہے۔
ثمرہ نے دانت پیستے کہا۔
وہ مزید کھسیانی ہنسی ہنسا۔
ارمان کو غصہ آگیا۔ اور غصے سے آگے بڑھا۔ کہ فجر نے اسے روک لیا۔
اور نفی میں سر ہلایا۔
وہ جانتی تھی۔۔ کہ وہ ایک جن ہے۔۔۔!! اور اگر اس سے با نکلوانی تھی تو بہت پیار سے۔۔۔
ارمان کے غصے پے ہی اس نے یہ سب کیا۔
اور اگر اب مزید غصہ کیا تو ۔۔۔ وہ اور نجانے کیاکرے۔۔۔؟؟
اطالوس۔۔۔پلیز۔۔۔ درخواست ہے۔۔۔۔۔کہ۔ اگلی بار ایسا نہ کرنا۔۔
فجر نےنارمل اندازمیں کہا۔
ہاٸے۔۔۔ !! قسمیں۔۔۔!! آپ کے لیے تو کچھ بھی۔۔۔۔۔!!
ڈراماٸی انداز میں کہتا وہ ارما۔کو سلگاگیا۔
فجر نے لب بھینچے۔
میرا۔۔۔ خیال ہے۔۔ ہمیں۔۔۔ اب یہاں سے نکلنا چاہیے۔۔۔
بالاج نے گھڑی دیکھتے کہا۔
ہاں ہاں۔۔۔ جانا ضروری ہے۔۔۔۔۔!! جاٶ۔۔ جاٶ۔۔۔۔
اطالوس پھر ہنسا۔
اطالوس۔۔۔ کوٸی شرارت نہیں۔۔۔۔!!
فجر نے انگلی اٹھاتے وارن کیا۔
تو وہ منہ بنا کے چپ ہو گیا۔
جن ہے۔۔۔ ناں۔۔۔!! اصلیت تو دکھانی ہی ہے اس نے۔۔۔!!
ثمرہ نے منہ بگاڑا۔
تو اطالوس کا پھر غصہ آگیا۔
ہاتھ کے اشارے سے اس نے ثمرہ کو ہوا میں بلند کیا۔
ارمان ۔۔ بالاج۔۔ اور فجر تینوں۔۔ گھبرا گٸے۔۔
کیاکر رہے۔۔۔ ہو نیچے اتارو۔۔۔۔۔ مجھے۔۔۔۔!!
ثمرہ اس پے چلاٸی۔۔۔
جن ہوں۔۔ ناں۔۔۔ اپنی اصلیت۔۔۔ بتا رہا ہوں۔۔
منہ بناتے کہا۔
ارمان نے گہرا سانس خارج کیا۔
اور ثمرہ کو ہاتھ ہوا میں لہرا کے نیچے اتارا
اور جارحانہ انداز میں اطالوس کی جانب بڑھا۔۔۔۔
