Khoni Jhula by Muntaha Chohan NovelR50513 Khoni Jhula (Episode 07)
Rate this Novel
Khoni Jhula (Episode 07)
Khoni Jhula by Muntaha Chohan
رات کے اندھیرے نے عجیب سی وحشت ڈالی ہوٸی تھی۔ہر طرف سناٹا تھا۔
ایسے میں ارمان گاڑی میں بیٹھا ۔ ایک جگہ گاڑی روک چکا تھا۔
اسے ارد گرد کا کاٸی ہوش نہ تھا۔کہ وہ اس وقت کہاں ہے۔۔۔۔؟
بس دماغ میں ایک ہی بات گونج رہی تھی۔
موت کے بعد کی دنیا۔۔۔۔۔۔۔
موت کے بعد۔۔۔۔۔۔
ارمان کی آنکھیں سرخ ہو گٸیں تھیں۔ سختی سے آنکھیں میچیں۔
آپ کے یقین کرنے یا نہ کرنے سے حقیقت بدل نہیں جاۓ۔۔گی۔
فجر کی آواز کانوں سے ٹکراٸی۔
نہیں ۔۔۔۔۔ یہ ممکن نہیں۔۔۔۔۔
ایمن ۔۔۔۔۔نہیں مر ۔۔۔سکتی۔۔۔
میں اسے۔۔۔۔ ڈھونڈوں گا۔۔۔۔
فجر۔۔۔۔۔ کچھ نہیں جانتی۔۔۔۔۔وہ صرف ۔۔۔۔ گمراہ کر رہی ہے مجھے۔۔۔
یقیناً کوٸی بہت بڑا حادثہ ہوا ہو گا۔۔۔۔
لیکن۔۔۔ میں اپنی بہن۔۔۔۔ کو ضرور ڈھونڈوں گا۔
موباٸیل ساٸیڈ سے اٹھا یا ۔۔اور فجر کانمبر ڈاٸیل کیا۔
ایک دو تین۔۔۔ کافی بیل۔گٸیں۔ لیکن اس نے فون نہ اٹھایا۔
اوکے۔۔۔۔ دین۔۔۔۔۔میٹ ۔۔یو۔۔۔۔۔آٸی ایم ۔۔۔ کمنگ۔
کہتے ہی گاڑی اسٹارٹ کی ۔لیکن بریک لگانی پڑی۔
سامنے سڑک کے بیچوں بیچ ایک کالے رنگ کی بلی تھی۔ جس کی آنکھیں۔۔۔ سرخ رنگ کی تھیں۔ اور بہت خونخوار نظروں سے وہ ارمان کو ہی دیکھ رہی تھی۔
ایک ہُو کا عالم تھا۔
اس بات سے بےخبر کہ ارمان اس وقت اسی پارک کے سامنے گاڑی کھڑی کیے ہوٸے تھا۔
جس پارک کے اندر جانے کے بعد ہی حادثات ہو رہے تھے۔
اور وہ پارک اس وقت قبرستان کا منظر پیش کر رہا تھا۔
ارمان کے دیکھتے ہی دیکھتے اس بلی کا ساٸز بڑا ہونے لگا۔
ارمان کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔
ایسا اس کے ساتھ پہلی بار ہو رہا تھا۔
آنکھیں جھپک کے دیکھا۔۔ لیکن منظر نہ بدلا۔
اچانک تیز ہوا کا ایک جھونکا آیا جس نے گاڑی کو ہلاکے رکھ دیا۔
اور ارمان کا ہاتھ ۔۔ سامنے میوزک پلیٸر پے جا لگا۔
اور وہ آن ہو گیا۔



فجر نے گاڑی اسٹارٹ کرنے سے پہلے کوٸی چار پانچ دفعہ رامین کے نمبر پے کال ملاٸی۔لیکن رامن کا نمبر بزی آرہا تھا۔۔
مجبوراً گاڑی میں بیٹھتے موباٸیل کو ڈیش بورڑ پے ڈالا۔اورگاڑی کو فل سپیڈ پےکرکے چھوڑ دیا۔
شاہ بابا کے الفاظ کی بازگشت بار بار ہو رہی تھی۔
لوٹ جاٶ فجر۔۔۔
تم یہاں اس سے نہیں جیت سکتی۔۔۔
یہ کالی دنیا ہے۔۔۔
یہاں سے جاٶ۔۔۔ اپنی دنیا میں۔
اور ۔۔۔۔ اب جو یہاں آکر غلطی کی ہے ۔۔۔ اسکا خمیازہ بھگتو۔۔۔۔۔
وہ بدلہ لینے آۓ گی۔۔۔۔
شاہ بابا اسکے کان کے قریب آٸے۔
تمہارے کسی اپنے کی جان کو خطرہ ہے۔۔۔ اپنےگھر لوٹ جاٶ
گھر۔۔۔۔ لوٹ جاٶ۔۔۔
آنسو آنکھوں میں آگۓ۔
اے میرے اللہ۔۔۔ رامین کی حفاظت کرنا۔۔۔۔
میں سارا کو تو کھو چکی ہوں۔۔۔ رامین کو نہیں کھونا چاہتی۔۔۔۔
بس میرے وہاں پہنچنے تک اسے کچھ نہ ہو۔۔۔۔۔ اسکی حفاظت کر۔۔۔ میرے مالک۔۔۔۔
میری وجہ سے اسے۔۔۔ کچھ ہو گیا۔۔۔ تو۔۔۔میں خود کو کبھی ۔۔۔معاف نہیں کر پاٶں گی۔
سختی سےاپنے گال پے آٸے آنسوٶں کو ہاتھ کی پشت سے رگڑ کر صاف کیا۔
پاس پڑا موباٸیل۔کافی بار بج کے بند ہو چکا تھا۔ لیکن اسکا دھیان صرف رامین میں اٹکا تھا۔
اسکی سلامتی کی دعاٸیں مانگ رہی تھی۔



ہاں ۔۔۔۔ یار۔۔۔۔ آجاٶں گی۔۔۔ جلدی واپس۔۔۔۔۔
پہلے جس مقصد کےلیے یہاں آٸی ہوں ۔۔۔ وہ تو پورا کرلوں۔
ٹی وی پے کوٸی شو لگاۓ رامین اس وقت پاپ کارن کھاتی فون پر بھی کافی دیر سے لگی بات کر رہی تھی۔
کیا ۔۔۔ انجواۓ کرنا۔۔۔
اکیلی ہوں گھر میں۔۔۔۔
وہ میڈم تو صبح کی نکلی ہوٸی۔۔۔ ابھی تک نہیں لوٹی۔۔۔ اتنی رات ہو گٸی ہے۔۔۔۔
کو ٸی خیال ہی نہیں۔۔۔۔
منہ بنا کے جواب دیا۔ جبکہ نظر ٹی وی پر تھی۔۔
ہاہاہاہاہا۔۔۔ اکیلے۔۔۔ میں ڈر ۔۔۔ اور مجھے۔۔۔۔۔ ہاہاہ ہاہاہا۔۔
یو نو ویری ویل۔۔۔۔ رامین ڈرتی نہیں ڈراتی ہے۔۔۔۔
ہاں یہ اور بات ہے۔۔۔ اس وقت گھر کی خاموشی عجیب سا خوف طاری کر رہی ہے۔
اسی لیے تو اونچیییی آواز میں ٹی وی لگا کے بیٹھی ہوں۔
رامین پاپ کارن انجواٸے کرتی بولی۔
اور مقابل کی کسی بات پے قہقہہ لگایا۔ ایسے میں ایک کالا سایا۔۔۔ کھڑکی کے پاس سے گزرا۔
رامین کی نظر بھٹک کے گٸی۔ لیکن اپنا وہم سمجھ کے پھر سے باتوں میں لگ گٸی۔
نہیں یار ۔۔۔۔ وہ بہت تیز ہے۔۔۔۔۔ کوٸی کلیو ۔۔۔ نہیں چھوڑتی۔۔۔۔۔
لیکن میرا نام بھی رامین ہے۔۔۔
میں بھی پتہ کر کے ہی رہوں گی۔۔۔ اس کے پاس کونسا جادو ہے۔۔۔۔
ایک ٹھنڈی یخ ہوا کا جھونکا رامین سے ٹکرایا تو وہ لرز گٸ۔
پلٹ کے اپنے ارد گر د دیکھا۔ کوٸی نہیں تھا۔ دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
اچانک لاٸیٹ سپارک کرنے لگی۔ رامین اپنی جگہ سے کھڑی ہوٸی گھو م گھوم کے سب طرف دیکھنے لگی۔
یہ ۔۔۔۔ یہ۔۔۔ کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔؟
ایکدم سے لاٸیٹ چلی گٸ۔ اور پر اسرار سی خاموشی چھا گٸ۔
رامین کو پسینے آنے لگے۔ دل اچھل اچھل کے حلق میں آرہا تھا۔
کچھ دکھاٸی نہ دے رہا تھا۔گھپ اندھیرا تھا۔
موباٸیل سکرین بھی آف ہو گٸ تھی۔
کسی نے کان کے پاس آکے غراہٹ کی تو۔۔۔ رامین کا سانس رک گیا۔
اپنی جگہ سے ہل نہ سکی۔ کافی دیر خاموشی رہی۔
کچھ نہ ہوا۔۔۔۔۔۔
تو تنے اعصاب ڈھیلے پڑے.
کہ ایک دم ٹی وی آن ہوا۔ اور بہت شور کے ساتھ۔۔۔
رامین کو کانوں پے ہاتھ رکھنا پڑا۔
ٹی وی کی سکرین بلیک تھی۔
لیکن وہ آن تھا۔۔
رامین نے دھیرے سے نظر اٹھا کے دیکھا۔ پھر سے وہی خاموشی۔ ۔۔
ٹی وی اسکرین صرف آن تھی۔۔ جبکہ لاٸیٹ آف۔
یہ کیا ماجرہ ہے۔۔۔۔۔ وہ نہ سمجھ سکی۔۔
ایک چینخ کی آواز آٸی ٹی وی اسکرین میں سے۔
یا۔۔۔۔۔ حقیقت میں ۔۔۔ وہ سمجھ ہی نہ سکی۔
اسکا دماغ ماٶف ہو گیا۔
سوچنے سمجھنے کی ساری صلاحتیں دم توڑ گٸیں۔
اچانک ایک تصویر اسکرین پے ابھری۔
رامین کے رونگٹے کھڑے ہو گۓ۔
اسکرین پے ایک لڑکی تھی۔
جو ہاتھوں کے بل۔چلتی ہوٸی۔۔ آگے بڑھ رہی تھی۔
انہی قدموں پے رامین پیچھے ہو رہی تھی۔۔
اور اسکرین کے پاس آکے وہ رک کے رامین کو تکنے لگی۔
رامین نے گھبرا کے ادھر ادھر دیکھا۔ آنسو بہہ کے گالوں پے لڑھک رہے تھے۔
اتنے میں وہ لڑکی ہاتھوں کے بل اسکرین سے نکل کے باہر آٸی۔
رامین جھٹکا کھا کے پیچھے ہٹی۔ اور اندھا دھند بھاگی۔۔
ٹھوکر کھاٸی لیکن۔۔۔ پھر سنبھلی۔۔
اور دروازے تک پہنچی کسی نہ کسی طرح کر کے۔۔۔
لیکن دروازہ لاک تھا۔
کوٸی ہے۔۔۔۔۔۔؟
پلیز ۔۔۔۔۔ میری مدد کرو۔۔۔ مجھےیہاں سے باہر نکالو۔
لاک کو بار بار گھومایا۔ لیکن نہ کھلا۔۔
غرانے کی آواز پر وہ پلٹی۔ سامنے ہاتھوں کے بل وہ لڑکی بیٹھی اسی کو دیکھ رہی تھی۔۔
دیکھتے دیکھتے وہ پلک جھپکتےایک لمحے میں رامین کے چہرے کے بالکل پاس پہنچ گٸ۔ رامین دروازے کے ساتھ جا لگی۔
عجیب و غریب حالت کی اس لڑکی کو دیکھ رامین کا سانس رکا۔۔



میوزک پلٸیر آن ہوا۔۔
اس پے سورہ الرحمٰن کی تلاوت ہو رہی تھی۔
جیسے جیسے تلاوت ہو رہی تھی ترجمے کے ساتھ۔ ویسے ویسے۔۔ اس بلی کو اپنے ساٸز میں واپس آتا دیکھا۔۔
اور پھر اسکا ساٸز اتنا چھوٹا ہو گیا کہ وہ غاٸب ہو گیا۔
ارمان نے ماتھے پے آیا پسینہ صاف کیا
درود شریف پڑھ کے گاڑی اسٹارٹ کی۔
ساتھ میں سورہ الرحمٰن کی تلاوت بھی سنتا رہا
ایک سکون کی کیفیت طاری ہو گٸ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
********
ازمیر ۔۔۔۔۔
مجھے ایک بات نہیں سمجھ آٸی۔۔۔۔
وہ لڑکی ۔۔۔۔ گٸ کہاں۔۔۔۔؟
بالاج سوچ میں ڈوبا۔
سر۔۔۔۔ یہی تو اہم بات ہے۔۔۔۔ کیسے وہ غاٸب ہوٸی۔۔۔ یہ تو معمہ ہی بن گٸ ہے۔۔۔۔
اہممممممم۔۔۔۔
کوٸی آیا۔۔۔۔۔۔ لیلیٰ کے گھر سے۔۔۔۔ اسکی گمشدگی کی رپورٹ درج کروانے؟؟؟
نو سر۔۔۔۔۔ فی الحال ۔۔۔۔۔ کوٸی نہیں آیا۔۔۔۔
اور ویسے بھی سر۔۔۔۔۔ ان ٹک ٹاکرز کو ان کی فیملی کبھی ایکسپٹ نہیں کرتی۔۔۔۔
ساری زندگی۔۔۔ پیسے اور جھوٹے فیم کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں۔۔۔۔ اور مرتے ہیں تو کوٸی۔۔۔۔ نام تک نہیں دیتا انکو اپنا۔۔۔۔۔۔
اور آخرت الگ خراب کرتے ہیں۔۔۔۔
ازمیر نے دل کی بھڑاس نکالی۔
امممممم۔۔۔۔ یہ پارک ۔۔۔۔ کس کے نام ہے؟؟؟؟
توڈی کے نیچے ہاتھ رکھے پر سوچ انداز میں پو چھا۔
سر۔۔۔۔۔۔ کسی چوہدری عظمت بیگ کے نام ہے۔۔۔۔۔
انواٸیٹ کرو کل پھر۔۔۔۔
اور وہ چوکیدار۔۔۔۔۔ اسکا کیا بنا۔۔۔۔۔؟؟؟
سر وہ کل سے غاٸب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈھونڈ رہے۔۔۔ ہیں۔۔ مل جاۓ گا۔۔۔
اممم۔۔۔ ٹھیک۔۔۔۔۔ اگر کل۔۔۔۔ کوٸی ہاتھ نہ آۓ تو۔۔۔۔۔ پارک کو۔۔۔ سیل۔کر دینا۔۔
اپنی جگہ سے اٹھتے ازمیر کی سماعتوں پر بم پھڑا۔
آر یو شور سر۔۔۔۔۔۔۔؟
یس۔۔۔۔۔۔۔ ہنڈرڈ پرسنٹ شیور۔۔۔۔۔۔!!
پارک کو کھلا رکھ کے۔۔۔۔۔ مزید ۔۔۔۔۔۔ جانوں کا رسک نہیں لے سکتے۔
کہتے ساتھ بالاج گھر کے لیے نکلا۔۔۔ آج کام میں بہت وقت لگ گیا تھا۔۔ اور رات بھی کافی ہو گٸ تھی۔
صبح بھی ثمرہ کی طبعیت ٹھیک نہ تھی۔
پھر۔۔ اسکا رو کے جانا ۔۔۔۔ اب بالاج کو اسکی فکر بھی ہو رہی تھی۔
اور وہ جلد از جلد گھر پہنچنا چاہتا تھا۔
*********
چہرے کے ساتھ چہرہ جڑا تھا۔۔۔۔
وہ عجیب آنکھوں اور برے چہرے کی لڑکی رامین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی تھی۔
اور رامین کا پسینے سے برا حال تھا۔
اور پھر وہ ایک دم غاٸب ہو گٸ۔۔۔
رامین نے رکا سانس بحال کیا۔
دل۔پے ہاتھ رکھے وہ وہاں سے صوفے کے پچھے جا چھپی۔
وہ لڑکی سامنے نہیں تھی۔ رامین نے جھانک کر دیکھا
۔وہ کہیں۔۔۔ نہیں تھی۔ رامین سانس روکے آنسو بہا رہی تھی۔
یااللہ ۔۔۔میری۔۔۔۔ مدد کر۔۔۔۔ اس بلا سے مجھے۔۔۔ بچا ۔۔۔لے۔۔۔۔
میں کل ہی یہاں سے۔۔۔ چلی جاٶں گی۔
ایک منٹ بھی نہیں رکوں گی۔۔۔ یہاں۔۔۔ اس بھوتوں کے گھر میں۔۔۔
دل ہی دل میں پلاننگ کرتے وہ پسینہ اور آنسو صاف کر رہی تھی۔۔۔۔
کہ اس کے ہاتھ کی پشت پر خون کا قطرہ گرا۔
اس نے حیرت سے ہاتھ پے دیکھا اسکرین کی کچھ روشنی میں وہ کچھ حد تک واضح ہوا تھا۔
اور اسکی بو بھی۔۔۔
فوراً ہاتھ جھٹکا۔اور اسے صاف کیا۔
لیکن اور قطرے گرے تو وہ گھبراٸی ۔۔۔
اور دھیرے دھیرے اوپر کی طرف نظر گھماٸی۔
وہ بری لڑکی اوپر ہی تھی۔
چھت کے ساتھ لگی اس کا رخ رامین کی طرف تھا۔
اس کے منہ میں خون تھا۔
رامین ایک چینخ ما ر کے وہاں سے ہٹی۔ اور آگے بڑھی۔۔۔ کہ وہ بری لڑکی پھر سامنے آگٸ۔
اب کی بار اس نے اپنی گردن کو داٸیں باٸیں مروڑ کے جھکایا۔۔ اور جھٹکے سے سیدھا کیا۔
رامین اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکی۔
اس بدنما چہرے والی نے اپنا منہ کھولا۔۔۔۔اور وہ کھول کے اتنا بڑا ہو گیا کہ لٹک کے نیچے تک آگیا۔
رامین کا خوف سے رنگ فق ہو گیا ۔۔۔اور وہیں بے ہوش ہو کے گر گٸی۔
***********
وہ خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی کہ یکدم لاٸیٹ آن ہوٸی
آنکھوں میں روشنی چھبی۔تو۔۔۔ ماتھے پے تیوری پڑ گٸی۔
اور ددھیرے سے آنکھیں کھولیں۔۔
سامنے ہی بالاج جیب میں ہاتھ ڈالے ایک دلفریب مسکرہٹ کے ساتھ کھڑا تھا۔
ثمرہ کو ہوش و حواس میں واپس آتے کچھ پل ہی لگے تھے۔
اور اگلے پل ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہو ٸے تھے۔
اگر بالاج سامنے کھڑا تھا۔۔۔ تو ۔۔۔۔
اس کے۔۔۔۔ ساتھ ۔۔۔بستر میں۔۔۔۔ کون تھا۔۔۔۔ ؟؟؟
اپنی کمر پے ہاتھ اسے اب بھی محسوس ہو رہا تھا۔
ڈرتے ڈرتے اس ہاتھ پے اپنا ہاتھ رکھا۔ وہ۔۔۔ بالاج کا ہی ہاتھ تھا۔
اور وہ ہمیشہ ایسے ہی اسے ہگ کر کے سوتا تھا۔
وہ سمجھ نہ پاٸی۔۔۔۔ کہ پھر سامنے کون ہے۔۔۔۔۔؟؟
سامنے وہ ابھی بھی ۔۔۔۔۔۔مسکراتا ثمرہ کو ہی دیکھ رہا تھا۔
وہ جھٹکے سے اٹھی۔
اور ساتھ سوۓ بالاج کو دیکھا۔ وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوا۔
جبکہ سامنے کھڑا بالا ج اب زور زور سے ہسننے لگا
ثمرہ کو خوف محسوس ہوا۔
ایسا محسوس ہو رہا تھا۔۔
جیسے پورے جسم میں۔۔ چیونٹیاں رینگ رہی ہوں۔
دونوں میں سے بالاج کون تھا۔۔۔۔۔۔ وہ نہیں سمجھ پا رہی تھی۔۔۔
خوف سے کانپنے لگی۔
ساتھ میں لیٹے بالاج پے ہاتھ کی گرفت سخت ہوٸی تو۔۔۔وہ کسمسایا۔
********
گاڑی باہر گیٹ پر رکی۔ فجر نے سامنے دیکھا۔ ۔۔
اسی لمحے ارمان کی گاڑی بھی آکرفجر کی گاڑی کے سامنے رکی۔۔۔۔۔۔
دونوں گاڑی سے باہر نکلے۔
آپ یہاں۔۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت۔۔۔۔؟
فجر حیران ہوٸی۔
ارمان ابھی کوٸی جواب دیتا ۔۔کہ گھر کے اندر سے چینخ کی آواز آٸی ۔۔۔ دونوں چونکے۔۔۔۔
ایک دوسرے کو دیکھا
را۔۔۔مین۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
زیر لب کہتی فجر اندر کی طرف بھاگی۔
ارمان بھی اسی کے پیچھے بھاگا۔۔
اندر داخل ہوتے۔۔۔ہی۔۔۔۔۔
جاری ہے
