Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khoni Jhula (Episode 04)

Khoni Jhula by Muntaha Chohan

منہ پے ہاتھ رکھ کے اس نے اپنی چینخ کا گلا گھونٹا۔

اور الٹے قدم پیچھے لیے۔

لیکن ہاتھ کے ساتھ ایک بازو کو بھی باہر آتا دیکھ اس کے رونگٹے کھڑے ہو گۓ۔

باقی کا دھڑ بھی ساتھ باہر نکلنے لگا۔

تو فجر کی ہمت جواب دے گٸ۔ اور الٹے قدموں وہ بھاگی۔

لیکن دور در تک صرف قبریں ہی تھیں۔ کہیں کوٸی راستہ نہیں تھا نکلنے کا۔

یا اللہ۔۔۔۔ میری مدد کر۔۔۔۔ تو ہی کار ساز ہے۔۔۔

مجھے یہاں سے نکالنے میں مدد کر میرے مالک۔۔۔۔۔

روتے ہوٸے آسمان پے دیکھا۔

اتنے میں قریب ہی اور قبروں سے بھی ہاتھ باہر نکلے۔

ارد گرد کوٸی راستہ نظر نہ آرہا تھا۔۔۔۔ ۔

کہ ایک دم اچانک۔۔۔۔۔۔۔۔۔

⭐
⭐
⭐

آپ کو ن ہیں۔۔۔ ؟

اور میری مدد کرنے کی کوٸی خاص وجہ؟

ارمان کو رات کے ٣ بجے آنے والے فون نے چونکایا۔ اور جو کہا گیا۔ وہ مزید چونکا گیا۔

سر۔۔۔ میں نہیں جانتا کہ میں کیوں یہ سب کر رہا ہوں۔۔۔۔۔؟

لیکن میں آپ کو مجبور نہیں کروں گا کہ آپ ان سے ملیں۔ آپ کا دل چاہے تو آپ مل لیں۔ میں نے آپ کا بھلا ہی سوچا ہے آگے آپ کی مرضی۔

دوسری طرف فون بند ہو چکا تھا۔ ارمان سوچ میں تھا۔ کہ اب کیا کرے۔۔۔۔

فجر سے ملے یا نہ۔۔۔ ایک طرف بہن تھی تو دوسری طرف انا۔۔۔۔

کافی سوچنے کے بعد وہ اٹھ گیا۔ کیونکہ بہن کی محبت انا پے بھاری پڑ گٸ تھی۔

وہ ٹاٸم دیکھتا ابھی ہی فجر کے پاس جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔

وہ جلد ازجلد ایمن کا پتہ لگانا چاہتا تھا۔

⭐
⭐
⭐
⭐

جاۓ نماز بچھاۓ عبادت کرتے شاہ بابا کے لب رکے آنکھیں ان کی بند تھیں۔

جو منظر وہ دیکھ رہے تھے۔

اس کے لیںے انہوں نے مزید پڑھنا شروع کیا ۔

اور حفاظت کا حصار کھینچا۔

پڑھتے ہوٸے ان کا دل بہت دھڑک رہا تھا۔ انہوں نے فجر کو اللہ کے سپرد کیا۔

اک تیری ذات ہے میرے مالک سب سے افضل۔۔۔۔

میرے اللہ ۔۔۔

یہ نیک بچی تیرے حوالے ہے۔اسکی حفاظت تیرے ذمے ہے۔ اس نیک کام کے لیے اے میرے رب۔۔۔۔۔

تو نے اسے چنا ہے۔۔۔

اسکی مدد بھی تجھے ہی کرنی ہے۔

تو الرحمٰن ہے الرحیم ہے اپنا رحم کر۔۔۔۔

براٸی کو اچھاٸی سے مات دے۔۔۔۔

دعا کے لیے ہاتھ اٹھاۓ شاہ بابا کی آنکھیں نم ہو گٸیں۔

⭐
⭐
⭐
⭐

آپی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مانوس سی آواز کانوں سے ٹکراٸی۔

بڑھتے قدم یکدم تھمے۔

دل عجیب لے پے ہی دھڑکا۔

آپی۔۔۔۔۔

آواز پھر سے آٸی اور وہ پلٹی۔

سامنے ہی تو وہ کھڑی تھی۔۔۔ کالے کپڑوں میں۔۔۔ اسکا پسندیدہ کلر۔۔۔

لیکن اسکے جسم کا آدھا حصہ غاٸب تھا۔

ایک آنکھ جیسےکسی نے نوچی ہو۔۔۔

جبکہ دوسری صحیح تھی۔۔۔

آدھے ہونٹ پے خون تھا۔

اور صرف گوشت کا لوتھڑا اسکی بازو کے ساتھ لٹک رہا تھا۔

ایک ٹانگ بھی اسکی خون میں لت پت تھی۔۔

فجر اس سے بہت سخت خوف کھا گٸ۔۔۔

سارا۔۔۔۔۔۔ اپنی آواز خود بھی اسے مشکل سے سناٸی دی۔

آپی۔۔۔۔ کیوں آٸی ہو یہاں۔۔۔۔؟

چلی جاٶ اور ۔۔۔۔۔۔۔ بھول جاٶ مجھے۔۔۔۔۔۔ مت پیچھا کرو میرا۔۔۔۔

وہ درد برداشت کرتے بولی۔ اسکی آواز سے محسوس ہو رہا تھا وہ بہت تکلیف میں ہے۔

سارا۔۔۔۔۔ میری جان۔۔۔۔ یہ۔۔۔ سب کیسے۔۔۔۔۔؟ کس نے کیا۔۔۔؟

الفاظ زبان کا ساتھ چھوڑ رہے تھے۔۔۔۔

اس نے منع کیا تھا۔۔۔ مت جاٶ ۔۔۔ وہاں۔۔۔ میں ہی نہیں مانی۔۔۔۔۔

ایک کسک تھی لہجے میں۔۔۔

کھو دیا۔۔۔۔ میں نے اسے۔۔۔۔

اس نے مجھے۔۔۔۔۔۔۔

وہ رو رہی تھی۔۔

آپی جاٶ۔۔۔۔۔ مت آنا یہاں۔۔۔۔۔۔ جاٶ۔۔۔ وہ شور کر رہی تھی۔۔

اتنے میں اور لڑکیاں آٸیں ۔

ان کی حالت بھی سارا جیسی تھی۔ اوروہ اسے زبردستی پکڑکر لے جانے لگیں۔

کہا۔۔۔۔۔؟ کہاں۔۔۔ لے کے ۔۔۔۔ جا رہی ہو۔۔۔۔۔۔؟ چھوڑو میری بہن کو۔۔۔۔

فجر دیوانہ وار آگے بڑھی۔ ڈر کو بہن کی محبت نے مات دی تھی۔

ان میں سے تین چار لڑکیوں نے فجر پر حملہ کر دیا۔

اور اسے بھی گھسیٹنے لگیں۔

چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔۔ فجر خود کو چھڑا رہی تھی۔

لیکن ناکام ثابت ہو رہی تھی۔۔۔۔

سارا بے بسی سے چلی جا رہی تھی۔ جیسے اب اسکا دماغ ماٶف ہوگیا ہو۔

فجر نے ایک لڑکی کو دھکا دیا۔

تو دوسری نے پوری قوت سے فجر کی گردن کو پکڑ لیا۔

اور اپنے شکنجے میں لے لیا۔ فجر کا سانس رکنے لگا۔۔۔

اس لڑکی کی پکڑ عام لڑکیو ں سے ہٹ کر تھی۔ جیسے کوٸی غیبی طاقت ہو۔۔۔

فجر کو سانس لینامحال ہو گیا۔۔

ایک لمحہ ایسا آیا کہ اسکی آنکھو ں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔

فجر کو اپنی موت یقینی لگی۔۔ اس نے اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ دیا۔۔

آنکھوں کے آگے گذری زندگی کے لمحات ایک فلم کی طرح چلنے لگے۔۔۔

ماں باپ کے ساتھ گزرا بچپن۔۔

ساراکے ساتھ بتاۓ خوبصورت لمحات۔۔۔

اور تصور کے ایک حسیں لمحے۔۔۔ میں۔۔۔ اس شخص کی شبیہہ۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔آگے ۔۔۔۔۔موت۔۔۔۔۔۔۔

😭
😭
😭
☀
☀
☀

اسے اس وقت فجر کے گھر جانا ٹھیک نہیں لگ رہا تھا

۔ بتاۓ گۓ ایڈریس پے وہ پہنچ چکا تھا۔

اور گاڑی میں بیٹھا وہ فجر کے گھر کو دیکھے سوچتا جا رہا تھا۔۔۔۔

کہ اتنے میں لاٸیٹ نے سپارک کیا۔

ارمان گاڑی سے باہر نکل آیا۔

ارد گرد کے کسی گھر میں کو ٸی سپارک نہ ہوا۔۔۔

سواٸے فجر کے گھر کے۔۔۔ اسے کچھ عجیب سا لگا۔ سڑک بلکل سنسان تھی۔

کہ اچانک ہوا کا ایک تیز جھونکا ارمان سے ٹکرایا۔۔۔

اس ہوا کا رخ فجر کے گھر کی طرف تھا۔

فجر کے گھر کا گیٹ خود بخود کھل گیا۔

جیسے کو ٸی عام انسان گیٹ کھول کے اندر داخل ہوتا ہے۔۔

ارمان کو بہت ہی عجیب لگا۔

اس کے قدم گیٹ کی طرف بڑھے۔۔۔

لیکن پھر رک گۓ۔

وہ چاہ کے بھی اندر نہیں جا پا را تھا۔ اس نے اپنے قدم واپس لیے ۔

اور گاڑی کی جانب بڑھا۔ ابھی دروازہ کھولا ہی تھا کہ نظروں کے سامنے فجر کا معصوم اور روتا ہوا چہرہ لہرایا۔

وہ ٹھٹھکا۔۔۔۔ اور اب کی بار قدم گھر کے اندر کی طرف بڑھاۓ۔

جیسے کوٸی کشش اسے اپنی طرف کھینچ رہی ہو۔۔۔۔

اندر داخل ہوا تو اندھیرے نے استقبال کیا۔ ۔۔

گھپ اندھیرا۔۔۔ اس بار ارمان کے قدم نہیں رکے وہ آگے بڑھتا چلا گیا۔

صحن سے راہداری تک پہنچا۔

موباٸیل کی ٹارچ آن کر لی۔

کچھ سامنے کا منظر واضح ہوا۔ اور وہ آگے بڑھا۔

مکمل خاموشی سے۔۔۔

اس نے فجر کو آواز بھی نہ دی۔

لیکن اسے ہی ڈھونڈتا آگے بڑھ رہا تھا۔ کہ ایک کمرے کا دروازہ کھولا دیکھا اور اس طرف بڑھا۔

موباٸیل کی روشنی جیسے ہی سامنے کی کچھ نظر نہ آیا کمرہ خالی تھا۔

وہ سوچ میں پڑ گیا۔۔ کہ یہ ماجرہ کیا ہے۔۔۔۔۔؟

وہ واپسی کے لیے پلٹنے لگا۔تو روشنی کی کچھ جھلک زمین پر پڑی۔

اور وہ وہیں ٹھٹھکا۔ فوراً آگے بڑھا۔ فجر جو اوندھے منہ زمین پر پڑی تھی اسکا سر اپنی گود میں رکھا۔

اسے ہلایا لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوٸی۔

ارمان حقیقتاً پریشان ہو گیا جھک کے اسکی سانسیں چیک کیں ۔۔۔

لیکن اسکی سانسیں بہت دھیم چل رہی تھیں۔۔۔۔جسم بھی اسکا سردہو رہا تھا۔۔

ارمان نے اسے اٹھانے کی کوشش کی لیکن وہ نہ ہلی۔

فجر۔۔۔۔۔۔۔ پلیز یار اٹھو۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہو گیا ہے تمہیں۔۔۔۔۔۔؟

ارمان بے بسی سے بولا۔

دوسری طرف شاہ بابا کا ورد جاری تھا۔۔۔۔

وہ من کی آنکھ سے سب دیکھ رہے تھے

🌟
🌟
🌟

اس لڑکی کی فجر کے گلے پے گرفت بڑھتی جا رہی تھی۔

اور اسکی سانسیسں تھمتی جا رہی تھیں۔

کہ دور کہیں ۔۔۔۔ روشنی کی شعاع پھوٹی تھی۔۔۔ وہ نور کی روشنی تھی۔۔۔۔

ہوش و حواس واپس لوٹے۔ ۔۔

گلے کا اللہ کا نام کا لاکٹ روشن ہوا۔۔

گرفت ڈھیلی پڑنے لگی۔۔۔

فجر۔۔۔۔۔۔ اٹھو۔۔۔۔ آنکھیں کھولو۔۔۔۔

تم سن رہی ہو نا۔۔ آنکھیں کھو لو۔۔۔۔۔

کسی کی آواز اسے اپنے بہت دور سے آتی سناٸی دی۔ ۔۔۔

اس کی آنکھوں میں جنبش ہوٸی۔ ارمان کو حوصلہ ہوا۔۔۔

اس نے اسے اپنے قریب کر کیا۔۔۔ اور ماتھے کے ساتھ ماتھا جوڑا۔۔۔ بے اختیاری میں تھا۔

پلیز فجر آنکھیں کھو۔۔لو۔۔۔۔ پلیززززززز۔۔۔۔

وہ بے بسی سے دھیمی آواز میں چلایا۔۔

فجر کو آواز بہت قریب سے سناٸی دی۔۔۔

وہ آنکھیں کھولنا چاہ رہی تھی لیکن نہیں کھول پا رہی تھی۔۔

سانس لینا چاہ رہی تھی۔۔۔ لیکن نہیں لے پا رہی تھی۔۔۔۔

فجر ۔۔۔۔۔ آنکھیں کھولو۔۔۔۔۔۔۔

ارمان زور سے چلایا۔۔۔

اور اس ایک لمحے میں فجر نے خود کو لو ٹتا دیکھا۔

اور ایک بہت گہری سانس لیتے وہ جھٹکے سے بہت گہرا سانس لیتی اٹھی۔۔ اور ۔۔۔

ارمان کے سینے سے جا لگی ۔

ارمان نے اسے خود سے لگایا۔ اور اسکی کمر پے تھپکی دے کے اس سے زیادہ خود کو تسلی دی۔

ایک سکون سے اپنے اندر اترتا محسوس ہوا۔

فجر ابھی بھی گہرے سانس لے رہی تھی۔وہ مکمل ہوش میں نہیں آٸی تھی۔

آنکھیں اسکی ابھی بھی بند تھیں۔

لیکن سانس اب دھیمے دھیمے چل رہی تھی۔

ارمان نے اسے اپنے سامنے کیا۔ وہ آنکھیں بند کیے ہوۓ تھی۔

لیکن اب وہ پرسکون دھیمے سانس لے رہی تھی ۔۔

تبھی لاٸیٹ بھی آگٸ۔

ارمان نے اسے اپنی بانہوں میں بھرا اور اسکے نازک وجود بستر پے لٹایا۔ ماتھے پے آۓبالوں کی لٹوں کو پیچھے کیا۔

دل نے ایک بیٹ مس کی۔ وہ آج بھی پورے استحاق کے ساتھ اسکے دل پے براجمان تھی۔نظروں کے راستے دل میں اتارتا وہ ابھی وہیں تھا

کہ فجر کی ازان کانوں سے ٹکراٸی۔ اور دروازہ سے کوٸی اندر داخل ہوا۔

فجر کو آوازیں دیتی وہ سیدھی اندر آٸی۔

سامنے ارمان ملک کو دیکھ وہ ٹھٹھکی۔ وہیں ارمان ملک بھی چونکا۔

🌟
🌟
🌟

شاہ بابا نے شکرانے کا سجدہ اداکیا۔

مشکل وقت ٹل گیا تھا۔ اللہ نے انہیں اکیلا نہیں چھوڑا تھا۔ لیکن وہ جانتے تھے اب تو آغاز ہواتھا۔ ۔۔

آگے اس سے بھی زیادہ مشکلات آنی تھیں۔ اور فجر کو چوکنا رہنا تھا۔ ۔۔۔

🌟
🌟
🌟

ثمرہ ابھی اٹھی نہیں۔۔۔ ؟

جاگنگ سے واپسی پے بالاج نے نیناں کو کچن میں ناشتہ بناتے دیکھا تو پوچھ بیٹھا۔۔

بھاٸی۔۔۔۔۔ میں گٸ تھی۔آواز بھی دی۔ ۔

لیکن وہ اٹھی نہییں ۔۔۔ تو میں واپس آگٸ۔۔۔ آپ کہتے ہیں تو جگا دوں۔۔۔۔ ؟

نہیں ۔۔۔ تم ناشتہ ریڈی کرو۔۔

میں دیکھتا ہوں۔ بالاج کہتا روم کی جانب بڑھا۔

ثمرہ ابھی تک سو رہی تھی۔ ۔۔جبکہ وہ صبح جلدی اٹھنے کی عادی تھی۔

آگے بڑھ کر اسے آواز دی۔

لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوٸی۔

اسکا ماتھا چھوا تو وہ تپ رہا تھا۔۔

بالاج بہت پریشان ہوا۔۔۔۔

اہ۔۔۔ خدایا ۔۔۔۔۔۔ اسے تو بہت تیز بخار ہے۔۔۔۔۔

نقاہت سے نہ ثمرہ سے آنکھیں کھولی جا رہی تھیں نہ۔۔۔ آواز نکل رہی تھی۔

ثمرہ۔۔۔۔۔۔ اٹھو۔۔۔۔۔۔

بالاج کے اٹھانے پے بھی وہ نہ أٹھ سکی۔۔

اور پھر وہ ڈاکٹر علی کو فون کرنے لگا۔

باہر نیناں ان کا ویٹ کر رہی تھی۔۔

اور بار بار گھڑی دیکھ رہی تھی۔ اسے یونی جانا تھا۔

وہ انکی انیکسی میں رہتی تھی۔

اسکا اس دنیا میں کوٸی نہ تھا۔

ثمرہ نے اسے اپنی بہن کا درجہ دیا تھا۔ تو بالاج بھی اسے چھوٹی بہن ہی مانتا تھا۔

کیا ہوا بھاٸی۔۔۔۔۔۔۔؟ باجی آیٸں نہیں۔۔۔۔۔؟

ثمرہ کو بہت تیز بخار ہے ۔۔۔ ڈاکٹر علی کو فون کیا ہے وہ آتا ہوگا۔۔۔۔

اوہ۔۔۔۔۔۔ میں دیکھتی ہوں۔۔۔۔

وہ ڈاٸینگ ٹیبل سے اٹھتے ہوۓ بولی۔

ارے تم ناشتہ کرو۔۔۔ لیٹ ہو جاٶ گی یونی سے۔۔۔۔۔

میں گھر ہی ہوں۔۔۔ دیکھ لوں گا۔۔۔

بالاج نے ٹوکا۔ اتنے میں ڈاکٹرعلی کی آمد ہوٸ۔

کیا ہوا بھابھی کو۔۔۔،؟

علی نے آتے ہی نیناں کو نظروں میں فوکس کیا۔

معلوم نہیں یار۔۔۔۔

بالاج پریشان ہوا۔

علی نے ثمرہ کا مکمل چیک اپ کیا۔بالاج اور۔نینا بھی پاس تھے۔

گھبرانے کی بات نہیں۔۔ یہ میڈیسن دیں انہں ٹھیک ہو جاٸیں گیں۔۔۔

ہمممم۔۔۔ لیکن ہوا کیا یوں اچانک۔۔۔۔؟ بالاج کو سکون نہ آرہا تھا۔

آٸی۔۔۔۔ تھنک کو ٸی شاک لگا ہے۔۔۔ بٹ ڈونٹ وری۔۔

اللہ شفا دے گا۔ ان کابہت خیال رکھیں۔

میں آج یونی نہیں جاتی۔۔۔۔۔۔ باجی کے پاس ہی رک جاتی ہوں۔ پریشانی سے نینا بولی۔

بالاج کچھ کہتا کہ اسکا موباٸیل بجا۔۔

سر۔۔۔۔ ایک اور ۔۔۔۔ لڑکی غاٸب ہوٸی ہے۔۔۔۔

ازمیر کی بات سے وہ کافی پریشان ہوا۔

سر آپ آفس آجاٸیں جتنی جلدی ہو سکے۔۔۔ میڈیا اور پریس والوں کو سنبھا لنا بہت مشکل ہو گیا۔

ازمیر پریشانی سے بولا۔

ٹھیک ہے میں آتا ہوں۔۔۔

فون بند کر کے وہ نینا کی طرف مڑا۔۔۔

نینا ۔۔۔۔ تم رک جاٶ اور ثمرہ کا دھیان رکھنا ۔۔۔۔ مجھے آفس پہنچنا ہے۔ورنہ بہت پرابلم ہو جاۓ گی۔۔۔

بھاٸی آپ آرام سے جاٸیں۔ باجی کو میں دیکھ لوں گی۔نینا نے تسلی دی۔

آر یو شور۔۔۔۔؟

بالاج نے پھر بھی تصدیق چاہی۔

وہ یوں ثمرہ کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا تھا۔

لیکن فرض آڑے آرہا تھا۔

اور وہ ایک فرض شناس پولیس آفیسر تھا۔

نینا سے تسلی کر کے وہ تیار ہونے لگا۔

نینںا وہیں ثمرہ کے پاس بیٹھ اسے ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرنے لگی۔

جبکہ علی کی نظرون سے کنفیوز بھیی ہو رہی تھی۔

چلیں علی۔۔۔۔؟ تیار ہو کے علی کو مخاطب کیا۔

امممامممم ہاں ہاں چلو۔۔۔۔

فوراً گڑبڑاکے جواب دیا ۔

ایک نظر ثمرہ پرڈالی اور اسے اللہ کے سپرد کر کے باہر کی طرف قدم بڑھاۓ۔

جہاں ایک شاکنگ نیوز اسکا انتظار کر رہی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *