Khoni Jhula by Muntaha Chohan NovelR50513 Khoni Jhula (Episode 02)
Rate this Novel
Khoni Jhula (Episode 02)
Khoni Jhula by Muntaha Chohan
وہ جھٹکے سے اٹھی۔۔ کام کرتے کرتے اچانک اسکی آنکھ لگ گٸ تھی ۔
گود میں رکھا لیب ٹاب کھسکا تھا۔
جسے دوبارہ گود میں رکھا تھا۔
موباٸیل پے آتی کال نے دھیان اپنی طرف کھینچا۔ آگے ہو کے موباٸیل اٹھایا۔ اور کان سے لگایا۔
بری خبر ہے۔۔ ایک لڑکی پھر سےغاٸب ہو گٸ ہے۔۔۔۔
دوسری طوف ازمیر تھا۔
فجر نے ماتھے کومسلا۔ اور سوچ میں ڈوب کے ابھری۔
مزید کوٸی انفو؟
نہیں ۔۔ ابھی تک تو بس یہی ہے۔ کچھ دیر میں بتاتا ہوں ساری بات۔
اممممم ۔۔۔۔ فجر نے موباٸیل بند کر کے ساٸیڈپے رکھ دیا اور بیڈ کران سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند کر بیٹھ گٸ۔۔
اور گزرے روز شب کا از سِر نو جاٸزہ لینے لگی۔۔
وہ چھ ماہ سے اس سب پے انوسٹیگیٹ کر رہی تھی
اور اس کی وجہ اس کی اپنی بہن تھی۔
جو چھ ماہ پہلے اچانک غاٸب ہو گٸ اور آج تک نہ پتہ لگ سکا۔
لیکن بہن کو ڈھونڈتے اسے مز ید پانچ لڑکیوں کی گمشدگی کا علم ہوا۔ ان کا بھی کوٸی سراغ نہ ملا۔۔۔
۔ کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہا ں گٸیں۔
لیکن اس سب کے باوجود فجر نے ہار نہیں مانی تھی۔
اور اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ اور اس سب میں اسکا دوست اور اس کی بہن کا منگیتر ازمیر جو قدم پے اسکا ساتھ تھا۔ وہ انسپکٹر تھا۔
اور پولس اسٹیشن سے گمشدہ لڑکیوں کی رپورٹ نکال کے تمام معلومات فجر کو دیتا تھا۔
فجر فہیم مغل اور سارا فہیم مغل دونوں بہنیں تھیں۔
ماں باپ کی وفات کے بعد رشتے کی ایک خالہ ان کے پاس آگٸ تھیں۔
انہوں نے ان دونوں بہنوں کی دل وجان سے پرورش کی
۔لیکن ایک سال پہلے وہ بھی خالقِ حقیقی سے جا ملیں ۔
اور اس دن واقعی وہ صحٕیح معنوں میں اکیلی ہو گیٸ تھیں۔
پھر ایک دن اچانک سارا گھر سے ناراض ہو کر چلی گٸ ۔۔۔
کوٸی نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہے؟کس سے ملی۔۔
۔ اور آج تک سارا کا پتہ نہ چل سکا۔۔۔ اور اس سلسلے میں پولیس بھی بے بس تھی۔
اور فجر نے خود اپنی بہن کی تلاش شروع کر دی۔
بہن تو نہ ملی۔۔۔لیکن مزید گمشدگیوں کی رپورٹ ملنا شروع ہوگٸ۔۔
۔ اور یہاں آ کے فجر کو شاک لگا۔
موباٸیل پے کال نے اسکی سوچوں کا تسلسل ایک بار پھر اپنی طرف کھنچا۔
ہاں رامین۔۔۔ میں ٹھیک ہو ں تم سناٶ۔۔۔
فجر۔۔۔ سب ٹھیک ہے۔تمھاری خیر یت ہی جاننی تھی۔
رامین نے فکر مندی سے کہا۔۔۔
الحَمْدُ ِلله۔۔۔۔ جانی ٹھیک ہوں۔
پتہ نہیں کیو ں ۔۔۔ تمہاری وجہ سے دل پریشان رہتا ہے۔۔۔
اکیلی رہتی ہو۔ ۔۔ کہا بھی میری طرف آجاٶ۔۔ تم مانتی بھی نہیں۔ ۔ ۔۔۔
رامین کے لہجے میں فجر کےلیے فکر مندی تھی۔۔۔
رامین تم جانتی ہو۔۔۔میں یہ گھر کبھی نہیں چھوڑ سکتی۔۔۔ مما بابا کی یادیں جڑی ہیں۔۔۔۔ اور سارا۔۔۔۔۔
کہتے کہتے آواز روندھ گٸ۔
فجر ۔۔ سارا کے لیے ہم سب پریشان ہیں۔۔۔ اللہ نے چاہا تو وہ خیریت سے ہو گی اور جلد ہی مل جاۓ گی۔۔۔
تسلی دی لیکن سامنے فجر تھی۔۔ اسے یہ جھوٹی تسلیاں کہاں سکون دلا سکتی تھیں۔۔۔۔؟
میں جانتی ہے رامین وہ کہاں۔۔۔۔۔ہے۔۔۔؟
بہت مشکل سے بول پاٸی۔۔۔
کیا۔۔۔ کہاں۔۔۔؟
وہاں جہاں اس تک میری آواز۔۔۔ نہیں جا سکتی۔۔۔۔إ۔
کہتے ہی فوراً فون بند کر دیا۔ رامین تو دل پے ہاتھ رکھ کے بیٹھ گٸ اسے فجر کی بات کا یقین نہ آیا۔۔۔
آنسو بہنے لگے۔۔ فجر کی تکلیف کا سوچ کے ہی اسے بے چینی ہونے لگی۔ اور فوراًاسکے پاس کراچی جانے کا فیصلہ کر لیا۔۔۔
***********************
یار میں نے سب جگہ اطلاح کر دی ہے۔۔ جیسے ہی کوٸی
خبر ملتی ہے انفارم کرتا ہوں۔
ڈی ایس پی بالاج نے فون پرارمان سے بات کر کے اسے تسلی دی۔
لیکن 12 گھنٹے سے اوپر ہوگییے تھے ابھی تک ایمن کا کچھ پتہ نہ چلا تھا۔
ہر جگہ سے پتہ کر والیا۔۔ اب تھک ہار کے وہ آفس میں آیا
تھا۔
اپنی چیٸر پر بیٹھتے وہ اپنے آنسو اپنے اندر اتار رہا تھا۔
بھاٸی۔۔۔۔ آپ میرے لیے چاکلیٹ نہیں نا لاۓ
جایٸں میں نہیں آپ سے بات کرتی۔۔ وہ ناراض ہوتی ارمان کو مسکرانے پے مجبور کر گٸ۔۔۔۔
اچھا جی۔۔۔ تو آپ اب ناراض ہیں۔۔۔ ارمان نے مزید تنگ کیا۔
بھاٸی اگر اب آپ نے تنگ کیا نا تو میں ناں۔۔۔ اوپر جا کے مما بابا کو آپ کی بڑی والی شکایت لگا دوں گی۔ایمن نوے اپنی طرف سے وارن کیا۔
ایمن۔۔۔ سوچ سمجھ کے بولا کرو۔۔۔ ہروقت مذاق نہیں اچھا ہوتا۔۔۔ ارمان کو غصہ آگیا۔
ایم ساری بھاٸی۔۔۔۔
ایمن نے بھی فوراً غلطی مانی ۔۔
ارمان نے اسے گلے سے لگایا۔
ایمن ۔۔ کھبی مزاق میں بھی ایسی بات نہ کر نا ۔ ایک تمہی تو ہوو میری زندگی میں۔۔۔ ارمان دکھی ہو گیا۔ ۔۔۔۔
ایمن۔۔۔۔۔ کہاں چلی گٸ تم۔۔۔؟
جانتی بھی ہو کہ نہیں ہے کوٸی ہمارا ایک دوسرے کے سوا۔۔ میری بہن میرے ماں باپ سب تمہی میں تو پایا ہے
میں۔ نے ۔۔۔۔ پلیز ۔۔۔ جہاں کہیں بھی ہو۔۔ لوٹ آٶ۔۔۔ ارمان نے اپنے آنسو بہنے دیٸے۔۔
وہ بے بسی کی انتہا پے تھا۔ تبھی موبایٸل پے کال آٸی۔ کال رسیو کی۔۔
ارمان ۔۔ پلیز۔۔ میں اک جگہ کا ایڈریس سینڈ کر رہا ہوں وہاں پہنچو۔۔۔۔
ڈی آٸی جی بالاج نے چھوٹتے ہی کہا۔
ایمن کا پتہ لگا۔۔۔۔؟ امید جاگی۔
ایک ۔۔۔لاش ملی ہے۔۔ پلیز تم پہنچو۔۔ فون بند ہو گیا۔ لیکن ارمان کی دنیا ہلا کے رکھ دی۔۔۔



کیا ہوا۔۔۔ ؟ ازمیر یوں اچانک بلایا۔۔۔۔؟
ازمیر کی بتاٸی گٸ جگہ پے پہنچ کے فجر نے اسے کال ملاٸی۔
فجر۔۔۔ یہںیں ایک لاش نلی ہے۔۔۔ بس دعا کرو وہ سارا نہ ہو۔۔۔۔ ازمیر کا لہجہ روندھا ہوا تھا۔
فجر تو سکتے میں آگٸ۔
چھ ماہ بعد کوٸی سراغ کیا ملا۔۔۔؟ لاش۔۔۔ ۔۔۔۔
آنکھوں میں آنسو آگۓ۔۔۔
لاش کی شناخت کے لیۓ ان لوگوں کو بلایاگیا تھا جب کی بچیاں لاپتہ ہوٸی تھیں۔ ۔
کافی جھمگٹا لگ گیا تھا وہاں پے۔۔۔
سب کو ایک طرف کر دیا گیا۔
میڈیا والو ں نے الگ ایک شور برپا کیا ہوا تھا۔۔۔
ازمیر فجر کو لیے آگے بڑھا۔ اسکا دل دھک دھک کر رہا تھا۔
ازمیر کے لیے بھی یہ مرحلہ مشکل تھا۔ سارا اسکی منگیتر تھی۔ اور محبت بھی
لاش کے چہرے سے کپڑا ہٹا۔۔۔ تو رکیں سانسیں بحا ل ہوٸیں۔
یہ ۔۔۔ سارا۔۔۔ نہیں ہے۔۔۔۔۔ گہری ساند خارج کی۔
یہ ایمن نہیں۔۔۔۔۔ ارمان کی آواز بھی فجر کے بعد ابھری تو دونوں پل بھر کے لیے ٹھٹھکے۔
دونوں کی نظریں ایک دوسرے پے اٹھیں۔
ماضی کی کتنی یادوں نے اپنے پنکھ پھلاۓ۔ دونوں کو بہت کچھ یاد آیا۔ ۔۔
لیکن وہ یادیں بہت بری تھیں۔ فجر نے رخ پھیر لیا۔ دل میں ایک دم سے نفرت ڈیرے جمانے لگی۔
ازمیر کے ساتھ وہ وہاں سے ہٹ گٸ۔ لیکن ارمان کی نظروں نے دور تکاسکا تعاقب کیا۔۔۔
میری بیٹی لادو مجھے۔۔۔ کوٸی۔۔ یہ میری بیٹی نہیں ہے۔۔
ایک عورت روتی ہوٸی بولی۔ فجر کی نظریں اسی پے تھیں
۔
ناظرین ۔۔۔آپ دیکھ سکتے اس وقت یہا ں ایک خون میں لپٹی ایک لاش ملی ہے۔لیکن شناخت کے لیے سب کو بلانے کے باوجود کوٸی بھی اس لاش سے اپنا تعلق ظاہر نہیں کررہا۔
چینل رپورٹر بولتی بولتی بالاج کے پاس آٸی۔
آییے ۔۔۔ اس سلسلے میں ڈی ایس پی بالاج سعد سے بات کرتے ہیں۔
جی ڈی ایس پی صاحب ۔۔۔ ایک اور لاش۔۔۔
آپ کو نہیں لگتا۔۔۔ یہ لاش پولیس ڈیپارٹمنٹ کے منہ پے ایک اور طمانچہ ہے۔۔۔۔
طنز سے کہتے ماٸیک بالاج کے آگے کیا۔
بالاج نے غصے سے اسے دیکھا۔
ڈی ایس پی صاحب۔۔۔ کیا کہیں گے آپ۔۔۔ آۓ روز لڑکیوں کا غاٸب ہونا ۔۔۔ آج اک لاش ملی۔۔۔
کل اور ملیں گیں۔
یہ تو ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل نکلے گا۔۔۔ لیکن آپ کچھ نہیں کریں گے۔۔۔
ایسی کوٸی بات نہیں۔ پولیس ۔۔ جلد ہی مجرم کو ڈھونڈ لے گی۔۔
غصہ ضبط کرتے بس اتنا ہی کہا اور آگے بڑھ گیا۔ ایکسکیوز می۔۔
ناظرین ۔۔۔ آپ دیکھ رہے ہیں ۔ پولیس بھی اس کیس میں بے بس نظر آ رہی ہے۔۔
مجرم جرم کرنے کے بعد کوٸی بھی ثبوت نہیں چھوڑ رھا۔۔۔
میرا ایک سوال ہے سب سے۔۔۔
آخر کب تک۔۔۔؟ کب تک یونہی۔۔۔ حوا کی بیٹی لٹتی رہے گی؟؟؟
یا مار کر ایسے پھینک دی جاۓ گی۔۔ کب تک مجرم کھلے عام پھرتے رہیں گے۔۔۔؟ ہ؟
کیو ں کوٸی ان کو سخت سزا نہیں دے سکتا۔۔ ایک ایسی سزا ۔۔۔کے دوبارہ کوٸی ایسی حرکت کرتے ہزار بار سوچے۔۔۔۔۔۔
ثمرہ بالاج ۔۔۔۔ کیمرہ مین علی انصاری کے ساتھ۔۔۔ آواز نیوز
۔
کہتے ساتھ ہی ما ٸیک ماریہ کو تھما یا۔ کان سے ہینڈ فری بھی اتارے۔ اور بالاج کے پیچھے بھاگی۔
با ت سنیں۔
گا ڑی کا دروازہ کھولتے بالاج کے ہاتھ رکے۔ قہر کی نظر ثمرہ پے ڈالی۔
ابھی بھی کچھ سنانے کے لیۓ رہ گیا ہے؟
ثمرہ نے لب بھینچے۔
آپ جانتے ہیں وہ میرا کام ہے۔۔۔ دھیمے لہجے میں منمناٸی۔
توجاٸیں اور جا کر اپنا عظیم کام سر انجام دیں۔
منہ پھیر کر وہ گاڑی میں بیٹھا ڈراٸیور نے گاڑی آگے بڑھا دی۔
وہ منہ بسور کے واپس آگٸ۔
کیا ہوا ناراض ہو گۓ؟
ماریہ نے افسوس سے پوچھا۔۔۔
کب نہیں ہوتے۔۔۔۔
خیر ۔۔ علی۔۔ تم بتاٶ۔ کیا شیڈیول ہے آگے کا؟
وہ ہے ایک لڑکی۔۔۔ ٹک ٹاکر۔۔۔ لیلیٰ ۔۔ وہ آج جا رہی ہے یہیں کوٸی قریبی پارک ہے وہاں۔۔۔
کونسے پارک میں۔؟ ماریہ نے پوچھا۔۔
کوٸی نیا ہے۔۔۔ حال ہی میں کھلا ہے۔ کسی چوہدری کا ہے آٸی۔۔۔think۔۔۔
یہ لیلیٰ وہاں کیا گل کھلانے جا رہی ہے؟
ثمرہ نے تیکھے انداز میں پوچھا۔
ہمممم۔۔۔۔۔ ٹک ٹاکرز اور کام۔کیا ہے۔۔۔۔؟
علی نے بھی افسوس کیا۔
یہی وہ لڑکیاں ہوتی ہیں۔ جو سستی شہرت کے لیے کسی بھی حد تک چلی جاتی ہیں۔۔۔
اور پھر سب کو ایک ہی طرح کا سمجھا جاتا ہے۔۔ بدکردار۔۔۔
ایسی لڑکیوں کو وجہ سے ہی کوٸی شریف لڑکی کو بھی سکون سے نہیں جینے دیتا
پانی پی کر بوتل کو ساٸیڈ پے رکھا۔
پھر کیا ارادہ ہے؟ علی نے پوچھا۔
اس سے پہلے کہ وہ شو کرے۔۔ ہم اسکا شو کر دیتے ہیں۔
غصے سے اور ایک عزم سے کہتی وہ کھڑی ہوٸی۔
علی ماریہ اور ثمرہ کی یہ ٹیم بہت مشہور تھی۔
چینل والے ان کو بہت پروٹوکول دیتے تھے۔ بہادر نڈر اور آگے بڑھنے والوں میں سے تھے۔
ازمیر۔۔ مجھے اس عورت سے ملنا ہے۔۔ فجر نے اس روتی ہوٸی عورت کی طرف دیکھتے کہا۔
ازمیر جو لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا کے آیا تھا۔ فجر کی بات پے ٹھٹھکا۔
اور ۔۔۔ یہ۔۔ ارمان ملک۔۔۔؟ اس سے نہیں ملنا۔۔۔؟
کچھ سوچتے ہوۓ پوچھا۔
فجر نے ایک نظر پلٹ کے ارمان ملک کو دیکھا اسی پل ارمان کی نظریں بھی فجر کی طرف اٹھیں۔
اس سے کیوں ملنا؟ارمان سے نظریں نہ ہٹاٸیں۔ دیکھتے ہوۓ ہی پوچھا۔
ارمان ملک کی بھی بہن کل شام سے لاپتہ ہے۔۔۔ اسی کے بارے میں بتایا تھا۔۔۔آج صبح۔
اور ایک لمحہ کے لیے فجر کا دل پوری رفتار سے دھڑکا۔
ایسا کیسے ممکن ہے۔۔۔؟ ٹوٹے لہجے میں پوچھا۔
وہ بھی لاش کی شناخت کے لیے آیا تھا فجر۔۔۔
فجر نے آنکھیں موند لیں۔ اور من کی آواز پے لبیک کہتی آنکھیں کھولیں۔
ازمیر ۔۔۔ مجھے جا نا ہو گا ابھی۔۔۔
فجر اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گٸ۔
اللہ کی دنیا بھی کتنی چھوٹی ہے۔۔۔ آج تین سال بعد اسی انسان کے سامنے لا کھڑا کیا۔
جس کو نہ دیکھنے کی قسم کھاٸی تھی۔ لب بھینچے گاڑی کو اپنی منزل کی طرف گامزن کر دیا۔۔۔



رامین۔۔ کیا پاگل پن ہے یہ۔۔ تم جانتی بھی ہو۔۔ تمہارا نہ وہاں جانا مجھے منظور ہے نہ اس لڑکی سے کوٸی تعلق رکھنا۔ پھر کیوں تنگ کرتی ہو مجھے؟
اسد صاحب نے غصے کو ضبط کرتے بیٹی سے کہا۔
بابا وہ خالہ کی بیٹی ہے میری۔۔۔
اور مجھے بہت عزیز ہے۔ اسے ضرورت ہے ہماری اور مجھے اس کے پاس جانا ہے آپ میری کراچی کے لیے ٹکٹ کروا دیں پلیز۔۔۔
رامین نے بھی ضدی انداز اپنایا۔
وہ لڑکی جادوگر ہے۔۔۔۔ دھیمے لیکن سخت الفاظ میں کہا۔
بابا ۔۔۔ وہ روحانی علم کرتی ہے۔ اور اس کے سر پر شاہ بابا کا ہاتھ ہے۔
آپ بنا سوچے سمجھے مت الزام لگاٸیں اس پر۔
رامین نے بھی اسی انداز میں کہا ۔
تو تم نہیں مانو گی میری بات۔۔؟ زچ آتے کہا۔
بابا مجھے آج ہی نکلنا ہے۔۔ پلیز ٹکٹس کروا دیں۔ ۔۔
نظریں پھیرتے ہویۓ کہا۔
ٹھیک ہے۔۔ ایک وہ سارا کا نہیں پتہ کہاں چلی گٸ۔۔۔
اور اب یہ فجر۔۔۔
لیکن یا درکھنا اگر تمہیں کچھ بھی ہوا ۔۔۔ کچھ بھی ۔۔۔ ایک کھروچ بھی آٸی۔
تو میں اس لڑکی کو نہیں چھوڑوں گا۔ ۔۔۔
سخت لہجے میں کہتے وہ باہر نکل گۓ۔ اور رامین نے سکھ کا سانس لیا۔
