Khoni Jhula by Muntaha Chohan NovelR50513 Khoni Jhula (Episode 13)
Rate this Novel
Khoni Jhula (Episode 13)
Khoni Jhula by Muntaha Chohan
دو دن بعد نیوز پیپر میں خبر آٸی۔
ایک گھر جس کے مالک کا نام ڈیویڈ سود تھا۔
اس کی بیٹی ٹینا سود کو کسی نے بے دردی سے اپنی ہوس کا نشانہ بنا کے قتل کر ڈالا۔
اور گورنس بھی زندگی ہار بیٹھی۔۔
ہر نیوز چینل میں یہی خبر گردش کر رہی تھی۔
اور ہوس کے پجاری ٹی وی پے یہ نیوز دیکھتے اپنی فتح کا جشن منا رہے تھے۔
کیا ہوا۔۔۔۔؟؟ تم ۔۔۔ اتنی۔۔۔۔ گھبراٸی ہوٸی کیوں ہو۔۔۔۔؟؟
پوسٹ مارٹم کے لیے آٸی لڑکی کی لاش کو ڈاکٹر عمارہ نے ہی ٹریٹ کرنا تھا۔
لیکن نرس سونیا کو اس روم سے گھبراتے باہر نکلتا دیکھ ڈاکٹر عمارہ فوراً اس کے پاس آٸیں۔
میڈم۔۔۔۔۔!! وہ۔۔۔ پتہ نہ۔۔ہیں۔۔۔۔!!
ماتھے سے پسینہ صاف کیا۔اور تیز تیز قدم چلتی آگے بڑھ گٸ۔
ڈاکٹر عمارہ نے حیرانی سےاسے جاتا دیکھا۔ اور خود اس روم میں آگٸ۔
لاش اسٹریچرپر تھی۔ اور وہ کوٸی چودہ پندرہ سال کی بچی تھی۔۔۔
ہر جگہ اسی کے بارے میں خبریں گردش کر رہی تھیں۔
اور ستم یہ کہ۔۔۔ مصالحہ لگا کے بڑھا چڑھا کے بتایا جا رہا تھا۔
کرسچن فیملی سے تھی۔ لیکن تھی تو پاکستان میں۔۔۔
اور سیاست دان تو اس پے بھی سیاست کرنے لگے۔
موجودہ حکومت کو برا بھلاکہنے لگے۔
الغرض۔۔۔ سبھی۔۔۔ اس معصوم کی اس درد ناک موت سے فاٸدہ اٹھارہے ٠تھے۔
ڈاکٹر عمارہ اس کا معاٸنہ کرنے میں مصروف تھیں۔
کتنی پیاری بچی ہے۔۔۔۔ لیکن۔۔۔ نصیب دیکھو۔۔۔۔!!
نجانے کن وحشی درندوں میں پھس گٸ ہوگی۔۔۔!!
کتنا بچانے کی کوشش کی ہوگی۔۔۔بیچاری نے۔۔۔۔!!
ڈاکٹر عمارہ کی آنکھیں نم ہوگٸیں۔ پیچھے ہوتے گلاسز اتارے۔ اور آنسوپونچھے۔۔گلاسز صاف کیں۔
اور پہن کے لاش کی جانب دیکھا۔
ایک لمحے کو انہیں لگا۔ وہ لڑکی اٹھ کے بیٹھی ہے۔
نظر پلٹتی پھر سے واپس اس لڑکی پے گٸ۔ لیکن وہ تو۔۔ بے جان پڑی تھی۔
ان کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔انہیں لگا۔۔ یہ ان کا وہم ہے۔۔۔۔
لیکن اتنا واضح وہم۔۔۔۔؟؟
میڈم۔۔۔۔!!
آواز پے وہ بری طرح چونکیں۔ اور آنے والے کو دیکھا۔
میڈم۔۔۔!! یہ سامان آپ نے منگوایا تھا۔۔۔۔!!
سرور نے کن اکھیوں سے لاش کو دیکھتے ڈاکٹر عمارہ سے کہتے ایک بیگ انکی طرف بڑھایا۔۔
ہا۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔!! وہاں رکھ دو۔۔۔!! کل صبح چیک کروں گی۔۔۔
ابھی۔۔۔ میری طبعیت ٹھیک نہیں۔۔۔گھر جاٶں گی۔۔
تم اور جمیل دیکھ لو گےناں۔۔۔۔۔۔!!
اپنی چیزیں اٹھاتےسوالیہ نظروں سے پوچھا۔
ارے۔۔۔ ہاں۔۔۔ میڈم۔۔۔ آپ۔۔۔ ٹینشن ہی نہ لیں۔۔۔ آگے کبھی ۔۔ آپ کو شکایت کا موقع دیا ہے۔۔۔ !!
چاپلوسی سے کہتا وہ ڈاکٹر عمارہ کو مطمیٸن کر گیا تھا۔
اور سر اثبات میں ہلاتیں باہر نکل گٸیں۔
اف۔۔۔۔۔۔۔!! کتنی حسین ہے۔۔۔۔!!
نازک سی۔!! خوبصورتی کی اعلیٰ مثال۔۔وہ سرور کو اٹریکٹ کر رہی تھی۔
اتنا مکمل حسن۔۔۔۔۔
نہ پہلے کبھی دیکھا۔۔۔۔۔نہ سنا۔۔۔
کہیں سے اپسراہی لگ رہی ہے۔۔۔!!
آج رات تو۔۔۔ موجیں ہوں گیں۔۔۔
فون کرتا ہوں۔۔۔ ناصر کو۔۔۔!!
فوراًکال۔ملاٸی۔
اور اسےاطلاع دی۔
ہاں ہاں آجا۔۔۔۔!! آج کی رات رنگین ہوگی۔۔۔!!
بس پینے کا بھی فل انتظام کر کے لانا۔۔۔۔!!
وہ مزے سے پلاننگ بناتا۔۔ یہاں سے وہاں چکر کاٹ رہا تھا۔
چل۔ٹھیک ہے۔۔۔۔!! آجا ۔۔۔!! پھر مل کے موج مستی کریں گے۔۔۔ ہمیشہ کی طرح۔۔۔!!!
شاطرانہ انداز تھا۔
ارے۔۔۔ اس جمیل کی فکر نہ کرو۔۔۔ اسے کہیں اور چلتا کردوں گا۔
رنگ میں بھنگ نہیں ڈلوانا میں نے۔۔۔۔۔
ہاہاہاہا۔!! چل ٹھیک ہے آجا۔۔۔ ویٹ کر رہا ہووں۔۔!!
فون بند کرتےوہ لاش کے پاس آیا۔
کیا ۔۔۔۔ حسن ہے۔۔۔تمہارا۔۔۔۔!!
بہت برا سلوک کیا۔۔۔۔!!
اب ۔۔۔تم۔۔۔ دیکھنا۔۔۔۔!! تمہارے حسن کو کسطرح سے خراج عقیدت پیش کریں گے۔ آج۔۔۔۔!!
منہ پے ہاتھ پھیرتا وہ لاش سے ایسے مخاطب تھا۔۔
جیسے وہ زندہ سامنے کھڑی ہو۔۔۔
اور کہتے ساتھ ہی پلٹا۔۔۔۔!! بنا یہ جانے کے جو پلاننگ وہ اس لاش کے لیے کر رہا ہے۔۔۔ اس سے بڑی پلاننگ لاش نے اس کے لیے کی تھی۔











وہ لڑکی قریب آتی جارہی تھی۔
اسکا چہرہ بگڑا ہوا تھا۔
وہ فجر کے قریب آکے رک گٸ۔
فجر پڑھتی اسکی جانب دیکھتی بالکل بھی نہ ڈری۔
کون۔۔۔ہوتمممم۔؟؟؟
بمشکل ہی سہی سوال کیا۔
وہ غراٸی۔
یہ۔۔۔۔ میری دنیا ہے۔۔۔۔!! اور مت۔۔۔ سمجھنا۔۔۔۔ کہ میں۔۔۔ تم سے ۔۔ڈر جاٶں۔۔۔ گی۔۔۔۔!!
فجر نے بات کا سلسلہ شروع کیا۔ تو وہ بھی غصے میں آگٸ۔ اور چیخنے لگی۔
آوازیں اتنی اونچی تھیں کہ فجر کو کان بند کرنا پڑے۔
وہ رونے لگی تھی۔۔۔ جیے ناراض ہو کسی سے۔۔۔!!
فجر اس کے چہرے کو فوکس کیے ہوۓ تھی۔
وہ فجر کو نقصان نہیں پہنچا پاٸی تھی۔
اسے چھو بھی نہیں پا رہی تھی۔ اور یہی بات اس لڑکی کو زیادہ تکلیف دے رہی تھی۔
پھر اسکی آواز میں بدلاٶ آگیا۔
غوں غوں ۔۔۔۔ کرتی وہ نیچے بیٹھ گٸ۔
فجر کو اسکی سمجھ نہیں لگ رہی تھی۔۔
کون ہو تم۔۔۔۔؟؟ اور کیا چاہتی ہو۔۔۔۔۔؟؟
فجر نے اونچی آواز میں پوچھا۔ لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوٸی۔
فجر اپنے حصار سے باہر نہیں نکل سکتی تھی۔
اور شاید وہ لڑکی یہی چاہتی تھی۔ کہ فجر باہر آۓ ۔ اور وہ فجر کو نقصان پہنچا سکے۔
فجر نے ورد شروع کیا۔ تو وہ تڑپنے لگی۔اور پھر سے شور شروع کر دیا۔وہ پھر سے چلانے لگی۔
فجر نے پرواہ نہ کی اور ورد جاری رکھا۔
وہ حملے کے لیۓ آگے بڑھی۔ لیکن حصار کی وجہ سے حملہ نہ کر سکی۔۔
فجر نے پڑھنا جاری رکھا۔
پھر وہ لڑکی پیچھے ہٹتی چلی گٸ۔ اور ایک جھولے پے بیٹھ گٸ۔اور کچھ گنگنانے لگی۔
جیسے کوٸی لوری ہو۔۔۔۔
اس لڑکی کا چہرہ واپس نارمل ہونے لگا۔
وہ پھر سے وہی خوبصورت لڑکی بن گٸ۔۔
اور پرسکون جھولالینے لگی۔
اس جھولے کو دیکھ کے کہیں سے نہیں لگتا تگا کہ یہ اب کا ہے۔۔۔ وہ بہت پرانا لگ رہا تھا۔
فجر کو یہ نہیں سمجھ آرہی تھی۔۔ کہ وہ جھولا لے رہی ہے۔۔۔یا جھولا اسے جھولا رہا ہے۔وہ آنکھیں موندے کسیاور ہی دنیا میں چلی گٸ تھی۔
فجر کوبھی ایسا محسوس ہوا جیے اسے نیند آرہی ہو۔
اس نے آنکھں کھلی رکھنی چاہیں۔ لیکن وہ اونگھنے لگی۔
آنکھیں بند ہو تے ہی اسے ایسا لگا کوٸی بہت تیزی سےہوا کے گڑے پے سوار اسے کہیں لیے جا رہا ہے۔
و بہت خوب صورت گھر تھا۔ نیم پلیٹ پے وہ نامکنندہ تھا۔ فجر ٹھیک سے نہ پڑھ پاٸی۔ پھر کسی نے سے اندر دکھیلا۔
وہ دکھیلتی چلی گٸ۔۔۔
وہاں وہ ارد گرد دیکھتی ایک باغیچے میں پہنچی۔
وہاں وہی جھولا تھا۔۔۔ وہ بہت پیارا لگ رہا تھا۔ جیسے کسی پری کے لیے ہو۔۔۔۔
لیکن اداس تھا۔
وہ اسکی خوبصورتی میں پھر سے کھونے لگی۔
فجر کا دل چاہا وہ اس جھولے کو چھوۓ۔
لیکن وہ نہیں چھو سکتی تھی۔
وہ جانتی تھی وہ اپنے تصور میں وہا ں ہے۔ اور وہ لڑکی ہی اسے وہاں لاٸی تھی۔۔۔
کچھ بتانا چاہتی تھی۔
اتنے میں گھر کے اندرونی حصے سے وہ لڑکی بھاگتی ہوٸ مسکراتی ہوٸی باہر کی جانب آٸی۔
اور مسکراتی ہوٸی فجر کے قریب سے نکلتی وہ جھولے پے جا بیٹھی۔
۔جیسےہو وہ لڑکی اس جھولے پے بیٹھی۔
جھولے پے لگے سارے پھل کھل اٹھے۔ وہ جھولا مسکرا دیا۔ اور اسے اپنے سنگ لیے جھولنے لگا۔
میرا۔۔۔۔ پیارا۔۔۔میرا ۔۔۔۔ سہارا۔۔۔۔۔
تُو ہے تو۔۔۔۔ میں ۔۔۔ ہوں۔۔۔
تُو۔۔۔۔نہیں تو۔۔۔۔ میں نہیں۔۔۔
سنگ سنگ ۔۔۔۔ رہیں۔۔۔۔ ہم۔۔۔۔ یونہی ۔۔۔۔ صدا۔۔۔۔
میں تیری۔۔۔ تو میرا۔۔۔۔ جھولا۔۔۔۔۔۔
میں۔۔۔ تیری۔۔۔ تو ۔۔میرا۔۔۔ جھولا۔۔۔۔
ایسا۔۔۔۔ ہے۔۔۔ ہمارا۔۔۔۔ ناتا۔۔۔۔
میں۔۔۔ تیری۔۔۔ تو ۔۔میرا۔۔۔ جھولا۔۔۔۔
وہ مسلسل گنگنا رہی تھی۔۔
جھولے کوپیار کر رہی تھی۔ اور وہ مزید نکھرتا جا رہا تھا۔
فجر کو اس سب کی سمجھ نہ آٸی۔۔۔
کیا۔۔۔۔ جھولا۔۔۔۔۔ جاندار تھا۔۔۔۔؟؟؟
ٹینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
کسی نے پکارا تو وہ گھبرا گٸ۔
گھبرا کے اس نے فجر کو دیکھا۔ جیسے کہہ رہی ہو۔۔۔وہ مجھے اب مارڈالیں گے۔۔۔۔ وہ ڈر گٸ تھی۔
سہم گٸ تھی۔
فجر نے پلٹ کر آنے والے کو دیکھنا چاہا۔
لیکن سب دھندلا ہو گیا۔ سارے منظر گڈمڈ ہونے لگے۔
آنکھیں اس کی بند ہونے لگیں۔
فجر۔۔۔۔ فجر۔۔۔۔۔!! آنکھیں کھولو۔۔۔۔!!
کسی کی آواز سنأٸی دی۔۔
فجر نے ذہن پے زور دینا چاہا۔
فجر۔۔۔ فار گاڈ سیک۔۔۔۔ پلیز اوپن یور آٸیز۔۔۔۔!!
ارمان اونچی آوازمیں دھاڑا۔
تو فجر کی آنکھوں میں جنبش ہوٸی۔
اور دھیرے دھیرے اسکی آنکھیں کھلنے لگیں۔
ارمان نے سکھ کا گہرا سانس خارج کیا۔
وہ زمین پے گری ہوٸی تھی۔ اسکے کپڑے مٹی سے بھرے پڑے تھے۔فجر نے حیرت سے ارمان کو دیکھا۔
آ۔۔۔۔پ۔۔۔۔۔۔؟؟ روشنی تھی ہر طرف۔۔۔۔
نہ ہی وہ جھولا تھا۔ نہ ہی۔۔۔ وہ لڑکی۔۔۔
تم۔۔۔۔تم۔۔۔۔خود کو ۔۔۔ کیا سمجھتی ہو۔۔۔۔۔؟؟ ہاں۔۔۔۔؟؟
ارمان نے غصے سے اسے کھڑا کرتےکہا۔
فجرنے ناسمجھی اے اسے دیکھا۔
جانتی بھی۔۔۔ ہو۔۔۔۔؟؟ کیا ہونے والا تھا تمہارے ساتھ۔۔۔۔؟؟
ارمان کا غصہ بڑھتا جارہا تھا۔
کیا۔۔۔۔۔ ہوا۔۔۔۔؟؟ فجر نے معصومیت سے پوچھا۔
وہ دیکھو۔۔۔۔!! امان اسے ہاتھ سےپکڑے ایک مٹی کے گھڑے کے پاس لے کے گیا۔۔۔
یہ۔۔۔۔۔؟؟ اس مجں ابھی بھی مٹی اندر دھنسی جا ہی تھی۔۔۔
اور اسی کے گرد فجر کا کھینچا گیا حصار بھی تھا۔
یہ۔۔۔ یہ۔۔۔سب۔۔۔۔م؟؟کیا۔۔۔۔۔۔؟؟؟
فجر حیران ہوٸی۔ اسے کچھ سمجھ نہ آیا۔
تمہیں۔۔۔۔ واقعی۔۔۔ کچھ نہیں پتہ ۔۔۔فجر۔۔۔۔۔۔؟؟
ارمان نے دانت پیستے کہا۔
فجر نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے نفیمیں سر ہلایا۔
تم۔۔۔ اس مٹی۔۔۔ کے گھڑے۔میں دبتی جا رہی تھی۔۔۔
اور میرے یہاں پہنچتے۔۔ صرف۔۔۔ تمہارا ہاتھ مجھے نظر آرہا تھا۔۔۔۔
تم نہیں۔۔۔۔!! جانتی۔۔۔ ہو کیا حالت ہوٸی۔۔۔ میری۔۔۔؟؟
کسطرح ۔۔۔۔ تمہیں۔۔۔ نکالا۔۔۔ یہاں۔۔۔ سے۔۔۔؟؟
تم۔۔۔۔۔ تمہاری۔۔سانس۔۔۔ رک گٸ تھی۔۔۔۔!!
ارمان کا لہجہ نم ہوا۔
فجرکو سب یاد آنے لگا۔۔۔ وہ لڑکی اسے۔۔۔۔ ماضی میں لے کے گٸ تھی۔
اور اسے اپنی زندگی کے بارے میں بتانا چاہ رہی تھی۔۔۔
ایسا۔۔ فجر کولگا۔۔۔۔ لیکن درحقیقت وہ اسے موت کی طرف لے کے جا رہی تھی۔
اور فجر کھینچی چلی گٸ تھی۔
وہ کہیں سے وار نہ کرسکی۔۔۔ تو اس نے زمین کے نیچے سے وار کیا۔۔۔۔ اور اسے۔۔ زمین کے اندر کھینچا۔۔۔۔
فجر کو اپنے اوپر غصہ آیا۔ وہ اتنی۔۔۔ ناسمجھ۔۔۔۔ کیسے۔۔۔ ہو سکتی ہے۔۔۔۔؟؟
اور اگر ارمان۔۔۔ نہ آتا تو۔۔۔۔۔؟؟
کیوں۔۔۔۔۔؟؟ کیوں۔۔۔کر رہی ہو۔۔۔ یہ۔۔۔سب۔۔۔۔؟؟
ارمان نے اسکی حالت کے پیِش نظر اب کی بار نرم لہجےمیں پوچھا۔
میں۔۔۔ نے اسے۔۔۔ دیکھا۔۔۔۔ارمان۔۔۔۔!!
وہ۔۔۔۔ کوٸی۔۔۔۔۔لڑکی۔۔۔ ہے۔۔۔!!
وہ۔۔۔۔کچھ۔۔۔ کہنا۔۔۔۔۔!!
فجر۔۔۔۔!! Look at me
ارمان نے اسے اپنی طرف کیا۔
ہرکام کا ایک وقت ہوتا ہے۔۔۔!! بے وقت کچھ بھی کرو گی۔۔۔تو نقصان اٹھاٶ گی۔۔۔۔!!
وہ دھیمے لہجے میں کہتا فجر کو اپنے سحرمیں جکڑ گیا۔
ارمان نے پلٹ کر وہاں دیکھا جہا ں چند لمحے پہلے اسے ایک سایہ نظر آیا تھا۔۔اور اب وہ وہاں نہ تھا۔
پھر فجر کی جانب پلٹا۔۔
چلو۔۔۔۔!! اسکا ہاتھ تھامے وہ باہر نکلا۔
ازمیر اور بالاج باہر ہی کھڑے تھے۔انہیں باہر آتا دیکھ انکی جانب بڑھے۔
کیا۔۔۔۔ہوا۔۔۔؟؟ سب ۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔ ناں۔۔۔؟؟
ارمان نے نامحسوس انداز میں فجر کا ہاتھ چھوڑا۔
ہممممممم۔۔۔۔ !! ارمان نے ایک نظر فجر کو دیکھا۔جب کہ ان دونوں کی نظریں بھی فجر پےہی تھیں۔
فجر کی نظریں پلٹ پلٹ کر پیچھے مڑ رہی تھیں۔
اسے وہ جھولا اب بھی وہاں محسوس ہو رہا تھا۔۔ لیکن وہ جگہ خالی تھی۔
یہاں۔۔۔۔ کسی لڑکی کو مت آنے دینا۔۔۔۔!! بنا کسی کی جانب دیکھے وہ کہتی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گٸ۔
ارمان بھی ان سے اجازت لیتا فجر کے پیچھے آیا۔
میرے ساتھ چلو۔۔۔۔۔!!
ارمان نے اسے گاڑی کا دروازہ کھولتے دیکھ اس کے پیچھے آتے کہا۔
فجرنے کوٸی مخالفت نہ کی اور اسکے ساتھ اسکی گاڑی کی طرف بڑھی۔
گاڑی اسٹارٹ کرتے ارمان نے ایک نظر اسے دیکھا۔
وہ آنکھیں موندے سیٹ کے ساتھ ٹک لگاۓ بیٹھی تھی۔
فجر۔۔۔۔ بیٹا۔۔۔۔۔!!
شاہ بابا لہولہان اسے نظر آٸے۔۔
شاہ بابا۔۔۔۔۔۔۔
زیرِلب کہتے وہ شاہ بابا کے لیے تڑپ ہی تو گٸ۔
فوراً آنھیں کھولتی وہ ارمان کی طرف دیکھنے لگی۔
مجھے۔۔۔۔۔شاہ۔۔۔ بابا ۔۔۔۔۔کے پاس۔۔۔ لے چلیں۔۔۔۔!!
ارمان نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
فجر۔۔۔۔!! ابھی۔۔ تمہاری حالت۔۔۔۔!!
پلیز۔۔۔۔۔!! انکار۔۔ مت کریں۔ فجر کی آنکھیں نم ہوٸیں۔
تو۔۔۔ ارمان نے بحث نہ کی اور گاڑی اسکے بتاۓ گۓ ایڈریس ک جانب موڑ دی۔
وہ دل ہی دل میں شاہ بابا کے صحیح سلامت ہونے کی دعاٸیں مانگ رہی تھی۔











ارے۔۔۔۔۔ یار۔۔۔۔۔ کیا مال ہے۔۔۔۔۔؟؟
کمال کر دیا۔۔ اس بار۔۔۔۔!!ناصر نے اس لڑکی کی لاش کو دیکھتے کہا۔
بس یار۔۔۔۔!! آج۔۔۔ وارے نیارے ہو جاٸیں گے۔۔۔۔!!
تُو ۔۔۔ وہ بوتل کھول۔۔۔۔۔!!
سرور نے ناصر کوکہا۔ اور خود گلاس لگانے لگا۔
میں۔۔۔ اسکی تصویر تو بنا لوں۔۔۔
ناصر کو وہ اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔
وہ ہمیشہ کیمرہ لایا کرتا تھا تصوریں بنانے کے لیے۔
آج بھی لایا تاا اور کیمرہ اس لڑکی پے فو کس کیا۔
تو ناصر نے دیکھا۔ اسکی آنکھیں کھلیں ہیں۔
جھٹ سے کیمرہ آنکھوں کے آگے سے ہٹا کے اس لڑکی کو دیکھا۔ لیکن اسکی آنکھیں تو بند تھیں۔
پلٹ کر سرور کو دیکھا۔ جو اس غلیإمروب کو لابوں سے لگاۓ غٹا غٹ چڑھاۓ جا رہا تھا۔
پھر سے کیمرہ اسکی جانب کیا۔ لیکن اس بار آنکھیں بند تھیں۔
ناصر نے اپناوہم سمجھا۔ اور تصویریں لینے لگا۔
مختلف اینگل سے تصویریں لے کہ وہ بھی سرور کے پاس بیٹھتا ایک گلاس کومنہ لگا گیا۔
سرور اٹھا۔ اور اپنی شرٹ اتار کے دور پھینکی۔
اور منہ پے ہاتھ پھیرتا وہ اس لڑکی کی لاش کی جانب بڑھا۔
رکو۔۔۔۔!!
جمیل کی آوا نے سرور کے قدم وہیں روک دیٸے۔
تم۔۔۔۔؟؟سرور اسے دیکھ غصہ ہوا۔
خبردار جو لاش کو چھوا بھی تو۔۔۔۔!!
ورنہ۔۔۔!! وہ کمزور سا جمیل للکار کے بولتا سرور اور ناصر کو قہقہہ لگانے پے مجبور کر گیا۔
ورنہ۔۔۔۔ورنہ۔۔۔کیا۔۔۔۔؟؟
ناصر اور سرور اس لاش کو چھوڑ اسکی جانب بڑھے۔وو ان سے ڈر گیا۔
خدا ۔۔۔ کا خوف کرو۔۔۔!! لاش کے ساتھ چھڑ خانی مت کرو۔۔۔۔!! اللہ معاف نہیں کرے گا۔۔۔
جمیل نے ڈرتے ہوۓ انہیں ڈرانا چاہا۔
ہاہاہاہاہہہہہ۔۔۔ااااا تیری بہن لگتی ہے۔۔۔۔؟؟ جو تجھے اتنی تکلیف ہو رہی ہے۔۔۔۔؟؟
ناصر نے اسے دھکا دیا۔
میری۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔ ہے۔۔کسی ۔۔۔ کی تو۔۔۔ ہوگی۔۔۔ ناں۔۔۔!!
جمیل نے ہکلاتے کہا۔
اور بہن بیٹی کی عزت۔۔۔تو۔۔۔۔سانجھی ہوتی ہے۔۔۔۔!!
چل۔۔۔ بھے۔۔۔۔ مسلمان۔۔۔نہیں۔۔۔۔ ہے۔۔۔ یہ۔۔۔!! جو ہمیں۔۔۔ یہ سبق پڑھا رہا ہے۔۔۔۔۔!! نکل یہاں سے۔۔۔
سرور نے اسے نشے میں جھولتے دھکا دیا۔
یار۔۔۔۔!! انسانیت ہی دیکھا دو۔۔۔۔!! تھوڑی سی۔۔۔۔!!
اتنا حسین مال دیکھ۔۔۔۔ کے۔۔۔۔ کون۔۔۔ انسان رہتا۔۔۔۔ہے۔۔۔؟؟ سارے ہی۔۔وحشی بن جاتے ہیں۔۔
۔ہاہاہاہاہاوہقہقہہ لگاتے جمیل کو فرعون ہی لگے۔۔
جمیل نے سرور کودھکا دیا۔اور لاش کے آگے کھڑا ہوگیا۔
میں تمہیں۔۔۔ لاش کی بے حرمتی نہیں۔۔۔ کرنے دوں گا۔۔۔۔
انگلی اٹھاتے جمیل نے وارن کیا۔
سرور نے ناصر کو اشارہ کیا۔ اور اس نے جمیل۔کو دھکا دے کے اسے مارنا شروع کر دیا۔
وہ درد سے بلبلا کے رہ گیا۔
ناصر نے اسے ایک کرسی پے بٹھایا۔ اور باندھ دیا۔
اب تُو اپنی آنکھوں سے دیکھ۔۔۔ ہمیں۔۔۔ !!ناصر اور سرور نشے میں دھت تھے۔
اور دونوں اس لاش کی جانب بڑھے۔ اور سرور اس کے چہرے کو دیکھتا اس پے جھکا۔
کہ۔۔۔۔۔۔











گاڑی گیٹ پے کھڑی کرتے وہ اندر کی جانب بڑھے۔
سامنے زمین پر گرے شاہ بابا پے نظر پڑی۔
فجر فوراً سے بیشتر انکی جانب بڑھی۔
شاہ۔۔۔۔ بابا۔۔۔۔۔۔!!
ان کا سر اپنی گود میں رکھا۔
آپ۔۔۔۔۔ ٹھیک ہیں ناں۔۔۔؟؟
شاہ بابا نے آنکھیں کھولیں۔ اور اٹھ کے بیٹھے۔اپنا درد برداشت کرتے وہ فجر پے ظاہر نہ کر رہے تھے۔
میں۔۔۔۔ ٹھیک ہوں۔۔۔ بیٹا۔۔۔۔!!
لیکن میں۔۔۔ نے آپ کو۔۔۔۔!!
فجر کوکچھ سمجھ نہ آیا۔۔۔کہ سچ کیا ہے۔۔۔۔؟؟
شاہ بابا کی نظر ارمان پے اٹھی۔۔
انکے تصور کو حقیقت ملی۔۔۔
وہ سامنے تھا۔۔۔
ہاں۔۔۔ وہی تو۔۔ تھا۔۔۔۔
فجر کا محرم۔۔۔
بابا۔۔۔۔!! آپ۔۔۔۔!!ارمان نے پکارا۔
میں۔۔۔ ٹھیک ہوں۔۔۔ بیٹا۔۔۔!!
یہاں۔۔۔ آٶ۔۔۔!! نخیف آواز میں پکارا۔
ارمان ان کے پاس آیا۔۔
انہوں نے ارمان کی کلاٸی دیکھی۔
وہ۔۔۔اسے پہچان گٸے۔۔
وہ وہی تو تھا۔۔۔
اس کی کلاٸی پے اللہ کا نام کنندہ دیکھ انہیں پورا یقین ہوگیا۔
تم۔۔۔۔۔ فجر۔۔۔۔کے۔۔۔ محرم ہو۔۔۔۔!!
زیرِلب بولے لیکن ارمان نے سن لیا۔
اور جھٹکے سے سر اوپر اٹھاتے انہیں دیکھا۔
جیسے سننے میں غلطی ہوٸی۔
میری۔۔۔ ایک بات مانو گے۔۔۔؟؟
انہوں نے بہت مان سے ارمان سے پوچھا۔
ارمان نے اثبات میں سر ہلایا۔
ابھی۔۔۔۔ نکاح۔۔۔ کرنا ہوگا۔۔۔ تمہیں۔۔ فجر کے ساتھ۔۔۔!! جیسے حکم دیا ہو۔۔۔
یہ۔۔۔یہ۔۔۔ آپ کیا۔کہہ رہے ہیں۔۔۔؟؟ فجر نے حیرت سے کہا۔
تم۔۔۔۔ سمجھ رہے ہوناں۔۔۔؟؟؟میری بات۔۔۔۔؟؟
انہوں نے فجر کی بات کو نظر اندا کرتے ارمان کا ہاتھ تھامے کہا۔
ارمان نے ایک نظر فجر کو دیکھا۔ جو کبھی ارمان اور کبھی شاہ بابا کو دیکھے جا رہی تھی۔
میں ۔۔۔ نکاح کروں۔۔۔ گا۔۔۔!! ابھی۔۔۔!!
ارمان نے فوراً فیصلہ لیا۔
شاہ بابا۔۔۔۔!! یہ۔۔۔ کیا۔۔۔ ہے۔۔۔ سب۔۔۔؟؟
ایسے۔۔ اچانک کیوں۔۔۔؟؟
فجر نے نم لہجے میں پوچھا۔
ان کے چہرے پے ایک مسکراہٹ تھی۔
مجھ پے۔۔۔ بھروسہ۔۔۔ ہے ناں۔۔۔۔؟؟ بہت مان سے پوچھا۔
روتے ہوۓ فجر نے اثبات میں سر ہلایا۔
تو شاہ بابا نے ارمان کی جانب دیکھا۔ ارمان اثبات میں سر ہلاتا بالاج کو فون ملانے لگا۔
اور کچھ ہی دیر میں وہ وہاں پہنچ گیا۔
شاہ بابا نے خود ان دونوں کا نکاح پڑھوایا۔
وہ اپنے روحانی علم کی وجہ سے چند سانسیں ہی اللہ سے لے پاٸے تھے۔
موت کا فرشتہ ان کے سر پے کھڑا تھا۔
شاہ بابا نے فجرکا ہاتھ ارمان کے ہاتھ میں تھمایا۔
جانے ۔۔۔ کے وقت ہو گیا ہے۔۔۔۔!!میں ۔۔۔ بھلے۔۔۔ اس دنیا سے جا رہا ہوں۔۔۔ لیکن روحانیت میں ہمیشہ تمہارے پاس رہوں گا۔۔۔
فجر کے سر پے شفقت کاہاتھ رکھا۔
فجر کوانکی بات سے جیسے کچھ برا ہونے کا أحساس ہوا ہو۔
وہ ارمان کی جانب مڑے۔
بیٹا۔۔۔۔!!اللہ نے تمہیں۔۔۔ فجر کا محرم بنایا ہے۔۔ اس کے نیک مقصدمیں اس کا ساتھ دینا۔۔۔
اسکی ۔۔۔۔۔حفاظت ۔۔۔ کرنا۔۔۔!!
بمشکل بولتے وہ لڑکھڑاۓ۔
ارمان نے انہیں سنبھالا۔تو اسکا ہاتھ انکی پیٹھ پے گیا۔ جو خون آلود تھی۔
اورجسے وہ کتنی دیر سے چھپاۓ بیٹھے تھے۔
بابا۔۔۔۔۔!! فجر چلاٸی۔
وہ نیچے گرے۔ ارمان نے انہیں تھامے رکھا۔
یہ۔۔۔ یہ۔۔۔ سب۔۔۔۔!!میں۔۔۔ کہہ رہی تھی۔۔۔۔ کچھ۔۔۔ برا۔۔۔!!
فجر روتے جا رہی تھی۔
بیٹا۔۔۔۔!! اپنے مقصد سے ہٹنا۔۔۔ مت۔۔۔۔!! اللہ آپ دونوں کا حامی۔۔۔۔۔ و۔۔ ناصر۔۔۔ہو۔۔۔۔!!!
بابا۔۔۔۔۔!!بابا۔۔۔ نہیں۔۔۔۔!! وہ آنسو ضبط کرتی۔۔ روۓ جا رہی تھی۔
انہوں نے کلمہ پڑھا۔ اور اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
ارمان نے انکی آنکھیں بند کیں۔
سب کی آنکھیں اشک بار تھیں۔
