Khoni Jhula by Muntaha Chohan NovelR50513 Khoni Jhula (Episode 01)
Rate this Novel
Khoni Jhula (Episode 01)
Khoni Jhula by Muntaha Chohan
وہ مسلسل جھولا جھولتی موباٸیل پے میسج ٹاٸپ کر رہی
تھی۔ ارد گرد سے بے خبر وہ مسکراۓ جا رہی تھی۔ لیکن جھولا جھولنا نہ روکا۔ وہ پارک میں تھی۔ لیکن جہاں وہ موجود تھی وہاں اکا دکا لوگ ہی تھے۔
اب کہاں ہو؟ آ بھی جاٶ۔
میسج ٹاٸپ کر کے وہ ویٹ نہیں کر رہی تھی بلکہ فیس بک سرفنگ شروع کر دی تھی۔
کیا ہو گیا ہے ایمن؟ میں ایک گھنٹے سے پارک میں تمھارا انتظار کر رہا ہوں۔ تم کہاں ہو۔؟
میسج بیپ پر وہ چونکی اور پڑھنے لگی۔
ادھر ادھر نظر دوڑاٸی۔ لیکن کامران کہیں نظر نہ آیا۔
کامی! کیو ں تنگ کر رہے ہو۔۔۔
گیٹ کے پاس ہی تو جھولے پے ہوں۔
غصے سے میسج ٹاٸپ کیا۔
اور موباٸیل ساٸیڈ پے کر کے جھولا لینے لگی۔
یہ دیکھے بغیر کے اسکا میسج سینڈ ہی نہیں ہوا۔
اتنے میں ہوا کا ایک تیز جھونکا اس سے ٹکرایا۔
اور وہ لرز گٸ۔ اتنی ٹھنڈہوا میں بھی اسے پسینا آرہا تھا۔
دل کی دھڑکن کی رفتار بھی بڑھ گٸ تھی۔
ایمن نے اپنا وہم سمجھا اور موباٸیل میں دوبارہ بزی ہو گٸ۔
لیکن اب کی بار ہوا کا جھونکا بہت ہی تیز تھا۔
ایمن کا سانس رکا۔ پسینہ کنپٹی سے بہتا نیچے آرہا تھا۔
دل کسی انہونی کا پتہ دے رہا تھا۔
دل بڑا کر کے موبا ٸیل اٹھایا اور کامران کو کال کرنے لگی۔
لیکن یہ دیکھ چودہ طبق روشن ہوگیۓ کہ موباٸل اسکرین بلکل بلیک تھی۔جیسےوہ بند ہو گیا تھا۔
اسے کیا ہوا؟
موباٸیل کو ہاتھ پے دو تین دفعہ مارا۔ لیکن موباٸل نہیں چلا۔ کہ تبھی کسی کے غرانے ک آواز آٸی۔
چلتے ہاتھ ساکت ہوۓ۔۔
یہ کیا تھا۔۔۔؟ دل میں سوچا۔
لیکن اس بار آواز بالکل کان کے پاس سے آٸی۔تو اس کے رونگٹے کھڑے ہوگۓ۔
اسکی ہمت نہیں ہو رہی تھی پلٹ کے دیکھنے کی۔
ایک لمحے میں اسے اپنے کاندھے کے پاس چبھن محسوس ہوٸی۔
اور درد اور تکلیف بڑھتی گٸ۔
زرا سی گردن موڑ کے دیکھا تو دل کی دھڑکن کانوں میں سناٸی دی۔
کاندھا اس کا دو حصوں میں کٹا ہوا تھا۔
اور ایک ساٸیڈ سے ڈھلک رہا تھا۔
تکلیف سے زیادہ اسے اس منظر نے دہلا دیا۔
اس نےجھولے سے اٹھنا چاہا لیکن وہ نہ اٹھ پاٸی۔ جیسے ڈھیروں وزن آگیا ہو اس پے ۔۔۔
یا اللہ مدد کر۔۔۔۔
وہ دل ہی دل میں اللہ سے مخاطب تھی۔ ۔۔۔ ایک دم اندھیرا چھا گیا۔
اس نےدرود شریف پڑھنا چاہا لیکن لب پیوست ہو گۓ۔
آنکھوں سے ڈھیروں آنسو بہنے لگے۔
شور مچانا چاہا۔ لیکن زبان نے ساتھ نہ دیا۔۔۔
یکدم اسے پیچھے سے کسی چیز نے اپنی طرف کھینچ لیا۔
اور یہ سب صرف ایک منٹ میں ہوا تھا۔۔۔
اور پھر سب کچھ معمول پر آگیا۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔
اب وہاں جھولا نہیں تھا۔ البتہ خون کی چھنٹیں تھیں۔
جیسے ابھی ابھی کوٸی ذبخہ ہوا ہو۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
****************
کامران مسلسل کالز کر رہا تھا۔
لیکن اب ایمن کا نمبر بھی بند آرہا تھا۔
وہ پریشان ہوگیا تھا۔ اسے آۓ تین گھنٹے ہو گۓ تھے۔۔
اب شام ہونے والی تھی۔۔۔۔ اور ایمن کا کچھ پتہ نہ تھا۔
پارک بھی بند کرنے والے تھے۔۔ ایک بار پھر کال ملاٸی۔۔۔
وہاں موجود لوگوں سے پوچھا۔لیکن کوٸی بھی نہیں جانتا تھا کہ ایمن کہاں گٸ۔۔۔۔۔
اتنی بھی کیا لاپرواہی۔۔۔۔ بھلا۔۔۔ بندہ بات تو کر لے۔۔۔۔۔
کال ملاتا وہ غصے میں تھا۔۔۔
اوہ۔۔۔ بھاٸی گھر جا کے کال کرنا۔۔۔ ابھی نکلو یہاں سے۔۔۔۔
مجھے گیٹ کو تالا لگانا ہے۔
وہاں کا گیٹ کیپر آیا جلد بازی اور بے زاری سے بولا۔۔۔
میں بھی کوٸی شوق سے نہیں کھڑا۔۔۔ میری دوست آٸی وہ نہیں مل رہی۔۔۔۔۔۔ کیسے جا سکتا ہوں میں۔۔۔۔؟
غصہ اسی پے اتار دیا۔۔۔
بھاٸی میرے ۔۔۔۔۔۔ جو کرنا ہے باہر جا کے کرو۔۔۔ یہ جگہ مغرب کے بعد بند کرنے کا حکم ہے۔ مہربانی کرو اور جاٶ یہاں سے۔۔ وہ شخص ہاتھ جوڑنے لگا۔
عجیب انسان ہو۔۔۔ مجھے میری دوست کو ڈھونڈنے میں مدد کرنے کی بجاۓ تم الٹا۔۔۔۔۔۔۔۔
بس صاحب۔۔۔ اب نکلو یہاں سے۔۔۔ ورنہ تم رہو یہیں۔ میں چلا۔۔۔۔
وہ شخص شکل سے جتنا عجیب تھا باتوں میں اس سے بھی زیادہ عجیب لگا۔
مجوراً کامران کو باہر آنا پڑا۔
اس شخص نے شکر کا کلمہ پڑھا اور گیٹ کی طرف بڑھا۔
لیکن قدم رکے۔ سامنے ہی نظر خون پر پڑی۔ تو وہ ڈر گیا۔
کندھے پے رکھے کپڑے سے پسینہ صاف کیا۔ اور باہر نکل گیا۔
کامران بھی گاڑی کے پاس آگیا۔
رہ رہ کر نہ جانے کیوں اسے ایسا لگ رہا تھا کہ ایمن یہیں ہے۔۔ اسے بلا رہی ہے۔۔۔
تھکے قدموں سے پلٹا اور ایک نظر پارک پے ڈالی۔
جو اس وقت ایک خوفناک اور پر اسرار سا منظر پیش کر رہا تھا۔ ۔۔
نجانے آج ایمن کو اس پارک میں آنے کی کیا سوجھی۔۔۔
اچھا بھلا وہ قریب پارک تھا ۔۔۔ آج یہاں بلا لیا۔۔۔ ہو سکتا ہے۔۔۔ وہ واپس چلی گٸ ہو۔۔۔
خود کی سوچوں میں سوال وجواب کا تانا بانا بنتے گاڑی اسٹارٹ کی اور آگے بڑھا دی۔
پیچھے وہیں۔۔ کھلکھلانے کی آواز آٸی۔ جو وہاں کی خاموشی میں باآسانی سنی جا سکتی تھی۔۔۔



اتنی دیر ہو گٸ ہے۔۔ اایمن ابھی تک گھر نہیں آٸ۔۔۔ خدا خیر کرے۔۔۔
کہاں جا سکتی ہے؟
حلیمہ آنٹی بہت پریشان تھیں۔ بار بار ٹاٸم دیکھ رہی تھیں۔۔۔ ارمان کے آنے کا بھی وقت ہو گیا تھا
اور آتے ہی سب سے پہلے اسے بہن سے ملنا ہوتا تھا۔
ابھی تک وہ گھر نہیں آٸی تھی۔ ۔
اتنے میں گاڑی کے آنے کی آواز آٸی۔
لگتا ہے ارمان آگیا ہے۔۔۔۔
دل گھبرایا لیکن پھر بھی آگے بڑھیں۔
اَلسَلامُ عَلَيْكُم بی جان۔۔
آتے ہی سلام کیا اور دعا لی۔
کھانا لگاٶں ۔۔ آپ کے لیے بیٹا؟
جی لگا دیں۔ آج بہت زوروں کی بھوک لگی ہے۔۔
۔ ارمان نے موباٸیل والٹ نوکر شمس کو دیتے پیار اور لاڈ سے کہا۔
آپ فریش ہو جاٶ بیٹا۔۔۔ میں کھانا لگاتی ہوں۔
بی جان میری شہزادی کدھر ہے۔۔۔؟ آج آواز نہیں آٸی؟
جاتے ہوۓ بی جان کے قدم رکے۔ اور پلٹیں۔ دل مں ڈر تھا۔ پھر بھی خود پر قابو پایا۔
ارے بیٹا آپ فریش ہو جاٶ وہ بھی آجا تی ہے۔۔۔
ٹالنے والے انداز مں کہتی وہ کچن کی جانب بڑھیں۔
اب کیا بتاٶں ارمان کو۔۔۔ کدھر ہے۔۔۔۔۔؟ کونسا مجھے بتایا کہ کہاں جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔ اللہ کرے آجاۓ۔۔۔۔۔ دل ہی دل مں دعاٸیں کرتی کھانا لگانے لگیں۔
جبکہ ارمان کو بی جان کا انداز کچھ عجیب سا لگا۔ سر جھٹک کر وہ فریش ہونے چلا گیا۔
کھانے کی ٹیبل پر پھر سے ایمن کا پوچھا تو بی جان آٸیں
با ٸیں شا ٸیں کرنی لگیں۔
بی جان ۔۔۔ بتاٸیں بھی۔۔ ایمن کیوں نہیں آٸی ابھی تک نیچے؟؟ کیا کوٸی بات ہوٸی ہے؟
کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔
ارے نہیں بیٹا ۔۔۔ پہلے آپ آرام سے کھا نا کھا لو۔۔۔۔
بی جان ۔۔۔ ایمن کہا ں ہے؟
اب کے زرا نا گواری سے پو چھا۔
وہ۔۔۔ بیٹا وہ۔۔۔ بات کرتے وہ ہکلا رہی تھیں۔
ارمان ایک ٹک پتھریلی نظروں سے دیکھے جا رہا تھا۔
بیٹا۔۔۔ وہ شام سے کہیں گٸ ہے۔۔۔ اور ابھی تک واپس نہیں آٸی۔ بالآخر بول دیا۔
کیا مطلب ہے آپکی اس بات کا؟؟
غصے سے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔
بیٹا۔۔۔۔۔۔ وہ مجھے بتا کر بھی نہیں گٸ۔۔۔۔
میں نے سوچا آ جاۓ گی۔۔لیکن۔۔۔۔۔
بات ادھوری چھوڑ دی۔
حد کرتی ہیں بی جان۔۔۔۔۔ ٹاٸم دیکھا ہے آ پ نے۔۔۔۔
اگر وہ گھر نہیں آٸی تو کم از کم آپ تو مجھے انفارم کر سکتی تھیں ناں۔۔۔۔
موڈ یکدم خراب ہوا۔ فوراً ایمن کے نمبر پے کال ملاٸی۔
لیکن نمبر بند جا رہا تھا۔۔ بہت دفعہ ٹراٸی کیا لیکن بے سود۔۔۔
نمبر بند جا رہا ہے۔۔۔۔۔ پریشا نی سے کہا۔
امممممم۔۔۔ اسکی ایک دوست ہے ناں۔۔۔ کیا نام ہے اسکا۔۔۔ ؟
اسوہ۔۔۔۔۔۔
بی جان فورا ً بولیں۔۔ تو ارمان نمبر ملانے لگا۔
کیا تھا اسے بھی فون لاعلمی کا اظہا ر کیا۔ بی جان نے مایوسی سے کہا۔
نمبر ڈاٸیل کرتے ارمان کے ہاتھ رکے۔ خفگی سے بی جان کو دیکھا ۔۔ اور نمبر ڈاٸیل کرنے لگا۔ دوسری بیل پے اٹھا لیا گیا۔
ہیلو اسوہ۔۔؟
جی جی ارمان بھاٸی کیسے ہیں آپ ؟
اسوہ فورً ا بولی۔
الحَمْدُ ِلله وہ مجھے ۔۔۔ ایمن کے بارے میں جاننا تھا۔۔۔ آج آٸی تھی وہ آپ کی طرف۔۔۔؟
نہیں ارمان بھاٸی ۔۔۔ وہ تو نہیں آٸی۔۔۔ نہ ہی ہمارا کوٸی پروگرام تھا ۔۔ کیا ہوا۔۔۔ ایمن گھر نہیں آٸی ابھی تک کیا؟
اس کے لہجے بھی پریشانی آگٸ۔
نہیں۔ ۔۔۔۔۔ شام سے وہ نہیں معلام کہا ں ہے۔۔۔ دکھی اور پریشانی سے کہا۔
اوہ۔۔۔۔۔ آپ نے نمبر ٹراٸی کیا۔؟
ہوں ۔۔۔ کیا لیکن۔۔۔ بند ہے۔ خیر۔۔۔ بعدمیں بات ہو گی۔۔۔
اوکے بھاٸی۔۔ آجا ۓ تو مجھے بھی انفارم کر دیجیۓ گا۔
ارمان اب حقیقتاً پریشان ہو گیا۔ اور اپنے دوست انسپکٹر
بالاج کو کال ملاٸی۔ اعر اسے ساری ڈیٹیل دی۔
بیٹا فکر نہ کرو۔۔۔ ایمن کا پتہ چل جاۓ گا۔ بی جان نے تسلی دی۔
کیسے فکر نہ کروں بی جان۔۔۔۔ بہن ہے وہ میری۔۔۔۔ گھر سے غاٸب ہے۔۔۔
اور آپ۔۔۔۔۔ غصہ ضبط کیا۔۔۔
آپ نے کیوں نہ سکا خیال رکھا۔۔۔
آپ کو پتہ بھی ہے بابا اور ماما نے اسکی ذمہ داری مکھ سونپی تھی جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوۓ تھے۔۔۔
اگر خد انخوستہ سے کچھ ہو گیا تو میں مما بابا کو کیا جواب دوں گا۔۔۔۔۔۔؟؟؟
سخت اضطراب کی کیفیت میں تھا۔۔۔ اور یہ بھی نہیں جانتا تھا جسکے لیے وہ پریشان ہے وہ زندہ ہے بھی یا۔۔۔ نہیں۔۔۔۔
