Khoni Jhula by Muntaha Chohan NovelR50513 Khoni Jhula (Episode 17)
Rate this Novel
Khoni Jhula (Episode 17)
Khoni Jhula by Muntaha Chohan
گاڑی میں مکمل خاموشی چھاٸی تھی۔ بالاج گاڑی ڈراٸیو کر رہاتھا۔۔ جبکہ ارمان اس کے ساتھ ہی فرنٹ سیٹ پر تھا۔
ثمرہ اور فجر بیک سیٹ پے تھے۔ وہ کراچی سے حیدر آباد جا رہے تھے۔
بالاج پولیس اسٹیشن کا سارا کام ازمیر کے حوالے کر کے آیا تھا۔
بالاج اور ثمرہ وقتاً فوقتاً بات کر لیتے لیکن ارمان اور فجر دونوں ہی خاموش تھے۔
اور ان دونوں کی خاموشی کو ثمرہ اور بالاج دونوں نے ہی محسوس کیا تھا۔
لیکن کچھ کہا نہیں۔
کیسے۔۔۔۔؟؟ ارمان۔۔۔۔کیسے۔۔۔؟؟ آپ مجھ سے ۔۔۔ کچھ چھپا سکتے ہو۔۔۔۔؟؟ کیوں۔۔۔؟؟
فجر اپنی ہی سوچوں میں الجھی ہوٸی تھی۔
کلجو بھی اس کے بعد وہ بہت پریشان تھی۔اس کا دل چاہا وہ اڑ کر ارمان “کے پاس پہنچ جاٸے۔ اسی پریشانی میں اسے کال کی فجر نے۔۔ ڈھیر ساری کالز کیں۔ لیکن اس نے ایک بھی نہ اٹھاٸی۔
جس وجہ سے وہ اور زیادہ پریشان ہوٸی تھی۔
اور صبح آتے ھی ارمان نے کوٸی بات نہ کی۔بلہ چپ چپ سا ہی رہا۔ اسی وجہ سے فجر بھی اس سے زیادہ بات نہ کر پاٸی۔
وہ حیدر آباد کی حدود میں داخل ہو چکے تھے۔
ظہر کا وقت ہوچلا تھا۔
راستےمیں ایک مسجد کی طرف انہوں نے گاڑی کا رخ کیا۔
نماز ادا کر کے وہ فجر کے بتاۓ ہوۓ ایڈریس پے پہنچے۔
ہمدر آغوش۔۔۔
باہر ہی انہوں بہت بڑے حروف میں لکھے نام کو پڑھا۔
اور اندر کی جانب بڑھے۔
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
گیٹ پے ہی چوکیدار نے روک لیا۔
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
جی۔۔۔۔!! کس سے ملنا ہے آپ کو۔۔۔؟؟
جی وہ۔۔۔!! مسز روبیینہ سے۔۔۔!!
فجر نے کہا تو وہ چوکیدار ایک لمحے کو چپ سا ہو گیا۔
آپ کے میم نے بلایاہے۔۔۔؟؟
اس نے ایک اور سوال گڑا۔
نہیں۔۔۔۔!! ہمیں۔۔۔ ایک کیس کے سلسلے میں ان سے بات کرنی ہے۔۔۔!! مدد چاہیے۔۔
ارمان نے سنجیدگی سے کہتے چوکیدار کو سر سے پاٶں تک دیکھا۔
آپ۔۔۔ یہاں۔۔۔ آجاٸیں۔۔۔ اور اپنا نام بتاٸیں۔
میں میم سے۔۔ اجازت لے کے ہی آپ کواندر جانے دے سکتا ہوں۔۔۔
چوکیدار انہیں ویٹنگ روم میں لے آیا۔
ان تینوں نے فجر کی جانب دیکھا۔
ان سے کہیں۔۔۔!! فجر ۔۔ان سے ملنا چاہتی ہے۔
فجرنے فوراً کہا۔ تو سر ہلاتا اندر کی جانب بڑھ گیا۔
فجر۔۔۔ تمہیں۔۔۔ پکا یقین ہے۔۔۔یہ۔۔۔ وہی ہیں۔۔۔؟؟
ثمرہ نے سرگوشی کی۔
فجر نے اثبات میں سرہلایا۔
جی آپ۔۔۔۔!! آجاٸیں۔۔۔!!
کچھ ہی دیر بعد چوکیدار نے آکے کہا۔ تو چاروں ایک دوسرے کو دیکھتے اندر کی جانب بڑھے۔
سامنے چیٸر پے وہ براجمان انہیں فاٸل دیکھتی نظر آٸیں۔
یہ وہی ہیں۔۔۔!! بس۔۔۔ تھوڑی اولڈ ہو گٸ ہیں۔۔۔
ثمرہ نے پھر سے سرگوشی کی۔
فجرنے ایک نظر اسے دیکھا اور مسز روبینہ کو سلام کیا۔
آٸیے۔۔۔!! مس فجر۔۔۔!! کیسی ہیں۔۔ آپ۔۔؟؟
مسز روبینہ بہت خوش دلی سے ان سے ملیں۔
کہیے۔۔۔!!کیا مدد کرسکتی ہوں میں آپ کی۔۔؟
ہمیں۔۔۔۔۔ایک لڑکی کے بارے میں:جاننا ہے۔۔۔!!!!
فجر نے تمہید باندھی۔
جی جی بولیں۔۔۔!!
ٹینا۔۔۔ سود۔۔۔۔!!
ایک لمحے کو خاموشی چھا گٸ۔
مسز روبینہ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوا۔جسے ان چاروں نےمحسوس کیا۔
کو۔۔۔۔۔۔۔۔ن ۔۔۔ ٹینا۔۔۔۔۔۔؟؟
مسز روبینہ نے خود کو ریلکس رکھا۔ اور خود کو فوراًسنبھال بھی چکی تھیں۔
وہی۔۔۔ ٹینا سود۔۔۔۔جس کا 1991 میں مرڈر ہوا تھا۔۔اورلاش۔۔۔ پوسٹ مارٹم کے لیے آپ کے پاس لاٸی گٸ تھی۔
فجرنے انہیں مکمل اپنی باتوں میں پھسا لیا۔وہ بہت بری طرح گھبراٸیں۔












ہم جنات کی دنیا۔۔۔۔
ایسی دنیا جہاں کے اپنے قانون ہیں اور اپنے اصول ۔۔۔
او وہ بھی بہت سخت۔۔۔
جو سب پے لاگو ہوتے ہیں۔۔۔۔
چاہے پھر وہ جنات کی ملکہ ہی کیوں نہ ہو۔۔۔
جنات کا سردار۔۔۔۔
مارج جن۔۔۔۔۔اسکی کڑی نظر ہر ایک پے ہوتی تھی۔
کوٸی چیزاس سے چھپی نہ رہ سکتی تھی۔
پھر فلزا تواسکی بیٹی تھی۔۔۔۔وہ کچھ کرے اور سردار کو خبر نہ ہو۔۔۔۔،؟ ممکن ہی نہیں تھا۔۔۔۔۔
اور بات اس دن بگڑی جب ایک انسان سے عشق کر بیٹھی۔۔۔اس دن۔۔۔ بہت اندھیرا چھا گیا تھا۔۔۔۔۔
پوری جناتی دنیا اندھیرے میں ڈوب گٸ تھی۔
ایک باغی پیداہو کا تھا۔ اور وہ بھی سردارکےاپنے گھر۔۔۔
بہت روکا اسے سب نے۔۔۔۔۔۔
انجام سے بھی ڈرایا۔۔۔لیکن وہ باز نہ آٸی۔
فلزا۔۔۔۔!!دیکھو۔۔۔۔ چھوڑ دو اس انسان کا پیچھا۔۔۔۔ہماری انسان کے ساتھ کبھی نہیں بنی اور نہ کبھی بنے گی۔ کل کوتمہیں پچھتانا پڑے گا۔
فلزا کی ماں نے اسے سمجھایا۔جبکہ وہ کانوں میں مارتی اپنا جھولا۔جھولتی رہی۔
یہ جھولا۔۔۔ اس کا پہلا عشق تھا۔۔۔ہاں ۔۔۔ وہ جادوٸی جھولا تھا۔ اسکا بچپن کا ساتھی۔
اور اب ایک انسان سے اسے عشق ہو گیاتھا۔
لیکن جھولے اور انسان میں فرق ہے۔۔ یہ بات وہ نہ سمجھی۔
اور وہ زمین پے چلی گٸ۔ اس شخص کو اپنا بنانے۔۔۔۔
لیکن اس دن اس انسان کی شادی ہو رہی تھی۔ اس کی اپنی محبت سے۔
وہ سب بہت خوش تھے۔۔۔۔ لیکن فلزا سے یہ سب برداشت نہ ہوا۔
اور اس نے غصے میں آ کے اس لڑکی کو مار ڈالا۔ اس سے اسے لگا۔ کہ وہ اپنی محبت کو پا لے گی۔
شادی کے روز دلہن کی پر اسرار موت نے سب کو ہکا بکا کر دیا۔
ایک کہرام مچ گیا تھا۔
شادی والے گھر ماتم۔بچھ گیا تھا۔
اور فلزا وہیں کھڑی سب تماشا دیکھ رہی تھی۔ اور خوش تھی۔ کہ اب اس سے اسکی محبت کوٸی نہیں چھین سکتا تھا۔
لیکن وہ اللہ کی قدرت سے انجان تھی شاید۔۔۔
وہانسان اس لڑکی سے سچی محبت کرتا تھا۔
اس کی موت سے وہ نیم پاگل ہو گیا۔
وقت گذرا۔۔۔ وہ شخص ساری دنیا سے کٹ گیا۔
اور تب فلزا اس کے سامنے گٸ۔ اسے اپنا بنانے کے لیے۔
اسکی محبت کے روپ میں۔
لیکن وہ انسان ہونے کے باوجود جان گیا کہ وہ اسکی محبت نہیں۔۔
اس دن وہ اس انسان کو بھی کھو گٸ۔
وہ اس کے ساتھ بھی کچھ برا کرتی۔ اس سے پہلے ہی اسکو پکڑ لیا گیا۔۔اور اسے واپس بلوا لیا گیا۔
جنوں کے سردار مارج نے اسے قیدکر لیا۔ اس بات سے قطعی نظر وہ سرددار کی بیٹی ہے۔اسے بھی سزا سناٸی گٸی ۔
لیکن ہر قیدی کی طرح اس سے بھی اس کی خواہشپوچھی گٸ۔تو اس نے اپنے جھولے کے لیے اپنی طاقتوں کو قربان کر دیا۔
اوریوں اسکی ساری طاقتوں کو بھی سلب کر لیا۔
بہت سال وہ قید میں رہی۔ اور قیدکاٹنےکے بعد بھی اسے آزادی نہ ملی۔اس نے جو اصول۔توڑا۔۔ اسکی اسے ہمیشہکی سزا ملی۔اور وہ دن بھی آگیا۔اس دن اسے
اسکے ہی جھولے میں قیدکردیا گیا۔
وہ بہت افسردہ تھی۔لیکن اپنے جھولے کو نہیں چھوڑ سکتی تھی۔
اور سزاکے طور پے اسے زمین پے ہی بھیج دیا گیا۔
کتنے سال گذر گۓ
لیکن وہ وہیں قید رہی جھولے پے۔۔۔۔!!
یہاں تک کہ۔۔۔ وہ پھول بھی مرجھا گٸے۔۔۔
اور پھر۔۔۔۔ ایک دن۔۔۔۔!!
وہ کچھ کہتا کہ ایک دم چپ ہو گیا۔
اور ارمان جو بہت توجہ سے سن رہا تھا۔ اس کے رکنے پے اسے دیکھنے لگا۔
روشنی ہونے والی ہے۔۔ اور مجھے۔۔۔ اب جانا ہو گا۔۔۔!!
وہ چہرے پے مسکراہٹ سجاۓ بولا تھا۔
لیکن مجھےسب جاننا ہے۔۔۔!!
ارمان بضد ہوا۔
ارمان ملک۔۔۔۔ آپ کی زوجہ ناں۔۔۔۔۔ آپ کو یاد کررہی ہیں۔۔ اور آپ نے ان کے ساتھ آج جانا بھی ہے۔۔۔!! اسکی آنکھوں میں شرارت تھی۔
ارمان نے گہرا سانس خارج کیا۔
وہ جانتا تھا۔ فجر اسے کالز پے کالز کر رہی ہے۔ اور اسنے اسے اگنور کیا ہے۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔۔!! پھر ۔۔۔باقی سب کب بتاٶ گے۔۔۔؟؟
جہاں جا رہے ہیں۔۔۔ وہاں جاٸیں۔۔۔ میں آپ کے ساتھ ہی ہوں۔ فکر نہ کریں۔۔
تم ہو کون۔۔۔۔؟؟ تمہارا۔۔ کچھ۔۔۔ نام تو ہو گا۔۔۔؟؟
ارمان نے اسے لتاڑتے ہوۓ پوچھا۔
اے۔۔انسان۔۔۔۔!!
میں ایک۔جن ہوں۔۔۔
لیکن۔۔۔ ابھی بہت۔۔۔ چھوٹا ہوں۔۔۔۔
اورتھوڑا شرارتی بھی۔۔۔
آنکھوں میں چمک تھی۔۔۔
میرا نام۔۔۔اطالوس ہے۔۔۔
عمر ایک سو انچاس سال۔۔۔۔
سب سے زیادہ فرمابردار ہوں اپنے قبیلے کا۔۔۔
اپنی تعریف پے اسکی آنکھوں میں ایک خاص چمک ابھری۔ ارمان نے محسوس کیا۔
اجازت دے دیں۔۔۔۔ میں روشنی میں نہیں آسکتا۔۔۔۔
ارمان نے اثبات میں سر ہلایا توکچھ پڑھتے ساتھ ہی غاٸب ہو گیا۔
اور ارمان نکلتے سورج کی روشنی کو اپنے اندر اترتا محسوس کر رہا تھا۔ ایک سکون کا احساس ہو رہا تھا۔
وہ جانتا تھا۔ فجر ناراض ہو گی۔
لیکن وہ اصل بات تک پہنچنا چاہتا تھا۔
اور اس جن اطالوس نے ساری سچاٸی بتانے کی ایک ہی شرط رکھی تھی کہ وہ یہ راز اپنے تک ہی رکھے گا۔
اور ارمان مجبور تھا۔۔۔










کون ۔۔۔ ٹیییینا۔۔۔۔۔؟؟ انہوں نے حتی الامکان لہجہ نارمل رکھنا چاہا۔
وہی۔۔۔۔۔ جو آپ ے ہاسپٹل میں۔۔۔۔۔
آپ۔۔ لوگ۔۔۔ جاٸیں۔۔۔ یہاں ۔۔سے۔۔۔!! میں ۔۔ کسی ٹینا کونہیں جانتی۔۔۔
انہوں نے فجر کی بات کاٹی۔ انہیں ایک دم سے پسینہ آنے لگا۔ اور ان کا دل گھبرایا۔
ارمان نے انہیں پانی کا گلاس پیش کیا۔
انہوں نے ارمان کو ایک نظر دیکھا۔جس کی نظریں بہت کچھ کہہ رہی تھیں۔۔ انہوں نے نظریں نیچی کرت گلاس تھام لیا۔
فجر نے ثمرہ کو اشارہ کیا۔ اور اسے لیپ ٹاپ سے مسز روبینہ کو سب دکھانے کا کہا۔
ثمرہ نے ساری ڈیٹیل ان کے سامنے رکھی۔ تو وہ اپنا پسینہ صاف کرتی گہری گہری سانسیں لینےلگیں۔
دیکھیں۔۔۔!! ہم آپ کو کوٸی بھی تکلیف پہنچانے نہیں آۓ۔۔ اور نہہی ہمارا۔۔۔ ایسا کوٸی ارادہ ہے۔۔۔۔پلیز۔۔۔ ہمیں۔۔۔ سب جاننا ہے۔۔ کیا ہوا تھا۔۔۔ ٹینا کے ساتھ۔۔۔۔؟؟
اور ۔۔۔۔ اسکی لاش۔۔۔ اسکا کیا۔۔۔؟؟
وہ۔۔۔ وہ لے گٸ تھی۔۔۔۔۔!!
انہں نے خود پے قابو پاتے دھیرے سے کہا۔۔۔
کون۔۔۔؟؟ انہوں نے مسز روبینہ کیجانب دیکھا۔
ننننہہیں۔۔۔ نہیں۔۔ جانتی۔۔۔۔!!
لیکن۔۔۔ وہ اسے لے۔۔۔ گٸ۔۔۔۔!! انہوں نے آج اتنے عرصے بعد دل۔کا راز کھولا تھا۔
وہ راز جو وہ اپنے سینے میں دفن کرچکی تھیں۔
پلیز۔۔۔ ہمیں۔۔۔۔ سب بتاٸیں۔۔۔!! کیونکہ۔۔۔ بہت۔۔ کچھ ہے۔۔ جو برا ہو رہا ہے۔۔۔!!
کیا۔۔۔ کیا۔۔ مطلب۔۔۔؟؟ مسز روبینہ حیران ہوٸیں ان کی بات پے۔
تو فجر نے انہیں پارک والا سارا قصہ سنا ڈالا۔
کسطرح لڑکیاں وہاں سے غاٸب ہو رہی ہیں۔۔۔؟؟
لیکن۔۔۔۔ ایسا۔۔۔ کیسے۔۔ ہو سکتا۔۔۔ہے۔۔۔؟؟ اس نے تو۔۔۔ کہا تھا۔۔۔ اسے صرف ۔۔۔ٹینا۔۔۔ چاہیے۔۔۔۔۔۔!! وہ۔۔۔چلی جاۓ گی۔۔۔۔!! پھر وہ۔۔۔ واپس۔۔۔ کیسے۔۔۔۔؟؟
مسز روبینہ کی باتیں۔۔۔ ان کے سر سے گذر رہی تھیں۔
سواۓ۔۔ ارمان کے۔۔۔۔۔ !!
وہ جانتا تھا۔۔۔۔۔!! کہ وہ کس کے بارے میں بات کررہی ہیں۔
لیکن وہ چپ تھا۔
سامنے ہی ایک کرسی پے۔۔۔ ٹانگ پے ٹانگ رکھے۔۔۔
جن اطالوس۔۔ بیٹھا مسکرا رہا تھا۔
اور ارمان نے محسوس کیا تھا۔ کہ وہ اس کے علاوہ کسی کو دکھاٸی نہیں دے رہا تھا۔
یکدم ارمان کے دماغ میں جھپاکا ہوا۔ باہر ابھی روشنی تھی۔۔! اور اطالوس نے۔۔۔ کہا تھا۔۔ کہ وہ روشنی سے دور بھاگتا ہے۔۔۔ وہ رات کے اندھیرے میں ہی ظاہر ہو سکتا تھا
ارمان نے ایک گھوری سے اطالوس کونوازا۔
وہ ارمان کو اپنے جھانسے میں پھسا چکا تھا۔
اور اب بیٹھا مزے لے رہا تھا۔
جو بھی تھا ۔۔۔
وہ تھا تو جن ہی۔!!
شرارتی۔۔۔ اور تنگ کرنے والا۔۔۔۔!!
ارمان کوغصے میں دیکھ وہ فوراً غاٸب ہو گیا۔
ارمان مسز روبینہ کی جانب متوجہ ہوا۔
انکی طبعیت اب کافی حد تک سنبھل چکی تھی۔
اور وہ تمام سچاٸی بتانے کے لیے بھی تیار تھیں۔
