Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khoni Jhula (Episode 11)

Khoni Jhula by Muntaha Chohan

اس سے پہلے کے ثمرہ کی سانس رکتی۔

بالاج نے اس شخص کو ثمرہ سے دور پھینکا۔

ثمرہ بے ہوش ہو کے گری۔ بالاج نے فوراً اسے تھاما۔

اور سامنے اس شخص کی جانب دیکھا۔

جس کا چہرہ آدھا خراب تھا۔ار بالاج اسے پہچان نہیں پا رہا تھا۔جبکہ اسکی شکل بالاج کو دیکھی دیکھی لگ رہی تھی۔

بالاج نے ثمرہ کو بستر پے لٹایا۔اور اس شخص کی جانب مڑا۔

وہ شخص اٹھا اور بالاج پے اٹیک کیا۔بالاج نے بھی اپنا دفاع کیا۔

لیکن اس شخص میں بہت طاقت تھی۔ اور بالاج اس پے قابو نہیں پا رہا تھا۔

اس نے بالاج کی گردن کو دبوچا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

********

گاڑی باہرہی روک دی۔ خود گیٹ کے اندر داخل ہوٸی۔

گھر کی نیم پلیٹ پے نظر پڑی۔

وہی جگہ تھی۔

ہاتھ کے سامنے کرنے سے اس ک ہاتھ سے روشنی نکلی۔ اور گیٹ خود بخود کھل گیا۔

وہ اندر بڑھتی چلی گٸ۔

گھر میں کو ٸی نظرنہ آیا۔ سب جگہ چوکنا ہوتے نظر دوڑاٸی۔

وہ وہاں کوٸی انجانی طاقت کو محسوس کر رہی تھی۔

اتنے میں اسے ایک طرف سے کچھ آوازیں آٸیں۔ اور وہ فوراً اس طرف بڑھی۔

روم کے اندر داخل ہوٸی۔

سامنے کا منظر دیکھ وہ وہیں تھمی۔

بالاج کی گردن پے اس شخص کا دباٶ بڑھتا جا رہا تھا۔

فجر نے ایک لمحے کی دیری کیے بنا اپنا عمل کیا۔

منہ ہی منہ میں پڑھتی چلی گٸ۔ اور ہاتھ کا بگولا بنا کے اس شخص کی جانب پھینکا۔ وہ شخص دور جا گرا۔

بالاج نے کھانستے ہوۓ فجر کی طرف دیکھا۔جبکہ ایک ہاتھ اپنی گردن پے تھا۔

فجراندر بڑھ آٸی۔ ایک نظر بالاج کو دیکھتے سامنے دبارہ اٹھ کھڑے ہوتے شخص کو قہر برساتی نظروں سے دیکھا۔

وہ فجر کی جانب بڑھا۔ لیکن فجر نے اب کی بار اسے گلے سے دبوچا اور پڑھنا شروع کیا۔

وہ شخص اپنے ہاتھ پیر مارنے لگا۔

فجر اسے اوپر کی طرف اثھا چکی تھی۔ وہ تڑپ رہا تھا۔

تبھی اسکی شکل بدلنے لگی۔ اور وہ ایک عام انسان کے روپ میں آگیا۔ فجر ایک دم رکی۔ وہ کوٸی انسان تھا۔۔۔ اور بے ہوش ہو چکا تھا۔

بالاج بھی اس شخص کو دیکھ حیران رہ گیا۔۔۔

انور۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

***********

شاہ بابا کے چہرے پے ایک مسکراہٹ تھی۔

وہ درود شریف پڑھ کے اٹھے۔

قرآن مجید کا ایک نسخہ اٹھایا۔ اور ساتھ میں اک اور خاص کتاب بھی اٹھاٸی۔

دوبارہ جاۓ نماز پے آبیٹھے۔

وہ وقت دور نہیں ۔۔۔ اب۔۔۔!!

جب فجر بیٹی۔۔۔۔ اس خونی جھولے کا راز پا لے گی۔۔۔!!

اس کالی دنیا کا اب۔۔۔ بہت جلد خاتمہ ہونے والا ہے۔

۔

اور یہ سب پروردِگا ر تیرے ہی فضل وکرم کا نتیجہ ہے۔۔۔۔

جو اس نیک کام کے لیے تو نے ہمیں چنا۔

اے۔۔ اللہ تو ہی اب آگے بھی کرم والا مماملہ فرما

۔اوراس براٸی کا جڑسے خاتمہ کرنے میں ہماری مدد کر ۔۔۔ تا کہ اور جانوں کا نقصان نہ ہو۔۔۔۔!!

آمین کہتے منہ پے ہاتھ پھیرتے انکی آنکھیں بھیگ گٸیں۔

آنکھیں موندے انہیں پھر سے وہی کلاٸی نظر آٸی۔

جس پے اللہ کا نام کنندہ تھا۔۔۔

ہاں ۔۔۔۔یہ وہی شخص ہے۔۔۔۔

جو فجر بیٹی کا محرم ہو گا۔۔۔

اور اسکی مدد کرے گا۔۔ اسکے اس نیک مقصد کو پورا۔۔ کرنے میں۔۔۔!!

بس اسکا چہرہ واضح ہو جاۓ۔۔ پھر ہی فجر بیٹی کو بتا پاٶں گا۔۔۔۔!!

قرآن مجید کوکھولتے وہ دل ہی دل میں ارادہ کر رہے تھے۔۔

لیکن نہیں جانتے تھے۔۔کہ وقت نے ان کو اتنی مہلت دینی بھی تھی یا نہیں۔۔۔؟؟

**************

زیرِ لب دہراتے دہراتے بالاج کو بہت زور کا جھٹکا لگا۔

فجر نے پلٹ کر بالاج کی جانب دیکھا۔

اور اس شخص کو چھوڑ دیا۔

وہ بے جان ہوتا نیچے گرا۔

آپ۔۔۔۔ اسے جانتے ہیں۔۔۔۔؟؟ فجر نے حیرت سے پوچھا۔

ہمممم۔ہاں۔۔۔۔!! یہ پولیس کانسٹیبل ہے۔۔۔ انور علی۔۔۔!!

لیکن ۔۔۔۔یہ یہاں۔۔۔ کیسے۔۔۔۔؟؟

یہ تو ۔۔۔۔ڈیوٹی۔۔۔ پے تھا۔۔۔۔؟؟

بالاج حیران ہوا۔

ساتھ ہی ذہن میں ثمرہ کا خیال۔آیا۔ اور اسکی جانب بڑھا۔

اسکی نبض چیک کی۔ جو بہت دھیرے چل رہی تھی۔

ثمر۔۔۔۔۔!! ثمر۔۔۔۔۔!! آنکھیں کھولو۔۔۔۔!!

بالاج نے اسے پکارا۔ اسکے چہرے پے تھپکی دی۔

اس کی سانس کی ڈوری ٹوٹ رہی تھی۔

اور ساتھ میں بالاج حوصلہ ہار رہا تھا۔

اس کا ثمر کے علاوہ اس دنیا میں کو ٸی نہ تھا۔ اسے کھونے کا درد اس کے دل میں کنڈلی مارنے لگا۔

فجر نے اسے پیچھے ہٹایا۔ اور خود ثمرہ کی نبض چیک کی۔

جو واقعی کسی بھی وقت بند ہو جانے والی تھی۔

نہیں۔۔۔۔!! اب اور نہیں۔۔۔۔!!

میں اب اور کسی کی جان نہیں جانے دوں گی۔۔۔!!

فجر کی آنکھوں میں آنسو آگۓ۔

اور اس نے اپنے عمل کی پڑھاٸی کی۔ اور آنکھیں بند کیے اس نے ثمر کا ہاتھ تھامے رکھا۔

اور ایک بار پھر سے ثمر کے ساتھ اس کالی دنیا میں دھکیلتی چلی گٸ۔

**********************

ٹینا۔۔۔۔!! کم ہیٸر بیٹا۔۔۔۔۔!!

گورنس نے اس چودہ سالہ لڑکی کو پکارا۔

جو کالا لباس زیب تن کیے نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی۔۔ ہاف بازو میں اسکے دودھیا ہاتھ۔۔ اور نازک سے پاٶں ۔۔۔ کہیں سے بھی وہ زمین کی نہیں لگتی تھی۔

بس یونہی محسوس ہوتا۔۔کوٸی کوہ قاف کی پری اس آنگن میں بیٹھی جھولا جھول رہی ہے۔۔

ٹینا۔۔۔۔۔!! ڈارلنگ ۔۔۔۔ کم ہیٸر۔۔۔!!

ایک بار پھر پکارا۔۔

تو وہ نازک سی لڑکی نے ماتھے پے تیوری چڑھا لی۔

Mother… i will not come… plz just go….!!

وہ ناراض سی لگی۔

اہوہہ!!

dear… your father is just coming….!!

and you know… he will angry with you…if you will not come inside.

اوہ۔۔ماٸی۔۔۔ گاڈ۔۔۔۔!!

ٹینا نے سر پے ہاتھ مارا۔ اور جھٹ سے کھڑی ہوتی اندر کی جانب بھاگ گٸ۔ اور مدر بھی ہنستی ہوٸی اسکے پیچھے ہولیں۔

جبکہ جھولا ویسے ہی ابھی تک جھولتا رہا۔۔۔

جیسے اس پے ابھی بھی ٹینا موجور ہو۔۔۔۔۔۔۔۔

***************

کالی دنیا میں وہ قدم رکھ چکی تھی۔

وہی گھپ اندھیرا۔

لیکن گلےمیں اللہ کے نام کے لاکٹ نےاسکا راستہ واضح کر دیا تھا۔

اور اب وہ بالکل نہ ڈری۔اور آگے بڑھتی چلی گٸی۔

سامنےہی اسے ثمر نظر آگٸ۔ جو گھٹنوں کے بل بیٹھی رو رہی تھی۔

فجر فوراً اسکی جانب بڑھی۔ اور اسے کندھے س ہلایا۔

اس نے روتے ہوۓ سر اٹھایا۔

پلیز۔۔۔۔!! میری مددکرو۔۔۔۔!! مجھے ۔۔۔ یہاں سے نکالو۔۔۔۔!!

اس نے روتے بلکتے ہوۓ کہا۔

میں۔۔۔ تمہیں لینے آٸی ہوں۔۔۔۔!! تم گھبراٶ نہیں۔۔۔

اور ہمت مت ہارنا۔۔۔۔ اللہ پے بھروسہ رکھنا۔۔

فجر نے اس کے آنسو صاف کیے۔

فجر نے ثمرہ کو اٹھانا چاہا لیکن وہ روتی اپنے پاٶں کی طرف اشارہ کیا۔

اس کے پاٶں میں ایک بہت بڑی زنجیر تھی۔جیسے قیدی کو پہناٸی جاتی تھی۔

فجر کو اپنی پیٹھ پے غراہٹ سناٸی دی۔

دل بہت زور سے دھڑکا۔

مڑ کے دیکھا۔ تو عجیب جہرے والی لڑکی اس کے سامنے کھڑی تھی۔

جس کا چہرہ آدھا جلا ہوا تھا۔

اسکا لباس کالا تھا۔۔۔۔

لیکن ہاتھ پاٶں بہت گورے تھے۔

فجر اس کے ہاتھ اور پاٶں کی خوبصورتی دیکھ حیران رہ گٸ۔

کہ اچانک اس لڑکی کے پاٶں پیچھےکی جانب مڑ گۓ۔اور بد رنگے ہوگۓ۔

وہ کچھ عجیب سی زبان میں غراتے ہوۓ کچھ بولی۔ فجر کو اس کی زبان سمجھ نہ آٸی۔

وہ لڑکھڑاتی آگے بڑھی۔

وہیں رک جاٶ۔ورنہ۔۔۔۔!!

فجر نے اسے دھمکی د۔ی۔

وہ وہیں تھمی۔

اس نے اپنا منہ کھولا۔جو کھلتا لمبا ہوتا چلا گیا۔

فجر نے بھی ورد شروع کیا۔

اور دونوں ہاتھوں سے آگے ہوتے اس پے وار کیا۔

لیکن وہ بھول رہی تھی۔

کہ وہ کالی دنیا میں ہے۔ وہاں اس کا عمل دشمن کے سامنے کمزور پڑجاتا ہے۔۔

اور ایسا ہی ہوا۔ اس لڑکی صرف ایک جھٹکا لگا۔ لیکن وہ اپنی جگہ قاٸم رہی۔

اس سے پہلے کہ فجر پے وہ وار کرتی۔

فجر نے پلٹ کے ثمرہ کو دیکھا۔

اور اس کی زنجیر پےنظر پڑی۔

چاہے کچھ بھی ہوجاۓ۔ میں اس بار ہار نہیں مانوں گی۔۔۔ اور اس لڑکی کو یہاں سے صحیح سلامت واپس لے کے جاٶ گی۔

فجر نے دل میں پکا ارادہ کیا۔

فجر نے زیرِ لب عمل۔کرنا شدروع کیا۔ اور اس زنجیر پے ہاتھ رکھا۔ وہ اک جھٹکے سے ٹوٹ گٸ۔

وہ عجیب چہرے والی لڑکی اسکے عمل پے آنکھیں پھاڑے دیکھنےلگی۔

فجر نے ثمرہ کا ہاتھ تھاما۔ اور ایک جیت کی سرشاری سے اس عجیب لڑکی کو دیکھا۔

ساتھ ہی ہوا میں ہاتھ سے روشنی کا بگولا اسکی جانب چھوڑتے اسکی نظروں سے اوجھل ہوگٸ۔

وہ آنکھوں پے ہاتھ رکھے اپنی شکست پے تڑپ کے رہ گٸ۔

اسکی چینخ و پکار سے پوری کالی دنیا لرز کے رہ گٸ۔

***************************

بالاج وہیں دم سادھے بیٹھا فجر اور ثمرہ کو دیکھ رہا تھا۔

اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر ۔۔یہ ہو کیارہا ہے۔۔۔۔؟؟

اور یہ۔۔۔ لڑکی۔۔۔ کون ہے۔۔۔؟؟ جو اس کی مدد کو پنچ گٸ۔

ثمرہ کا ہاتھ تھامے وہ مسلسل آنسو ضبط کرنے کی کوشش کر رہاتھا۔

ثمرہ کا ایک ہاتھ بالاج کے ہاتھ میں تھا۔

تو دوسرا فجر نے تھام رکھا تھا۔۔ اور وہ آنکھیں موندے اپنے عمل میں مصروف تھی۔

بالاج۔۔۔۔!!

میں جانتی ہوں۔۔۔ میں جو آپ کو بتانے جارہی ہوں۔۔۔

آپ اس بات پے یقین نہیں کریں گے۔۔۔۔!!

لیکن ۔۔۔یہ سچ ہے۔۔۔۔!!

میری آواز۔۔۔ جا چکی ہے۔۔۔!!

شاید۔۔۔۔ اب میں ۔۔۔ کبھی۔۔۔ نہ بول پاٶں۔۔۔۔

اور یہ۔۔۔۔ سب۔۔۔ اس انٹرویو کے بعد۔۔۔ہوا ہے۔۔۔

جس میں وہ لڑکی۔۔۔غأٸب ہوگٸ تھی۔۔

اوربدقسمتی۔۔۔ یہ کہ۔۔۔ وہ سب ۔۔۔ میری آنکھوں کے سامنے ہوا۔

میں۔۔۔ نے بہت دفعہ۔۔۔ انجانی ۔ طاقتوں کو اپنے پاس محسوس کیا ہے۔۔۔ اور۔۔۔ شاید۔۔۔ وہ مجھے آپ سے ۔۔۔ چھین بھی لیں۔۔۔!!

بالاج۔۔۔۔!! میں۔۔۔ بہت۔۔۔۔ زیادہ ۔۔۔ڈری۔۔ ہوٸی۔۔۔ ہوں۔۔۔

پلیز۔۔۔۔ ہیلپ می۔۔۔۔!!

ہیلپ۔۔۔۔۔می۔۔۔!!

اس کاغذ پے لکھی تحریر کو یا کرتے بالاج آنکھیں بند کیۓ ۔۔ آنسو بہانے لگا۔

ایم۔۔۔۔ سوری۔۔۔۔ ثمر۔۔۔۔!! میں۔۔۔ تمہیں۔۔۔ سمجھ نہ۔۔پایا۔۔۔۔ !!

پیار کا دعوی تو کرلیا۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ اعتبار نہ دے سکا۔۔۔۔ !!

کاش۔۔۔۔ میں پہلے۔۔۔جان پاتا۔۔۔۔!!!

پلیز۔۔۔ ثمر۔۔۔۔!! ایک بار لوٹ آٶ۔۔۔۔۔!! تم۔۔۔ میرے جینے کی وجہ ہو۔۔۔!!

پلیز۔۔۔۔!! لوٹ آٶ۔۔۔۔۔!!

بالاج آنکھیں بند کیے۔۔۔ دل میں اس سے مخاطب تھا۔

کہ ایک جھٹکے سے ثمرہ نے لمبا سانس کھینچا اور آنکھیں کھولیں۔

فجر نے بھی دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔

بالاج ثمر کو آنکھیں کھولتا دیکھ حیران ہوا ۔۔

اور چہرے پےایک سکون اور خوشی کی لہر دوڑ گٸ۔

با۔۔۔۔ لا۔۔۔ج۔۔۔!! دھیرے سے پکارا۔

اسکی آواز لوٹ آٸی تھی۔ اوروہ خود بھی۔

فوراً ثمر کو گلے سے لگاۓ اس نے شکر کاکلمہ پڑھا۔ ۔

ثمرہ نے آنکھیں موندے ان لمحوں کو اپنے اندر جیا۔

بالاج اسے زندہ صحیح سلامت دیکھ بہت خوش تھا۔

شکر اللہ کا تم۔۔۔۔۔ ٹھیک ہو۔۔۔

دیوانہ وار اسے دیکھتے وہ جذب کے علم میں بولا۔

فجر دھیرے سے وہاں سے اٹھ کھڑی ہوٸی۔

وہ مطمیٸن تھی۔

آج وہ سرخرو ہوٸی تھی۔

کیونکہ آج وہ جذبات کی رو میں بہکی نہیں تھی۔

انور کی نبض چیک کی۔ وہ زندہ تھا۔

تھینک یو سو مچ۔۔۔۔!! آج آپ نے میری مدد کی۔۔۔۔۔بنا جان پہچان۔۔۔۔ آپ کا بہت بڑا ظرف ہے۔

بالاج نے ثمرہ کو سہارا دے کے اٹھاتے فجر سے کہا۔

یہ زندہ ہے۔۔۔۔!! اسے ہاسپٹل پہنچاٸیے۔۔۔۔۔

فجر نے اسکی بات کو نظر انداز کرتے اپنی بات کہی۔

کیا۔۔۔۔۔اسے آپ ہوش میں۔۔۔ نہیں ۔۔۔لاسکتیں۔۔۔؟؟

آٸی مین۔۔۔۔۔جیسے ثمرہ کو۔۔۔۔؟؟

بات کہتے ہوۓ فجر کی تیز نظروں کی وجہ سے ادھوری چھوڑ دی۔

وہ لڑکیوں کے شکار کرتی ہے۔۔۔۔!!

اور شکر کریں۔۔۔ آپ کی بیوی بھی بچ گٸی۔

کیونکہ ۔۔۔۔۔ وہ آپ کے نکاح میں ہے۔۔۔!!

ورنہ۔۔۔۔۔کنواری۔۔۔ لڑکیاں۔۔۔ نہیں۔۔۔ بچ پاتیں۔۔۔ اس کالی۔۔۔ دنیا سے۔۔۔۔!!

رسان سے کہتے آخری الفاظ زیرِ لب دہراۓ۔

آپ۔۔۔۔ سب۔۔۔۔ کیسے جانتی ہیں۔۔۔۔؟؟ کون ہیں آپ۔۔۔؟؟

بالاج کو وہ حیران پے حیران کیے جا رہی تھی۔ فجر اس کے پاس آٸی۔

ایک خیر خواہ۔۔۔

مسٹر بالاج۔۔۔!! آپ۔۔ دنیاوی کیس تو حل کرسکےہیں۔۔۔ لیکن روحانی نہیں۔۔۔!!

سر جھکا کے اٹھایا۔

اور ہاں۔۔۔!! اس پارک سے اپنے اہلکار واپس بلوا لیں۔۔۔۔

اگر۔۔۔ ان کی جان کی سلامتی چاہتے ہیں تو۔۔۔۔!!

فجر کی بات پے بالاج نے آنکھیں پھاڑ اسے دیکھا۔

لیکن کچھ بولتا۔۔۔ زبان نے ساتھ ہی نہ دیا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *