Khoni Jhula by Muntaha Chohan NovelR50513 Khoni Jhula (Episode 20)
Rate this Novel
Khoni Jhula (Episode 20)
Khoni Jhula by Muntaha Chohan
انکل۔۔۔!! آپ۔۔۔۔؟؟
فجر نے حیرانی سے اسدصاحب کو دیکھا۔ جو رات کے اس وقت اس کے گھر آٸے تھے۔
۔ہاں۔۔۔!!میں !! کہاں ہے میری بیٹی۔۔؟؟
لہجے میں انتہا کا غصہ تھا۔
وہیں۔۔۔ جہاں۔۔۔ اسے ہونا چاہیے۔!!
ایک لمحے کو فجر چپ ہوگٸ ۔ لیکن اگلے ہی لمحے شاہ بابا کی موت کو یاد کرتے سرد لہجے میں بولا۔
کیا مطلب ہے اس بات کا۔۔۔؟؟
ان کے ماتھے پے تیوری چڑھی۔
قتل کرنے کے بعد مجرم جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی ہوتا ہے۔۔۔!!
فجر نے لب بھینچتے ہوٸے کہا۔
قتل۔۔۔۔۔۔؟؟ کس کاقتل۔۔۔۔؟؟
ان کے انداز میں بے یقینی تھی۔
شاہ بابا کا۔۔ قتل۔۔۔!!
فجر کا لہجہ روندھ گیا۔
جھو۔۔۔ٹ۔۔۔۔!! بکواس۔۔ ہے۔۔ یہ۔۔۔۔!!
اسد صاحب غصے سے لال پیلے ہونے لگے۔
اس ساری بات میں ارمان کو سمجھ آگٸ کہ وہ رامین کے فادر ہیں۔لیکن بولا فی الحال کچھ نہ۔۔
تم۔۔۔۔ تم۔۔۔ نے ۔۔ضرور ۔۔میری بیٹی کو پھسایا۔۔۔ ہے۔۔۔!!
کتنا منع کیا تھا۔۔۔میں نےاسے۔۔۔ مت جاٶ۔۔۔لیکن۔۔۔۔ نہیں۔۔ نہں۔۔۔مانی اسنے میری بات۔۔۔۔۔۔!!
وہ خود سے اونچی اونچی باتیں کرتے منہ پے ہاتھ پھیرتے جارہے تھے۔
آپ کی بیٹی تو دودھ کی دھلی تھی۔۔۔۔۔!!ہے ناں۔۔۔۔؟؟
فجر کو بھی غصہ آگیا ان کی بات پے۔۔
تم۔۔۔۔ جادوگرنی ہو۔۔۔۔۔!! You …..
بس۔۔۔۔! خبرادار ایک لفظ اور اگر بولا تو۔۔۔۔ابھی کے ابھی جان لے لوں گا۔۔۔
اطالوس نے اچانک آکے۔۔ اسد صاحب کو گلے سے پکڑا۔
ان کے باقی کے الفاظ منہ میں ہی رہ گٸے۔
طالوس!!نہیں۔۔۔۔!!
فجرایک دم اطالوس کے عمل سے گھبرا گٸ۔
لیکن وہ پیچھے نہ ہٹا۔ اور سخت نظریں اس پے گاڑے کھڑا اسکا گلا دبارہا تھا۔
مسٹر اسد کی ڈر کے مارے جان نکل رہی تھی۔
اطالوس۔۔ چھوڑ دو انہیں۔۔۔۔
میا حکم ہے۔۔ یہ۔۔۔!! فجر نے غصے سے کہا۔
اطالوس نے فوراً انکا گلا چھوڑا۔ اور قہر کی ایک نظر ڈالی۔
مڑ کے فجر کو شکوہ کناں نظروں سے دیکھا۔ اور غاٸب ہو گیا۔
اسد صاحب اپنی گردن کو سہلانے لگے۔
اور بنا کچھ کہے اپنی گاڑی کی جانب ہڑبڑاتے ہوٸے بھاگے۔
فجر نے ارمان کی جانب دیکھا۔
جو ابھی بھی اطالوس کے عمل اور رد عمل پے حیران تھا۔
اندر نہیں آٸیں۔۔۔ گے۔۔۔؟
فجر نے ارمان کو مخاطب کیا۔
ارمان خاموشی سے اندر کی جانب بڑھا۔
کافی لیں گے یا چاۓ۔۔۔۔؟؟
فجر نے بیگ اور کوٹ اتارکے ساٸیڈ پے رکھتے ارمان کو مخاطب کیا۔
ارمان جو اسکا روم دیکھ رہا تھا۔اسکی جانب مڑا۔
کافی۔۔۔!!
فجر نے اثبات میں سر ہلاتی کچن کی جانب بڑھ گٸ۔
ارمان فجر کی بک ریک کے پاس آن کھڑا ہوا۔
بکس کی تعداد بہت زیادہ نہیں تھی۔لیکن جتنی تھیں۔وہ ۔۔۔ بکس۔۔ ساری ہی اسلامی تھیں۔اور۔۔ کچھ۔۔ عمل کی کتب تھیں۔
کافی۔۔۔!!
فجر نے ارمان کو ایک کتاب میں گم دیکھا ۔ تو اسے چونکا دیا۔
ارمان نے مسکراتےہوٸے کافی کا کپ تھام لیا۔
کافی کا سپ لیتے ہوٸے وہ کتاب کا بھی مطالعہ کر رہاتھا۔
ہمممم۔۔۔ ٹیسٹی۔۔۔۔!
ارمان نے اسکی کافی کی تعریف کی۔ تو وہ مسکرا دی۔
سارا۔۔۔ کو بھی میرے ہاتھ کی کافی بہت پسند۔۔۔تھی۔۔۔
سارا کے زکر پے وہ تھوڑا افسردہ ہوگٸ۔
اور۔۔۔ ایمن۔۔۔ کو کافی۔۔۔۔ بہت۔۔ بری لگتی تھی۔۔۔!!
ارمان بھی ایمن کو یاد کرتا دھیرے سے افسردگی سے بولا۔
٣ سال۔۔۔۔۔ پاکستان سے دور رہے۔۔۔۔!!
ایک لمحے کوبھی پاکستان یاد نہ آیا۔۔۔؟؟
دل کی بات فجر زبان پے لے ہی آٸی۔
ارمان نے نظر اٹھا کے اسے دیکھا۔
بھولا ہی کب تھا۔۔۔۔؟؟ وہ لمحے۔۔۔
ہ باتیں۔۔۔
وہ پل۔۔۔
وہ جذبات۔۔۔۔
سب وہیں۔۔ ہیں۔۔ جہاں۔۔ پہلے دن تھے۔۔۔۔!!
ارمان نے اس کےگھما کے پوچھنے پے سیدھا سیدھا جواب دیا۔
فجر گڑبڑاگٸ۔
دونوں ہی نیچے کارپٹ پے آمنے سامنے بیٹھے تھے۔۔
فجر کےہا تھ میں کافی کا کپ تھا ۔ تو ارمان کے ہاتھ میں کتاب۔
٣ سل بعد لوٹنے کی وجہ۔؟؟
فجر کونجانے کیا جاننا تھا۔۔۔؟
ایمن۔۔۔۔! اسکی خواہش تھی ۔۔ کہ ہم واپس آٸیں۔۔۔!!
شاید ۔۔ اسکی۔۔موت۔۔ اسے بلا رہی تھی۔۔۔
ارمان کا دل پھر سے بھرآیا۔
جب۔۔ جس وقت چاہے۔۔۔ اللہ نے اپنے پاس بلا لیتا ہے۔۔۔!
موت کا ایک دن مقرر ہے۔
ہممممم!!!ارمان کتاب پڑھنے لگا۔
فجر اسے دیکھنے لگی۔ کافی وقت یونہی بیت گیا۔
ارمان نے ایک نظرفجر کو دیکھا۔ تو وہ گڑبڑا کے نظرہٹا گٸ۔
ارامن کے چہرے پے مسکراہٹ آگٸ۔
دیکھ سکتی ہو۔۔۔!!پرمٹ ہے تمہارے پاس۔۔۔!!
کتاب کو بند کر کے ساٸیڈ پے رکھتے وہ مسکراہٹ ضبط کرتا بولا۔
فجر کا سر شرمندگی سے مزید جھک گیا۔
ارمان اسکے پاس جا کے کارپٹ پے بیٹھ گیا۔
ہاتھ دیکھاٶ اپنا۔۔۔۔!!
ارمان نے اسکا ہاتھ تھاما۔ وہ حیرت سے مردانگی کے شاہکار کو دیکھنے لگی جو اچانک ہی اسے چھوڑ کے چلا گیا۔ اور اچانک ہی واپس بھی مل گیا۔
یہ جو ہمارے ہاتھں کی لکیں ہیں۔۔ ناں۔۔۔!! یہ جڑی ہوٸ تھیں۔۔۔اس لیے۔۔۔ مجھے۔۔ واپس آنا پڑا۔۔۔۔
ارمان کی آنکھو ںکی چمک مزید بڑھتی جا رہی تھی۔
فجر اسکی آنکھوں میں زیادہ دیر نہ دیکھ پاٸی۔
دل تھا کہ دھڑکےجا رہا تھا۔
بہت۔۔۔۔ دیر۔۔۔۔ کر دی۔۔۔۔آنے۔۔۔میں۔۔۔؟؟
سر جھکاٸے آخر گلا کر ہی ڈالا۔
ہممممممم!شاید۔۔۔۔۔!!
لیکن۔۔۔ کہا بھی تو تھا۔۔۔ کسی نے۔۔۔ اپنی شکل بھی نہ دکھانا۔۔۔۔؟؟
فجر کا ہاتھ تھامے وہ اب اسے سہلا رہاتھا۔
اپنے ہونے کا احساس دلا رہا تھا۔
فجر نے نروٹھے پن سے اسے دیکھا۔۔
اس پیار سے میری طرف نہ دیکھو۔۔۔
پیار ہوجاۓ گا۔۔۔۔ وہ بھی۔۔۔ پھر۔۔۔ سے۔۔۔!!
ایک آنکھ ونک کرتے کہتے وہ فجر کے دل کی دنیا کو ہلا گیا۔
آپ کو دیر نہیں۔۔۔ ہو رہی۔۔۔؟؟
اگر تم۔۔ چاہتی ہو تو۔۔۔ میں چلا جاتا ہوں۔۔!!
ارمان فوراً اٹھا۔
نننہیں۔۔۔۔!! میرا مطلب۔۔۔ وہ۔ نہیں۔۔۔تھا۔۔۔!!
ارمان کو اٹھتا دیکھ وہ بھی جھٹ سے کھڑی ہوٸی۔
اعتبار نہیں کیا۔۔۔۔؟؟
آنکھوں میں دیکھتے پوچھا۔
خود سے بھی زیادہ ہے۔۔۔!!
فجر نے دل سے اعتراف کیا۔
ارمان فجر کے قریب ہوا۔ اور اس کے ماتھے پے پیار کی پہلی مہر ثبت کی۔
اور یہ اعتبار۔۔ مجھے۔۔ اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔۔۔۔!!
اعتبار کے ساتھ ایک وعدہ بھی چاہیے۔۔۔۔!!
فجر نے سرگوشی والے انداز میں کہا۔
آپ اب کبھی۔۔ ھی مجھ سے دور نہیں جاٸیں گے۔۔۔! ہمیشہ۔۔۔ میرے پاس رہیں گے۔۔۔۔!!
فجر نے ہاتھ آگے بڑھایا۔
ارمان نے مسکراتےہوۓ اس کے ہاتھ پےاپنا ہاتھ رکھا۔
ہمیشہ۔۔ تمہارے ساتھ رہوں گا۔۔۔ کبھی نہیں ۔۔۔ جاۓ ۔۔ گا۔۔۔ چھوڑ کے۔۔۔مان اپنی مانا کو۔۔۔!!
پورے یقین اور دل سے کہا۔
فجر کے رگ و پے میں سکون کی لہر دوڑ گٸ۔
لیکن۔۔۔ ابھی واقعی بہت دیر ہورہی ہے۔۔۔
اپنا خیال رکھنا۔۔۔!!چلتا ہوں۔۔
محبت بھرے لہجے میں کہتا وہ باہر کی جانب بڑھا۔
االلہ نگہبان
بہت محبت سے رخصت کیا۔
آج وہ ارمان کے لیے بہت خوش تھی۔
وہ جانتی تھی ٣ سال پہلے رامین نے ایک غلط فہمی کی بنا پے انکو الگ کیا تھا۔
تھا کچھ اور دکھایا گیا کچھ۔۔۔!!
دونوں میں جداٸی آگٸ۔
لیکن وہ بھی اللہ کی طرف سے تھا۔۔ اور آج ملن بھی اللہ کی طرف سے تھا
یقیناً یہ صبر کا ہی پھل تھا۔۔![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
کیاہوا۔۔۔۔۔؟؟ آپ پریشان ہیں۔۔۔ جب سے ۔۔ حیدر آباد سے آٸے ہیں۔۔۔؟
ثمرہ نے بستر ٹھیک کرتے بالاج کو پریشان دیکھا تو بو پڑی۔
بالاج نے بھی اسے آج ازمیر سے ہوٸی ساری بات بتا دی۔
اوہ۔۔گاڈ۔۔۔۔!! وہ بچہ نہیں ملا۔۔کیا۔؟؟؟
ثمرہ دکھ ہوا۔
نہیں۔۔۔۔۔!! ابھی تک تلاش جاری ہے۔۔۔۔!!
اللہ اللہ۔۔۔۔ اسکی ماں کا کیا حال ہوگا۔۔۔۔؟؟
ثمرہ کا دل پریشان ہوگیا۔
پہلےتو وہ چڑیل۔۔۔ صرف لڑکیوں کواپنا شکارکر رہی تھی۔۔۔ اب۔۔ بچوں کو بھی۔۔۔؟؟
میری۔۔۔۔ ارمان سے بات ہوٸی ہے۔۔۔!
وہ شیطانی طاقت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔۔
وہ اب آمنے سامنے آکے مقابلہ کرے گی۔۔۔!!
اوراب کسی کو بھی اپنا شکاربنا سکتی ہے۔۔
اب کیا ہوگا۔۔۔۔؟؟
ثمرہ پرسوچ انداز میں بولی۔
اللہ خیر کرے گا۔۔۔
ان شاء اللہ۔۔۔۔۔۔!! ثمرہ نے دل۔سےکہا۔












میری بیٹی کو جیل پہچا دیا۔۔۔۔ میں چھوڑوں گا۔۔ نہیں۔۔۔۔ تمہیں۔۔۔!!
رامین سے جیلمیں ملاقات کرکے وہ باہر نکلے۔ رامین کی حالت بہت خراب تھی۔ وہ ہوش حواس میں نہیں تھی۔
پاگلوں والی باتیں کر رہی تھی۔
اور یہی بات اسد صاحب کو زیادہ تکلیف دے رہی تھی۔
گاڑی میں بیٹھے اور گن نکالی۔
اسے لوڈ کیا۔
مریر بیٹی ک اس حال میں پہنچا کے۔۔۔ تمہیں۔۔ کیا لگتا۔۔۔ میں تمہیں۔۔۔ چھوڑ دوں گا۔۔۔؟ ارمان ملک۔۔۔؟؟
میری بیٹی جنون کی حد تک تمہیں چاہتی ہے۔۔۔
تمہارے لیے وہ قاتلہ بھی بن گٸ۔۔۔۔؟
اپنا آپ ۔۔۔ سب بھلادیا۔۔
اورتم۔۔۔۔۔ اس۔۔فجر۔۔۔ کے حصار سے ہی نہیں نکل۔رہے۔۔۔۔؟؟
اب۔۔بس۔۔۔۔ بہت۔۔ہو گیا۔۔۔!! اب۔۔ تم۔۔ نہیں۔۔۔ یا۔۔۔ میں نہیں۔۔۔!!
غصے سے انہوں نے گاڑی اسٹارٹ کی۔










وہ اپنی سوچوں میں گم تھی۔ کہ شاہ بابا کی کتاب ایک دم سے کھلی اور اس میں سے روشنی کی شعاع پھوٹی۔
فجر نے اٹھ کے دھڑکتے دل سے کتاب دیکھی۔۔
اس پے ایک چاند کی شبیہ واضح ہوٸی۔
اور ساتھ ہی۔۔۔ اس کے پاس ایک جھولا بنتا دکھاٸی دیا۔
اور ایک دم سے وہ منظر مکمل ہوا۔
جھولأ خالی تھا۔
لیکن پھر بھی وہ خالی نہ تھا۔۔
فجر کو لگا وہ خود جھولے پے بیٹھی ہو۔۔
کتاب بند ہو گٸ۔ فجر کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔
اور وہیں بے ہوش ہوتے گر گٸ۔
کای دیر بعد اسے ہوش آیا ۔۔ لیکن وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھی۔ اور کتاب پھر سے بند ہو چکی تھی۔










ارمان جو فجر کے گھر کے لیے نکلا تھا گھر کے قریب ہی پہنچا تھا کہ ایک دم اسد صاحب نے روک لیا۔
آپ۔۔۔۔؟؟
بس۔۔۔ ! بہت ہوگیا۔۔۔ ارمان ملک۔۔۔میری بیٹی کو۔۔۔ اس حال۔لا چھوڑا۔۔۔ ہے۔۔ نہ وہ زندہ میں نہ مردہ میں۔۔۔۔اب اور نہیں۔۔۔۔!! اب سب ختم۔۔۔
کہتےہی گن نکالی۔۔!!
ارمان کو کچھ بھی صحیح نہ لگا۔
وہ انہیں کچھ سمجھانے کی پوزیشن میں بھی نہ تھا۔
انہوں نے گولی چلاٸی۔
درمیان میں اطالوس آگیا۔
فجر بھی گولی کی آواز پے باہر بھاگی آٸی۔
اطالوس نے وہ گولی اپنے ہاتھ پے روک لی۔ اور غصیلی نظروں سے اسد صاحب کو دیکھا۔
ارمان اطالوس کو دیکھ حیران ہوا۔
اسکا یوں بیچ میں آنا۔۔۔ ارمان کو خوش آٸیند لگا۔
کہا تھا۔۔۔۔! دور رہنا ان سے۔۔!! ایک بار پھر سے گلہ پکڑا۔
اور اس بار گرفت زیادہ مضبوط تھی۔
اطالوس۔۔۔۔۔!! نہیں کرو۔۔۔۔!!
چھوڑ دو انہیں۔۔۔!! فجر نے روتے ہوۓ کہا۔
اطالوس نے نفی میں سر ہلایا۔ اور گرفت مضبوط کرتا چلا گیا۔
اطالوس۔۔ وہ مر جاٸیں گے۔۔۔!!
فجر چلاٸی۔۔۔!!
اطالوس۔۔۔ چھوڑ دو۔۔۔۔!! ارمان نے بھی روکاتو وہ منہ بناتاپیچھےہٹا۔
اسد صاحب بے ہوش ہوتے گر گٸے تھے۔
کچھ بھی تو صحیح نہیں ہو رہا۔۔۔۔
ایک طرف وہ شیطان ہے۔۔۔۔اور دوسری طرف۔۔ یہ۔۔۔کیا کریں۔۔۔؟؟
فجر کے آنسو رواں ہوگۓ۔
ارمان نے آگے بڑھ کے اسے اپنے ساتھ لگایا۔ اور حوصلہ دیا۔
آپ ۔۔ ٹھیک ہیں نا۔۔۔؟؟
اس نے روتے ہوٸے ارمان کو دیکھا۔
الحَمْدُ ِلله !! کہتے اس کے آنسو صاف کیے۔
خاتمہ یقینی ہے اس شیطان کی ملکہ کا ۔۔۔۔
اطالوس بولا تو فجر اور ارمان دونں اسکی جانب متوجہ ہوۓ۔
اور وہ کیسے۔۔ ہو گا۔۔۔؟؟ ارمان کو بولنے کا موقع مل گیا۔
اور۔۔۔۔۔اس جنات کی ملکہ کی موت اس جھولے میں چھپی ہے۔۔۔۔
اسے مارنے کے لیے۔۔۔ آپ کو اس۔۔ جھولے تک پہنچنا ہوگا۔۔۔۔!!
اور۔۔۔اس تک پہچنے کا کیا طریقہ ہے۔۔۔؟؟
فجر نے آنسو صاف کرتے اطالوس کی جانب مڑتے ہوٸے پوچھا۔
چودھویں کا چاند۔۔۔۔۔۔!!
اطالوس نے کالے آسمان کی جانب منہ اوپر کرتے دیکھتے کہا۔
مطلب۔۔۔۔؟؟؟ ارمان کو سمجھ نہ آٸی ۔ اسکی بات۔
اطالوس نے پر اسرار انداز میں انہیں دیکھا۔
٢ دن بعد سب پتہ چل جاۓ گا۔۔۔
اورکہتے ساتھ ہی وہ غاٸب ہو گیا۔
یہ۔۔۔ تو ہمیشہ۔۔۔ ہی ادھوری بات کرتا ہے۔۔۔۔!!
ارمان نے لب بھیچے۔
لیکن ۔۔۔ مجھے۔۔سمجھ ۔۔۔۔ آگٸ ہے۔۔۔ اسکی بات۔۔۔!!
فجر نے ارمان کودیکھتے کہا۔
٢ دن بعد۔۔۔ چودھویں کی رات ہے۔۔
اور شاہ۔۔۔بابا کی کتاب۔۔۔ اس میں دیکھا تھا۔۔
ایک جھولا۔۔۔۔ اورچودھویں کا چاند۔۔۔
ہمیں۔۔۔ اس پارک میں جانا ہوگا۔۔۔
جہاں۔۔ یہ کہانی شروع ہوٸی۔۔ وہیں۔۔۔ اسکا خاتمہ ہو گا۔۔۔
فجرنے گہری سانس خارج کرتے ارمان سے بولی۔
مطلب۔۔۔ وہ جھولا۔۔ ظاہر۔ہوگا۔۔۔۔؟؟
اور۔۔ وہ ۔۔۔ جنات کی ملکہ بھی؟
ارمان نے حیرت سے پوچھا۔
نہیں۔۔۔۔!!ہمیں۔۔ اس کے لیے۔۔ اس کے جھولے پے جانا ہوگا۔۔۔۔!!
اور وہیں۔۔ سے شروع ہوگی۔۔۔ نیکی اور بدی کا آخری جنگ۔۔۔۔!!
