Khoni Jhula by Muntaha Chohan NovelR50513 Khoni Jhula (Episode 06)
Rate this Novel
Khoni Jhula (Episode 06)
Khoni Jhula by Muntaha Chohan
آنسو بہہ کرگالوں پے پھسلنے لگے تھے۔
جھوٹ مت بولو۔۔۔۔۔ تم نے اسکی تصویر دیکھی۔
بتاٶ وہ کہاں ہے۔۔۔۔؟ فجر۔۔۔۔ میں بھول جاٶں گا۔۔۔
کہ۔۔۔۔ ضبط سے ارمان کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔
اسی لمحے فجر کے موباٸیل پے ازمیر کی کال آٸی۔
دونوں کی نظریں بیک وقت اس پے اٹھیں۔
ارمان نے آن کر کے سپیک پے ڈال دیا۔
فجر۔۔۔۔ کہاں ہو؟ میں نے ساری انفارمیشن ۔۔۔تمہیں ای میل کی ہے چیک کرو۔۔۔۔
اوہ۔۔۔۔ انسپکٹر ۔۔۔۔ازمیر۔۔۔؟؟؟؟
مطلب ۔۔۔۔ تم دونوں ملے ہوۓ ہو آپس میں۔ ۔۔۔
وہ قانون کو دھوکا دے رہا ہے اور تم۔۔۔۔۔؟؟؟
ایسا۔۔۔۔۔ کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
اغوا کیا ہے ناں۔۔۔۔۔۔ تم دونوں نے مل کے۔۔۔۔۔۔۔ ؟
سخت الفاظ استعمال کرنے پے فجر کا خون کھول اٹھا۔
کیا فضول بولے جا رہے ہیں آپ۔۔۔۔۔۔؟ حقیقت جانتے تک نہیں۔۔۔۔ اور مجھ پے الزم لگا رہے ہیں۔
الزام۔۔۔۔۔۔۔۔ !! تو بتاٶ کیا ہے سچ۔۔۔۔۔؟
ورنہ ابھی اسی وقت ڈی ایس پی کو فون کر کے تم دونوں کو جیل کے اندر۔۔۔۔۔
بس کریں۔۔۔۔ اللہ کا واسطہ ہے بس کر دیں۔۔۔۔
کیوں آۓ ہیں۔۔۔ واپس۔۔۔۔۔؟
چلے گۓ تھے ناں۔۔۔۔۔۔۔۔؟ تو واپس کیوں آۓ۔۔۔۔میری زندگی میں کیوں ہلچل مچا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔؟ جسٹ گو۔۔۔۔۔۔
ہاتھوں سے۔۔۔ دور کر کے دھکادیا۔
ارمان اسکی سچویشن سمجھنے سے قاصر تھا۔ کہ ایسا کیا بول رہی ہے وہ۔۔۔۔۔
اور رو ۓ جا رہی تھی۔ ارمان یکدم چپ سا ہو گیا۔



علی اور ماریہ کو پولیس اسٹیشن بلوایا گیا تھا۔
ماریہ کافی پریشان تھی۔جبکہ علی بھی چپ تھا۔
آٸیے۔۔۔۔۔۔آٸیے۔۔۔۔۔۔۔!!
کیسے ہیں آپ؟
بالاج نے انکا بھرپور طنز سے ویلکم کیا۔
وہ دونوں خاموش رہے۔
کل آپ کی ٹیم نے ۔۔۔۔ مس لیلیٰ کا انٹرویو لیا۔۔
اس کے بعد سے وہ غاٸب ہیں۔۔۔۔
مجھے اس انٹرویو کی ویڈیو چاہیۓ۔
بنا کسی لحاظ کے بالاج مدعے پے آیا۔
لہجہ کافی سخت تھا۔۔ دونوں اور زیادہ پریشان ہو گۓ۔
اور یہی بات بالاج کو چبھ رہی تھی۔
وہ ہر بات کا جواب پہلے سے تیاررکھنے والے تھے۔
کبھی یوں چپ ہونے والوں میں سے نہ تھے۔۔۔



فجر۔۔۔۔۔۔۔ جسٹ ریلکس۔۔۔۔۔ ارمان نے اسے تھامنا چاہا۔۔۔
لیکن پھر سے فجر نے دھکا دیا۔ اور روتی رہی۔
تین سال کا غبار تھا۔ جو آج نکل رہا تھا۔
یہاں آٶ۔۔۔۔ ارمان نے اسے چیٸر کی طرف اشارہ کر کے بلایا لیکن فجر رخ پھیر گٸ۔
ارمان نے اسے پکڑ کر چیٸر پے بٹھایا۔
اور پانی کا گلاس اسے تھمایا۔
ایک شکوہ کناں نظر ارمان پے ڈالی۔اور پانی کا گلاس تھام لیا۔
آنکھیں بند کرو۔۔۔ ۔ بہت دھیمے لہجے میں کہا۔
فجر نے آنکھیں بند کر لیں۔
گہرا سانس لو۔۔۔۔ قریب بیٹھے اسے کہا۔
فجر نے گہرا سانس بھرا۔
درود شریف پڑھو۔
وہ ہمیشہ ایسا ہی کہا کرتا تھا۔ وہ نہیں بدلا تھا۔
اب آنکھیں کھولو۔
فجر نے اسے دیکھا۔وہ پرسکون تھا۔
پانی پیٶ۔
بنا کسی رد مل کے فجر نے پانی پیا۔
ارمان نے چیٸر کے ساتھ ٹیک لگاٸی۔
کیونکہ وہ جانتا تھا۔اب فجر اسے اپنے دل۔کی بات کہے گی۔
اور وہ دل سے سنے گا.
سارا۔۔۔۔۔ میری بہن۔۔۔۔۔۔ چھ ماہ سے۔۔۔۔ لاپتہ ہے۔۔۔۔۔ ہر جگہ ڈھونڈ لیا۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔ اُس دنیا میں ۔۔۔۔ ہے جہاں ۔۔۔۔۔ میر۔۔۔۔۔ی آواز نہیں۔۔۔۔۔ جا ۔۔۔۔ سکتی۔۔۔
بمشکل ہی سہی۔۔۔۔ بول دیا۔
اور ایمن۔۔۔۔۔۔؟ اس کے بارے میں ۔۔۔کیا جانتی ہو؟
ارمان کو ایمن کی فکر ہورہی تھی۔
وہ۔۔۔۔ وہ۔۔۔ بھی۔۔۔۔ اسی ۔۔۔۔ دنیا میں ۔۔۔ہے۔۔۔۔۔!!
کہتے ہوۓ لہجہ سخت زخمی تھا۔
کیااااااا ۔۔۔۔مطلب۔۔۔۔۔۔؟
ارمان کھڑاہوا۔۔۔
کس۔۔۔۔۔۔۔ دنیا۔۔۔۔ کی بات کر رہی ہو۔۔۔۔۔؟
دھڑکتے دل سے پوچھا۔
فجر نے سر اٹھا کے اسے دیکھا۔
موت۔۔۔۔۔ کے بعد کی دنیا۔۔۔۔۔
ایک ٹرانس کی کیفیت میں کہا۔ ارمان کا تو وہ حال کے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔




کہنا کیا چاہتے ہیں ۔۔۔آپ؟؟؟
بالاج کی بات کا ابھی ماریہ اورعلی جواب دیتے کہ ثمرہ آفس میں داخل ہوٸی۔
چینل کے ڈاٸریکٹر نے فون کر کے ثمرہ کو انفارم کیا تھا۔ تاکہ وہ یہ معاملہ سنبھالے۔
ثمرہ کی آمد پر جہاں بالاج حیوان ہوا وہیں اسے غصہ بھی آیا۔لیکن ضبط کر گیا۔
میں نے صاف لفظوں میں پوچھا ہے۔۔۔۔۔ اور صاف لفظوں میں جواب چاہیۓ۔
بالاج نے بھی سخت لہجے میں کہا۔
ہم نے۔۔۔۔ انٹرویو ہی نہیں ۔۔۔۔ لیا۔ ۔۔۔۔ تو کیا بتاٸیں۔۔۔۔ آپ کو؟؟؟
بہت آرام سے جھوٹ بولا۔
مس ثمرہ۔۔۔۔۔۔ آٸی تھنک یہ فوٹو گراف آپ کی اور آپ کی ٹیم کی ہے۔۔۔
ٹاٸم بھی مینشن ہے۔۔۔
اسلیے۔۔۔۔ مزید جھوٹ نہیں۔۔۔۔
تصویر دیکھ کے ثمرہ پریشان ہو گٸ۔۔۔
اسی پارک کی تصویر تھی۔۔۔ شاید وہاں موجود کسی نے کھینچی تھی۔۔ اور نیٹ پر دی تھی۔
ہم وہاں۔۔۔۔ گۓ ضرور تھے۔۔۔۔ لیکن انٹرویو نہیں لیا۔۔۔۔۔۔
ثمرہ نے بات کو سنبھالنا چاہا۔
بالاج دانت پیستا اس کے پاس آیا ۔
رات تک تو آپ وہاں گٸ ہی نہیں تھیں۔۔۔۔۔
آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ پوچھا۔
ثمرہ سٹپٹا گٸ۔
اب مزید کوٸی جھوٹ نہیں۔۔۔
ورنہ قانون کو گمراہ کرنے کے جرم میں تم تینوں کو اندر کر دوں گا۔
سخت لہجے میں کہتا وہ ثمرہ کو چونکا گیا۔
سر۔۔۔۔۔ آپ میری بات سنیں۔۔۔۔ علی فوراً آگے بڑھا۔
کیا سنو؟؟؟
جھوٹ پے جھوٹ بولے جا رہے ہو آپ لوگ۔۔۔۔۔
اور پھر کہتے ہو پولیس والے کچھ کرتے نہیں۔۔۔۔۔۔
سر۔۔۔۔۔ بتانے لاٸق کچھ ہے ہی نہیں۔۔۔۔
آپ پلیز ۔۔۔۔۔ یہ ویڈیو دیکھیں۔۔۔۔
شاید آپ کو سمجھ آجاۓ۔
علی نے موباٸیل آگے کیا۔
بالاج ایک گھوری سے اسے نوازتا۔۔۔۔۔ ویڈیو دیکھنے لگا۔
جس میں لیلیٰ آگے آگے چل رہی تھی اور کیمرہ مین پیچھے پیچھے۔۔۔۔۔۔
وہ نخرہ کرتی آگے بڑھی۔۔۔ کسی ایک جگہ۔۔۔ جا کے وہ۔۔۔ ایکدم غاٸب ہو گٸ۔۔۔۔۔
بالاج حیران ہوتا انہیں دیکھنے لگا۔۔۔
دوبارہ دیکھی۔۔ بار بار دیکھی۔۔۔ لیکن لیلیٰ کہاں گٸ ۔۔ کچھ سمجھ نہیں آیا۔
یہ۔۔۔۔۔ سب ۔۔۔۔ کیا ہے؟؟؟؟
غصہ ضبط کرتا۔۔ وہ انکی طرف مڑا۔
یہی۔۔۔۔ تو ہمیں بھی نہیں سمجھ آٸی سر۔۔۔۔۔۔ ورنہ ہم چپ ہونے والوں میں سے نہیں ہیں۔
علی نے اب کی بار کانفیڈینس سے جواب دیا۔
یہ ایڈیٹ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
سر آپ چیک کروالیں۔۔۔۔۔ اگر آپ کو ہم پے یقین نہیں ہے تو۔۔۔۔۔؟؟
علی نے فوراً بات کو اچکا۔
بالاج واقعی حیران تھا۔ کہ یہ سب ہو کیا رہا ہے۔۔۔؟
ٹھیک ہے۔۔۔ آپ لوگ جا سکتے ہیں۔۔۔
لیکن جب بھی آپ کو بلایا جاۓ آپ کو پولیس اسٹیشن آنا ہو گا۔
بالاج نے انہیں جانے کو بولا۔ وہ ایک دوسرے کو دیکھتے باہر نکلے۔
لیکن ثمرہ وہیں کھڑی رہی۔
بالاج نے اسے اگنور کر دیا۔ اور ازمیر کو بلایا۔
ازمیراس ویڈیو کو چیک کرواٶ۔ کہ یہ فیک تو نہیں۔۔۔۔۔؟
اور اسکے بعد مجھے رپورٹ کرو۔ آگے کا لاٸحہ عمل اس کے بعد طے کریں گے۔
ازمیر موباٸیل لے کے باہر نکلا۔
بالاج۔۔۔۔۔۔۔؟
ثمرہ نے دھیرے سے پکارا۔
مس ثمرہ آپ بھی جا سکتی ہیں۔
روکھے انداز میں بنا اسکی طرف دیکھے کہا۔ا ور فاٸیل چیک کرنے لگا۔
ثمرہ کی آنکھیں نم ہونے لگیں۔
مجھے۔۔۔ آپ سے۔۔۔۔۔۔ کچھ ۔۔۔بات۔۔۔۔۔۔
سنا نہیں آپ نے۔۔۔۔۔۔؟ بالاج کو غصہ آگیا۔ اور آواز بھی اونچی ہو گٸ۔۔۔ ثمرہ سہم گٸ۔
جسٹ گو۔۔۔۔۔ آنکھوں میں ڈھیروں غصہ تھا۔
اور یہ پہلی بار ہو رہا تھا۔
آج تک بالاج نے کبھی بھی اونچی آواز میں بات نہ کی تھی۔۔۔ کجا کہ غصہ کرتا۔
ثمرہ الٹے قدموں پیچھے مڑی اور روتی ہوٸی باہر نکلتی چلی گٸ۔
بالاج کو ابھی بھی غصہ تھا۔
بھلے اس کے آنسو اسے تکلیف دے رہے تھے۔۔
لیکن ثمرہ کا جھوٹ بولنا۔۔۔۔ بالاج معاف نہیں کر پا رہا تھا۔




تم۔۔۔۔یہ سب۔۔۔۔۔۔ اتنے۔۔۔۔ وثوق سے کیسے کہہ سکتی ہو؟؟؟
ارمان کو ابھی بھی اپنے کانوں پر یقین نہ آرہا تھا۔
کیونکہ۔۔۔۔ میں جانتی ہوں۔۔۔۔۔
بہت سادہ الفاظ میں پر سکون انداز میں کہا۔
میں نہیں مانتا۔۔۔۔۔۔۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔
ارمان گردن نفی میں ہلاتا۔۔۔ پیچھے ہوا۔
آپ کے ماننے یا نہ ماننے سے حقیقت بدل نہیں جاۓ گی۔
فجر پر سکون انداز میں اٹھی۔
بیگ اٹھایا۔ اور باہر کی طرف قدم بڑھاۓ۔
ارمان اپنے خیالوں اور سوچوں سے ہی باہر نہیں آرہا تھا۔
اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا۔۔ کہ ایمن اسے چھوڑ گٸ ہے۔۔۔۔
اسکی اکلوتی بہن ۔۔۔۔۔ اسکے جینے کی وجہ۔۔۔۔
نا چاہتے ہوۓ ھی آنکھوں میں آنسوبہنے لگے۔ ۔۔
وہ مضبوط شخص رو رہا تھا۔۔۔
دل تھا کہ ماننے کو تیار نہ تھا۔
گاڑی کی کیز اٹھاٸیں۔ والٹ اور موباٸیل اٹھایا۔۔
چیٸر پے ہینگ ہوا کوٹ اٹھا کے اپنے بازو پے رکھتا وہ آفس سے باہر نکل آیا۔ اور گاڑی سڑک پر ڈال دی۔




ثمرہ خود پر ضبط کرتے اپنے آفس میں آٸی۔ ماریہ اور علی بھی ساتھ تھے۔
ثمرہ۔۔۔۔ تم گھر چلی جاٶ۔۔۔ پہلے ہی تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں۔۔۔۔ مزید سٹریس لو گی تو اور بیمار پڑ جاٶ گی۔
ماریہ نے ہمدردی سے کہا۔
نہیں۔۔۔۔۔ آٸی ایم فاٸن۔۔۔۔!!
مجھے آج کا شیڈیول چیک کرواٶ۔۔
ثمرہ نے خود پر قابو پالیا۔
ثمرہ ۔۔۔تمہیں گھر جانا چاہیۓ۔۔۔ میں دیکھ لوں گا سب۔
علی نے بھی تاٸید کی۔
تم دونوں۔۔۔ مجھے کمزور کر رہے ہو۔۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔۔۔ ثمرہ نے بے بسی سے کہا
نہیں ۔۔ ہم ایک ٹیم ہیں۔۔۔۔ اور اس وقت تمہیں آرام کی ضرورت ہے۔۔۔ حالت دیکھو اپنی۔۔۔۔ صدیوں کی بیمارلگ رہی ہو۔
ماریہ نے اسکے پثرمردہ حالت دیکھتے کڑھتے کہا۔
تھوڑا کام کر لیتے ہیں۔۔۔ پھر چلی جاٶں گی۔
ثمرہ نے ہار مانتے کہا۔ تو وہ بھی خاموشی سے آج کے دن کی ڈیٹیلز چیک کرنے لگے۔




نماز سے فارغ ہو کے وہ باہر آٸی۔
اس وقت فجر اس آنٹی کے گھر تھی۔۔جسکی بیٹی۔۔۔۔ ٢ ہفتے سے غاٸب تھی۔۔
اور کوٸی سراغ نہ مل رہا تھا۔
بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ نے کہا۔۔۔۔۔ سلمہ کی استعمال شدہ کوٸی بھی چیز آپ کودوں۔۔۔۔۔
یہ۔۔۔۔۔۔۔ اسکے کپڑے ہیں…
آپ پتہ کرکے بتاٸیں بناں۔۔۔ وہ کہاں ہے۔۔۔۔ ؟؟؟
اسکی ماں اور بڑی بہن رو رہی تھیں۔
فجر نے اسکی ما ں کے ہاتھ سے سلمہ کی شرٹ لی۔ اور تین کینڈلز منگواٸیں۔
اکیلے روم میں وہ بیٹھی شرٹ ہاتھ میں پکڑے کچھ پڑھ رہی تھی۔
آنٹی۔۔۔۔ آپ موم بتی جلاٸیں۔۔۔۔ تینوں۔۔۔۔۔!!
فجر نے اچانک کہا۔ اور آنٹی نے موم بتیاں جلا دیں۔
رم میں ان کے علاوہ اور کوٸی نہ تھا ۔۔۔
صرف موم بتیوں کی روشنی تھی۔
فجر نے پھر سے پڑھاٸی شروع کی۔
آنکھیں بند کیے وہ سلمہ کو ڈھوڈ رہی تھی اور من کی آواز سے اسے پکا ر رہی تھی۔
کہ ایکدم اسے ایک اندھیر کال کوٹھری۔۔۔۔۔ نظر آٸی۔ فجر آگے بڑھی
پلیز ۔۔۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے۔۔۔۔ مجھے یہاں سے نکالو۔۔۔۔۔۔۔
فجر آگے بڑھی۔۔ دروازے پے وقت لکھا ہوا تھا۔۔۔۔۔
جو آہیستہ آہیستہ کم ہو رہا تھا۔
فجر کو اسکی سمجھ نہ آٸی ایسا کیوں ہے۔۔۔؟
وہ آگے بڑھی۔لیکن دروازہ نہ کھلا۔۔۔۔ اندر سے آواز آرہی تھی۔
امی ۔۔۔۔۔۔ جی۔۔۔۔ پلیز آجاٶ۔۔۔ مجھے لے جاٶ۔۔۔۔!!
کون ہے اندر۔۔۔۔؟
میری آواز آرہی ہے۔۔۔۔۔۔؟ بتاٶ مجھے؟؟؟؟؟
فجر نے اسے مخاطب کیا۔ لیکن وہ جواب نہ دے رہی تھی۔بس روۓ جا رہی تھی۔
اے اللہ مجھے بچا لے۔۔۔۔۔۔ اپنے حبیب کے صدقے ۔۔۔۔۔
۔مجے بچا لے۔۔۔۔
فجر کی نظر اس پے پڑی وہ چھوٹی سی لڑکی تھی۔۔۔
وہی۔۔۔۔ سلمہ۔۔۔
فجر کا دل زور سے دھڑکا
۔یعنی۔۔۔۔ میں دوسری دنیا میں ہوں۔۔۔۔۔؟؟؟
وہ مجھے نظر آرہی ہے۔۔۔۔
سلمہ۔۔۔۔۔ سلمہ۔۔۔۔ میری بات سنو۔۔۔۔ میری طرف دیکھو۔۔۔۔
فجر نے اسے باہر ایک چھوٹے سے سوراخ میں دیکھتے کہا۔۔۔۔
لیکن اس نے نہ سنا۔۔۔۔
یہ۔۔۔میری آواز کیوں نہیں سن رہی۔۔۔۔؟
وہ نہیں سنے گی۔۔۔۔
فجر کو اپنے پہلو سے آواز آٸی۔
پلٹ کر دیکھا۔۔ وہ کوٸی چھوٹی سی لڑکی تھی۔
ہاتھ باندھے وہ سر جھکاۓ مودب انداز میں کھڑی تھی۔
جس کا لباس کالے رنگ کا تھا۔
سر پر لیا دوپٹہ چہرے کو بھی ڈھانپے ہوۓ تھا۔
لیکن اس کے ہاتھ دیکھ کے فجر کو اندازہ لگانے میں دیر نہ لگی۔۔کہ وہ اسکی دنیا کی نہیں ہے۔۔۔
کو۔۔۔۔ن۔۔۔ ہو تم۔۔۔۔۔؟
سنبھل کے پوچھا۔
اس نے۔۔۔ عجیب سی غراہٹ کی۔
پہرے دار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم ۔۔۔۔جو کوٸی بھی ۔۔۔۔۔ہو ؟
مجھے کوٸ مطلب نہیں۔۔۔۔
میں اسے لینے آٸی ہوں۔
تم کیا ۔۔۔۔ اسے کوٸی بھی نہیں لے جا سکتا۔۔۔۔۔
وہ لڑکی غصے میں آگٸ۔
اور۔۔۔۔۔۔میں نے کہا ۔۔۔۔میں لے کے جاٶں گی۔۔
فجر کو بھی غصہ آیا۔
اس لڑکی نے ۔۔۔ ہوا کا ایک بگولا بنایا اور فجر کی طرف اچھالا۔
فجر دور جا گری۔ اندھیرے میں اور ہوا کے دباٶ کی وجہ سے اسے کچھ نظر نہ آرہا تھا۔
اس لڑکی کے قہقہے کی آوازیں آنے لگیں۔
اور دوبارہ اس نے ہوا کا بگولا فجر کی طرف اچھالا۔
لیکن اب کی بار فجر نے ہاتھ آگے کر کے اسے روکا۔
اس لڑکی نے پورا زور لگایا۔ فجر سے مقابلہ کرنا مشکل ہو رہا تھا۔
کہ۔۔۔ ایک دم سب کچھ تھما۔ جیسے وقت رک گیا ہو۔ شاہ بابا آتے دکھاٸی دیۓ۔
شاہ بابا۔۔۔ فجر کے لب تھرتھراۓ۔
فجر۔۔۔۔ واپس لوٹ جاٶ۔
انہوں نے گرجدار آواز میں کہا۔
فجر حیرانی سے شاہ بابا کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔
لیکن۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔ اندر۔۔۔۔۔۔۔
فجر۔۔۔ اپنی دنیا واپس لوٹ جاٶ۔ ۔۔۔۔
تم نے یہاں آکر بہت بڑی غلطی کی ہے۔۔۔ یہ اسکی دنیا ہے۔۔۔ اور تمنے اسکی دنیا میں آکر۔۔۔ اسے للکا را ہے۔۔۔۔ بہت غلط کیا ہے۔۔۔۔
شاہ بابا ناراض لگے۔
پلیز شاہ بابا میری مدد کریں۔۔۔ وہ اندر ۔۔۔۔ وہ بچی۔۔۔۔۔
فجر نے آنسو ضبط کرتے کہنا چاہا۔
بھول جاٶ۔۔۔۔
اور لوٹ جاٶ فجر۔۔۔
تم یہاں اس سے نہیں جیت سکتی۔۔۔
یہ کالی دنیا ہے۔۔۔
یہاں سے جاٶ۔۔۔ اپنی دنیا میں۔
اور ۔۔۔۔ اب جو یہاں آکر غلطی کی ہے ۔۔۔ اسکا خمیازہ بھگتو۔۔۔۔۔
وہ بدلہ لینے آۓ گی۔۔۔۔
شاہ بابا اسکے کان کے قریب آٸے۔
تمہارے کسی اپنے کی جان کو خطرہ ہے۔۔۔ اپنےگھر لوٹ جاٶ۔۔۔۔۔۔۔
شاہ بابا نے اسے وارن کیا۔
تو وہ جی جان سے لرز گٸ۔
شاہ بابا واپس مڑ گۓ۔
وقت جو تھما وہ پھر سے آگے بڑھا۔ فجر نے واپسی کا ارادہ کیا۔ اور پڑھاٸی شروع کی۔
ایک جھٹکے سے وہ اپنی دنیا میں واپس لوٹی۔
اسکی حالت ایسی تھی۔جیسے بہت لمبا سفر کر کے آٸی ہو۔
بیٹا۔۔۔۔ تم۔۔۔۔ ٹھیک۔۔۔ ہو؟؟
اس آنٹی نے گبھراے ہوۓ پوچھا۔
آنٹی مجھے۔۔۔ ابھی جانا ہو گا۔۔۔
فجر نے اٹھتے ہوٸے کہا۔
بیٹا۔۔۔ سلمہ۔۔۔۔۔۔
آنٹی۔۔۔ اللہ نے چاہا تو۔۔۔ سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔۔۔
ابھی مجھے جا نا ہوگا۔۔۔ کسی کی زندگی کا سوال ہے۔۔۔
فجر نے سمجھایا۔ آنٹی نے ٹوٹے دل سے اثبات میں سر ہلایا۔
فجر باہر کی طرف بڑھی۔
کہ پھر سے پلٹی۔
آنٹی میرے لیے دعا کرنا۔۔۔۔
فجر باہر نکل گٸ۔
بیٹا۔۔۔ اللہ تمہارا مدد گار ہو۔
آمین
