Khoni Jhula by Muntaha Chohan NovelR50513 Khoni Jhula ( Last Episode) Part 1
Rate this Novel
Khoni Jhula ( Last Episode) Part 1
Khoni Jhula by Muntaha Chohan
اس لڑکی نے ثمرہ کی چادر کا کونہ پکڑا تو ثمرہ نے چینخ ماری اور اپنی چادر کھینچی۔
اللہ اللہ ۔۔۔ ان سب کیسے بچیں۔۔۔۔؟؟
ثمرہ خود کو بالاج کے ساتھ کور کر رہی تھی۔
ثمرہ! ایک جگہ کھڑہ ہو۔۔۔!!
بالاج زچ آیا۔
چنٹو کے پاپا۔۔۔۔!! آپ دکھ نہیں رہے۔۔۔!! کیسے وہ حملہ کر رہی ہیں۔۔۔۔!! اوپر سے۔۔۔ آپ۔۔ ڈانٹ رہے ہیں۔۔۔!!
بالاج کے سامنے کھڑے وہ منہ بنا کے بولی۔
بالاج نے ماتھے پے ہاتھ مارا۔
اس بدنما لڑکی نے بالاج پے پیچھے سے حملہ کیا۔
ثمرہ دیکھ رہی تھی۔
فوراً سے بالاج کواپنی اور کھینچا۔ اور اس بدنما لڑکی کو زور سے دھکا دیا۔
دور رہو۔۔۔ میرے شوہر سے۔۔۔۔!! بدنما چڑیل۔۔۔۔۔!!
اور۔۔۔ چڑیل ہو گی تم اپنے گھر۔۔۔۔۔!!
خبردار۔۔۔۔!! جو۔۔ چنٹو کے پاپا کو ہاتھ بھی لگایا۔۔
ہاتھ توڑ دوں گی۔۔
انگلی اٹھا کے وہ انہیں وارن کر رہی تھی۔
او ر بالاج کو لگا۔۔۔ ماں بننے کی خوسش اسکے ماغ پے اثر کر گٸ ہے۔۔۔ جو اسطرح اول فول بولے جا رہی ہے۔
آپ۔۔۔ ان سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔۔!!
کہیں سے اطالوس کی آواز آٸی۔
ثمرہ اور بالاج نے آواز کی گونج سنی۔
یہ نمونہ پھر سے آگیا۔۔۔۔۔!!
ثمرہ اونچی آواز میں بڑٰڑاٸی۔
اگر آپ نے میری بے عزتیکی تو میں چلاجاٶں گا۔۔۔ پھر خود نمٹتے رہنا ۔۔ ان چڑیلوں سے۔۔۔۔!!
اطالوس کی ناراض آواز آٸی۔
اطالوس۔۔! ہماری مدد کرو۔۔۔!!
بالاج اونچی آواز میں ثمرہ کو گھورتے ہوٸے بولا۔
میں قید ہوچکا ہوں۔۔۔!! نہیں آسکتا۔۔۔ مدد کے لیے۔۔۔!!
آپ کے پاس۔۔۔ جو۔۔ ارمان کا دیا ہوا ہتھیار ہے۔ وہ انکے سر پے ماریں۔
اطالوس نے انکی مدد کرنی چاہی۔
بالاج نے فوراً بیگ میں سے کلہاڑی نکالی۔ ۔اور اس سے ان پر وار کرنے لگا۔ لیکن وہ صرف زخمی ہو رہی تھیں۔ ہار نہیں مان رہی تھیں۔
بالاج ۔۔۔۔؟؟ اب کیا ہوگا۔۔۔؟؟ ثمرہ کو حقیقتاً اب ڈر لگنے لگا۔۔۔
دعا کرو۔۔۔ ارمان اور فجر ٹھیک ہوں۔۔۔ انہوں نے۔۔ اس جنات کی ملکہ کا خاتمہ کر دیا تو ۔۔ یہ خود بخود ختم ہو جاٸیں گیں۔۔۔۔۔!
بالاج نے ٹہرے ہوۓ لجے میں کہا۔
ثمرہ نے دل سےآمین کہا۔












فجر زخمی حالت میں تھی۔ لیکن اسے کتاب کھولنی تھی۔ ارمان اس جنات کی ملکہ کو باتوں میں الجھانے لگا۔
ٹھہرو۔۔۔۔! ارمان نے اونچی آواز میں تو وہ جنات کی ملکہ جو وار کرنے والی تھی۔ ایک لمحے کو رکی۔
ہم یہاں۔۔۔ تم سے لڑنے نہیں۔۔۔ آۓ۔۔ !!
بلکہ۔۔۔۔!! تم سے یہ۔۔۔۔ کہنے آۓ ہیں۔۔۔ کہ۔۔ آج سے۔۔۔۔ تمہارے اور ہمارے درمیان کی جنگ ختم۔۔۔!!
بہت ہوگیا۔۔۔۔۔!! جانوں کا نقصان۔۔۔ اب بس۔۔۔۔!!
ارمان اسے باتوں میں الجھا رہا تھا۔اور فجر نے فوراً سے بیگ اتارا۔ اور اس میں کتاب نکالنے لگی۔
کیا مطلب ہے۔۔۔۔؟؟ تم۔۔۔ اور۔۔۔ پیچھے ہٹ جاٶ۔۔۔۔؟؟ ہاہاہاہاہہا۔۔۔۔۔۔میں ۔۔۔۔۔ جنات کی ملکہ۔۔۔۔۔!! مان جاٶں۔۔۔گی ۔۔۔؟؟ جو تم کہو گے۔۔۔۔؟؟ میں۔۔۔ بے وقوف ہوں۔۔۔؟؟
وہ ان کا مذاق اڑا رہی تھی۔
ہاں۔۔۔ !! ہار مانتا ہوں۔۔۔ !! کیوں کہ۔۔۔ تم۔۔۔۔ طاقت ور ہو۔۔۔۔!! اور۔۔۔ ہم۔۔۔ !!! تھوڑا توقف کیا۔۔
تم۔۔۔ سے ہار مانتے ہیں۔۔۔!!
ارمان کالہجہ روندھا ہوا تھا۔ اور سر جھکا تھا۔
فلزا کوبہت سکون ملاارمان کی بات پے۔۔۔
پھر۔۔۔ تو۔۔ تم دونوں۔۔۔ میری قید میں رہنے کے لیے تیار ہوجاٶ۔۔۔۔!!
اس کالی دنیا۔۔۔ میں ہمیشہ کے لیے۔۔۔ قید۔۔۔۔!!
ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔!!
فجر کتاب کھول چکی تھی۔
اور جو منظر ظاہر ہوا تھا۔ اس سے فجر کا دل بہت زوروں سے دھڑکا تھا۔
آنکھوں سے آنسو رواں ہو گٸے۔
وہ زخمی تھی۔ وہ اب خود کو دوبارہ مقابلے کے لیے تیار کرنے لگی۔
وہ جنات کی ملکہ قہقہے لگاتے ہنسنے لگی۔
فجر لڑکھڑاتی ہوٸی دو زانوں بیٹھے ارمان کے پاس پہنچی۔
تیار ہوجاٶ۔۔۔۔ انسان۔۔۔۔۔۔!!
ایک کمزور۔۔۔۔۔انسان۔۔۔۔!!اب اس کالی دنیا کی کال کوٹھری میں جانے کے لیے۔۔۔۔۔!! وہی۔۔۔ تمہاری جگہ۔۔۔ ہے۔۔۔۔!!
کہتے ہی اس فلزا نے اپنی جادٶٸی چھڑی انکی طرف گھماٸی۔
اتنی دیر میں فجر ارمان کو وہ منظر کا کچھ حصہ بتا چکی تھی۔
ایک منٹ۔۔۔۔۔!! ارمان نے اب کی بار سرد آواز میں أسے للکارا۔
تو اسکا ہاتھ تھما۔
اللہ اکبر۔۔۔۔۔۔!!
ارمان اللہ کا نام لیتا اٹھ کھڑا ہوا۔
تم ہو شیطان۔۔۔۔۔ جنات۔۔۔۔ کی ملکہ۔۔۔۔۔!!
تو۔۔۔ میں ہوں۔۔انسان۔۔۔۔!! کمزور۔۔انسان۔۔۔۔؟؟
بات ۔۔۔۔کچھ۔۔۔۔ جمی۔۔ نہیں۔۔۔۔!!
ارمان نے تمسخر اڑایا۔
وہ جنات کی ملکہ ٹھٹھکی۔
تمہیں۔۔۔ کیا لگتا ہے۔۔۔۔؟؟ یہ۔۔۔ایک عام انسان۔۔۔۔ تم سے۔۔۔ تم۔۔۔۔ شیطان سے۔۔۔ ہار جاۓ گا۔۔۔۔؟؟
اللہ نے ۔۔تمہیں۔۔۔ بنایا۔۔۔ آگ سے۔۔۔۔!! شیطان۔۔ ہو۔۔تم۔۔۔!!
اور۔۔۔ میں۔۔۔ انسان۔۔۔۔ اللہ نے مجھے بنایا ہے۔۔۔۔ !!مٹی سے۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔ درجہ۔۔۔ سب سے افضل۔۔۔۔ اشرف الخلوقات۔۔۔!! تمام۔۔۔ مخلوق سے افضل۔۔۔۔!!
پھر۔۔۔ اللہ کیسے۔۔۔ ہمیں اکیلا چھوڑے گا۔۔۔۔؟؟؟
یہ نہیں سوچا۔۔۔۔؟؟
ارمان نے اسے کمتری کا احساس دلایا۔۔۔؟؟
چپ۔۔۔۔۔!! تو۔۔ انسان۔۔۔ ہے۔۔۔!!! ایک عام اورکمزور انسان۔۔۔!! ایک لمحے میں۔۔۔ تمہیں۔۔۔ مٹا دوں گی۔
یہ کہتےہی اس نے وار کیا۔
ارمان نے ایک ساٸیڈ پے ہوتے اس کے وار سے بچنا چاہا۔
لیکن وہ اس لمحے میں ہی اپنا کندھےپے چوٹ کھا بیٹھا۔
جنات کی ملکہ نے گھوم کے غصے سے پھر سےوار کرنا چاہا۔۔
لیکن ارمان اسے نظر نہ آیا۔
اسنے ادھر ادھر پاگلوں کی طرح دیکھا۔ لیکن اسے کہیں بھی ارمان نظر نہ آیا۔
پر اسکی نظر فجر پے پڑی۔
آگے بڑھ کے اس نے فجر پے اٹیک کرنا چاہا۔
لیکن فجر نے اپنے ہاتھ سے اسکا وار روکا۔
اور وہ پلٹ کے اسی کو لگا۔
جس پے وہ اور زیادہ پاگل ہوگٸ۔
آگے بڑھ کے پھر سے وار کیا۔ کہ اسی لمحے میں ارمان نے اسکی جادٶٸی چھڑی کو تھام لیا۔
اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتی۔۔ ارمان نے اسکی چھڑی کو زور سے کھینچا۔
وہ اسکے ہاتھ میں آتےآتے رہ گٸ۔
اس جنات کی ملکہ نے فوراً ہوش میں آتے چھڑی پے گرفت مضبوط کی اور چھڑی کو اپنی اور کھینچا۔
دونوں مکمل زور لگا رہے تھے۔
کہ۔۔۔ وہ چھڑی ٹوٹ کے دو حصوں میں بٹ گٸ۔ ایک حصہ جنات کی ملکہ کے پاس آگیا۔
جبکہ اسکا دوسرا حصہ ارمان کے ہاتھ میں رہ گیا۔
میری۔۔۔۔ چھڑی۔۔۔۔۔؟؟؟
ملکہ کا غصہ سے برا حال ہوگیا۔
اس سے پہلے کہ وہ آگے بڑھ کے ارمان سے چھڑی لیتی۔
ارمان نے وہ چھڑی مزید توڑ دی۔
نہیییییییییں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
جنات کی ملکہ چینخ مارتی آگے بڑھی۔لیکن۔۔ آدھے راستے پے ہی وہ۔۔ جھٹکا کھا کے پیچھے کو دھکیلی گٸ۔۔
اسکے اندر سے کالا دھواں سانکلتا چلا گیا۔ اور وہ۔۔ وہاں سے غاٸب ہوگٸ۔
ارمان نے اردگرد دیکھا۔ لیک وہ نہ تھی۔
فجر اسکے پاس آٸی۔
ارمان ۔۔۔۔ وہ۔۔۔ ابھی۔۔۔ زندہ ہے۔۔۔ مری نہیں۔۔۔۔!!
ہممممم!! جانتا ہوں۔۔۔!! ارمان مکمل چوکنا تھا۔
ہمیں۔۔۔ جلد از جلد۔۔۔ اس لڑکی سلمیٰ کو ڈھونڈنا ہوگا۔۔۔!!
فجر نے کہا تو ارمان نے سر اٹبات میں ہلایا۔
دونں آگے پیچھے۔۔وہاں سے نکلے۔۔۔ اور۔۔فجر کے لاکٹ کی روشنی میں آگے بڑھتے چلے گٸے۔
بہت دور جا کے فجر کق احساس ہوا وہ غلط راستہ ہے۔۔۔!! وہ وہیں تھم گٸ۔
کیا۔۔۔ہوا۔۔؟؟ ارمان نے اسکی طرف دیکھا۔
شاید۔۔۔۔ ہم۔۔۔ غلط۔۔۔۔ غلط راستے پے۔۔۔۔۔!!
ارمان نے داٸیں باٸیں دیکھا۔
تمہیں۔۔۔۔ یاد نہیں۔۔۔؟؟ وہ کونسیی جگہ۔۔۔۔تھی۔۔۔؟؟؟
ارمان نے اسے یاد کروانا چاہا۔
وہاں۔۔۔ ایک۔۔جھونپڑی تھی۔۔۔۔!! اور ۔۔۔اسکے باہر۔۔۔ ایک ۔۔۔پہرے دار ۔۔۔۔ لڑکی۔۔!!
اور اس جھونپڑی میں ہی۔۔۔ وہ سلمیٰ قید تھی۔۔
اب ۔۔۔کیسے پے چلے گا۔۔۔۔؟؟؟
ارمان کو بھی پریشانی ہوٸی۔
ان کے پاس وقت بہت کم تھا۔ انہوں نے وہاں سے نکلنا تھا۔۔
فجر۔۔۔ یاد کرنے کی کوشش کرو۔۔۔!!
ارمان نے ارد گرد سنبھل کے دیکھتے فجر کو کہا۔
فجر نے آنکھیں بند کیں۔ اور وہ سارے لمحات پھر سے یاد کیے۔
اور ان لنحات کو دوبارہ دماغ میں دہراتے اسکی آنکھیں کھلیں۔ ایک سنہری رشنی نکلی۔ اسکا رخ باٸیں جانب تھا۔
فجر نے ہاتھ اٹھا کے اس جانب اشارہ کیا۔
تو دونوں ایک ساتھ اس جانب بڑھے۔
اور آگے بڑھتے چلے گٸے۔
کہ انہیں دور ہی ایک جھونپڑی نظر آگٸ۔
دونوں ہی کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔
فاٸنلی۔۔۔ وہ ۔۔۔ ایک لڑکی کو بچالیں گے۔۔۔!!
ان کے دل نے بہت سکون سا محسوس کیا۔
اور فوراً آگے بڑھے۔
کہ کسی کے غرانے کی آواز پے دونوں کے قدم تھمے۔









یہ۔۔۔۔۔ یہ۔۔۔ساری۔۔۔۔چڑیلیں۔۔۔ کہاں۔۔۔؟؟ گٸیں۔۔۔؟؟
ایک دم سے ساری بدنما لڑکیاں غاٸب ہوگٸیں۔
پورے پارک میں ایک غیر معمولی خاموشی کا راج تھا۔
بالاج نے موباٸیل کے روشنی ساری جگہ لگا ک دیکھا۔
وہ کہیں بھی نہ تھیں۔۔۔ بالاج بھی پریشان ہوگیا۔
یکدم سے آس پاس کے درختوں میں حرکت شروع ہوگٸ۔انکا قد بڑھنےلگا۔
بالاج کو انکا اپنے قریب آنا صاف محسوس ہورہا تھا۔
وہ داٸرے کے اندر نہیں آرہے تھے۔ لیکن ۔۔۔ انکا قد بہت اونچا ہوگیا تھا۔
وہ داٸرے کے اوپر سے وار کرنے والے تھے۔
بالاج کو یہ سب بہت۔۔ عجیب لگ رہا تھا۔
وہ وہاں سے move نہیں کر سکتےتھے۔
صرف انکی جان ہی نہیں۔۔ ارمان اور فجر کی جان بھی انہی پرتھی۔۔۔ !! انہیں داٸرے میں رہتے۔۔ ہی سب کرنا تھا۔۔۔تا کہ وہ واپس آسکیں۔
بالاج کے پاس فجر کی دی ہوٸی انگوٹھی تھی۔
اور وہ اسی وقت کامآسکتی تھی ۔ جب اس میں سے روشنی نکلتی۔
لیکن۔۔۔ اس میں سے پھوٹنے والی روشنی۔۔ اس بات کی علامت ہوتی۔۔ کہ انہیں۔۔ وہں سے نکلنا ہے۔۔۔!!
لیکن۔۔۔ روشنی کے ظاہر ہونے سے پہلے وہ۔۔ کچھ نہیں کر سکتے تھے۔
اتنے میں وہ بڑے بڑے درخت داٸرے کے اوپر سے ان پر حملہ آور ہوٸے۔
اور ان درختوں کی شاخیں ان کے سر پے پہنچ چکی تھیں۔
اللہ جی مدد۔۔۔۔!! بے اختیار ثمرہ کے منہ سے نکلا۔
ایک شاخ نے ثمرہ کے سر پر وار کرنا چاہا۔ تو وہ نیچے جھکی۔
شاخ لہراتیہوٸی دوسری جانب لڑھک گٸ۔
بالاج۔۔۔۔ !! اب کیا ہوگا۔۔۔۔؟؟
وہ بہت سخت گھبرا گٸ تھی۔
بالاج بھی خاموشی سے سب دیکھے جا رہا تھا۔
اور ان کے اگلے وار کے لیے تیار تھا۔۔!!
لیکن اگلا وار۔۔۔ بالاج پے نہیں۔۔۔ ثمرہ پے ہوا۔۔۔ اور شاخ کی نوک ثمرہ کےپیٹ پے لگی۔ وہ تڑپ گٸ۔ اور وہیں نیچے ڈھے گٸ۔
بالاج ہکا بکا وہ گیا۔ فوراً سے ثمرہ کو تھاما۔
ثمر۔۔۔۔!! دل تھا کہایک لمحے میں تڑپا تھا۔
جسے سب ہار گیا اس پل میں ۔۔۔۔
ثمر سے درد برداشت نہ ہو رہا تھا۔۔۔ وہ تڑپ رہی تھی۔
شاخوں نے پھر سے حملہ کرنا چاہا۔
لیکن بالاج نے ثمرہ کو کور کیا۔ اور شاخوں کا وار اپنی کمر پے سہا۔
اسکی کمر پے خون کی ایک لہر نمودار ہوٸی۔
با۔۔۔۔لا۔۔۔۔ج۔۔۔!! آ۔۔۔۔۔پ۔۔۔۔!!
ثمرہ اتنی تکلیف کے باوجود بھی بالاج کے لیے فکرمند ہوٸی۔
میں ٹھیک۔۔۔ ہوں۔۔۔ میری۔۔جان۔۔۔!! میری فکر ۔۔۔ نہ کرو۔۔۔!!
بالاج نے اسے تسلی دی۔
بالاج۔۔۔ ہمارا۔۔۔۔۔ بچچچچ۔۔ہہ!!
ثمرہ کی آنکھوں میں آنسو آگۓ۔
اسکا سر بالاج کی گود میں تھا۔
بالاج کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
کچھ۔۔۔نہیں ہوگا۔۔۔۔!! اللہ پے بھروسہ رکھو۔۔۔!!
آزماٸش ہے۔۔۔۔!! گزر جاۓ گی۔۔۔۔!! بس صبر سے کام۔لو۔۔۔۔!!
بالاج نے اسے اپنے سینے سے لگاتے بہت مضبوط لہجے میں تسلی دی۔۔
ثمرہ نے گہری سانس خارج کرتے آنکھیں موند لیں۔













کون۔۔۔۔؟؟
یہ۔۔۔ وہی۔۔۔ لڑکی ہے۔۔۔۔!! جو۔۔۔ یہاں۔۔ پہرہ دے رہی ہے۔۔۔۔!!
فجر نے ارمان کے کان میں سرگوشی کی۔
ارمان اس بھی دو دو ہاتھ کرنے کےلیے تیار ہوا۔
تم!! اندر کی جانب جانے کا راست تلاش کرو۔۔۔ اسے میں دیکھتا ہوں۔
فجر اثبات میں سر ہلاتی آگے بڑھی۔
کہ وہ لڑکی بالکل فجر کے منہ کے آگے نمودار ہوٸی۔
لوٹ جاٶ۔۔۔۔۔!! کچھ۔۔ نہیں۔۔۔ ملے گا۔۔۔۔!!
اس نے ہاتھ کے اشارے سے آگے آنے سے باز رکھا۔
آج۔۔۔ نہیں۔۔۔۔!! آج تو۔۔۔ اسے لے کے ہی جاٶں گی۔۔۔!!
فجر نے پر عزم انداز میں کہا۔
اور آنکھیں مودن کے دوبارہ آنکھیں کھولیں۔
تو اسکی آنکھوں میں سے سنہری روشنی نکلی۔
جس نے اس پہرے دار لڑکی پے وار کیا۔
اس نے ڑکی نے خو کو بچانا چاہا۔ لیکن نہ بچا پاٸی۔
انکی طاقت آدھی رہ گٸ ہے۔۔۔ اسلیے یہ۔۔ اب۔۔ یہ خود کو نہیں بچا پاٸیں گثیں۔کیونکہ انکی ملکہ کی طاقت کو آدھا جو کر دیا ہے۔۔۔!!
ارمان نے فجر کے پاس آتے کہا۔ تو اس نے بھیتاٸید کی۔ اور دروازہ ڈھونڈنا چاہا۔
ارمان کو دروازہ دیکھ گیا۔ ارمان نے اہنے داٸیں ہاتھ سے دروازہ کو پوری قوت سے دھکیلا۔
اس سے پہلےکہ وہ قدم اندر رکھتے ۔
فلزا پھر سے آن وارد ہوٸی۔ اور ارمان کو پے وار کرتے اسے پرے دھکیلا۔
اور خود دروازے کے سامنے کھڑی غضب اور غصے سے دیکھنے لگی
اسکا آدھا چہرہ مس ہو چکا تھا۔
وہ بہت بری شکل کی لگ رہی تھی۔
فجر نے آگے بڑھ کے وار کیا۔ لیکن اسکا وار خالی گیا۔ وہ خو کا بچاٶ کر چکی تھی۔
اور پلٹ کر اپنے ہاتھ سے شعلہ بنا کے فجر کی طرف پھینکا۔
جو فجر کو بہت زور سے لگا اور فجر دور اچھلتی ہوٸی زمین پے رول ہوتی گری۔
فجججر۔۔۔۔!!
ارمان فجر کی جانب لپکا۔
لیکن ۔۔ اس جنات کی ملکہ نے ایک لاٸن کھینچ کے ارمان کو اس میں قید کر لیا۔ وہ وہیں اس لاٸن پے رک گیا۔
وہ چاہ کے بھی آگے نہیں بڑھ پا رہا تھا۔
کوٸی ان دیکھی طاقت تھی جس نے اس کے قدم روک لیے تھے۔
امان بے بسی سے زمین پے گری فجر کو دیکھ رہا تھا۔
کہاں ۔۔۔ غلطی۔۔ ہوٸی۔۔۔ کہ وہ۔۔۔ جنات کی ملکہ۔۔ ان پے حاوی ہوگٸ۔۔۔۔؟؟؟
فجر نے اٹھنے کی بہت کوشش کی۔ لیکن۔۔ وہ نہیں اٹھ پاٸی۔ دھیرے دھیرے اسکی آنکھیں بند ہونے لگیں۔
وہ حوصلہ ہارنے لگی۔
اسکی آنکھوں کے آگے بیتے لمحے ایک فلم کی طرح چلنے لگے۔
ماں باپ کے ساتھ گذرا بچپن۔۔۔
بہن کے ساتھ بتاٸی چھوٹی چھوٹی مسکراہٹیں۔۔۔۔۔
دماغ سُنہونے لگا تھا۔
کہیں سے ایک پل کے لیے ارمانکا دھندلاچہرہ آنکھوں کے سامنے لہرایا۔
لیکن۔۔ ارمان اسکی پہنچ سے دور ہوتا چلا گیا۔
بالآخر۔۔۔۔ ارمان۔۔۔ بھی۔۔ چھین لیا۔۔۔۔یارب۔۔۔۔؟؟؟
ایک ہی خوشی تھی۔۔۔
ایک ہی۔ امنگ تھی ۔۔۔
اب سے۔۔۔ وہ بھی۔۔۔ نہیں۔۔۔
میں۔۔۔ بھی۔۔۔ نہیں۔۔۔۔
وہ بے ہوش ہوچکی تھی۔
ارمان خود کو بری طرح بے بس پا رہا تھا۔
فلزا کے قہقہے پوری کالی دنیا میں سنے جا سکتے تھے ۔
ایک طرف فجر ۔۔ زندگی موت کی کشمکش میں تھی۔
تو دوسری طرف ثمرہ بری حالت میں تڑپ رہی تھی۔
ایک طرف۔۔ ارمان بے بس تھا۔۔
تو دوسری طرف۔۔ بالاج۔۔۔!
دونوں۔۔۔ کی نظریں اوپر آسمان پے تھیں۔ دونں ہی اللہ سے مدد کی فریاد کررہے تھے۔
جاری ہے
