Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Karzal (Last Episode)

Karzal by Anam Sana

مجھے نہیں پتا تھا کہ یہ تمہاری بہن ہے ورنہ میں اس کے ساتھ ایسا نہیں کرتا ‘‘ وہ ہاتھ جوڑ کر بولا

’’تجھے کسی اور کی بہن کے ساتھ یہ سب کرنے چھوڑو گا ہی نہیں ۔۔۔‘‘ اس نے کہتے ساتھ ہی ایک اور پنچ مارا

جس سے اس کے منہ سے خون کا فوارہ نکل پڑا

’’واہ یسوع واہ خود ناجانے کتنی کی بہنوں کی زندگی برباد کی ہے اس کا کوئی غم نہیں ۔۔لیکن اپنی بہن پر بات آئی تو مردانگی جاگ گئی ۔۔۔‘‘ وہ منہ کا خون صاف کرتے ہوئے بولا

’’بکواس بند کر۔۔۔‘‘وہ بھوکے شیر کی طرح اس کی طرف لپکا لیکن کیف نے اسے پکڑ لیا اور اس سے بولا

’’بتاؤ تم کیا کہنا چاہتے ہو ۔۔‘‘ آغر نے کچھ کہنا چاہا مگر کیف نے اسے خاموشن رہنے کا اشارہ کیا

’’ میں نہیں جانتا کہ تم سب لوگ اس کا نام آغر کیوں لے رہے ہو ۔۔اس کا نام یسوع ہے ۔۔۔۔اور یہ انڈر ورلڈ کے بے تاج بادشاہ پاشا کا لیفٹ ہینڈ ہے ۔۔۔یہ لوگ لڑکیاں دوسرے ممالک میں اسمگل کرتے ہیں اور اس کے علاوہ یونیورسٹی میں جو درگز اسمگل ہوتی ہیں وہ بھی یہی لوگ کرتے ہیں ۔۔ان کا ایک اور ساتھی بھی تھا جبال وہ بھی یہی کام کرتا تھا ۔۔۔لیکن اس کو کسی نے قتل کر دیا ۔۔۔میرا کام تو بس لڑکیا ں اُٹھانا اور انہیں بیچنے کا تھا اس دن بھی اس لڑکی کو بیچنے کے لیے اُٹھایا تھا لیکن راستے میں ہماری نیت خراب ہو گئی۔۔۔اور پھر اپنی حواس مٹانے کے بعد ہم اسے ہسپتال کے باہر پھینک کر فرار ہو گئے‘‘

’’بکواس بند کر اپنی منا۔۔۔‘‘ آغر چلایا

ان سب انکشافات پر سب ہق دقے رہے

اتنے خوبصورت چہرے کے پیچھے اتنا بھیانک چہرا۔۔۔

انوش آگے بڑھی اور اس کے منہ پر زور دار تھپڑ مارا

’’ مجھے شرم آتی ہے یہ سوچ کر تم میرے بھائی ہو۔۔۔‘‘ وہ افسردہ ہو کر بولی

’’ انوش میری بات سنو۔۔۔‘‘ وہ التجائی انداز سے بولا

’’پلیز چلے جائے یہاں سے میں آپ کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔۔۔‘‘ وہ اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوئے بولی

’’ تم نے ایسا کیوں کیا ۔۔۔‘‘ وہ ناجانے کب آئے تھے۔۔۔

’’بابا میری بات سنے ۔۔۔‘‘ وہ ان کی طرف بڑھا

’’خبردار جو تم پاس آئے ۔۔۔مجھے گھن آرہی ہے کہ تم میرے بیٹے ہو۔۔۔‘‘ وہ ہاتھ سے اشارہ کرتے بولے

’’تم نے ایسا کیوں کیا۔۔۔؟؟‘‘ کیف جو خاموشی سے سب سن رہا تھا ۔۔۔ اپنی خاموشی توڑی

’’ تمہاری وجہ سے۔۔؟؟‘‘

’’میری وجہ سے۔۔۔‘‘ کیف نے حیرت سے پوچھا

’’ہاں تمہاری وجہ سے ۔۔۔تمہاری وجہ سے مجھے سننی پڑتی تھی ۔۔۔تمہارے نمبر مجھ سے اچھے آتے بابا مجھے ڈانٹتے۔۔تمہاری وجہ سے مجھے کہی بار مار پڑی۔۔۔جب بھی کبھی بابا مجھے تم سب لوگوں کے سامنے ذلیل کرتے تو میرا دل کرتا ہے ذلت سے مر جاؤ ۔۔۔تم کبھی سپورٹس میں جیت کر آتے اور میں نہ جیت پاتا تو بابا مجھے اتنا سناتے تھے کہ میرا اندر دوبارہ حوصلہ نہیں ہوتا تھا کہ میں دوبارہ کوشش کرو۔۔ہر بار میرا حوصلہ پست کر دیا جاتا تھا ۔۔ہر بار مجھے کم تر سمجھا جاتا تھا ۔۔کبھی کبھی میرا ادل کرتا تھا کہ میں مر جاؤ ۔۔اپنے ہاتھوں سے اپنے آپ کو مار ڈالوں۔۔۔تمہیں یاد ہے جب سکینڈ سمیسٹر میں تمہاری پوزیشن آئی تھی اور میری دوسری ۔۔۔تب میں اتنا ٹوٹ چکا تھا کہ اس دن گھر نہیں آیا تھا ۔۔اس دن میری ملاقات جبال سے ہوئی۔۔اس دن پہلی مرتبہ میں نے شراب پی تھی۔۔۔اس دن میں نے اس دوزخ میں پاؤں رکھا تھا ۔۔وہ دن اور آج کا دن میں اس دوزخ میں ڈھنستا رہا ۔۔۔مجھے کیا خبر یہ آگ ایک دن میرے چاہنے والے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لی گی ۔۔۔‘‘ وہ رو رہا تھا ۔۔شکوہ کر رہا تھا ۔۔۔

سب اس کی حالت پر رو رہے تھے ۔۔۔

’’بابا۔۔میں نے ہمیشہ آپ کی بات مانی ۔۔آپ کا سر فخر سے بلند کرنا چاہا ۔۔مگر کبھی آپ نے مجھے سینے سے نہیں لگایا ۔۔۔جب بھی میں کبھی کیف کو بڑے ابو کے ساتھ ہنستا دیکھتا تو میرا بھی دل کرتا کہ آپ بھی مجھے ایسے پیار کرے۔۔لیکن۔۔۔!!‘‘ وہ اپنے باپ سے بات کرتے کرتے رو پڑا

’’آپ نے ہر بار مجھے دھتکارا ۔۔۔۔‘‘

’’ مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی ۔۔۔‘‘ عبدالنافیع نے اپنے بھائی سے کہا

’’ میں نے کبھی تجھے ڈگریٹ نہیں کرنا چاہا ۔۔میں نے تجھے ہمیشہ اپنا بھائی سمجھا ۔۔۔‘‘ کیف بولا

ابھی وہ بات کر رہا ہی تھا کہ اس کا فون بجا

کال سنتے ہی اس پر پریشانی کے آثار نظر آنے لگے ۔۔۔

اس نے عجلت میں فون بند کیا اور جلدی سے اپنی روتی ہوئی ماں کے پاس گیا اور بولا

’’اماں بلاو آگیا ہے۔۔۔‘‘

سبین نے اُ سے دیکھا اور پھر اس کا ماتھا چوم کر بولی

’’بے شک بیٹا کفن میں آجانا لیکن ہار کر مت آنا ۔۔۔‘‘

اور یہ بات اس نے کسی حوصلے سے کہی صرف وہی جانتی تھی۔۔۔

اور پھر وہ چلا گیا

باقی سب ہق دق اسے دیکھتے رہے اب پیچھے سب کے سوالوں کا جواب بھی اس نے دینا تھا

****************

مازیہ کو ہلکا ہلکا ہوش آنے لگا اور باقی کا ہوش پاشا نے ٹھنڈا پانی ڈال کر دلادیا

مازیہ بوکھلاگئی

’’میں دیکھنا چاہ رہا تھا کہ اس نقاب کے پیچھے ہے کہ کون مگر حیران ضرور ہوا ہو ں جس چہرے کو دیکھنے کے لیے تڑپ رہا تھا وہ یہ ہو گا ‘‘ وہ بغور اس کو چہرے کو دیکھتا ہوا بولا

’’ تمہاری آنکھیں۔۔۔!!‘‘ وہ اس کی آنکھوں کو چھونے لگا ہی تھا جب ہی مازیہ نے اپنا چہرا موڑ لیا

’’ااپنی حد میں رہو۔۔‘‘ وہ غصے سے بولی

وہ پیچھے ہوا ۔۔

’’کارزل۔۔۔!!‘‘ اس نے پکارا

مازیہ نے حیرت سے اُسے دیکھا

اپنے آپ کو تکتے پا کر پاشا بولا

’’ تم بلکل میری کارزل کی طرح ہو۔۔‘‘ مازیہ اب بھی حیران تھی کہ ا س کو اس کا نام کیسے پتہ اور وہ نام جو صرف اس کا بھائی لیتا تھا

’’بہادر ،خوبصورت ۔۔۔‘‘ وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولا

’’کیا بکواس کر رہے ہو تم ۔۔۔‘‘ وہ پھنکاری اور اپنے آپ کو چھڑوانے کی کوشش کروانے لگی جو رسیوں میں جکڑی تھی

’’ ایک بار تم مجھے کھولو پھر میں تمہیں بتاتی ہوں ۔۔۔‘‘ وہ اس کو دیکھتی ہوئی بولی

’’یہ خوائش بھی پوری کر دیتے ہیں ۔۔!!‘‘ وہ مسکرا کر بولا

اس نے مازیہ کی رسیاں کھول دی

مازیہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی جو اس نے سنا تھا پاشا بلکل بھی ایسا نہیں لگ رہا تھا وہ اس سے رخ موڑ کر کھڑا تھا

مازیہ نے موقعہ دیکھتے ہوئے اس پر حملہ کرنا چاہا لیکن وہ جتنا ایسے غافل سمجھ رہی تھی وہ اتنا تھا نہیں ۔۔۔اس نے نے کایا ہی پلٹ دی

’’یہ چھوٹ صرف تمہیں ہی دی ہے ورنہ اس وقت تمہارے علاوہ یہاں کوئی اور ہوتا تو وہ اپنی آخری سانسیں لے رہا ہوتا۔۔۔‘‘ وہ اسکے کان میں جھک کر بول رہاتھا ۔۔۔مازیہ کے دونوں ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھے

مازیہ اس کی گرفت میں بن پانی مچھلی کی طرح مچل رہی تھی

آخر اس کو ترس آگیا اور اس نے خود ہی اس کو چھوڑ دیا

مازیہ فورا پیچھے ہوئی

’’جس طرح شیخ کو مارا تم نے جبال کو مارا ۔۔۔i am impress‘‘

’’واقعی شیرنی ہو۔۔۔‘‘

وہ تالی مارتا ہوا بولا

’’تمہیں کوئی افسوس نہیں ہے کہ میں نے تمہارے لوگوں کو مارا ہے ۔۔۔‘‘اس نے ابرو اُٹھا کر پوچھا

’’جو گزر چکا ہے اس کا افسوس کیسا ۔۔۔‘‘وہ بھی ابرو کو اُٹھا کر بولا

مازیہ نے تاسف سے سر ہلایا

’’ یہ دیکھو۔۔‘‘وہ اس کو موبائل دکھاتا ہوا بولا

مازیہ نے مارے مروت پکڑ لیا اگلے ہی پل جب اس نے تصویر دیکھی تو اس کی آنکھیں کھولی کی کھولی رہ گئی

کیونکہ تصویر میں موجود لڑکی ہوبہو اس کی طرح لگ رہی تھی

’’یہ۔۔؟؟‘‘ اس نے سوالیہ انداز سے پوچھا

’’میری کارزل، میری بیوی۔۔۔‘‘

بیوی کے نام پر اس نے حیرت سے اسے دیکھا

’’اب کہا ہے ۔۔؟؟‘‘ اس نے پھر پوچھا

’ ’ نہیں ہے اب۔۔۔‘‘وہ لب بھینچ کر بولا

’’مطلب ۔۔۔۔‘‘ اسکو ابھی بھی سمجھ نہیں آئی تھی

’’مار دیا تم پاکستانیوں نے اسے۔۔۔مار دیا ‘‘ وہ اتنی زور سے چیخا کہ وہاں کے درودیوار ہل گئے

’’ صرف میری بیوی کو ہی نہیں میرے بچہ جو ابھی اس دنیا میں بھی نہیں آیا تھا

اس کو بھی مار ڈالا ۔۔۔تم پاکستانیوں نے ۔۔۔۔‘‘ وہ مازیہ کو کندھے سے تھام کر چیخا

***************

’’ پلیز نا جاؤ نا ۔۔۔تمہارا جانا ضروری ہے کیا ۔۔۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ تھام کر بولا

’’عریب کیا ہوگیا ہے آپ کو بچوں کی طرح باتیں کر رہے ہیں ،۔۔۔‘‘ وہ اپنے شوہر کو دیکھ کر ہنس رہی تھی جو اس کے جانے پر اداس تھا

’’میں کیسے رہوں گا ۔۔۔اتنے دن کے لیے ۔۔۔‘‘وہ بچوں کی طرح معصوم صورت بنا کر بولا

’’عریب میں صرف ایک ہفتے کے لیے جا رہی ہوں کون سا ہمیشہ کے ۔۔‘‘باقی کے الفاظ اس نے اپنا ہاتھ رکھ دفن کر دیے

’’کارزل ہزار بار کہا ہے کہ ایسی باتیں مت کیا کرو جس سے مجھے غصہ آئے ۔۔‘‘پہلے والی شوخی غائب تھی

’’سوری۔۔۔۔اب معاف کردواگلی بار ایسی غلطی نہیں گی۔۔۔‘‘وہ کان پکڑ کر بولی

جبکہ عریب اس کے بچوں والی حرکت ہنس دیا

’’خیال رکھنا اپنا بھی اور اس نئے مہمان کا بھی ۔۔۔‘‘وہ مسکرا کر بولا

’’وعدہ۔۔۔‘‘

’’پکا والا۔۔۔!!‘‘

ََ وہ بھی مسکرا دی

اور ٹھیک دو دن بعد خبر آئی کہ وہ ہسپتال میں ہے ۔۔۔وہ سب کچھ چھوڑ کر دبئی سے پاکستان پہنچا

جب وہ اسکے پاس پہنچا تب وہ اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی

عریب کو دیکھتے ہی کارزل نے اپنی آنکھیں ازیت سے بھینچ لی

’’مجھے معاف کر دو میں اپنا وعدہ نبھا نہیں سکی۔۔‘‘وہ اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر بولی

’’ہم آج ہی چلے جائے گے۔۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ تھامتا ہو ا بولا

’’ نہیں ۔۔میں اب تمہارے قابل نہیں رہی۔۔۔نہیں رہی قابل ۔۔۔‘‘وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔۔

’’پلیز ایسی باتیں مت کرو کچھ نہیں ہوا تمہیں۔۔‘‘ وہ نفی میں سر ہلاتا ہوا بولا

i am sorry …so..‘‘ باقی کے الفاظ اس کے منہ ہی رہ گئے اور وہ اس کو روتا چھوڑ کر جا چکی تھی

***********

پاشا کی آنکھیں نم تھی ۔۔۔

’’یہ کہانی ہے میری عریب سے پاشا بننے کی ۔۔۔‘‘

’’اور اس دن میں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کو سکھ سے جینے نہیں دینا جس نے مجھ سے میری کارزل چھین لی ۔۔‘‘

پاشا کے بارے میں جیسا سنا تھا وہ اس کے برعکس تھا ۔۔۔مازیہ کو تو یہی لگا

مگر اگلے پل ہی سر جھٹک دیا

’’ہوا کیا تھا کارزل کے ساتھ ۔۔۔۔‘‘

’’ریپ۔۔‘‘ ایک لفظ جو سب پر بھاری تھا

مازیہ اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی

وہ ابھی انوش والی بات بھولی نہیں تھی اور اب یہ ۔۔۔۔

ابھی وہ کچھ بولتے باہر سے فائر کی آواز آئی ۔۔

پاشا محتاط ہوا ،مازیہ بھی محتاط ہوئی

باہر سے اب ذیادہ آواز آنے لگی تھی ۔۔

پاشا باہر نکلا اس کے سارے آدمی بھی برابر فائر کر رہے تھے سارے علاقے کو فوج نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا

چاروں طرف سے برابر فائر ہو رہے تھے

پاشا مازیہ کو وہی چھوڑ گیا

مازیہ نے جلدی سے وہاں سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی اور کچھ ہی دیر میں اسے وہاں سے باہرجانے کی جگہ ملی

وہ وہاں سے باہر نکل گئی

اور جلد ہی اسے کیف مل گیا ہے ۔۔۔

کیف مازیہ کو دیکھتے ہوئے جلدی سے اس کے پاس آیا

’’تم ٹھیک تو ہو ۔۔۔‘‘ وہ فکر مندی سے بولا

اس نے ہاں میں سر ہلایا

پھر دونوں مل کر مقابلہ کرنے لگے

مازیہ کو کیف کے ساتھ دیکھ پاشا نے غصے سے کئی گولیاں چلا دی تھی

پاشا کے کئی آدمی مارے جاچکے تھے

بازی اس وقت پلٹی جب مازیہ دوبارہ اس کی گرفت میں تھی

’’سب اپنی اپنی گن نیچے کرو ورنہ یہ اپنی جان سے جائے گی۔۔..‘‘ وہ اس کی کنپٹی پر بندوق رکھ کر بولا

مازیہ کو اس کی گرفت میں دیکھ کر کیف پریشان ہوا ۔۔۔اس نے اپنی گن نیچے کی اور باقی سب کو بھی اشارہ کیا ۔۔۔ان سب نے بھی گن نیچے کی

’’پاشا کو قابو کرنا تم لوگوں کی بس کی بات نہیں ہے۔۔۔‘‘ابھی وہ بات کر رہا تھا جب گولی چلنے کی آواز آئی

سب نے گولی کی سمت میں دیکھا وہاں کوئی اور نہیں آغر تھا

تو آغر نے چلائی گولی ۔۔۔۔۔

جیسے ہی اس کی گرفت کمزور ہوئی مازیہ فورا پیچھے ہٹی

پاشا بے یقینی سے آغر کو دیکھا جس نے اس کے اوپر گولی چلائی

مازیہ نے بھی گن اُٹھائی اس کی ساری گولیاں پاشا کے سینے میں اتار دی

اور کچھ ہی پل میں اس کی روح پرواز کر چکی تھی ۔۔۔

’’آغر تم ۔۔۔!!‘‘

’’ہاں میں نے ماری ہے گولی اپنے ہاتھوں سے ۔۔۔شاید اسی سے میری غلطیوں کا کچھ ازلا ہو جائے ‘‘

کیف نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا

اور وہاں سے چل دیے لیکن جاتے جاتے آخری دفعہ پاشا کو

دیکھانا نہیں بھولا کوئی

*************

ایک ہفتے بعد

’’کیسی طبیعت ہے ۔۔۔؟؟‘‘ کیف نے نرمی سے پوچھا

’’ پہلے سے بہتر ۔۔۔‘‘مختصر جواب دیا گیا

وہ اٹھنے لگی جب کیف نے مدد کرنی چاہیے لیکن اس نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا

’’میں اپنی مدد خود کر سکتی ہوں ۔۔۔‘‘ وہ سختی سے بولی

اس نے اٹھنا چاہا مگر بہت کوشش کے باجود وہ اٹھ نہ سکی

آپریشن کے دوران اس کے پاؤں پر چوٹ لگی تھی ۔۔۔

کیف اسے دیکھتا رہا پھر خود ہی آگے بڑھا اور اس کا ہاتھ پکڑ کرکھڑا کیا

’’کہاں جانا ہے ۔۔۔‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا

’’اپنے گھر۔۔۔‘‘‘ وہ آنکھیں جھکا کر بولی

’’اب تو آپ کی زمداری ختم ہو گئی ہے اب آپ مجھے طلا۔۔۔‘‘باقی کے الفاظ اس کے منہ میں ہی رہ گئے ۔۔۔جب کیف نے اس کے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھا

’’بس اب کچھ اور نہیں ۔۔۔بہت کہہ لیا تم نے ۔۔۔اور بہت سن لیا میں نے۔۔۔اب میں بولو گا اور تم سنو گی ۔۔۔‘‘

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا

’’میں اپنے جزبات کو نا محرم پر عیاں کرنے والا بندہ نہیں ہوں۔۔‘‘

’’شادی تم سے کرنی تھی سو کر لی آگر عریش مجھے نہ کہتا تب بھی تم سے ہی شادی کرنی تھی۔۔۔۔‘‘

’’ مجھے نہیں پتا کب کیسے تم سے محبت ہوئے ۔۔تب جب تم نے مجھ پر آٹا گرایا تھا ۔۔۔یا تب جب تم نے مجھے ٹوٹی کرسی پر بیٹھایا تھا۔۔یا تب جب سردی میں ٹھنڈا پانی گرایا تھا ۔۔۔بس محبت ہونی تھی ہو گئی ۔۔۔تم سے ۔۔۔‘‘اس کے ایک ایک لفظ میں سچائی آیاں تھی۔۔۔

’’ساری میری بڑی حرکتیں یاد ہیں ۔۔وہ یاد نہیں جب آپ پر پھول گرائے تھے۔۔۔‘‘

’’ویسے جب بھی تم مجھے ملی ہو کچھ نہ کچھ گرایا ہی ہے۔۔۔‘‘

’’کیف۔۔۔!!‘‘اس نے کمزور احتجاج کرنا چاہا

’’i never knew life could be so perfect until i met you .thank you for always being there for me and showing me how lovw can conquer all things .heres to us on our anniversary ..happy 2nd anniversary of our nikah ‘‘

’’تمہیں یاد تھا ۔۔۔‘‘ وہ حیرت وخوشگوار لہجے میں بولی

’’یہ دن کیسے بھول سکتا ہوں جب تم میری زندگی میں آئی ۔۔۔‘‘ وہ کہہ کر اس کو حصار میں لے چکا تھا

بے پناہ ،بے قدر،بے حد ،بے بس ہو کر

ہم نے تجھے اتنا چاہا کہ حد کر دی

***************

after 4 years

’’لفظوں کی طرح مجھ سے ،کتابوں میں ملا کر

دنیا کا تجھے ڈر ہے،تو خوابوں میں ملا کر

پھولوں سے توخوشبو کا،تعلق ہے ضروری

تو مجھ سے مہک بن کے،گلابوں میں ملا کر

مازیہ ڈریسنگ ٹیبل کے پاس کھڑی اپنے بال سلجا رہی تھی کیف نے اُس کے پاس آ کر شرارت سے کہا

مازیہ نے اُسے گھوری سے نوازا مگر اس پر اثر کہاں ہونا تھا

’’ماما۔۔۔ماما۔۔۔ماما۔۔‘‘اتنے میں تین سال کی حور بھاگتی ہوئی اندر آئی

’’او بابا کی جان ۔۔۔‘‘ کیف اُسے اُٹھا کر بولا

’’بابا گندے ۔۔۔‘‘ وہ اپنی توتلی زبان میں بولی

مازیہ اس کے کہنے پر ہنس پڑی

کیف نے جب اپنے طرف دیکھا تو مٹی سے بھرے کپڑے اور پسینے کی بھی سمیل آرہی تھی ۔۔۔

وہ اس کو چھوڑ کر خود فریش ہونے چلا گیا

اس نے حور کو اٹھایا اور بیڈ پر بٹھایا

اور خود اس کے کپڑے نکلانے لگی

ان چار سالوں میں بہت کچھ بدل چکا تھا آغر کو ملک سے غداری کرنے پر ۵۲ سال کی سزا ملی جبکہ ان کے والد اسی غم میں دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔۔ابیرہ اور سرحان کی رخصتی بھی کیف اور مازیہ کے ساتھ ہی ہو گئی تھی ۔۔۔ان کے بھی ۳ سال کا بیٹا زین تھا۔۔۔جبکہ برہان اور انوش کی رخصتی ابھی کچھ وقت پہلے ہی ہوئی تھی ۔۔۔۔

سبین نے سب کو بتایا کہ کیف فوج میں ہے ۔۔پہلے تو عندالنافیع ناراض ہوئے ۔۔لیکن پھر کب تک ہوتے ۔۔مازیہ اور کیف کے نکاح کا سن کا سب کو دھچکا لگا لیکن پھر سب نے اسے کھلے دل سے قبول کرلیا ۔۔۔

’’کیا ہوا کیا سوچے جا رہی ہو۔۔؟؟‘‘ کیف فریش ہو کر نکلا تھا اس کو سوچوں میں گم دیکھ کر بولا

کیف کی آواز پر وہ واپس دنیا میں آئی

’’ہممم کچھ نہیں ۔۔۔‘‘ وہ کپڑے لے کر آئی اور حور کے کپڑے چینج کیے ہی تھے کہ زین کمرے میں بھاگتا ہوا اندر داخل ہوا

’’کاف۔۔۔کاف ۔۔۔‘‘ اس کو کیف کہنا نہیں آتا تھا اس لیے وہ اسے کاف کہتا تھا

’’ کیا ہوا چیم ۔۔۔‘‘وہ اس کو اُٹھاتا ہوا بولا

’’ ماما۔۔ماماگندی ۔۔۔‘‘وہ بڑے بڑے منہ بنا کر بولا

اتنے میں ہاتھ میں کپڑے اُٹھائے ابیرہ اندر داخل ہوئی

’’تنگ کر دیا اس نے ۔۔۔‘‘وہ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولی

’’یہ زین کو نہیں پسند وہ کپڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا

’’عمر دیکھو اور نخرے دیکھو نواب زادے کے۔۔۔‘‘ وہ اس دیکھتے ہوئے بولی

’’باپ جیسے۔۔۔‘‘ کیف نے لقمہ دیا

’’قسمیں۔۔۔!!‘‘ وہ بولی

اتنے میں سرحان بھی اندر آچکا تھا

’’کسی کی برائیاں ہو رہی ہیں ۔۔۔‘‘

’’تمہاری،۔۔۔‘‘ ابیرہ

ہنس کر بولی

اب متوقع ان کی جنگ عظیم شروع ہونی تھی حالات کے پیش نظر وہ دونوں بچوں کو اٹھائے باہر نکل آئے

باہر آنے پر انہیں برہان اور انوش بھی نظر آگئے

ان کے پاس پہچنے ہر پتا چلا وہ ایک اہم کامِ میں مصروف ہیں

وہ لوگ ان سے دور بیٹھ گئے

’’برہان ایک بات پوچھوں۔۔۔!!‘‘

’’پوچھو ۔۔۔!!

’’شاہ جہاں نے اپنی بیگم کے لیے تاج محل بنوایا تھا ۔۔۔تم میرے لیے کیا کر سکتے ہو۔۔۔‘‘

’’ میں غریب آدمی ہوں تمہاری قبر پکی کروادو گا۔۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولا

جبکہ وہ منہ کھولے اس کو دیکھ رہی تھی

اس کی شکل کو دیکھ کر برہان کا قہقہہ بلند ہوا

اور وہ اس کو منہ چڑاتا وہاں سے بھاگ نکلا۔۔۔اب آگے وہ تھا اور پیچھے انوش

بچے بھی ان کے پاس بھاگ گئے

’’یہ لوگ کبھی نہیں سدھر سکتے ۔،‘‘کیف ہنستا ہوا بولا

’’کیف ایک بات پوچھو ۔۔‘‘

’’اس دن تم نے مجھے ڈانٹا کیوں تھا جس دن میں نے اظہار محبت کیا تھا ‘‘

یہ سوال وہ جو کئی سالوں سے پوچھنا اچاہ رہے تھی پوچھ نہیں پائی

’’اس لیے کہ مرد اپنی محبت کو کسی اور کا ہوتا سوچ کر تڑپ اُٹھتا ہے اور اس دن میرا اس لیے خون کھولا کہ آگر میری جگہ وہاں کوئی اور ہوتا تو ۔۔اس سے آگے میں سوچنا بھی نہیں چاہتا ۔۔۔‘‘

وہ مسکرا کر بولا

جواباََ وہ بھی مسکر دی

’’ویسے بڑی توپ چیز ہو تم بڑی مشکل سے تمہیں منایا تھا میں نے تمہیں ۔۔۔۔‘‘ وہ ہنس کر بولا جبکہ اس نے گھور کر دیکھا

’’بھائی بھائی مجھے اس ڈائن سے بچا لیں ۔۔۔‘‘برہان بھاگتا ہوا

’’کیا میں ڈائن ۔۔۔تم خود کو کیا سمجھتے ہو ۔۔۔‘‘‘ وہ دانت پیس کر بولی

’’ ایک عام انسان ۔۔۔‘‘ وہ مسکرا کر بولا

’’تم سے بات کرنا ہی فضول ہے۔۔۔!!‘‘ وہ منہ بنا کر بولی

’’ہم کسی کو مجبور نہیں کرتے کہ کوئی ہمیں پسند کرے ۔۔۔وہ تو کمبخت ہماری باتیں ہی اتنی لش پش ہیں کہ لوگ کھینچے چلے آتے ہیں ۔۔۔‘‘ وہ ایک ادا سے بولا

’’ واہ بھائی واہ ۔۔۔۔ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا کہ یہاں بھی جنگ عظیم شروع ہے ۔۔۔‘‘ سرحان ،مسکراتے ہوئے بولا

’’تجھے پتا ہے دنیا کے چار مشکل کام کیا ہیں ۔۔۔؟؟‘‘

اس نے دونوں سے پوچھا

کیف نے کندھے اچک دیے۔۔۔جبکہ سرحان نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔

’’ پہلا چیونٹی کو لپ سٹک لگانا

دوسرا ہاتھی کو گود میں اٹھانا

تیسرا مچھر کو کپڑے پہنانا

اور آخری بیوی کو کوئی بات سمجھانا ۔۔۔‘‘

وہ مسکراہٹ دبا کر بولا

کیف پہلے ہی پتا تھا کہ یہ فضول ہی ہنقے گا۔۔

جبکہ باقی ساری منہ کھولے اس کو دیکھنے لگی

’’کیف اب تم بچ کے دکھاؤ مجھ سے۔۔۔۔‘‘ انوش اُٹھتے ہوئے بولی

اس سے پہلے کہ وہ اس کے پاس پہنچتی وہ وہاں سے بھاگ نکلا تھا

سب کا ان کو دیکھ کر قہقہہ گونجا

مازیہ نے سب کو مسکرا کر دیکھا اور یہی دعا کی کہ یہ ہمیشہ ایسے ہی رہے

***********

جب ہم سے کوئی ہماری پیاری چیز ہم سے چھین لی جا ئے تو اس وقت ہمیں صبر کرنا چاہیے ہو سکتا جو چیز ہم سے لے لی جائے اس کے بدلے میں اس سے بہتر کچھ اور مل جائے ۔۔۔اس لیے مشکلات حالات میں صبر سے کام لینا چاہیے کیونکہ اس کے بدلے ہمیں میٹھا پھل ملتا ہے۔۔۔ اوروالدین بھی اپنے بچوں کا موزانہ دوسروں بچوں سے کرنا بند کر دے نہیں تو کہیں بار آغر جیسے لوگ پیدا ہو جاتے ہیں ۔۔

ختم شدہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *