Karzal by Anam Sana NovelR50670 Karzal (Episode 19)
No Download Link
Rate this Novel
Karzal (Episode 19)
Karzal by Anam Sana
’’ابیرہ میری بات سنو۔۔۔‘‘سرحان کمرے میں آتے ہی بولا
ابیرہ جو اپنے کپڑے الماری میں رکھ رہی تھی اس کی آواز پر چونکی
ابیرہ کو ٹھیک ٹھاک دیکھ کر اس کو جھٹکا لگا
’’ کیاہوا ۔۔۔؟؟‘‘ سرحان کو بُت بنا دیکھ کر وہ بولی
’’ تم ٹھیک ہو ۔۔۔؟؟‘‘ وہ اس کے پاس آکر بولا
’’ہاں ۔۔۔مجھے کچھ ہونا تھا ۔۔۔؟؟‘‘ وہ سوالیہ انداز سے بولی
’’ اللہ نہ کرے تمہیں کچھ ہو۔۔۔‘‘ وہ اس کے ہاتھ تھام کر بولا
جبکہ ابیرہ مسکرا دی
’’ مجھے لگا تم غصہ ہو گی جیسے تم وہاں غصے سے آئی تھی۔۔‘‘ وہ سانس خارج کرتا ہوا بولا
’’ ارے نہیں وہ تو میں برہان اور انوش کو آپس میں بات کرنے کا موقعہ دینا چاہتی تھی ۔۔۔اور ویسے بھی مجھے پتہ ہے تم ایسے نہیں ہوسکتا ۔۔۔‘‘ وہ پُراعتماد لہجے میں بولی
اس کے کہنے پر اس کو بات سمجھ آئی۔۔۔
’’اگر ایسا ہو گیا۔۔۔‘‘ وہ ابرہ اٹھا کر بولا
’’نہیں ہو گا۔۔۔!!‘‘ وہی یقین
’’اتنا یقین مجھ پر۔۔۔‘‘
’’نہیں میری محبت پر۔۔۔!!‘‘ وہی پر اعتماد لہجہ
اس کے کہنے پر سرحان مسکرایا
’’میں ساتھ رہ رہ کر ٹرین ہوگئی ہو۔۔۔‘‘ ابیرہ نے اس کے کندھے پر چپت لگائی
سرحان کا قہقہہ بلند ہوا
’’ویسے کیا خیال ہے ۔۔برہان کی تو شادی ہو رہی ہے لگتے ہاتھ ہم بھی رخصتی کروا لیتے ہیں ۔۔ایک ہی روٹی میں دونوں شادیاں نبٹ جائے گی ۔۔۔!!‘‘ وہ اس کو دیکھتے ہوئے بولا
’’کنجوس خان۔۔۔۔!!‘‘ وہ منہ بنا کر بولی
’’اب تم نکلو ۔۔۔!!‘‘ وہ اُسے کمرے سے باہر نکلاتے ہوئے بولی
’’ہا ئے ہائے کیسا دور آگیا ہے بیوی اپنے شوہر کو کمرے سے دھکے مار کر باہر نکال رہی ہے۔۔!!‘‘ وہ بوڑھی عورتوں کی طرح بولا
’’جب تم جیسے شوہر ہوتو ان کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جاتا ہے ۔۔۔وہ کہتے ہیں نہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔۔۔!!‘‘اس نے کہہ کر دروازہ اُس کے منہ پر بند کر دیا
سرحان جلدی سے پیچھے ہوا ورنہ ضرور دروازہ اس کے منہ پر لگنا تھا۔۔۔
’’یہ دن بھی آنا تھا تجھ پر سرحان ۔۔۔!!‘‘ وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیڑتے ہوئے بولا
آس پاس نظر دوڑائی کسی کو نہ پا کر سکھ کا سانس لیا ۔۔۔اور وہاں سے چلا گیا
*****************
تیری تلاش میں ہر رہنما سے باتیں کیں
خلا سے رابط بڑھایا ہوا سے باتیں کیں
کبھی ستاروں نے بھیجا ہمیں کوئی پیغام
تو مدتوں میں کسی آشنا سے باتیں کیں
ہماری خیر مناؤکہ آج خود اُس نے
بڑے خلوص ،بڑی التجا سے باتیں کیں
گناہ گار تو رمز حریم تک پہنچے
ثواب والوں نے بانگِ درا سے باتیں کیں
بہت سے وہ تھے جنہوں نے بتوں سے فیض اٹھائے
بہت سے وہ تھے جنہوں نے خدا سے باتیں کیں
نہ جانے کب سے سناتے تھے اس کو ہم احوال
نظر اٹھائی تو پھر ابتدا سے باتیں کیں
ہزار شعر کہے یوں توکہنے والوں نے
کسی کسی نے دلِ مبتلا سے باتیں کی
******************
’’پاشا میری بات تو سنو۔۔۔‘‘ آغر منہ پر ہاتھ رکھے بولا جہاں ابھی کچھ دیر پہلے پاشا نے اُسے مارا تھا
’’ مجھے سخت نا پسند ہیں ایسے لوگ جو میری بات نہ سنتے ہیں نہ مانتے ہیں ۔۔۔‘‘ پاشا غصے سے پھنکارا
’’ میری بھی کوئی مجبوری ہو سکتی ہے ۔۔۔‘‘
’’تو ان مجبور لوگوں کی مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔!!‘‘ وہ سگریٹ سلگا کر بولا
’’پاشا ۔۔۔۔‘‘ وہ مخاطب ہوا
’’صرف اس بار معاف کر رہا ہوں آئندہ نہیں کرو گا۔۔۔‘‘وہ انگلی اٹھا کر ورن کرتے ہوئے بولا
’’ اُس کام کیا بنا ۔۔۔‘‘ انداز ایسا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں
’’لڑکیاں آج اسمگل کر دی جائے گی ۔۔۔اور وہ شیخ بھی آج پاکستان آرہا ہے ۔۔۔۔اور راجت سے بھی بات ہوئی ہے وہ کہہ رہا ہے کہ اس کی بھیجی ہوئی جاسوس سے اس کا کوئی رابطہ نہیں ہو رہا ہے۔۔۔‘‘ آخری بات پر پاشا کے لب مسکرائے ۔۔
’’تو آخر کار وہ پکڑی گئی۔۔۔‘‘
’’ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ کسی کام میں مصروف ہو۔۔۔‘‘ آغر نے اپنا مُدا بیان کیا
’’اس نے کر دکھایا ۔۔۔۔‘‘ پاشا نے غصے سے لب بھینچ کر اپنے ہاتھ میں سگریٹ کومسل دیا ۔۔جیسے وہ سگریٹ نہ ہو وہ ایجنٹ ہو
پاشا کھڑا ہوا اور ادھر اُدھر ٹہل کر اپنا غصہ قابو میں کرنے لگا
جبکہ آغر الگ پریشان تھا
پھر کچھ سوچتا ہوا اس نے کسی کو کال کی
پہلی ہی بیل پر کال اٹھا لی گئی
’’ ہیلو ۔۔۔‘‘
’’کام کا کیا بنا ۔۔۔‘‘ پاشا اس کے ہیلو کو نظر انداز کرتا ہوا بولا
’’بڑے ہی بے مروت ہو تم پاشا ۔۔صرف اپنے مطلب کی بات کرتے ہو ۔۔‘‘ ناراضگی ظاہر کی گئی
پاشا نے اس کی بکواس سن کر موبائل آغر کی طرف اچھالا
اور خود باہر ونڈو کے پاس آکر کھڑا ہو گیا
’’سارا جرم ہے مخلص اکھیاں دا
جنھاں ظالم سجن پسند کیتے ‘‘
وہ ایک ادا سے بولی
’’ یسوع بول رہا ہوں ‘‘ وہ سپاٹ لہجے میں بولا
’’ ہو۔۔۔ہو تو تجھے دے دیا موبائل بڑا ہی بے مروت ہے ۔۔۔ویسے تم میں بھی کوئی کمی نہیں ہے ۔۔تو۔۔۔۔‘‘
اس کچھ اور بولنے سے پہلے آغر بول پڑا
’’کام کی بات کی جائے چندابیگم ۔۔۔۔!!‘‘ اب بھی لہجہ سپاٹ تھا
’’اُفففففف۔۔۔کل لڑکیا ں مل جائے گی ۔۔‘‘ وہ بے دلی سے بولی
’’ اوکے ‘‘ ساتھ ہی کھٹاک سے فون بند کیا
’’پتہ نہیں آجکل کے لڑکوں کو ہو کیا گیا ہے ۔۔لڑکیاں خود لفٹ کروا رہی ہیں اوروہ نو لفٹ کا بورڈ لگایا ہوا ہے ۔۔۔‘‘وہ بند فون کو دیکھتے ہوئے بولی
’’اوئے مُنا لڑکیا ں پوری ہیں ۔۔۔‘‘ وہ اپنے سامنے بڑے بالوں والے آدمی نہیں آدم خور کہنا ذیادہ اچھا ہوگا
’’ایک لڑکی رہ گئی ہے آج ہی دیکھا ہے اُسے بہت ہی مست ہے کل اُٹھا نا ہے اسے ۔۔۔بیت اچھا دام ملے گا اُس کا۔۔۔‘‘ وہ کمینگی سے آنکھ مارتے ہوئے بولا
چندا بیگم بھی اس کی بات پر ہنس پڑی
**************
’’کچھ بولی ہے وہ ۔۔؟؟۔‘‘ کیف نے مازیہ سے پوچھا جو اندر ودیا خاطر ومدات کر رہی تھی
’’وہ بس اتنا جانتی ہے کہ یہ سب پاشا کا کہنے پر ہو رہا ہے۔۔۔۔‘‘وہ چہرے پر سختی لائے بولی
کیف نے سامنے غصے میں کھڑی دلربہ حسینہ کو دیکھا جس کے معصوم چہرے پر جانا والا اپنی جان سے جا سکتا ہے ۔۔
نا چاہتے ہوئے بھی کیف مسکرا دیا
مازیہ کی نظر جب اس کی مسکراہٹ پر پڑی تو اس کے ماتھے شکینے ابھری
’’ایسی کیا بات کر دی جس سے تمہارے دانت اندر نہیں جا رہے ہیں ‘‘
اس کے جواب دینے کے بجائے وہ ہنسا ہی جا رہا تھا
’’کیف آگر تم نے ہنسنا بند نہیں کیا تو ۔۔۔‘‘
’’ تو۔۔۔!!‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا
’’تو ۔۔میں۔۔‘‘وہ اس کی آنکھوں سے کنفیوز ہو رہی تھی
’’مازیہ ۔۔۔‘‘ اتنے میں کرنل حارث کی آواز سنائی دی
مازیہ اور کیف جلدی سے پیچھے ہوئے
’’بابا۔۔۔‘‘مازیہ ان کے پاس جا کر بولی
’’کیسا ہے میرا بیٹا ۔۔‘‘ وہ اس کو اپنی آغوش میں لیتے ہوئے بولے
’’میں بلکل ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں ۔۔‘‘
’’الحمداللہ میں بھی ٹھیک ۔۔اور یہ نلائک تجھے تنگ تونہیں کرتا ۔۔۔‘‘ وہ کیف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے
خود کو نلائک کہے جانے پر کیف کا منہ بنا جبکہ مازیہ مسکرا دی
’’بہت تنگ کرتے ہیں یہ مجھے ۔۔۔‘‘ وہ معصوم صورت بناکر بولی
’’ جھوٹ بول رہی ہے یہ ۔۔۔ ‘‘کیف فوراََ بولا
’’ ایک تو تم لوگ بھی نہ ۔۔۔‘‘ کرنل نے تاسف سے سر ہلایا
’’بابا اس کو چھوڑے اور میری بات سنے ۔۔بلکے میری ساتھ اندر چلے ۔۔۔‘‘وہ ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ اندر لے گئی
کیف وہاں کیا کرتا وہ بھی ان کے پیچھے پیچھے اندر چلا گیا
*************
کمرے ہنوز خاموشی چھائی تھی ۔۔برہان کمرے میں ہاتھ باندھے موبادئنہ کھڑا تھا جبکہ سامنے موجود کرسی پر اس کے والد محترم سلطان صاحب بیٹھے تھے اور کمرے کے باہر سرحان کان لگائے کھڑا تھا
’’ میں سنا تم نے شادی سے انکار کر دیا ۔۔۔‘‘انہوں خاموشی توڑی
’’جی۔۔۔‘‘ وہ آنکھیں جھکائے بولا
’’وجہ۔۔۔۔؟؟‘‘
’’میں نے کبھی اس کے بارے میں ایسا سوچا نہیں ۔۔۔‘‘
’’برخودار پہلے نہیں دیکھا تو اب دیکھ لینا ۔۔۔شادی کے بعد۔۔۔بس فائنل ہوا آج سے ایک ہفتے بعد تمہارا نکاح ہے رخصتی پڑھائی مکمل ہونے کے بعد ہو گی۔۔اب تم جا سکتے ہو ۔۔۔‘‘
وہ اپنا فیصلہ سنا چکے تھے ۔۔۔اب کوئی مائی کا لال ان کا فیصلہ نہیں بدل سکتا تھا ۔۔
برہان منہ لٹکائے باہر نکل گیا ۔۔
’’ چل دلہے راجا تیار ہو جا ۔۔۔‘‘ سرحان اس کے سامنے بنگڑے ڈالتا ہوا بولا
’’چلا جا یہا ں سے میری نظروں سے دور ورنہ قتل ہو جانا ہے تیرا میرے ہاتھوں۔۔۔‘‘ وہ دانت پیس کر بولا
جبکہ سرحان اس کی باتوں کو نظر انداز کیے ویسے ہی ناچ رہا تھا
’’سرحان ۔۔۔۔۔۔۔!!‘‘ وہ چلایا اور اس کو مارنے کے لیے اس کے پیچھے بھاگا
لیکن وہ فُرتی سے وہاں سے بھاگ نکلا
’’ایک منٹ ایک منٹ ۔۔‘‘ فون بجنے پر سرحان رُکتا ہوا بولا
برہان بھی رکا
’’کیا ۔۔۔۔‘‘کال اُٹھانے پر جو اُسے خبر ملی اس نے اُسے پریشان کر دیا
’’میں آرہا ہوں تم رو مت۔۔۔‘‘ وہ اُسے تسلی دیتا ہوا بولا
’’ کیا ہوا ۔۔۔؟؟‘‘سرحان کو پریشان دیکھ کر برہان بولا
’’وہ۔۔۔وہ انوش ۔۔۔‘‘ سرحان کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیسے بتائے
’’ کیا ہوا نوش کو۔۔۔؟؟‘‘ اس کا دل دھڑکا
’’ابیرہ اور انوش دونوں شاپنگ کرنے گئی تھی وہاں سے انوش غائب ہے۔۔۔‘‘
’’ایسے کیسے غائب ہو گئی ۔۔وہی ہوگی ۔۔۔‘‘وہ پریشانی سے بولا
’’نہیں ہے اس نے ہر جگہ چک کیا ہے ۔۔۔ہمیں چلنا چاہیے۔۔‘‘ اس نے اثبات میں سر ہلایا
پھر دونوں ہی باہر کی جانب بھاگے
**************
کچھ ہی دیر میں دونوں اس کے پاس تھے ۔۔۔مازیہ اور کیف بھی پہنچ چکے تھے ۔۔۔
’’ابیرہ پلیز بتاؤ ہو ا کیا تھا ۔۔۔؟؟‘‘ کیف بولا
’’ہم شاپنگ کرنے آئے تھے میں اپنا بیگ دوکان میں بھول گئی میں جب واپس لے کر آئی تھی تو میں نے دیکھا کچھ لوگ انوش کو زبردستی گاڑی میں بیٹھا رہے تھے اور جب تک میں ان کے پاس پہنچتی وہ لوگ وہاں سے جا چکے تھے۔۔۔۔‘‘وہ روتے ہوئے بولی
کیف نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لی
’’ہمیں سی سی ٹی وی کی فوٹیج دیکھنی چاہیے ۔۔۔‘‘سرحان بولا
سب سے پہلے برہان اندر کی جانب بھاگا اس کے پیچھے وہ دونوں بھاگے
جبکہ مازیہ ابیرہ کو تسلی دینے لگی۔۔
************
آج ایک ہفتہ گزر چکا تھا انوش کو غائب ہوئے لیکن اس کا کچھ پتا نہیں چل رہا تھا گھر میں جب انوش کے لاپتہ ہونے کی خبر پہنچی تو وہاں کہرام مچ گیا
کیف ،مازیہ برہان ،سرحان سب اُسے اپنی اپنی جگہ تلاش کر رہے تھے ۔۔۔
آغر کو جب اپنی بہن کے لاپتہ ہونے کی خبر ملی تو وہ بھی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھاگا آیا وہاں سے ۔۔۔اس نے بھی اپنے سب سورس سے پتہ لگایا مگر سب بے سُد ۔۔۔۔۔۔
’’کہاں گئی انوش زمین کھا گئی یا آسمان اُسے۔۔۔‘‘ آغر غصے سے بولا
اتنے میں ابیرہ بھاگتے ہو ئے آئی
’’ انوش کا پتہ چل گیا ۔۔۔‘‘ یہ خبر سن کر سب کے چہرے خوشی سے جگمگا اُٹھے ۔۔۔۔
’’کہاں ہے وہ ۔۔؟؟ برہان نے سب سے پہلے پوچھا
’’ ہوسپٹل ۔۔۔۔‘‘ ہوسپٹل کا نام سن کر سب پریشان ہوئے
لیکن پھر جلدی سے ہوسپٹل گئے ۔۔۔
’’آپ میں سے ان کے قریبی کون ہیں ۔۔۔‘‘ ڈاکٹر نے سب کو دیکھ کر پوچھا
سب نے حیرت سے ڈاکٹر کو دیکھا
’’میں اس کا بھائی ہوں یہ انوش کا فینسے ۔۔اور باقی سب اپنے ہیں آپ بتائے جو بتانا ہے ۔۔۔‘‘ آغر پریشانی سے بولا
سب کے دل زور زور سے ڈھڑک رہے تھے جیسے کچھ انہونی ہونے والی ہے
’’دراصل ۔۔۔پیشنٹ کا گینگ ریپ ہوا ہے۔۔۔‘‘ اور یہ خبر ان کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھی۔۔۔
آغر نے کرسی تھام لی ورنہ وہ نیچے ضرور گرجاتا ۔۔۔جبکہ برہان کا حال بھی اس سے مختلف نہیں تھا۔۔
’’یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ۔۔۔؟؟؟‘‘ سب سے پہلے مازیہ کو ہوش آیا
ڈاکٹر نے انہیں تسلی دی اور باہر چلی گئی ۔۔۔ سب اپنی اپنی جگہ شوک میں تھے ۔۔۔
جب گھر والوں کو اس بات کا پتہ چلا تو ان کی حالت بھی ان سے مختلف نہیں تھی ۔۔۔
*************
انوش کو گھر آئے ایک مہینہ ہو چکا تھا مگر اس کی حالت اب بھی ویسی ہی تھی راتوں کو اُٹھ کر چیخنا شروع کر دیتی ۔۔۔چپ چاپ انوش لگ ہی نہیں رہی تھی کہ یہ پہلے والی ہی انوش ہے ۔۔۔
سب بڑا دھماکہ اس کے سر پر تب ہوا جب اُسے ابیرہ نے اس کے اور برہان کے نکاح کی خبر دی۔۔۔
وہ جو ایک مہینے سے کمرے سے نکلی نہیں تھی
غصے سے کمرے سے نکلی اور برہان کے کمرے کی جانب گئی ۔۔
آغر نے جب اُسے برہان کے کمرے کی جانب جاتے دیکھا تو وہ پیچھے جانے کے لیے اٹھا مگر کیف نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے جانے سے روکا
’’ انہیں بات کرنے دے ۔۔۔‘‘
آغر نے اثبات میں سر ہلایا
انوش نے دروزاہ زور سے کھولا اور اندر داخل ہوئی۔۔
برہان جو اپنے موبائل میں مصروف تھا دروازے کھلنے کی آواز پر اپنا جھکا سر اُٹھایا اورانوش کو دیکھ کر خوشگوار حیرت میں مبتلا ہوا
’’چشم بُدو آج میرے غریب خانے پر کیسے آنا ہوا ۔۔۔‘‘ وہ موبائل سائیڈ پر رکھتا ہوا بولا
’’ ذیادہ بھولا بنے کی کوشش نہ کر و مجھے تم یہ بتاؤ کہ تم نے ایسا کیوں کیا ۔۔۔؟؟‘‘ وہ غصے سے بولی
’’ لو میں تو پہلے معصوم ہو اور کیا بنو گا ۔۔۔‘‘ ا س نے بات مذاق میں اُڑائی
’’برہان پلیز۔۔۔۔‘‘ اس کی آنکھوں میں نمی آئی
’’انوش کیا جاننا چاہ رہی ہو ۔۔‘‘ اس نے پوچھا
’’ مجھے پتہ ہے کہ تم نے سب کے دباؤ میں آکر شادی کے لیے ہاں کی ہے ۔۔۔تمہیں کوئی ضرورت نہیں مجھ جیسی لڑکی سے شادی کرنے کی
میں ابھی جا کر منع کر دیتی ہو سب کو تمہیں کوئی کچھ نہیں کہے گا۔۔‘‘ وہ جانے کے لیے مڑ ی ہی تھی کہ برہان بولا
’’کس نے کہا ہے کہ میں نے سب کے دباؤ میں آکر ہاں کی ہے ۔۔۔‘‘ برہان کی آواز پر وہ حیرت سے مڑی
’’کیا مطلب ہے تمہارا ۔۔؟؟‘‘ اس نے ناسمجھی سے پوچھا
’’مطلب یہ ہے کہ میں نے اپنی مرضی اور خوشی سے ہاں کی ہے۔۔۔‘‘ وہ سنجیدہ لہجے میں بولا
’’ تم جھوٹ بول رہے ہو۔۔‘‘ وہ انکاری تھی اب بھی جو لڑکا پہلے اس سے شادی کرنے کے لیے انکار ر رہا تھا اب وہ اس حالت میں اس سے شادی کے لیے مان گیا ناممکن۔۔۔!
’’ میں کیوں جھوٹ بولو گا میں بلکل سنجیدہ ہوں ۔۔‘‘ وہ سنجیدہ لہجے میں بولا
’’تو تم مجھ پر ترس کھا کر شادی کر رہے ہو ۔۔کیوں کھا رہے ہو مجھ پر ترس۔۔۔نہیں ضرورت مجھے تمہاری ہمدردی کی۔۔۔‘‘ وہ باقاعدہ رونے لگی
’’ایک منٹ میں تم پر ترس کھاؤ ۔۔۔کیوں کھاؤ گا ۔۔۔ترس تم۔۔۔۔ تم لنگڑی ہو، یا بہری ہو ، اندھی ہو یا کچھ اور مسئلہ ہے جس کی وجہ سے تم پر ترس کھاؤ۔۔۔‘‘ وہ اس کے سامنے ہاتھ بندھ کر کھڑا تھا
’’برہان جو کرتا ہے اپنی مرضی سے کرتا ہے کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ اس پر اپنی مرضی تھوپ سکے۔۔۔‘‘
’’پھر کیوں کر رہے شادی یہ جاننے کے باوجود کہ میرے سا۔۔۔‘‘ آگے کے الفاظ برہان نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر وہی دفن کر دیے ۔۔
’’ تمہارے ساتھ جو بھی ہوا اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں تھا تو تمہیں کیوں سزا دی جائے ‘‘
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا
’’ جب تم غائب ہوئی اس وقت مجھے لگا میں کہ میں نے اپنی سب سے قیمتی چیز کھو دی ۔۔۔اُس وقت مجھے احساس ہوا کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔۔۔‘‘ انوش نے اپنا جھکا سر جھٹکے سے اُٹھایا اور نایقینی سے اُسے تکنے لگی
اِس کے اس طرح دیکھنے پر برہان مسکرایا ا
برہان نے اپنا ہاتھ آگے کیا جیسے انوش نے تھام لیا
وہ دونوں کھڑے ہوئے برہان نے آگے بڑھا اور دروازہ کھولا ہی تھا کہ سرحان اور ابیرہ نے ان کے قدموں میں سلامی دی
’’تم لوگ ہماری بات سن رہے تھے چھپ کے ۔۔۔‘‘ برہان آنکھیں تیکھی کر کے بولا
’’ وہ چھوڑو بات بنی کے نہیں یہ بتاؤ۔۔۔؟؟‘‘ سرحان اس کے سوال کو نظر انداز کرکے اپنا سواک دغا
’’کُڑی من گئی۔۔۔۔!!‘‘ برہان مسکرا کر بولا
’ہُرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!‘‘ وہ لوگ جوش میں چلائے
ابیرہ انوش کے گلے لگ گئی۔۔۔۔اور سرحان برہا ن کے۔۔۔
************
مازیہ آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی ۔۔وہ اس وقت پاشا کے فارم ہاؤس پر تھی ۔۔
وہ بناآہٹ کے ایک کمرے میں داخل ہوئی جب اُسے کمر ے میں کوئی نظر نہیں آیا تو اس نے واپس جانے کے لیے اپنے قدم بڑھا ئے ہی تھے کسی نے دروازہ کھولا
وہ جلدی سے بلکونی میں چلی گئی
آنے والا کوئی اور نہیں شیخ تھا
مازیہ کو یہی وقت سہی لگا شیخ کو ٹھکانے لگا
وہ بنا آہٹ کیے اس کے پاس پہنچی
شیخ کو اپنے پیچھے کسی کا احساس ہوا ۔وہ فورا پلٹا
اپنے سامنے نقاب پوش کو پاکر وہ خوفزادہ ہوا
’’من انت۔۔‘‘
(کون ہو تم۔۔؟؟)
شیخ بولا
’’موتک ‘‘
(تمہاری موت)
کہتے ساتھ ہی اس نے اپنے شرٹ سے چاقو نکالا اور اس کے پیٹ میں گھونپ دیا
کمر اشیخ کی دلخراش چیخوں سے گونج اٹھا
پاشا جو ابھی فارم داخل ہوا ہی تھا شیخ کی چیخوں پر جلدی سے اوپر کی طرف بھاگا
کمرے کھولتے ہی سامنے کا منظر دل دہلا دینے والا تھا
شیخ خون میں لت پت زمین پر پڑا تھا پاشا جلدی سے اس کو پھلانگتا ہوا جلدی سے بلکونی میں گیا
اس نے ایک نقاب پوش کو وہاں سے بھاگتا دیکھا
پاشا ایک پل میں سمجھ گیا کہ یہ کون ہے ۔۔اس نے وہی بلکونی سے چھلانگ لگائی اور اس کی الٹ سمت میں بھاگا ۔۔۔
مازیہ جو پیچھے دیکھے بنا بھاگ رہی تھی اچانک کسی نے آگے سے آکر اس کے سر پر کچھ مارا
مازیہ کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا
وہ نیچے گری اس کے بعد اس کے ساتھ کیا ہوااس کو نہیں پتا ۔۔۔
______________
وہ سب جو آرام سے بیٹھے ہال میں برہان اور انوش کے نکاح کی پلینگ کر رہے تھے کچھ گرنے کی آواز پر مڑ کر دیکھا تو کوئی آدمی گرا ہوا تھا
لیکن جب انوش کی نظر اس آدمی پر پڑی تو اس کے منہ سے چیخ برآمد ہوئی وہ برہان کے پیچھے چھپ گئی سب نے حیرت سے انوش کے ری ایکشن کو دیکھا
’’یہ کون ہے ۔۔؟؟‘‘ عبدالنافیع نے کیف سے پوچھا جو غصے سے مٹھیاں بھینچے کھڑا تھا
’’یہ وہی ہے جس نے انوش کے ساتھ ۔۔۔‘‘ اس سے آگے بولنے کی ہمت نہیں ہوئی لیکن اس کی آدھی آدھوری بات باقی سمجھ گئے
برہان آگے بڑھا اور آؤ دیکھا نہ تاؤ اس کو مارنے لگا کسی نے بھی اس کو روکنے کی کوشش نہیں کی
وہ شخص رحم کی بھیک مانگنے لگا مگر اس جیسے درندہ کے لیے رحم نہیں ہے۔۔۔
برہان ایک اور پنچ اس کے منہ مارا اور وہ دور جا کر گرا
کیف نے آگے بڑھ کر برہان کو اور مارنے سے روکا ۔۔۔برہان پر جنون طاری تھا آگر کیف اسے نہ پکڑتا تو وہ آج ضرور اسے جان سے مار دیتا
’’وہ مر جائے گا ‘‘ کیف بولا
’’ میں اسے جان سے ہی تو مارنا چاہتا ہوں ۔۔۔‘‘ وہ غصے سے بولا
’’تاکہ اسے مار کر جیل میں چلے جاؤ۔۔۔اسے قانون سمبھال لے گا ۔۔۔۔‘‘
کیف بھی غصے سے بولا
’’یسوع مجھے بچا لو ۔۔۔‘‘ وہ لوگ ابھی بات کر ہی رہے تھے کہ انہیں اس آدمی کی آواز سنائی دی
سب نے حیرانگی سے اسے دیکھا
’’یہ کیا بکواس کر رہے ہو یہ آغر ہے یسوع نہیں ۔۔۔‘‘ سب سے پہلے برہان بولا
’’ نہیں یہ یسوع ہے ۔۔۔پاشا کا آدمی ۔۔۔‘‘ پاشا کا نام سنتے ہی کیف نے آغر کو دیکھا
’’یہ بکواس کر رہا ہے اور یہ ہے کون یہاں ہمارے گھر میں کر کیا رہا ہے ۔۔۔‘‘ وہ پریشانی سے بولا
’’ یہ وہی ہے جس نے تمہاری بہن کے ساتھ ۔۔‘‘ کیف نے جان بوجھ کر تمہاری بہن کہا وہ جچانا چاہ رہا تھا
یہ سب سنتے ہی اس کا خون کھولا اور وہ بھی اس آدمی کو مارنے لگا..
