Karzal by Anam Sana NovelR50670 Karzal (Episode 17)
No Download Link
Rate this Novel
Karzal (Episode 17)
Karzal by Anam Sana
ارے میری پیاری سی،بھولی سی مامی میں آپ کی نہیں کیف کی شادی کی بات کر رہا ہوں۔۔۔‘‘وہ انہیں بیٹھاتا ہوا بولا
اس کی بات سن کر کیف جو پانی پی رہا تھا وہی پھوارے کی طرح باہر آیا
’’مجھے کوئی نہیں کرنی شادی میں ابھی پڑھ رہا ہوں۔۔۔‘‘وہ جلدی سے بولا
’’ہاں یہ صحیح کہہ رہا ہے ابھی تو یہ پڑھ رہا ہے ۔۔پھر بزنس سمبھالے گا۔۔‘‘ سبین نے اس کی تائید کی
ان کی بات کیف خوش ہوا ۔۔معملہ بگڑتے دیکھ برہان جلدی سے بولا
’’کیا لڑکیوں کی طرح کہہ رہے ہوں میں نے شادی نہیں کرنی میں پڑھ رہا ہوں۔۔اور آجکل تو لڑکیاں شادی کے بعد بھی پڑھ لیتی ہیں۔۔اور تو۔۔‘‘
’’یہ بات بھی صحیح ہے۔۔‘‘اب کی بار سبین نے اس کی تائید کی
’’امی اس کی باتوں میں نہ آئے یہ تو ایسے ہی بولتا ہے ۔۔۔‘‘کیف فوراََ بولا
’’مامی میری بات سنے ۔۔آجکل اچھے لڑکیاں بہت کم ملتی ہیں۔۔کہی ایسا نہ ہو کوئی اچھی لڑکی کوئی لے جائے اور آپ کو کوئی ماہم جیسی بہو ملے ۔۔۔‘‘برہان کے اس طرح کہنے پر انہوں نے دہل کر اپنے دل پر ہاتھ رکھا
ماہم ان کی بھائی کی بہو تھی جس نے سب کے ناک میں دم کیا ہوا تھا
’’اللہ نہ کرے کیسی باتیں کر رہے ہو۔۔۔‘‘وہ بولی
’’ویسے تائی امی برہان ٹھیک کہہ رہا ہے ۔۔۔کیف کی ہمیں شادی کر دینی چاہیے۔۔‘‘انوش کو پہلی بار اس کی بات درست لگی
’’سب ہی پاگل ہیں۔۔۔‘‘کیف اٹھ کر جانے ہی لگا تھا کہ کوئی مانوس آواز سنا ئی دی۔۔
’’اسلام علیکم۔۔۔‘‘مازیہ بولی
کیف نے آواز کی سمت دیکھا تو وہی کھڑی تھی اس کی دشمن جاں۔۔
کالا سوٹ،بالوں کی پونی بنائی ہوئی تھی، کھسے پہنے ہوئے اس کے دل پر غضب ڈھا رہی تھی۔۔۔
’’آج نکلے ہیں وہ کالا سوٹ پہن کر
خدا خیر کرے عشق کے مریضوں کی‘‘
برہان نے موقعہ دیکھ کر شعر دغا
سب کی نظریں بے اختیار اس کی طرف اُٹھی
’’ایسے کیا دیکھ رہے ہیں یہ تومیری بھ۔۔۔۔۔بڑی بہن جیسی ہیں۔۔۔‘‘وہ جو بھابی کہنے والا تھا کیف کو دیکھ کر بات پلٹ گیا
مازیہ اور کیف نے سکھ کا سانس لیا
’’اوہ مازیہ تم آگئی۔۔‘‘ابیرہ جو ابھی آئی تھی مازیہ کو دیکھ کر بولی اس کے پیچھے سرحان بھی تھا
سبین پہلے بھی مل چکی تھی اس لیے فوراََ پہچان گئی تھی وہ بھی ان سے خوشدلی سے ملی ۔۔
آغر جو اپنی ہی دھن میں آرہا تھا مازیہ کی آواز پر چونکا۔۔
’’اُوئے آغر وہاں کیا کر رہا ہے ادھر آ۔۔۔‘‘ برہان اس کو ایک ہی جگہ جما دیکھ کر بولا
آغر جیسے ہوش میں آیا اور وہ چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور اپنا ہاتھ آگے بڑھایا
کوئی اور وقت ہوتا تو وہ اس کا ہاتھ نہیں تھامتی مگر کیف سے رات والا بدلہ لینے کا یہ موقعہ وہ گنواہ سکتی تھی
اس نے اس کا بڑھا ہوا تھام لیا اور مسکرا دی
کیف کی نظریں اس کے ہاتھ پر ہی تھی جو آغر کے ہاتھ میں تھا اور اس کی مسکراہٹ نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔۔۔
کیف نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچ لی۔۔۔
کسی نے نوٹ کیا ہو یا نہیں برہان نے ضرور نوٹ کیا تھا
’’آغر ہمیں چلنا چاہیے لیٹ ہو رہا ہے ہمیں۔۔‘‘برہان نے حالات کے پیشِ نظر کہا
برہان کے کہنے پر آغر نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا
سب سے پہلے وہاں سے کیف نکلا۔۔اس کے بعد ایک ایک کر سب باہر نکلے۔۔مازیہ سب سے آخر میں نکلی تھی ۔۔
وہ جو جانے ہی لگی تھی کسی نے پیچھے سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور گھر کی پچھلی سائیڈ پہ لے آیا
اور ایک دم سے اُسے چھوڑا۔۔وہ گر جاتی آگر دیوار کا سہارا نہ لیتی ۔۔
’’مجھے پہلے ہی پتا تھا تمہارے علاوہ اور کوئی ایسی گری ہوئی حرکت کر نہیں سکتا۔۔۔‘‘وہ کیف کو غصے سے دیکھتے ہوئے بولی
’’اچھا یہ گری ہوئی حرکت ہے۔۔اور وہ جو تم نے اندر کیا ہے ۔۔وہ کیا تھا۔۔۔‘‘کیف نے اس کے دونوں بازو پکڑے ہوئے تھے ۔۔مازیہ کو اس کی انگلیاں اپنے بازو کے اندر پیوست ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
تکلیف سے اس کی آنکھوں میں پانی بھر گیا۔۔
اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر کیف تھوڑا نرم پڑا۔۔اور اپنی گرفت کمزور کی ۔۔
گرفت کمزور ہوتے ہی مازیہ نے اس پر اٹیک کرنے کی کوشش کی مگر کیف نے بروقت اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کی کمر کے پیچھے کیے اور بولا
’’اچھا بچو۔۔میرا سکھایا ہوا مجھ پر ہی آزماؤ گی۔۔۔‘‘
وہ اپنے آپ کو چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی مگر کیف کے آگے یہ بیکار تھی۔۔
’’ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا کہ استاد سو میں سے ننانوے گُن ہی اپنے شاگرد کو سکھاتا ہے اور ایک وہ جو سمبھال کر رکھتا ہے وہ اُس کے بعدمیں کام آتا ہے۔۔جیسے اب میرے کام آیا ہے ۔۔۔‘‘وہ اس کے ہاتھ کی طرف اشارہ کرکے جتاتا ہوا بولا
’’تمہیں تو میں دیکھ لو گی۔۔‘‘وہ دانت پیس کر بولی
’’ضرور دیکھنا۔۔ساری عمر پڑی ہے دیکھنے کے لیے لی
کن ابھی یونی کے لیے لیٹ ہو رہا ہے آگر وہاں لیٹ گئے تو اپکا پیارا کزن ہمیں اندر نہیں آنے دے گا۔۔۔‘‘
وہ سر عمر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا اور اس کے ہاتھ چھوڑ دیا اور چل پڑا۔۔مجبوراََ وہ بھی اس کے پیچھے چل پڑی۔۔۔
____________
’’یا اللہ۔۔۔۔‘‘وہ جو ابھی گھر میں داخل میں ہوا ہی تھا اپنے اوپر پانی گرنے پر چلا اٹھا
’’کیا ہوا ۔۔۔‘‘عریش جو ابھی باہر تھا کیف کے چلانے پر جلدی سے اندر آیا۔۔
کیف کو پانی سے تر دیکھ کر وہ حیران رہ گیا ۔۔
’’یہ کیا ہوا۔۔۔۔تو گیلا کیسے ہوا۔۔؟؟‘‘وہ کیف کے پاس آکر بولا جو پہلے ہی غصے میں تھا عریش کے اس بے تُکے سوال پر اس کا دل کیا کہ اس کاگلا دبا دے۔۔
’’سوئمنگ کر کے آیا ہوں تو نے کرنی ہے ۔۔۔‘‘وہ دانت پیس کر بولا
وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ اُسے کوئی جواب دیتا کسی کے کھلکھلانے کی آواز آئی اور انہیں ایک سیکنڈ لگا کہ اس آواز کو پہچانے میں۔۔۔یہ آواز اُسی آفت کی تھی ۔۔۔
’’مازیہ یہ کیا حرکت ہے۔۔۔۔‘‘عریش اس سے مخاطب ہوا
پہلے تو وہ عریش کو ٹھیک دیکھ کر حیران ہوئی لیکن جب اس کی نظر کیف پر پڑی تواس کا زوردار قہقہہ فضا میں گونجا
کیف نے ناگواری سے اُسے دیکھا
’’ لگتا ہے آپ نے بھائی پر آنے والی ساری مصیبت اپنے اوپر لینے کا پرمینٹ لے رکھا ہے۔۔۔‘‘وہ اس کو طنز کرتی ہوئی بولی
’’مازیہ بیٹا ۔۔۔‘‘عریش نے تنبیہ کی
وہ کیف کے تنے ہوئے نقش کو دیکھ چکا تھا اس لیے بات ذیادہ نہ بگڑے اس لیے بول پڑا
مازیہ نے با مشکل اپنی ہنسی روکی
’’بیٹا یہ کیا ہے۔۔۔؟؟‘‘وہ پانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
’’سزا۔۔!!‘‘
’’کس لیے ۔۔۔‘‘
’’مجھے نہ بتانے کا ۔۔۔‘‘
’’کیا۔۔۔؟‘‘
’’یہی کہ آپ واپس آرہے ہیں۔۔‘‘
’’میں تمہیں سرپرائز دینا چاہتا تھا ۔۔مگر یہاں آکر مجھے ہی سرپرائز مل گیا۔۔۔‘‘وہ کیف کی حالت کو دیکھتے ہوئے بولا
’’آگر آپ دونوں کی باتیں ختم ہو گئی ہو تو میں چینج کر لو۔۔‘‘ کیف ان کی باتوں سے تنگ آکر بولا
’’ہم نے آپ کو پکڑا ہوا ہے۔۔‘‘ان کے درمیان بولنے پر مازیہ ناگواری سے بولی
’’آؤ کیف میں لے کر چلتا ہوں۔۔۔‘‘ عریش آنکھوں سے مازیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کیف کو اپنے ساتھ لے گیا۔۔۔
’’مازیہ بیٹا یہ غلط بات ہے بیٹا۔۔۔‘‘مازیہ کو اپنے پیچھے کرنل صاحب کی آواز سنائی دی۔۔
’’اُو ہو ۔۔چاچو کچھ نہیں نہیں ہوتا ۔۔۔‘‘ اُس نے بات کو مذاق میں اُڑایا
’’چلے آئیں کھانے کی تیاری کرتے ہیں۔۔۔‘‘وہ ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئی
کیف اور عریش کی دوستی آرمی میں جانے سے پہلے ہوئی جب وہ لوگ آرمی میں داخل ہونے کے لیے ٹیسٹ دینے گئے تھے۔۔ کیف کے گھر والے اس بات سے انجان تھے کہ کیف آرمی میں ہے سوائے اس کی والدہ کے ۔۔جبکہ عریش کی فیملی میں صرف اُس کی چھوٹی بہن مازیہ اور ایک چاچوتھے جو خود کرنل تھے۔۔۔کیف نے اپنے والد سے بات نہیں کی کیوں اسے پتا تھا کہ اکلوتا ہونے کی وجہ سے وہ منع کر دے گے اس لیے سب اس بات سے بے خبر تھے کہ ہنستے مسکراتے چہرے کے پیچھے ایک سخت جاں،اپنے وطن سے محبت کرنے والا ،اپنے وطن پر جان قربان والا انسان چھپا ہے ۔۔۔
مازیہ نے شروع ہی سے کیف کو تنگ کیے رکھا ۔۔وہ جب بھی آتا اس کو تنگ کرنے سے باز نہیں آتی تھی ۔۔اور یہی بات کیف کو غصے دلاتی تھی۔۔
’’کھانا تیار ہے۔۔۔‘‘مازیہ اونچی آواز میں کہتے ہوئے پلیٹس ٹیبل پر رکھنے لگی۔۔
کچھ ہی دیر عریش آتا ہوا دکھائی دیا اس کے پیچھے کیف بھی تھا ۔۔
’’ایک بات تو بتا ؤ تمہیں کیسے پتا چلا کہ میں آرہا ہوں۔۔۔‘‘عریش مازیہ کو دیکھتے ہوئے بولا
مازیہ نے سر اُٹھا کر اس کو دیکھا پھر ساتھ بیٹھے کیف کو جو باظاہر تو خود کو لاتعلق ظاہر کر رہا تھا مگر اس کی ساری توجہ اسی کی طرف تھی۔۔
’’وہ میں نے رات کو چاچو کی اور آپکی باتیں سنی تھی ۔۔‘‘وہ ڈرتے ڈرتے بولی کیونکہ یہی بات عریش کو بُری لگتی تھی۔۔
’’مازیہ بیٹا میں نے کتنی بار کہا ہے کہ ایسے کام مت کیا کرو۔۔‘‘عریش اس کو دیکھتے ہوئے بولا
’’بھائی سچ میں تو جا رہی تھی گزر کر وہ چاچو کی آواز سنائی دی وہ آپ کا نام لے رہے تھے ۔۔بس اسی لیے میں رک کر سننے لگی۔۔اور اسی لیے آپ کو سرپرائز دینے کے لیے آج وہ سب کیا مگر وہ سب اُلٹا ہو گیا ۔۔۔سوری۔۔۔‘‘وہ شرمندہ لہجے میں بولی
’’انسان کو ایسا کام ہی نہیں کرنا چاہیے جس سے بعد میں شرمندگی ہو۔۔۔‘‘کیف چاہتے ہوئے بھی خود کو روک نہ سکا
’’اور انسان کو بھی چاہیے کہ وہ دوسروں کے سرپرائز خراب نہ کرے ۔۔۔‘‘پہلے والی ساری شرمندگی اب غائب تھی۔۔۔ وہ پھر سے اپنے پرانے والے رُوپ میں آچکی تھی۔۔۔
’’اچھا اب تم دونوں لڑنا مت ۔۔اور مازیہ تم مجھے یہ بتاؤ کہ چاچوکہاں ہے۔۔۔؟؟‘‘وہ حالات خراب ہوتے دیکھ کر جلدی سے بولا
’’وہ آہی رہے تھے کہ انہیں کوئی کال آگئی تو واپس چلے گئے۔۔۔‘‘وہ تفصیل سے بتانے لگی۔۔
’’اچھا میں ان کے پاس سے ہو کر آیا ۔۔‘‘وہ کہہ کر روم کی طرف چل پڑا
عریش کے جانے کے بعد کیف بھی اُٹھا اور باہر لان میں چلا گیا ۔۔مازیہ بھی ا سکے پیچھے چل پڑی۔۔
لان میں آنے کے بعد کیف نے سگریٹ سُلگائی اور لبوں تک لے جا ہی رہا تھا کہ مازیہ نے سرعت سے اس کے ہاتھ سے سگریٹ لے کرپاس پڑے پتوں کے ڈھیر میں گرا دی۔۔
مازیہ کی اس حرکت پر وہ جی جان سے سُلگ اُٹھا ۔۔۔
’’یہ کیا باتمیزی ہے۔۔۔۔؟؟‘‘وہ دبی دبی آواز میں بولا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی آواز عریش تک جائے
’’جو چیز آپکی پسند کو پسند نہ آپکو اُس سے گریز ہی کرنا چاہیے۔۔‘‘وہ مسکرا کر بولی
’’کیا مطلب۔۔۔؟؟‘‘وہ حیرت سے بولا
’’تمہیں اک بات کہنی ہے ۔۔!!
مگر ناراض نہ ہونا
کہ تم جو ہر گھڑی مجھکو
اتنا یاد آتے ہو۔۔
ہمیں اتنا ستاتے ہو
کہ ہم تم دور ہیں دونوں ۔۔۔
بہت مجبور ہے دونوں ۔۔۔
نہ اتنا یاد آؤ تم ۔۔!!
نہ ہوں اتنا ستاؤ تم ۔۔
کہ اتنا یاد آکر تم،
فقط اتنا بتا دو کہ ،
ہماری جان لو گے تم ،
مگر یہ بھی حقیقت ہے ،
تمہاری یاد ہی تو ہے ۔۔!!
جو ہر پل ساتھ رہتی ہے ۔۔
خوشی میں بھی ،غمی میں بھی
اداسی کے پلوں میں بھی ۔۔
تمہاری یاد ہی تو ہے ۔۔!!
جو ہر پل یہ بتاتی ہے ۔۔
مجھی احساس دلاتی ہے ۔۔۔
کہ،
ہم تم بن ادھورے ہیں۔۔‘‘
وہ آنکھوں میں محبت کے دیپ جلائے اپنے دل کا حال بتا رہی تھی
کیف حیرت سے اپنے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ رہا تھا جو یوں ایک غیر محرم کو اپنے دل کا حال بتا رہی تھی۔۔۔
اِس کا ہاتھ اُٹھا اور اُس کے چہرے پر اپنے نشان چھوڑ گیا۔۔۔
مازیہ حیرت سے اپنے منہ ہاتھ رکھے کیف کو تک رہی تھی جس نے ابھی کچھ سکینڈ پہلے اس کو تھپڑ مارا تھا
کیف آنکھیں غصے کی شدت سے لال انگارہ بنی ہوئی تھی۔۔
’’تم۔۔۔۔!!‘‘
وہ غصے سے کہتے کہتے رُکا
’’تمہاری ہمت کیسے ہوئی۔۔یہ سب بکواس کر نے کی ۔۔۔‘‘وہ غصے سے چنگاڑا
’’ہم۔۔ہم محبت کرتے ہیں آپ سے۔۔اور آپ بھی تو ہم سے محبت کرتے ہیں ۔۔۔‘‘اس کے آنکھوں سے آنسو رواں تھے
’’بس ایک لفظ اور نہیں ۔۔۔مجھے محبت ہے تو صرف اور صرف اپنے وطن سے ۔۔اور آگر محبت ہوئی بھی تو تم جیسی لڑکی سے کبھی نہیں ہو گی۔۔۔!!‘‘وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا
’’م۔۔مجھ۔۔مجھ جیسی لڑکی سے کیا مطلب ہے آپکا ۔۔۔‘‘اس کی آواز میں تڑپ تھی
’’ایسی لڑکی جو رات کی تنہائی میں اپنے بھائی کے دوست سے اظہار محبت کر رہی ہے ۔۔ایسی لڑکی سے میں محبت کرو گا۔۔میں۔۔۔‘‘وہ ا نگلی
سے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
’’تم نے سوچ بھی کیسے لیا میں تم جیسی لڑکی سے محبت کرو گا۔۔‘‘وہ الفاظ سے اس کو چھلنی کر رہا تھا
’’جس لڑکی کو محرم اور نامحرم فرق معلوم نہ ہو اس لڑکی کی میری زندگی میں کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔‘‘
’’آپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں کیا آپ نے مجھے پہلے کسی اور سے ملتے دیکھا ہے ۔۔۔؟کسی اور سے بات کرتے دیکھا ہے ۔۔۔؟یہاں تک کہ میری کوئی دوست بھی نہیں ہے۔۔۔‘‘
وہ کچھ پل کو رُکی
’’میری زندگی میں صرف تین لوگ ہیں چاچو،بھائی اور آپ۔۔!!‘‘وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی
’’تمہارا دماغ ہی خراب ہے۔۔‘‘ غصے سے کہتا
وہ اس کو سائیڈ پر کرتا ہوا اندر کی طرف چلا گیا۔۔اور وہی بیٹھی اپنی ذات کی نفی کا ماتم منانے لگی۔۔
تھوڑی دیر پہلے جوسگریٹ اس نے پھینکی تھی اس سے اُن سوکھے پتوں میں آگ لگ چکی تھی ۔۔۔
پتوں کی طرح مازیہ کو اپنی ذات جلتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
وہ رات دونوں کے لیے بدترین رات تھی۔۔۔دونوں میں کوئی بھی اس رات سو نہیں سکا تھا ۔۔۔
صبح کا آغاز ویسے ہی ہوا جیسے روز ہوتا ہے مگر اس کے لیے نہیں۔۔۔ساری رات اپنی ذات کی نفی کا ماتم کرتے وہ صبح ویسے ہی ہوچکی تھی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔۔
’’کارزل بیٹا کیا ہوا۔۔۔‘‘اس کی روئی ہوئی سرخ آنکھیں دیکھ کر عریش بولا ۔۔عریش اس کو پیار سے کارزل بلاتا تھا
کسی اپنے کا سہارا پا کر وہ پھر سے بکھر گئی اور اپنے جزبات پر قابو نہیں رکھ سکی۔۔اور رو پڑی۔۔
’’bacha…i know you are sad but what i do..??is part of my work‘‘….
