Karzal by Anam Sana NovelR50670 Karzal (Episode 14)
No Download Link
Rate this Novel
Karzal (Episode 14)
Karzal by Anam Sana
’’اُف خدایا۔۔۔۔۔۔۔‘‘ برہان اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔
وہ جو اپنے دھیان میں آرہا تھا آنکھوں میں ریت جانے پر بلبلا اٹھا۔۔
اس کے چلانے پر سب اس کی طرف متوجہ ہوئے،وہ لوگ اس وقت صحرا میں موجود تھے۔۔
’’کیا ہوا ۔۔۔؟؟‘‘ سرحان نے پریشانی سے اُس سے پوچھا
’’ریت چلی گئی ہے ،میری آنکھوں میں۔۔۔‘‘ وہ آنکھیں مسلتا ہوا بولا
’’ہم صحرا میں ہیں اور ہوا بھی چل رہی ہے۔۔ تو ریت تو اُڑے گی نا۔۔۔تم بھی نا ۔۔۔ اور یہ جو گلاسز ہیں وہ کس لیے ہیں۔۔۔‘‘ وہ ا س کے گلاسز کی طرف اشارہ کرتے ہوا بولا
’’ریت ہوا نے نہیں اُڑئی۔۔یہ اس انوش کی بچی نے اُڑئی ہے۔۔‘‘وہ دانت پیس کر بولا
’’ہیں۔۔ہیں۔۔ایک منٹ۔۔ایک منٹ۔۔میں نے کب اُڑئی ہے۔۔۔۔‘‘وہ تو اپنے اوپر لگائے الزام پر تڑپ اُٹھی
’’ابھی جب تم نے مٹی کو پاؤں مارا تھا۔۔۔‘‘وہ اس کو یادہانی کراتے ہوئے بولا
’’اچھا وہ۔۔وہ تو میں فوٹو بنا رہی تھی۔۔۔‘‘یاد آنے پر وہ مسکرا کر بولی
’’ایسے کون بناتا ہے۔؟؟‘‘وہ ایسے گھورتے ہوئے بولا
’’میں بناتی ہوں۔۔کیونکہ میں نے اپنی انسٹاگرام پر لگانی تھی۔۔‘‘وہ دانت نکال کر بولی
جو برہان کو سخت زہر لگ رہی تھی۔۔
’’تم۔۔۔‘‘ وہ کہتے کہتے رُکا
’تمہیں تومیں بعد میں دیکھتا ہوں۔۔۔‘‘وہ اس کو وارن کرتے ہوئے وہاں سے چل دیا
سب لوگ اسے حیرانی سے دیکھنے لگے وہ جو جواب دیے بغیر سانس نہیں لیتا تھااور نہ دوسرے کو سانس لینے دیتا تھا۔۔۔آج اتنی خاموشی
’’کچھ تو گڑبڑ ہے۔۔برہان اور خاموشی۔۔۔‘‘انوش سوچتے ہوئے بولی
’’یہ طوفان کے آنے سے پہلے والی خاموشی ہے۔۔۔‘‘ابیرہ بولی
’’اُوہ ہو۔۔۔کچھ نہیں کرتا وہ۔۔ ایسے ہی بول رہا ہو گا۔۔۔چھوڑو۔۔۔آؤ ہم چلتے ہیں۔۔۔‘‘سرحان نے مزاق میں بات اُڑ ا دی۔۔باقی سب نے بھی زیادہ دھیان نہیں دیا۔۔۔اور آگے چل دیے لیکن معلوم کس کو ہے کب کیا سے کیا ہو جائے۔۔۔۔
***********
’’ترحیب۔۔۔‘‘
(خوش آمدید۔۔)
پاشا کو دیکھ کر شیخ بولا۔۔باقی سب بھی اس کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔۔اور کھڑے بھی کیوں نہ ہوتے۔۔انڈورلڈ دنیا کا بے تاج بادشاہ۔۔پاشا آیا تھا۔۔۔
’’یجب أن یبدأالاحتفال۔۔‘‘
(جشن شروع کیا جائے۔۔) شیخ نے ہاتھ کے اشارے سے حکم دیا
پاشا نے سرسری نظر اِردگرد دوڑائی ۔۔شراب اور شباب سب کا انتظام کیا گیا تھا۔۔۔
پاشا نے سب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی بیٹھ گیا۔۔۔
********
’’ادا ہے
خواب ہے
تسکین ہے
تماشاہے
ہماری آنکھوں میں اک،
شخص بے تحاشا ہے‘‘
جبال کے موبائل کی رنگ ٹون بجی۔۔وہ جو سرحان کے ساتھ سیلفی بنانے میں مصروف تھا۔۔رنگ ٹون پر موبائل کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔’’جان ‘‘ کے نمبر سے میسیج دیکھ کر بے اختیار اس کی نظریں آبص کی طرف اُٹھی جو اِسے ہی مسکرا کر دیکھ رہی تھی ۔۔۔میسیج پڑھ کر اُس کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ پڑی ۔۔اِس کو مسکراتا دیکھ کر سرحان کی زبان میں کھجلی ہوئی
’’اہم ۔۔اہم۔۔۔‘‘سرحان کھنکارا
سرحان کے کھنکارنے پر جبال کی مسکراہٹ پل میں غائب ہوئی۔۔
’’بیوی ہے میری ۔۔۔۔حق ہے۔۔۔‘‘وہ دھٹائی سے بولا
’’کوئی نہیں دیکھ لے خود کی ہی بیوی ہے۔۔۔غیر کی تھوڑی ہے۔۔۔‘‘سرحان ہنس کر بولا
’’غیر کو دیکھ بھی نہیں سکتا۔۔۔‘‘
’’کیونکہ تیری بیوی نے تیری آنکھیں نکال دینی ہے۔۔۔‘‘
’’نہیں اس لیے کے اس کے علاوہ اور کوئی نظر ہی نہیںآتا۔۔۔‘‘وہ آبص کو دیکھتے ہوئے بولا
’’اُف یہ محبت۔۔۔!!‘‘ وہ دل پر ہاتھ رکھ کربولا
’’اپنی بیوی سے۔۔۔‘‘مسکرا کر بولا
لگ گیا پتا ۔۔۔کہ تجھے تیری ہی بیوی سے ہی محبت ہے۔۔۔‘‘
’’کیوں تجھے کسی اور کی بیوی سے محبت ہے۔۔‘‘وہ شرارت سے بولا
’’یہ دیکھ۔۔۔‘‘وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا
’’میری بیوی نے سن لیا نہ۔۔۔‘‘ابھی اس کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ ابیرہ بول پڑی جو نا جانے کب آئی تھی۔۔۔۔
’’بیوی نے سن لیا ہے۔۔۔‘‘
ماحول میں کشیدگی دیکھتے ہوئے جبال نے وہاں سے جانے میں ہی عافیت جانی۔۔۔
’’ابیرہ میری بات سنو۔۔۔جیسا تم سمجھ رہی ہوں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔‘‘سرحان جلدی سے اپنی صفائی میں بولا۔۔مگر ابیرہ نے بات اَن سنی کر دی اور منہ پھلا کر اپنا رُخ موڑ لیا۔۔
سرحان نے ابیرہ کو ایک نظر دیکھا اور ٹھنڈی آہ بھری ۔۔۔
سرحان اُس کے پیچھے جا کر کھڑا ہوا اور بولا
’’اگر تم پاس ہوتے ہو
کرم کی انتہاکرتے ہو
تمہیں پلکوں پہ رکھتے ہم
اگر تم روٹھ جاتے تو
تمہیں کتنا مناتے ہم
تمہاری غلطیوں کو بھی
ہنسی میں ہم اُڑا دیتے
اگر اپنی ہی خطا ہوتی تو
خود کو ہی سزا دیتے
مگر یہ سب جبھی ہوتا
اگر تم پاس ہوتے تو۔۔۔‘‘
اُس کی آواز میں درد تھا جو ابیرہ نے صاف محسوس کیا۔۔۔وہ تو صرف کو تنگ کر رہی تھی۔۔۔اُس نے یہ تو نہیں چاہا تھا۔۔۔وہ اس کو درد دینا کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔
وہ ایک دم پلٹی۔۔
’’سرحان۔۔۔‘‘
’’سرحان ۔۔م ۔۔۔مجھے معاف کر دو۔۔میں نے یہ نہیں چاہا تھا۔۔۔‘‘وہ روتے ہوئے بولی۔۔
اس کو روتا دیکھ کر حواس باختہ ہوا۔۔۔وہ تو صرف مزاق کر رہا تھا۔۔۔
’’ابیرہ ۔۔۔اِدھر دیکھو میں مزاق کر رہا تھا۔۔۔‘‘وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر بولا
’’نہیں ۔۔۔سوری۔۔۔پلیز مجھے معاف کر دو۔۔۔‘‘وہ اب بھی اپنے حواسوں میں نہیں تھی۔۔۔
’’ابیرہ میں مزاق کر رہ تھا۔۔۔‘‘وہ سنجیدہ ہو کر بولا
پہلے تو اُسے کچھ سمجھ نہیں آیالیکن جب آیا تو اپنا رونا بھول کر اُسے دیکھنے لگی۔۔جہاں پہلے پیار تھا۔۔تاثرات بدل چکے تھے۔۔۔
سرحان نے اُس کے بدلتے ہوئے تاثرات دیکھ کر وہاں سے بھاگنے میں ہی اپنی عافیت جانی۔۔
’’سرحان رُک جاؤ۔۔۔‘‘ابیرہ چلاتی ہوئی اس کے پیچھے بھاگی۔۔۔
مگر وہ بھی کب ہاتھ آنے والا تھا۔۔
*********
’’سر میں پہنچ چکا ہو۔۔میں اپنے ٹارگٹ کے بہت ہی قریب ہوں۔۔‘‘
ایجنٹ نے میجر سر کو انفارم کیا۔۔۔
’’بس تمہارے اشارہ کرنے کی دیر ہے۔۔۔آس پاس چھپے سب فوجی تمہارے پاس ہو گیں۔۔۔‘‘
وہ بولے
’’آس پاس کا سارا علاقہ ہمارے انڈر ہے۔۔آپ بے فکر رہے۔۔۔آج تو اس کو جہنم واصل کر کے رہوں گا۔۔۔۔‘‘وہ غصے سے بولا
پھر کچھ ضرروی باتیں کرنے کے بعد اس نے کال بند کی اور خیمہ کی طرف قدم بڑھائے
کچھ ہی پل میں وہ خیمہ کے اندر پہنچ چکا تھا۔۔ اس نے اِدھراُدھر نظر دھوڑائی۔۔کچھ ہی پل میں اُسے پاشا نظر آگیا۔۔پاشا کو دیکھ ہی اس کے دماغ کی رگیں تن گئی۔۔لیکن یہ وقت جوش سے نہیں ہوش سے کام لینے کا تھا۔۔۔وہ اُن کی باتیں سننے کے لیے پیچھے گیااور چھپ کر اُن کی باتیں سننے لگا۔۔
’’لماذالاتذھب باشا۔۔۔؟؟‘‘
(پاشا تم لے کیوں نہیں رہے۔۔۔؟؟)
شیخ شراب کا گلاس اس کے سامنے رکھتا ہوابولا۔۔۔
’’أنا لست بحاجتہ لذلک۔۔‘‘
(مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔)
وہ گلاس سائیڈپر کرتا ہوا بولا۔۔۔شیخ نے کچھ بھی نہیں کہا کیونکہ اسے پتا تھا اس نے کرنی اپنی مرضی ہے۔۔
ایجنٹ نے کچھ سوچتے ہوئے اُسے میسیج کیا۔۔اور مسکرا دیا۔۔اور اِردگرد کا جائز لینے کے لیے باہر نکل گیا
پاشا کو اب کوفت ہونے لگ گئی تھی۔۔آج تک اُس نے کسی کا انتظار نہیں کیا تھا۔۔۔وہ جانتا نہیں تھا
انتظار ہوتا کیا ہے۔۔۔
میسیج کی رنگ ٹون پراس نے موبائل چیک کیا ۔۔۔تو اَنناؤن نمبر سے میسیج تھا۔۔۔
’’بہت جلد ملاقات ہونے والی ہے۔۔۔‘‘
وہ سمجھ چکا تھاکہ یہ کس کا ہے ۔۔وہ میسیج ٹائپ کرنے لگااور سینڈ کر دیا
ایجنٹ نے رنگ ٹون کی طرف متوجہ ہو کر موبائل اون کیا۔۔۔
پاشا کا میسیج دیکھ کر اُس کے لب مسکرائے۔۔۔
ّ’’انتظار رہے گا ۔۔۔۔‘‘
’’مجھے بھی۔۔۔۔!!‘‘ وہ خود سے بولا۔۔۔
اب ناجانے کون سی قیامت آنے والی تھی
روح کی تھاپ نہ روکو کہ قیامت ہو گی۔۔۔!!
تم کو معلوم نہیں کون کہاں رقص میں ہے۔۔۔!
_____________
’’انوش ۔۔‘‘ برہان نے اُسے پُکارا
’’کیا ہے ۔۔۔‘‘ لٹھے مار کر جواب دیا گیا
برہان کو غصہ تو آیا مگر برداشت کر گیا۔۔
’’وہ میں تمہیں کچھ دیکھانا چاہتا تھا۔۔‘‘وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولا
’’مجھے ۔۔۔؟؟‘‘وہ اپنی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی۔۔۔
اُس نے ہاں میں سر ہلایا۔۔انوش کو اِس کی دماغی حالت پر شک ہوا
’’میں نہیں جارہی۔۔‘‘ اُس نے انکار کر دیا ۔۔انوش کو پکا یقین تھا کہ برہان نے ضرور اس سے بدلہ لے گا۔۔۔
اپنا پلین خراب ہوتے دیکھ کر وہ جلدی سے بولا
’’پلیز میری بہن نہیں اپنے بھائی ایک بات نہیں مان سکتی۔۔۔پتا نہیں وہ کون سی بہنیں ہوتی ہیں جو اپنے بھائیوں کی بات مانتی ہیں ۔۔۔اور ایک تم ہو۔۔‘ وہ افسردہ ہو کر بولا
’’اچھا ۔۔اچھا اب ایمونشنل بلیک میل مت کرو چل رہی ہوں۔۔۔لیکن آگر کوئی شیطانی کی نہ پھر دیکھنا۔۔۔‘‘وہ اس کو ورن کرتے ہوئے بولی
’’میں تمہیں ایسا لگتا ہوں۔۔‘‘وہ معصوم صورت بنا کر بولا
’’تم کیا ہو ۔۔تم ہی جانو۔۔۔‘‘وہ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولی اِس کے اس طرح کہنے پر وہ ہنس پڑا۔۔
’’یہ کیا کر رہے ہو۔۔۔؟؟‘‘ برہان کو اپنی آنکھوں پر پٹی بندھتے دیکھ کربولی
’’سرپرائز ہے۔۔۔‘‘ وہ اپنی ہنسی دبا کر بولا
’’تمہارے سرپرائز سے تو اللہ کی پناہ۔۔۔!!‘‘وہ اپنی آنکھوں پر بندھی پٹی اُتارنے لگی۔۔
اس کو ایسا کرتے دیکھ کر برہان نے جلدی سے اُس کے ہاتھ پکڑے کہ وہ کہیں سچ میں نہ اُتار دے۔۔
’’کیا ہے برہان آنکھوں سے پٹی اُتارنے دو۔۔۔‘‘ وہ اپنے ہاتھ چھڑواتے ہوئے بولی۔۔۔
’’اُتار لینا لیکن ابھی نہیں۔۔۔‘‘ وہ اس کو لے کر چل پڑا
کچھ ہی پل میں وہ مطلوبہ جگہ پہنچ چکے تھے۔۔۔
’’برہان اور کتنی دیر ہے۔۔۔؟؟‘‘ انوش نے اُکتا کر پوچھا
’’بس پہنچ گئے۔۔۔‘‘ وہ رُکتا ہوا بولا
برہان نے اس کا ہاتھ کسی ملائم چیز پر رکھا ۔۔۔
’’برہان یہ کیا ہے اتنی صوفٹ۔۔۔‘‘وہ اُس چیز پر ہاتھ پھیڑتے ہوئے بولی
’’خود ہی دیکھ لو۔۔۔‘‘وہ اس کی پٹی اتارتے ہوئے بولا
پٹی اُترتے ہی جب اس نے اس چیز کی طرف دیکھا تو اُس کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا کیونکہ وہاں کچھ اور نہیں شیر تھا۔۔اور اس کا ہاتھ شیر کی کمر پر تھا۔۔۔
’’اااااااااا۔۔۔۔۔۔‘‘انوش
’’شیر شیر۔۔۔شیر۔۔‘‘وہ چلاتی ہوئی وہاں سے بھاگ گئی۔۔
جبکہ برہان کا ہنس ہنس کر برُا حال تھا۔۔۔
انوش کی چینخ سن کر سب آواز کی سمت کی طرف بھاگے۔۔۔۔
دور سے ہی انہیں وہ بھاگتی ہوئی ان کی طرف آتے ہوئے نظر آئی۔۔۔۔
’’کیا ہوا انوش تم چلائی کیوں۔۔۔۔؟؟‘‘ابیرہ اس کے پاس آکر بولی
’’و۔۔وہ وہاں۔۔۔وہ۔۔۔‘‘وہ اٹک اٹک کر بولی
’’کیا ہے وہاں۔۔۔۔؟؟‘‘ آغر بولا
باقی سب بھی اس کے جواب کے منتظر تھے وہ اتنی ڈری ہوئی تھی کہ اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا
’’وہ برہان۔۔۔۔‘‘
’’کیا ہوا برہان کو ۔۔۔۔؟؟‘‘سرحان اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی بول پڑا
’’ہم ہی جا کر دیکھتے ہیں کہ آخر ماجرا کیا ہے۔۔۔۔‘‘کیف انوش کی حالت کو دیکھتے ہوئے بولا
سب نے کیف کی بات میں حامی بڑھی اور اس طرف چل دیے جہاں سے انوش بھاگتی ہوئی آرہی تھی۔۔
برہان جو ابھی بھی ہنس رہا تھا سب کو ایک ساتھ دیکھ کر اس کی ہنسی کو بریک لگا۔۔
سب ناسمجھی میں اس کو دیکھ رہے تھے جو پگلوں کی طرح ہنس رہا تھا۔۔۔
انوش کو دیکھ کر اُسے ایک بار پھر ہنسی آئی ۔۔۔انوش نے غص
ے سے اُسے دیکھا اور سب بتا دیا جو اس نے کیا تھا
سب سن کر سب لوگوں کو بہت غصہ آیا۔۔
آغر غصے سے اس کی طرف بڑھا۔۔اس سے پہلے کے وہ کچھ کرتا کیف ان کے درمیان آگیا۔۔
تمہاری ہمت بھی کیسی ہوئی میری بہن کے ساتھ یہ سب کرنے کی۔۔۔‘‘ وہ غصے سے پھنکارا
برہان تو دڑ کر دو قدم پیچھے ہٹا۔۔باقی سب بھی اس کے غصے کو دیکھ کر حیران ہوئے کیونکہ وہ غصہ کرتا نہیں تھا
’’میں نے صرف مذاق کیا تھا۔۔۔۔۔‘‘ وہ تھوک نگلتا ہوا بولا
’’لوگوں کی جاں چلی جائے ۔۔۔تمہاری ادا ٹہری۔۔۔!!‘‘
’’اچھا اچھا۔۔۔بس کرے آپ سب ۔۔کیا ہو گیا ہے۔۔۔‘‘معاملہ بگڑتے دیکھ کر سرحان آگے آیا۔۔۔
بات چیت کے بعد سارا معاملہ ٹھنڈا ہوا۔۔
سب نے برہان کو ڈانٹا اور آئندہ کے لیے ورن کرنانہیں بھولے اور انوش اس کو زبان چڑانا۔۔۔
برہان نے غصے سے اسے دیکھا
سب کے جانے کے بعد برہان شیر کے پاس آیا اور اس کے سر پر ہاتھ پھیڑتے ہوئے بولا
’’کیا یار میں نے کیا سوچا تھا اور کیا ہو گیا۔۔‘‘وہ افسردہ ہو کر بولا
شیر کی دھاڑ پر وہ جلدی سے پیچھے ہٹا
’’سارے ہی ایک جیسے ہیں۔۔۔‘‘ وہ غصے سے کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا
***********
آبص اور جبال ان سب سے الگ تھے تو ا س لیے انہیں معاملے کا پتا نہیں تھا۔۔ وہ لوگ واپس آئے تو وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا۔۔ اُن دونوں نے وہی بیٹھ کر ان کے انتظار کرنے کا فیصلہ کیا۔۔۔
’’جبال ۔۔۔‘‘ آبص نے پکارا
’ہممم۔۔‘‘ جبال نے بس اتنا ہے کہا
’’آج ناجانے کیوں میرا دل گھبرا رہا ہے۔۔جیسے کچھ برا ہونے والا ہے۔۔۔‘‘وہ پرشانی سے بولی
’’تمہارا وہم ہے اور کچھ نہیں ہے۔۔۔‘‘اس نے بات پر ذیادہ دھیان نہیں دیا
’’لیکن۔۔۔‘‘
جبال اس کی بات کاٹ کر بولا
’’چلو میں تمہیں ایک غزل سناتا ہوں۔۔۔۔‘‘
’’سناؤ۔۔۔‘‘
آبص خوش ہو گئی ۔۔کیونکہ اسے جبال سے غزل سننا بہت پسند تھا
’’لو سنو۔۔۔۔!!‘‘
“لبوں کی شررات سے بدن چور ہونے تک
میں تجھ کو چاہوں کہ میری سانس رک جائے
خطاوں پر خطائیں ہوں نہ ہو کچھ بات کہنے کو
میں تجھ میں یوں سما جاوں کہ میری سانس رک جائے
نہ ہمت ہو تجھ میں باقی نہ ہمت ہو مجھ میں باقی
مگر اتنا آوں کہ میری سانس رک جائے
میں اپنے لب یوں رکھ دوں تیرے لبوں پر
یا تیری پیاس بجھ جائے یا میری سانس رک جائے‘‘
وہ کان کی لو تک سرخ ہو چکی تھی جب جبال نے اسے دیکھا تو ہنس دیا اور بولا
’’یار اتنا بلش مت کرو ۔۔۔ورنہ میں اپنے آپ کو روک نہیں پاؤں گا۔۔۔‘‘
’’جبال۔۔‘‘وہ چلائی
’’اچھا اچھا۔۔‘‘ وہ ہاتھ کھڑے کرتا ہوا بولا
اتنے میں انہیں باقی سب لوگ آتے ہوئے نظر آئے۔
جبال نے اس سے پوچھا تو ابیرہ نے سب بتایا جو برہان نے کیا ۔۔ جبال نے افسوس کیا اور وہ لوگ جشن میں جانے کے لیے چل پڑے۔۔
*************
وأخیرا ما ھیی مشکلتک۔۔؟؟‘‘
(آخر تمہارا مسئلہ کیا ہے۔۔؟؟)
پاشا نے اس ڈانسر سے پوچھا جو بار بار اس کے قریب آنے کی کوشش کر رہی تھی
’’أنت۔‘‘
ّ(تم۔۔!!)
وہ ایک ادا سے بولی
اس سے پہلے کہ پاشا اس کو غصے سے گولی مارتا باہر سے دھماکے کی آواز آئی
****************
’’تمہیں کیا ہوا۔۔۔کیا سوچ رہی ہو۔۔۔‘‘ ابیرہ کو گہری سوچ میں ڈوبا دیکھ کر سرحان بولا
’’ میں یہ سوچ رہی تھی کہ شیر تو جنگل میں ہوتا ہے ۔۔ تو برہان کے پاس یہاں صحرا میں کیسے آیا۔۔‘‘ ابیرہ کی سوئی ابھی بھی وہی اٹکی ہوئی تھی
’’یہ دبئی ہے ۔۔۔نہ صرف یہاں کہ بلکہ عرب معمالک کے شیخ پالتو جانوروں میں دوسرے لوگوں کی طرح بلی ،کتا نہیں بلکہ شیر اور چیتا جیسے جانور پالنا پسند کرتے ہیں۔۔بس اسی لیے یہاں شیر تھا ۔۔۔‘‘
’’ہممم۔۔۔‘‘ ابیرہ نے سوچتے ہوئے کہا
اس سے پہلے کہ وہ کچھ اُور پوچھتی انہیں دھماکے کی آواز سنائی دی۔۔
