Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Karzal (Episode 08)

Karzal by Anam Sana

تیاری مکمل ہے ۔۔۔۔۔!!” کرنل نے اس سے پوچھا

اس نے ہاں میں ہلایا

“وہاں جا کر کال کر دینا ۔۔۔!!” وہ فکر مندی سے بولے

“بابا میں نے کتنی بار کہا ہے آپ فکر نہ کرے۔۔۔۔۔۔۔” وہ مسکرا کر بولا

“کیسے نہ کرو تم اب بھی میرے لئے وہی 17 سال کے بچے ہو ۔۔۔اس حادثے نے ہم سب کی زندگی بدل دی ۔۔۔۔اور تمھیں بھی ۔۔۔۔!!”وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولے

“آگر وہ حادثہ نہ ہوتا تو میں اس طرح نہیں ہوتا جس طرح آپ کے سامنے ہوں ۔۔۔۔۔!! ” اس کے آنکھوں میں خون اتر آیا ۔۔۔

“ہممم ۔۔۔۔!!” انہوں نے اسے اپنے باہوں کے گہرے میں لیا ۔۔

“اللہ‎ تمہاری حفاظت کرے ۔۔۔ !!”

“امین ۔۔۔!”

“اچھا اس ٹیچر کا کیا بنا ۔۔۔!!” کچھ یاد ہوتے ہوئے بولے

“کل سب ختم ہو جائے ۔۔۔وہ تو اتنے بزدل ہیں جو ایک لڑکی کا سہارا لے رہے ہیں ۔۔ ۔ !! اس کی دماغ کی رگیں تن گئی

“اچھا بس تم مجھے انفورم کرتے رہنا ۔۔۔۔”

“اوکے ۔۔۔۔!!”وہ کہہ کر پھر اپنے کام میں مصروف ہو گیا

**********************

“بلیاں بلیاں آنکھا

جنھا آنکھاو نو میں تکا ۔۔۔

تو ساتے غور نہیں کردی

میں روز ہی نظراں رکھا ۔۔۔”

جبال ٹک ٹوک پر ویڈیو بنانے میں مصروف تھا اور ساتھ آبص کو چرانے میں بھی ۔۔۔۔

“جبال بند کرو اس کو نہیں تو میں نے یہ تمہارے سر میں دے مرنا ہے ۔۔۔۔۔!! وہ پاس پڑے گلدن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی

“لو میں نے کیا کہا ہے میں تواپنی ویڈیو بنا رہا ہوں ۔۔ ۔ !!” وہ ناسمجھنے کی اداکاری کرتے ہوئے بولا

“جبال میں بتا رہی تم کو ۔۔۔۔!!”وہ غصے سے بولی

“کیا ۔۔۔؟”

“ویڈیو بنانا بند کرو ۔۔۔۔ورنہ ۔۔۔۔”

ورنہ کیا ۔۔۔؟” وہ دوبدر بولا

“ورنہ یہ ۔۔۔” اس نے پاس پڑا کشن اٹھا دے مارا ۔۔۔

جیسے اس نے کافی مہارت سے پکڑ لیا ۔۔۔۔۔

ساتھ ہی اس کو چڑایا

“جبال ۔۔۔۔!!” اس کے آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے ۔۔

جبال تو اس کے آنسو دیکھ کر تڑپ اٹھا ۔۔۔اس نے یہ تو نہیں چاہا تھا ۔۔۔وہ تو بس اس کو تنگ کر رہا تھا ۔۔۔وقت ضائع کئے بنا اس کے پاس پہنچا

“آبص ۔۔۔میری جان ۔۔۔۔پلیز ۔۔۔۔۔!!”

وہ اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا

اس نے اس کے ہاتھ جھڑک دیے

“جان پلیز رونا بند کرو ۔۔۔۔!!” وہ پھر بولا

“جاؤ یہاں سے جاؤ ۔۔۔۔!!” وہ منہ پھیڑ کر بولی

“کہاں ۔۔۔۔؟؟”

“جہاں مرضی جاؤ ۔۔۔۔”

“ایک بات سنو میری ۔۔۔۔” وہ اس کا چہرہ اپنی طرف کرتے ہوئے بولا

“میرے سارے راستے تم سے شروع ہوتے ہیں اور تم پر ہی ختم ۔۔۔۔ !!” وہ کہہ کر اس کی طرف جھکا وہ جو اس کی باتوں میں گم تھی اچانک افتاد پر گھبرا گئی ۔۔۔اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کیا اور خود بیڈ سے اٹھ کر تھوڑے فاصلے پر کھڑی ہو گئی ۔۔۔

“کیا ہوا ۔۔۔؟؟” اس نے حیرت سے پوچھا

“ت۔۔۔تم بہت بڑے ہو ۔۔۔۔” وہ ہکلا کر بولی

اس کی بات سمجھتے ہوئے اس کا کمرے میں قہقہہ گونجا ۔۔۔۔

آبص نے اسے خفگی سے دیکھا

“اچھا اچھا سوری بابا ۔۔۔۔” اس کی آنکھوں سے آنسوں دوبارہ جھڑنے والے تھے وہ فورا بولا پڑا

“اچھا تم جیلس ہو رہی تھی نا ۔۔” وہ اپنی مسکراہٹ دبا کر بولا

“ہاں ۔۔۔۔!!” بنا کسی لچک سے بول دیا

“کیوں ۔۔۔؟؟”

آبص نے اس کی کالر کو پکڑ کر اس کو اپنی طرف کھنچا

اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی

“مجھے بلکل بھی پسند نہیں ہے کہ تمھیں کوئی اور لڑکی دیکھے ۔۔۔تمہارے سپنے دیکھے ۔۔۔تمہارے لئے آہے بھڑے ۔۔۔۔۔۔تمہارا نام لے ۔۔۔۔کیونکہ تمہارے نام پر ۔۔ ۔تمہارے سپنوں پر ۔۔ ۔ تم پر صرف اور صرف میرا حق ہے ۔۔۔۔!!”

جبال نے سامنے کھڑی اپنے لئے دیوانی لڑکی کو دیکھا

پھر اس کو حصار میں لیتے ہوئے بولا

“You are the most rare and beautiful flower on this planet and I’m the luckiest man who have you in my arms. My love for you, my wife, will always shine bright “

آبص نے اس کے اس خوبصورت اظہار پر مسکراتے ہوئے اس کے گرد اپنے بازو حائل کر لئے ۔۔۔۔

*****************

بڑے کھوئے کھوئے رہتے ہو ۔۔۔!!”وہ جو کسی اور ہی دنیا میں تھا پاشا کی آواز پر واپس دنیا میں لوٹ آیا

“ن۔۔۔نہیں تو ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔۔” وہ پہلی بار اس کے سامنے ہکلایا تھا

پاشا نے ایک گھونٹ گلاس میں موجود شراب کا بھڑا اور بولا

“جو لا حاصل ہو اس سے محبت نہیں عشق ہوتا ہے ۔۔۔!!”

یسوع نے ایک نظر اسے دیکھا اور واپس اپنے کام میں لگ گیا ۔۔۔۔

“تجھے پتا ہے ایک بار اس نے مجھے بددعا دی تھی ” وہ بولتے بولتے چپ ہو گیا

“کیا ۔۔۔؟” یسوع نے جلدی سے پوچھا

وہ بولا

“الحب هو الحب أيضا ، ثم أرى كيفية التغلب على الحب في حبك۔۔۔!!”

(عشق کو بھی عشق ہو تو پھر میں دیکھوں عشق کو کیسے تڑپے کیسے روئے عشق اپنے عشق میں ۔۔۔!!)

یسوع نے حیرت سے اس کو دیکھا

“پہلے وہ عشق کرتی تھی اور اب میں ۔۔۔۔۔!!!” پھر خاموشی ۔۔۔۔طویل خاموشی ۔۔

_____________

“آجا بھائی جلدی کر ۔۔۔۔۔!!” برہان نے سرحان کو پکارا

“آگیا ۔۔ !!! ” وہ جلدی سے اس کے پاس آیا اور دونوں ہی ٹک ٹوک پر ویڈیو بنانے میں مگن ہو گئے

وہ لوگ اس وقت یونیورسٹی میں تھے ۔ ۔

ابیرہ اور انوش اپنی باتوں میں لگی ہوئی تھی ۔۔۔جبکہ کیف مازیہ کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔اور ایک وہ تھی کے آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔۔۔

“hello guys “

جبال نے ان کو دیکھ لیا تھا ۔۔۔ساتھ آبص بھی تھی

“hy jabal …!”

کیف اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے بولا

انوش اور ابیرہ بھی اٹھ کر ان کے پاس آگئی

“چل آجا ویڈیو بناتے ہیں ۔۔۔!!” برہان اس کو موبائل دیکھاتے ہوئے بولا

“نہ بابا نہ میری توبہ ۔ ۔ !!” وہ کانوں کے ہاتھ لگاتے ہوئے بولا

“کیوں ۔۔ کیا ہوا ۔۔۔؟؟” برہان نے حیرت سے پوچھا

“بھائی میرے بھائی۔۔ تیری بھابھی کو بلکل بھی نہیں پسند ۔۔۔اس لئے میں نے چھوڑ دیا ۔۔۔اور تو جانتا ہے جو چیز میری جان کو نہیں پسند وہ میں نہیں کرتا ۔۔۔! “وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا

“اللہ‎ اللہ‎ ُتو تو پورا جوڑو کا غلام ہے ۔۔۔۔!!برہان اس پر طنز کرتے ہوئے بولا جبکہ انوش اور ابیرہ دونوں ہی ہنسنے لگی سرحان کا تو قہقہہ گونجا

برہان نے تو اس کو تیکھی نظر سے دیکھا اور پھر جل کر بولا

“تیرے بڑے دانت نکل رہے ہیں ۔۔۔۔!!”

اس سے پھر بھی اپنی ہنسی کنٹرول نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔

“لکھوا لے مجھ سے اس نے سب کا ریکارڈ توڑنا ہے ۔۔۔!!”

وہ دانت پیس کر بولا

“او میلا بھائی ۔۔۔۔!! “وہ اس کے گال کھنچتے ہوے بولا

“کیا کر رہے ہو سرحان ۔۔۔مت تنگ کرو اسے ۔۔۔۔!! ابیرہ بولی

“واہ شوہر کو چھوڑ کر دیور کی طرفداری کر رہی ہو ۔۔۔شرم کرو شرم ۔۔۔!! ” سرحان نے اسے شرمندہ کرنا چاہا ۔۔ابیرہ کچھ بولنے ہی والی تھی کہ جبال بولا

“کون شوہر ،کس کا شوہر ۔۔۔۔؟؟” وہ اس کے سر پر کھڑا بول رہا تھا

“تو نے شادی کرلی اور بلایا بھی نہیں ۔۔۔۔۔!! کیا زمانہ آگیا ۔۔۔!!” وہ جھوٹے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا

“یہ شادی کب ہوئی ۔۔۔؟؟” آبص بولی

“یار صرف نکاح ہوا ہے ۔۔۔اور بس جلدی میں ہوا ہے کسی کو بلا نہیں سکے ۔۔۔!!” سرحان بولا

“او میرے مبارک ہو آج سے تو بھی ہماری لائن میں لگ گیا ۔۔۔۔!!” وہ ایک آنکھ دبا کر بولا

اس کی بات پر سب کا قہقہہ گونجا

آبص نے ابیرہ کو مبارک بعد دی ۔۔۔سب لوگ آپس میں باتوں میں مشغول تھے جب دور سے آتے ہوئے آغر کو دیکھ کر برہان چلایا ۔۔کیف نے بھی اس کی سمت میں دیکھا تو اس کی دماغ کی رگیں تن گئی کیونکہ وہ اکیلا نہیں تھا اس کے ساتھ وہ دشمن جاں بھی تھی ۔۔جس نے اس کا دن و رات کا چین لوٹا تھا ۔۔۔

“السلام عليكم ۔۔۔۔!!” مازیہ پاس آکر بولی سب نے اس کا جواب دیا

“یہ پیاری سے لڑکی کون ہے ۔۔۔۔؟؟” آبص اس کے گالوں کو چھوتے ہوئے بولی مازیہ جھنیپ گئی

“یہ ہماری نیو فرینڈ ہے مازیہ ۔۔اور مازیہ یہ آبص ہے ہماری سینئر اور دوست ۔۔۔۔وہ کیا ہے نہ سینئرز کے ساتھ بنا کر رکھنی چاہیے اپنا ہی فائدہ ہے ۔۔۔۔”ابیرہ شرارت سے بولی

سب ہی اس کی بات پر ہنس دیے

اپنے اوپر کسی کی نظروں کو محسوس کر کے مازیہ نے جب ادھر ادھر دیکھا تو اس کی نظر کیف پر رک گئی ۔۔جو غصے سے مٹھیاں بھینچے اسی کو دیکھ رہا تھا ۔۔

“یہ مجھے اسے کیوں دیکھ رہے ہیں ۔۔۔؟؟” مازیہ نے خود سے سوال کیا لیکن جلد ہی اسے احساس ہو گیا کہ وہ اس کو کیوں دیکھ رہا ۔۔وہ تقریباً آغر کے ساتھ کھڑی تھی اور ان کا کندھا ایک دوسرے سے مس ہو رہا تھا ۔۔

مازیہ نہ محسوس انداز سے پیچھے ہٹی اور کسی نے محسوس کیا ہو یا نہیں لیکن آغر اور کیف نے ضرور دیکھا تھا

کیف کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ پڑی جو ابیرہ اور آغر سے مخفی نہیں رہ سکی

“کسی کو پتا ہے کہ گڈ نیوز کیا ہے ۔۔۔؟” سرحان بولا

“ہاں مجھے پتا ہے ۔۔۔” آبص بولی

“کیا ہے ۔۔۔!!” برہان جلدی سے بولا

“لڑکے صبر بتا رہی ہوں وہ ۔۔۔۔!!”

اس نے بات کاسپنس بڑھایا

“وہ کیا ۔۔۔۔؟؟” ابکی بار سرحان بولا

“وہ یہ کہ ہم لوگ یونی کے ٹور سے دبئی جا رہے ہیں ۔۔۔۔!! وہ خوشی سے بولی

“کیا ۔۔۔۔!!”

“نہ کرو ۔۔۔کیوں مذاق کر رہی ہو ۔۔۔”سرحان کو تو یقین ہی نہیں آیا ۔۔۔۔

“ارے میں مذاق نہیں کر رہی ۔۔سچ میں نہیں یقین تو جا کر نوٹس بورڈ پڑھ لو ۔۔۔۔”

“ارے واہ پھر تو مزہ آئے گا ۔۔۔!!” برہان خوشی سے بولا

“لیکن میں تو نہیں جا سکتی ۔۔۔” مازیہ بولی

“کیوں ۔۔۔؟؟” کیف فورا بولا

“وہ اماں گھر میں اکیلی ہوتی ہیں تو ان کو چھوڑ کر کیسے جاؤ ۔۔۔”

“تم اماں کو اپنے بابا کے پاس بھیج دو ۔۔۔” برہان نے اپنے طرف سے اسے آئیڈیا دیا لیکن کیف کی گھوری اپنی غلطی کا احساس ہو گیا

“ہم تمھیں بھی مس کرے گے ۔۔” ابیرہ اس کے گلے لگتے ہوئے بولی

“ویسے مبارک ہو تمھیں ۔۔۔۔!!” وہ مسکرا کر بولی

“کس بات کی ۔۔۔؟”ابیرہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا

“تمہارے نکاح کی ۔۔۔اور آپ کو بھی سرحان بھائی ۔۔۔!!” وہ مسکرا کر بولی

“تمھیں کس نے بتایا ۔۔۔؟؟”

“انہوں نے ۔۔۔!!” وہ آغر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی

“کتنا ٹیپکل ساؤنڈ کر رہا ہے ۔۔۔ایسا لگ رہا ہے اپنے شوہر سے مخاطب ہے ۔۔۔۔” جبال ہنس کر بولی

لیکن جلدی ہی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا

“کیا جبال آپ بھی نہ ۔۔” آبص بولی اور پھر مازیہ کے پاس آئی اور بولی

“سوری مازیہ ۔۔۔جبال بس کبھی کبھی مذاق کر جاتے ہیں ۔۔۔

مازیہ نے مسکرانے کی کوشش کی اور کیف کی جانب دیکھا جو دانتوں کو ایک دوسرے میں پیوست کئے اسے ہی دیکھ رہا تھا

پھر جب برداشت نہ ہوا تو بولا

“میں جا رہا ہو ۔۔جس نے آنا ہے آجائے ۔۔۔۔!!”

کہہ کر رکا نہیں وہاں سے چلا گیا

“اسے کیا ہوا ۔۔۔؟” سرحان نے حیرت سے پوچھا

برہان نے کندھے اچک کر لاتعلقی کا اظہار کیا

صرف ایک انسان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔۔۔جاندار مسکراہٹ ۔۔۔۔

****************

کسی کا عشق کسی کا خیال تھے ہم بھی

گئے دنوں میں بہت باکمال تھے ہم بھی

ہماری کھوج میں رہتی تھیں تتلیاں اکثر

کہ اپنے شہر کا سن و جمال تھے ہم بھی

زمین کی گود میں سر رکھ کر سو گئے آخر

تمہارے عشق میں کتنے نڈھال تھے ہم بھی

ضرورتوں نے ہمارا ضمیر چاٹ لیا

وگرنہ قائل رزق حلال تھے ہم بھی

ہم عکس عکس بکھرتے رہے اسی دھن میں

کہ زندگی میں کبھی لازوال تھے ہم بھی

(پروین شاکر )

*************************

“تم الانتهاء من جميع الاستعدادات ، لقد جئت للتو وجعل النهائي النهائي۔” شیخ بولا

( ساری تیاری ہو چکی ہے ۔۔تم بس آؤ اور ڈیل فائنل کرو )

“انظروا ، أنا لا أحب أن أتذكر تذكر أن تفوت دقيقة حتى لو ديل إلغاء …”

(دیکھو مجھے انتظار کرنا پسند نہیں ہے یاد رکھنا ایک منٹ بھی دیری ہوئی تو ڈیل کینسل ۔۔۔)

وہی مغرور لہجہ جس پر سب فدا ہوتی ہیں

“لا تقلق في وقت متأخر لا تقلق۔۔”

(نہیں ہوتی دیر پاشا تم فکر نہ کرو ) شیخ بولا

“متى تكون رحلتك۔۔لذا أظن كم ستأتي إلى دبي؟”

(تمہاری فلائٹ کب کی ہے ۔۔تاکہ مجھے اندازہ ہو جائے کہ تم کب تک دبئی آجاؤ گے ) شیخ کچھ سوچتے ہوئے بولا

“باشا لا يخبر أحدا عندما يفعل ذلك ، لا تقلق ، سيكون على واجب في دايل۔۔۔”

(پاشا کسی کو بتاتا نہیں ہے کہ وہ کب کیا کرنے جا رہا ہے اس لئے فکر مت کرو ڈیل کے وقت وہی پر ہوں گا ۔۔)

پھر کچھ اور باتیں کر کے فون بند کر دیا

آنکھیں موند کر وہی صوفے پر لیٹ گیا

اور اس کے لب گنگانے لگے

کج شوق سی یار فیقری دا

کج عشق نے در در رول ِدتا

کج سجن کسر نہ چھوڑی سی

کج زہر راقیباں گھول ِدتا

کج ہجر فراق دا رنگ چڑھیا

*******************

“اللہ‎ تیرا شکر ۔۔۔۔!!” برہان صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھا

“برہان تمیز نہیں ہے ۔۔ “انوش چلائی وہ صوفے پر پہلے بیٹھی تھی برہان کے گرنے سے اپنی جگہ سے اچھل پڑی

“ایک تم یار ۔۔۔بلکل ہی سوکھی لکڑی جیسی ہو ۔۔۔کچھ کھایا پیا کرو ۔۔تاکہ کھاتے پیتے گھر کی لگو ۔۔۔کل کو تمہاری شادی بھی کرنی ہے ۔۔۔تمہارے سسرال والے تو ہمیں ہی طعنہ دے گے کہ لڑکی کو کچھ کھلایا نہیں ۔۔۔۔!!”وہ بات کو کہاں سے کہاں لے گیا وہ ہونقوں کی طرح منہ کھولے اس کو دیکھ رہی تھی

سرحان کا قہقہہ گونجا ابیرہ بھی ہنس دی

“برہان تم ۔۔۔۔!!” وہ غصے سے بولی

“کیا میں ۔۔۔۔!!”وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا

“تم رکو میں ابھی بابا کو بلا کر لاتی ہوں ۔۔ !! “انوش نے اس کی کمزوری پکڑی وہ جانتی تھی کہ برہان ڈرتا ہے بابا سے صرف برہان ہی نہیں سب کی جان جاتی تھی

اس لئے اس کی دھمکی دی اور اثر بھی کر گئی

“اے دیکھ میری ماں آگے ہی بہت ڈانٹ پڑ چکی ہے۔۔۔بہت مشکل سے مانے ہیں ۔۔۔خبردار جو تم گئی ان کے پاس ۔۔۔۔!!سرحان بولا ۔۔

جب انہیں اس کے کارنامے کا پتا چلا تب وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آئے ۔۔۔اس کی بہت سرزنش کی

ابیرہ کے ہونٹوں پڑ مسکراہٹ رینگ پڑی

“اوے آغر آجا تو بھی آجا ۔۔۔” برہان بولا وہ بھی آکر اب کے ساتھ بیٹھ گیا

“اچھا چھوڑ یہ سب آجاؤ کوئی گیم کھیلتے ہیں ۔۔نیند تو آنہیں رہی ۔۔۔!!”ابیرہ بولی

“اچھا کیا کھیلے ۔۔۔؟؟”سرحان بولا

“ہممم ۔۔۔انتکشیری تو سب ہی کھیلتے ہیں ہم کچھ اور کھیل ہیں ۔۔۔۔!!” انوش بولی

“شعر و شاعری کرتے ہیں ۔۔۔!!” برہان بولا

سب نے اوکے کہا

“پہلے میں سٹارٹ کرتا ہوں “

“ٹھیک ہے ۔۔۔” سرحان بولا

“عرض کیا ہے ۔۔۔!!”

“ارشاد ۔۔ارشاد ۔۔۔”سب ایک ساتھ بولے

“عرض کیا ہے ۔۔۔۔”

“ارشاد ۔۔۔ارشاد ۔۔۔۔”

“عرض کیا ہے ۔۔۔ !!”

“آگے بھی بول ۔۔۔۔!!سرحان بولا

“بول رہا ہو ۔۔۔صبر کرو ۔۔۔”برہان بولا

“تمہارے جانے کے بعد وقت تھم سا گیا ۔۔۔”

“واہ واہ ۔۔!!” سب ایک ساتھ بولے

“تمہارے جانے کے بعد وقت تم سا گیا ۔۔۔!!”

“واہ واہ ۔۔۔۔”وہ سب ایک بار پھر بولے

“وہ تو بعد میں پتا چلا کہ گھڑی کا سیل ختم ہو گیا ۔۔۔۔”

وہ سب جو اس کو غور سے سن رہے تھے اس کے اس بکواس شعر پڑ لعنت بھجتے ہوئے سیدھے ہوئے

“جیسی شکل ویسا شعر ۔۔ !!”انوش منہ بنا کر بولی

” میری شکل پڑ مت جاؤ الحمد اللہ بہت اچھی ہے ۔۔۔لڑکیاں مرتی ہیں ۔۔۔۔۔” وہ اترا کر بولا

“موسکیٹو سپرے کو دیکھ کر مکھیاں مرے گی ۔۔۔” ایک منٹ میں انوش نے اسے خوش فہمی دنیا سے حقیقی دنیا میں لا پٹکا

“ہونہہ ۔۔۔جلتی ہو میری شہرت سے ” وہ منہ ٹیڑھا کر کے بولا…….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *