Karzal by Anam Sana NovelR50670 Karzal (Episode 06,07)
No Download Link
Rate this Novel
Karzal (Episode 06,07)
Karzal by Anam Sana
پاشا کب تک آئے گا ۔۔۔۔؟” جبال نے یسوع سے پوچھا
“تم اچھے سے جانتے ہو کہ پاشا ٹائم کا بہت پابند ہے 10:30 کا کہا ہے آجائے گا ۔۔۔۔۔۔
یسوع اس کو دیکھتے ہوئے بولا
“10:30 ہو چکے ہیں ۔۔۔۔” وہ اس کو دیکھتے ہوئے بولا
“10:30 نہیں 10:29 ہوئے ہیں ۔۔۔۔” وہ اس کو اپنے ہاتھ میں بندھی گھڑی دیکھاتے ہوئے بولا
“ایک منٹ سے کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔”
“دنیا بدل جاتی ہے ۔۔۔۔!!”
“کیسے ۔۔۔؟؟”
“ایک منٹ میں 118 لوگ مرتے ہیں ۔۔۔228 بچے پیدا ہوتے ہیں ۔۔۔۔25 ملین لوگ کوک کی بوتل پیتے ہیں ۔۔۔116 لوگ شادی کر لیتے ہیں ۔۔۔1118 لوگوں کی طلاق ہو جاتی ہے ۔۔۔4.7 بلین پانی لوگ ضائع کر دیتے ہیں ۔۔۔۔اور ۔۔۔۔”وہ کچھ اور بولتا جبال بول پڑا
“اوئے بس کر سائنس کی اولاد ۔۔۔۔میں تو پوچھ کر ہی پچھتایا ۔۔۔۔”
یسوع کے لبوں پر مسکراہٹ رینگ پڑی
“سائنس کی اولاد نہیں ہوتی ۔۔۔سائنس کی تو ۔۔۔۔”
“اے میرے بھائی مجھے بخش میں کہاں آرٹس کا سٹوڈنٹ کہاں ے سائنس کو سمجھ پاؤ گا ۔۔۔۔” اس نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہا
اتنے میں دروازہ کھلا اور پاشا اپنی پوری شان و شوکت سے اندر آیا
پاشا نے ان کو بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔دونوں کے بیٹھنے کے بعد پاشا بولا
“اس مال میں بلاسٹ کرنا ہے ۔۔۔کیونکہ یہاں آج کل بہت لوگ ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔!!”
“جی ۔۔۔۔۔؟؟”یسوع کو لگا شاید اس نے کچھ غلط سن لیا ہے
“کیوں آگے کبھی نہیں کیا ۔۔۔۔” اس نے بھنویں اٹھا کر کہا
” کب کرنا ہے ۔۔۔۔”جبال نے پوچھا
“آج ۔۔۔” بنا کچھ سوچے بول دیا
“اوکے ۔۔۔۔” جبال کہہ کر کھڑا ہو گیا
“شام کو گڈ نیوز مل جائے گی ۔۔۔۔۔”وہ اسے کہتا باہر کو چلا گیا
“تجھے کیا ہوا ۔۔۔؟” یسوع کو پریشان دیکھا کر پاشا بولا
“نہیں کچھ نہیں ۔۔۔۔۔” وہ نفی میں سر ہلاتا ہوا بولا
“تجھے پتا ہے جب ے پاکستانی مرتے ہیں میرے سینے کو ٹھنڈک ملتی ہے ۔۔۔نفرت ہے مجھے پاکستان ۔۔۔۔۔جس نے میرا سب کچھ مجھ سے چھین لیا ۔۔۔۔میں بھی اس سے اس کا سب کچھ چھین لو گا “
“میں بھی تو پاکستانی ہوں ۔۔۔۔”یسوع کچھ سوچتا ہوا بولا
“صرف نام کا ۔۔۔۔” وہ مسکرا کر بولا
اور پھر وہی اپنی پسندیدہ غزل پڑھنے لگا
کج شوق سی یار فیقری دا
کج عشق نے در در رول ِدتا
کج سجن کسر نہ چھوڑی سی
کج زہر راقیباں گھول ِدتا
کج ہجر فراق دا رنگ چڑھیا
______________________
“کیا ہے بھائی ۔۔۔اس لئے میں ان لڑکیوں کے ساتھ نہیں آتا ۔۔۔۔اتنا ٹائم لگاتا ہے کوئی ۔۔۔۔؟” برہان غصے سے بولا وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے پارکنگ ایریا میں کھڑے تھے مگر وہ دونوں تو آنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے ۔۔۔۔۔
“اچھا ریلکس کر ۔۔۔دیکھ آگئی ۔۔۔۔” انوش کو آتا دیکھ کر کیف بولا
“کیا ہوا اتنے غصے سے کیوں دیکھ رہے ہو ۔۔۔؟؟” انوش ان کے قریب آتے ہوئے بولی
“مہربانی میڈم آگئی ۔۔۔امجھے تو لگا تھا راہوں میں پھول بچھانے پڑے گے ۔۔۔۔ور وہ دوسری کہاں ہے ۔۔۔۔۔؟؟” انوش کو دیکھ کر برہان نے طنز کیا
“پھول نہیں کانٹے ۔۔۔۔” کیف نے لقمہ دیا ۔۔۔۔
دونوں ہی ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنس پڑے ۔۔
انوش نے منہ بنایا ۔۔۔۔
“اچھا ابیرہ کہاں پر ہے ۔۔۔؟؟” سرحان پوچھا
“وہ آئی نہیں وہ تو مجھے کہہ رہی تھی کہ وہ جا رہی ہے ۔۔۔ ” وہ حیرت سے بولی
“میں کال کرتا ہو ۔۔۔۔” سرحان بولا
ناراضگی ایک طرف مگر فکر بھی بہت تھی
سب نے معنی خیزی نظروں سے اسے دیکھا ۔ ۔۔۔مگر اس نے نظر انداز کیا
“کہاں پر ہو ۔۔۔۔۔؟؟” اس کے کال پک کرتے ہی وہ بولا
“میں مال میں ہی ہو بس آ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” ابیرہ چلائی
وہ سب لوگ اپنی جگہ سے ہل گئے جس مال وہ تھے وہاں زور دار دھماکہ ہوا تھا
“ابیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔!!” سرحان چلایا
______________
“ابیرہ ۔۔۔۔۔۔۔!!” سرحان چلایا
وہ سب لوگ بلڈنگ کی طرف بھاگے ساری بلڈنگ آگ کی لپیٹ میں تھی ۔۔۔۔اندر سے لوگوں کی چینخنے کی آوازیں آرہی تھی ۔۔۔۔باہر لوگ اپنے پیاروں کے لئے رو رہے تھے ایمبولینس کی آواز بھی ان آوازوں میں شامل ہو چکی تھی ۔۔۔۔ پولیس بھی آچکی تھی ۔۔۔۔۔سارا منظر قیامت صغریٰ کا منظر پیش کر رہا تھا
کیف ،سرحان ،برہان انوش سب ہی ابیرہ کو ڈھونڈ رہے تھے ۔۔۔۔اندر سے بہت سی لاشیں نکالی جا چکی تھی ۔۔۔۔۔
سرحان اور باقی سب یہی دعا کر رہے تھے کہ ابیرہ بلکل ٹھیک ہو ۔۔۔۔۔
“سر مجھے اندر جانے دے ۔۔۔۔۔!!” سرحان چلایا وہ کب سے اندر جانے کی کوشش کر رہا تھا مگر پولیس والے اسے اندر جانے نہیں دے رہے تھے ۔۔۔۔
“ہم نے کہا ہے نا کہ آپ لوگ اندر نہیں جا سکتے ۔۔۔۔۔ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں کی سب کو سہی سلامت نکالے ۔۔۔۔آپ پلیز ہمارے ساتھ کوپریٹ کرے ۔۔۔۔” پولیس والا بولا
“خاک کام کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔ابھی تک میری ابیرہ کو باہر نہیں لے کر آئے ۔۔۔۔۔دیکھے سر میں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں مجھے جانے دے میں ۔۔۔۔میں خود لے آؤ گا ۔۔۔ابیرہ کو ۔۔۔۔۔پلیز سر ۔۔۔۔” اس نے ہاتھ جوڑ بھی دیے ۔۔۔۔
“سر آپ اس کو سمجھائے کہ ہمارے کام میں مداخلت نا کرے ۔۔۔۔” اس نے کیف کو کہا
“دیکھ سرحان صبر سے کام لے ۔۔۔۔مجھے یقین ہے کہ وہ ٹھیک ہو گی ۔۔۔۔۔” حالانکہ دل اس کا بھی بہت گھبرا رہا تھا ۔۔
“صبر ۔۔۔۔کیسے صبر کرو میں ۔۔۔۔نجانے ابیرہ کیسے ہو گی ۔۔۔۔۔” وہ رو رہا تھا ۔۔۔آگر کوئی اسے اس وقت دیکھتا تو کوئی یقین نہیں کرتا کہ یہ وہی سرحان ہے ہر وقت مستی کرنے والا ۔۔۔سب کو ہسانے والا اور خود ہسنے والا ۔۔
“سرحان ۔۔۔۔۔۔!!”وہ جو رو رہا تھا ابیرہ کی آواز پر اپنا جھکا ہوا سر اٹھایا۔۔۔۔سب لوگ جلدی سے پلٹے اور ابیرہ کو سہی سلامت، زندہ دیکھ کر سب کی جان میں جان آئی ۔۔۔۔سرحان جلدی سے آگے بڑھا اور اس کو گلے لگا لیا ۔۔۔۔
“کہاں چلی گئی تھی تم ۔۔۔۔میں ۔۔۔میں کتنا پریشان ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔” وہ پریشانی سے بولا
وہ رو رہی تھی ۔۔۔۔روتے ہی جا رہی تھی ۔۔۔۔
“ابیرہ ۔۔۔یار کیا ہوا پلیز ٹیل می ۔۔۔۔!!” سرحان اس کو اپنے سے الگ ہوتے ہوئے بولا
مگر وہ کچھ بول ہی نہیں سکی بیہوش ہو گئی ۔۔۔۔۔
سب ہی اک دم پریشان ہو گئے ۔۔۔
“برہان جلدی جاؤ گاڑی لے کر آؤ ۔۔۔۔۔” کیف چلایا
برہان جلدی سے گاڑی لے کر آیا سرحان نے اسے اپنے باہوں میں اٹھایا اور گاڑی میں بٹھایا
باقی سب لوگ بھی جلدی سے گاڑی میں بیٹھے ۔۔۔۔انوش کو لگا جیسے ان کے پیچھے کوئی ہے اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی نہیں تھا ۔۔۔اس نے اپنا وہم سمجھ کر سر جھٹک دیا اتنے میں برہان گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا ۔۔۔
______________________
“آپ کو بتاتے چلے کے اب تک 104 لوگوں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جن میں 56 ناقابل شناخت ہے ۔اور زخمیوں کی تعداد ابھی نہیں بتائی جا سکتی جیسے ہی ہمیں اور معلومات ملے گی ہم آپ تک پہنچائے گے ۔۔۔۔!!” نیوز انیکر چیخ چیخ کر نیوز سنا رہی تھی ۔۔۔
سارا پاکستان اس وقت سوگ میں ڈوبا ہوا تھا سوائے ایک شخص کہ اور وہ تھا پاشا۔۔۔۔
ایک ہاتھ میں شراب کا گلاس اور چہرے پر محضوظ سی مسکراہٹ ۔۔۔۔
“کام ہو چکا ہے ۔۔۔۔۔!!” جبال اندر داخل ہوتے ہی بولا
“ویل ڈن ۔۔۔مجھے تم سے یہی امید تھی ۔۔۔۔” شراب کا سارا گلاس ختم کر کے اٹھا اور ایک فائل اٹھا کر جبال کو دی ۔۔۔
” یہ تمہارا انعام ہے ۔۔۔۔!!” فائل کو کھول کر دیکھتے ہی جبال خوشی سے جھوم اٹھا
“یہ میرے لئے ۔۔۔۔!!” وہ نایقینی سے پوچھنے لگا
پاشا نے ہاں میں سر ہلایا
“اب اسے پتا چلے گا کہ اس نے پنگا کس سے لیا ہے ۔۔۔۔اس نے میرے آدمیوں کو مارا میں نے اس کے لوگوں کو ۔۔۔۔۔”سیگریٹ جلاتے ہوئے بولا
اتنے میں دروازہ کھلا اور یسوع اندر آیا ۔۔۔
ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ رو کر آیا ہے ۔۔۔۔
پاشا نے اس کی سرخ آنکھوں کو دیکھا اور پوچھ بیٹھا
“خیریت تو ہے ۔۔۔۔!!”
“ہاں ۔۔۔”
“اوکے ۔۔۔” پاشا کو زیادہ کسی کے معاملے میں گھسنے کی عادت نہیں تھی
“کہی عشق وشق کا تو معملہ نہیں ۔۔۔۔!!جبال نے اس کے کان میں گھس کر پوچھا جو پاشا کی زیرک سماعت سے بچا نا رہ سکا یسوع نے اس کی گھور کر دیکھا
پاشا نے ایک کش لگایا اور بولا
“جب محبت ہونے لگے تو صدقہ دے دیا کرو ۔۔۔محبت ہوئی تو مل جائے گی بلا ہوئی تو ٹل جائے گی ۔۔۔۔!!”
“واہ واہ کیا بات کی ہے ۔۔۔۔” جبال جوش سے بولا
“ایسا کچھ نہیں ہے پاشا ۔۔۔۔”وہ مظبوط لہجے میں بولا مگر وہ بھی لہجہ مظبوط نہیں تھا کھوکلا تھا ۔۔۔
اتنے میں یسوع کا فون بجا
“پاشا سریندر کا فون ہے ۔۔۔۔” فون اس کو پکڑاتا ہوا بولا
پاشا نے اس سے فون پکڑا اور دونوں کو جانے کا اشارہ کیا دونوں کے جانے کے بعد اس نے کال اٹینڈ کی
” واہ کیا دھماکہ کیا ہے ۔۔۔۔سارا پاکستان اس کی لپیٹ میں آگیا ہے ۔۔۔۔!!” وہ پرجوش لہجے میں بولا
” دھماکہ پاشا کروائے اور اس کی گونج دنیا میں نہ سنائی دے ایسا کبھی ہوا نہیں ہے ۔۔۔۔” وہی مغرور لہجہ
“یہ تو ہے ۔۔۔۔!!!” وہ بولا
“اور ۔۔۔۔۔” وہ کچھ اور بولتا پاشا بول پڑا
“بعد میں کال کرنا ابھی میں آرام کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔!!”کہہ کر کال کاٹ دی
وہ ہیلو ہیلو کرتا رہ گیا
“یہ اپنے آپ کو سمجھتا کیا ہے ۔۔۔؟؟” سریندر غصے سے بولا
“سر آپ ہی ہیں جو اس کی اکڑ سہتے ہیں ایک بار حکم دے سر ۔۔۔قسم گنگا مائیا کی آپ کے پیروں میں لا کر گرؤں گا ۔۔۔۔۔” پاس ہی کھڑا اس کا آدمی بولا
“نہیں اتنا آسان نہیں اس پر ہاتھ ڈالنا ۔۔۔اور ویسے بھی ابھی ضرورت ہے ہمیں اس کی ۔۔۔۔۔” وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا ۔۔۔
“ہمممم ۔۔۔۔۔۔!!”
“چل چلتے ہیں ۔۔۔۔اپنی جگہ پر ۔۔۔”وہ شیطانی مسکراہٹ سجائے بولا اس کی بات سن کر وہ بھی ہنس دیا ۔۔۔۔وہ جانتا تھا کہ وہ کون سی جگہ کی بات کر رہا ہے ۔۔۔وہی جگہ جہاں روز جسموں کا سودا ہوتا ہے
___________________________
جیسے جیسے بستر پر پڑے وجود کی دھڑکن مدھم ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔۔باہر والوں کی دھڑکن کی رفتار بھڑ رہی تھی ۔۔۔۔۔
“سر یہی لاسٹ آپشن ہے ۔۔۔۔” ڈاکٹر نے الیکٹرک شاک کی طرف اشارہ کیا
سینئر ڈاکٹر نے سر کے اشارے سے اجازت دی ۔۔۔۔ڈاکٹر نے اسے الیکٹرک شاک دیا ۔۔۔ وہ وجود بستر سے تھوڑا اوپر ہوا اور پھر واپس بستر پر گر گیا ۔۔۔
ایک ، پھر دوسرا اس طرح کئی جھٹکے دیے گئے ۔۔۔مگر شاید اس کی زندگی ہی اتنی تھی ۔۔۔۔مشین میں چلتی ٹیڑھی میڑھی دھڑکن لائن میں تبدیل ہو چکی تھی ۔۔۔
ڈاکٹر نے مایوسی سے ایک دوسرے کو دیکھا
ڈاکٹر نے اپنا ماسک اتارا اور دروازہ کھول کر باہرنکلا
باہر موجود لوگ شاید ڈاکٹر کا ہی انتظار کر رہے تھے ڈاکٹر کو باہر نکلتا دیکھ کر فورا ڈاکٹر کی طرف لپکے
“سوری ٹو سے ہم انہیں نہیں بچا پائے ۔۔۔۔” ڈاکٹر اپنے پرفیشنل انداز میں کہا اور وہاں سے چلے گے ۔۔۔۔۔
یہ نہیں دیکھا کہ کسی پر یہ الفاظ بجلی بن کر گرے ہیں ۔۔۔۔۔وہ ان لفظوں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہی زمین بوس ہو گیا ۔۔۔
______________
“ابیرہ ۔۔۔۔۔!!” سرحان فورا اس کی طرف لپکا
کیف بھی جلدی سے اس کے پاس آیا ۔۔۔انوش کو ان لوگوں نے گھر بھیج دیا تھا ۔۔۔۔برہان جلدی سے پانی لے کر آیا سرحان نے اس کے اوپر چھینٹے مارے مگر وہ ہوش میں ہی نہیں آرہی تھی
“برہان جلدی جا ڈاکٹر کو بلا کر لے کر آ ۔۔۔۔!” کیف چلایا
برہان جلدی سے ڈاکٹر کو بلانے بھگا۔۔۔۔
وہ جلد ہی ڈاکٹر کو بھی بلا لایا ۔۔۔۔ ڈاکٹر نے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا ۔۔۔سرحان نے اسے اپنی باہوں میں اٹھایا اور پیچھے چل پڑا روم میں پہنچ کر اس نے ابیرہ کو بیڈ پر لٹایا ڈاکٹر نے اسے چیک کیا ۔۔۔۔
“ڈاکٹر کیا ہوا کوئی پریشانی کی بات تو نہیں ہے ۔۔۔۔!!” سرحان ابیرہ کو دیکھتے ہوئے بولا
“انہیں کوئی گہرا صدمہ لگا ہے جس کی وجہ سے یہ بیہوش ہو گئی ہیں پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے میں نے انجکشن لگایا ہے تھوڑی ہی دیر میں ہوش میں آجائے گا ۔۔۔۔!!” ڈاکٹر نے کہا اور چلے گا ۔۔۔
سرحان پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گیا اور ابیرہ کو دیکھنے لگا جس کا چہرہ مرجھا گیا اس کا ہاتھ پکڑا جہاں زخم کے نشان تھے ۔۔۔۔ ابیرہ کو زیادہ چوٹ نہیں لگی تھی لیکن گرنے کی وجہ سے کچھ کانچ تھے جو اس کے ہاتھوں میں لگے تھے ۔۔۔۔
کیف نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولا
“آگر تو ہی ضبط کھو جائے گا تو ابیرہ کو کون سمبھالے گا ۔۔۔۔۔!!” کیف سے بھی ابیرہ کی حالت نہیں دیکھی جا رہی تھی مگر اسے صبر کرنا تھا آگر ابیرہ کو سمبھالنا ہے ۔۔۔۔
“کیسے کرو ۔۔۔مجھ سے اس کی حالت دیکھی نہیں جا رہی ۔۔۔۔مجھے یہ سمجھ نہیں آرہا اس کو کیسے سمبھالے گے یہ انکل کے بہت نزدیک تھے ۔۔۔۔!!”
“مجھے یہ بات سمجھ نہیں آئی انکل وہاں کیوں تھے ۔۔۔۔؟؟” برہان بولا جو ابھی آیا تھا اور شاید ان کی باتیں بھی سن لی تھی ۔۔۔
“ہاں یہ بات مجھے بھی سمجھ نہیں آئی ۔۔۔۔!! کیف بولا
“اچھا چل برہان ہم جا کے باقی فارملٹیز پوری کرتے ہیں ۔۔۔انکل کی میت کو گھر بھی لے کر جانا ہے ۔۔۔!!”
کیف بولا
“میں نے ماموں کو کال کر دی ہے وہ تو آرہے تھے میں نے ہی مانا کر دیا کہ آپ نا آئے ہم آرہے ہیں ۔۔۔۔” برہان اس کو تفصیل سے بتاتے ہوئے بولا
“سہی کیا تو نے چل چلتے ہیں ہم ۔۔۔۔اور سرحان تو یہی رہ کسی بھی وقت ابیرہ کو ہوش آسکتا ہے ۔۔۔” کیف بولا
“ٹھیک ہے ۔۔۔۔!!” سرحان بولا
دونوں کے جانے کے بعد سرحان ابیرہ کی طرف متوجہ ہوا
“بابا ۔۔۔۔” ابیرہ کو آہستہ آہستہ ہوش آنے لگا
“ابیرہ ۔۔۔!!” سرحان فورا کھڑا ہوا اس کے اوپر جھکا
ابیرہ نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولی تو اپنے اوپر سرحان کو جھکے پایا جو پریشانی سے اسے پکارا رہا تھا
سرحان کو دیکھ کر اس کا ضبط ٹوٹ گیا
“سر۔۔۔سرحان بابا ۔۔۔مجھے بابا کے پاس جانا ہے ۔۔۔۔ہاٹھوں پلیز مجھے جانے دو ۔۔۔سرحان ۔۔۔۔” وہ بیڈ سے اٹھتی ہوئی بولی ۔۔۔
سرحان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور جانے سے روکا
ابیرہ نے اس کو مڑ کر دیکھا
ابیرہ نے نفی میں سر ہلایا اور بولی
” چھوڑو مجھے پلیز ۔۔۔۔”وو اپنے آپ کو چھڑواتے ہوئے بولی
“سرحان چھوڑو مجھے ۔۔۔پلیز ۔۔۔جانے دو ۔۔۔جا ۔۔۔۔۔!!!”
“چٹاخ ” باقی کی بات اس کی منہ میں ہی رہ گئی
“ابیرہ ۔۔۔۔!!” وہ تھکے ہوئے انسان کی طرح بولا
“سرحان ۔۔۔۔۔بابا ۔۔۔” وہ روتے ہوئے اس کے سینے پر اپنا سر رکھ گئی سرحان نے اسے اپنے احصار میں لیا..
Episode 7
یہ اس نے بہت بڑی غلطی کی ہے ۔۔۔بہت بڑی ۔۔۔قاہروں کی طرح پیچھے سے وار کیا ہے ۔۔۔۔!!” نقاب پوش بولا
“بہت بے گناہ لوگ مارے گئے ہیں ۔۔۔۔۔” کرنل تاسف سے بولے
“اسے تو چھوڑنا نہیں میں نے بہت دردناک سزا دو گا ۔۔۔۔” وہ مٹھیاں بھینچ کر بولا
“وہ اکیلا نہیں ہے اس کے ساتھ وہ شیخ بھی ہے اور اسے انڈیا سے بھی مدد مل رہی ہے ۔۔۔۔۔” کرنل فائل دیکھتے ہوئے بولا
“اور وہ سکول کی ٹیچر کا کیا بنا ۔۔ کہاں تک پہنچا ہے وہ کیس ۔۔۔۔” کرنل نے اس سے پوچھا
“وہ بس کمپلیٹ ہونے والا ہے ۔۔۔وہ ٹیچر سمجھ رہی ہے کہ وہ ہمیں یوز کر رہی ہے ۔۔۔۔مگر اسے یہ نہیں پتا کہ وہ خود استعمال ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔!!” وہ دلفریب مسکراہٹ چہرے پر سجائے بولا
“بہت خوب مجھے یہی امید تھی ۔۔۔۔۔” کرنل خوش ہوتے بولے ۔۔۔
“بس سر تھوڑا ٹائم اور اور پاشا ہمارے شکنجے میں ہو گا ۔۔۔۔!!” وہ عزم لئے ہوئے بولا
____________________
“تم لہجہ ایک سا رکھتے ہو ،الفاظ بدلتے رہتے ہو
کبھی عشق ،کبھی خنجر ،انداز بدلتے رہتے ہو
تیرے پیچھے پیچھے رہتی ہوں ،تیرا ہر ٹھکانہ دیکھا ہے
یہ جو گھر بدلتے رہتے ہو ،بیکار بدلتے رہتے ہو”
آبص کا میسج پڑھتے ہی جبال نے اپنی آنکھیں بند کی اور صوفے سے ٹیک لگا لی ۔۔۔کچھ سوچتے ہوئے وہ اٹھا اور گھر سے نکل پڑا
جب سے ان دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا وہ دوبارہ گھر ہی نہیں گیا تھا اس کی یاد تو ستا رہی تھی مگر پھر انا آگے جاتی لیکن آج اس کا میسج پڑھ کر وہ اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکا ۔۔۔وہ جانتا تھا کہ وہ بہت جذباتی ہے ۔۔۔اور اس سے محبت بھی بہت کرتی ہے ۔۔۔کہی کچھ کر نہ بیٹھے ۔۔۔۔
کچھ ہی پل میں وہ گھر تھا۔۔۔۔۔ اپنے گھر ۔۔۔۔
وہ جلدی سے گاڑی سے نکلا اور دروازہ کھول کر اندر گیا ۔۔
وہ جانتا تھا کہ وہ اس وقت کہاں ہو گی ۔۔۔۔ اور وہ وہی ملی جہاں اس نے سوچا تھا ۔۔۔ان کے اپنے روم میں ۔۔۔۔۔
“آبص ۔۔۔۔!!” اس کی آواز پر اس نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھایا ۔ ۔ ۔بکھرے بال،سرخ آنکھیں ،لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ وہی آبص جو ہر وقت سج دھج کر رہتی تھی ۔۔۔اس کی حالت دیکھ کر اسے خود پر بہت غصہ آیا
“i am sorry …..
وہ آہستہ سے اس کے پاس بیٹھٹی ہوئے بولا
“بہت آسان ہے دل دکھا کر کے معافی مانگ لینا ۔۔۔یہ کوئی نہیں دیکھتا کہ زخم کتنا گہرا لگایا ہے ۔۔۔۔معافی مانگ کر کیا سمجھتے ہو کہ زخم بھر دیا ہے ۔۔۔نہیں ۔۔۔یہ زخم بھرتا نہیں ہے ۔۔۔بلکہ اس کے اوپر معافی کی تے جم جاتی ہے ۔۔۔جو اس کو پھیلنے نہیں دیتی مگر یہ جو اندر ہی اندر گھلتا ہے اس کا کیا ۔۔۔۔۔!!!” وہ تلخی سے بولی
اس نے شرمندگی سے سر جھکا لیا اس نے اس کا جھکا ہوا سر دیکھا اور اپنا چہرہ پھیڑ لیا ۔۔۔وہ اس وقت کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی وہ اس کو سزا دینا چاہتی تھی ۔۔۔وہ جیسی بھی تھی لیکن کردار کی پکی تھی ۔۔۔بچپن سے لے کر جوانی تک صرف چاہا تو صرف جبال کو چاہا ۔۔۔اپنے طرف اٹھنے والی ہار پسندیدگی نگاہ کو روندا ۔۔۔صرف جبال کی نگاہ کی منتظر رہی ۔۔۔۔اور ایک دن وہ بھی آیا جب اُس کی نظر اس پر پڑی تو کسی اور پر پڑ نہ سکی ۔۔۔۔۔
“تم جانتی ہوں ۔۔۔۔میں تمہارے لئے کتنا پوسسیو ہوں ۔۔۔ تمہارے منہ سے پاشا کا نام سن کر میں اپنے اوپر قابو نہیں رکھ سکا ۔۔۔۔۔۔۔!!” وہ اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا
“مجھے کبھی کبھی تمہاری اس دیوانگی سے ڈر لگتا ہے ۔۔۔۔”
“اور یہ دیوانگی بھی تمہارے لئے ہے ۔۔۔۔!!!”
آبص نے اسے خفگی سے دیکھا اس طرح دیکھنے پر جبال ہنس دیا
وہ اس ہنستا ہوئے دیکھنے لگی پھر بولی
“مجھے تم چھوڑ مت دینا
ہزاروں دوریاں آئیں
بہاریں آکر کھو جائیں
میرا چہرہ بھلا دینا
میری یادیں بچا لینا
جو لمحے درد دیتے ہوں
انہیں بیشک بھلا دینا
جو لمحے آس دیتے ہوں
انہیں دل سے لگا لینا
کہیں بھی دور رہ لینا
بہت مجبور رہ لینا
مگر تعلق تم مت توڑ دینا
مجھے تم چھوڑ مت دینا”
“کبھی بھی نہیں ۔۔۔۔!!”
جبال نے مسکرا کر کہا اور اسے اپنے احصار میں لے لیا ۔۔۔۔
___________________________
بیٹا ابیرہ نہیں آئی ۔۔۔۔” سبین نے انوش سے پوچھا
“نہیں ۔۔۔۔!!” وہ بولی اور اپنا کھانا کھانے لگی ۔۔۔۔
“بچی نے اپنا کیا حال بنا لیا ہے ۔۔۔۔اس طرح تو اس کی طبیعت اور خراب ہو جائے گی ۔۔۔۔ایک مہینہ ہو گیا بھائی صاحب کو گئے ہوئے ۔۔۔۔” بم دھماکے میں ابیرہ کے والد کی وفات ہوئی تھی ۔۔۔جس کے بعد ابیرہ کو تو کوئی ہوش ھی نہیں تھا انوش برہان کیف سب ہی اس کا دل بھلانے کے لئے کچھ نہ کچھ کرتے رہتے تھے ۔۔۔۔مگر ایک بار بھی اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں آئی ۔۔۔ایسا لگتا تھا جیسے وہ ہنسنا بھول گئی ہے ۔۔۔
“اس نے صبح بھی کچھ نہیں کھایا تھا ۔۔۔۔؟” وہ انوش سے بولی ہوئی
اس نے نفی میں سر ہلایا
“اب کہاں ہے وہ ۔۔۔؟؟”
“شاید لان میں ہے ۔۔۔؟؟” وہ بولی
“چلو ایسے اس کا دل بھیل جائے گا ۔۔۔۔۔!!” وہ مسکرا کر بولی کیونکہ وہ پورے ایک مہینے بعد کمرے سے نکلی تھی ان کے لئے یہی بہت تھا ۔۔۔
“طلب ایسی کہ بسا لو دل میں اسے
نصیب ایسا کہ میسر دیدار بھی نہیں “
سرحان اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولا آج اس نے پورے ایک مہینے بعد اس کو دیکھا تھا دوبارہ اس کی ہمت ہی نہیں ہوئی تھی اس کو دیکھنے کی ۔۔۔۔
اپنے پاس کسی کو محسوس کر کے ابیرہ نے اپنا جھکا سر اٹھایا شال کو اپنے گرد پھلایا ہوا تھا آنکھیں بھی ویران تھی ۔۔۔ اس کو اس طرح دیکھ کر سرحان کا دل کٹ گیا سرحان کو دیکھ کر پھر سامنے دیکھنے لگی
“سرحان میرے ابو کے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا ۔۔۔؟؟” ساتھ ہی آنسو بھی روانہ ہو گئے
“کیونکہ ان کی قسمت میں ایسا لکھا تھا ۔۔۔اور ہم قسمت کو بدل نہیں سکتے ۔۔۔۔!!” وہ اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا
“لیکن میرے ہی ابو کیوں ۔۔۔؟؟”
“ابیرہ وہاں صرف تمہارے ابو نہیں تھے وہاں اور بھی کسی کی بہن ،کسی کی بیٹی ،کسی کی ماں ،کسی کا بھائی ،کسی کا باپ ،کسی کی بیوی ،کسی کی بیٹی سب تھے ۔۔۔ان سب کی قسمت میں یہی لکھا تھا ۔۔۔۔اور موت تو برحق ہے وہ تو آنی ہے ۔۔۔آج نہیں تو کل ۔۔۔۔”
ابیرہ کے اب بھی آنسو بہہ رہے تھے
“یار ابیرہ اس طرح مت رو ۔۔۔تمہارے ان آنسوں سے انکل کو تکلیف ہو رہی ۔۔۔تم چاہتی ہوں انکل کو تکلیف ہو ۔۔۔؟” اس نے نفی میں سر ہلایا
“تو چلو پھر اچھے بچوں کی طرح اپنے آنسو صاف کرو
اور ان کی مغفرت کی دعا کرو ۔۔۔۔”
اس نے واقعی بچو کی طرح آنسو صاف کر لئے ۔۔۔
“اچھا چلو ۔۔۔گھر چلتے ہیں ۔۔۔۔ ” وہ کھڑے ہوتے ہوئے بولا
ابیرہ اٹھنے لگی تو اس کا پاؤں شال میں پھنس گیا اس سے پہلے کے وہ گرتی سرحان نے اس تھام لیا ۔۔۔
“تم ٹھیک تو ہو ۔۔۔؟؟” سرحان نے پوچھا
وہ کچھ بولتی پیچھے سے کسی کی آواز سنائی دی
“توبہ توبہ ۔۔۔شرم نہیں آتی آج کل کی نسل کو ۔۔۔۔باپ کو مرے ابھی مہینہ ہی ہوا ہے اور یہ کام سٹارٹ کر دیے ۔۔۔۔۔
ابیرہ فورا اس سے الگ ہوئی اور سامنے ان عورتوں کو دیکھنے لگی جو نجانے کب آئی تھی اور ان کو دیکھ کر باتیں کر رہی تھی ۔۔۔
“نہ شرم رہی نہ حیا کیسے سرعام باہوں میں بہائیں ڈال کر کھڑے ہیں ۔۔۔۔” دوسری عورت بولی
“دیکھیں آنٹی میں آپ کی لحاظ کر رہا ہوں ۔۔۔آپ اپنی زبان سمبھال کر بات کرے ۔۔۔۔” سرحان غصہ ضبط کرتے ہوئے بولا
“ہائے ۔۔۔کیسے بات کر رہا کوئی شرم ہی نہیں ہے ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری ۔۔۔اور اب مجھے سمجھ آئی کہ یہ لڑکی سارا دن ان کے گھر کیوں پڑی رہتی تھی ۔۔۔
باپ کے مرنے کے بعد تو یہ آزاد ہو گئی ہے ۔۔۔۔” دوسری عورت چٹخ کر بولی
ابیرہ سے اس سے زیادہ سنا ہی نہیں گیا وہ وہاں سے اندر کی طرف بھاگی ۔۔۔
سرحان نے غصے سے ان کی طرف دیکھا اور پھر خود بھی ابیرہ کے پیچھے بھگا
” ابیرہ ۔۔۔ابیرہ میری بات سنو۔۔۔ابیرہ ۔۔۔۔!!”وہ چلایا
اس کی آواز سن کر باقی سب بھی آگئے ۔۔۔
سب حیرت سے ان کو دیکھنے لگے اور معملہ سمجھنے کی کوشش کرنے لگے ۔۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ دروازہ بند کرتی سرحان نے اپنا پاؤں بیچ میں رکھ کر اس کی کاروائی ناکام بن دی
خود اندر آکر دروازہ بند کر دیا ۔۔۔
“ابیرہ کیا کر رہی ہو ۔۔چھوڑو ۔۔۔” وہ جو اپنے کپڑے نکال رہی تھی سرحان نے اس کا بازو پکڑ کر کہا
“تم ان عورتوں کی باتوں پر دھیان مت دو ۔۔۔۔وہ ایسے ہی کہہ رہی تھی ۔۔۔۔” وہ اس کو نرمی سے سمجھاتا ہوا بولا
“وہ ایسے نہیں کہہ رہی تھی ۔۔۔وہ سہی کہہ رہی تھی ۔۔۔۔ میرا کیا رشتہ ہے تمہارے ساتھ جو میں یہاں راہوں ۔۔۔۔ کسی نے سہی ہی کہا کہ جب تک باپ زندہ ہوتا ہے ساری دنیا اپنی ہوتی ہے ۔۔۔اور جب باپ اس دنیا سے چلا جاتا ہے تو یہی لوگ عرش سے فرش پر پھینک دیتے ہیں ۔۔۔۔آج یہ بولی ہیں کل کو کوئی اور بولے گا ۔۔۔اور میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے میرے مرے ہوئے باپ پر کوئی انگلی اٹھائے ۔۔۔۔۔”
“رشتہ ۔۔۔رشتے کی بات کر رہے ہو ۔۔۔۔ تمھیں ابھی پتا چل جائے گا کہ ہمارے درمیان کیا رشتہ ہے ۔۔۔۔چلو ۔۔۔” وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر کھنچتا ہوا باہر لے آیا ۔۔۔سارے لوگ جو کان لگائے ان کی باتیں سننے کی کوشش کر رہے تھے اس کو باہر نکلتے دیکھ کر سیدھے ہو گئے ۔۔۔
سرحان نے ایک نظر سب کو دیکھا پھر برہان سے مخاطب ہوا ۔۔۔
“برہان جا ۔۔۔جا کر مولوی کو لے کر آ ۔۔۔ “
“”ہیں ۔۔ ؟؟” وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا
“ایک بار سنا نہیں ۔۔۔” وہ دانت پیس کر بولا
“پر بیٹا مولوی کا کرنا کیا ہے ۔۔۔؟؟” سبین بولی
“وہ جب آئے گے آپ کو پتا لگ جائے گا ۔۔۔۔۔!!”
“اور انوش تم ابیرہ کو اندر لے کر جاؤ ۔۔۔” اس نے انوش سے کہا ۔۔۔وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر لے گئی ۔۔۔
کسی کو بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ہو کیا رہا ہے ۔۔۔
کیف بھی حیرانگی سے سب دیکھ رہا تھا ۔۔۔سب ہی پریشان تھے ۔۔۔صرف وہ خود اطمینان سے بیٹھا تھا
کچھ ہی دیر میں برہان مولوی کو لے آیا ۔۔۔سرحان نے کونے میں لے جا کر مولوی سے کچھ بات کی ۔۔۔
مولوی نے کسی کو فون کیا اور 5 منٹ میں وہ بھی آگیا ۔۔۔
“مولوی صاحب نکاح پڑھانا شروع کرے ۔۔۔۔!” سرحان بولا
نکاح کا سن کر سب کو جھٹکا لگا ۔۔۔
سبین کچھ بولنے والی ہی تھی کہ اس سے پہلے وہ بول پڑا
“پلیز مامی آپ کو میری قسم آپ کچھ نہیں کہی گی ۔۔۔ !!”
“اور کیف تو بھائی ہے ابیرہ کا ۔۔۔تیری رضا مندی چاہئے ۔۔ ۔ !!”
کیف نے ایسے نہیں چاہا تھا لیکن وہ اتنا جانتا تھا کہ وہ آگر اتنی جلدی کر رہا ہے تو ضرور اس کے پیچھے کوئی وجہ ہو گی ۔۔۔۔
“میری طرف سے تو اجازت ہی اجازت ہے ۔۔۔” وہ مسکرا کر بولا
تھوڑی ہی دیر میں دونوں کا نکاح پڑھوایا جا چکا تھا
ابیرہ کو تو کوئی ہوش ہی نہیں تھا ۔۔۔۔کہ ہوا کیا ہے ۔۔۔
سب سے مبارک باد وصول کرنے کے بعد وہ ابیرہ کے پاس گیا اور بولا
“یہ ہے ہمارا رشتہ ۔۔۔سب سے مظبوط رشتہ ۔۔۔میاں بیوی کا رشتہ ۔۔۔ اب کوئی تمہارے خلاف بول کر دکھائے ۔۔۔اب بیوی ہو تم میری ۔۔۔تمہاری عزت میری عزت ہے ۔۔۔۔۔۔!!!” وہ مظبوط لہجے میں بولا ۔۔۔وہ رکا نہیں چلا گیا ۔۔۔اور ابیرہ اد کو جاتا دیکھتی رہ گئی ۔۔۔ ۔
_______________________
“پاشا ہم دبئی کیوں جا رہے ہیں ۔۔۔۔؟؟” یسوع نے حیرانگی سے پوچھا
“کیونکہ وہ بھی آئے گا ۔۔۔!!”
“کون ۔۔۔۔؟؟”
“وہی جس نے ہمارے آدمیوں کو مارا تھا ۔۔۔ ۔۔”وہ سیگریٹ کا ایک کش لگاتے ہوئے بولا
“اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہو ۔۔۔۔” اس نے حیرت سے پوچھا
“کیونکہ وہ آئے گا ۔۔۔میں نے کہا ہے تو آئے گا ۔۔۔ پاشا کی کوئی بات غلط ثابت نہیں ہوئی آج تک ۔۔۔۔۔” وہ مغرور لہجے میں بولا
” دبئی کا ریگستان قبرستان بننے کو تیار ہے ۔۔۔۔!!” وہ مسکراہٹ سجائے بولا
_________________
“ہاں تو برخودار ہم پوچھ سکتے ہیں کس سے پوچھ کر اتنا بڑا فیصلہ کیا ۔۔۔۔۔!”عبدالنافیع نے سرحان سے پوچھا آواز میں سختی تھی ۔۔۔۔ جب انہیں اس کے کارنامے کا پتا چلا وہ سب کچھ چھوڑ کر گھر آگئے ۔۔۔
“وہ ماموں ۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔”اس کو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا بولے اس نے مدد طلب نظروں سے کیف کو دیکھا
انہوں نے اس کو کیف کو اشارہ کرتے دیکھ لیا تھا
“کھوتے کے پتر میں تجھ سے پوچھ رہا ہوں اس سے نہیں ۔۔۔۔۔!!” وہ اس کی گردن دبوچ کر بولے
“ہا۔۔۔۔۔ماموں آپ نے بابا کو کھوتا کہا ۔۔۔۔!!”وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں بڑی کر کے بولا
“میں نے کب کہا ۔۔۔۔؟؟” وہ حیرت سے بولا
“ابھی تو آپ نے کہا کھوتے کے پتر ۔۔۔۔تو اس لحاظ سے میرے بابا کھوتے ہی ہوئے بقول آپ کے ۔۔۔۔ !!”وہ معصومیت سے آنکھیں پٹپٹا کر بولا
“باتیں بڑی بنانی آگئی ہے ۔۔۔۔جو پوچھا ہے اس کا جواب دے ۔۔۔۔۔”وہ اس کی گدی میں مارتے ہوئے بولا
“کیا ماموں نکاح ہی کیا ہے کون سے بھگا کر لے گیا ۔۔۔۔” وہ منہ بنا کر بولا
“واہ یہ کام بھی کر لینا تھا ۔۔۔۔”وہ اس کو آنکھیں دکھاتا ہوئے بولا
“اچھا نہ ماموں ۔۔۔۔اب غصہ نہ کرے ۔۔۔بلکہ اس میں آپ کا فائدہ ہے ۔۔۔”
“میرا ۔۔۔۔؟؟”
“ہاں نہ دیکھے نہ آگر آپ ابیرہ کی شادی کہی اور کر دیتے نجانے وہ کیسا نکلتا ۔۔۔جب کہ میں معصوم سا ۔۔شریف سا ۔۔ آپ کی نظروں کے سامنے پلنے والا ۔۔۔۔سگریٹ اور شراب نوشی سی پرہیز کرنے والا۔۔لڑکیوں کے چکر میں کبھی نہ پڑنے والا ۔بس پڑھائی بھی مکمل ہونے والی ہے اس کے بعد ابّا جی کا کاروبار ۔۔۔ ڈھونڈنے سی بھی مجھ جیسا نہیں ملے گا ۔۔۔۔”وہ معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے بولا
کیف تو اس کی ایکٹنگ پر صدقے واری جارہا تھا ۔۔۔۔اور باہر کھڑے برہان اور انوش بڑی مشکل سی اپنی ہنسی روک کر کھڑے تھے ۔۔۔
“واقعی تم جیسا تو کوئی ہو بھی نہیں سکتا ۔۔۔۔!!” وہ اس پر طنز کرتے ہوئے بولے
“اچھا بتاؤ یہ کب سی چل رہا تھا ۔۔۔؟؟” وہ جانچتی نظروں سی دیکھتے ہوئے بولے
“ماموں میں آپ کو ایسا لگتا ہوں ۔۔۔۔” وہ رونی صورت بنا کر بولا
“بس بس مجھے پتا ہے جیسا تو ہے ۔۔۔۔” وہ ہنستے ہوئے بولے ۔۔۔ساتھ ہی کیف بھی ہنس پڑا
“اور یہ تم لوگ جو کان لگا کر سن رہے ہو اندر آجاؤ ۔۔۔۔!!” وہ دروازہ کھولتے ہوئے بولے
وہ جو دروازے کے ساتھ کان لگا کر کھڑے تھے دارھم سے نیچے سے گرے ۔۔۔۔۔
“کیا ہو رہا تھا یہاں ۔۔۔؟؟” وہ انہیں دیکھتے ہوئے بولے
“وہ ماموں ۔۔۔۔!!”
“وہ چاچو ۔۔۔” دونوں ایک ساتھ بولے ۔۔۔
“شرم نہیں آتی ایسے کان لگاتے ہوئے باتیں سنتے ہوئے ۔۔۔”
“لو ماموں کیسی شرم میں تو اپنے بھائی کی باتیں سن رہا تھا ۔۔۔!!”وہ دھٹائی سے بولا
“اور تم ۔۔۔؟؟” وہ انوش کی طرف دیکھتے ہوئے بولے
” تایا ابو میں اپنے بہنوئی کی باتیں سن رہی تھی ۔۔۔۔!!” وہ مسکراتے ہوئے بولی
انہوں نے تاسف سے سر ہلایا اتنا تو وہ جان چکے تھے کہ یہ کبھی نہیں سدھر سکتے ۔۔۔
“ایک بات یاد رکھنا آگر میری گڑیا کو کچھ کہا تو دیکھ لینا ۔۔۔۔!!!” وہ اس کو آنکھیں دکھاتے ہوئے بولے
“ہرےےے۔۔۔۔۔۔!!”اس نے نعرہ لگایا
“mamu i love you you world best mamu..”
وہ اس کے گلے لگتے ہوئے بولے
“اچھا بس بس اب مسکے نہ مارو ۔۔۔۔!!” وہ اس کو سائیڈ پر کرتے ہوئے بولے
ان کے جانے کے بعد انوش بولی
“تایا ابو کو تو منا لیا بابا کو کیسے مناؤں گے ۔۔۔۔!!” وہ شیطانی مسکراہٹ سجاتے ہوئے بولی
“اللہ اللہ ۔۔۔یہ لوگ مجھے خوش نہیں ہونے دے گے ۔۔۔۔ ابھی تو مجھے خوش ہونے دے جب چھوٹے ماموں آئے گے تب دیکھ لو گا ۔۔۔۔!!”
“تم دیکھ لو گے یا بابا ۔۔۔!!” وہ ابرو اٹھاتے ہوئے بولی
“او ہاں تمہارے لئے ایک گڈ نیوز ہے ۔۔۔۔!!” برہان چلایا
“اچھا وہ کیا ۔۔۔؟؟”انوش فورا بولی
“وہ یونیورسٹی جا کر پتا لگے گا ۔۔۔مجھے صرف اتنا ہی پتا ہے ۔۔۔۔!!” وہ کندھے اچک کر بولا
“فٹے منہ ۔۔۔۔!!”کیف بولا باقی سب نے بھی اس کو گھور کر دیکھا….
