Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Karzal (Episode 02)

Karzal by Anam Sana

کچھ پتا لگا ۔۔۔۔” پاشا نے سامنےکھڑے آدمی سے پوچھا جب کوئی جواب نہیں آیا تو سر اٹھا کر دیکھا اس کے چہرے پر خوف ناچ رہا تھا ۔۔۔۔

پاشا کی رگیں تن گئی اس نے پاس پڑی بندوق اٹھائی اور اس پر گولی چلا دی

گولی کی آواز پر یسوع فورا اندر آیا سامنے وہ آدمی تڑپ رہا تھا اور اس کے سینے سے خون نکل رہا تھا

یسوع نے تاسف سے سر ہلایا پھر پاشا سے بولا

“یہ کیا کیا پاشا تم نے ۔۔۔۔”

“ایسے نکارہ لوگوں کی مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔” وہ بندوق کو صاف کرتے ہوئے بولا

“پاشا اس طرح تمہارا ہی نقصان ہو گا ۔۔۔۔ہمارا دشمن بھی یہی چاہتا ہے کہ ہم خود اپنے آپ کو ختم کر لے ۔۔۔۔ ادھر وہ ہمارے لوگوں کو مار رہا ہے اور یہاں تم ۔۔۔۔۔”

وہ اس کو سمجھانے کے انداز میں بولا

“ایک بار ۔۔۔۔صرف ایک بار وہ مجھے مل جائے چھوڑا گا نہیں میں اس کو ۔۔۔۔۔” وہ مٹھیاں بھینچ کر بولا

“ہمیں صبر سے کام لینا ہو گا پاشا ۔۔۔۔نہیں تو ہمارا نقصان ہو گا ۔۔۔۔” یسوع اس کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے بولا

“لے کر جاؤ اس کو ۔۔۔۔” وہ اس کی بات کو نظر انداز کرتا ہوا سامنے پڑی لاش کو ٹھوکر مارتے ہوئے بولا

دو لوگ اندر آئے اور اس لاش کو اٹھا کر لے گئے ۔۔۔

پاشا کچھ سوچتا ہوا یسوع سے بولا

“شیخ کو کال کرو ۔۔۔۔”

یسوع نے کال کی ۔۔شیخ کے فون اٹھاتے ہی پاشا بولا

“الشيخ واحد منكم”

(شیخ تم سے ایک کام ہے )

” أليس هذا تحية جيدة ، أليس كذلك”

(یہ کیا نہ کوئی سلام دعا سیدھا کام ) شیخ نے اسے شرمندہ کرنا چاہا

“الشيخ هو مجرد مسألة عمل في أعمالنا

إذا كان عليك أن تسأل عن الموقف ، ثم تحدث مع شخص آخر”

(شیخ ہمارے کاروبار میں صرف کام کی باتیں ہوتی ہیں

آگر حال چال پوچھنا ہے تو کسی اور سے بات کر لو )

پاشا بھی کہاں شرمندہ ہونے والا تھا ۔۔۔

” لماذا تغضب؟ سوف يتم إنجاز عملك ، لكن لهذا نحن بحاجة أيضًا إلى شيء ما”

(غصہ کیوں کرتے ہو تمہارا کام ہو جائے گا لیکن اس کے لیے ہمیں بھی کچھ چاہیے)

وہ شیطانی مسکراہٹ سے بولا

پاشا نے موبائل کان سے ہٹا کر اس کو منہ ہی منہ میں گالی دی پھر بولا

“سيكون لديك الممتلكات الخاصة بك لمدة يومين وأنا يجب أن يكون ذلك”

(دو دنوں تک تمہارا مال تمہارے پاس ہو گا اور میرا میرے پاس ہونا چاہیے )

“حسنا ، يمكنك أن تبقي بضائعنا جاهزة 10:00 سوف تحصل على البضائع الخاصة بك الآن”

(ٹھیک ہے تم ہمارا مال تیار رکھنا ٹھیک 10 بجے تمھیں تمہارا مال مل جائے گا ) شیخ نے اسے یقین دہانی کروائی

پاشا نے اوکے کہہ کر موبائل بند کر دیا

“(گالی ) اس کی حوس کبھی ختم نہیں ہو گی ۔۔۔۔” وہ غصے سے بولا

“اب آگے کیا کرنا ہے ۔۔۔۔” یسوع نے پوچھا

“کرنا کیا ہے جو مانگ ہے وہ پوری کرنی ہے اب ۔۔۔۔” وہ لاپرواہی سے بولا

” لیکن وہ ۔۔۔۔۔”بات ادھوری مطلب پورا

پاشا نے ایک نظر اس کو دیکھا پھر بولا

“آگر تم ان لڑکیوں کا سوچ رہے تو مت سوچوں ۔۔۔انہیں جب خود اپنی عزت کا خیال نہیں ہے تو تم کیوں سوچ رہے ہو ۔۔۔۔۔ انہیں پہلے خیال نہیں آتا کہ ایسے کسی پر بھی یقین نہیں کرنا چاہیے مگر وہ محبت نامی جال میں پھنس کر خود شکاری کا شکار بنتی ہیں ۔۔۔۔ اور یہ جو تمہارے دل میں یہ ان کے لیے نرم گوشہ پنپ رہا ہے اس کو وہیں ختم کر دو کیونکہ ایسی لڑکیوں کے لیے کوئی ہمدردی کی ضرورت نہیں ہے

اور ویسے بھی پاکستان کی لڑکیوں کی مانگ بہت ہے ۔۔۔۔آخر خوبصورت جو ہے پاکستان اور یہی خوبصورتی نوچنی ہے میں نے ۔۔۔۔” کہتے ہی غصے سے اپنا ہاتھ شیشے کے میز پر مارا ۔۔۔۔میز ٹوٹ کر چکنا چور ہو گیا بہت سے کانچ اس کے ہاتھ میں گھس گئے جس سے خون بہنے لگا ۔۔۔۔

“پاشا ۔۔۔۔۔یہ کیا کیا ۔۔۔۔؟ ” یسوع جلدی سے اس کے پاس آیا اور ہاتھ پکڑ کر کانچ نکالنے لگا ۔۔۔۔۔۔اس کے چہرے سے پریشانی صاف نظر آرہی تھی ۔۔۔

پاشا مسکرا دیا

“مت کیا کر میری اتنی فکر ۔۔۔مجھے تجھ پر شک ہونے لگ جاتا ہے ۔۔۔۔۔”

یسوع نے اسے ناراضگی سے دیکھا اور پھر واپس اپنے کام میں لگ گیا

“کج شوق سی یار فیقری دا

کج عشق نے در در رول ِدتا

کج سجن کسر نہ چھوڑی سی

کج زہر راقیباں گھول ِدتا ۔۔۔۔۔” وہ گنگنانے لگا اور یسوع کو پتا تھا اب یہ نہیں رکے گا ۔۔۔

***************

آپ نے ایسا کیوں کیا آپ کو ذرا بھی شرم نہیں آئی ۔۔۔ایسے کون کرتا ہے ۔۔۔۔آپ ۔۔۔”

“مس نا جان نا پہچان میں تیرا مہمان والی بات کر رہی ہیں اور ہوا کیا ہے آپ کو ۔۔۔” کیف جب کے ساتھ بیٹھا کینٹین میں گپشپ کر رہا تھا مازیہ آتے ہی اس کو سنانے لگ گئی وہ بھی سب کے سامنے ۔۔۔کیف تو کیا سب ہی حیران ہوئے ۔۔۔۔جب برداشت نہ ہوا تو بول پڑا

“و۔۔۔۔وہ ۔۔” وہ اچانک اس کے بولنے پر ڈر گئی اور تھوڑا پیچھے ہوئی

” کیا وہ وہ لگایا ہے جو بات ہے سیدھے طریقے سے کرے ۔۔۔۔”

اور اتنے میں ہی مازیہ کے آنسو نکل آئے ۔۔۔

آنسو دیکھ کر کیف تھوڑا نرم پڑ گیا کیف کبھی بھی لڑکیوں سے ایسے بات نہیں کرتا تھا مگر آج کسی اور کا غصہ اس پڑ اتار دیا کیف نے پیچھے مڑ کر انوش اور ابیرہ کو دیکھا اس کا مطلب سمجھتے ہی دونوں آگے آئی اور مازیہ کو پکڑ کر کرسی پڑ بٹھایا کیونکہ کیف تو اس کو ہاتھ نہیں لگا سکتا

“سوری مس ۔۔۔میں تھوڑا روڈ ہو گیا ۔۔۔” کیف معذرت کرتے ہوئے بولا کیف ایسے تو کی سے معذرت نہیں کرتا تھا لیکن جہاں اس کی غلطی ہو وہاں ضرور معافی مانگتا تھا

اتنے میں برہان سرحان اور آغر بھی آگئے ۔۔۔وہ بھی حیرانگی سے سارے منظر کو دیکھنے لگے اشارے میں انوش سے پوچھا اس نے چپ رہنے کا اشارہ کیا

“دیکھیں مس میں سوری کر رہا ہو نہ اب یہ بتائے ہوا کیا ہے ۔۔۔۔؟” کیف ناگواری سے بولا

“کیا ہوا ۔۔۔یہ پوچھے کیا کیا نہیں ہوا ۔۔۔”وہ سو سو کرتے بولی

“چلے وہی بتا دے ۔۔۔” نا چاہتے ہوئے بھی کیف کے چہرے پڑ مسکراہٹ رینگ پڑی ۔ ۔۔۔

“آپ نے جو یوٹیوب پڑ ویڈیو اپلوڈ کی ہے اس میں میں بھی ہوں میرے بھائی نے وہ ویڈیو دیکھ لی آپ کی وجہ سے مجھے اتنی ڈانٹ پڑی کے پوچھو ہی نہیں ۔۔۔۔۔” وہ سو سو کرتے اپنا چشمہ ٹھیک کرتے ہوئے بولی

ویڈیو کیف نے سوچ پھر برہان کو دیکھا اک دم برہان سے مخاطب ہوا ۔۔۔۔

” برہان کیا تم نے کل ویڈیو ایڈٹ کر کے اپلوڈ نہیں کی تھی ۔۔۔”

“و۔۔۔وہ تم لوگ اتنی جلدی کر رہے تھے تو میں نے بنا ایڈٹ کئیے ہی اپلوڈ کر دی ۔۔۔” وہ مجرموں کی طرح سر جھکا کر بولا

“میں تم سے اتنی بڑی غلطی کی امید نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔ٹھیک ہے ہم پرنک کی ویڈیو اپنے یوٹیوب چینل پڑ اپلوڈ کرتے ہیں لیکن اس کا بھی ایک رول ہے کہ ہم لڑکیوں کی ویڈیو اپلوڈ نہیں کرتے کیونکہ ہمارے گھر میں بھی ہماری بہنیں ہیں جیسے ان کی عزت ہے ویسے ہی باقیوں کی بھی ہے ۔۔۔۔”

اچھی خاصی عزت افزائی کے بعد برہان نے بھی سوری کر لیا ۔۔۔

“اور آپ فکر مت کرے جس جس کے پاس ویڈیو ہے میں ان سے نکلوا لو گا ۔۔۔” وہ اس کو تسلی دیتے ہوئے بولا حلانکہ یہ کام مشکل تھا

“کیوں آپ جہان سکندر ہیں ۔۔۔؟” وہ اس پڑ طنز کرتے ہوئے بولی

“وہ کون ہے ۔۔۔؟” وہ حیرانگی سے بولا

“ہیں آپ سچ میں نہیں جانتے ۔۔۔؟” وہ حیرانگی سے بولی کیف نے نفی میں سر ہلایا

” جنت کے پتے ناول میں جہان نے حیا کی اس طرح ساری ویڈیو نکلوائی تھی ۔۔۔۔” وہ اس کی عقل پڑ ماتم کرتے ہوئے بولی

“جی ۔۔۔۔۔!!” وہ شاک کی سی حالت میں سامنے بیٹھی لڑکی کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔

سب کے چہرے پڑ دبی دبی مسکراہٹ تھی ۔۔۔کیونکہ پہلی دفعہ کسی نے کیف کی بولتی کی بند کی تھی ۔۔۔

“جہان کا تو پتا نہیں لیکن میں کیف خانزادہ ہو آگر کہا تو پورا کرو گا ۔۔۔”وہ چٹان کی مظبوطی سے بولا

مازیہ نے سر اٹھا کر اس کو دیکھا پھر اٹھ گئی جاتے ہوئے مڑی اور بولی

“مازیہ کسی پر صرف ایک بار بھروسہ کرتی ہے آپ پر میں بھروسہ کر رہی ہو امید ہے کہ آپ میرا بھروسہ توڑے گے نہیں ۔۔۔۔” وہ کہہ کر رکی نہیں چلی گئی

“ہم کیسے کرے گے ۔۔۔؟” سرحان بولا برہان بھی اس کو دیکھنے لگا

“میں ہو نا کر لو گا کیونکہ ابھی کسی کا بھروسہ ہے مجھ پر جو میں نے توڑنا نہیں ہے ۔۔۔” وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا

**************

“خبر پکی ہے ۔۔۔۔؟” سر شعبان بولے

“جی سر ۔۔۔!”فون کے اس پار کوئی بولا

سر نے اوکے کہہ کر فون بند کر دیا

“سر مجھے بھی انفارمیشن مل چکی ہے ۔۔۔۔” سر کے بولنے سے پہلے ہی سامنے والا بول پڑا

“میجر 247 آپ اکیلے کر سکتے ہیں یا ۔۔۔”

“سر آپ کو میری قابلیت پر شک ہے ۔۔۔ ” میجر 247 درمیان میں بول پڑا

” نو میجر میں جانتا ہوں کہ آپ کر سکتے ہیں ۔۔۔۔” وہ مسکرا کر بولے ۔۔۔۔

“سر اب مشن کمپلیٹ ہونے کے بعد ہی بات ہو گی ۔۔۔ “

سر اوکے میں سر ہلایا ۔۔۔

“لیکن سر یہ اکیلے کیسے ۔۔۔” اس کے جانے کے بعد ایک میجر نے کہا

“یہ کر سکتا ہے ۔۔۔۔”سر نے پورے اعتماد سے کہا

______________

“ابھی تک کام ہوا نہیں ۔۔۔۔؟” انوش نے کافی کا کپ ٹیبل پر رکھتی ہوئی بولی کیف جو اپنے کام میں غرق تھا انوش کی آواز پر سر اٹھایا اور پھر نفی میں سر ہلا دیا

“کیف یہ کام اتنا آسان نہیں ہے جتنا تم سمجھ رہے ہو ۔۔۔” اس کے چہرے سے تھکان صاف ظاہر ہو رہی تھی اس کی طبیعت کو دیکھتے ہوئے وہ بولی

“میں جانتا ہوں ۔۔۔لیکن کرنا تو ہے کسی نے بھروسہ کیا ہے مجھ پر ۔۔۔۔” وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولا

“best of luck”

وہ اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولی

وہ بھی جواباٙ مسکرا دیا انوش کے جانے کے بعد سر پیچھے کرسی پر ٹکا کر آنکھیں موند لی ۔۔۔۔۔۔

کچھ یاد آنے پر دوبارہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور اپنے کام میں مصروف ہو گیا

******************

“کج شوق سی یار فیقری دا

کج عشق نے در در رول ِدتا

کج سجن کسر نہ چھوڑی سی

کج زہر راقیباں گھول ِدتا

کج ہجر فراق دا رنگ۔۔۔۔۔”یسوع کی آواز پر پاشا نے اپنی آنکھیں کھولی

“تو کبھی بھی مجھے یہ پوری نہ کرنے دی ۔۔۔” آنکھوں میں خفگی صاف ظاہر تھا

یسوع مسکرایا پھر بولا

“پاشا آخر ہے کیا اس میں جو اتنا ڈوب کر تسبیح کی طرح اسکا ورد کرتے رہتے ہو ۔۔۔۔۔”

“تو نہیں سمجھے گا ۔۔۔۔تیرا ابھی عشق نامی بلا سے پالا جو نہیں پڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔پتا ہے عشق کیا ہے ۔۔۔۔یہ وہ روگ ہے جس کو لگ جائے تو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے ۔۔۔۔یہ وہ بیماری ہے جس کا کوئی علاج نہیں ۔۔۔۔۔یہ وہ جادو ہے جس کی کوئی کاٹ نہیں ۔۔۔۔ یہ وہ زہر ہے جو آگر رگوں میں اتر جائے تو جان لے کر چھوڑتا ہے ۔۔۔۔یہ وہ نشہ ہے جس کی آگر لت پر جائے تو اس سے پیچھے نہیں چھڑوایا جاسکتا ۔۔۔۔۔ یہ وہ آسیب ہے جو آگر چمٹ جائے تو مرتے دم تک ساتھ نہیں چھوڑتا ۔۔۔۔ “اس کی آواز میں تڑپ تھی

“خدا مجھے تو محفوظ ہی رکھے اس بلا سے ۔۔۔” وہ کانوں کو ہاتھ لگاتا ہوا بولا

نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے لبوں پر مسکراہٹ ابھر آئی ۔۔

“ویسے پاشا تم تو مجھے سمجھدار لگتے تھے ۔۔۔۔۔”وہ اس کو دیکھتے ہوئے بولا جو اس کی طرف پیٹھ کئے کھڑا تھا

“سمجھدار ہی کرتے ہیں یہ غلطیاں

کسی پاگل کو دیکھا ہے عشق کرتے ۔۔۔” وہ اس کی طرف مڑتے ہوئے بولا

“تمہاری باتیں میری سمجھ سے باہر ہیں ۔۔ ۔ ” کیف سر جھٹک کر بولا

پاشا اس کی بات سن کر مسکرا دیا

“او ہو جو کام کے لیا آیا تھا وہ کیا نہیں ۔۔۔” کچھ یاد آنے پر وہ بولا

پاشا نے سوالیہ نظروں سے اس کو دیکھا

” وہ شیخ کی کال آئی تھی مال وہاں سے روانہ ہو چکا ہے ۔۔۔”

“مطلب آج شام تک یہاں پہنچ جائے گا ۔۔۔۔اپنا مال بھی روانہ کر دو ۔۔۔۔” وہ کچھ سوچتا ہوا بولا

یسوع نے اوکے کہا اور جانے لگا تب ہی پاشا نے اس کو کہا

“وہ (گالی ) ہم پر دوبارہ حملہ کرنے کی سوچا گا ۔۔۔لیکن اس بار اس پر ہم نے حملہ کرنا ہے ۔ ۔ دھیان رکھنا ۔۔۔ مرنا نہیں چاہیے وہ۔۔ زندہ چاہیے مجھے ۔۔۔۔خود اپنے ہاتھوں سے اس کی بوٹی بوٹی کرو گا ۔۔۔۔”

یسوع اوکے کہا اور چلا گیا

وہ وہی کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔اور اپنا موبائل میں وہ پک دیکھنے لگا جو اس کی جینے کی وجہ تھی ۔۔۔۔

***************

“السلام عليكم ۔۔۔!” مازیہ جو اپنے نوٹس بنانے میں مصروف کسی کی آواز پر اپنا سر اٹھایا سامنے کیف پوری شان و شوکت سے کھڑا تھا بلیو کلر کی شرٹ کف کو فولڈ کئے ہوئے تھا سورج کی روشنی کی وجہ سے اس کا چہرہ دمک رہا تھا نیند کی چوری سے آنکھیں لال ہوئی تھی یونیورسٹی کی ساری لڑکیاں بلا وجہ تو اس پر نہیں مرتی تھی ۔۔۔۔۔

مازیہ نے سر ہلا کر جواب دیا

“آپ کا کام ہو چکا ہے ۔۔۔۔” وہ خود ہی بول پڑا

ماز یہ نے اس کو حیرت سے دیکھا

اپنی طرف تکتے پا کر وہ بولا

“حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے آپ کا کام ہو چکا ۔۔۔۔”

“شکریہ ۔۔ ۔” وہ مسکرا کر بولی

“اس کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔۔آگر غلطی ہم سے ہوئی ہے تو اس کو ٹھیک بھی ہم نے کرنا تھا ۔۔۔۔۔” وہ بھی مسکرا کر اس کے پاس بیٹھ گیا مازیہ نا محسوس انداز سے تھوڑا کسک گئی ۔۔۔۔ جو کیف کی زیرک نظروں سے چھپا نا رہ سکا ۔۔۔۔ اب ایسا بھی کیا لڑکیاں مرتی ہیں اور یہ ۔۔۔۔وہ صرف سوچ کر رہ گیا ۔۔۔

“hye guys what are you doing …?”

برہان نے ان کو دیکھ لیا تھا اسی لیے انہی کی طرف چلا آیا ۔۔

“ڈانس ۔۔۔۔” کیف نے جل کر کہا

“کیا ہوا ویرے تجھے ۔۔۔” برہان نے حیرت سے اس کے منہ کے بدلتے زاویے کو دیکھ کر کہا ۔۔۔

“کیا برہان تجھے اتنی بھی سمجھ نہیں ہے کہ کسی کی پرائیویسی میں دخل اندازی نہیں کرتے ۔۔۔۔” سرحان نجانے کہاں سے ٹپک پڑا

اس کی بات پر دونوں نے جھٹکے سے سر اٹھایا ۔۔۔

“آپ غلط سمجھ رہے ہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔”

مازیہ جلدی س بولی

کیف نے اس کی طرف دیکھا جس نے بھی بلیو کلر کی قمیض اور جینز پہنی ہوئی تھی بالوں کو جوڑے کی شکل دے رکھی تھی کچھ شرارتی لٹیں بار بار اس کے چہرے پر آرہی تھی جس کو وہ ہاتھ کی مدد سے پیچھے کر رہی تھی چہرے سے پریشانی چھلک رہی تھی ۔۔۔ وہ اک دم سے بے چین ہو گیا

“ریلیکس مازیہ ۔۔۔سرحان مذاق کر رہا ہے ۔۔۔۔” ابیرہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا اس کے ساتھ انوش بھی تھی ان لوگوں کو ڈھونڈتے ہوئے وہ دونوں بھی یہی آگئی ۔۔۔۔ اور یقیناً سرحان کی باتیں وہ بھی سن چکی تھی

“سوری مازیہ سس میں آپ کو پریشان کرنا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔” وہ شرمندگی سے بولا

آغر جو اپنے ہی دھیان میں پانی پیتے ان کی طرف آرہا تھا سرحان کے منہ سے کسی لڑکی کے لیے سس سن کا پانی فوارے کی طرح اس کے منہ سے نکلا

سب نے پیچھے مڑ کر اس کی طرف دیکھا وہ چلتا ہوا سرحان کی طرف آیا ۔۔۔اپنا ہاتھ اس کے ماتھے پر رکھ کر بولا

” تیری طبیعت تو ٹھیک ہے ۔۔بخاروخار تو نہیں ہے ۔۔۔۔”

سرحان جو اس حرکت پر حیران ہو رہا تھا اس کی بات کا مطلب سمجھ کر اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور گھور کر اس کو دیکھنے لگا سب کے چہرے پر دبی دبی ہنسی تھی ۔۔۔۔۔۔

مازیہ اپنی پریشانی بھول کر ہونقوں کی طرح ان کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔

“آپ لوگ اس طرح ہنس کیوں رہے ہیں ۔۔۔۔؟” وہ پوچھے بنا نہیں رہ سکی ۔۔۔

“ان کو چھوڑو مازیہ یہ تو ہیں ہی پاگل تم اپنے بارے میں کچھ بتاؤ ۔۔۔؟” انوش نے پہلی دفعہ باتوں میں حصہ لیا

سب لوگ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے جیسے کوئی ٹیچر کچھ پڑھانے لگا ہے انوش نے اس کو گھور کر دیکھا

“میرا نام مازیہ نور ہے ۔۔۔میرا تعلق ساہیوال سے ہے ۔بی ایس سی تک وہی پڑھا ہے اب ماسٹر کرنے لاہور آگئی ۔۔۔”

“اچھا تو تم اب ہوسٹل میں رہ رہی ہو ۔۔۔ ” ابیرہ کچھ سوچتے ہوئے بولی

“نہیں بابا کو پسند نہیں ہوسٹل میں رہنا ۔۔یہاں ایک اپارٹمنٹ لے کر دیا ہے میں وہی رہتی ہو ۔۔۔۔”

“مطلب تم اکیلی رہتی ہو ۔۔۔” ابیرہ حیرانگی سے بولی

“نہیں میں اکیلی نہیں رہتی اماں ہیں میرے پاس ۔۔۔” وہ بولی

“مطلب تمہاری ماما ۔۔۔” ابیرہ نے تو یہ ہی اخذ کیا

“نہیں وہ میری سگی ماما نہیں ہے میں جب پیدا ہوئی تھی وہ تب ہی اس دنیا سے چلی گئی تھی تب سے اماں ہی مجھے پال رہی ہیں ۔۔۔” بات کرتے ہوئے اس کے آنکھوں میں آنسو آگئے

سب کو بہت دکھ ہوا کہ اس نازک سی چھوٹی سی لڑکی نے اپنی ماں کو دیکھا تک نہ تھا ان کا لمس محسوس نہیں کیا تھا

” سوری ماذیہ مجھے پتا نہیں تھا ۔۔۔” ابیرہ اس کا ہاتھ پکڑ کر بولی

“کوئی بات نہیں ۔۔۔۔! ” وہ ہلکا سا مسکرائی

“ہاں ایک بات پوچھنی ہے تم سے ۔۔۔”برہان جب کافی دیر سے کسی گہری سوچ میں تھا اچانک بولا اس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا

” سر عمر کیا لگتے ہیں تمہارے ۔۔۔؟ وہ اس کو دیکھتے ہوئے بولا

“سر عمر میرے کزن ہیں ۔۔۔” وہ مسکرا کر بولی

” جبھی میں کہوں کہ تمہارے ساتھ اتنا ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے ۔۔۔ورنہ ہم سے تو ہنس کر بات کرنا شاید حرام ہے ان پر ۔۔ ۔ ” وہ منہ بسورتے ہوئے بولا

“کیا حرام ہے مجھ پر ۔۔۔۔” سر کی آواز پر وہ سب اچھل پڑے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *