Karzal by Anam Sana NovelR50670 Karzal (Episode 03)
No Download Link
Rate this Novel
Karzal (Episode 03)
Karzal by Anam Sana
بولو برہان کیا حرام ہے مجھ پر۔۔۔” سر عمر اس کے سامنے آکر بولے
“و۔۔۔۔وہ سر ۔۔۔۔” اس کو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا بولے ۔۔۔سب کو اس کی حالت پر ہنسی آرہی تھی لیکن سب نے کنٹرول کیا ہوا تھا ہنس کر اپنی شامت تھوڑی بلوانی تھی
آخر ماذیہ کو اس کی حالت پر ترس آیا اور وہ بولی
“پلیز فدوی جانے دو ۔۔۔ ” سر عمر نے اس کو گھورا ۔۔
سب لوگ ماذیہ کے فدوی کہنے پر حیران ہوئے
“کتنی بار کہا ہے کہ مجھے فدوی بس گھر میں کہا کرو باہر نہیں ۔۔۔اور تم یہاں کیا کر رہی ہو تمہاری کلاس ہے جاؤں ۔۔۔اب میں تمھیں یہاں نا دیکھوں ۔۔۔” وہ اسے ورن کرتے ہوئے بولے سب کو ایک نظر دیکھ کر واپس چلے گئے۔۔۔۔ سب کے رکے ہوئے سانس بحال ہوئے ۔۔۔
“تھنک یو ماذیہ ۔۔۔آج تمہاری وجہ سے بچ گیا ۔۔۔” برہان بولا
ماذیہ مسکرا دی
“ویسے یہ سر کا نام فدوی کب سے ہے ۔۔۔؟” کیف جو کافی دیر سے چپ تھا بولا
“یہ نام میں نے ایک ناول میں پڑھا تھا تو مجھے بہت پسند آیا تب ہی میں نے عمر کا نام فدوی رکھ دیا ۔۔۔اور اب اسی نام سے پکارتی ہوں ۔۔۔۔” وہ ہنستے ہوئے بولی
” لگتا ہے آپ ناول کی دیوانی ہیں ۔۔۔۔” سرحان بولا
ماذیہ نے ہاں میں سر ہلایا
“پھر تو ہماری جوڑی خوب جمے گی ۔۔۔۔”ابیرہ خوشی سے بولی
“کیونکہ یہ بھی ناول کی دیوانی ہے ۔۔۔۔” انوش نے اس کی مشکل آسان کر دی جو اس کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی
“واقعی ۔۔۔۔!” وہ حیرانگی و خوشی کی کیفیت میں بولی
“ایک کم تھی جو دوسری بھی آگئی ۔۔۔” برہان نے کیف کے کان کے پاس ہو کر سرگوشی کی
کیف نے اس کو گھورا تو وہ چپ کر کے کھڑا ہو گیا
“اب چلو بھی اس سے پہلے کے سر عمر آجائے ۔۔۔” انوش زچ ہو کر بولی
“چھوڑ دے فون والی ماں کو ۔۔۔!” سرحان نے دیسی ماؤں کی طرح آغر کو کہا جو کب سے فون میں لگا ہوا تھا
“آ۔۔۔ہاں ۔۔۔بس ایک منٹ ۔۔۔”اس نے جلدی سے میسج کر کے موبائل جیب میں رکھا اور ان کے ساتھ چل دیا
“تو کہی ہمارے لیے بھابھی لانے کی پلاننیگ تو نہیں کر رہا ۔۔۔” اب کی بار برہان بولا
“توبہ میری جب تک تم لوگ سنگل ہو میں کیسے کروا سکتا ہوں ۔۔۔” وہ معصوم بنتے ہوئے بولا
“اور تجھے ہم کرنے بھی نہیں دے گے ۔۔۔” سرحان اور برہان دونوں ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے بولے
“چلے ۔۔۔۔۔!” کیف کو نجانے کیوں غصہ آرہا تھا
سب نے سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر کندھے اچک کر کیف کے پیچھے چل دیے
*****************
“کہاں تک پہنچا مال ۔۔۔۔؟” یسوع کو دیکھتے ہوئے پاشا نے پوچھا ۔۔۔
“بارڈر تک پہنچا دیا ہے ۔۔۔آگے سے ہمارے آدمی خود کنٹرول کر لے گے ۔۔۔۔” وہ اس کو ایک فائل دیتے ہوئے بولا
“ٹھیک ہے ۔۔۔اور وہ مجھے زندہ چاہیے ۔۔۔کسی بھی قیمت پر ۔۔۔۔۔” وہ غصے سے بولا
“آپ اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہو کہ وہ آئے گا ۔۔۔۔” یسوع نے سوال کیا
“جو انسان ہمارے اس سامان تک پہنچ سکتا ہے جس کی خبر صرف میرے سوا کسی کو نہیں تھی تو وہ اس تک پہنچ سکتا ہے ۔۔۔ ” اس کی سوچ بہت دور تک تھی ۔۔۔
“ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ ۔۔۔۔” یسوع نے اس کی سوچ کو داد دی ۔۔۔۔۔۔
“اب جاؤ تم میں کچھ دیر اکیلا رہنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔” وہ کرسی پر بیٹھتا ہوا بولے
یسوع نے سر ہلایا اور چلا گیا ۔۔۔
“ایک بار صرف ایک بار تم میرے ہاتھ لگ جاؤ ۔۔۔پھر میں بتاؤ گا کہ پاشا ہے کون ۔۔۔!!” ہاتھ موجود شراب کے گلاس کو منہ سے لاگتا ہوئے بولا
*****************
رات اپنے پر پھلائے ہوئی تھی ۔۔۔۔وہاں آس پاس آبادی نہ ہونے کو تھی ۔۔۔ہر طرف سناٹا چھائے ہوئے تھا ایسے میں الو کی آواز ماحول کی خاموشی کو چیڑ رہی تھی ۔۔۔وہ آہستہ آہستہ زمین پر قدم جمائے چل رہا تھا
اسے دور سے ہی چاند کی روشنی میں وہ ٹرک نظر آگیا جس میں ان لڑکیوں کو لایا گیا تھا ۔۔۔ جنہیں آگے سپلائی کرنا تھا
وہ آہستہ آہستہ آگے ٹرک کے پاس پہنچ کر آس پاس کا جائزہ لینے لگا ٹرک کے پاس صرف ایک ہی آدمی موجود تھا ۔۔۔ باقی شاید آگے تھے ۔۔وہ آہستہ سے اس شخص کے پیچھے گیا اور اس کر منہ پر ہاتھ رکھ کر پیچھے کو لے آیا نقاب پوش نے اپنے ہاتھ کو جھٹکا دیا تو اس کے ناخن سے نکلی ناخن باہر کو نکل آئے ۔۔۔اس کو سمبھلنے کا موقع دیے بغیر ہی اس نکلی ناخن کو تیز نوک سے اس کی شہ رگ کو کاٹ دیا ۔۔۔۔وہ آدمی وہی تڑپنے لگا اور صرف ایک منٹ میں دنیا سے پرواز کر گیا ۔۔۔۔
اس کا کام تمام کرنے کے بعد وہ نقاب پوش آگے بڑھا ۔۔۔
دور سے ایک اور آدمی آتا نظر آیا وہ واپس ٹرک کی پچھلی سائیڈ پر چلا گیا دوسرے آدمی کو نا پا کر اس کو ڈھونڈتے جب وہ پیچھے کی طرف آیا تو اس نقاب پوش نے ایک جھٹکے میں اس کو بھی ڈھیر کر دیا ۔۔۔
ٹرک کا دروازہ کھول کر اس نے اندر کا جائزہ لیا وہاں تقریبا 20 لڑکیاں تھی جنہیں کسی کی ہوس مٹانے کے لیے آگے سپلائی کیا جا رہا تھا ایک پل کے لیے اس کا دل کیا سب کو شوٹ کر دے ۔۔۔۔جو کسی نامحرم کی محبت میں ہر حد پھلانگ جاتی ہیں ۔۔ یہ نہیں سوچتی کہ آگے کیا ہونے والا ہے ۔۔۔۔۔
اپنے غصے پر قابو پتا وہ باہر نکل پڑا
وہ ابھی تھوڑا سا آگے ہی گیا تھا کہ اسے زمین سےتین لوگ نکلتے نظر آئے دراصل وہ سرنگ سے نکل رہے تھے ۔۔۔ دشمن ممالک ایک دوسرے کے خلاف یہ خفیہ سرنگیں استعمال کرتے ہیں
وہ وہی درخت کی اوٹ میں چھپ کر جائزہ لینے لگا وہ آدمی تین باکس لے کر آئے اس کے بعد وہ لوگ پھر گئے اس طرح تقریبا وہ 14 سے 15باکس لے کر آئے اس میں کیا ہو سکتا ہے وہ اچھے سے جانتا تھا وہ لوگ آہستہ آہستہ ٹرک کی جانب بڑھنے لگے ۔۔۔۔وہ لوگ ٹرک کے پاس کسی کو نہ پا کر حیران ہوئے اور آپس میں گفتگو کرنے لگے اور ایک طرف کو اشارہ کیا ۔۔۔وہ سمجھ گیا کہ انہوں نے کیا کہا ہے ۔۔۔۔
وہ لوگ باقی لوگوں کو ڈھونڈنے کے لیے چل پڑے جبکہ ایک کو وہی حفاظت کے لیے رہنے دیا ۔۔۔۔
راستہ صاف تھا اور موقع بھی وہ نقاب پوش آہستہ آہستہ اس آدمی کی جانب چل دیا ۔۔۔اپنے پیچھے کسی کو محسوس کر کے اس نے اپنے جیب سے چاقو نکلا اور فورا پلٹ کر اس پر حملہ آور ہوا مگر یہ کیا پیچھے تو کوئی نہیں تھا اس نے اپنا وہم سمجھا اور آگے کو مڑا ہی تھا کہ کسی نے اس کے پیٹ میں چاقو گھونس دیا
وہ وہی نقاب پوش تھا اس کی آواز سن کر باقی دونوں بھی جلدی سے آئے سامنے ان کے ساتھی کی لاش پڑی تھی ۔۔۔۔اور پاس ہی وہ نقاب پوش ہاتھ میں خون سے آلودہ چاقو لیے کھڑا تھا ۔۔۔وہ لوگ غصے میں اس کی طرف بڑھے اس پر حملہ آور ہوئے لیکن وہ نقاب پوش ان سے زیادہ چالاک تھا اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فورا وہاں سے غائب ہو گیا
ان لوگوں نے غصے سے ایک دوسرے کو دیکھا اور سر سے اشارے کرتے ہوئے الگ الگ جگہ پر مڑ گئے ۔۔۔۔
ایک آدمی ابھی تھوڑی دور ہی گیا تھا اس نے اس پر حملہ کر دیا نقاب پوش نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کی آواز دبا دی اپنے پیچھے خطرہ محسوس کر کے وہ فورا مڑا وہ دوسرا آدمی جو اس پر چاقو سے حملہ کرنے والا تھا مڑنے سے وہ آدمی جو اس کی گرفت میں تھا وہ بھی مڑا اور وہ چاقو سیدھا اس کے پیٹ میں گھس گیا ۔۔۔۔۔
اس نے جلدی سے اس کو چھوڑا اور دوسرے کی طرف بھڑا وہ شاید ٹرین کیا ہوا تھا اس کو مشکل ہو رہی تھی اس کو قابو کرنے میں ۔۔۔۔
اس نے اس کو جھٹکا دیا وہ نقاب پوش تھوڑا پیچھے کو ہوا اتنے وہ آدمی اپنا چاقو اٹھا چکا تھا اس نے اس کو چاقو مارنے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہا نقاب پوش نے ایک جھٹکے سے اس کو نیچے گرا دیا اس نے اپنے جوتے کو ایک خاص طریقے سے جھٹکا دیا تو اس سے ایک نوک دار چاقو باہر نکل آیا ایسے جوتے خاص طور پر فوج والے بناتے ہیں ۔۔۔
وہ اچانک گھوما اور اچھل کر چاقو والے جوتے کو اس کی گردن کے پاس سے گزارا وہ جو ابھی کھڑا ہوا تھا سمبھل نا پایا اور وہی گرتا گیا
نقاب پوش اس کے قریب بیٹھا اور بولا
“جو میرے وطن کی طرف گندی نظر سے دیکھے گا اس کا یہی حال ہو گا ۔۔۔۔!!”
“ک۔۔۔کون ہوں تم ۔۔۔؟” وہ تڑپتے ہوئے بولا
” ای ایس ای “
تین لفظ بات مکمل ۔۔۔
اس کو چھوڑ کر وہ وہاں سے جلدی اٹھا اور ٹرک کی جانب بڑھا پاس موجود سامان کو آگ لگا دی اور ٹرک میں بیٹھ کر وہاں سے چلا گیا
_________
“پاشا وہ ۔۔۔۔۔” یسوع کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کس طرح اس کو بتائے
“ہاں بولو کام ہو گیا ۔۔۔” وہ مصروف انداز میں بولا
جب کافی دیر تک جواب نہیں آیا تو پاشا نے سر اٹھا کر اس کو دیکھا جو بولنے کی لیے الفاظ ترتیب دے رہا تھا ۔۔۔
“تم کچھ پوچھا ہے میں نے ۔۔۔۔۔۔اور اسے لائے ہو ۔۔۔۔؟”وہ سب کچھ چھوڑ کر اس کے سامنے آکر کھڑا ہوا
“و۔۔۔وہ پاشا وہ ہمارے پہنچنے سے پہلے ہی چلا گیا تھا ۔۔۔۔اور ” آخر ہمت کر کے بولا
“اور ۔۔۔۔۔” ایک آئ برو اٹھا کر پوچھا گیا
یسوع نے اپنا تھوک نگلا اور ایک سانس میں ہی بول دیا
“اور اس نے نا صرف ہمارے بندے مارے ہیں بلکہ شیخ کے بندے بھی مار دیے ۔۔۔اور وہ لڑکیاں بھی وہاں سے غائب تھی ۔۔۔۔۔”
پاشا کے ماتھے پر شکینں پڑ گئی غصے سے پاس پڑی بندوق اٹھائی اور یسوع پر تان دی ۔۔۔۔
آس پاس کھڑے سب لوگوں کے اوسان خطا ہو گئے ۔۔۔لیکن یسوع پرسکون تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ پاشا اسے کچھ نہیں کہے گا اور ایسا ہی ہوا گولی چلی سینے سے آر پار بھی ہوئی مگر یسوع کے نہیں اس کے پیچھے کھڑے آدمی کے ۔۔۔۔۔
یسوع نے پاس کھڑے آدمیوں کو اشارہ کیا وہ لوگ تو اشارے کے منتظر تھے وہ لوگ اس آدمی کی لاش اٹھا کر جلدی سے باہر نکلے ۔۔۔پاشا کا کیا بھروسہ کب کیا کر جائے ۔۔۔۔
“ریلکس پاشا ۔۔۔۔۔” اس کے کندھے پڑ ہاتھ رکھتے ہوئے بولا
پاشا نے غصے سے اس کو دیکھا پھر اس کا ہاتھ جھٹک دیا غصے سے اس پر دھاڑا
“ریلکس ۔۔۔۔کیسے کرو بتاؤ کیسے کرو ۔۔۔۔۔ریلکس ۔۔ ۔ ۔ میں نے بکواس کی تھی ۔۔۔۔کہا تھا نہ ۔۔۔کہ وہ بہت شاطر ہے مگر تم نے میری سنی نہیں ۔۔۔۔اور اب دیکھو ۔۔۔۔۔کیا کیا ہے اس نے ۔۔۔کروڑوں کا نقصان ۔۔۔ اس نے مجھے للکارا ہے ۔۔۔اور یہ اس کو بہت مہنگا پڑے گا بہت مہنگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!”
“پاشا شیخ کی کال ہے ۔۔۔۔” یسوع نے موبائل کو دیکھتے ہوئے کہا
“بضائعنا لم تصل بعد وخادمنا مفقود أيضا”
(ہمارا مال ابھی تک نہیں پہنچا اور ہمارے بندے بھی لاپتہ ہے)
پاشا کے ہیلو کہتے ہی شیخ پھٹ پڑا
“لم نحصل على البضائع وقتل عبيدك”
(مال تو ہمہیں بھی نہیں ملا اور تمہارے بندے مارے گئے ہیں )
پاشا بھی کیسے برداشت کرتا کہ کوئی اس سے اونچی آواز میں بات کرے
“ماذا تقصد كيف ماتت وكيف لم تحصل على العقار؟ لقد أعطانا الكثير من هنا حتى هبطت على أرض باكستان ولكني لم أتخلص منها.”
(کیا مطلب ہے تمہارا کیسے مر گئے اور تمھیں مال کیسے نہیں ملا ہم نے یہاں سے بیجھ دیا تھا جب تک وہ پاکستان کی سر زمین پر نہیں اترے میں وہاں سے ہلا بھی نہیں )
وہ حیرت سے بولا پاشا نے اس سب کچھ بتا دیا
“تخلص منه قريبا أو غير ذلك سيكون ضارا جدا بالنسبة لنا”
(اس کا جلدی کوئی حل نکالو ورنہ یہ بہت نقصان دہ ہو گا ہمارے لیے )
اور ضروری باتیں کر کے پاشا نے موبائل بند کر دیا
اور یسوع سے مخاطب ہوا
“اب چاہئے کچھ بھی ہو جائے مجھے وہ چاہیے ۔۔ ۔ نہیں تو اگلی گولی تمہارے سینے میں اتارو گا ۔۔۔۔!”
اس کے سرد لہجے سے یسوع کے ریڑ کی ہڈی سنسناھٹ ہوئی
اس نے بامشکل سر ہلایا اور باہر چلا گیا
پاشا وہی بیٹھ کر کچھ سوچنے لگا ۔۔۔۔۔
******************
“سرحان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!” ابیرہ چلائی
“کیا ہے ۔۔۔۔” وہ اپنی ہنسی دبا کر بولا
“یہ ۔۔ یہ کیا کیا تم نے ۔۔ ۔۔” وہ اپنے ڈوپٹے کو دیکھ کر رونی صورت بنا کر بولی جس سے ایک منٹ پہلے سرحان نے مٹی والے ہاتھ صاف کئے تھے ۔۔۔۔
آج سنڈے تھا تو سب لوگ لان میں بیٹھے تھے ۔۔۔بچے اپنے کاموں میں مصروف تھے اور بڑے اپنے کاموں میں مصروف تھے
“ہاتھ صاف کئے ہیں ۔۔۔۔”وہ معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے بولا اس وقت وہ ابیرہ کو سخت زہر لگ رہا تھا
“شرم تو نہیں آتی تمھیں میرا نیا دوپٹہ خراب کر دیا ۔۔۔۔” وہ اس کے کندھے پر ہاتھ مارتی ہوئی بولی ۔۔۔
“لو اس میں کیا خراب کیا ہے دھو لینا صاف ہو جائے گا ۔۔۔۔۔” وہ ہاتھ جھاڑتے کھڑا ہوا ۔۔۔
پاس بیٹھے سب برہان اور انوش کھی کھی کر رہے تھے جب کہ کیف سب سے بے نیاز اپنا کام کر رہا تھا اور آغر بقول برہان کے اپنی فون والی ماں سے بات کرنے میں مصروف تھا
“دھو لو میں ۔۔۔واہ گندا تم کرو اور دھوں میں ۔۔۔۔۔” وہ بھویں اٹھا کر بولی
“کیا ہوا ابیرہ بچے ۔۔ ۔ ” پھوپھو جو سامنے بیٹھی تھی ابیرہ کی آنکھوں میں آنسو میں دیکھ وہ ان کے پاس آگئی ۔۔۔۔۔۔باقی بچو کی طرح ابیرہ بھی ان کو بہت عزیز تھی
پھوپھو کو دیکھ ابیرہ کو حوصلہ ہوا وہ شکایت کرتی ہوئی بولی
“پھوپھو یہ دیکھے سرحان نے میرا نیا دوپٹہ خراب کر دیا ۔۔۔۔”
“امی میری بات سنے ۔۔۔ ” ان کے تیور بدلتے دیکھ کر وہ جلدی سے بولا
“شرم تو نہیں آتی بہن کو تنگ کرتے ہوئے ۔۔۔۔” ان کی بات سن کر سرحان کو اچھو لگ گیا وہ جو اس کو بیوی بنانے کا سوچ رہا تھا امی نے ایک پل میں بہن بنا دیا
اس کی حالت سے وہاں بیٹھا ایک ایک نفوس لطف اٹھا رہا تھا ۔۔۔ ابیرہ نے بھی اپنی ہنسی چھپانے کے لیے سر نیچے جھکا لیا وہ کئی بار سرحان کی آنکھوں میں اپنے لیے پسندیدگی دیکھ چکی تھی مگر سرحان نے کبھی اس سے اظہار نہیں کیا تھا اس لیے وہ بھی خاموش تھی
” کیا امی یہ کس اینگل سے میری بہن لگتی ہے ۔۔۔۔”وہ منہ بسورتے ہوئے بولا
“60،90،180 ہر اینگل سے یہ تیری بہن لگتی ہے ۔۔۔۔” برہان بھی کہاں پیچھے رہنے والا تھا ۔۔۔
اس کی بات پر وہاں سب ک قہقہہ گونجا
” شیطان ۔۔۔۔۔” انہوں نے ہنستے ہوئے اس کے کان کھنچا
“پھوپھو ۔۔۔۔۔” ابیرہ نے صدمے سے انہیں دیکھا
سرحان نے اس منہ چڑھایا
“ہنہ ۔” اس نے منہ بنایا
“سرحان کیا مسئلہ ہے کیونکہ تنگ کر رہے ہو میری بہن کو ۔۔۔۔۔” کیف کر سرد لہجے میں بولا وہ کب سے دیکھ رہا تھا جب برداشت نہ ہوا اٹھ کر آیا کیف کی خود کی تو کوئی بہن نہیں تھی اس لیے اس کو کمی کا شدید احساس ہوتا تھا مگر ابیرہ کے آنے کے بعد یہ کمی بھی پوری ہو گئی ۔۔۔وہ بڑے بھائیوں کی طرح اس کی حفاظت کرتا تھا اور پیار بھی
“دیکھ رہیں امی ۔۔۔بھائی بھائی نہ رہا ۔۔۔۔۔” وہ معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے بولا
“بس کرو تم اس وقت سخت زہر لگ رہے ہو ۔۔۔۔”
“یہ دیکھے اس نے میرا نیا دوپٹہ خراب کر دیا ۔۔۔۔” کیف کو دیکھ اس نے ایک کی چار لگائی ۔۔۔ سرحان تو منہ کھولے اس کے سفید جھوٹ پر صدقے واری جا رہا تھا
“سرحان تم ابھی اور اسی وقت ابیرہ کو شاپنگ پر لے کر جاؤ گے ۔۔یہی تمہاری سزا ہے ۔۔۔۔۔” کیف ایک اور نیا حکم صادر کیا
جہاں ابیرہ خوش ہوئی وہیں سرحان کا منہ کھل گیا
“نو ۔۔۔نو وے ۔۔۔میرے پاس اتنے فالتو پیسے نہیں ہیں ۔۔۔۔۔”وہ چلایا
“سہی کہہ رہا ہے کیف جاؤ اور جا کر اس کو شاپنگ کروا کے لاؤ ۔۔۔۔” امی نے بھی کیف کی حمایت کی ۔۔۔
“لگتا ہے آج تیرا دن ہی خراب ہے ۔۔۔۔” برہان نے اس کان میں سرگوشی کی جواباٙ اس نے گھوری پیش کی
“میں بھی چلو گی ۔۔۔ایک منٹ میں بیگ لے کر آئی ۔۔۔” انوش بولی اور فورا گھر کے اندر چلی گئی
“میں نہیں جا رہا ۔۔۔” وہ ہاتھ کھڑے کرتے ہوئے بولا وہ جو پہلے ہاں کرنے والا تھا انوش کا سن کر نا کر گیا
“جانا تو پڑے گا ۔۔۔۔۔” کیف اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا
” زبردستی ہے ۔۔۔۔”
“ایسا ہی سمجھ لو۔۔۔”وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولا جان لیوا مسکراہٹ ۔۔جس کی سب دیوانی تھی ۔۔۔
سرحان اپنی امی کی طرف دیکھا جہاں نو لفٹ کا بورڈ لگا تھا پھر برہان کو اس نے سفید جھنڈی دکھائی ۔ ۔
“اوکے چلو ۔۔۔۔ “وہ اپنے سارے ہتھیار ڈالتے ہوئے بولا
وہیں ابیرہ نے یاہو کا نعرہ لگایا……
