Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Karzal (Episode 12)

Karzal by Anam Sana

اففففف ۔۔۔سب چلے گئے میں ہی رہ گئی ۔۔۔۔کیف بھائی سے بہت ڈانٹ پڑے گی ۔۔۔۔”وہ جلدی جلدی اپنی چیزیں اٹھانے لگی

“میرے ہوتے ہوئے کسی کی اتنی ہمت جو میری پھلجڑی کو کچھ کہے ۔۔۔۔” وہ باظاہر سیریس ہو کر بولا لیکن من ہی من میں وہ ہنس رہا تھا

ابیرہ کو پہلے حیرت ہوئی کہ یہ اندر کیسے آیا پھر کھلے دروازے کو دیکھ کر اپنی عقل پر ماتم کرتے ہوئے منہ بنا کر واپس اپنے کام میں لگ گئی ۔۔۔۔

اس کے منہ بنانے پر وہ ہلکا سے مسکرایا اور پھر بولا

“وہ میرا آن لائن آنا

اور وہ تیرا اوف لائن ہو جانا

اف تیری یہ ڈیجیٹل نفرت ۔۔۔”

ابیرہ نے اس کے بے تکے شعر پر اسے گھور کر دیکھا لیکن بولی کچھ نہیں ۔۔۔

لیکن اثر کس پر ہونے والا تھا

سرحان نے کچھ پل اور انتظار کیا پھر خود ہی آگے آیا اور اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنی طرف کھنچا۔۔۔ ابیرہ جو اپنے کام میں مصروف تھی اچانک اس نئی آفت پر بوکھلا گئی

سرحان نے اپنا ہاتھ اس کے منہ پر رکھ کر اس کا منہ دائیں بائیں گھمایا

“کیا کر رہے ہو سرحان ۔۔۔!!”ابیرہ اس کو پیچھے دھکیلتے ہوئے بولی

“ہاں اب ٹھیک ہے ۔۔۔! “وہ مسکرا کر بولا

ابیرہ نے اس کو سوالیہ نظروں سے دیکھا اس کی نظروں کا مفہوم سمجھتے ہوئے سرحان مسکراہٹ دبا کر بولا

“وہ کیا ہے نہ تم بول نہیں رہی تھی نہ بس اسی لیے چیک کر رہا تھا کہ کہی الفی تو نہیں لگی تمہارے ہونٹوں پر ۔۔۔!!”

“افففففف ” وہ جھنجھلائی

“او ہاں ۔۔۔ہونٹوں سے سے ایک شعر یاد آیا

تیرے ہونٹوں سے کتنا مختلف ہے تیری ذات کا پہلو

اتنے نرم ہونٹوں سے کتنا سخت بولتی ہو تم “

وہ اس کو فوکس میں رکھتا ہوا بولا

“اففف سرحان تم تو بہت ہی بے باک ہو گئے ہو ۔۔۔شرم آنی چاہیے ۔۔۔” اس نے اسے شرمندہ کرنا چاہا ۔۔۔مگر شرمندہ بھی اسے کرنا چاہیے جو حقیقت میں ہونا بھی چاہے ۔۔۔

“شرم کس بات کی ۔۔۔۔!!” وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھتے ہوئے بولا

” اففففف ۔۔۔” وہ پیر پٹختی ہوئی وہاں سے باہر نکل گئی

وہ روکو روکو کرتا رہ گیا

“ایک تو یہ لڑکی بھی نہ” وہ سر جھٹک کر باہر جانے لگا تو میسج کی رنگ ٹون بجی اس کے چلتے قدم وہیں رک گئے ۔۔۔

اس نے اپنا موبائل نکلا کہ کہیں کیف کا میسیج نہ ہو مگر اسے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اس کے موبائل پر تو کوئی میسج نہیں تھا

اس نے کمرے میں نظر دوڑائی تو ڈریسنگ ٹبیل پر ابیرہ کا موبائل پڑا تھا

وہ ڈریسنگ ٹبیل کے پاس گیا

“ایک تو یہ لڑکی بھی نہ اپنی چیزوں کا خیال بھی نہیں رکھتی ہے ۔۔۔”موبائل اٹھاتے ہوئے وہ بولا کہ اچانک اس کی نظر موبائل سکرین پر پڑی جہاں 247 لکھا ہوا تھا سرحان نے حیرت سے اس عجیب و غریب نام کو دیکھا

اس کو ابیرہ پر پورا بھروسہ تھا مگر تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر میسج کھول لیے ۔۔۔ابیرہ اپنے موبائل پر پرائیویسی نہیں لگاتی تھی اس لیے بنا کوئی رکاوٹ کے موبائل اوپن ہو گیا

“sale on cloths …!!”

میسج پڑھ کر اسے حیرت کا جھٹکا لگا

“یہ کیا میسیج ہے ۔۔۔”وہ کچھ سوچتا اس کا موبائل بجا ۔۔۔سکرین پر کیف کا نمبر دیکھ کر وہ جلدی سے باہر نکل گیا

***********************

نہ سکوں نہ بے قراری نہ حیات نہ قضا ہے

ہو خدا کی اس پہ رحمت جسے عشق ہو رہا ہے

میں خیال کے جہاں میں تیرے ساتھ جی رہا ہوں

نہ دل میں ہے تیری حسرت، نہ ہی لب پر اب دعا ہے

تیرا روز یوں بچھڑنا میری جان پر کھٹن ہے

ذرا ہو کے بے تکلف، تو سنا جو فیصلہ ہے

وہ مقام بے دلی ہے کہ حواس رائیگاں ہیں

میرا ہونا یا نہ ہونا بھی خیال غیر کا ہے

کوئی آرزو نہیں ہے کوئی جستجو نہیں ہے

کوئی دل میں تھی تمنا یہ اسی کی انتہا ہے

تو مجھے سمجھ نہ پائے میں تجھے نہ سمجھ پایا

یہ بھی بات ہے گلےِ کی ۔۔؟ اسی بات کا گلاِ ہے

ہو بھلے ضعیف لہجہ میں جوان ہو ابھی تک

کوئی پوچھے نہ عطش سے کہ بتاؤ عمر کیا ہے

***************

“لم يفعل باشا الخير من خلال قتل هذه الفتاة من الصعب جدا التخلص من قضيتها. من فضلك لا تفعل أي شيء مثل هذا أو أنه سيكون من الصعب جدا۔۔”

(پاشا اس لڑکی کو مار کر اچھا نہیں کیا بہت مشکل سے اس کا کیس سے چھٹکارا ملا ہے ۔ مہربانی کر کے اب ایسا کچھ نہ کرنا ورنہ بہت مشکل ہو جائے گی )

شیخ اس کو دیکھتے ہوئے بولا

“الآن ستعلمني ماذا أفعل و لا۔۔۔!!”

(اب تم مجھے سکھاؤ گے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں )

وہ ایک ابرو اٹھا کر بولا

“لا ذلك لم أكن أقصد أنني كنت أقول۔۔”

(نہیں وہ میرا مطلب یہ نہیں تھا میں کہہ رہا تھا کہ ۔۔)

“ليس لدي أي تفسير لأي شيء يتعين عليك القيام به ، لذا قم بإغلاق المحادثة غير المرغوبة وتحدث عن العمل”

(تمہارا جو بھی مسئلہ ہے اس سے میرا کوئی سروکار نہیں ہے اس لیے اپنی یہ فضول گفتگو بند کرو اور کام کی بات کرو )

سیگریٹ کا کش لگاتے ہوئے وہ بولا

“”الليلة ، سيكون اللاعبين في الصحراء في كل مكان هناك۔۔”

(آج رات صحرا میں محفل سجے گی وہیں سب آئیں گے )

شیخ تھوک نگلتا ہوا بولا کیونکہ پاشا کسی بھی اسی محفل میں نہیں جاتا تھا جہاں عورت ذات ہو ۔۔۔اور آگر ایسی محفلوں میں رقصاؤں کا رقص نہ ہو تو ان محفلوں کو محفل ہی نہیں سمجھا جاتا ہے

“جيد۔۔۔!!”

(ٹھیک ہے ) وہ بنا اسے دیکھے بولا

اسے لگا اس نے غلط سنا ہے ۔۔۔۔پاشا اچھے سے جانتا تھا کہ وہ اسے ہی دیکھ رہا ہے

“هل تعني حقا أنك جاهز بالفعل للذهاب إلى صالة الألعاب الرياضية۔۔ “

(کیا تم واقعی مطلب کہ تم سچ میں محفل میں جانے کے لیے تیار ہو )

اس نے تصدیق کے لیے دوبارہ پوچھا

“لماذا لا استطيع الذهاب۔۔”

(کیوں میں نہیں جا سکتا۔۔۔)

وہ آئ برو اٹھا کر بولا

“لا .. الشيء الأول الذي لم تكن عليه من قبل هو أن تسأل عنه فقط۔۔”

(نہیں ۔۔مطلب کہ پہلے تم کبھی گئے نہیں ہو بس اسی لیے پوچھ لیا ۔۔۔”

وہ ڈرتے ڈرتے بولا

اس کی بات پر وہ ہلکا سا مسکرایا اور بولا

“أعني ، أنا لا أذهب في مثل هذا القمار لكنني لست حتى باني۔۔”

(مانا کہ میں ایسی محفلوں میں نہیں جاتا مگر آدم بیزار بھی نہیں ہوں )

بات مکمل کر کے اسے باہر جانے کا اشارہ کیا اور خود سیگریٹ کا کش لگانے لگا

آنکھیں موند کر صوفے سی ٹیک لگا لی اور لب وہی الفاظ گنگنانے لگے

“کج شوق سی یار فیقری دا

کج عشق نے در در رول ِدتا

کج سجن کسر نہ چھوڑی سی

کج زہر راقیباں گھول ِدتا”

************

یہ کتنا پیارا ہے ۔۔۔”

“دفع کرو کون سا ہمارا ہے ۔۔۔!” انوش نے مال کے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا اور اس کا جواب دینا برہان پر فرض تھا

“تم اپنی بکواس بند نہیں کر سکتے۔۔۔!” اس نے چڑ کر کہا

“سچی باتیں ہمیشہ کڑوی ہی لگتی ہیں ۔۔۔!!” وہ مسکرا کر بولا

“انوش ،برہان ۔۔۔!!” کیف نے انہیں پکارا

“جی بھائی ۔۔!!”دونوں ایک ساتھ بولے

“آپ دونوں اپنی بکواس بند کرو ۔۔۔مہربانی ہو گی ۔۔۔!!” بہت عزت سی بے عزت کیا گیا

“سوری ۔۔۔!!” دونوں ایک ساتھ بولے کیف نے تاسف سی سر ہلایا جیسے کہہ رہا ہو یہ نہیں سدھر سکتے

“اور یہ آغر کہاں رہ گیا ۔۔۔؟؟ “ہاتھ پر بندھی گھڑی پر نظر دوڑائی اور بولا

“وہ آگیا ۔۔۔” سرحان نے اس کی پچھلی سمت کی طرف اشارہ کیا

“سوری ۔۔۔سوری تھوڑا لیٹ ہو گیا ۔۔۔” آغر پاس آکر بولا

“اچھا اب چلو آگے ہی بہت ٹائم ویسٹ ہو گیا ہے ۔۔۔!”جبال بولا

“ہممم چلو ۔۔۔۔!!” کیف بولا

انوش ،ابیرہ اور آبص تینوں ہی کپڑوں کی دکان میں چلی گئیں

“چلو جی لڑکیاں تو گئی ہم بھی چلتے ہیں ۔۔۔!!” برہان بولا باقی سب نے بھی حامی بھری اور چل پڑے

“یہ کتنا پیارا ہے ۔۔۔!!” دکان کے اندر جاتے ہی برہان کی نظر ایک شرٹ پر پڑی جیسے دیکھتے ہوئے وہ چلایا

اس کے چلانے پر دکان میں موجود اور لوگ بھی اس کی طرف متوجہ ہوئے

کیف نے اسے قہر برساتی نظروں سی دیکھا

“اوہ سوری ۔۔۔!” سب کو اپنی طرف متوجہ پا کر برہان مسکرا کر بولا

“What’s the cost of this shirt?”

(اس شرٹ کی قیمت کیا ہے)

وہ دکان دار سے بولا

“225 darham”

( 225 درہم )

وہ دکان دار بولا

“یہ پاکستان روپے میں کتنے کا ہو گا ۔۔۔” وہ سوچتے ہوئے بولا

“8499”

اس سی پہلے کے وہ کلیکولیٹ کرتا آغر بول پڑا

“لے میں تو بھول گیا جب گوگل پاس کھڑا ہو تو گوگل کرنے کی کیا ضرورت ۔۔۔” وہ اپنے ماتھے پر ہاتھ مار کر بولا

“اس شرٹ کی قیمت 8499 ہے اس شرٹ کی ۔۔۔!!” وہ شرٹ ہاتھ میں پکڑتا ہوا بولا

” اس سے اچھی تو 200 روپے میں پاکستان میں مل جاتی ہے “

“لیکن لنڈے میں ۔۔۔!!” جبال مسکراہٹ دبا کر بولا

برہان نے اسے تیکھی نظروں سے دیکھا

“خدا کا واسطہ ہے تمھیں برہان چپ کر کے کھڑے ہو جاؤ ۔۔۔!” کیف اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر بولا

برہان منہ بنا کر پیچھے کھڑا ہو گیا اور وہ لوگ شکر ادا کرتے شاپنگ میں بزی ہو گئے ۔۔

ابھی کچھ پل ہی گزرے تھے کسی نے برہان کو بلایا

“الاستماع إلى۔۔”

(بات سنے۔۔۔)

برہان نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک لڑکی کھڑی تھی جو اسی کو دیکھ رہی تھی

“You told me something..?”

(آپ نے مجھ سے کچھ کہا)

لڑکی نے ہاتھ کےمدد سے پیچھے کی طرف اشارہ کیا

برہان نے پیچھے مڑ کر دیکھا مگر اسے کچھ نظر نہیں آیا

“What is behind..?”

(پیچھے کیا ہے ۔۔؟)

لڑکی نے نفی میں سر ہلایا جیسے کہہ رہی ہو کہ اسے انگلش سمجھ نہیں آرہی

“سحلية۔۔”

(چھپکلی )

وہ پیچھے کی طرف ہاتھ رکھ کر بولی

“ہائے یہ میری تعریف کر رہی ہے ۔۔۔اوئے سرحان دیکھ یہ میری تعریف کر رہی ہے ۔۔۔!” وہ پکارا

اس کی آواز پر سرحان نے پیچھے مڑ کر دیکھا

“سحلية۔۔”

(چھپکلی )

وہ لڑکی اس پاگل کو سمجھنا چاہا رہی تھی مگر برہان تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا

اتنے میں کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا برہان نے جھٹک دیا ۔۔۔ہاتھ پھر کسی نے پھر رکھا

“کیا ہے ۔۔۔؟” اس نے ہاتھ جھٹک کر کہا

“چھپکلی ۔۔۔”

“تو یہاں کیا کر رہی ہو دیوار پر جاؤ ۔۔” لاپروائی سے کہا گیا

“تمہاری کمر پر چھپکلی ہے ۔۔۔!!” انوش دانت پیس کر بولی

پہلے تو اسے سمجھ نہیں آیا لیکن جب آیا تو پوری دکان کو سر پر اٹھا لیا

دکان میں موجود سب لوگ اسے حیرت سے دیکھنے لگے جو پاگلوں کی طرح اِدھر اُدھر بھاگ رہا تھا

وہ اتنی زور سے چیخ رہا تھا کہ لوگوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لی

آخر کیف ہی آگے گیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر روکا

“چھپک ۔۔۔۔چھپکلی ۔۔۔” وہ ہانپتے ہوئے بولا

“جتنی زور سے تم چیخیں ہو وہ بیچاری ڈر کے مارے مر گئی ہو گی ۔۔۔۔” کیف غصہ دباتے بولا

برہان کی خستہ حالت کو دیکھ کر دکان میں موجود سب نے فلک شگاف قہقہہ لگایا

برہان پاؤں پٹکتا دکان سے باہر نکل گیا لیکن جاتے ہوئے اس عربی لڑکی کو “بندری جئی “کہنا نہیں بولا

باہر آکر بھی سب کی ہنسی نہیں رک رہی تھی اور یہی بات برہان کو غصہ دلا رہی تھی

“برہان تم ۔۔۔تم ایک چھپکلی سے ڈر گئے ۔۔۔” انوش اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوئے ہنس کر بولی

“تم تو چپ ہی رہو ۔۔۔یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے ۔۔۔ایسے کوئی پیچھے سے آکر ڈراتا ہے ۔۔۔”

وہ دانت پیس کر بولا

“میری۔۔۔ یہ تمہاری خود کی وجہ سے ہوا ہے جو تم اس عربی لڑکی سے فلرٹ کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔”وہ اس کو آنکھیں دکھاتے ہوئے بولی

“یہ تو سراسر الزام ہے ۔۔۔۔میں کب فلرٹ کر رہا تھا ۔۔۔اس نے خود مجھے بلایا ۔۔۔بھائی پرسینٹلی ہی ایسی ہے ۔۔۔!!” وہ اتراتے ہوئے بولا

“بھائی خوش فہمی ہے تیری وہ تیری مدد کو آئی تھی ۔۔۔آگر وہ نہ آتی تو اب تک تم اوپر جا چکے ہوتے ۔۔۔!!” آغر نے اس کو آئینہ دکھایا

“ویسے انوش تم یہاں کیسے ۔۔۔”اس نے پوچھا

“جتنی زور سے یہ بات کرتا ہے آدھے محلے کو پتا چل جاتا ہے میں تو پھر بھی ساتھ والی دکان میں تھی ۔۔۔” وہ ہنستے ہوئے بولی

“ہائے میری بیوی کہاں ہے ۔۔۔؟؟” سرحان دل پر ہاتھ رکھ کر بولا

“اور میری بھی ” جبال بولا

“آپ دونوں کی بیویاں یہیں ہیں دکان میں وہ آخر سیل لگی ہے کپڑوں پر ۔۔۔اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ان کو کتنا کریز ہے شاپنگ کا ” وہ ہنستے ہوئے بولی

سیل سے سرحان کو یاد آیا کہ ابیرہ کا موبائل اس کے پاس ہے

“چلو بعد میں دے دو گا ۔۔۔!! “وہ خود سے بولا

وہ سب دکان کی طرف چل پڑے جہاں وہ دونوں تھی

یہ دیکھے بنا کہ کوئی ان پر نظر رکھے ہوئے ہے….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *