Karzal by Anam Sana NovelR50670 Karzal (Episode 18)
No Download Link
Rate this Novel
Karzal (Episode 18)
Karzal by Anam Sana
وہ اس کو اپنے آپ سے لگائے دلاسا دے رہے تھے۔۔۔
عریش کو کچھ پریشانی ہوئی کہ وہ آگے تو کبھی بھی اتنا نہیں روئی تو آج کیوں ایسا کر رہی ہے ۔۔۔
’’کارزل اب تم مجھے پریشان کر رہی ہو ۔۔‘‘اس کو چپ ہوتا نہ دیکھ کر عریش بولا
’’میں آگے بھی تو جاتا ہوں ۔۔۔‘‘ وہ پھر سے بولا
مازیہ نے ناسمجھی میں سر اُٹھایا اور اسے تکنے لگی۔۔۔
’’مجھے پتا چل گیا ہے کہ تم رات کو ہماری بات سن لی ہے کہ مجھے واپس جانا ہو گا۔۔۔‘‘وہ سمجھ رہا تھا کہ مازیہ اس کے جانے پر رو رہی ہے
مازیہ اپنے دکھ میں تو اپنے بھائی کو بھی فرمواش کر چکی تھی ۔۔۔
’’آپ۔۔۔‘‘وہ بولتے ہوئے رُکی
’’مجھے لگ گیاپتا کہ تم نے باتیں سن لی ہیں میری ۔۔۔پر بیٹا میرا جانا بھی ضروری ہے۔۔ہمارے فوجی لوگوں کی ذندگی ہی ایسی ہی ہے جب بلاوا آجائے جانا ہی ہوتا ہے ۔۔۔‘‘
وہ اس کے سر ہاتھ رکھتا ہوا بولا
’’او آجا کیف وہاں کیوں کھڑا ہے ۔۔۔‘‘کیف کو پیچھے کھڑا دیکھ کر عریش بولا
وہ جو اپنے بھائی کی بات سن رہی تھی کیف کے نام پر چونک اُٹھی
’’تم تیار ہو۔۔۔ہم نے دس منٹ میں نکلنا ہے۔۔۔‘‘وہ اس کو دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔وہ مازیہ کے پیچھے ہی کھڑا تھا
مازیہ نے پیچھے مُڑ کر دیکھا بلیک شرٹ ،ایک ہاتھ میں بیگ پکڑے ہوئے تیار کھڑا تھا ۔۔
وہ اتنا پرُسکون کھڑا تھا جیسے رات کوکچھ ہوا نہیں۔۔۔۔مازیہ نے اپنا چہرہ موڑ لیا۔۔
’’ہاں بس اس کملی کو سمجھا رہا تھا ۔۔ایسے ہی رو رہی تھی۔۔۔‘‘وہ ا س مازیہ کو اپنے حصار میں لیتے ہوئے بولا
اس کی بات پر کیف نے لب بھینچے ۔۔
’’ابھی آیا ایک منٹ میں۔۔۔‘‘وہ مازیہ کو اپنے آپ سے علیحدہ کرتے ہوئے بولا
اور اندراپنا بیگ لینے اندر چلا گیا۔۔۔
مازیہ وہی کھڑی اپنے لب کاٹتی رہی۔۔اور کیف لب بھینچے کھڑا تھا
’’ویسے آج تک کتنوں کے لیے ایسے آنسو بہائے ہیں۔۔‘‘کیف نے طنز کیا
’’میری عزت پر بات آئی تو محبت کوبھی اپنے ہاتھوں سے مار ڈالوں گی۔۔۔‘‘وہ آنکھوں میں غصہ لیے بولی وہ جتنا سہہ سکتی ، برداشت کر سکتی تھی کر چکی تھی۔۔اس کی بھی عزت تھی ۔۔۔اس کی بھی انا تھی ۔۔جیسے بار بار مار رہی تھی مگر ہر بار یہی ہو ضروری نہیں ۔۔۔۔اس سے پہلے کے کیف جواباََ اُسے کچھ کہتا عریش آگیا۔۔۔
’’آجاؤ ۔۔۔‘‘وہ کیف کو اشارہ کرتے ہوئے بولا
کیف تو جیسے جانے کے لیے تیار تھا فوراََ باہر کی قدم بڑھائے۔۔
عریش چلتا ہوا آنسو بہاتی مازیہ کے پاس آیا
’’میرا بچا مجھے ایسے رخصت کرے گا۔۔‘‘ وہ اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا
وہ اپنے بھائی کو پریشان نہیں کر سکتی تھی ۔۔وہ سب کچھ بھلا کر مسکرا دی ۔۔۔
’’میں انتظار کرو گی۔۔۔‘‘وہ عریش کو دیکھتے ہوئے بولی
’’میں واپس آؤ گا ضرور۔۔پرچم اُٹھا کر یا پرچم میں لپٹ کر ۔۔۔۔!!‘‘ وہ اس کے سر پر پیار کرتا ہوا بولا
اور دروازہ کی طرف اپنے قدم بڑھائے۔۔
وہ جیسے جیسے دور جارہا تھا اُسے لگ رہا تھا کہ کوئی اپنا ہمیشہ کے لیے اس سے دور جا رہا تھا۔۔۔
وہ بھاگ کر کھڑکی کے پاس آئی اور باہر دیکھنے لگی۔۔ کیف پہلے ہی بیٹھ چکا تھا ۔۔۔۔
عریش نے پیچھے مُڑ اوپر کی طرف دیکھا وہ جانتا تھا کہ وہ دیکھ رہی ہو گی۔۔۔
مازیہ کو اپنی جگہ پر پا کر وہ مسکرایااور ہاتھ ہلاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ کر گیا ۔۔۔
اور وہ چلا گیا۔۔۔۔۔!
**************
’’تم اس وقت کہاں ہو۔۔؟؟‘‘پاشا نے فون کے پار گفتگو کرتے ہوئے شخص سے پوچھا
’’ آدھے گھنٹے میں تم یہاں ہو۔۔۔‘‘نیا آرڈر آیا
’’لیکن پاشا ۔۔۔‘‘
’’شاید تمہیں سمجھ نہیں آیا کہ میں نے کیا کہا ہے ۔۔۔۔‘‘وہ پھنکارا
’’میں گھر میں ہوں کیسے اس وقت ۔۔۔‘‘اس نے کو گھڑی کو دیکھا جو رات کے دس بجا رہی تھی۔۔۔
’’تم کوئی بچے نہیں ہو جو اس وقت نہیں آسکتے ۔۔۔۔یسوع۔۔۔‘‘ کوئی اس کی بات کو ماننے سے انکار کرے اسے کیسے برداشت ہے ۔۔۔۔
’’بھائی یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔۔باہر آئیں سب انتظار کر رہے ہیں۔۔۔‘‘انوش کمرے میں آتے ہی شروع ہو گئی۔۔۔۔
انوش کے آنے پر آغر گھبرا گیا۔۔۔جلدی سے فون بند کر دیا
’’کیا ہوا بھائی سب ٹھیک تو ہے۔۔۔‘‘آغر کو یوں گھبرایا دیکھ کر حیرت سے بولی
اتنے میں وہ اپنے آپ کو سمبھال چکا تھا ۔۔۔
’’ہاں وہ کچھ نہیں ۔۔۔آؤ باہر چلتے ہیں۔۔۔۔‘‘وہ مسکرا کر بولا
پھر دونوں ہی باہر کی طرف چل پڑے
اوراُدھر پاشا کا بس نہیں چل رہا تھا کہ آغر اس وقت اس کے سامنے ہو اور وہ اس کو گولی سے اُڑا دے۔۔۔اس کو
اپنی ذات کی نفی کسی بھی قیمت پر قبول نہیں تھی ۔۔۔۔
اس نے سگریٹ سُلگائی اور اپنے لبوں سے لگائی دھواں ہوا میں اُڑایا
**************
’’وہ آگیا۔۔۔۔‘‘آغر کو آتا دیکھ کر برہان بولا
سب اس کی طرف متوجہ ہوئے
’’کہاں تھا اتنی دیر۔۔؟؟‘‘
سرحان نے پوچھا
’’وہ ایک دوست کی کال آگئی تھی اس سے بات کر رہا تھا ۔۔۔‘‘اس نے جھوٹ بولا
’’اہم ۔۔اہم ۔۔دوست۔۔۔۔۔‘‘برہان نے دوست کھینچ کر بولا
’’کون سا دوست۔۔۔؟؟‘‘برہان نے ابرو اُٹھا کر پوچھا
’’ہے تم نہیں جانتے۔۔‘‘اس نے ٹالنے کی کوشش کی
’’ایسا کون سا دوست ہے جیسے ہم نہیں جانتے۔۔۔؟؟‘‘وہ تفیشی آنداز سے بول
’’ضروری نہیں کہ سب تمہیں معلوم ہو۔۔۔‘‘وہ تلخ ہوا
’’آغر ۔۔۔!!‘‘کیف نے تنبیہ کی
باقی سب بھی اس کے رویہ سے پریشان ہوئے
’’او آتیرے جن کڈھاں۔۔۔!!‘‘وہ آغر کی طرف لپکا
آگر سرحان اُسے نہ پکڑتا تو وہ منہ کے بل نیچے گرتا ۔۔۔
’’کیا کرنے جا رہا تھا ۔۔۔۔‘‘سرحان اس کو صوفے پر گراتا ہو ا بولا
’’اس کے جن نکلانے جا رہا تھا جو اس سے یہ حرکتیں کروا رہے ہیں۔۔۔۔‘‘ وہ چائے کا کپ اُٹھاتا ہوا بولا جو ابھی کچھ دیر پہلے انوش لے کر آئی تھی۔۔۔
سب نے تاسف سے سر ہلایا ۔۔۔
’’یہ نہیں سدھر سکتا ۔۔۔‘‘آغر منہ میں بڑبڑایا
’’سنو۔۔۔۔۔!!‘‘ابیرہ دور سے چلاتی ہوئی ان کی طرف آرہی تھی ۔۔سب نے ایک ساتھ اپنا چہرہ موڑ کر اس کی طرف دیکھا
’’کیا ہو گیا ۔۔۔کیوں پاگلوں کی طرح چلا رہی ہو۔۔۔‘‘سرحان بولا
ابیرہ نے اُسے اگنورکیا اور بولی
’’میں ایک زبردست نیوز لائی ہوں۔۔۔‘‘اس کا جوش و ولولہ دیکھنے والا تھا
’’پاکستان اور انڈیا کی دوستی ہوگئی کیا۔۔‘‘ برہان مزے سے چائے پیتے ہوئے بولا
’’نہیں اس سے بھی بڑی نیوز ہے تم سنو گے تو تم اپنی جگہ سے اچھل پڑو گے۔۔۔‘‘وہ اپنے آپ پر قابو نہیں کر پا رہی تھی
’’بولو بھی۔۔۔‘‘برہان اشتیاق سے بولا
’’اندر تم لوگوں کی شادی کی بات چل رہی ہے۔۔۔‘‘وہ اس کے اور انوش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی
برہان کے منہ سے چائے پھوارے کی طرح باہر نکلی
انوش خود ہونقوں کی طرح منہ کھولے اُسے دیکھ رہی تھی
’’میری اور اس کی۔۔۔۔‘‘وہ انوش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کنفرم کرنا چاہ رہا تھا کہ جو اس نے سنا صحیح سنا ہے کیا
ابیرہ نے ہاں میں سر ہلایا
’’نہیں۔۔۔۔!!‘‘دونوں ایک ساتھ چلائے۔۔
باقی سب کا ان کے ری ایکشن پر قہقہہ گونجا
وہ سب اس بات پر یقین کر سکتے تھے کہ پاکستان اور انڈیا میں دوستی ہوگئی مگر یہ دونوں ایک ساتھ ۔۔۔۔۔کبھی بھی نہیں۔۔۔۔
’’میرے اتنے بھی برُے دن نہیں آئے کہ میں اس باندری سے شادی کرو۔۔۔‘‘ برہان ہتھے سے ہی اُکھڑ گیا
’’میرے پر بھی اتنے برُے دن نہیں آئے کہ میں اس زکوٹا جن سے شادی کرو۔۔۔‘‘ انوش نے بھی حساب برابر کیا
’’پتا نہیں میرے ماں باپ کو اس بلبتوری میں کیا نظر آگیا ہے۔۔۔یا اللہ میرے ماں باپ کو راہ راست پر لا۔۔۔‘‘وہ آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھا کر بولا
’’برہان سدھر جا۔۔۔‘‘کیف اس کی کمر پر چپت لگاتے ہوئے بولا
انوش غصے سے واک آؤٹ کر گئی۔۔۔۔ابیرہ بھی اس کے پیچھے گئی۔۔
’’کیا یار کیا کمی ہے ۔۔۔تجھ سے لاکھ گنا بہتر ہے ۔۔۔‘‘کیف ہنستے ہوئے بولا
’’کچھ دوست ہی ایسے ہوتے ہیں جنہیں جی صبیل اللہ چپیڑیں مارنے کو دل کرتا ہے ۔۔۔‘‘وہ دانت پیس کر بولا
جب باقی اس کی حالت پر اپنے دانتوں کی نمائش کر رہے تھے۔۔
____________
’مازیہ پلیز سمبھالوں خود کو۔۔۔‘‘ کیف اس کو تسلی دینے کی ناکام کوشش کر رہا تھا
پاشا کے خلاف آپریشن میں عریش نے جام شہادت نوش کی تھی
اس نے اپنا وعدہ پورا کیا وہ واپس آیا لیکن پرچم میں لپٹ کر ۔۔
’’کیسے کرو صبر۔۔۔آپ کو کیا پتا ۔۔۔میرے درد کا ۔۔۔‘‘
وہ کھوئے ہوئے لہجے میں بولی
’’ میرے درد کو محسوس کر سکتی ہوں
تم نہیں سمجھ سکتی ۔۔نہیں سمجھ سکتی ۔۔۔کہ ایک دوست جو آپ کو جان سے پیارا ہے وہ جب آپ کے ہاتھوں اپنا دم توڑے تو کیسا محسوس ہوتا ہے ۔۔۔۔کوئی مجھ سے پوچھتا اس وقت میرے اوپر کیا بیت رہی تھی ‘‘
وہ کچھ پل کو رکا
’’ its never easy to bury your buddy‘‘
وہ کرب سے بولا
اور باہر چلا گیا
’’انکل مجھے کہنا تو نہیں چاہیے لیکن میں نے عریش سے وعدہ کیا تھا کہ میں اس کی بہن کی حفاظت کرو گا اور یہ بنا کوئی رشتے کے ناممکن ہے۔۔اس لیے میں آج ہی مازیہ سے نکاح کرنا چاہو گا۔۔‘‘
وہ سنجیدگی سے بولا
’’بیٹا مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔۔۔تم مازیہ سے پوچھ لو ۔۔۔‘‘
وہ بولے
’’میں نے اس کی رضامندی لے لی ہے ‘‘ اس نے جھوٹ بولا
اور پھر کچھ ہی دیر میں وہ مازیہ کامران سے مازیہ کیف خانزادہ بن گئی ۔۔
***************
’’ہم بس پہنچے والے ہیں۔۔۔‘‘مازیہ کے ساتھ چلتی لڑکی نے اُس کو کہا
مازیہ اس کی ہر حرکت پر نظر رکھ رہی تھی۔۔وہ چوکنا تھی کیونکہ کے وہ جانتی تھی کہ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔
’’ہم پہنچ گئے۔۔۔!!‘‘وہ لڑکی ایک ٹوٹے پھوٹے گھر کے پاس رُکتی ہوئی بولی
مازیہ نے ایک نظر سامنے موجود ٹوٹے پھوٹے گھر کو دیکھا اور پھر اس لڑکی کو۔۔جو پرسرارمسکرا رہی تھی ۔۔۔
’’آؤ اندر ۔۔!!‘‘وہ مازیہ سے مخاطب ہوئی
مازیہ بنا چُوچا کیے اندر کی طرف بڑھ گئی یہ دیکھ کر وہ لڑکی تھوڑی پریشان ہوئی لیکن سر جھٹک کر اندر چلی گئی
’’تم یہ نہیں پوچھو گی کہ ہم یہاں کیوں آئے ہیں۔۔‘‘وہ لڑکی مازیہ سے مخاطب ہوئی جو اردگرد دیکھنے میں مصروف تھی۔۔
’’نہیں۔۔!!‘‘پرُسکون ہو کر جواب دیا گیا
اس نے حیرت سے اُسے دیکھا لیکن اگلے ہی پل مسکرائی اور بولی
’’تمہیں واقعی ڈر نہیں لگ رہا ۔۔۔‘‘
مازیہ اس کی طرف مڑی اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی
’’تمہیں کیا لگتا ہے میں تم سے ڈرو گی۔۔۔ودیا۔۔۔!!‘‘اپنے اصلی نام سن کر اُس لڑکی کے رونگتے کھڑے ہو گئے۔۔
’’ت۔۔تم میرا نام کیسے جانتی ہو۔۔؟؟‘‘اس کی زبان لڑکھڑائی
’’تمہارا ایک بھائی ڈاکٹر ہے اور ایک اسکول میں ہے ابھی۔۔۔اور اس کے علاوہ میں تو تمہارا باقی سارا بائیو ڈیٹا جانتی ہوں۔۔کہو تو بتاؤں۔۔۔‘‘ مازیہ مسکرا کر بولی
ودیا کے چہرے سے پریشانی کے آثار صاف نظر آنے لگے۔۔
’’تم کیا سمجھی ایمبسڈی آؤ گی ٹیچر کے روپ میں اور ہم جان نہ پائے گے۔۔۔بہت بڑی غلطی کر دی پاک فوج کو ہلقے
میں لے کر ۔۔۔!!‘‘ مازیہ نے کہہ کر ایک جھٹکے سے اُسے نیچے گرایا
لیکن وہ لڑکی بھی ٹرینر تھی فوراََ اُٹھی اور جواباََ حملہ کیا ۔۔مازیہ فوراََ پیچھے ہوئے اور پیچھے سے آکر اس کی گردن کے گرد اپنا بازو ڈال لیا
وہ اپنے آپ کو چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی مگر امازیہ کی گر فت مضبوط تھی
’’ تم کیا سمجھی تم ایک ٹیچر بن کر آؤ گی وہ پتہ نہیں چلے گا۔۔سب سے آسان طریقہ کسی ملک میں اپنا جاسوس بھیجنے کا طریقہ اپنی ایمبیسڈی میں اُسے ٹیچر بنا کر بھیج دو۔۔۔اور تم بھی ایک جاسوس ہو کیوں صحیح کہا۔۔!!‘‘
’’ ک۔۔کون ہو تم۔۔؟؟‘‘ وہ ہکلاکے بولی
’’ تمہارے لیے بس اتنا جاننا ضروری ہے کہ میں اس ملک کی محافظ ہوں ۔۔۔‘‘ وہ اس کے کان کے پاس ہو کر بولی
’’ تم ۔۔تم نے دھوکہ دیا مجھے ۔۔؟؟‘‘ اس نے پینترا بدلا
’’ دھوکہ۔۔!!‘‘وہ اُسے اپنے سامنے کرتے ہوئے بولی
’’ ہماری دوستی کب ہوئی جو میں تمہیں دھوکہ دیتی۔۔۔۔ایک بات ہمیشہ یادرکھنا دشمن کا دوست بھی دشمن ہی ہوتا ہے۔۔۔‘‘
’’ تم نے کیا سمجھا تم مجھے استعمال کر رہی ہو ۔۔درحقیقت میں تمہیں استعمال کر رہی تھی ۔۔۔‘‘ مازیہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی
’’تم۔۔۔۔!!‘‘ اس نے کہتے ساتھ ہی مازیہ کو دکھا دیا مازیہ نیچے جا کر گری اس کو سمبھلنے کا موقعہ دیا بغیر اس نے اپنی جیکٹ سے چاقو نکال کر اِس پر حملہ کیا ۔۔۔۔۔لیکن۔۔۔اسی پل کسی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے دور دھکیلا ۔۔۔اس کے ہاتھ سے چاقو بھی چھوٹ گیا۔۔اور وہ پاس ہی پڑے کباڑ میں جا گری۔۔
مازیہ نے مدد کرنے والے کی طرف دیکھا تو وہ کوئی اور نہیں کیف تھا ۔۔۔
وہ اس کو نظرانداز کرتا ودیا کی جانب گیا
’’میں عورت پر ہاتھ نہیں اٹھاتا ورنہ اب تک میں تمہیں زمین میں گاڑ چکا ہوتا ۔۔۔!!‘‘وہ اُسے ورن کرتے ہوئے بولا
’’میں تو اُٹھا سکتی ہوں۔۔۔!!‘‘ پیچھے سے مازیہ بولی
وہ اس کو مارنے والی ہی تھی کہ جبھی کیف نے اُسے پکڑ لیا
مازیہ نے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا
’’ ہمیں اسے زندہ پکڑنا ہے۔۔۔‘‘ وہ اس کو تنبیہ کرتے ہوئے بولا
’’اُٹھاؤ اُسے۔۔۔۔‘‘کیف نے مازیہ کو کہا
’’ میں نہیں اُٹھا رہی ۔۔۔‘‘وہ غصے سے بولی
’’تو ٹھیک ہے میں اُٹھا لیتا ہوں۔۔!!‘‘وہ نیم بیہوش ودیا کی جانب بڑھا
’’خبردار جو تم نے اسے ہاتھ بھی لگایا ۔۔۔!!میں اُٹھا رہی ہوں۔۔۔‘‘ وہ اس کو پڑے دھکیلتی ہوئی بولی
اس کی جیلیسی پر کیف زیر لب مسکرا دیا ۔۔
مازیہ نے اسے سہارا دیکھ کر اُٹھایا اور چلنے لگی۔۔
کیف بھی اس کے پیچھے ہی چل دیا۔۔
****************
’’مجھے کنوارہ مرنا منظور مگر انوش سے شادی نامنظور۔۔۔!!‘‘ وہ ہوا میں ہاتھ لہراتا ہوا بولا
’’میرے بھائی کیا کمی ہے انوش میں ۔۔۔اچھی بھلی تو ہے ۔۔۔۔ ہاں میں مانتا ہوں کہ انوش تجھ سے ذیادہ سمارٹ ہے۔۔۔ہمیشہ تجھ سے اچھے گریڈ لائے ہیں ۔۔ تجھے تو خوش ہونا چاہیے کہ تجھے اتنی اچھی بیوی مل رہی ہے جو تجھ سے ہر لحاظ سے بہتر ہے۔۔۔‘‘برہان منہ کھولے اپنے بھائی کے منہ سے اپنی بھابھی جو ابھی ہوئی بھی نہیں تھی کی تعریفیں سن رہا تھا
’’اگر اتنی ہے اچھی ہے تو خود کر لے شادی ۔۔۔۔!!‘‘وہ فٹ سے بولا
’’ کون کس سے شادی کر لے۔۔‘‘ ابیرہ جو ابھی اندر آئی تھی آدھی ادھوری بات سن کر بولی
اس سے پہلے کہ سرحان اُسے کچھ کہتا برہان بول پڑا
’’ وہ بھائی کہہ رہا ہے کہ اگر ان کی شادی تم سے نہ ہوئی ہوتی تو وہ انوش سے شادی کر لیتے۔۔۔‘‘
ابیرہ نا یقینی سے سرحان کو دیکھنے لگی اور سرحان بولنے کا موقعہ دیے بغیر وہاں سے چلی گئی ۔۔جبکہ سرحان ’’ارے ،ارے‘‘ کرتا رہ گیا
’’سالے کمینے انسان تجھے تو دیکھ لو گا میں ۔۔۔!!‘‘وہ منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا
’’مجھے بعد میں دیکھی پہلے اپنی بیوی کو دیکھ۔۔۔!!‘‘وہ اُسے زبان چراتا ہوا بولا
سرحان جلدی سے کمرے سے نکلا اسی پل انوش کمرے میں داخل ہوئی
برہان جو اپنی بچی ہوئی چپس کھانے لگا ہی تھا انوش کو دیکھ کر رک گیا
’’ کیا ہوا۔۔۔؟؟‘‘ اُس کو کچھ نہ بولتے دیکھ کر وہ بولا
’’ وہ میں کہنے آئی تھی کہ تم شادی کے لیے انکار کر دو۔۔‘‘ وہ ہاتھوں کی انگلیاں چٹخاتے ہوئے بولی
’’ تو تم خود کر دو۔۔۔‘‘ وہ کھڑا ہوا
’’ لو میں کہتے ہوئے اچھی لگوں گی۔۔‘‘ وہ معصوم صورت بنا کر بولی
’’اچھا تو تم چاہتی ہوں شادی سے انکار کردو میں تاکہ سارا الزام مجھ پر آجائے۔۔۔‘‘
’’بہت ہی چلاک ہو۔۔۔!!‘‘ وہ آنکھیں سکیڑ کر بولا
’’ الحمداللہ کدی غرور نہیں کِتا۔۔۔!!‘‘ وہ نقلی کالر پکڑ کر بولی
’’دیکھو برہان سیدھی سی بات ہے میں تم جیسے لوفر سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔تو پلیز تم انکار کر دو۔۔۔‘‘ وہ بول کر رُ کی نہیں وہاں سے چلی گئی
جبکہ برہان تو منہ کھولے اُ سے تکتہ رہ گیا
’’بھائی تسلی رکھ کچھ لوگ پیدا ہی بکواس کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔۔۔!!‘‘ وہ خود کو تسلی دیتے ہوئے بولا
گہرا سانس لیا اور اپنی چپس اُٹھا کر واپس کھانے لگا.
