Karzal by Anam Sana NovelR50670 Karzal (Episode 04)
No Download Link
Rate this Novel
Karzal (Episode 04)
Karzal by Anam Sana
یل ڈن میرے شیر ۔۔۔۔” سر خوشی سے بولے
سامنے والا اب بھی نقاب میں کھڑا تھا
“سر وہ لڑکیاں ابھی بھی ٹرک میں ہیں اور بیہوش بھی ۔۔۔۔بہت سٹرونگ میڈیسن دی گئی ہے ۔۔۔۔اس لیے ابھی تک ہوش میں نہیں آئیں ۔ ۔ ۔ ” وہ آرام سے بولا
دنیا میں صرف یہ واحد انسان تھے جس سے یہ نرمی سے بات کرتا تھا ۔۔۔اور ان کی سنتا اور مانتا تھا ۔۔۔۔
“ٹھیک انہیں کل تک ان کے گھر پہنچا دیا جائے گا ۔۔۔۔” وہ اس کو فائل دیتے ہوئے بولے فائل کو دیکھتے ہی اس نے نظر جھکا لی تھی
“تم نے مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا ۔۔۔۔” انہوں نے شکوہ کیا اب وہ ایک پیار کرنے والے فکر کرنے والے باپ بن گئے تھے ۔۔۔۔
“بابا سوری ۔۔۔۔” سر ابھی جھکا ہوا تھا
کرنل صاحب نے اس کے جھکے ہوئے سر کو دیکھا اور گہری سانس لی پھر ہاتھوں میں اس کا چہرہ لیا اور بولے
“میں جانتا ہو تم ڈر رہے تھے کہ کہی اس مشن کے لیے میں تمھیں منع کر دو گا اسی لیے نہیں بتایا نہ ۔۔۔”
اس نے بچو کی طرح ہاں میں سر ہلایا
“تو بیٹا جی ابھی آپ کو وقت ہے اس مشن کے لیے ۔۔۔لیکن جب آپ یہ سٹارٹ کر چکے ہیں تو میں اب روکو گا نہیں ۔۔۔۔کیونکہ کسی مشن کو سٹارٹ کر کے پیچھے ہٹ جانا پاک فوج کا شیوہ نہیں ۔۔۔”
پل میں وہ باپ سے فوجی بن گئے تھے ۔۔۔۔۔
“جاؤ خدا تمھیں سرخرو کرے ۔۔۔” اور اسی دعا کی اس ضرورت تھی ۔۔۔۔
وہ سلیوٹ کرتا جیسے آیا تھا ویسے ہی چلا گیا ۔۔۔
********************
“پاشا تم انڈیا جا رہے ہو ۔۔۔۔” یسوع کو جب معلوم ہوا کہ وہ انڈیا جا رہا ہے وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس کے پاس چلا آیا
“ہاں ۔۔۔”
“کیوں۔۔۔؟”
“بتانا ضروری نہیں سمجھتا “
“تم نہ بھی بتاؤ تب بھی مجھے پتا ہے ۔۔۔” اس نے ڈوک ٹوک کہا
“جب پتا ہے تو کیوں پوچھ رہے ہو ۔۔۔۔” اس نے طنز کیا
“کیوں کر رہے ہو ایسا ۔۔۔؟”
“بتانا ضروری نہیں سمجھتا ۔۔۔” وہی ضدی پن
“اوکے ۔۔۔۔لیکن اتنا تو بتا دو انڈیا کیوں جا رہے ہر بار دبئی جاتے ہو ۔۔۔۔ ” وہ ہار مانتے ہوئے بولا بحث میں آج تک پاشا سے کوئی جیت نہیں پایا
“ضروری کام ہے وہاں پر ۔۔۔اور ضروری نہیں کہ ہر بار وہیں جایا جائے جہاں درد ملے ۔۔۔” وہ کس کفیت سے گزر رہا تھا یسوع اچھے سے جانتا تھا
“میں سمجھ سکتا ہوں ۔۔۔” یسوع اس کو دیکھتے ہوئے بولا
“نہیں تم نہیں سمجھ سکتے تم نے زندگی میں کسی سے محبت نہیں کی تمھیں کھونے کی اذیت نہیں اٹھانی پڑی میں نے محبت بھی کی تھی اور ایسے کھویا بھی ،اور اس سے زیادہ تکلیف دہ بات اور کیا ہو گی کہ جس سے محبت کی جائے اس کھو بھی دیا جائے ۔۔۔تم نے ایسا نہیں کیا ۔۔۔لیکن میں نے ایسا کیا ہے ۔۔۔۔” وہ اس کے گریبان پکڑتے ہوئے چلایا یسوع خاموش تھا بلکل خاموش کوئی ردعمل نہیں کوئی جوابی کروائی نہیں ۔۔۔۔
پاشا کو جب احساس ہوا تو خود ہی چھوڑ دیا اور پیچھے ہو کر اپنے بالوں میں اپنی انگلیاں پھنسا لی
یسوع کچھ دیر خاموش رہا پھر بولا
“کسی نے سہی کہا ہے کہ سب سے بڑی فنکاری محبت کی فنکاری ہے بڑے بڑے منہ زوروں کو جنبش ابرو پر نچا لیتی ہے ۔۔۔۔”
پاشا نے ایک پل کے لیے اسے دیکھا اور پھر بنا کچھ کہے وہاں سے چلا گیا
یسوع بھی اس کے پیچھے پیچھے چلا گیا
************************
“بہت دیکھی حسین آنکھیں ،تبسم دلنشیں دیکھے
ہزاروں خوبرو دیکھے ،مگر تم جیسے نہیں دیکھے “
مازیہ جو اپنی دھن میں آگے جا رہی تھی اپنے پیچھے کسی کو شعر پڑھتے سن کر فورا پلٹی
پیچھے عجیب سے حلیے میں ایک لڑکا کھڑا تھا اور آنکھیں اس پر گاڑے اپنے ہونٹوں کو کاٹتے اس کو ہی دیکھ رہا تھا
مازیہ کو اس سے گھن آرہی تھی اور ڈر بھی لگ رہا تھا وہ بنا کچھ کہے جب جانے لگی تو وہ سیسہ پلائی دیوار بن کر اس کے سامنے کھڑا ہو گیا اور بولا
“اب ایسی بھی کیا بے رخی کہ دیکھ کر منہ موڑ لیا جائے ۔۔۔۔”
مازیہ نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا وہ پاس کھڑے لڑکے سی بولا
“اوئے جنید تو نے بتایا نہیں کہ یونی میں نیا آئٹم آیا ہے ۔۔۔۔” اس کی بات سن کر اس نے اپنی بتیسی دکھائی
مازیہ کو برا تو بہت لگا اپنے لیے ایسے الفاظ سن کر اس سے پہلے کے وہ کوئی جواب دیتی ابیرہ بول پڑی
” تو کبھی نہیں سدھر سکتا ۔۔۔کسی نے سہی کہا ہے کتے کی دم کبھی سیدھی نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔” آج وہ اکیلی آئی تھی اس نے کوئی بک لینی یہی لائبریری سے اس لیے وہ جلدی آگئی لیکن جب اس یونی میں ہجوم دیکھا اور تیمور کی آواز سنی تو سمجھ گئی پھر کسی کو تنگ کر رہا ہے وہ اگنور کر کے جانے لگی تو اچانک اس کی نظر تیمور کے سامنے ڈری گھبرائی مازیہ کھڑی تھی وہ فورا اس کے پاس پہنچی
“تم نے مجھے کتا کہا ۔۔۔” وہ غصے سے ُگرائا
اس نے ہاں میں سر ہلا دیا
وہ غصے سے اس کی طرف بڑھا مگر جنید نے اسے روک لیا اور سر کے اشارے سے مانا کیا
“دنیا میں سب سے زیادہ باتمیز تم ہو ۔۔۔” وہ دانت پیس کر بولا
“لو اب ایسی بھی کیا غریبی کہ بندہ ایک شیشہ نہ لے سکے ۔۔۔” وہ مسکراہٹ دبا کر بولی اور مازیہ کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے چلی گئی ۔۔۔۔
“تمھیں کیا ہوا اتنے غصے میں کیوں ہو ۔۔۔؟” سرحان جو ابھی آیا تھا روتی ہوئی مازیہ کا ہاتھ پکڑے غصے میں آتی ابیرہ کو دیکھ کر کہا اس کے ساتھ برہان انوش بھی تھی آغر آج بھی غائب اور کیف ابھی پیچھے تھا
” وہ کمینہ تیمور مازیہ کو تنگ کر رہا تھا وہ تو شکر میں وقت پر پہنچ گئی ورنہ پتا نہیں وہ کیا کرتا ۔۔۔۔” وہ اس کو دیکھتے ہوئے بولی
سب ہی ایک دم فکر مند ہو گئے
“اسے تو ہم دیکھتے ہیں ۔۔۔۔” سرحان اور برہان دونوں ساتھ بولے
“ن۔۔۔نہیں آپ رہنے دے وہ بہت خطرناک ہے ۔۔۔ ” مازیہ گھبرا کر بولی
“اور ہم ان سے زیادہ ۔۔۔۔!” برہان بولا
“”پلیز ۔۔۔!” التجا کی گئی
“اوکے ۔۔۔” دونوں ساتھ بولے ۔۔
“انوش اور ابیرہ تم لوگ چلو ہم آتے ہیں ۔۔” سرحان بولا
“لیکن ۔۔۔” مازیہ فورا بولی
“ہم وہاں نہیں جارہے بہن مانا ہے تو حق بھی ادا کرے گے ۔۔۔” سرحان اس کے سر پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا
ان لوگوں کے جانے کے بعد دونوں نے ایک دوسرے کی طرف آنکھوں سے اشارہ کیا اور چل پڑے
___________
“تم لوگوں نے آج کیا کیا ہے جھوٹ مت بولنا ۔۔۔۔” وہ جو آرام سے مووی دیکھنے میں مگن تھا ابیرہ کی بات پر چونک پڑے
“ہم نے کیا کیا ہے ۔۔۔” بظاہر تو وہ آرام سے پوچھ رہا تھا لیکن اندر ہی اندر وہ اس کے غصے سے ڈر رہا تھا
“کیا کیا ہے۔۔۔۔؟میں بتاؤں کیا کیا ہے ۔۔۔۔یہ دیکھو ۔۔۔۔” وہ خون سے الودہ شرٹ اس کے اوپر پھینکتی ہوئی بولی
شرٹ کو دیکھ کر اس نے تھوک نگلا اس نے یہ شرٹ چھپا دی تھی مگر ابیرہ کی زیرک نظروں سے یہ چھپی نہیں رہ سکی
اس کے اوسان تو تب خط ہوئے جب ابیرہ کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو نکلنے لگے بڑے استحاق سے اس نے انگلی کے پور سے اس کے آنسو چنے
اپنے چہرے پر سرحان کی انگلیوں کا لمس محسوس کر کے اس نے پیچھے ہٹنا چاہا ۔۔۔اس کا ارادہ بھانپ کر سرحان نے اس کی کوشش ناکام بنا دی
“کیوں اپنے یہ قیمتی آنسو اس خون کے لیے بہا رہی ہو۔۔۔” بےلگام لہجہ اس پہ سوا بہکتی مچلتی وارفتہ نگاہیں ابیرہ نے بری طرح سے چونک کر اس کو دیکھا اس کی نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے نظریں جھکا گئی
“یہ خون اتنا سستا نہیں ہے کہ اس کو بہہ دیا جائے ۔۔”
“لیکن ان آنسو سے زیادہ مہنگا بھی نہیں ہے ۔۔۔۔” وہ اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا جو بند ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے
“تم اچھے سے جانتی ہو کہ ہمارے گھر کی عزت کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر دیکھے ہم ان کی آنکھیں نکال لیتے ہیں ۔۔۔ہم نے مازیہ کو صرف بہن کہا ہی نہیں بلکہ مانا بھی ہے اور اس کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر دیکھے یہ میں کیسے برداشت کر سکتا ہوں ۔۔۔۔۔۔” وہ آنکھوں میں سختی لئے دانت پیس کر بولا
“آگر تمھیں کچھ ہو جاتا تو ۔۔۔۔” اس کو کچھ ہو جائے یہی اس کے لئے سوان روح تھا اور اب یہ خون ۔۔۔اس کا پریشان ہونا تو بنتا تھا وہ چاہیے ایک دوسرے سے جتنا مرضی لڑ لے مگر ایک دوسرے کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے تھے ۔۔۔۔”
“لو زیادہ کیا ہونا تھا جان ہی ۔۔۔۔”
“پلیز ۔۔۔۔۔”اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی ابیرہ نے اس کے منہ پر اپنا مرمری ہاتھ رکھ دیا
“اوکے اوکے نہیں کرتا ۔۔۔۔یار پلیز رونا تو بند کرو ۔۔۔۔” وہ جو اس کی ہاتھ رکھنے والی حرکت پر حیران تھا اس کے رونے پر پریشان ہو گیا ۔۔۔۔
“اب تم مجھے غصہ دلا رہی ہو ۔۔۔۔”جب اس نے رونا بند نہ کیا تو وہ سختی سے بولا ابیرہ نے جلدی سے بچوں کی طرح اپنے آنسو صاف کر لئے ۔۔۔اس کی بچوں والی حرکت پر مقابل کے مونچھوں تلے عنابی ہونٹ مسکرا دیے
“یہ کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔” سرحان نے کچھ بولنے کے لئے اپنے لب کھولے ہی تھے کہ برہان کی آواز پربرا سا منہ بنایا ابیرہ نے تیزی سے اپنا ہاتھ جو اس کے ہاتھ میں تھا کھنچ لیا سرحان نے اس کو خشمیگں نگاہوں سے دیکھا ۔۔۔۔
“تم نے میری بہن کو رلایا ہے ” ابیرہ کی لال سرخ آنکھیں دیکھ کر کیف نے اسے کہا
“آپ بھی وہی رک جائے ۔۔۔”وہ جو اس کی جانب بڑھ رہا تھا وہی رک کر حیرت سے اسے دیکھنے لگا
برہان اور انوش بھی حیرت سے اسے دیکھنے لگے کیونکہ آج تک اس نے کیف سے کبھی ایسے بات نہیں کی تھی
“کیا ہوا گڑیا ۔۔۔۔۔؟”
“آپ لوگوں نے ایسا کیوں کیا آپ لوگوں کے علاوہ میرے پاس ہے کون ۔۔۔۔۔۔۔ پھر بھی آپ نے ایسا کیا میرے بارے میں بلکل نہیں سوچا کہ آگر آپ کو کچھ ہو جاتا تو ۔۔۔۔۔”
اس سے آگے اس سے بولا بھی نہیں گیا وہ روتے ہوئے وہاں سے بھاگ گئی ۔۔۔۔۔۔۔
سب ہی اچانک اس کے ردعمل پر پریشان ہو گئے
“تم سے ایک کام کہا تھا وہ بھی نہیں ہوا ۔۔۔۔” شرٹ کو دیکھ کر وہ سمجھ گیا تھا کہ اس کو سب پتا لگ گیا ہے شرٹ چھپانے کی زمیداری برہان کو دی گئی تھی
“سوری بھائی مجھے نہیں پتا تھا کہ اس کو یہ شرٹس مل جائے گی ۔۔۔۔” وہ شرمندگی سے بولا
“میں اس سے جا کر بات کرتی ہو ۔۔۔”
“رکو ۔۔۔۔تم نہ جاؤ وہ ابھی کسی کی بات نہیں سنے گی صبح اس سے بات کرے گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انوش کو جاتا دیکھ کر کیف بولا
“کوئی نہیں مطلب کوئی بھی نہیں جائے گا ۔۔۔”آخری بات اس نے سرحان کو دیکھ کر کہی ۔۔
“اور یہ آغر کہاں پر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔”انوش کو دیکھتے ہوئے پوچھا
“وہ بابا کے ساتھ ہے ۔۔۔۔۔”
“اوکے ۔۔۔۔۔۔” وہ اورانوش دونوں ہی باہر چلے گئے جبکہ برہان وہی رہ گیا وہ چلتا ہوا سرحان کے پاس آیا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا
“فکر نہ کر سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔”
“کیسے فکر نہ کرو تو نے دیکھا تھا نہ آج ۔۔۔وہ جتنا اپنے آپ کو مظبوط ظاہر کرتی ہے وہ اتنا ہے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ لب بینچھے بولا
“اسے ساتھ کی ضرورت ہے ۔۔۔تیرے ساتھ کی ضرورت ۔۔۔۔تو اس کو احساس دلا اپنا ۔۔۔تجھے پتا ہے وہ بی تجھ سے محبت کرتی ہے ورنہ وہ تیرے لئے پریشان کیوں ہوتی ۔۔۔۔”
وہ اس کو سمجھاتے ہوئے بولا
“میں کل ہی اسے اپنے جذبات سے آگاہ کر دو گا ۔۔۔۔” وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا
*********************
کبھی اس نگر تجھے دیکھنا
کبھی اس نگر تجھے ڈھونڈنا
کبھی رات بھر تجھے سوچنا
کبھی رات بھر تجھے ڈھونڈنا
میرا خواب تھا کہ خیال تھا
وہ عروج تھا کہ زوال تھا
کبھی عرش پر تجھے دیکھنا
کبھی فرش پر تجھے ڈھونڈنا
***********************
“کیا ہوا پاشا ۔۔۔۔؟سب ٹھیک تو ہے ۔۔۔۔۔” یسوع نے کال پک کرتے ہوئے جلدی سے بولا
اپنے لئے فکر مند دیکھ کر پاشا کے لب مسکرا دیے ۔۔۔
“ہوا کچھ نہیں ہے مگر ہونے والا ہے ۔۔۔۔” وہ جو پرسکون ہوا تھا پریشانی سے بولا
“کیا ہونے والا ہے ۔۔۔۔” وہ حیرت سے بولا
“صرف کل تک ویٹ کرو خود ہی پتا چل جائے گا ۔۔۔اور شام کو واپس آرہا ہوں میں ۔۔۔۔۔”
“تم واقعی آرہے ہو ۔۔۔”وہ حیرانگی سے بولا
“کیوں نہیں آنا چاہیے ۔۔۔۔۔”
“نہیں میرا مطلب یہ نہیں تھا ۔۔۔”
“مجھے پتا ہے کہ تم کیا کہنا چاہتے ہو بس اتنا جان لو میں نے اپنی کمزوری پر قابو پانا سیکھ لیا ہے ۔۔۔۔ کیونکہ آگر ہم اپنی کمزوری پر قابو نہیں پائے گے تو یہ ہم پہ قابو پا کر ہمیں فنا کر دے گی ۔۔۔۔” وہ پرسکون لہجے میں بولا
“میں تیاری کرتا ہوں ۔۔۔۔۔” یسوع نے کہہ کر موبائل بند کر دیا پھر کسی کو کال کرنے لگا
*********************
“کیا خبر ہے ۔۔۔۔۔؟” کرنل اس کو دیکھتے ہوئے بولے
“سر وہ کوئی ٹیچر نہیں ہے وہ ایک جاسوس ہے ہم نے کئی دنوں سے اس پر نظر رکھے ہوئی تھی اتنے دنوں میں اس کو میں نے کسی بھی تدریسی عمل میں حصہ لیتے نہیں دیکھا ۔۔۔۔” وہ ان کو فائل دیتے ہوئے بولا جس میں باقی کی تفصیلات تھی
“تو پھر کیا پلین ہے ۔۔۔” کرنل اس کو دیکھتے ہوئے بولے
“سر ایسے اس کو پکڑنے میں کوئی فائدہ نہیں ہو گا ۔۔۔۔پہلے اس پر جال بچھانا ہے اور پھر اس کو پھانسنا ہے ۔۔۔۔۔ اس کے لئے ہمیں کسی بھروسہ مند ہندو لڑکی درکار ہے ۔۔۔۔”
“ہندو لڑکی ۔۔۔۔؟” کرنل حیرت سے بولے
“جی سر کیونکہ وہ خود ہندو ہے اس لئے کسی مسلمان لڑکی پر تو بھروسہ نہیں کرے گی اسی لئے ہندو لڑکی ہی چاہیے ۔۔۔”وہ مزید تفصیلات بتاتے ہوئے بولا
“اب یہ ہندو لڑکی کہاں سے آئے گی ۔۔۔۔”میجر ابیک بولے
“میں ہوں نا سب ہو جائے گا ۔۔۔۔۔” وہ تسلی دیتے ہوئے بولا
“اوکے مائے چائلڈ ۔۔۔۔اللہ کی حفاظت میں جاؤ ۔۔۔۔۔” وہ دعا دینا نہیں بھولے
وہ سلیوٹ کرکے وہاں سے چلا گیا
اس کے جانے کے بعد میجرابیک کرنل سے مخاطب ہوئے
“یہ انڈیا والوں نے بہت بڑی غلطی کردی ایک عورت کا سہارا لے رہے ہیں تف ہے ان پر ۔۔۔۔”
“ہر بار سوچتے ہیں کہ ہم سے جیت جائے گے اور ہر بار ناکامی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔” کرنل بولے
“لیکن ابھی تو ہم نے پاشا کو پکڑنا ہے جوپاکستان کی آنے والی نسلوں کو ختم کرنے پر تلا ہے ۔۔۔۔بہت شطر اور خطرناک ہے وہ ۔۔۔اس پر قابو پانا اتنا آسان نہیں ہے ۔۔۔۔۔وہ افغانستان اور انڈیا کی زمین ہمارے خلاف استعمال کر رہا ہے ۔۔۔۔۔” وہ لب بینچھے بولے
“سر انشااللہ جیت ہماری ہی ہو گی ۔۔۔۔۔” میجرپراعتماد لہجہ سے بولے
“انشااللہ ۔۔۔۔۔!!”
