Karzal by Anam Sana NovelR50670 Karzal (Episode 11)
No Download Link
Rate this Novel
Karzal (Episode 11)
Karzal by Anam Sana
کیا کرو ۔۔۔کہاں جاؤ میں ۔۔۔!!” برہان موبائل میں دیکھتے ہوئے بولا
وہ لوگ رات کو ہی دبئی پہنچ گئے تھے سب ہی لوگ تھک چکے تھے اس لیے ہوٹل آتے ہی سو گئے ۔۔۔ لڑکیوں کا الگ کمرہ اور لڑکوں کا الگ کمرہ تھا
برہان جب اٹھا تو کوئی کمرے میں نہیں تھا سب لوگ اٹھ چکے تھے صرف وہی نہیں اٹھا تھا
“میرا کیمرے ۔۔۔!! “موبائل میں کیمرا دیکھتے ہوئے اسے اپنا کیمرے یاد آیا
“وہ تو ابیرہ کے بیگ میں ہے ۔۔۔ “وہ خود سے ہی بولا اور جلدی سے بیڈ سے اٹھا اور اپنے کمرے سے باہر نکلا
اور ابیرہ کے روم کی طرف چل پڑا ابھی تھوڑی دور ہی آگے گیا تھا کہ اسے ابیرہ اور آبص جاتے ہوئے نظر آئی ۔۔اس لیے بغیر نوک کئے اندر چلا گیا
“اوہ یس ۔۔۔”وہ چلایا یہ دیکھے بنا کے اندر کوئی اور بھی موجود ہے
“بیچ پر چلے جاتے ہیں ۔۔۔۔” وہ خوشی سے چلایا
یہ دیکھے بنا کے انوش اسے ہی گھور رہی ہے
جب رہا نہیں گیا تو بولی
“”کوئی بیچ پر نہیں جائے گا ۔۔۔۔!!”
پہلے تو وہ انوش کو روم میں دیکھ کر حیران ہوا لیکن پھر وہی اپنی اصلی حالت میں واپس آیا اور بولا
“کیوں جی۔ ۔۔۔میں تو جاؤ گا ۔۔۔ !!”
جا کر دکھاؤں ۔۔۔۔!!” وہ کھلا چیلنج دیتی ہوئی بولی
” چیلنج دے رہی ہو ۔۔۔!!” وہ آنکھیں سکیڑ کر بولا
“دھمکی ۔۔۔۔۔!!” وہ مسکراتے ہوئے بولی
” تمہاری دھمکی کی تو ایسی کی تیسی ۔۔۔۔اب تو میں جاؤ گا ۔۔۔۔!!” وہ صوفے سے کھڑا ہوتا ہوا بولا
“میں نے تمہاری ٹانگیں توڑ دینی ہیں ۔۔۔!!”وہ دانت پیس کر بولی
“ہنہ ایک ٹافی توڑی نہیں جاتی بڑی آئی ٹانگیں توڑنے والی ۔۔۔!!”وہ اس کا مذاق اڑاتا ہوا بولا جس بات کی طرف اشارہ کیا تھا وہ سمجھ چکی تھی
“دیکھ لو بعد میں مت کہنا وارن نہیں کیا ۔۔۔!!” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی
“”ہنہ ۔۔۔۔” وہ ابھی دروازے تک ہی پہنچا تھا کہ اس کو انوش کی آواز سنائی دی
“جی بابا ۔۔۔میں نے بہت روکا ہے ۔۔ مگر آپ تو جانتے ہیں نہ کہ یہ کب مجھ معصوم کی بات سنتے ہیں ۔۔۔۔۔!!” برہان تو بیہوش ہوتے ہوتے بچا اس کو بلکل امید نہیں تھی کہ وہ ماموں کو فون کر دے گی ۔۔۔اس نے تو اس کی دھمکی کو کھوکلا سمجھا تھا ۔۔۔ وہ کچھ اور بولتی برہان نے آگے بڑھ کر اس سے فون کھنچا اور کان سے لگایا ساتھ ہی ماموں کی غصیلی آواز سنائی دی
“میری بات کرواؤ ان کی ۔۔۔۔اس لئے دبئی جانے دیا تھا ۔۔۔۔”
“ماموں میری بات سنے ۔۔۔ ” وہ جلدی سے بولا ورنہ ان سے کوئی بعید نہیں کہ آج ہی واپس بلا لے
اس کی اڑی ہوئی رنگت کو دیکھ کر انوش کو بہت ہنسی آرہی تھی مگر اس نے کنٹرول کیا ہوا تھا ۔۔۔
لیکن وہ کہاں سننے والے تھے اچھی خاصی اسے سنا کر فون بند کر دیا
“تم ۔۔۔تمھیں تو دیکھ لو گا میں ۔۔۔۔!!” وہ غصے سے ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا ۔ اور باہر نکل گیا اتنی عزت افزائی کے بعد وہاں رکنا ناممکن تھا
اور پیچھے انوش ہنس ہنس کر ادھ موئی ہو گئی
*************
کمرے میں دھواں ہی دھواں تھا لیکن وہ تو اسے بیٹھا تھا جسے یہاں کچھ نہ ہو آگر یہاں کوئی اور ہوتا تو وہ ضرور کھانس کھانس کر ادھ موئا ہو جاتا لیکن وہ کوئی اور نہیں تھا وہ پاشا تھا
وہ رات کو گھر جانے کے بجائے وہی ہوٹل میں ٹہر گیا تھا۔۔۔ساری رات سیگرٹ پی پی کر اپنی اندر کی آگ بجھانے کی کوشش کی مگر وہ تو کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی جا رہی تھی
“تم بے وفا نہیں تھی ۔۔۔نہیں تھی بے وفا ۔۔۔۔!”اس نے پاس پڑا گلدان اٹھا کر پھینک دیا
کمرے میں کوئی اسی چیز نہیں تھی جو اپنی جگہ پر ہو
وہ جتنا سوچ رہا تھا اندر کی آگ اتنی ہی بڑھتی جا رہی تھی
پھر کچھ سوچتا ہوا اپنی جگہ سے اٹھا اور فریش ہونے چلا گیا گھنٹے بعد فریش ہو کر باہر آیا اور کال کر کے روم صاف کرنے کو کہا ۔۔اور خود گھڑی پہنتے ہوئے باہر نکل گیا
ابھی وہ چند قدم ہی چلا تھا کہ کوئی اس سے ٹکرایا
پاشا نے غصے سے اپنے سینے سے لگی عورت کو دیکھا اور کندھے سے تھام کر پیچھے دیکھلنے لگا تھا کہ اس کی نظر نقاب سے جھلکتی آنکھوں پر پڑی ۔۔۔
یہ آنکھیں ۔۔۔ان آنکھوں کو تو وہ لاکھوں کی بھیڑ میں بھی پہچان سکتا تھا
اس کے لب ہلے ۔۔۔اور بولے کیا صرف ایک لفظ
“کارزل “
______________
“کارزل ۔۔۔”
وہ ابھی نا یقینی سے اسے دیکھ رہا تھا اسے لگا وہ خواب دیکھ رہا ہے
وہ نقاب پوش لڑکی نے اسے اپنے آپ سے دور کیا اور وہاں سے بھاگ گئی پاشا حقیقی دنیا میں واپس آیا اور اس کے پیچھے بھگا لیکن تب تک وہ جا چکی تھی ۔۔۔
پاشا نے غصے سے ہاتھ کا مکا بنا کر دیوار میں مارا دیوار پر موجود شیشہ ریزہ ریزہ ہو گیا اور بہت سا کانچ اس کے ہاتھ میں لگ گیا ۔
مگر پرواہ کس کو تھی ۔۔۔
“یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔؟؟ کیا یہ میری نظر کا دھوکہ ہے ۔۔۔۔نہیں میری نظر دھوکہ نہیں کھا سکتی ۔۔۔۔”
وہ خود سے ہمکلام ہوا ۔۔۔
پھر کچھ سوچتے ہوئے اپنا موبائل نکالا اور کسی کو کال ملائی ۔۔۔بات کرنے کے بعد اس نے اپنے ہاتھ کو دیکھا جس سے خون نکل رہا تھا
“تم جو کوئی بھی ہوں مجھ سے نہیں بچ سکتی ۔۔۔تمھیں تو میں ڈھونڈ نکلالو گا ۔۔چاہے اس کے لیے مجھے زمین آسمان ایک کیوں نہ کرنا پڑے ۔۔۔”وہ اپنے ہاتھ سے کانچ نکالتے ہوئے بولا
*************
“تجھے کیا ہوا منہ بنا کر کیوں بیٹھا ہے ۔۔۔؟؟”سرحان نے برہان کو کہا جو منہ بنا کر بیٹھا تھا
“مجھ سے بات نہ کر ۔۔۔۔!!” وہ منہ پھلا کر بولا
“اوکے ۔۔۔۔!!” اس نے اپنے کندھے اچک کر کہا اور دوبارہ اپنے فون پر لگ گیا
“واہ بھائی واہ شرم تو نہیں آتی ۔۔یہاں بھائی اداس بیٹھا ہے اور تو اپنی بیوی کے ساتھ لگا ہوا ہے ۔۔۔!!” وہ آنکھیں سکیڑ کر بولا
“یار اداس ہو وہ ۔۔۔۔!!” نظر ابھی بھی موبائل پر تھی ۔۔
“بھائی اداس ہے اس کی کوئی فکر نہیں اور اس کی فکر پڑ گئی جو ابھی آئی نہیں ۔۔۔۔!! “
“تو کیوں تھرڈ کلاس نندوں کی طرح جل رہا ہے ۔۔۔!!” موبائل سے نظر اٹھا کر بولا
“اب تیری کوئی بہن تو ہے نہیں تو تجھے کمی نہ محسوس نہ ہو بس اسی لیے ۔۔۔۔” وہ زبردستی مسکرا کر بولا
“او اچھا تیرا لڑکی بننے کا دل کر رہا ہے ۔۔۔تو تو ایسا کر نہ ۔۔۔۔۔” آگے وہ جو بولا وہ سن کر برہان کی دونوں آنکھیں باہر آگئی
“لعنت تیری شکل پر ۔۔۔۔” برہان گلاس اس کی طرف اچھلا جس کو اس نے کیچ کر لیا اور دانت نکال کر ہسنے لگا ۔۔۔جو برہان کو سخت زہر لگ رہا تھا
برہان اس کو مارنے کے لیے لپکا اس سے پہلے کہ وہ اس مارتا سرحان وہاں سے بھاگ نکلا
آب آگے سرحان پیچھے برہان ۔۔۔ برہان کے ہاتھ میں جو چیز آرہی تھی وہ سرحان کو مار رہا تھا ۔۔سارا ہوٹل ان کے شور سے گونج اٹھا ۔۔۔سب لوگ ان دونوں پاگل بھائیوں کی دیکھ رہے تھے جو بنا کسی کی پرواہ کئے اپنی ہی دھن میں تھے
انوش جو نیچے آئی تھی شور سن کر اس کی سمت میں دیکھنے لگی۔۔۔۔۔اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی ۔۔۔
اس نے نفی میں سر ہلایا اور بولی
“یہ لوگ کبھی نہیں سدھر سکتے ۔۔۔۔!! “
باہر جانے کا ارادہ ترک وہ واپس اوپر جانے ہی لگی تھی کہ اس کی نظر آغر کی طرف پڑی جو کسی سے فون پر بات کر رہا تھا
وہ جلدی سے اس کی طرف بڑھی اور اس کا فون کھنچ لیا ۔۔آغر جو بات کرنے میں مصروف تھا اچانک آفت پر حیران رہ گیا
“یہ کیا باتمیزی ہے ۔۔۔!!” وہ غصے سے بولا
“یہ تو مجھے پوچھنا چاہیے کہ یہ کیا باتمیزی ہے ۔۔۔”وہ موبائل کو لہراتے ہوئے بولی
“انو میرا موبائل دو مجھے ۔۔۔۔!!”وہ ہاتھ آگے کرتے ہوئے بولا
“نہیں ۔۔۔”اس نے موبائل کو پیچھے کر لیا
“انو ۔۔۔!!”
“اوکے لے لیں۔۔۔آپ کو کیا فکر ہے اپنی بہن کی ۔۔۔لوگ تو اکلوتی بہن سے اتنا پیار کرتے ہیں اور ایک آپ ہیں ۔۔۔۔مجھے تو لگ رہا ہے آپ جو بچپن میں کہتے تھے کہ میں آپ کی سگی بہن نہیں ہو مجھے کچڑے سے اٹھایا ہے ۔۔۔اب لگ رہا ہے کہ آپ سچ کہتے تھے ۔۔۔۔!!” وہ آنکھوں میں آنسو لیے ہوئے بولی
“او ۔۔۔۔پلیز اسٹاپ ۔۔۔انو ۔۔۔دیکھ میری پیاری بہن نہیں ۔۔۔اچھا یہ لے ۔۔۔”
“اوف کر کے ۔۔۔!!” وہ جو موبائل پاکٹ میں رکھ رہا تھا اس کی آواز پر اسے دیکھا اور پھر موبائل اوف کر کے پاکٹ میں رکھ دیا
“یسسس ۔۔۔۔۔!!” وہ چلائی
“برہان سہی کہتا ہے تمھیں ۔۔۔۔ڈرامہ کوئین ۔۔۔۔!!” وہ اس کے سر پر ہلکا سا تھپڑ مارتا ہوا بولا
“یاد آیا وہ ہے کہاں ۔۔۔۔؟” وہ ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولا
“وہ رہے ۔۔۔!!” انوش نے ہاتھ کے اشارے سے بتایا
آغر نے ہاتھ کی سمت میں دیکھا تو حیران رہ گیا
کیف ہوٹل کے گارڈ سے بات لڑ رہا تھا جو بہت غصے میں تھا اور وہ دونوں اس کے پیچھے مجرموں کی طرح سر جھکائے کھڑے تھے ۔۔۔۔۔۔
“یہ کیا ۔۔۔۔۔؟؟” اس نے حیرت سے انوش سے پوچھا
انوش نے اسے سب بتایا ۔۔۔۔
بات سنتے ہی آغر کا قہقہہ گونجا
“یہ لوگ بھی نہ ۔۔۔۔!! ” وہ سر کو ہلاتا ہوا بولا
“اچھا چلو ان کی طرف چلتے ہیں ۔۔۔۔!!” آغر بولا اور ان کی طرف چل پڑا
“تم لوگ بچے ہو کیا ۔۔۔شرم آنی چاہیے ۔۔۔۔” کیف غصے سے بولا
“ہم نے کیا کیا ہے ہم تو معصوم ہیں ۔۔کیوں سرحان ۔۔۔” برہان سرحان کو کہنی مارتے ہوئے بولا
“ہاں بہت معصوم ۔۔۔تم لوگ تو نکے کاکے ہو جنہوں نے یہ حرکت کی ہے ۔۔۔۔!!” وہ دانت پیس کر بولا
“کیا ہوا کیف اتنے غصے میں کیوں ہوں ۔۔۔۔!!” جبال بھی کیف کو ان پر برستا دیکھ کر ان کی طرف آگیا تھا اس کے ساتھ آبص بھی تھی ۔۔۔وہ بولا
ابیرہ بھی سرحان کو ڈھونڈتے ہوئے ان کی طرف آگئی ۔۔۔
“تمھیں پتا ہے کتنا نقصان ہوا ہے ۔۔۔تم لوگوں کی وجہ سے اس گارڈ کو مجھے 10،000 درہم دینے پڑے ہیں ۔۔۔”
“پاکستانی کرنسی میں یہ کتنے ہو گے ۔۔۔!!”انوش سوچتے ہوئے بولی
“تین لاکھ اسی ہزار سو پانچ روپے ۔۔۔” ۔ برہان بولا
پیسے سنتے ہی سب کے رونگتے کھڑے ہو گئے
“وہ تو شکر پیسوں پر بات نمٹ گئی ۔۔۔ورنہ وہ تو انکو جیل لے کر جا رہے تھے ۔۔۔یہاں فساد کرنے کے جرم میں ۔۔۔۔۔!!” وہ غصے سے انہیں دیکھتے ہوئے بولا
” لے جانے دیتے انہیں کم سے کم جان تو چھوٹتی ۔۔۔ہائے میری شاپنگ ۔۔۔۔اللہ پوچھے گا تمھیں ۔۔۔۔” انوش غصے سے بولی
“کیسی بہن ہے بھائی جائے جیل میں مگر شاپنگ کینسل نہ ہو ۔۔۔۔” سرحان نے اسے شرم دلانی چاہیے
مگر وہ بھی انوش تھی
“تم جیسے بھائیوں سے شاپنگ زیادہ اچھی ہے ۔۔۔۔۔!!”
برہان کی زبان پر کهجلی ہوئی وہ کچھ بولتا کیف پہلے ہی بول پڑا
“خبردار جو تم لوگ اب سٹارٹ ہوئے ۔۔۔۔اور کوئی کہیں نہیں جا رہا اب ۔۔۔جس نے جانا ہے صبح جائے وہ ۔۔۔۔!!” کیف غصے سے بولا
سب ہی اس کے غصے سے خائف تھے ایک ایک کر کے سب ہی اپنے رومز کی طرف چلے گئے ۔۔۔۔
***********
“کچھ پتا لگا ۔۔۔۔!!” پاشا نے سامنے کھڑے انسان سے پوچھا ۔۔۔سامنے والا شخص اس کے غصے سے اچھے سے واقف تھا ڈرتے ڈرتے بولا
“نہیں سر ہم نے ساری سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوا کر دیکھ لی ہے مگر اس برقعے والی عورت کا کچھ پتا نہیں لگا ۔ ۔ ۔وہ اندر دیکھی گئی ہے مگر باہر جاتے ہوئے نہیں دیکھی گئی۔۔۔ !!”
“ہممم اس کا مطلب صاف ہے کہ وہ عورت بھی اُسی ہوٹل میں ہے ۔۔۔۔!!” وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا
“تم جاؤ ۔۔۔!!” وہ اس کو اشارہ کرتے ہوئے بولا
وہ حیران ہوا کہ پاشا نے اس کی جان بخش دی حکم ملتے ہی وہ رفو چکر ہو گیا
پاشا نے پاس پڑا اپنا موبائل اٹھایا اور شیخ کو کال کی اور اسے آنے کا کہا موبائل بند کر کے اس کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ پڑی
سیگریٹ سلگا کر وہی اپنے پرانے کام میں مصروف ہو گیا
کج شوق سی یار فیقری دا
کج عشق نے در در رول ِدتا
کج سجن کسر نہ چھوڑی سی
کج زہر راقیباں گھول ِدتا
کج ہجر فراق دا رنگ چڑھیا
کج درد ماہی انمول دتا
*******************
“ہائے اللہ دبئی کی صبح کتنی حسین ہے ۔۔۔۔!!” دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر رکھتے ہوئے انوش بولی
“مجھ سے کم ۔۔۔!!”برہان ایک ادا سے بولا
“بندہ کتا پال لے مگر خوش فہمی نہ پالے ۔۔۔”انوش اس کو منہ چڑا کر بولی
“اے چھپکلی ۔۔۔۔!!”
“اوے مینڈک ۔۔۔!!”
انوش بھی دوبدو ہو کر بولی آس پاس موجود لوگ انہیں حیرانگی سے دیکھ رہے تھے جو صبح صبح ہی شور مچانے لگ گئے تھے ۔۔۔وہ لوگ ناشتہ کرنے نیچے آئے ہوئے تھے بقول انوش کے تازہ ہوا میں بیٹھ کر کھانا کھانے سے کھانا جلدی ہضم ہوتا ہے ۔۔۔
“انف از انف ۔۔۔۔!!”کیف دبی دبی آواز میں بولا
“غلطی کر دی میں نے۔۔جو تم لوگوں کو لے آیا ۔۔۔۔!!”
“غلطی جب کر دی ہے تو بھگتو ۔۔۔!!” سرحان کندھے اچک کر بولا
“تم ۔۔۔”
“اچھا بس بھی کرے آپ سب ناشتہ کرے اس کے بعد ہم نے مال بھی جانا ہے ۔۔۔” آبص بولی
اس کے بعد سب نے چپ چاپ ناشتہ کیا
“صرف 15 منٹ ہیں تم لوگوں کے پاس جلدی سے جو سامان لینا ہے جلدی لے آؤ ۔۔۔” کیف گھڑی کو دیکھتے ہوئے بولا
سب نے ٹھیک ہے کہہ کر اپنے روم کی طرف چل پڑے
“بھائی یہ کیا بات ہوئی کوئی کلب ہوتا ہے کوئی بیچ ہوتی ہے ۔۔۔دبئی آئے بھی اور گئے کہیں بھی نہیں ۔۔۔!!” کمرے میں آتے ہی برہان منہ بنا کر بولا
“بچو کیف کو کہتا ہوں کہ بچے نے بیچ جانا ہے ۔۔۔کلب بھی جانا ہے ۔۔۔۔!!” جبال اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا
“کیوں بھائی ۔۔۔سرحان تو اپنے بھائی کی خواہش پوری نہیں کرے گا ۔۔۔” سرحان کو ایک آنکھ دبا کر بولا
“ہاں جبال ٹھیک کہہ رہے ہو تم ۔۔۔رکو میں کال کر کے اسے کہتا ہوں کہ مال جانا کینسل کرو کلب چلتے ہیں ۔۔۔ !!” وہ اپنا موبائل نکلاتے ہوئے بولا
“اوئے رک ۔۔۔مروائے گا ۔۔۔!!” برہان اس سے موبائل کھنچتے ہوئے بولا
دونوں کا مشترقہ قہقہہ کمرے میں گونجا
“کیف کو چھوڑ آگر اس انوش کی بچی کو پتا چل گیا تو اس نے 1 سیکنڈ نہیں لگانا ماموں کو کال کرنے میں ۔۔۔۔!!”پہلے والا واقعہ یاد کر کے وہ دانت پیس کر بولا
اتنے میں جبال کا فون بجا
“لو آگیا بلاوا ۔۔۔!!”فون کو دیکھتے ہوئے وہ بولا
“کس کا ۔۔۔کیف کا ۔۔۔؟؟”برہان نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
“ہاں چلو چلتے ہیں ۔۔۔ان لڑکیوں نے تو نکلنا نہیں ہے ۔۔۔”برہان بولا
“تونے جانا ہے یا نہیں ۔۔۔”سرحان جو ابیرہ کی حرکت پر ہنس رہا تھا جو اس کے آن لائن ہوتے ہی اوف لائن ہو گئی تھی برہان کی آواز پر جلدی سے اپنا موبائل رکھا اور بولا
“چلو ۔۔۔۔!!”
تینوں ہی ایک ساتھ روم سے نکلے آگے ہی انہیں آبص اور انوش مل گئی ۔۔۔
سرحان کی نظریں جیسے ڈھونڈ رہیں تھی وہ دشمن جاں تو کہیں بھی نہیں تھی
“ابیرہ کہاں ہے ۔۔۔؟”آخر اس نے انوش سے پوچھا
“آپ کی بیگم صاحبہ ابھی بھی تیاری میں لگی ہوئی ہیں ہم میں تو حوصلہ نہیں ہے کیف بھائی کی ڈانٹ سننے کا تھا ۔۔۔”وہ کہتے ہی لفٹ کے اندر چلی باقی سب بھی اندر چلے گئے
“اچھا بھائی ہم جارہے ہیں بھابھی کو لے آنا ۔۔بائے ۔۔!!”برہان بولا
“جا رہا ہوں لینے ۔۔۔۔”وہ روم کی طرف چل پڑا…
