Karzal by Anam Sana NovelR50670

Karzal by Anam Sana NovelR50670 Last updated: 5 May 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Karzal by Anam Sana

عبدالنافیع "خانزادہ گروپ آف انڈسٹری" کے مالک ملک کے ٹاپ 10 بزنس مین میں شامل ہوتے تھے بسین ان کی زوجہ ایک سادہ لوح انسان تھی ۔۔ جنت پلس ان کے گھر کا نام جو خود عبدالنافیع نے رکھا تھا اور اس کی رونق ان کا لاڈلا اور اکلوتا بیٹا کیف جو بہت منتوں اور دعاؤاں کے بعد ملا تھا ۔۔ کہتے ہیں کے انسان کے نام کا اثر اس انسان پر بہت ہوتا ہے تو یہ جس نے کہا ہے ٹھیک ہے کہا ہے ۔۔۔ کیف جس کے نام کا مطلب سرورومستی ہے اس کی طبیعت بھی ایسی تھی وہ بچپن میں ایسی ایسی شرارت ڈھونڈ کر لاتا کہ لوگوں کے ناک میں دم ہو جاتا تھا ۔۔۔۔
اس کی یہ عادت بڑے ہونے کے بعد بھی نہیں بدلی
ان کا گروپ " the devil's group " کے نام سے مہشور تھا ۔۔۔جس میں انوش ،ابیرہ ،سرحان ،برہان ،اور آغر شامل تھے
انوش اور آغر اس کی چچا زاد تھی سرحان اور برہان اس کے پھوپھو زاد تھے اور دونوں ہی جڑواں تھے صرف نام کے کیونکہ ان کی شکل تو ایک دوسرے سے بلکل مختلف تھی ۔۔۔ اور رہ گئی ابیرہ تو وہ ان کی پڑوس میں رہتی تھی وہ بھی صرف نام کی کیونکہ سارا دن وہ بھی جنت پلس میں رہتی تھی ۔۔۔۔ یہ پانچوں لوگ شیطان کے چیلے تھے اور کیف شیطان کا بھی استاد ۔۔۔۔۔
"رحم پاشا رحم ۔۔۔ہم آگے خیال رکھے گے " وہ لوگ ڈروخوف سے بولے
"پاشا صرف ایک موقع دیتا ہے کسی کو ۔۔۔بار بار موقع دینا پاشا کا شیوہ نہیں ۔۔۔۔" وہ ان پر بندوق تان کر بولا اور ایک کے بعد ایک گولی چلا کر ان سب کی زندگی کو تمام کر دیا
"پتا لگاؤ کس کم ذات کی اتنی ہمت ہوئی میرے ساتھ پنگا لینے کی ۔۔۔۔۔" پاشا اتنے غصے سے دھاڑا کے کمرے کے دارو دیوار ہل گئے باقی لوگ جلدی سے کمرے سے باہر چلے گئے پاشا کا کیا بھروسہ کہ کب کیا کر جائے
"ریلکس پاشا ۔۔۔ " یسوع اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا
"ریلکس ۔۔۔۔کسے کرو بولو ۔۔۔۔میرا کروڑوں کا نقصان ہو گیا ۔۔۔۔۔" وہ جلے پاؤں کی بلی بنا ہوا تھا جس کو کہیں بھی سکون نہیں مل رہا تھا
"مجھے ایک بات سمجھ نہیں آرہی کہ یہ سب کچھ اتنا پرائیویٹ تھا کہ ۔۔۔۔"
"کہ تم نے مجھے بھی نہیں بتایا ۔۔۔" یسوع نے اس کو شرمندہ کرنا چاہا ۔۔۔
مگر پاشا نے شاید کبھی شرمندہ ہونا سیکھا ہی نہیں
اتنے تلخ ماحول میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے ہونٹ مسکرا دئیے
" میں نے کبھی ہونے باپ پر بھروسہ نہیں کیا تو تم تو کل کی پیداوار ہو ۔۔۔"
یسوع جانتا تھا کہ وہ اس پر کیا کسی پر بھی بھروسہ نہیں کرے گا
کچھ سوچتا ہوا وہ کرسی پر بیٹھ گیا اور کسی کو کال ملائی ۔۔۔
" مرحبا ۔۔ آج ہم ناچیز کو کیسے یاد کر لیا ۔۔۔۔" آگے والے اس کی حالت سے لطف اٹھاتا ہوا بولا
"اپنی بکواس بند کرو اور میری بات سنو ۔۔۔۔" پاشا ناگواری سے بولا
بات ختم ہوتے ہی اس کے لبوں پر مسکراہٹ رینگ پڑی ۔۔۔
"کج شوق سی یار فیقری دا
کج عشق نے در در رول ِدتا
کج سجن کسر نہ چھوڑی سی
کج زہر راقیباں گھول ِدتا
کج ہجر فراق دا رنگ چڑھیا
کج درد ماہی انمول دتا
کج سڑ گئی قسمت بد قسمت دی
کج پیار وچ جدائی رول دتا
کج ۔۔۔۔۔۔
آآامی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! " برہان زور سے چلایا
وہ جو مگن ہو کر بلھے شاہ کی غزل سن رہا تھا کیف نے آکر اس کی کمر پر زور سے مارا ۔۔۔وہ بلبالا اٹھا ۔۔۔۔
"کمینے ۔۔۔۔تجھے کون سے روگ لگے ہیں ۔۔۔۔جو اس کو سنتا رہتا ہے ۔۔۔۔۔" کیف لاڑکا عورتوں کی طرح کمر پر ہاتھ رکھ کر بولا
"تجھے کیا پتا عشق ایک نشہ ہے اگر اس کی لت کسی کو لگ جائے تو وہ چاہ کر بھی اس کو چھوڑ نہیں سکتا ۔۔۔" وہ کھویا کھویا بولا
"پہلی بات نشہ حرام ہے ۔۔۔اور دوسری میں نشہ نہیں کرتا ۔۔۔۔ تیسری اور آخری مجھے تو تو معاف ھے کر ۔۔۔کیونکہ میں عشق و عاشقی کے لیے بنا ہی نہیں ہو ۔۔۔" وہ اپنا موبائل اٹھاتا ہوا بولا
"آگر کبھ۔۔۔۔"
"برہان ۔۔۔۔۔۔!!" اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی کیف بول پڑا
"اوکے ۔۔۔۔۔"وہ چپ کر گیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اب کوئی فائدہ نہیں ہے بات کرنے کا
"برہان کیا تم نے ویڈیو اپلوڈ کر دی ۔۔۔۔۔" آغر کمرے میں آتے ہوئے بولا
"کون سی ۔۔۔۔؟" وہ حیرانگی سے پوچھنے لگا کیونکہ اسے تو یاد ھے نہیں تھا کہ کون سی ویڈیو اپلوڈ کرنی ہے ۔۔۔
"برہان تم نے ویڈیو اپلوڈ نہیں کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ " سرحان چلایا کیف بھی غصے سے اس کو دیکھنے لگا
سب کو غصے سے اپنی طرف تکتے پا کر برہان کے تنگ ذہن میں یاد آہی گیا کہ کون سی ویڈو کی بات ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔
"س ۔۔۔۔س ۔۔۔سوری میں بھول گیا تھا ابھی کر دیتا ہو ۔۔۔۔۔" برہان ہکلاکے بولا
"برہان کے بچے ۔۔۔۔" سرحان دانت پیس کر بولا
"کیا کرتا ہے جونئیر ابھی کہاں سے میرے بچے آگئے ۔۔۔ابھی تو میں سنگل ہو ۔۔۔۔" وہ شرمانے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بولا
" جس طرح سے تیری حرکتیں ہیں نا انشااللہ تو نے سنگل ہی رہنا ہے ۔۔۔۔دیکھ لینا۔۔۔۔ " آغر منہ پر ہاتھ پھیڑتے ہوئے بولا
"خبردار جو تم لوگ آپس میں لڑے پہلے ویڈیو اپلوڈ کرو پھر چاہے دنگل کرنا یا ایک دوسرے کا قتل ۔۔۔" کیف کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا
"بہت ہی مطلبی ہے تو کیف ۔۔۔۔" برہان نے اس کو شرمندہ کر نا چاہا مگر وہ بھی ایک نمبر کا ڈھیٹ انسان تھا ۔۔۔
"شکریہ ۔۔۔" وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر تھوڑا جھک کر بولا
برہان نے اس کو تیکھی نظروں سے دیکھا ۔۔۔پھر کرسی پر بیٹھ کر اپنا کام کرنے لگا
اور صرف ایک منٹ میں سارا کام کر چکا تھا ۔۔۔
"لو ۔۔۔میری جان کے دشمن ۔۔۔" وہ غصے سے بولتا ہوا کھڑا ہوا
سب کے چہرے پر دبی دبی مسکراہٹ رینگ پڑی
"او میری جان کے دلارے ادھر آ میلا بابو مجھ سے ناراض ہو گیا ۔۔۔۔" سرحان اس سے گلے ملتے ہوئے بولا
"پڑے مڑ ۔۔۔۔" وہ اس کو اپنے سے دور کرتا ہوا بولا
ساتھ ہی سب کا قہقہہ بلند ہوا
"کیا ہو رہا ہے یہاں پر ۔۔۔۔؟" انوش اور ابیرہ نے ان کو پاگلوں کی طرح ہنستا دیکھ کر پوچھا
"ایک تو تم لوگ بھی ۔۔۔۔سکون نہیں ہے ۔۔۔۔تم لوگوں کو ۔۔۔"آغر منہ بناتا ہوا بولا
"اچھا جی ہمیں سکون نہیں ہے ۔۔رکو ابھی جا کر بابا کو بتاتی ہو ۔۔۔۔" انوش اس کو دھمکی دیتے ہوئے بولی اور واقعی یہ دھمکی کام بھی کر گئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *