Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Karzal (Episode 09)

Karzal by Anam Sana

ہاں جیسے تمہارے بڑے بڑے پوسٹر لگے ہیں شہر میں ۔۔۔۔!!” انوش کب اس کے ہاتھ آنے والی تھی

“وہ بھی لگ جائے گے ایک دن ۔۔۔۔!! “

“شہر کا تو پتا نہیں البتہ تھانے میں ضرور لگے گے ۔۔ “وہ مسکراہٹ دبا کر بولی

سب کے چہرے پر ہنسی تھی

“میں ۔۔۔۔”

اس کی بات درمیان میں کاٹ کر سرحان بولا

“یہاں گیم کھیلنے آئے ہو یا ریسلنگ کرنے ۔۔۔۔اب کوئی لڑا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا ۔۔۔۔۔”

“تو تم ہی شروع کرو ۔۔۔۔ہم بیٹھے ہیں چپ کر کے ۔۔۔”

برہان منہ بنا کر بولا

“اوکے ۔۔۔۔” وہ کہہ کر سیدھا ہوا

“یہ غزل کسی خاص کے لئے ۔۔۔۔”وہ ابیرہ کو اپنی نظر میں رکھتا ہوا بولا

“ہمیں پتا ہے وہ خاص کون ہے تو بس شروع کر ۔۔۔!!” برہان جلدی سے بولا

سرحان نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا

پھر دوبارہ ابیرہ پڑ فوکس کرتے ہوئے بولا

” یہ محبتیں ،یہ عنایتیں

یہ مسرتیں تیرے نام ہیں

میرے ہم قدم ،میرے ہم نشین

یہ رفاقتیں تیرے نام ہیں

کبھی گمشدہ ،کبھی روبرو

کبھی آئینہ ،کبھی عکس تو

میرے ہم نوا میری خواہشیں

میری صبحتیں تیرے نام ہیں

کبھی یہ ہنسی ،کبھی یہ نمی

کبھی رنجشیں ،کبھی قربتیں

میری زندگی کی حسیں سبھی

یہ عبارتیں سبھی تیرے نام ہیں “

“واہ بڈی چھا گیا ۔۔۔ !”برہان اس کو داد دیتے ہوئے بولا

“اب ۔۔۔بھابھی آپ کی باری ۔۔۔۔!!” ابیرہ کو برہان نے بولا

اس کی تو آنکھیں حیرت سے پھیل گئی ۔۔۔

جبکہ سرحان کے لبوں پڑ مسکراہٹ رینگ پڑی

“میں کوئی بھابھی نہیں تمہاری جیسے آگے ابیرہ کہتے تھے اب بھی وہی کہو ۔۔۔۔” وہ جلدی سے بولی

“پہلے اور رشتہ تھا اب اور ہے ۔۔۔اچھا یہ سب چھوڑے آپ سٹارٹ ہو جائے ۔۔۔۔!!”

“مگر میں کیا ۔۔۔۔!!” وہ پریشانی سے بولی

“کچھ بھی میرے لئے ۔۔۔۔!” سرحان شوخی سے بولا

سب نے اووو کیا

“میرا سوچنا تیری ذات تک

میری گفتگو تیری بات تک !!

نہ تم ملو جو کبھی مجھے

میرا ڈھونڈنا تجھے پار تک !!

کبھی جو فرصتیں ملیں تو آ

میری زندگی کے حصار تک !!

میں نے جانا کہ میں تو کچھ نہیں

تیرے پہلے سے تیرے بعد تک !! “

“ارے واہ ۔۔۔۔!!!” برہان چلایا

وہ جو اس میں کھویا ہوا تھا ایک دم حقیقی دنیا میں واپس آیا

ابیرہ نے اس کی دیکھنے کی غلطی نہیں کی تھی وہ جانتی تھی کہ وہ اسے ہی دیکھ رہا ہے

“اب آغر تیری باری ۔۔۔۔!!”

وہ جو موبائل میں لگا ہوا تھا جلدی سے موبائل رکھ کر سیدھا ہوا

“سارا دن اسی میں لگا رہتا ہے تو بھی تو ہماری بھابھی لانے کے چکر میں تو نہیں ۔۔۔۔!! وہ اس کو جانچتی نظروں سے دیکھتا ہوا بولا

‘” ارے نہیں اسی کوئی بات نہیں ۔۔۔” وہ ہنس کر بولا

“اچھا چل سنا پھر ۔۔۔۔!!

اس نے آنکھیں بند کی تو کسی کا چہرہ سامنے آیا آنکھیں کھول دی اور بولا

“محبت دکھ تو دیتی ہے

مگر ایک بات کہتی ہے

کہ جس کو چاہا جائے

ضروری یہ نہیں ہوتا

کہ اس کو پالیا جائے

کبھی اس کے بچھڑنے سے

محبت کم نہیں ہوتی

محبت دکھ تو دیتی ہے

مگر کم نہیں ہوتی “

وہ ابھی چپ ہی ہوا تھا کہ برہان چلایا

“لکھوا لو مجھ سے کوئی تو ہے جو اس کا چین وین لوٹ کر لے گئی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ “

“ایسا کچھ نہیں ہے بس یہ سمپل غزل ہے میں کہی پڑھی تھی تو یاد رہ گئی ۔ ۔۔۔۔” وہ اس کے خیالات کی نفی کرتے ہوئے بولا

کیف کی پر سوچ نظریں اس پر ہی تھی جو آغر نے محسوس کر لی تھی

“تو کہتا ہے تو ٹھیک ہے لیکن مجھے یقین نہیں ۔۔۔۔اچھا چل بھائی کیف سٹارٹ ہو جا ۔۔۔۔!! “

“میں ۔۔۔!!”

“نہیں میں ۔۔۔کیا ہے بھائی سب کا دھیان کہاں ہے آج ۔۔۔!”وہ منہ پھلا کر بیٹھ گیا

“اچھا سوکھا ٹینڈا نہ بن سنتا ہوں ۔۔۔!!کیف ہنستے ہوئے بولا

“محبت یوں بھی ہو جاتی ہے

ہمیشہ چپ رہا جائے

کبھی کچھ نہ کہا جائے

حفاظت اسے کی جائے

کہ جیسا کوئی راز ہو کوئی

کہ جیسے پرسوز سینے میں

کہ جیسے ساز ہو کوئی

چھپایا یوں اسے جائے

جو دل میں سیپ کے موتی

کوئی کہہ دے اسے جا کر

یہ بھی انداز الفت ہے

طریق مہر چاہت ہے

یہ بھی رمز محبت ہے

کوئی کہہ دے جا کر اسے

محبت یوں بھی ہوتی ہے

محبت یوں بھی ہوتی ہے “

وہ ختم کرنے کے بعد مسکرا دیا

” تم تو نہ بھی بتاؤ تو بھی مجھے پتا ہے کہ یہ کس لئے ہے ۔۔۔!!” وہ شرارت سے بولا

“کس کے لئے ۔۔۔۔!!” وہ گھبرا کر بولا

“بس ہے مجھے پتا ہے ۔۔۔”

“کیسے ۔۔۔؟”

اور یہ اس کے شک پر یقین کی مہر تھی اس نے تو ہوا میں تیر چھوڑا تھا اور وہ نشانے پر جا کر لگا اس کی خوشی دیدنی تھی

“نہیں ۔۔۔مطلب تجھے کیسے ۔۔۔؟؟” وہ پریشانی سے بولا

وہ بات جو اس نے خود سے بھی چھپائی ہوئی تھی وہ اسے کیسے پتا لگ گئی

“اللہ‎ نے کان اور آنکھیں دی ۔۔۔اور الحمداللہ‎ میں دونوں کھولے رکھتا ہوں ۔۔۔”وہ کالر جھاڑتے ہوئے بولا

“برہان کون ہے وہ جلدی بتاؤ ۔۔۔”انوش اور ابیرہ دونوں چلائی آغر کے بھی کان کھڑے ہو چکے تھے

“وہ ۔۔۔۔!!”

“خبردار آگر اپنی زبان سے کچھ نکلا ورنہ ۔۔۔!

“ورنہ ۔۔۔۔!”

“میں نے چاچو کو کہہ کر دبئی جانا کینسل کروا دینا ہے ۔۔۔

نہیں ۔۔۔۔۔۔!!!”وہ چلایا

“میں کسی کو نہیں بتاؤ گا ۔۔۔۔”وہ منہ بنا کر بولا

“اٹس نوٹ فئیر۔۔۔”وہ دونوں منہ بنا کر بولی

وہ مسکرا دیا

“اچھا جب سے ہماری سن رہے ہو خود بھی کچھ سناؤ ۔۔۔۔”سرحان بولا

“اوکے لو سنو ۔۔۔”

“عرض کیا ہے کہ ۔۔۔”

“خبردار جو سڑے ہوئے شعر سنایا ۔۔۔!!”انوش پہلے بول پڑی

“اچھا لو سنو ۔۔۔۔”

“شاعری ہم کلام ہونے دو

لفظ میرے غلام ہونے دو

ابھی جلدی کیا ہے جانے دو

رک جاؤ کہ شام ہونے دو

دل پہ میرے تو نے لکھ دیا

ذرا سا مجھے بدنام ہونے دو

کیا چھپا کر کرو گے تم یاری

بات اب سرعام ہونے دو “

وہ مسکراہٹ سجائے بولا

جب ختم کرنے کے بعد سب کی طرف دیکھا تو وہ اسے ھی دیکھ رہے تھے

“کیا ۔۔۔؟” سب اپنی طرف تکتا پا کر بولا

“کون ہے وہ ۔۔۔؟”سرحان ابرو اٹھا کر بولا

“کون ۔۔۔؟”

“جس کے لئے یہ تھی ۔۔۔۔!!”

“یہ ۔۔۔۔۔!!” وہ ہونٹوں کو سکیڑ کر بولا

“یہ تو میں نے گوگل انکل سے دیکھی ہے ۔۔۔” وہ ہنستے ہوئے بولا

“واقعی ۔۔۔۔!!” وہ اس کو دیکھتے ہوئے بولا

“جی جی ۔۔۔۔!! “

“بچو آپ سوئے نہیں سو جاؤ جا کے ۔۔۔” سرحان اسے کچھ کہتا سبین بول پڑی ۔۔

برہان نے ان کا لاکھ شکر ادا کیا کہ وہ آگئی ورنہ اس نے واقعی پھنس جانا تھا

ان کے کہنے پر سب ہی اپنی جگہ سے اٹھے اور اپنے اپنے روم کی طرف چلے گئے

_____________

“میں ہی کیوں عشق ظاہر کرو تو بھی کبھی بول دے ۔۔۔!!”ابیرہ گانا بھی گا رہی تھی اور ساتھ ساتھ پیکنگ بھی کر رہی تھی۔۔۔ اس کو سرحان کے آنے کا پتا ہی نہیں چلا ۔۔۔وہ اس کو اپنی نظروں کے حصار میں لیے ہوا تھا ۔۔

اپنے اوپر کسی کی نظروں کو محسوس کرتے ہوئے اس نے اپنا جھکا سر اٹھایا سرحان کو اپنے مقابل پا کر وہ بہت حیران ہوئی کیونکہ آج تک کبھی بھی سرحان رات کے اس پہر نہیں آیا تھا ۔۔۔

“آپ ۔۔۔۔!!” اس کی آواز میں حیرت ہی حیرت تھی

“اللہ‎ ۔۔یہ کیا ہو گیا ۔۔۔تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ۔۔۔!!” وہ بظاہر تو فکر دکھا رہا تھا مگر آنکھوں میں شرارت تھی ۔۔۔

“آج تک تو کبھی بھی آپ نہیں بلایا اور شادی کے فورا بعد ہی آپ ۔۔۔۔اللہ‎ ۔۔۔مجھے پتا ہوتا کہ شادی کے بعد تم اتنی عزت دو گی تو میں پہلے ہی شادی کروا لیتا ۔۔ ” وہ مسکراہٹ دبا کر بولا

“سرحان ۔۔۔تم ۔۔۔تم نہ عزت کے لائق ہی نہیں ہو ۔۔۔!!” وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولی

“اہاں ۔۔۔اب لگ رہی ہو نہ میری ابیرہ ۔۔۔۔!!”وہ مسکراتے ہوئے بولا

“سرحان تمھیں شرم آنی چاہیے کسی لڑکی کے روم میں اتنی رات کو بنا اجازت کے اندر آگئے ہو ۔۔۔!!”وہ اس کے آنکھوں میں بنا دیکھے بولی

“جب وہ لڑکی بیوی ہو تو کیسی شرم ۔۔۔۔!!”وہ اس کے ہاتھ تھامتے ہوئے بولا

“سرحان ۔۔۔۔!!”اس نے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔مگر سرحان نے اس کی تمام کوشش کو ناکام بناتے ہوئے اس ایک جھٹکے سے اپنی طرف کھنچا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا

“ہم جو تم سے ملے اتفاق تھوڑی ہے ۔۔؟

مل کر تم کو چھوڑ دے مذاق تھوڑی ہے ۔۔۔؟

آگر ہوتی تم سے محبت ایک حد تک تو چھوڑ دیتے ۔۔

پر ہماری تم سے محبت کا حساب تھوڑی ہے ۔۔؟

اب تم ڈھونڈو گے میری اس غزل کا جواب

یہ میرے دل کی آواز ہے کتاب تھوڑی ہے ۔۔۔”

اور ابیرہ کے تو گال ہی دہک اٹھے ۔۔سرحان اس کے اتنے قریب تھا کہ وہ باآسانی اس کے دل کی دھڑکن کو سن سکتی تھی ۔۔۔اوپر سے یہ غزل ۔۔۔

“ابیرہ سچ میں جب سے میری زندگی میں آئی ہو تب سے میری لائف ہی بدل گئی ہے ۔۔۔” وہ خوشی سے بولا ایک ایک لفظ سے اس کی خوشی جھلک رہی تھی ۔۔

“خوش قسمت تو میں ہوں جو تم مجھے ملے ۔۔۔۔!!” ابیرہ نے بھی اپنا دل کھول کر اس کے سامنے رکھ دیا

“وہ تو میں ہوں ۔۔۔!!” وہ فخر سے بولا ساتھ ہی دونوں ہنس دیے

ابیرہ نے اسے ہنستے ہوئے دیکھا تو اس میں کھو سی گئی ۔۔۔ڈارک نیلی آنکھیں ،کھڑی ناک ۔۔اور گال پر پڑتا ڈمپل اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہا تھا

کچھ پل اسے دیکھتے رہی پھر بولی

آگر میں تم سے کچھ مانگوں ۔۔؟؟”

“مانگو ۔۔۔!!”

“آگر میں تم سے یوں بولوں ۔۔۔۔؟؟”

“بولوں ۔۔۔۔۔!!”

“آگر یہ میری تمنا ہو ۔۔۔؟؟”

“کیا ۔۔۔!!”

” میرے دل کی یہ خواہش ہو ۔۔۔؟؟”

“کہ ۔۔۔۔!!”

“زندگی میں جب تم کو پکاروں میں

تمہارا ساتھ چاہوں تو ۔۔۔؟؟” “

“ہمیشہ مجھے اپنے ساتھ پاؤ گی ۔۔۔۔۔!!”

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا

یہ اظہار اسے اندر تک سرشار کر گیا

وہ دلکشی سے مسکرائی ۔۔۔

سرحان نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا اور اس کے ماتھے پر پہلی مہر محبت ثبت کی ۔۔

اور اس کو حیران و پریشان کھڑا چھوڑ کر باہر چلا گیا

اور کیا چاہتے ہو ،اس دل میں مقام اپنا

کہہ تو دیا ہے ___میری کُل کائنات ہو تم

********************

اس وقت پاشا اپنے محل میں تھا ۔۔۔ اس کا محل ۔۔۔اس کی جان کا محل ۔۔۔اس کے پیار کا محل ۔۔۔!!

وہ اس وقت جس کمرے میں تھا وہ اس محل کا سب سے اہم اور خوبصورت کمرہ تھا کیوں نہ ہوتا وہ اس کی جان کا کمرہ تھا

پورا کمرہ گولڈن رنگ سے سجا تھا پردے ،بیڈ شیٹ ،صوفے ،یہاں تک کہ پھول بھی گولڈن رنگ کے تھے جو گلدان میں رکھے ہوئے تھے ۔۔۔

سامنے دیوار پر ان دونوں کی بڑی سی تصویر لٹکی تھی ۔۔۔۔

“آج دیکھو تمہارا پاشا کہاں ہے ۔۔کس حال میں ہے ۔۔۔تمھیں ترس نہیں آتا میری حالت پر ۔۔۔کیا سے کیا بن گیا ہوں میں ۔۔۔۔آج دیکھو تمہاری دی گئی بد دعا نے کیا حال کیا ہے میرا ۔۔۔!!وہ اس کی تصویر سے مخاطب تھا

کون کہہ سکتا تھا یہ وہی پاشا ہے انڈر ورلڈ کا بے تاج بادشاہ ۔۔جس سے ایک دنیا ڈرتی ہے ۔۔۔

وہ پاشا جس نے اپنے دشمنوں کو زندہ جلایا

وہ پاشا جس نے اپنے ساتھ دھوکہ کرنے والے کو زندہ زمین میں گارا ۔۔۔۔

وہ پاشا جس نے اپنی طرف اٹھنے والی ہر بری نگاہ کو نوچ ڈالا

وہ پاشا جس نے اپنے طرح بڑھنے والے ہر غلط ہاتھ کو توڑ ڈالا

وہ پاشا جس نے اپنے آپ کو عشق میں تباہ کر لیا

**********************

“کیوں ہم دبئی کیوں نہیں جا سکتے ۔۔۔۔!!” جبال بورا سا منہ بنا کر بولا

“کیونکہ وہاں پاشا ہے ۔۔۔!!” یسوع بولا

“تو ۔۔۔!!” وہ ابرو اٹھا کر بولا

“تو یہ کہ ہم نہیں جا سکتے ۔۔۔!!” وہ آرام سے بولا جیسے کوئی بڑی بات نہ ہو اور یہی بات جبال کو پریشان کر رہی تھی

“دیکھ میں نے تجھے پہلے بھی کہا تھا کہ میری بیوی کو پسند ہے دبئی اور میں نے جانا ہے اس کے ساتھ ۔۔۔!!”وہ اس کو سمجھاتا ہوا بولا

“جیسے پہلے اس نے دیکھا نہیں ۔۔۔ایک بار نہیں جائے گی تو کچھ نہیں جائے گا ۔۔۔۔!!” وہ منہ بنا کر بولا

“زبان سمبھال کر بول ۔۔۔بیوی ہے میری وہ ۔۔۔۔اب تو میں جاؤں گا کر لو جو کرنا ہے ۔۔۔” دو تین گلیاں نکال کر کھٹک سے فون بند کر دیا

“جبال یہ ۔۔۔۔!!” باقی کے لفظ جبال کو دیکھ کر اس کے منہ میں ہی رہ گئے وہ جو اس کو اپنا ڈریس دکھانے آئی تھی جبال کو دانت بھینچے ادھر ادھر چکر کاٹتا دیکھ کر وہی رک گئی جلدی سے اپنا ڈریس وہی رکھا اور جبال کے پاس پہنچی

“کیا ہوا جبال ۔۔۔!!”وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیے بولی

جبال نے ایک نظر سامنے کھڑی اپنی بیوی کو دیکھا وہ اس کو اداس نہیں کرنا نہیں چاہتا تھا اس کے ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹھا کر وہ واپس چکر کاٹنے لگا

“جبال ۔۔۔۔!!”وہ رو دینے کو تھی

“پلیز آبص اس وقت تم یہاں سے چلی جاؤ میں بہت غصے میں ہوں ۔۔۔۔!!”

آبص نے اسے حیرت سے دیکھا اور بولی

“تم ۔۔تم مجھے جانے کو کہہ رہے ہو ۔۔۔” وہ اپنی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے بولی

اس کے آنکھوں سے آنسوں نکلے لگے

“ایک تو یار پتا نہیں تم نے انکھوں میں پانی کی ٹنکی فٹ کروائی ہے جو ہر وقت آنسو نکلنے کو تیار رہتے ہیں ۔۔۔۔!!” وہ اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا

“تو تم بھی ایسے کام نہ کیا کرو جس سے میری آنکھوں میں آنسو آئے ۔۔۔”وہ سو سو کرتے بولی

“اچھا سوری ۔۔۔!!” وہ بچوں کی طرح کان پکڑ کر بولا

وہ اس کی حرکت پر پہلے حیران ہوئی پھر کھلکھلا کر ہنس پڑی

اس کو ہنستا دیکھ کر اس کی جاں میں جان آئی

“اس طرح اچھے نہیں لگتے ہو ۔۔۔!!” وہ اس کے ہاتھ ہٹا کر بولی وہ سر جھٹک کر مسکرا دیا

“اچھا اب بتاؤ ذرا غصہ کیوں تھے ۔۔۔” وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر بولی وہ جانتا ٹھا جب تک اس کو بتائے گا نہیں یہ سکون سے نہیں بیٹھنے والی

اس نے سانس خارج کیا اور پھر سب بتا دیا

“لو یہ کیا بات ہوئی ۔۔پاشا وہاں ھے تو ہم کیوں نہیں جا سکتے ۔۔ ویسے کیا اب ہم جائے گے ۔۔۔!” وہ کچھ سوچتے ہوئے بولی

“ہم جائے گے ۔۔۔!!” اس کا لہجہ اٹل ٹھا

“لیکن کیسے ۔۔۔؟” وہ بولی لیکن جبال نے کوئی جواب دیے بغیر اس کی گود میں اپنا سر رکھ دیا اور اس کا ہاتھ اپنے آنکھوں پر رکھ دیا جس کا مطلب تھا کہ اب وہ کوئی اور بات نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔۔

آبص اس کے بالوں میں ہاتھ پھیڑنے لگی اور مسکرا دی

میں رشک لیلیٰ وہ فخر مجنوں

کہ یار مجھ میں ،میں یار میں ہوں….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *