Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Karzal (Episode 01)

Karzal by Anam Sana

اندھیری خوفناک رات میں جہاں سڑک پر دور دور تک کوئی زی روح نظر نہیں آرہی تھی وہاں وہ نقاب پوش بے دھڑک اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا ۔اپنی مطلوبہ جگہ پہنچ کر اس نے ادھر ادھر دیکھا تسلی کر کے اس نے دیوار پر ہاتھ رکھا اور دیوار کو پھلانگ کر اندر چلا گیا اندر موجود لوگوں کی آوازیں آرہی تھی وہ آگے بڑھا ہی تھا کہ اس کو اپنے قدم روکنے پڑے کیونکہ سامنے ایک خونخوار کتا منہ کھولے کھڑا تھا مگر وہ نقاب پوش بھی پوری تیاری کے ساتھ آیا تھا اپنی جیب سے نشے والا بسکٹ نکالا اور اس کے آگے ڈال دیا اور کچھ ہی پل لگے اس کو بیہوش ہونے میں کتے کے بیہوش ہوتے ہی وہ آگے بڑھا ایسے سامنے ایک کھڑکی نظر آئی تھوڑی سی کوشش سے کھڑکی کھل گئی وہ بنا آہٹ کئے اندر چلا گیا۔۔۔اندر بیٹھے لوگ اپنی موت سے بے خبر شراب نوشی میں مصروف تھے اس نے آس پاس دیکھا تو وہاں بہت بڑے بڑے ٹین تھے ٹین میں پانی جیسا مواد تھا جو اگلی نسل کو تباہ کرنے کے لیے تھا اس نے اپنی جیب سے ایک باکس نکالا اور اس کو آگ لگائی اور جس طرح آیا تھا اسی طرح واپس چلا گیا ۔۔۔کچھ پل لگے تھے کہ عمارت میں زور دار دھماکہ ہوا دھماکے کے فورا بعد آگ بھڑک

اٹھی ۔۔۔اندر سے لوگوں کی دل دہلا دینے والی چیخنے کی آوازیں آرہی تھی آگر وہاں کوئی اور موجود ہوتا تو ضرور ہارٹ اٹیک سے مر جاتا مگر وہاں کوئی اور وہ موجود تھا جس کے سینے میں دل نہیں پتھر تھا ۔۔اور کچھ ہی پل میں عمارت جل کر خاک ہو گئی ۔ اس نے اپنا موبائل نکالا اور

“mission successfull”

لکھ کر کسی نمبر پر سینڈ کر دیا

اس نے پیچھے مڑ کر جلی ہوئی عمارت کو دیکھا تو اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی اس نے اپنے ہونٹوں کو سیٹی بجانے کی طرح گول کیا اور سیٹی بجاتے ہوئے اپنی اگلی منزل کی طرف چل دیا

*****************

“واہ آج تو بہت مزہ آئے گا نئے شکار جو آئے ہیں ۔۔” سامنے نظریں جمائے گیٹ سے اندر آتے لوگوں کو دیکھ کر سرحان بولا وہ سب لوگ اس وقت یونیورسٹی کے داخلی گیٹ کے تھوڑا دور بیٹھے آتے ہوئے اپنے جونئیرز کو دیکھ رہے تھے

“چلے ۔۔۔۔” سرحان آنکھوں میں شرارت لیے بولا اس کی باتوں کا مفہوم سمجھتے ہوئے باقی لوگوں کی آنکھوں میں بھی شرارت اتر آئی ۔۔۔سب سے پہلے سرحان اور برہان اٹھے ان کے پیچھے پیچھے آغر،انوش،اور ابیرہ بھی اٹھ گئی

اور تھوڑی ہی دیر میں وہاں افراتفری مچ گئی کیونکہ انہوں نے وہاں ان کی کلاس لینی شروع کر دی اتنے میں ایک لڑکا وہاں سے بھاگ نکلا ابیرہ نے اس کو دیکھ لیا تو چلائی ۔۔سب نے اس کے اشارے کے تقاقب میں دیکھا جہاں سے لڑکا بھاگا تھا آغر جو اس کے پیچھے جانے لگا تھا سرحان نے اس کو روک لیا آغر نے اس کو سوالیہ نظروں سے دیکھا اس کی نظروں کا مفہوم سمجھتے ہوئے وہ مسکرا کر بولا

“اپنا کنگ ہے نہ ۔۔۔۔سمبھال لے گا ۔۔۔” اس کی بات سمجھ کر آغر بھی مسکرا دیا اور آنے والے وقت کا انتظار کرنے لگا جب اس کی درگت بننی تھی ۔۔۔

وہ لڑکا بھاگ کر ایک کمرے گئے جو دیکھنے میں اسٹور روم سے کم نہیں تھا اس نے جلدی سے دروازہ بند کیا اور لمبے لمبے سانس لینے لگا اور اللّه کا شکر ادا کیا کہ ان شیطانوں سے بچ گیا ۔۔۔ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اس کو احساس ہوا کے اس کے پیچھے کوئی ہے جب اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا اس نے اپنا وہم سمجھ کر سر جھٹک دیا ۔۔۔لیکن اسی پل کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا وہ جھٹکے سے پیچھے مڑا تو اس کی آنکھیں دہشت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئی کیونکہ وہاں لمبے بالوں والا سفید چولا پہنے ہوئے بدنما چہرے والا کوئی انسان تھا نہیں انسان نہیں کوئی بد روح تھی اس کو تو یہی لگا وہ آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھنے لگا اور بولا

“آگئے تم ۔۔۔میں کب سے تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی اب سے نہیں صدیوں سے ۔۔۔۔”

“ن۔۔ن۔۔۔نہیں دور رہو مجھ سے ۔۔۔”وہ لڑکا ہکلاکے بولا

“آؤ میرے پاس آؤ ۔۔۔” اس نے کہہ کر اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا جس سے خون نکل رہا تھا لڑکے کے تو اوسان ہی خطا ہو گۓ اس نے اتنی زور سے چیخ ماری کہ سامنے والے نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لی ۔۔۔ وہ اس کو دھکا دیتے ہوئے باہر کی طرف بھاگا ۔۔باہر موجود لوگوں نے جب اس کو یوں حواس باختہ دیکھا تو سمجھ گئے کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے ۔۔۔ سرحان ،برہان کے علاوہ وہاں اور لوگ بھی موجود تھے اور اس کی حالت سے لطف اٹھا رہے تھے

سرحان اس کے پاس آیا اور بولا

“کیا ہوا کوئی بھوت دیکھ لیا ۔۔۔۔!” وہ اپنی حواس باختہ حالت میں اس کی آنکھوں ناچتی شرارت کو نہیں دیکھ سکا اور زور زور سےہاں میں سر ہلانے لگا

“جانے من تم یہاں میں تمھیں کہاں کہاں ڈھونڈ رہی تھی ۔۔۔” اپنے پیچھے سے آنے والی آواز پر وہ اچھل پڑا جھٹکے سے پیچھے مڑا تو اور زور سے چیخ ماری

وہاں موجود لوگوں نے اپنی انگلیاں کانوں میں ٹھونس لی ۔۔۔

“یار تو نے تو چلانے میں لڑکیوں کا بھی ریکارڈ توڑ دیا ۔۔۔۔” وہ بدروح نما انسان بولا اور ساتھ ہی وگ ،اپنا سفید چولا اور چہرے سے ماسک اتار دیا

دراز قد ،ہلکی ہلکی شیو ،اور ہیزل آنکھیں جس میں شرارت ناچ رہی تھی جو آس پاس موجود لوگوں کی بھی آنکھوں میں تھی ۔۔۔

وہ سمجھ گیا کہ اس کی ریگنگ کی گئی ہے جن آنکھوں میں ڈر تھا اب ان آنکھوں میں غصہ تھا ۔۔

“کیا ہو رہا یہاں ۔۔۔۔” کوئی پیچھے سے بولا

سب نے مڑ کر آواز کی سمت میں دیکھا کیف نے آواز کی سمت میں دیکھا وہاں جینز کی اوپر پنک کلر کی شرٹ پہنے ہوئے ڈوپٹے کو مفلر کی طرح لیے ہوئے آنکھوں پر چشمہ لگائے ہوئے ایک لڑکی کھڑی تھی

سب کو اپنی طرف تکتہ پا کر وہ تھوڑی کنفیوز ہوئی

کوئی کچھ بولتا پیچھے سے سر عمر کی آواز آئی

“کیا ہو رہا ہے یہاں پر ۔۔۔۔؟؟” سر کی آواز سنتے ہی سب اپنی جگہ سے اچھل پڑے کیف بھی سیدھا کھڑا ہو گیا

اگر یہ کہا جائے کہ سر عمر کے علاوہ کیف کسی اور سے ڈرتا نہیں ہے تو یہ غلط نہ ہو گا ۔۔۔۔

“وہ ۔۔۔۔ہم نیا سٹوڈنٹس کو ویلکم کر رہے تھے ۔۔۔” کیف بولا

“وہ تو مجھے دیکھ رہا ہے کہ کس طرح ویلکم کیا جا رہا ہے ۔۔۔۔” سر نے آس پاس کھڑے بےحال سٹوڈنٹس کو دیکھ کر کہا

“تم کب سدھرو گے ۔۔۔” سر غصے سے بولے

“میں نے کیا کیا سر ۔۔۔۔۔؟” معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے کیف بولا سرحان برہان تو اس کی کمال کی اداکاری پر صدقے واری جا رہے تھے

سر نے تاسف سے سر ہلایا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ کبھی نہیں سدھر سکتا ۔۔۔۔اچانک سر کی نظر جب سٹوڈنٹس کے درمیان کھڑی گرین آنکھوں والی لڑکی پر پڑی تو سر کا موڈ اک دم خوشگوار ہو گیا جو کیف کی تیکھی نظر سے چھپ نہ سکا

“اوہ آپ آگئی ۔۔۔ آئیے ۔۔۔” سر عمر مسکرا کر بولے

سب ایک بار پھر آنے والی لڑکی کو دیکھنے لگے ۔۔ جس کو دیکھ کر سر کے منہ سے پھول برس رہے تھے ۔۔۔

“آؤ مازیہ ۔۔۔” سر ایک بار پھر بولے

“ج۔۔۔۔جی سر ۔۔۔۔” وہ لڑکی سر ہلاتی سر کے ساتھ چل پڑی

“یار یہ کون تھی ۔۔۔؟” سرحان نے برہان سے پوچھا

“مجھے کیا پتا ۔۔۔” برہان نے کندھے اچک کر کہا

آغر نے بھی نہ میں سر ہلایا

“لگتا ہے کوئی خاص تھی ورنہ سر اتنے پیار سے بات کرنے والے ہیں نہیں ۔۔۔” انوش کچھ سوچتے ہوئے بولی

باقی سب نے بھی ہاں میں سر ہلایا

“وہ چلی گئی ہے ۔۔۔” ابیرہ نے کیف کے کان کے پاس ہو کر کہا کیف نے نہ سمجھی میں اس کو دیکھا اس کو اس طرح دیکھ کر سب کا قہقہہ پھوٹ پڑا

“دل کو لگی ۔۔۔۔؟ ” برہان نے شرارت سے کیف سے پوچھا کیف نے اسے پہلے دیکھا اور پھر ہونٹوں پر دلنشین مسکراہٹ سجائے بولا

“آج تک کوئی ایسی پیدا نہیں ہو جو اس کو(دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے )لگے۔۔۔”

“ہائے ۔۔۔۔۔یہ دلنشین تیری مسکراہٹ جان لے کر چھوڑے گی ۔۔۔۔” سرحان اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے ایک ادا سے بولا

باقی سب اس کی باتوں پر ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے

“بند کر اپنا مسخراپن ۔۔۔ ” اس کی گردن پکڑتے ہوئے کیف بولا

“ہائے ۔۔۔ہائے ۔ ۔۔۔۔اللہ‎ ۔۔۔مجھے بچائے ۔۔۔۔”وہ چلانے لگا کیونکہ اب اس کو مارنے میں برہان اور آغر بھی شامل ہو چکے تھے ۔۔۔

پاس بیٹھی انوش اور ابیرہ اپنا پیٹ پکڑ کر بیٹھ چکی تھی ہنس ہنس کر ۔۔۔۔۔

پاس سے گزرتے سٹوڈنٹس انہیں عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔

پر انہیں پرواہ کس کی تھی

********************

عبدالنافیع “خانزادہ گروپ آف انڈسٹری” کے مالک ملک کے ٹاپ 10 بزنس مین میں شامل ہوتے تھے بسین ان کی زوجہ ایک سادہ لوح انسان تھی ۔۔ جنت پلس ان کے گھر کا نام جو خود عبدالنافیع نے رکھا تھا اور اس کی رونق ان کا لاڈلا اور اکلوتا بیٹا کیف جو بہت منتوں اور دعاؤاں کے بعد ملا تھا ۔۔ کہتے ہیں کے انسان کے نام کا اثر اس انسان پر بہت ہوتا ہے تو یہ جس نے کہا ہے ٹھیک ہے کہا ہے ۔۔۔ کیف جس کے نام کا مطلب سرورومستی ہے اس کی طبیعت بھی ایسی تھی وہ بچپن میں ایسی ایسی شرارت ڈھونڈ کر لاتا کہ لوگوں کے ناک میں دم ہو جاتا تھا ۔۔۔۔

اس کی یہ عادت بڑے ہونے کے بعد بھی نہیں بدلی

ان کا گروپ ” the devil’s group ” کے نام سے مہشور تھا ۔۔۔جس میں انوش ،ابیرہ ،سرحان ،برہان ،اور آغر شامل تھے

انوش اور آغر اس کی چچا زاد تھی سرحان اور برہان اس کے پھوپھو زاد تھے اور دونوں ہی جڑواں تھے صرف نام کے کیونکہ ان کی شکل تو ایک دوسرے سے بلکل مختلف تھی ۔۔۔ اور رہ گئی ابیرہ تو وہ ان کی پڑوس میں رہتی تھی وہ بھی صرف نام کی کیونکہ سارا دن وہ بھی جنت پلس میں رہتی تھی ۔۔۔۔ یہ پانچوں لوگ شیطان کے چیلے تھے اور کیف شیطان کا بھی استاد ۔۔۔۔۔

**********

“رحم پاشا رحم ۔۔۔ہم آگے خیال رکھے گے ” وہ لوگ ڈروخوف سے بولے

“پاشا صرف ایک موقع دیتا ہے کسی کو ۔۔۔بار بار موقع دینا پاشا کا شیوہ نہیں ۔۔۔۔” وہ ان پر بندوق تان کر بولا اور ایک کے بعد ایک گولی چلا کر ان سب کی زندگی کو تمام کر دیا

“پتا لگاؤ کس کم ذات کی اتنی ہمت ہوئی میرے ساتھ پنگا لینے کی ۔۔۔۔۔” پاشا اتنے غصے سے دھاڑا کے کمرے کے دارو دیوار ہل گئے باقی لوگ جلدی سے کمرے سے باہر چلے گئے پاشا کا کیا بھروسہ کہ کب کیا کر جائے

“ریلکس پاشا ۔۔۔ ” یسوع اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا

“ریلکس ۔۔۔۔کسے کرو بولو ۔۔۔۔میرا کروڑوں کا نقصان ہو گیا ۔۔۔۔۔” وہ جلے پاؤں کی بلی بنا ہوا تھا جس کو کہیں بھی سکون نہیں مل رہا تھا

“مجھے ایک بات سمجھ نہیں آرہی کہ یہ سب کچھ اتنا پرائیویٹ تھا کہ ۔۔۔۔”

“کہ تم نے مجھے بھی نہیں بتایا ۔۔۔” یسوع نے اس کو شرمندہ کرنا چاہا ۔۔۔

مگر پاشا نے شاید کبھی شرمندہ ہونا سیکھا ہی نہیں

اتنے تلخ ماحول میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے ہونٹ مسکرا دئیے

” میں نے کبھی ہونے باپ پر بھروسہ نہیں کیا تو تم تو کل کی پیداوار ہو ۔۔۔”

یسوع جانتا تھا کہ وہ اس پر کیا کسی پر بھی بھروسہ نہیں کرے گا

کچھ سوچتا ہوا وہ کرسی پر بیٹھ گیا اور کسی کو کال ملائی ۔۔۔

” مرحبا ۔۔ آج ہم ناچیز کو کیسے یاد کر لیا ۔۔۔۔” آگے والے اس کی حالت سے لطف اٹھاتا ہوا بولا

“اپنی بکواس بند کرو اور میری بات سنو ۔۔۔۔” پاشا ناگواری سے بولا

بات ختم ہوتے ہی اس کے لبوں پر مسکراہٹ رینگ پڑی ۔۔۔

__________

“کج شوق سی یار فیقری دا

کج عشق نے در در رول ِدتا

کج سجن کسر نہ چھوڑی سی

کج زہر راقیباں گھول ِدتا

کج ہجر فراق دا رنگ چڑھیا

کج درد ماہی انمول دتا

کج سڑ گئی قسمت بد قسمت دی

کج پیار وچ جدائی رول دتا

کج ۔۔۔۔۔۔

آآامی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! ” برہان زور سے چلایا

وہ جو مگن ہو کر بلھے شاہ کی غزل سن رہا تھا کیف نے آکر اس کی کمر پر زور سے مارا ۔۔۔وہ بلبالا اٹھا ۔۔۔۔

“کمینے ۔۔۔۔تجھے کون سے روگ لگے ہیں ۔۔۔۔جو اس کو سنتا رہتا ہے ۔۔۔۔۔” کیف لاڑکا عورتوں کی طرح کمر پر ہاتھ رکھ کر بولا

“تجھے کیا پتا عشق ایک نشہ ہے اگر اس کی لت کسی کو لگ جائے تو وہ چاہ کر بھی اس کو چھوڑ نہیں سکتا ۔۔۔” وہ کھویا کھویا بولا

“پہلی بات نشہ حرام ہے ۔۔۔اور دوسری میں نشہ نہیں کرتا ۔۔۔۔ تیسری اور آخری مجھے تو تو معاف ھے کر ۔۔۔کیونکہ میں عشق و عاشقی کے لیے بنا ہی نہیں ہو ۔۔۔” وہ اپنا موبائل اٹھاتا ہوا بولا

“آگر کبھ۔۔۔۔”

“برہان ۔۔۔۔۔۔!!” اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی کیف بول پڑا

“اوکے ۔۔۔۔۔”وہ چپ کر گیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اب کوئی فائدہ نہیں ہے بات کرنے کا

“برہان کیا تم نے ویڈیو اپلوڈ کر دی ۔۔۔۔۔” آغر کمرے میں آتے ہوئے بولا

“کون سی ۔۔۔۔؟” وہ حیرانگی سے پوچھنے لگا کیونکہ اسے تو یاد ھے نہیں تھا کہ کون سی ویڈیو اپلوڈ کرنی ہے ۔۔۔

“برہان تم نے ویڈیو اپلوڈ نہیں کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” سرحان چلایا کیف بھی غصے سے اس کو دیکھنے لگا

سب کو غصے سے اپنی طرف تکتے پا کر برہان کے تنگ ذہن میں یاد آہی گیا کہ کون سی ویڈو کی بات ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔

“س ۔۔۔۔س ۔۔۔سوری میں بھول گیا تھا ابھی کر دیتا ہو ۔۔۔۔۔” برہان ہکلاکے بولا

“برہان کے بچے ۔۔۔۔” سرحان دانت پیس کر بولا

“کیا کرتا ہے جونئیر ابھی کہاں سے میرے بچے آگئے ۔۔۔ابھی تو میں سنگل ہو ۔۔۔۔” وہ شرمانے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بولا

” جس طرح سے تیری حرکتیں ہیں نا انشااللہ تو نے سنگل ہی رہنا ہے ۔۔۔۔دیکھ لینا۔۔۔۔ ” آغر منہ پر ہاتھ پھیڑتے ہوئے بولا

“خبردار جو تم لوگ آپس میں لڑے پہلے ویڈیو اپلوڈ کرو پھر چاہے دنگل کرنا یا ایک دوسرے کا قتل ۔۔۔” کیف کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا

“بہت ہی مطلبی ہے تو کیف ۔۔۔۔” برہان نے اس کو شرمندہ کر نا چاہا مگر وہ بھی ایک نمبر کا ڈھیٹ انسان تھا ۔۔۔

“شکریہ ۔۔۔” وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر تھوڑا جھک کر بولا

برہان نے اس کو تیکھی نظروں سے دیکھا ۔۔۔پھر کرسی پر بیٹھ کر اپنا کام کرنے لگا

اور صرف ایک منٹ میں سارا کام کر چکا تھا ۔۔۔

“لو ۔۔۔میری جان کے دشمن ۔۔۔” وہ غصے سے بولتا ہوا کھڑا ہوا

سب کے چہرے پر دبی دبی مسکراہٹ رینگ پڑی

“او میری جان کے دلارے ادھر آ میلا بابو مجھ سے ناراض ہو گیا ۔۔۔۔” سرحان اس سے گلے ملتے ہوئے بولا

“پڑے مڑ ۔۔۔۔” وہ اس کو اپنے سے دور کرتا ہوا بولا

ساتھ ہی سب کا قہقہہ بلند ہوا

“کیا ہو رہا ہے یہاں پر ۔۔۔۔؟” انوش اور ابیرہ نے ان کو پاگلوں کی طرح ہنستا دیکھ کر پوچھا

“ایک تو تم لوگ بھی ۔۔۔۔سکون نہیں ہے ۔۔۔۔تم لوگوں کو ۔۔۔”آغر منہ بناتا ہوا بولا

“اچھا جی ہمیں سکون نہیں ہے ۔۔رکو ابھی جا کر بابا کو بتاتی ہو ۔۔۔۔” انوش اس کو دھمکی دیتے ہوئے بولی اور واقعی یہ دھمکی کام بھی کر گئی

“او ۔۔۔میری بہنا میں تو مذاق کر رہا تھا ۔۔وہ تو بس میں نے ایسے ہی کہہ دیا ۔۔۔۔” وہ جلدی سے سارا جھوٹ موٹ کا پیار لا کر بولا

انوش نے آنکھیں سکیڑ کر اس کو دیکھا

“انو ۔۔۔یہ تم سے جھوٹ بول رہا ہے ۔۔۔”ابیرہ اس کو بھڑکاتی ہوئی بولی

وہ کچھ بولتی پیچھے سے لطیف صاحب کی آواز آئی جس سے سب ہی اپنی جگہ سے اچھل پڑے

“کیا ہو رہا ہے یہاں ۔۔۔۔؟”

“اور تم دونوں اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔۔؟” وہ دونوں سے مخاطب ہوتے ہوئے بولے

“بابا وہ میں ۔۔۔ وہ ۔۔۔” انوش کو کچھ سمجھ ہی نہیں آیا کہ وہ کیا بولے

“کیا میں کیا ۔۔۔جاؤ اپنے کمرے میں ۔۔۔”وہ غصے سے بولے

باقی سب ان کی حالت پر ہنسنے لگے ۔۔۔

“اور تم لوگ ۔۔۔” وہ اب ان کی طرف مڑ چکے تھے

“کوئی کام دھندہ ہے تمہارے پاس ۔۔۔۔مجال ہے جو کبھی تم لوگوں کے پاس بک بھی ہو ۔۔۔۔” اب لطف اٹھانے کی باری ان دونوں کی تھی

” بابا وہ ہم تو پڑھ ہی رہے تھے مگر یہ دونوں ہے نا یہ دونوں کہہ رہی تھی کہ ہم نے نہیں پڑھنا ۔۔۔”

“خبردار اگر جھوٹ بولا تم نے میری بیٹیاں ایسی نہیں ہے ۔۔۔۔ ” لطیف صاحب غصے سے دھاڑے

آغر اپنا سا منہ لے کر بیٹھ گیا

انوش اور ابیرہ نے اپنے مصنوئی کالر جھاڑے اور لطیف صاحب کے مڑنے سے پہلے وہاں سے رفو چکر ہو گئی ۔۔انہیں پتا تھا کہ اب کافی دیر تک ان سب کی ہونی ہے….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *