Karzal by Anam Sana NovelR50670 Karzal (Episode 10)
No Download Link
Rate this Novel
Karzal (Episode 10)
Karzal by Anam Sana
ہائے انوش وہ دیکھ فوجی ۔۔۔۔!!” ابیرہ خوشی سے انوش کا ہلاتے ہوئے بولی
وہ لوگ اس وقت ایئر پورٹ پر تھے جہاں ان کی چیکنگ ہو رہی تھی فوجی کو دیکھ کر ابیرہ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکی اس لیے چلائی
ابیرہ کے چلانے پر فوجی بھی اس کی طرف متوجہ ہوا
اور مسکرا دیا
“ہائے ۔۔۔۔!!”دونوں ہی اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر پیچھے کو گری ۔۔۔
سرحان تو جل بھن گیا
“ایک تو پتا نہیں ان پاکستان کی لڑکیوں کو فوجی کی علاوہ اور کوئی نظر نہیں آتا ۔۔۔!!” برہان منہ بنا کر بولا
“تم کیوں جل رہے ہو ۔۔۔!!” انوش منہ پر مسکراہٹ سجائے بولی
“جلے میری جوتی ۔۔۔” وہ منہ بنا کر بولا
“ادا فوجی ،نگاہ فوجی زباں فوجی ،بیاں فوجی
بتا فوجی ،کہاں جاؤں ،جہاں جاؤں وہاں فوجی ۔۔۔”وہ دل پر ہاتھ رکھ کر بولی
“خود کوجی
چاہیے فوجی ” اس نے بھی ایک سیکنڈ میں اسے آسمان سے زمین پر لا پٹکا
انوش منہ بنا کر بیٹھ گئی اور برہان نے شکر ادا کیا کہ یہ چپ ہو گئی اسی پل ابیرہ بولی
“خدا کرے میری زندگی میں وہ مقام آئے
میرے بچوں کے بے فارم پر کسی آرمی والے کا نام آئے “
وہ کیا بول گئی اسے خود بھی اندازہ نہ تھا اندازہ تب ہوا جب سرحان کا جلا بھنا چہرہ دیکھا
“میڈم جی اب تو یہ خواہش پوری ہو نہیں سکتی ۔۔۔اور خوش قسمتی سے اب آپ کے بچوں کے بے فارم پر میرے ہی نام آئے گا ۔۔اسی لیے اسی پر اللہ کا شکر ادا کرے اور اپنی زبان بند کر کے بیٹھے ۔۔۔”وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا
ابیرہ کی تو کان کی لو سرخ ہو گئی اسے بلکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ سب کہ سامنے ایسی بات کر دے گا
سب کے چہروں پر دبی مسکراہٹ تھی
وہ جلدی ہی ایئر پورٹ پر پہنچ گئے ایک ایک کر سب بھر نکلے
“سارا سامان لے لیا نہ بعد میں وہاں جا کر شور مت ڈالنا ۔۔۔۔!!” کیف اپنا بیگ گاڑی سے باہر نکالتے ہوئے بولا
“بھائی ہمارا تو سارا سامان ہمارے پاس ہے آپ ان عورتوں سے پوچھے ۔۔۔!!” برہان انوش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
“اوے یہ عورت کس کو بولا ۔۔۔!! “انوش لاڑکا عورتوں کی طرح کمر پر ہاتھ رکھ کر بولی
“آپ کو ۔۔۔” بڑی تمیز سے باتمیزی کی گئی
انوش اسے کچھ بولتی کیف بول پڑا
“خبردار جو کوئی بھی اب بولا ۔۔۔سب کو یہیں چھوڑ جاؤ گا ۔۔۔!!”
دونوں نے ایک دوسرے کی منہ دیکھاتے ہوئے آگے چل دیے
ابیرہ نے غصے سے سرحان کو دیکھا جو کب سے اسے نظروں کے حصار میں لیے ہوئے تھا اس کے دیکھنے پر ہنس دیا ۔۔۔
کیف کو کوئی فون آگیا تو وہ سننے کے لیے سائیڈ پر چلا گیا
فون پر بات کرتے ہوئے اس کی نظر سامنے پڑی وہ سامنے کا منظر دیکھ کر حیران ہوا
“میں آپ سے بعد میں بات کرتا ہوں ۔۔۔!!” اس نے کہہ کر کال کاٹ دی اور سامنے کی طرف چل پڑا
“ابھی تو یہیں تھی کہاں گئی ۔۔؟”وہ حیرانگی سے ادھر ادھر دیکھنے لگا کہ تب ہی کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اس نے پلٹ کر دیکھا تو سامنے برہان کھڑا تھا ۔۔۔
“کیا بھائی آپ یہاں ہیں اور میں آپ کو کب سے ڈھونڈ رہا ہوں ۔۔۔” وہ بولا
لیکن کیف کا دھیان تو اس کی طرف نہیں تھا
“بھائی کیا ہوا ۔۔۔کسی کو ڈھونڈ رہے ہو ۔۔۔؟؟” برہان بولا
“مازیہ ۔۔۔”
“کی بھائی وہ یہاں کیسے ہو گی ۔۔۔ہونے گھر بیٹھی ہی گی ۔۔۔۔” وہ اس کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے بولا
“نہیں وہ یہاں تھی ۔۔۔۔۔!!” وہ اب بھی ادھر ادھر دیکھ رہا تھا
“کیا بھائی ۔۔۔جاگتے ہوئے بھی خواب دیکھنے لگ گئے ہیں آپ ۔۔۔جلدی چلو فلائٹ کا وقت ہو گیا ہے ۔۔۔”وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر چل پڑا یہ دیکھے بنا کہ کوئی ان پر نظر رکھے ہوئے ہے
____________
“یا اللہ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے ۔۔۔۔!!” برہان دونوں ہاتھ اٹھا کر بولا
“کیونکہ تم ہو اسی لائق ۔۔۔۔!!” انوش ہنس کر بولی
سرحان ،ابیرہ اور آغر کو ایک ساتھ جبکہ آبص ،جبال کیف کو ایک ساتھ سیٹس ملی تھی جبکہ انوش اور برہان کو سب سی الگ سیٹس ملی تھی ۔۔۔
برہان کو تب سی یہی غم کھایا جا رہا تھا انوش کو ونڈو والی سیٹ ملی ہے
“ایک بات سنو ۔۔۔!!”وہ دنیا جہان کا پیار سمو کر بولا
“کیوں ۔۔۔!”وہ فورا بولی
“میری پیاری بہنا نہیں ۔۔۔!!”
“بولو ۔۔۔”
“پلیز سیٹ ایکسچینج کر لو تم جانتی ہوں نہ میرا دل گھبراتا ہے ۔۔۔۔” وہ معصومیت سی بولا
“پہلی بات یہ کوئی بس نہیں ہے جو سیٹ ایکسچینج کر لو اور سیکنڈ تمہارا کب سی دل گھبرانے لگا ۔۔۔۔” وہ اس کو دیکھتے ہوئے بولی
“پلیز دیں دے نہ ۔۔۔۔!!” وہ اس کو دیکھتے ہوئے بولا
“پاکستانی ونڈو سیٹس کسی کو نہیں دیتے ۔۔اور پاکستانی ہونے کے ناتے میرا فرض ہے کہ میں یہ رسم نہ توڑو ۔۔۔۔!!” وہ معصوم سی صورت بنا کر بولی
“بیٹھو پھر یہیں ۔۔اب دیکھنا جب کوئی بوڑھا یہاں آکر بیٹھے گا نا تب تم ہی مجھے بلاؤ گی ۔۔اور تب میں نہیں آؤ گا ۔۔۔۔”
“دیکھتے ہیں ۔۔۔!!”وہ مسکراتی ہوئی بولی
اتنے میں ایک ہینڈسم سا لڑکا اس کے ساتھ والی سیٹ پر آکر بیٹھا انوش نے برہان کو دیکھا جو یہی دیدے پھاڑ کر دیکھ رہا تھا
آنکھوں سے لڑکے کی طرف اشارہ کیا جیسے کہہ رہی ہو ۔ دیکھو ۔۔۔۔
برہان غصے سے چہرہ موڑ لیا اور پیچھے ہوکر سیٹ سے ٹیک لگا لیا ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ اسے اپنے پاس کسی کا احساس ہوا اس نے آنکھیں کھول دی ۔۔۔آنکھیں کھولتے ہی اس کی آنکھیں کھولی کی کھولی رہ گئی کیونکہ وہاں ایک آدمی کھڑا تھا جو شکل سے تو معصوم لگ رہا تھا آگے اللہ جانے ۔۔۔!!
برہان کے دیکھنے پر وہ مسکرا دیا
برہان بھی زبردستی مسکرایا
“آپ ۔۔۔۔؟؟”
“میں لاہور شہر دا رانا
مینوں لوکی کہندے نیانا
میں ہیگا بڑا سیانا ۔۔۔”
برہان کے پوچھنے کی دیر تھی کہ وہ سٹارٹ ہو گیا
برہان نے گردن موڑ کر انوش کی طرف دیکھا جو انکی طرف ہی دیکھ رہی تھی اس کے دیکھتے ہی وہ ہنس دی ۔۔۔
برہان نے غصے سے گردن موڑ کر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا
“آپ کون ہو جی ۔۔۔؟؟” وہ برہان سے مخاطب ہوا
“پاگل ۔۔۔!!”
“تو پھر یہاں کیوں ہو جی ۔۔۔آپ کو تو مینٹل ہوسپٹل ہونا چاہیے جی ۔۔۔!”وہ حیرانگی سے بولا
اور برہان کا دل کیا کہ وہ جہاز سے چھلانگ لگا دے ۔۔۔
اس کی تو جان پر بن آئی کہ سارا سفر اس کے ساتھ گزرنا ہے
“اوہ نہیں رانا صاحب میں میرا نام برہان خان ہے ۔۔میں بھی لاہور سے ہوں ۔۔۔!!” وہ اس کو سمجھاتے ہوئے بولا
“پھر تو آپ اور ہم دوست ہوئے جی ۔۔۔!!” وہ مسکرا کر بولا
“کیسے ۔۔۔؟؟” وہ حیرت سے بولا
“آپ اور ہم ایک شہر کے ہیں جی تو دوست ہوئے نا ۔۔۔”وہ اس کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے بولا
“یہاں ایک گھر میں رہنے والے دوست نہیں ہوتے اور کہاں یہ شہر والے کی بات کر رہا ہے ۔۔۔!!” وہ بڑبڑاتے ہوئے بولا اس کا اشارہ سیدھا انوش کی طرف تھا ۔۔
“جی کچھ کہا آپ نے جی ۔۔۔!!”
“نہیں جی ۔۔۔!!”وہ مسکراہٹ سجا کر بولا
“ٹھیک ہے جی ۔۔۔۔”وہ بچوں کی طرح بولا
برہان آنکھیں موند کر لیٹنے کے انداز میں سیٹ پر بیٹھا ابھی کچھ وقت ہی گزرا تھا کہ وہ پھر بولا
“”کیا ہوا آپ کو بہت دکھی نظر آرہے ہو ۔۔۔؟؟”
“کیا بتاؤ رانا صاحب کوئی ایک دکھ ہو تو بتاؤں ۔۔۔!!” برہان ہاتھوں میں سر دئیے ہی بولا
“اتنے سی عمر میں کون سے دکھ مل گئے آپ کو ۔۔۔؟؟” سامنے والا شاید حیران ہوا تھا
“کون کون سے بتاؤں ۔۔؟”
“کوئی سا بھی بتا دے کیا پتا میں آپ کی مدد کر دو ۔۔۔!!”سامنے والا شاید کوئی نرم دل تھا
“پہلا دکھ ۔۔۔
شادی نہیں ہو رہی ۔۔۔۔!!
دوسرا دکھ
حتیٰ کہ منگنی بھی نہیں ہو رہی ۔۔۔!!”وہ اتنا سنجیدہ ہو کر بولا کہ سامنے والا بس اسےدیکھتا رہ گیا
“ایک بات کہوں جی ۔۔ !” کچھ دیر بعد وہ بولا
“جی آپ بھی بول دے جی ۔۔۔!!” برہان بھی اسی کے انداز میں بولا
“میرے بھی یہی دکھ ہیں جی ۔۔۔!!”
“آپ تو اتنے ہینڈسم ہیں کہ آپ کوئی بھی مل سکتی ہیں پھر کیوں نہیں ملی ۔۔۔۔!!” برہان بولا نجانے کیوں اسے مزہ آنے لگا تھا اس سے بات کرتے ہوئے
“کیا خان صاحب آج کل لڑکیاں اچھی صورت نہیں بینک بیلنس دیکھتی ہیں جی ۔۔۔!!” وہ رونی صورت بنا کر بولا
“شکل سے آپ غریب لگتے نہیں ہیں اور نہ ہو سکتے ہیں آگر ہوتے تو gucci کی گھڑی نہ پہنی ہوتی ۔۔۔” وہ اس کی گھڑی کو دیکھتے ہوئے بولا
“نہیں خان صاحب ہم غریب نہیں ہے ہمارے تو لاہور میں بہتا بڑا بنگلہ ہے اور ۔۔۔۔۔”اور اس کے بعد جو وہ شروع ہوا پھر بند ہونے کا نام نہیں لیا
برہان تو خود کو کوس رہا تھا کہ اس نے پوچھا ہی کیوں۔۔۔۔
**************
اور ادھر سرحان نے ابیرہ کو نظروں کے حصار میں لیا ہوا تھا آخر تنگ آکر ابیرہ نے غصے سے دیکھا مگر زیادہ دیر نہ اس کی پر شوخ نظروں میں نہ دیکھ سکی اور اپنا چہرہ جھکا لیا
سرحان کے ہونٹ مسکرا دیے
وہ ابیرہ کے کان اپنا چہرہ کر کے بولا
“رکھ کر تیرے لب پر لب
ساری شکایتیں مٹا دے گے ۔۔”
ابیرہ کا چہرہ دہک اٹھا اسے سرحان سے ایسی بےباک گفتگو کی بلکل امید نہیں تھی
“اہم ۔۔۔آس پاس بھی دیکھ لینا چاہیے ۔۔۔۔” آغر جو آنکھیں موند کر سیٹ سے ٹیک لگائے تھا آنکھیں بند کئے ہی بولا
“تو ۔۔۔تو سو رہا تھا نہ ۔۔۔۔” سرحان سیدھے ہوتے ہوئے بولا
“الحمد اللہ سوتے ہوئے بھی کان کھلے رکھتا ہوں ۔۔۔! وہ آنکھیں بند کئے ہوئے ہی بولا
“ماشاءالله ۔۔۔!!” وہ بولا اور سیدھے ہو کر بیٹھ گیا
ابیرہ نے دوبارہ اس کی طرف دیکھنے کی غلطی نہیں کی ۔۔لیکن چہرہ پر مسکراہٹ برقرار تھی
قطرہ قطرہ میرے حلق_______کو تر کرتی ہے !!
میری رگ رگ میں اس کی محبت سفر کرتی ہے !!
****************
کیف کو محسوس ہوا جیسے کوئی اسے دیکھ رہا ہے اس نے گردن موڑ کر دیکھا تو وہاں ایک برقہ پہنے ایک عورت بیٹھی تھی
کیف کو لگا جیسے وہ برقے کے اندر سے اسے دیکھ رہی ہے مگر پھر اپنا وہم سمجھتے ہوئے سر جھٹک دیا
***************
“Let’s go and talk to him how beautiful it is”
(یہ کتنا خوبصورت ہے آؤ ہم اس کے پاس چلتے ہیں اور اس سے بات کرتے ہیں ) فیونا کے پاس کھڑی اس کی دوست نے پاشا کو دیکھ کر کہا
“No it will not talk”
(نہیں یہ بات نہیں کرے گا )
وہ بولی
“You are saying that the woman whose entire America is crazy about her love, which takes a line of people to see a glimpse, whose Sheikh returns all his wealth on an indicator, that girl is saying it does not matter Will be…”
(یہ تم کہہ رہی ہو وہ لڑکی جس کے حسن کا سارا امریکا دیوانہ ہے جس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے لوگوں کی لائن لگ جاتی ہے جس کے ایک اشارے پر شیخ اپنی ساری دولت لوٹا دے وہ لڑکی یہ کہہ رہی ہے کہ یہ بات نہیں کرے گا )
اس کی دوست حیرانگی سے بولی
“Yes i am saying..”
(ہاں یہ میں کہہ رہی ہوں)
وہ پاشا کو دیکھتے ہوئے بولی
“Have you already spoken to him?”
(کیا پہلے تم اس سے بات کر چکی ہو ۔۔)
وہ کچھ سوچتے ہوئے بولی
“It’s very frustrating that does not talk to girls”
(بہت مغرور ہے یہ لڑکیوں سے بات نہیں کرتا)
وہ منہ بنا کر بولی
“When a boy is handsome, it’s always tremendous”
(جب لڑکا ہینڈسم ہو تو اس پر نخرہ جچتا بھی ہے)
بات کے اختتام میں دونوں ہی ہنس دی اور شراب کا گلاس لبوں تک لے گئی
اور یہ باتیں پاشا کے زیرک سماعت سے بچی نہ رہ سکی جیسے ان کی ہنسی بڑھتی جا رہی تھی ویسے ویسے اس کے ماتھے کی تیوری بھی بڑھتی جا رہی تھی جب برداشت نہ ہوا تو وہ شیخ سے مخاطب ہوا
“قلت لماذا ندعو ملونتي بعيدا عني”
(میں نے کہا تھا اپنی رنگین مزاجی مجھ سے دور رکھنا تو کیوں بلایا ہے انہیں)
“لم أكن أعرف حقا أنه سيأتي هنا للاعتذار”
(مجھے سچ میں نہیں پتا تھا کہ یہ یہاں آجائے گی معافی چاہتا ہوں ۔۔۔” اس نے کہہ کر اپنے گارڈز کو اشارہ کیا
گارڈز فیونا کی طرف بڑھے تو وہ اشتال میں آگئی اور بولی
“Waiting for someone who has hand over me, one is the ultimate model of America, and you consider yourself Pasha as a World of Understood, but from within the same way as the lovers of the streets who live in the streets of your beloved…”
(خبردار جو کسی نے مجھے ہاتھ لگایا دیکھ لو ایک ایک کو آخر امریکا کی سوپر ماڈل ہوں اور تم پاشا بڑا اپنے آپ کو انڈر ورلڈ کا ڈان سمجھتے ہو لیکن اندر سے وہی ستے عاشقوں کی طرح ہو جو گلیوں پڑے رہتے ہیں اپنی محبوبہ کی بے واف ۔۔۔۔
باقی کے الفاظ اس کے منہ میں ہی رہ گئے کیونکہ پاشا کی بندوق کی گولی اس کے جسم سے آر پار ہو گئی
اس کو کہاں برداشت تھا کہ کوئی اس کی محبت کی شان میں گستاخی کرے
اس کی دوست چینخے مارتے ہوئے باہر نکل گئی
وہاں موجود ہر شخص اپنی جگہ پر سہم گیا
سب سے پہلے ہوش شیخ کو آیا اس نے گارڈز کو اشارہ کیا وہ گارڈز اس کی لاش کو اٹھا کر باہر لے گئے
شیخ اس سے بات کرنے کو آگے بڑھا لیکن وہ اس کو نظر انداز کرتا ہوا باہر نکل گیا..
