Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Karzal (Episode 05)

Karzal by Anam Sana

یٹا ابیرہ کہاں ہے ۔۔۔۔؟” ابیرہ کو ناشتے پر نا پا کر سبین بولی

“وہ امی ابیرہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔” کیف نے اصل بات بتانے سے گریز کیا ۔۔۔۔

“کیا ہوئا اسے بیٹا اسے ۔۔۔۔تم نے بتایا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔” وہ ایک دم سے پریشان ہو گئی ۔۔۔۔۔پریشان تو وہاں بیٹھے سب ہی لوگ ہو گئے تھے

“امی فکر نہ کرے بس اسے ذرا سا بخار ہے ۔۔۔۔۔” وہ تھوڑا جھوٹ تھوڑا سچ بولا ۔۔۔۔۔

“صاحب کوئی لڑکی آئی ہے وہ کہہ رہی ہے کہ انہیں ابیرہ بی بی سے ملنا ہے ۔۔۔۔” شرفو نے آکر بتایا وہ جو کچھ اور بھی کہنے والا تھا حیرت سے شرفو کی طرف دیکھا

“ابیرہ سے کون ملنے آسکتا ہے ۔۔۔۔؟” سرحان حیرانگی سے بولا

سب نے لاتعلقی کا اظہار کیا

“اچھا جاؤ اسے اندر لے آؤ ۔۔۔۔۔” سبین بولی

وہ سر ہلاتا وہاں سے چلا گیا

سب کی نظریں دروازے پر ٹکی تھی ۔۔۔آنے والی ہستی کو دیکھ کر سب ہی حیران ہوئے کیونکہ کسی کو بھی اس کی توقع نہیں تھی ۔۔۔۔۔

“مازیہ تم یہاں ۔۔۔۔۔؟” برہان اپنے لہجے میں حیرت سمائے بولا

“یہ ۔۔۔۔ ؟” سبین نے سوالیہ نظروں سامنے کھڑی گرین رنگ کی آنکھوں والی لڑکی کو دیکھا

“مامی یہ مازیہ ہے ہماری کلاس فیلو ۔۔۔۔۔ ” برہان اس کے بارے میں بتانے لگا

سبین نے ستائشی نظروں سے اس کو دیکھا

کیف کو تو ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا کہ سامنے وہی کھڑی ہے اس کا چین وآرام لوٹنے والی ۔۔۔۔۔۔۔

“لیکن تم یہاں کیسے ۔۔۔ مطلب تمھیں گھر کیسے پتا چلا ہمارا ۔۔۔۔۔”برہان اب بھی حیران تھا

“وہ مجھے ابیرہ نے بلایا ہے ۔۔۔۔” وہ سب کو اپنی طرف تکتا پا کر کنفیوز ہوئی

“ابیرہ نے کیوں ۔۔۔۔؟” اب کی بار سرحان بولا

“پتا نہیں میں تو یونی جانے کے لئے نکلنے لگی تھی کہ ابیرہ کی کال آئی وہ بہت رو رہی تھی اور مجھے آنے کو کہا ۔۔۔پھر اس نے اڈریس بتایا ۔۔۔۔مجھے سے رہا نہیں گیا تو میں آگئی۔۔۔۔۔۔”

“کیف بیٹا یہ کیا کہہ رہی ہے ۔۔۔۔سچ میں بتاؤ ابیرہ کو ہوا کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ اب کی بار تھوڑا غصے سے بولی

اور پھر نا چاہتے ہوئے سب بتاتا چلا گیا ۔۔۔۔۔کہ کیسے اس نے مازیہ کو تنگ کیا اور پھر سرحان ،برہان اور اس نے مل کر اس مارا ۔۔

مازیہ پر تو حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے

“آپ ۔۔۔۔آپ نے کیوں کیا ایسا ۔۔۔” اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے ۔۔۔۔

اس کے آنسو دیکھ کر کیف تڑپ اٹھا وہ خود اپنے دل کی حالت سے نالاں تھا

“آپ پلیز ابیرہ کا روم بتا دے ۔۔۔۔” اپنی طرف بھڑتے کیف کو دیکھ کر کہا ۔۔۔۔کیف وہیں رک گیا اور ہاتھ کے اشارے سے روم بتایا ۔۔۔

وہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے روم کی طرف بڑھی ہی تھی کہ سامنے سے آغر جو اپنی ہی دھن میں چلتا آرہا تھا مازیہ سے ٹکرا گیا اس سے پہلے کے وہ گرتی آغر نے اپنے مظبوط بازؤں سے اسے تھام لئے ۔۔۔۔مازیہ نے گھبرا کر اپنی آنکھیں بند کر لی ۔۔۔۔آغر نے جب اس کی طرف دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا ۔۔۔لال ہوئی آنکھیں ۔۔۔کچھ آنسو ابھی پلکو پر تھے ۔۔۔۔۔کپکپاتے ہوئے ہونٹ ۔۔۔۔ایک الگ ہی منظر پیش کر رہے تھے ۔۔۔۔۔گرنے کی وجہ سے اس کے بالوں کا جوڑا بھی کھل چکا تھا کچھ بال آغر کے بازؤں پر پھیلے تھے اور کچھ نیچے لٹک رہے تھے اپنے اوپر نظروں کی تپش محسوس کر کے اس نے آنکھیں کھولی اپنے اوپر جھکے آغر کو دیکھ کر اس کو جھٹکا لگا وہ کچھ کہتی کسی نے بے دردی سے اس کا بازو دبوچ کر کھنچا ۔۔۔۔وہ جا کر سیدھے اس کے چوڑے سینے سے ٹکرائی ۔۔۔۔

آغر کو ٹکٹکی باندھے مازیہ کو دیکھتے دیکھ کر کیف کے اندر ایک طوفاں برپا ہو گیا وہ بجلی کی تیزی سے آگے بڑھا اور اس کا بازو دبوچ کر اپنی طرف کھنچا ۔ ۔ ۔

مازیہ کو کیف کے سینے سے لگے دیکھ کر آغر کے دل کو کچھ ہوا

کیف نے ایک نظر سینے سے لگی مازیہ کو دیکھا اور پھر آغر کو ۔۔۔آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے تنبیہ کی ۔۔ ۔ اس نے فورا آنکھوں کے زاویےبدل لئے ۔۔۔۔اپنی کمر پر کسی کا لمس محسوس کر کے اس نے اپنی آنکھیں کھول دیں ۔۔۔۔

احساس ہونے پر وہ جلدی سے پیچھے کو ہٹھی ۔۔۔۔شرمندگی سے سر جھکا لیا ۔۔۔اس کو شرمندگی سے بچانے کے لئے اس نے خود ابیرہ کے روم کا دروازہ کھولا ۔۔۔وہ فورا اندر چلی گئی ۔۔۔۔۔اس کے جانے کے بعد اس نے خود بھی جانے میں عافیت جانی کیونکہ کہ سب کہ معنی خیزی نظریں اس پر تھی سوائے ایک نظر کے ۔۔۔۔۔

اندر جا کر مازیہ نےجلدی سے دروازہ بند کیا اور دروازے کے ساتھ لگ کر اپنی سانسیں ہموار کرنے لگی ۔۔۔۔تھوڑا پرسکون ہو کر نظر ادھر ادھر دھوڑائی ابیرہ کہیں بھی نہیں تھی ۔۔۔۔

“شاید واشروم میں ہو گی ۔۔۔۔۔” وہ خود سے بولی اور اس کا انتظار کرنے لگی ۔

______________

“مازیہ آگئی تم ۔۔۔۔۔۔!” ابیرہ اس کے گلے لگتے ہوئے بولی

“تم ٹھیک تو ہو ۔۔۔۔تم رو کیوں رہی تھی ۔۔۔۔؟”وہ پریشانی سے بولی

وہ سب بتاتی چلی گئی ۔۔۔۔

“اچھا اب تم فکر مت کرو باہر چلو سب تمہارے لئے پریشان ہیں ۔۔۔۔۔۔” وہ اس کو اٹھاتی ہوئی بولی

“میں نہیں جاؤ گی ۔۔۔۔۔۔”وہ بچوں کی طرح منہ بسوڑ کر بولی نہ چاہتے ہوئے بھی اس کو ہنسی آگئی

“مازیہ ۔۔۔۔!!”وہ خفگی سے بولی

“اچھا سوری ۔۔۔۔۔۔” وہ بامشکل اپنی ہنسی روکتی ہوئی بولی

“اچھا اب پلیز چلو نا ۔۔۔ !!”وہ التجا کرتے ہوئے بولی

“اوکے ۔۔۔۔۔”آخر اس نے ہار مانی

مازیہ نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا

________________________

وہ لوگ جو باہر انتظار کر رہے تھے ۔۔۔۔۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر جلدی سے آگے بڑھے سب سے پہلے مازیہ باہر کو نکلی ۔۔۔۔اس کے بعد ابیرہ ۔۔۔۔۔۔

“ابیرہ ۔۔۔۔۔۔!!”سرحان فورا آگے بڑھا ۔۔۔۔ابیرہ نے خفگی سے دیکھا

کیف نے بھی اوپر سے دیکھ لیا تھا ابیرہ کو ۔۔۔۔۔۔وہ بھی نیچے آگیا ۔۔۔

“ماما ۔۔۔۔۔۔۔” وہ سبین کے گلے لگتے ہوئے بولی وہ بچپن سے ہی سبین کو ماما کہتی تھی

“کیسا ہے میرا بچا ۔۔۔۔۔” وہ اس کا ماتھا چوم کر بولی

“میں ٹھیک ہو ماما ۔۔۔۔ ” وہ آہستہ سے بومجھے

“سوری گڑیا ۔۔۔۔۔!!” کیف اس کے قریب ہو کے بولا

“بات مت کرے آپ تو ۔۔۔۔۔یہ لوگ تو ہیں ہی بیوقوف ( سرحان اور برہان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے )مگر آپ ۔۔۔آپ سے مجھے یہ امید نہیں تھی ۔۔۔۔۔” وہ ناراضگی سے بولی

“یک ۔۔۔ایک منٹ تم نے کس کو بیوقوف کہا ۔۔ ۔۔۔۔”برہان لڑاکا عورتوں کی طرح کمر پر ہاتھ رکھ کر بولا

“سمجھدار کے لئے اشارہ ہی کافی ہے ۔۔۔۔۔۔!!” وہ اپنی مسکراہٹ دبا کر بولی

“ابیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔!!” برہان کو پہلے تو سمجھ نہیں آئی لیکن جب آئی تو وہ چلایا

“ماما ۔۔۔۔۔۔۔”وہ معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئی بولی

“برہان شرم کرو بہن سے ایسے بات کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔”وہ ابیرہ کو اپنے ساتھ لاگتے ہوئے بولی

“کیا مامی آپ ہر بار اس کی طرفداری کرتی ہیں ۔۔۔۔ میں آپ کا کچھ نہیں لگتا ۔۔۔۔۔” وہ معصنوئی آنسو صاف کرتے ہوئے بولا

“ڈرامے باز ۔۔ ۔” انہوں نے اس کا کان کھنچا

“آہ ۔۔۔۔مامی ۔۔۔۔”وہ چلا اٹھا

اس کی حالت سے لطف اٹھاتے ابیرہ ہنس ہنس کے ڈھوری ہو رہی تھی

ابیرہ کو ہنستا دیکھ کر سب کی جان میں جان آئی ۔۔

“آئندہ ایسا مت کرنا گڑیا ۔۔۔۔۔۔!!” کیف اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا

“اور آپ ابھی ایسا نہیں کرے گے ۔۔۔۔۔ورنہ میں پھر ناراض ہو جاؤ گی ۔۔۔۔۔!!”وہ انگلی اٹھاتے ہوئے وارن کرتے ہوئے بولی

“اوکے ۔۔۔”وہ انگلی کے ساتھ انگلی ملاتا ہوا بولا

“شکر اللہ‎ کا تم آگئی میں کتنا پریشان ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔” انوش اس کے گلے لگتے ہوئے بولی

“اوہ مائے گاڈ ۔۔۔” مازیہ چلائی

سب نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا

“کیا ہوا ۔۔۔۔؟”سرحان نے پوچھا

“فرسٹ پیریڈ سٹارٹ ہونے والا ہے اور وہ فہمدی کا ہے ۔۔۔آگر میں ذرا بھی لیٹ ہو گئی تو اس نے مجھے اندر نہیں گسنے دینا ۔۔۔۔ میں چلتی ہوں ۔۔۔۔۔” وہ جلدی سے باہر کو لپکی ۔۔۔۔

روکو ہم بھی ساتھ چلتے ہیں ۔۔۔۔۔” سرحان بولا اور وہ بھی باہر کو چلا گیا ۔۔

“ہم چلتے ہیں ۔۔۔۔”برہان بولا

“اور گڑیا تم جاؤ گی ۔۔۔۔۔” کیف نے ابیرہ سے پوچھا

“نہیں آج دل نہیں کر رہا ۔۔۔۔” وہ اپنے لہجے کو نارمل رکھتے ہوئے بولی جبکہ اسے سرحان کے روایے سے دکھ ہو رہا تھا مگر وہ کسی پر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔

“اوکے ۔۔۔۔۔” کیف بھی چلا گیا اور انوش ۔۔ ۔۔۔۔۔۔!!

“”بیٹا تم اندر آرام کرو میں ناشتہ وہییں بھیج دیتی ہوں ۔۔۔۔” سبین بھی اسے کہہ کر کچن کی طرف چلی گئی

وہ اپنے آنسو پیتی اندر چلی گئی ۔۔۔۔

************************

“کالے حلقے نیناں دے تھلے

عشق دی پکیاں ُمہراں نے “

یسوع سے ملتے ہوئے پاشا نے کہا

یسوع تلخی سے مسکرا دیا اور بولا

“ایسا کچھ نہیں ہے پاشا ۔۔۔۔بس تم نہیں تھے نہ اس لئے سب سمبھالنا مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔۔”

“آگے تو کبھی ایسا نہیں ہوا ۔۔۔۔۔” وہ اس کی آنکھوں میں کچھ کوجھتا ہوا بولا

“پاشا آج میٹنگ ہے ہمیں چلنا چاہیے ۔۔ ۔۔” وہ بات کو بدلنے کے انداز میں بولا پاشا کو بھی کوئی اتنا انٹرسٹ نہیں تھا اوکے کہہ کر چل پڑا ۔۔

**************************

“پلیز لاسٹ ٹائم دے دو میں وعدہ کرتی ہو ک ۔۔۔۔کل پیسے دے دو گی ۔۔۔۔۔۔”وہ لڑکی لڑکھڑائی آواز سے سامنے کھڑی لڑکی سے بات کر رہی تھی

“ہنہ ۔۔۔۔جیسے پہلے دیے ہیں ۔۔۔”وہ نحوست سے بولی

“پ ۔۔۔پلیز دے دو ۔۔۔۔۔۔”وہ اپنے ہاتھوں بازؤں کو رگڑتی ہوئی بولی

“اوے لے کر جا اس کو ۔۔۔۔فالتو میں دماغ خراب کر رہی ہے ۔۔۔۔”سامنے کھڑے گارڈ سے اس نے کہا

وہ چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور اس کا بازو دبوچ کر بے دردی سے اس کو کھنچتا ہوا باہر لے گیا

“یہ پھر آگئی ۔۔۔۔۔” جبال جو ابھی باہر سے آیا تھا گارڈ کو لڑکی لے جاتے ہوئے دیکھ کر بولا

وہ کچھ نہیں بولی بس ادھر ادھر غصے سے چیزیں پھینکنے لگی

جبال اس کا جلالی روپ دیکھ کر مسکرا دیا اور اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر خود سے قریب کیا اور اس کے چہرے پر جھک گیا کچھ پل کی بےخودی کے بعد وہ سیدھا ہوا اور اس کے چہرے کو دیکھنے لگا آنکھیں ابھی بھی بند تھی اور گال شرم سے لال ہو رہے تھے ۔۔۔ آبص ایک پراعتماد لڑکی تھی لیکن جبال کی دارفتیوں کے آگے اس کی ایک نہیں چلتی تھی ۔۔۔۔

“جان اتنا بلش مت کرو کہ میں اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھو ۔۔۔۔”وہ دوبارہ اس پر جھکتے ہوئے بولا

آبص نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر رکھ کر اسے روکا اور پیچھے کو کیا

“جبال آج میٹنگ ہے اس کی تیاری اچھے سے کر لو ورنہ پتا تو ہے تمہیں ۔۔۔۔۔” وہ بات بدلتے ہوئے بولی

“اچھا طریقہ ہے بات بدلنے کا ۔۔۔اور رہی بات میٹنگ کی اس کی تیاری ہے مجھے ۔۔۔۔۔۔ اور آخری بات میں کوئی ڈرتا ورتا نہیں ہو پاشا سے ۔۔۔۔” وہ منہ بناتا ہوا بولا

“”ہاہاہا ۔۔مجھے پتا ہے ۔۔۔”وہ ہنستے ہوئے بولی

“ویسے کیا بندہ ہے ۔۔۔۔۔” اس کی آنکھوں میں ستائش تھی

جبال نے چہرہ اٹھا کر اس کو دیکھا اور پھر ایک جھٹکے سے بالوں سے پکڑ کر اس کو اپنی طرف کھنچا

وہ کراہ کر رہ گئی ۔۔۔۔

“آئندہ سے اپنی اس زبان سے کسی غیر مرد کا نام نکالا تو یہ گدی سے کھنچ لو گا ۔۔۔۔۔” اس نے اس کے بالوں کو جھٹکا دے کر چھوڑ دیا

اپنا غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے ادھر ادھر چکر لگانے لگا ۔۔۔۔

آبص چلتے ہوئے اس کے پاس آئی اور کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولی

“I am really sorry jabal…”

“مجھے میٹنگ کے لئے دیر ہو رہی ہے ۔۔۔وہ اس کا ہاتھ جھٹک کر وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔

اور وہ غصے سے ادھر ادھر چیزیں پھینکنے لگی ۔۔۔۔

_____________________

“یہ لو ۔۔۔۔۔” برہان ان کے سامنے کولڈ ڈرنک رکھتے ہوئے بولا

“یہ کیا صرف کولڈ ڈرنک ۔۔۔۔۔!!” انوش حیرت سے بولی

“اتنے رش میں یہ مل گئی شکر کرو خدا کا نا شکری لڑکی ۔۔۔۔” برہان طنز کرتا ہوا بولا وہ آدھا گھنٹہ لگا کر یہ کولڈ ڈرنک لے کر آیا تھا ۔۔۔۔

“”یہ سرحان کہاں ہے ۔۔۔۔صبح دیکھا تھا اس کے بعد کہی بھی نہیں دکھا ؟” انوش نے پوچھا

“وہ 21وی صدی کا رانجھا بنا بیٹھا ہوا گا یہیں کہیں ۔۔۔۔”وہ لا پرواہی سے بولا

انوش اور مازیہ دونوں ہی ہنس دیے

“ایک تو مجھے یہ سمجھ نہیں آتی آگر یہ لوگ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں تو بول کیوں نہیں دیتے ۔۔۔۔۔ہمارے تو گھر والے بھی ایسے نہیں کہ مانا کر دے ” انوش منہ بنا کر بولی

“پاگل ہیں دونوں ۔۔۔۔۔” برہان ہاتھ میں پکڑی لیز سے انصاف کرتا ہوا بولا

“ایک منٹ تم تو صرف کولڈ ڈرنک لائے تھے یہ لیز کہاں سے آئی ۔۔۔۔۔” انوش اس کو گھورتے ہوئے بولی

“وہ یہ ۔۔۔یہ تو آتے ہوئے جونئیر سے اٹھا لایا ۔۔۔۔”

“آرے ارے پیسے دے کر آیا ہوں ۔۔۔۔”مازیہ کو اپنی طرف گھورتا پا کر وہ فورا بولا

اتنے میں سرحان بھی آکر ان کے پاس بیٹھ گیا ۔۔۔۔

“کہاں تھا ۔۔۔؟؟”

“جہنم میں۔۔۔!! “

“کیا کر رہا تھا۔۔۔؟؟”

“ڈانس۔۔۔۔!! “

“شرم نہیں آئی “

“نہیں ۔۔۔!!”

“کیوں ۔۔۔؟؟”

“میری مرضی ۔۔۔۔!!”

“واپس کیوں آیا ۔۔۔؟”

“رکھا نہیں ۔۔۔!!”

” کیوں ۔۔۔؟؟”

“ان کی مرضی ۔۔۔!!”

برہان اور سرحان کی لفظی جنگ جاری رہتی آگر بیچ میں انوش انہیں نہ ٹوکتی ۔۔۔۔۔

“بس بھی کرو ۔۔۔۔”

“ایک بات کہو برا تو نہیں مانو گے ۔۔۔۔۔” مازیہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا

“تمہاری کوئی بات کا برا مان سکتا ہو ۔۔۔۔” سرحان مسکرا کر بولا

“جو دل میں ہو اسے کہہ دینا چاہیے ورنہ فیصلے نہیں فاصلے بھڑتے ہیں ۔۔۔۔”

سرحان نے کچھ کہنے کے لئے اپنے لب کھولے ہی تھے کہ مازیہ کا موبائل بجا

“کیا ۔۔۔۔کب۔۔۔۔کیسے ۔ ۔ ۔ ؟؟؟” میں ۔۔۔۔میں آرہی ہوں ۔ ۔ ۔ ” کال اٹھاتی ہی وہ چلائی

وہ جلدی سے اپنی چیزیں سمیٹنے لگی ۔۔۔۔۔آنسو بھی چہرے سے راوں تھے

“کیا ہوا مازیہ سب ٹھیک تو ہے ۔۔۔۔۔؟؟” انوش پرشانی سے بولی

“وہ ۔۔۔وہ اماں کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے ۔۔۔انہیں ہسپتال لے کر گئے ہیں ۔۔۔۔” اس سے بولا نہیں جا رہا تھا

“ہم تمہاری کچھ مدد کرے ۔۔۔۔” برہان نے بھائی ہونے کے ناتے سے پوچھا

“شکریہ ۔۔۔لیکن میں سمبھال لو گی ۔۔۔۔”

“آر یو شیور ۔۔۔۔!!”برہان نے کنفرم کرنا چاہا

اس نے ہاں میں سر ہلایا اور اپنا سامان اٹھا کر چلی گئی

کیف جو ان کی طرف آرہا تھا مازیہ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اس کے دل کو کچھ ہوا

وہ بڑے بڑے قدم اٹھاتا ان کی طرف آیا لیکن اس کے پہنچنے سے وہ جا چکی تھی

“اچھا ہوا کیف تم آگئے ۔۔۔۔۔” برہان نے جس کو دیکھ لیا تھا

“اسے کیا ہوا ۔۔۔۔؟؟” اشارہ مازیہ کی طرف تھا

“وہ اس کی اماں کی طبیعت خراب ہے بس اسی لئے ۔۔۔۔!!”

“ہمیں اس کی مدد کرنی چاہیے ۔۔۔یہ اکیلی ہے یہاں لاہور میں ۔۔۔۔۔” اس نے سراسر کہا حلانکہ اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ اڑ کر اس کے پاس پہنچ جائے ۔۔

“ہم نے کہا تھا مگر اس نے کہا کہ وہ کر لے گی ۔۔۔۔” اانوش نے کندھے اچک کر کہا

اس نے کچھ سوچتے ہوئے سر ہلا دیا اور وہیں ان کے پاس بیٹھ گیا مگر خیال اب سارا مازیہ کی طرف تھا.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *