Karzal by Anam Sana NovelR50670 Karzal (Episode 15,16)
No Download Link
Rate this Novel
Karzal (Episode 15,16)
Karzal by Anam Sana
ایجنٹ نے باہر آنے کے بعد پہلے اردگرد کا جائزہ لیا۔۔۔سب لوگ اپنی موت سے بے خبر جشن میں مصروف تھے۔
سب سے پہلے اس نے باہر موجود گارڈ کو ٹھکانے لگایا۔۔ہاتھ کے اشارے سے آس پاس موجود اپنے ساتھیوں کو بُلا لیا۔۔
سب نے سارے خیمے کو گھیر لیا۔۔اس نے اپنی کمر سے لٹکے بیگ میں سے بُم نکلااور اس کی پن نکال کر خیمے کے اوپر پھینکا جس سے زور دار دھماکا ہوا۔۔جس سے نہ صرف اندر موجود لوگ لرز اُٹھے بلکہ آس پاس موجود لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔۔
برہان تو باقاعدہ اپنی جگہ سے اچھل پڑا۔۔
وہ باقی لوگوں کو ڈھونڈتے ہوئے خیمے کے پاس پہنچ چکا تھا۔۔۔
خیمے کے اندر بھی بھگدڑ مچ چکی تھی۔۔خیمے کے کپڑے کو آگ لگ چکی تھی۔۔
وہاں موجود بہت سے لوگ نشے میں تھے اس لیے وہ اپنا دفاع نہیں کر سکے۔۔ جو اب بھی اپنے حواس میں تھے انہوں نے باہر کی طرف دوڑ لگائی۔۔مگر باہر موجود اسلحہ سے لبریز لوگوں کو دیکھ کر ان کی رہی سہی ہمت بھی جواب دے گئی۔۔
************
’’یا اللہ خیر۔۔۔!!‘‘ انوش نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا
کیف ،آغر ،جبال بھی اپنی جگہ پر جیسے تھم گئے۔۔اور سمجھنے کی کو شش کرنے لگے کے ہوا کیاہے۔۔۔
’’یہ کیا تھا۔۔۔؟؟‘‘ابیرہ نے سرحان سے پوچھا جو خود سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ ہوا کیا ہے۔۔۔
’’یہ تو آگے جا کر ہی پتا لگے گا۔۔۔‘‘ وہ ابیرہ کو اپنے آپ سے الگ کرتے ہوئے بولا
‘’نہیں آگے کیوں جانا ہے ہم واپس چلتے ہیں۔۔‘‘ابیرہ اس کو روکنے کی کوشش کرنے لگی
’’ ہاں ابیرہ ٹھیک کہہ رہی ہے ۔۔ہم جا کر کیا کرے گے ۔۔ہم واپس چلتے ہیں۔۔‘‘آبص بولی
ابھی کوئی اور بولتا انوش چلائی
’’برہان کہاں ہے۔۔۔؟؟‘‘
سب اک دم پریشان ہو گئے۔۔
’’کہا بھی تھا میں نے کہ سب ایک ساتھ رہو مگر اُس نے کوئی بات سننی کب ہے۔۔۔‘‘ کیف غصے سے بولا
’’اچھا ہم ایسا کرتے ہیں کہ سب پھیل جاتے ہیں۔۔اس طرح آسانی ہو گی ہمیں۔۔۔‘‘ آغر بولا
’’ہاں یہ ٹھیک ہے ۔۔۔‘‘جبال بولا
’’اور ہم ۔۔۔‘‘انوش بولی
’’تم لوگ کہیں بھی نہیں جاؤ گی ۔۔۔تم ہمارا یہی انتظار کرو۔۔۔‘‘ سرحان بولا
ابیرہ نے کچھ کہنا چاہا مگر سرحان نے ہاتھ کھڑا کے اسے بولنے سے روک دیا۔۔
وہ تینوں وہی رُک کر ان کا انتظار کرنے لگی ۔۔۔اور وہ لوگ برہان کو ڈھونڈنے چلے گئیں
**************
پاشا جو کچھ دیر پہلے ہی اندر کے ماحول سے تنگ آکر خیمے سے باہر آیا تھا۔۔بُم کی آواز سن کرجلدی سے واپس آیاتو اس کے کانوں میں کسی کی آواز گونجی
’’ھذا جیش بحت۔۔!!‘‘
((یہ تو پاکی آرمی ہے۔۔!!))
شاید وہاں موجود لوگوں میں سے کسی نے انہیں پہچان لیا تھا۔۔
یہ سنتے ہی وہاں موجود لوگوں میں خوف ہراس پھیل گیا۔۔ان کے سامنے دنیا کی پاور فل اور خطرناک آرمی تھی۔۔۔
کچھ ہی پل لگے تھے کہ وہاں فائرنگ شروع ہوگئی۔۔دونوں طرف سے فائرنگ ہو رہی تھی
پاشا نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچ لی ۔۔۔شیخ بچتا باچتا کسی طرح پاشا کے پہنچ گیا
’’دعونا نری باشا ھذا من ھنا نفسہ‘‘
(پاشا چلو یہاں سے چلو یہ لوگ خود ہی دیکھ لے گے)
پاشا کو اپنی گن نکلاتے دیکھ کر وہ بولا
’’لذل�أ یبدوأن الطبقتہ الدنیا ھیی تفریغ‘‘
(تاکہ یہ کم ذات مجھے ڈرپوک سمجھے)
پاشا غصے سے بولا
’’اِذ کنت تعیش،سیفھم شخص ما شیئاََ‘‘
(آگر ذندہ رہے تو کوئی کچھ سمجھے گا)
شیخ من ہی من میں بولا
پاشا آگے بڑھا ہی تھا کہ شیخ اس کے سامنے آگیا اور بولا
’’لا یمکننا التنافس معھم الان،نحن فقط اثنان وأکثرمنا ۔۔الأن نذھب بعیداََ فیی وقت لا حق سوف ینتقمون۔۔‘‘
(ابھی ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہم صرف دو ہیں اور یہ ہم سے تعداد میں ذیادہ۔۔۔ابھی ہم چلے جاتے ہیں بعد میں ان سے بدلہ لے لیں گے۔۔۔)
پاشا نے نظر اُٹھا کر دیکھا تو شیخ کی بات سہی لگی ۔۔لیکن وہ وہاں سے جا کر بزدل بھی نہیں کہلوانا چاہتا تھا
پاشا کو کوئی اور بات کرنے کا موقعہ دیے بغیر شیخ اُسے وہاں سے لے گیا ۔۔۔۔
***************
ایجنٹ نے پاشا کو ہر طرف تلاش کیا مگر وہ اُسے کہی بھی نہیں ملا۔۔اور یہی بات اُسے اور غصہ دلا رہی تھی۔۔
وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا کہ اُسے ایک جگہ سے کچھ سرکنے کی آواز آئی۔ وہ بنا وقت ضائع کیے بغیر وہاں پہنچا۔۔ تو اُسے آنکھیں بند کیے خود سے بولتا برہان نظر آیا
*************
’’یا اللہ میں کہاں پھس گیا۔۔۔‘‘فائرنگ کی آواز سن کر برہان بولا
’’اللہ میاں بس آج مجھے یہاں سے نکلوا دیں۔۔۔پکا آئندہ سے کسی کو بھی تنگ نہیں کرو گا‘‘ وہ روہنسا ہو کر بولا
’’ہاں بس اللہ میاں تھوڑا انوش کو تنگ کرو گا۔۔کیونکہ میں پھسا بھی اُس کی وجہ سے ہوں‘‘ وہ انوش کو اپنے خیالوں میں لاتا ہوا بولا
ابھی وہ خود سے باتیں کر رہا تھا کہ اسے لگا کوئی اس کے سامنے ہے ۔۔اُس نے جھٹ سے آنکھیں کھولی تو سامنے ایک نقاب پوش کو ہاتھ میں گن لیے دیکھ کر اس کے اُوسان خطا ہو گئے۔۔اس سے پہلے کے وہ چیخ مار کر سب کو اپنے یہاں ہونے کی اطلاع دیتا ۔۔۔وہ برق رفتاری اس کے قریب پہنچ کر اس کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اُس کی چیخ کا گلا گھونٹا۔۔
’’خبردار جو اپنے منہ سے کوئی آواز نکلالی ۔۔ورنہ یہی تمہاری قبر بنا دو گا۔۔‘‘وہ غصے سے بولا
برہان نے جلدی میں نفی میں سر ہلایا اور اس کے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا
اس نے اپنا ہاتھ اُس کے منہ سے ہٹایا ۔۔برہان نے گہرا سانس لیا۔۔
’’ تم یہاں کر رہے ہو۔۔‘‘وہ دبی دبی آواز میں بولا
’’کیا آپ مجھے جانتے ہیں۔۔؟؟‘‘برہان نے حیرت سے پوچھا
’’جتنا پوچھا ہے اتنا جواب دو۔۔‘‘ وہ غصے سے بولا
’’ہاں وہ میں ۔۔ایک منٹ۔۔آپ۔۔آپ کوکہی دیکھا ہے میں نے۔۔۔‘‘ وہ اس کو بغور اس کو دیکھتے ہوئے بولا
’’غلط فہمی ہے تمہاری۔۔‘‘ اس نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا
’’نہیں یہ میری غلط فہمی نہیں ہے۔۔۔‘‘وہ پرُسوچ لہجے میں بولا
اتنے میں انہیں پاس سے ہی فائرنگ کی آواز سنائی دی۔۔ شاید وہ ان کے پاس آگئے تھے
’آگر ذندہ رہنا ہے تو چلو جلدی۔۔۔!!‘‘ وہ دانت پیس کر بولا
اور اسے موقعہ دیا بغیر خود چل پڑا ۔۔مجبوراََ برہان کو بھی اس کے پیچھے چلنا پڑا
ابھی کچھ ہی پل گزرے تھے کہ برہان پھر سے بولا
’’تم پاکستان سے ہو۔۔۔یہاں کیا ہو رہا۔۔کوئی جنگ ہو رہی ہے۔۔یا کوئی پریڈ۔۔‘‘ایک ساتھ ہی اتنے سوال
ایجنٹ کا دل کیا اس کی زبان کاٹ دے۔۔جو ایسے حالات میں بھی بند نہیں ہو رہی تھی۔۔۔
’’ویسے میں بتاؤں تم ہو کون ۔۔۔تم۔۔!!‘‘ اور اس نے جو کہا اُس نے ایجنٹ کو اپنے قدم روکنے پر مجبور کر دیا۔۔
اس نے پیچھے مُڑکر اُسے حیرانگی سے دیکھا ۔۔وہ جو اُس کو بیوقوف سمجھ رہا تھا ۔۔۔وہ تھا نہیں۔۔۔
’’کیوں صحیح کہانا۔۔‘‘وہ اپنا تُکا صحیح ہونے پر بچوں کی طرح خوش ہوا۔۔۔
ایجنٹ نے اُسے کچھ کہا اور پھردوبارہ چلنا شروع کردیا
ابھی تھوڑا سا ہی آگے گئے تھے کہ برہان کی زبان پر پھر کھجلی ہوئی
’’تم پر420 سوٹ کرتا ہے ناجانے کس نے 247 رکھ دیا۔۔‘‘برہان اس کو دیکھتے ہوئے بولا
ایجنٹ نے پیچھے مُڑ کر اُسے لہو برساتی نظروں سے دیکھا اور چپ رہنے کا اشارہ کیا ۔۔لیکن وہ برہان ہی کیا جو سیدھے طریقے سے بات مان لے۔۔
’’اچھا بس آخری سوال ۔۔۔اس کے بعد کچھ بھی نہیں پوچھو گا۔۔۔‘‘
’’بولو۔۔۔!!‘‘شاید وہ اس سے جلدی جان چھڑوانا چاہتاتھا
’’یہ ایک کنوارے کا معصوم سوال ہے کہ آگر نکاح کے لیے کوئی گواہ نہ ملے تو وطن کی مٹی گواہ ہوسکتی ہے۔۔۔۔!!‘‘اور سامنے والا کا دل کیا ہاتھ میں پکڑی بندوق کی ساری گولیاں اسی کے ہی سینے میں اُتار دے۔۔
’’آگر ذندہ بچ گئے تو کروا لینا نکاح ۔۔۔‘‘وہ غصے سے بولا
کیونکہ فائرنگ کی آواز اب نزدیک سے آرہی تھی۔۔۔
وہ تیز تیز چلنے لگا تاکہ برہان کو سیف جگہ پہنچا کر وہ پاشا کو تلاش کر سکے جس کو ناجانے زمین کھا گئی یا آسان۔۔۔۔!!!
************
’’پاشا یہاں کیا کر رہا ہے ۔۔‘‘جبال جو برہان کو ڈھونڈ رہا تھا پاشا پر نظر پڑتے ہوئے خود سے بولا
وہ جاننے کے لیے کہ پاشا یہاں کیا کر رہا ہے اس کی طرف بڑھا لیکن دور سے آتی ہوئی گولی اس کا سینہ چیڑتے ہوئے گزرگئی۔۔
’’یہ ابھی تک نہیں آئے ۔۔۔‘‘ابیرہ بولی
میرا دل گھبرا رہا ہے۔۔۔کہیں کچھ غلط نہ ہو ۔۔۔‘‘آبص بولی
’’یہاں رہنے سے کچھ نہیں ہو گا۔۔ہمیں چل کر دیکھنا چاہیے۔۔‘‘ انوش بولی
تینوں نے ہاں میں سر ہلایا اور چل پڑی
وہ تینوں ڈھونڈ رنے لگی۔۔۔۔ ابھی وہ کچھ دور ہی گئی تھیں کہ آبص چلائی
’’وہ رہا جبال۔۔۔!!‘‘
وہ آگے ہی بڑھی تھی کہ جبال کو گولی لگتے دیکھ کر وہی رُک گئی۔۔۔اور پھر بھاگی
جبال سینے پر ہاتھ رکھتے نیچے گرِا
سرحان،کیف ،اور آغر نے بھی گولی لگتے دیکھا وہ لوگ بھی اس کی طرف بھاگے۔۔
پل میں وہ اس کے پاس پہنچی
سرحان نے ہاتھ کی نبض چیک کی تو وہ رک چکی تھی۔۔
’’he is no more…‘‘ وہ کھڑے ہوتے ہوئے بولا
سب کو جبال کی موت کا سن کا جھٹکا لگا
آبص وہی زمین پر بیٹھ گئی۔۔ اس نے جبال کر سر اپنی گود میں رکھا اور اُسے دیکھنے لگی
’’ت۔۔تم۔۔تم مجھے کیسے چھوڑ کر جا سکتے ہو۔۔۔‘‘وہ شدید غم کی حالت میں بولی
تم۔۔تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔۔کہ مم۔۔میرا ساتھ کبھی نہیں چھوڑو گے۔۔او۔۔اور اب تم مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔۔۔تم وعدہ خلاف نکلے۔۔۔تم دھوکے باز نکلے۔۔۔تم۔۔۔‘‘وہ چلا رہی تھی۔۔۔ اپنی بے بسی پر آنسو بہا رہی تھی۔۔سب اس کہ سنبھالنے کی ناممکن کوشش کر رہے تھے۔۔
جب آپ کی محبت۔۔۔آپ کا عشق ۔۔۔۔آپ سے جدا ہوتا ہے تو کوئی اس سے پوچھتا کہ کیسا محسوس ہوتا ہے۔۔جس کا عشق۔۔جس کی محبت۔۔جا چکا تھا۔۔۔ دنیا چھوڑ کر ۔۔۔اسے چھوڑ کر ۔۔۔!!
_________
’’پلیز آبص کچھ تو بولو۔۔۔‘‘وہ سب لوگ جو ابھی جبال کی تدفین کر کے آئے تھے ان کے کانوں میں ابیرہ کی آواز گونجی
لاش کی حالت کو دیکھتے ہوئے اس کو وہی دفنا دیا گیا تھا۔۔کیونکہ اس کی حالت پاکستان لے جانے والی نہیں تھی۔۔ جبال کی موت کے بعد سے آبص کو جو چُپ لگی تھی وہ ابھی تک کوئی بھی نہیں توڑ پایا تھا
سرحان نے نوک کیا کیونکہ وہ اب اندر تو جا نہیں سکتا تھا۔۔ابیرہ باہر آئی باہر سرحان کھڑا تھا
’’اب کیسی حالت ہے۔۔؟؟‘‘اس نے آبص کا پوچھا
’’وہ تو کچھ بھی نہیں بول رہی ہے۔۔۔ نہ کچھ کھا رہی ہے۔۔۔‘‘وہ پریشانی سے بولی
’’اس طرح اس کی حالت خراب ہو جائے گی۔۔‘‘ سرحان بولا
’’سرحان جبال کے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا۔۔؟؟‘‘ وہ افردہ لہجے میں بولی
سرحان کے جواب دینے سے پہلے کیف بول پڑا جس نے ان کی باتیں سن لی تھی
’’لوگوں کو ان کے اعمال کی سزائیں ملتی ہیں۔۔‘‘ اس کے لہجے میں کچھ ایسا تھا جس نے ان کو چوکنے پر مجبور کر دیا
’’کیا مطلب ہے آپ کا بھائی۔۔۔‘‘سرحان نے سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا
’’کچھ نہیں بس ۔۔ آج جانا ہے واپس ہم نے پاکستان تیاری کر لو ۔۔‘‘ وہ بات بدلتے ہوئے بولا اور وہ کہہ کر روکا نہیں وہاں سے چلاگیا۔۔
’’ان کو کیا ہوا۔۔۔؟؟‘‘ابیرہ بولی
سرحان نے اپنے کندھے اُچک دیے اور لاعلمی کا اظہار کیا
’’اچھا تم جلدی کرو بس کچھ ہی دیر میں ہم ایئرپورٹ کے لیے نکلے گے۔۔‘‘وہ اپنی کلائی پر بندھی گھڑی پر نظر دوڑاتے ہوئے بولا
’’اوکے۔۔۔!!‘‘وہ کہہ کر اندر چلی گئی
’’انوش جلدی تیاری کر لو۔۔ بس کچھ دیر میں ہم یہاں سے نکلے گے۔۔۔‘‘ابیرہ اس کو دیکھتے ہوئے بولی جو آبص کے پاس بیٹھی تھی۔
وہ سر ہلاتے ہوئے وہاں سے اُٹھی۔۔ابیرہ نے کچھ پل آبص کو دیکھتی رہی پھر اس کے پاس آئی جو گم سم گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی۔۔
’’آبص ۔۔۔!‘‘اُس نے پُکارا۔۔ لیکن وہ تو ایسے بیٹھی تھی جیسے اس کو سن ہی نہیں رہا
’’آبص ہم نے بس کچھ ہی دیر میں پاکستان جانا ہے ۔۔‘‘پاکستان کا نام سنتے ہی اس نے اپنا سر اُٹھایا ۔۔۔اس کی آنکھوں میں پانی تیرنے لگا۔۔
’’میں۔۔۔میں نہیں جاؤں گی ۔۔میں اپنے جبال کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گی۔۔۔‘‘ وہ چلائی
’’آبص۔۔آبص یہاں دیکھوں ہمیں جانا تو ہے کیونکہ ہم یہاں نہیں رہ سکتے ۔۔۔‘‘ ابیرہ نے اُسے سمجھانے کی کوشش کی
’’ہاں آبص ۔۔تم صبر کرو۔اور جبال کے لیے دعا کرو۔۔‘‘انوش اس کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔۔
’’صبر۔۔صبر کرو میں۔۔ کیسے کرو میں ۔۔نہیں ہوتا مجھ سے صبر۔۔مجھے ہر پل۔۔ہر لمحے وہ یاد آتا ہے ۔۔‘‘یہ کہتے ساتھ ہی وہ رُو پڑی
انوش اور ابیرہ کو خود رہنا آرہا تھا لیکن آگر وہ بھی رونے لگ جاتی تو آبص کو کون سمبھلتا۔۔۔۔
*********************
’’تم اپنے آپ پر کنٹرول رکھو ۔۔‘‘ میجر نے ایجنٹ کو کہا وہ پاشا کے زندہ رہ جانے کی وجہ سے آگ بغولہ ہوا تھا
’’کیسے کنٹرول کروں۔۔وہ پاشا پھر ہمارے ہاتھوں سے نکل گیا۔۔۔‘‘وہ غصے سے بولا
’’یہاں دیکھو میری طرف۔۔۔‘‘
کندھے سے پکڑ کر رُخ اپنی طرف کیا
’’اپنے غصے پر قابو رکھو ۔۔ورنہ مجھے لگے گا کہ بہت بڑی غلطی کر دی میں نے جو تمہیں آرمی میں آنے کی اجازت دی۔۔‘‘ وہ بھی غصے سے بولے ۔۔۔
ایجنٹ یہ بات سن کر سکتے میں آگیا۔۔ وہ کیسے اس کو غلطی کہہ سکتے ہیں۔۔
“اور ایک بات یاد رکھنا آگر دنیا فتح کرنا چاہتے ہو تو اپنے غصے کو قابو میں رکھنا سیکھو۔۔۔‘‘
وہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گئے۔۔۔
اُس نے اپنی مٹھیاں بھینچ لی۔۔اب اُس نے اپنا غصہ قابو کرنا تھا۔۔کیونکہ اُس نے دنیا فتح کرنی تھی۔۔۔
****************
’’اس نے اچھا نہیں کیا۔۔بلکل بھی نہیں۔۔۔‘‘ پاشا غصے سے بولا
’’لدینا الکثیر من الضرد۔۔‘‘
(ہمارا بہت نقصان ہوا ہے۔۔۔۔)
شیخ بولا
ایجنٹ نے جو حملہ کیا تھا اس میں بہت سے جان سے مارے گئے۔۔۔ کروڑں کا نقصان ہوا تھا۔۔
’’الان سأقول لہ من أنا۔۔‘‘
ّ(اب اُسے میں بتاؤں گا کہ میں ہوں کون۔۔)
پاشا غصے سے بولا اور شراب کا گلاس اُٹھا کر زور سے دیوار میں مارا۔۔ شیخ بدک کر پیچھے ہوا کیونکہ آگر وہ پیچھے نہ ہوتا تو ضرور وہ گلاس اُسی کے لگتا۔۔۔۔
Episode 16
کیا ہوا کیا سوچ رہی ہو۔۔؟؟‘‘ ابیرہ کو اپنی سوچ میں ڈوبا دیکھ کر سرحان بولا
اُن لوگوں کو پاکستان آئے ہوئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔۔آبص کو اس کی والدہ اپنے ساتھ لے گئی تھی۔۔اس کا زخم اب بھی تازہ تھا۔۔بھڑنے میں ابھی ٹائم لگنا تھا۔۔۔
’’کچھ نہیں۔۔۔‘‘وہ اُداس لہجے میں بولی
سرحان سمجھ چکا تھا کہ وہ اُداس ہے۔۔اسی لیے اُس کو خوش کرنے کے لیے بولا
’’ویسے آجکل تم اپنے اوپر بلکل بھی دھیان نہیں دے رہی ہو۔۔بہت موٹی ہو گئی ہو۔۔‘‘
موٹی سن کر ابیرہ نے فورا اس کو دیکھا کہ کہیں یہ مذاق تو نہیں کر رہا مگر اس کی سنجیدہ شکل کو دیکھ کر اس پر یقین کر لیا۔۔
’’واقعی۔۔۔؟‘‘اُس نے دوبارہ تصدیق کرنا چاہی
سرحان نے ہاں میں سرہلایا اس کو تو ایسا لگا جیسے اس کی دنیا ہی لُٹ گئی ہو۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ رونا شروع کرتی سرحان بول پڑا
’’سنو جب تم نہیں تھے نا۔۔۔۔۔۔۔
محبت دربدر سی تھی
کبھی اِس سے ،کبھی اُس سے
کبھی اِس در کبھی اُس در
مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب سے ملے ہو تم
محبت راس آئی ہے۔۔۔۔۔!!
تمہارے پاس آنے سے
محبت پاس آئی ہے ۔۔۔!!‘‘
وہ اس کے کان کے پاس جھک کر بول رہا تھا
اور ابیرہ اپنی سانس روکے اُسے سن رہی تھی مانوں ایسے کہ جیسے وہ اب سانس لے گی توہی تسلسل ٹوٹ جائے گا۔۔
ابیرہ نے اپنی آنکھیں اُٹھا کر مقابل کی آنکھوں میں دیکھا تو اُن میں پیار تھا ۔۔صرف پیار وہ بھی اس کے لیے ۔۔
سرحان نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا اور اس کی پیشانی پر اپنی پہلی مہر محبت ثبت کی ۔۔۔
درد کی شام ہویا ۔۔۔دکھ کا سویرا ہو
سب گوارہ ہے مجھے ،ساتھ بس تیرا ہو
*****************
’’تم یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔۔؟؟‘‘ وہ غصے سے دبی دبی آواز میں بولا
’’مجھے ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔‘‘غصے تو سامنے والے کو بھی بہت آیا مگر ضبط کیا گیا
’’تم کال کر سکتی تھی۔۔‘‘
’’آگر تمہارا موبائل اُون ہوتا۔۔‘‘دوبدو جواب دیا گیا
اس نے اپنا موبائل چیک کیا جو اُف تھا ۔۔نظر اُٹھا کر سامنے والے کو دیکھا
’’مجھے کوئی شوق نہیں ہے ۔۔تم سے ملنے کا۔۔۔‘‘سامنے والے نے بھی حساب چکتا کیا
_________
’’ کیا بات کرنی ہے۔۔؟؟‘‘وہ کون سا شرمندہ ہونے والا تھا
’’اچھے سے جانتے ہو۔۔میں نے کس بارے میں بات کرنی ہے۔۔‘‘وہ ایک ابرو اُٹھا کر بولی
’’پاشا کے بارے میں۔۔‘‘
’’ہاں۔۔‘‘ وہ سر ہلا کر بولی
’’میں نے پتا لگا لیا ہے وہ ابھی پاکستان نہیں آیا ہے۔۔‘‘وہ بولا
’’کب تک بچے گا۔۔۔‘‘وہ غصے سے بولی
’’اتنا غصہ صحت کے لیا اچھا نہیں ہوتا ۔۔۔‘‘اُس نے بات کا رخ ہی بدل دیا
’’تم۔۔۔‘‘اس نے بات کرنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ وہ اس کی بات کاٹ کر بولا
’’آپ۔۔آخر شوہر ہوں تمہارا۔۔میری عزت کرنا تمہارا فرض ہے۔۔‘‘وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولا
’’کیف۔۔۔‘‘
اس سے پہلے کے وہ اس کو کچھ سخت سناتی ۔۔انہیں کسی کی آواز سنائی دی وہ جو کوئی بھی تھا انہی کی طرف آرہا تھا۔۔
کیف نے اُس کا ہاتھ پکڑا اور دیوار کے پیچھے چلا گیاکیف نے اپنا ہاتھ اُس کے منہ پر رکھا ہوا تھا تاکہ وہ چیخے نہ۔۔
اس کی قید میں قید نفوس مسلسل اپنے آپکو چھڑوانے کی جدوجہد کر رہا تھا مگر کیف کی پکڑ بہت مضبوط تھی۔کیف نے دیوار کی سائیڈ سے وہاں دیکھا جہاں سے کسی کی آواز سنائی دی ۔۔۔آنے والا کوئی اور نہیں اُس کے والد محترم عبدالنافیع تھے ۔۔وہ رات کے وقت چہل قدمی کرنے کے عادی تھے ۔۔ان کے جانے کے بعد کیف نے اپنے سامنے موجود اپنی متاع حیات کو دیکھا جو اسے خونخوار نظروں سے گھور رہی تھی۔۔
اس کو دیکھ کر کیف کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ پڑی۔۔۔
اِس کی مسکراہٹ دیکھ کر اس کو اور غصہ آیا۔۔اس نے اپنے دانت اُس کے ہاتھ میں گاڑ دیا مگر سامنے بھی کیف تھا۔۔چٹانوں جیسی سختی والا ۔۔اتنی سی تکلیف سے اس کا کیا جاتا۔۔
وہ ہنوذ مسکرا رہا تھا جو سامنے والا کا غصہ بڑھا رہا تھا
سامنے والے کی حالت کو دیکھ کر اُسے آزاد کیا۔۔
’’تم اپنی لمٹ میں رہا کرو۔۔‘‘ وہ دھمکی دینے والے انداز میں بولی
’’اپنی لمٹ میں ہی ہوں تب ہی تم سامنے کھڑی ہو۔۔ورنہ ۔۔!!‘‘ اور اِس ورنہ کا مطلب وہ اچھے سے جانتی تھی
اسی لیے لب بھینچ کر کھڑی ہو گئی۔۔
کیف نے اُسے یوں کرتے دیکھا تو اپنی پھر مسکرا دیا
’’جب تمہیں پتا ہے کہ تم مجھ سے جیت نہیں سکتی تو کیوں فالتو مین اپنی ننی سی جان کو ہلکان کرتی ہو۔۔‘‘ وہ اس کے کان کے پاس جھک کر بولا
’’don’t call me nani.i hate this word‘‘
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی
’’but i love this word…nani‘‘
کیف کو اچھے سے پتا تھا تھا کہ اس کو اس ورڈ سے نفرت ہے بس اس کو تنگ کرنے کے لیے اسے اسی ورڈ سے بلاتا تھا۔۔
’’مرو کہی جا کر ۔۔۔!!‘‘وہ پیر پٹکتی ہوئی وہاں سے جانے ہی لگی تھی کہ کیف نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
’’چھوڑو میرا ہاتھ ۔۔۔‘‘وہ غرغرائی
’’چھوڑ دو گا اتنی بھی کیا جلدی ہے ۔۔پہلے یہ تو بتاؤ کہ یہاں آئی کس کام کے لیے تھی۔۔‘‘ وہ کو دیکھتے ہوئے بولا
’’سرحان کو پتہ چل گیا ہے کہ میں کون ہوں۔۔‘‘
’’کیسے۔۔۔؟؟‘ وہ فوراََ بولا
’’وہ مجھے نہیں اس نے مجھے کیسے پہچانا۔۔میں تو تھی بھی نقاب میں۔۔۔!!‘‘وہ پریشانی سے بولی
’’اچھا تم ٹیشن نہ لو ۔۔میں۔۔‘‘وہ بولتے بولتے رُکا اس نے ٹیڑھی آنکھ کر کے بنا پیچھے مُڑے دیکھا ۔۔ ہاتھ کے اشارے سے سامنے موجود نفوس کو خاموش رہنے کو کہا ۔۔اور خود بنا آواز کئے ایک پل میں جھاڑیوں کے پیچھے چھپے شخص تک پہنچا۔۔اور اس کی گردن میں ہاتھ ڈال کر اُسے قابو کیا۔۔ وہ انسان مسلسل اپنے آپ کو چھڑوانے کی کوشش کر رہا تھا مگر کیف کے آگے وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔
’’بولو کون ہوتم۔۔۔؟؟‘‘اس نے سختی سے پوچھا
’’ب۔۔بھائی ۔۔مم۔۔میں ۔۔برہان۔۔برہان۔۔۔‘‘وہ اٹک اٹک کر بولا
برہان کی آواز سن کر اسکی گرفت میں کمی آئی ۔۔برہان جلدی سے پیچھے ہٹا اور کھانسنے لگا۔۔
اتنے وہ بھی ان کے پاس آچکی تھی ۔۔۔
’’تم اور یہاں۔۔۔اس وقت۔۔ کیا کر رہے ہو۔۔۔‘‘اس نے سختی سے پوچھا
’’جاسوسی۔۔۔!!‘‘اب اس کی حالت سمبھل چکی تھی
’’کس کی ۔۔۔؟؟‘‘ حیرت سے پوچھا
’’آپکی۔۔‘‘
’’میری۔۔۔‘‘وہ انگلی اپنی طرف کرتے ہوئے بولا
اس نے ہاں میں سر ہلایا
’’کیوں۔۔؟؟‘‘دوبارہ سوال دغا گیا
’’وہ اس لیے کہ جب آپ کا بھائی رات میں چوروں کی طرح گھر سے نکلے تو سمجھ جایا کرو دال میں کچھ کالا ہے ۔۔۔۔ ‘‘وہ بزرگوں کی طرح بولا
’’لیکن یہاں تو پوری کی پوری دال ہی کالی ہے۔۔۔!!‘‘ وہ سامنے موجود نفوس کو دیکھ کر بولا
کیف نے اُسے کچا چبا جانے والی نظروں سے دیکھا
لیکن برہان بھی برہان ہے۔۔ کہاں ڈرنے والا تھا
’’ان کا تو مجھے پتہ چل گیا ہے مگر آپ۔۔؟؟‘‘وہ کیف کو دیکھتے ہوئے بولا کیف اس کی آدھی بات کامطلب سمجھ چکا تھا
’’میں سیکریٹ ایجنٹ،سیکریٹ ایجنٹ کا شوہر،کیف خانزادہ۔۔۔!!‘‘
وہ فخر سے بولا
برہان آنکھیں پھلائے بے یقینی سے اُسے دیکھنے لگا
کیف اس کی حالت اچھے سے سمجھ سکتا تھا
’’ you are a agent..i mean secret agent…‘‘
وہ اب بھی بے یقینی کی سی حالت میں تھا ۔۔
کیف اس کی حالت دیکھ کر مسکرا دیا
’’لیکن کیسے۔۔۔ مطلب۔۔‘‘ اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی کیف اس کی بات کاٹ کر بولا
’’بس کرو۔۔مجھے سمجھ آگیا ہے کہ تم کیا پوچھنا چاہ رہے ہو۔۔ تم یہی پوچھنا چاہ رہے ہو نہ کہ میں اور یہ ۔۔یعنی مازیہ ہم دونوں سیکریٹ ایجنٹ کیسے ہیں۔۔۔‘‘
برہان نے زور زور سے ہاں میں سر ہلایا
’’تو اس کے لیے انتظار کرو۔۔۔کیونکہ ابھی اس سے زیادہ میں نہیں بتا سکتا۔۔‘‘وہ بولا
’’ٹھیک ہے ۔۔۔ اور آپ مازیہ بھابی۔۔ ‘‘وہ اب مازیہ کی طرف مڑا جو خود کو لاتعلق کیے الگ کھڑی تھی
اس کے بھابی کہنے پر دونوں کی نظریں ملی ایک کی آنکھوں میں شرارت تھی اور دوسرے کے غصہ۔۔
’’آپ بعد میں ایک دوسرے کو دیکھ لینا پہلے کوئی مجھے تو میرے سوالوں کا جواب دے دیں۔۔۔‘‘
وہ بولا ۔۔نہیں چیخا کہنا زیادہ اچھا ہو گا برہان نے ان کو ایک دوسرے کو دیکھتے دیکھ لیا تھا
اس کے چلانے پر ان کا سکتہ ٹوٹا
’’جتنا بتانا تھا بتا دیا۔۔باقی وقت آنے پر بتاؤں گا۔۔۔اور ہاں ایک بات اور ابھی ہم دونوں کے بارے میں کسی کو بھی نہیں پتا چلنا چائیے۔۔‘‘ کیف بولا
’’ویسے آپ تو چھپے رستم نکلے شادی بھی کروا لی اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہونے دی۔۔لیکن ایک شکایت ہے مجھے آپ سے۔۔۔‘‘
وہ اس کی طرف مُڑ کر بولا
کیف نے اُسے سوالیہ نظروں سے دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو کہ کیا شکایت ہے۔۔
’’آپ نے مجھے آپنے نکاح کے چھوارے کھلائے نہ بریانی۔۔۔‘‘ وہ ایسے منہ بنا کر بولا جیسے اس کا کتنا بڑا نقصان ہوگیا
کیف کو اس کی بے تُکی باتوں پر غصہ آنے لگا تھا جبکہ مازیہ اس سے ذیادہ کیف کے چہرے کے ایکسپریشنز دیکھ کر لطف اُٹھا رہی تھی
’’اوکے میں چلتی ہوں ۔۔تم لوگ انجوئے کرو۔۔‘‘ وہ دل جلا دینے والی مسکراہٹ چہرے پر سجائے بولی
’’ارے بھائی آپ کہاں۔۔۔۔؟؟‘‘کیف جو مازیہ کے پیچھے جانے لگا تھا برہان اس کا ہاتھ پکڑ کر بولا
کیف نے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور مازیہ کے پیچھے بھاگا۔۔
’’رُکو۔۔‘‘ مازیہ نے اپنے پیچھے قدموں کی تھاپ سن لی تھی مگر وہ رُکی نہیں۔۔
’’کارزل۔۔۔۔!!‘‘ اور یہ وہ الفاظ تھے جس نے اُسے رُکنے پر مجبور کر دیا۔۔
کیف پل میں اس کے پاس پہنچا اور اس کا بازو پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا ۔۔۔
’’تمہیں سنائی نہیں دے رہا کہ میں تمہیں آوازیں دے رہا ہوں۔۔۔‘‘وہ دبی دبی آواز میں بولا
’’نہیں۔۔‘‘وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی
’’کارزل ۔۔۔!!‘‘
’’i said don’t call me karzal‘‘
وہ چلائی
’’کیوں۔۔۔‘‘وہ جواباََ بولا
’’حق نہیں ہے آپ کا ۔۔۔‘‘
’’حق کی بات مت کرو۔۔کیونکہ آگر میں اپنے حق وصول نے پر آگیا تو تمہارے لیے اچھا نہیں ہو گا۔۔۔!!‘‘وہ اس کو اپنی گرفت سے آزاد کرتا ہوا بولا
’’بھائی ماموں آرہے ہیں۔۔۔۔‘‘اس سے پہلے کہ مازیہ اُسے کہتی برہان کی آواز انہیں سنائی دی
’’ابھی تم جاؤ ۔۔۔بعد میں تم سے نمٹا ہوں۔۔‘‘وہ اس کو دیکھتے ہوئے بولا
وہ لب بھینچ کر وہاں سے جیسے آئی تھی ویسے ہی چلی گئی۔۔
اس کے دیوار پھلانگنے کے بعد کیف نے اندر کی طرف اپنے قدم بڑھائے
***************
’’یہ اللہ آج اس انسان سے بچا لو۔۔اس کے بعد پکا یہ سارے غلط کام چھوڑ دو گا۔۔‘‘وہ اس وقت پاشا کے سامنے کھڑا تھا اور من ہی من دعائیں مانگ رہا تھا ۔۔
ہم پتا نہیں کیوں مصیبت میں ہی کیوں اللہ کو یاد کرتے ہیں۔۔آگر ہم روزانہ بنا کسی مصیبت کے آئے اللہ کو یاد کرے تو ہم پر کوئی مصیبت ہی نہ آئے ۔۔۔!!
’’کتنے دن کا وقت دیا تھا میں نے تمہیں۔۔۔‘‘پاشاہاتھ میں پکڑی بندوق کی گولیاں چیک کرتے ہوئے بولا
’’چ۔۔چار دن ۔۔۔‘‘وہ ہکلا کے بولا
’’آج کون سا دن ہے ۔۔؟‘‘
’’پانچواں دن ابھی شروع ہونے والا ہے ۔۔۔‘‘
’’ہونے والا نہیں ہو چکا ہے ۔۔‘‘یہ کہتے ساتھ ہی اس کی بندوق کی گولی اس کے آرپار ہو چکی تھی ۔۔۔
’’پاشا ابھی صرف ایک منٹ ہی اوپر ہوا ہے ۔۔۔‘‘یسوع جو پاس ہی کھڑا تھا بول پڑا
’’جو ایک منٹ کی بھی قدر نہیں کرتا وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا ۔۔۔!!‘‘
’’اور پاشا کے لیے ایک منٹ بھی بہت اہم ہے۔۔۔‘‘وہ سیگریٹ سلگاتا ہوا بولا
’’لیکن۔۔۔پاشا۔۔‘‘
پاشا نے ہاتھ اٹھا کر اسے بولنے سے منع کر دیا
’’بس اور باتیں نہیں ۔۔تم فون ملاؤ۔۔‘‘وہ بولا
یسوع نے نمبر ملا کر اس کی طرف فون بڑھایا
’’کام کہاں تک پہنچا ہے ۔۔۔‘‘ دوسرے کے فون اٹھاتے ہی پاشا بولا
’’کام تقریباََ ہو چکا ہے ۔۔ اسے پاکستانی لڑکی کی مدد حاصل ہے۔۔۔ آج وہ اس سے باقی چیزیں بھی نکلوا لے گی۔۔۔اور پھر کل واپس وہ بھارت ہو گی۔۔۔پاکی آرمی کے ناک کے نیچے سے وہ سب معلومات لے آئے گی اور انہیں پتا بھی نہیں چلے گا۔۔۔‘‘وہ ہنستاہوا بولا
’’پاکی آرمی کو اتنا ہلکے میں مت لو وہ مُردوے کے منہ سے سچ نکلوا لیتے ہیں ۔۔اور وہ تو پھر زندہ انسان ٹہری۔۔‘‘پاشا اُسے جتاتا ہوا بولا
’’میرے سامنے میرے دشمن کی تعریف۔۔۔!!‘‘ انڈین آرمی کا میجر بولا
’’جو کام کہا ہے اس پر عمل کرو ۔۔‘‘پاشا نے کہہ کر کھٹاک سے فون بند کر دیا
’’یہ آخر اپنے آپ کو سمجھتا کیا ہے۔۔۔‘‘وہ اپنے ساتھی سے بولا
’’سر جب تک ہمارا مطلب پورا نہیں ہوتا تب تک ہمیں اس کی بات مننی پڑے گی۔۔‘‘اس کا ساتھی بولا
’’ٹھیک کہہ رہا ہے تو جب تک ہمارا مطلب پورا نہیں ہوتا تب تک اس کی مننی پڑے گی۔۔‘‘وہ غصے سے بولا
’’ویسے سر وہ کہہ بھی کچھ غلط نہیں رہا تھا پاکی آرمی سے مقابلہ مشکل ہے ۔۔‘‘وہ ڈرتے ڈرتے بولا
’’بکواس بند کرو۔۔۔!!‘‘ وہ غصے سے دھاڑا
’’پاکی آرمی ہماری ایک ہاتھ کی مار ہے ۔۔۔‘‘
(ہاں خیالوں میں۔۔ہاہاہاہاہا)
************
’’آرام سے بچوں ایسا کیا ہو گیا ہے۔۔۔‘‘انوش اور برہان کو کھانے پر جھپٹنے انداز میں وہ ٹوکتی ہوئی بولی
’’مامی ہمیں لیٹ ہو رہا ہے ۔۔۔‘‘برہان کے منہ میں بریڈ سلائس کا ٹکڑا تھا جس کی وجہ سے اس کی آواز بہت بھدی سنائی دی
’’پاگل انسان کھاتے ہوئے بولتے نہیں ہیں۔۔۔‘‘انوش نے ٹوکا
’’میرا کھانا، میرامنہ ،میری مرضی۔۔۔‘‘وہ ہنکارا
انوش چپ چاپ اپنا کھانا کھانے لگی کیونکہ خالی پیٹ وہ ا س سے لڑ نہیں سکتی تھی
’’اسلام علیکم امی۔۔‘‘کیف سبین کو سلام کیا اور کرسی پر بیٹھ گیا
انہوں جواب دیا اور اسے ناشتہ دینے لگی۔۔
کیف کو دیکھ کر برہان کی شرارت کی رگ پھر پھڑکی
’’بس مامی ۔۔اب آپ کے آرام کے دن آنے والے ہیں۔۔۔‘‘
انہوں نے نہ سمجھی میں اُسے دیکھا
’’میں سمجھی نہیں بیٹا۔۔‘‘
’’مامی شادی۔۔۔‘‘
’’ہائے اللہ شرم نہیں آئی تجھے میری شادی کی بات کرتے ہوئے۔۔۔‘‘وہ اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی تڑپ اُٹھی
برہان تو بھونچا گیا۔۔وہ کیا کہنا چاہتا تھا اور انہوں نے کیا سمجھا..
